
Chapter 3 of 8
The Meeting in the Mango Grove
امریوں میں ملاقات
کہانی کا ابھار اور بول چال کی دولہن کا سنگار
کسی دیس میں کسی راجہ کے گھر ایک بیٹا تھا۔ اوسے اوس کے ماں باپ اور سب گھر کے لوگ کنور اودے بھان کر کے پکارتے تھے۔ سچ مچ اوس کے جوبن کی جوت میں سورج کی ایک سوت آ ملی تھی۔ اوس کا اچھا پن اور بھلا لگنا کچھ ایسا نہ تھا جو کسی کے لکھنے اور کہنے میں آ سکے۔ پندرہ برس بھر کے سولھویں میں پانو رکھا تھا۔ کچھ یوں ہی سی اوس کی مسیں بھیگتی چلی تھیں۔ اکڑ تکڑ اوس میں بہت سی سما رہی تھی، کسی کو کچھ نہ سمجھتا تھا۔ پر کسی بات کے سوچ کا گھر گھاٹ پایا نہ تھا اور چاو کی ندی کا پاٹ اون نے دیکھا نہ تھا۔
ایک دن ہریالی دیکھنے کو اپنے گھوڑے پر چڑھ کے اٹکھیل پنے اور لڑکپن کے ساتھ دیکھتا بھالتا چلا جاتا تھا۔ اتنے میں ایک ہرنی جو اس کے سامنے آئی، تو اس کا جی لوٹ پوٹ ہوا۔ اس ہرنی کے پیچھے سب کو چھوڑ چھاڑ کر گھوڑا پھینکا۔ بھلا کوئی گھوڑا اوس کو پا سکتا تھا؟ جب سورج چھپ گیا اور ہرنی آنکھوں سے اوجھل ہوئی، تب تو یہ کنور اودے بھان بھوکا پیاسا اور اوداسا، جماہیاں اور انگڑائیاں لیتا، ہکا بکا ہو کے لگا آسرا ڈھونڈھنے۔ اتنے میں کچھ امریاں دھیان چڑھیں، اودھر چل نکلا۔ تو کیا دیکھتا ہے؟ چالیس پچاس رنڈیاں ایک سے ایک جوبن میں اگلی جھولا ڈالے ہوئے پڑی جھول رہی ہیں اور ساون گاتیاں ہیں۔ جو انھوں نے اوس کو دیکھا، "تو کون؟ تو کون؟" کی چنگھاڑ سی پڑ گئی۔ (اون سبھوں میں سے ایک کے ساتھ اس کی آنکھ لڑ گئی۔)
دوہا
کوئی کہتی تھی یہ اوچکا ہےکوئی کہتی تھی ایک پکا ہے
وہی جھولنے والی لال جوڑا پہنے ہوئے، جس کو سب رانی کیتکی کہتے تھے، اوس کے بھی جی میں اس کی چاہ نے گھر کیا۔ پر کہنے سننے کو اس نے بہت سے ناہ نوہ کی: "اس لگ چلنے کو بھلا کیا کہتے ہیں؟ یک نہ یک جو تم جھٹ سے ٹپک پڑے، یہ نہ جانا جو یہاں رنڈیاں اپنی جھول رہی ہیں۔ اجی تم جو اس روپ کے ساتھ بیدھڑک چلے آئے ہو، ٹھنڈی ٹھنڈی چھانہہ چلے جاؤ۔" تب انھوں نے مسوس کے، ملولا کھا کے کہا: "اتنی رکھائیاں نہ دیجیے۔ میں سارے دن کا تھکا ہوا ایک پیڑ کی چھانہہ میں اوس کا بچاؤ کر کے پڑ رہوں گا۔ بڑے تڑکے دھوندلکے اوٹھ کر جدھر کو منہ پڑے گا چلا جاؤں گا۔ کسی کا لیتا دیتا نہیں۔ ایک ہرنی کے پیچھے سب لوگوں کو چھوڑ کر گھوڑا پھینکا تھا۔ جب تلک اوجالا رہا، اوسی کے دھیان میں تھا۔ جب اندھیرا چھا گیا اور جی بہت گھبرا گیا، ان امریوں کا آسرا ڈھونڈھ کر یہاں چلا آیا ہوں۔ کچھ روک ٹوک تو نہ تھی جو ماتھا ٹھنک جاتا اور رک رہتا۔ سر اوٹھائے ہانپتا ہوا چلا آیا۔ کیا جانتا تھا، پدمنیاں یہاں پڑی جھولتی، پینگیں چڑھا رہی ہیں؟ پر یوں ہی بدی تھی، برسوں میں بھی جھولا کروں گا۔"
