Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 4 de 8

The Yogi Turns the Prince into a Deer; Ketki's Lament

جوگی کا کنور کو ہرن بنانا؛ رانی کیتکی کا رونا

Insha Allah Khan Insha

Escritura
Tamaño

آنا جوگی مہندر گر کا کیلاس پہاڑ سے، اور ہرن ہرنی کر ڈالنا کنور اودے بھان اور اس کے ماں باپ کا

جگت پرکاس اپنے گرو کو، جو کیلاس پہاڑ پر رہتا تھا، یوں لکھ بھیجتا ہے: "کچھ ہماری سہائے کیجیے، مہا کٹھن ہم بپتا ماروں کو پڑی ہے۔ راجہ سورج بھان کو اب یہاں تک باؤ بہک نے لیا ہے، جو انھوں نے ہم سے مہاراجوں سے ناتے کا ڈول کیا ہے۔"

کیلاس پہاڑ اکڈال چاندی کا ہے۔ اوس پر راجہ جگت پرکاس کا گرو، جس کو اندر لوک کے لوگ سب مہندر گر کہتے تھے، دھیان گیان میں کوئی نوے لاکھ اتیتوں کے ساتھ ٹھاکر کے بھجن میں دن رات رہا کرتا تھا۔ سونا روپا تانبے رانگے کا بنانا تو کیا، اور گٹکا مونہہ میں لیکے اڑنا وڑنا رہے، اس کی اور باتیں اس اس ڈھب کی دھیان میں تھیں جو کچھ کہنے سننے سے باہر ہیں۔ مینہ سونے روپے کا برسا دینا، اور جس روپ میں چاہنا ہو جانا، سب کچھ اس کے آگے ایک کھیل تھا۔ اور گانے میں مہادیو جی چھٹ سب اوس کے آگے کان پکڑتے تھے۔ سرسوتی، جس کو ہندو کہتے ہیں آدہ شکتی، اون نے بھی اسی سے کچھ گنگنانا سیکھا تھا۔ اس کے سامنے چھ راگ چھتیس راگنیاں آٹھ پہر روپ بدھوؤں کا سا دھرے ہوئے اس کی سیوا میں ہاتھ جوڑے کھڑی رہتی ہیں۔ وہاں اتیتوں کو یہ کہہ کر پکارتے تھے: بھیرو گر، بھبھاس گر، ہنڈول گر، میگھ ناتھ، کدار ناتھ، دیپک داس، جوتی سروپ، سارنگ روپ؛ اور اتیتنیاں اس ڈھب سے کہلاتی تھیں: گوجری، ٹوڑی، اساوری، گوری، مالسری، بلاول۔ جب چاہتا تھا، ادھر میں سنگھاسن پر بیٹھ اوڑائے پھرتا تھا، اور نوے لاکھ اتیت گٹکے اپنے اپنے منہ لیے ہوئے، گیروے بستر پہنے، جٹا بکھیرے، اس کے ساتھ ہوتے تھے۔

جس گھڑی راجہ جگت پرکاس کی چٹھی ایک بھگو لے پہونچتا ہے، جوگی مہندر گر ایک چنگھاڑ مار کر دل بادلوں کو تھلکا دیتا ہے۔ باگھمبر پر بیٹھ، بھبھوت اپنے منہ کو مل، کچھ کچھ پڑھنت کرتا ہوا باو کے گھوڑے کی پیٹھ پر لاگا، اور سب اتیت مرگ چھالوں پر بیٹھے ہوئے، گٹکے منہ میں لیے ہوئے، بول اوٹھے: "گورکھ جاگا!" ایک آنکھ کی جھپک میں وہاں آن پہونچتا ہے جہاں دونوں مہاراجوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔ پہلے تو ایک کالی آندھی آئی، پھر اولے برسے، پھر ایک بڑی آندھی آئی۔ کسی کو اپنی سدھ بدھ نہ رہی۔ ہاتھی گھوڑے اور جتنے لوگ اور بھیڑ بھاڑ راجہ سورج بھان کی تھی، کچھ نہ سمجھا گیا کدھر گئی، اونہیں کون اٹھا لے گیا۔ اور راجہ جگت پرکاس کے لوگوں پر اور رانی کیتکی جی کے لوگوں پر کیوڑے کی بوندوں کی نھنی نھنی پھوار سی پڑنے لگی۔

جب یہ سب کچھ ہو چکا، تو گرو جی نے اپنے اتیتوں سے کہہ دیا: "اودے بھان، سورج بھان، لچھمی باس، ان تینوں کو ہرن ہرنی بنا کے کسی بن میں چھوڑ دو، اور جو ان کے ساتھی ہوں ان سبھوں کو توڑ پھوڑ دو۔" جیسا کچھ گرو جی نے کہا، جھٹ پٹ وہی کیا۔ بپت کا مارا کنور اودے بھان جی، اور اس کا باپ مہاراجہ سورج بھان، اور اس کی ماں مہارانی لچھمی باس ہرن ہرنی بن بن کی ہری ہری گھاس کئی برس تک چگتے رہے۔ اور اوس بھیڑ بھڑکے کا تو کچھ تھل بیڑا نہ ملا جو کدھر گئی اور کہاں تھی۔ یہاں کی یہاں ہی رہنے دو۔ آگے سنو۔

اب رانی کیتکی کی بات۔ اور مہاراجہ جگت پرکاس کی سہتی ان کے گھر کا گھر گرو جی کے پانو پر گرا، اور سب نے سر جھکا کر کہا: "مہاراج! یہ آپ نے بڑا کام کیا، ہم سب کو رکھ لیا۔ جو آپ آج آن نہ پہنچتے، تو کیا رہا تھا؟ سب نے مر مٹنے کی ٹھان لی تھی۔ ان پاپیوں سے کچھ نہ چلے گی، یہ جان لی تھی۔ راج پاٹ سب ہمارا اب نچھاور کر کے جس کو چاہیے دے ڈالیے، ہم سب کو اتیت بنا کے اپنے ساتھ لیجیے۔ راج ہم سے نہیں تھمتا۔ سورج بھان کے ہاتھ سے آپ نے بچایا، اب کوئی ان کا چچا چندر بھان چڑھ آوے گا، تو کیونکر بچنا ہو گا؟ اپنے آپ میں تو سکت نہیں۔ پھر ایسی راجہ کا پھٹے منہ! ہم کہاں تک آپ کو ستایا کریں گے؟"

یہ سن کے جوگی مہندر گر نے کہا: "تم سب ہمارے بیٹا بیٹی ہو، آنندیں کرو، دندناؤ، سکھ چین سے رہو۔ ایسا وہ کون ہے جو تمھیں آنکھ بھر اور ڈھب سے دیکھ سکے؟ یہ بگھمبر اور یہ بھبھوت ہم نے تمھیں دیا۔ آگے جو کچھ ایسی گاڑھ پڑے، تو اس بگھمبر میں سے ایک رونگٹا توڑ کر آگ میں دھر کے پھونک دیجو۔ وہ رونگٹا پھونکنے نہ پاوے گا، جو ہم آن پہنچیں گے۔ رہا بھبھوت، سو اس لیے ہے، جو کوئی چاہے، جب اسے انجن کرے، وہ سب کچھ دیکھ لے، اور اسے کوئی نہ دیکھے، جو چاہے سو کر لے۔"

گرو مہندر گر جن کے پانو پوجیے اور دھن مہاراج کہیے، ان سے تو کچھ چھپاو نہیں۔ مہاراجہ جگت پرکاس ان کو مور چھل کرتے ہوئے رانیوں کے پاس لے گئے۔ سونے روپے کے پھول ہیرے موتی گود بھر بھر سب نے نچھاور کیے اور ماتھے رگڑے۔ انھوں نے سب کی پیٹھیں ٹھونکیں۔ رانی کیتکی نے بھی ڈنڈوت کی، پر جی ہی جی میں بہت سی گرو جی کو گالیاں دیں۔ گرو جی سات دن سات راتیں یہاں رہ کے راجہ جگت پرکاس کو سنگھاسن میں بٹھا کر، اپنے اس بگھمبر پر اسی ڈول سے کیلاس پہاڑ پر آ دھمکے۔ راجہ جگت پرکاس اپنے اگلے ڈھب سے راج کرنے لگے۔

رانی کیتکی کا مدن بان کے آگے رونا، پچھلی باتوں کا دھیان کر کے، ہاتھ جی سے دھونا، اپنی بولی کی دھن میں

رانی کو بہت سی بے کلی تھیکب سوجھتی کچھ بری بھلی تھی

چپکے چپکے کراہتی تھیجینا اپنا نہ چاہتی تھی

کہتی تھی کبھی "اری مدن بانہے آٹھ پہر مجھے وہی دھیان

یاں پیاس کسے، بھلا کسے بھوکھدیکھوں ہوں وہی ہرے ہرے روکھ

ٹپکے کا ڈر ہے اب یہ کبھیچاہت کا گھر ہے اب یہ کبھی

امریوں میں ان کا وہ اترنااور رات کا سائیں سائیں کرنا

اور چپکے سے اٹھ کے میرا جانااور تیری وہ چاہ کا جتانا

ان کی وہ اتار انگوٹھی لینیاور اپنی انگوٹھی ان کو دینی

آنکھوں میں میری وہ پھر رہی ہےجی کا جو روپ تھا وہی ہے

کیونکر انھیں بھولوں کیا کروں میںماں باپ سے کب تلک ڈروں میں

اب میں نے سنا ہے اے مدن بانبن بن کے ہرن ہوئے اودے بھان

چرتے ہوں گے ہری ہری دوبکچھ تو بھی پسیج سوچ میں ڈوب

میں اپنی گئی ہوں چوکڑی بھولمت مجھ کو سونگھا یہ ڈہڈہے پھول

پھولوں کو اٹھا کے یہاں سے لے جاسو ٹکڑے ہوا میرا کلیجا

بکھرے جی کو نہ کر اکٹھاایک گھاس کا لا کے رکھ دے گٹھا

ہریالی اسی کی دیکھ لوں میںکچھ اور تو تجھ کو کیا کہوں میں

ان آنکھوں میں ہے بھڑک ہرن کیپلکیں ہوئیں جیسی گھاس بن کی

جب دیکھیے ڈبڈبا رہی ہیںاوسیں آنسو کی چھا رہی ہیں

یہ بات جو جی میں گڑ گئی ہےایک اوس سی مجھ پہ پڑ گئی ہے"

اسی ڈول سے جب اکیلی ہوتی تھی، تب مدن بان کے ساتھ ایسے ہی موتی پروتی تھی۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.