یہ بات سن کر جو لال جوڑے والی، سب کی سر دھری تھی، اوس نے کہا: "ہاں جی، بولیاں ٹھولیاں نہ مارو، ان کو کہہ دو جہاں جی چاہے اپنے پڑ رہیں، اور جو کچھ کھانے پینے کو مانگیں سو انھیں پہونچا دو۔ گھر آئے کو کسی نے آج تک مار نہیں ڈالا۔ ان منہ کا ڈول، گال تھتمائے، اور ہونٹھ پپڑائے، اور گھوڑے کا ہانپنا، اور جی کا کانپنا، اور گھبراہٹ اور تھرتھراہٹ، اور ٹھنڈی سانسیں بھرنا، اور نڈھال ہو کر گرے پڑنا ان کو سچا کرتا ہے۔ بات بنائی اور سچوٹی کی کوئی چھپتی ہے؟ پر ہمارے اور ان کے بیچ میں کچھ اوٹ سی کپڑے لتے کی کر دو۔"
اتنا آسرا پا کے سب سے پرے کونے میں جو پانچ سات چھوٹے چھوٹے پودے سے تھے، اون کی چھانہہ میں کنور اودے بھان نے اپنا بچھونا کیا۔ سرہانے ہاتھ دھر کے چاہتا تھا سو رہے، پر نیند کوئی چاہت کی لگاوٹ میں آتی تھی؟ پڑا پڑا اپنے جی سے باتیں کر رہا تھا۔ اتنے میں کیا ہوتا ہے؟ جو رات سائیں سائیں بولنے لگتی ہے اور ساتھ والیاں سب سو رہتی ہیں، رانی کیتکی اپنی سہیلی مدن بان کو جگا کر یوں کہتی ہے: "اری تو نے کچھ سنا ہے؟ میرا جی اس پر آ گیا اور کسی ڈول سے نہیں تھم سکتا۔ تو سب میرے بھیدوں کو جانتی ہے۔ اب جو ہونی ہو سو ہو، سر رہتا رہے جاتا جائے، میں اوس کے پاس جاتی ہوں۔ تو میرے ساتھ چل، پر تیرے پانو پڑتی ہوں، کوئی سننے نہ پاوے۔ اری یہ میرا جوڑا میرے اور اس کے بنانے والے نے ملا دیا۔ میں اسی لیے ان امریوں میں آئی تھی۔"
کیتکی مدن بان کا ہاتھ پکڑے وہاں آن پہونچتی ہے جہاں کنور اودے بھان لیٹے ہوئے کچھ سوچ میں پڑے پڑے بڑبڑا رہے تھے۔ مدن بان آگے بڑھ کے کہنے لگی: "تمھیں اکیلا جان کے رانی آپ آئی ہیں۔" کنور اودے بھان یہ سن کے اوٹھ بیٹھے اور یہ کہا: "کیوں نہ ہو، جی کو جی سے ملاپ ہے۔"
کنور اور رانی دونوں چپ چاپ بیٹھے تھے، پر مدن بان دونوں کے بدن گدگدا رہی تھی۔ ہوتے ہوتے اپنے اپنے پتے سب نے کھولے۔ رانی کا پتہ یہ کھلا: راجہ جگت پرکاس کی بیٹی ہیں اور ان کی ماں رانی کام لتا کہلاتی ہیں۔ "ان کو ماں باپ نے ان کے کہہ دیا ہے: ایک مہینے پیچھے امریوں میں جا کے جھول آیا کرو۔ آج وہی دن تھا، سو تم سے مٹھ بھیڑ ہو گئی۔ بہت مہاراجوں کے کنوروں کی باتیں آئیاں، پر کسی پر ان کا دھیان نہ چڑھا۔ تمھارے دھن بھاگ، جو تمھارے پاس سب سے چھپ کے ہیں۔ جو ان کی لڑکپن کی گوئیاں ہوں، مجھے ساتھ اپنے لے کے آئیں ہیں۔ اب تم اپنی کہانی کہو کہ تم کس دیس کے کون ہو؟"
انھوں نے کہا: "میرا باپ راجہ سورج بھان اور ماں رانی لچھمی باس ہے۔ آپس میں جو گٹھ جوڑا ہو جائے، تو انوکھی اچرج اور اچنبھے کی بات نہیں، یوں ہی آگے سے ہوتا چلا آیا ہے۔ جیسا منہ ویسی تھپڑ، جوڑ توڑ ٹٹول لیتے ہیں۔ دونوں مہاراجوں کو یہ چت چاہی بات اچھی لگے گی۔ پر ہم تم دونوں کے جی کا گٹھ جوڑا چاہیے۔"
اس میں مدن بان بول اوٹھی: "سو تو ہوا۔ اب اپنی اپنی انگوٹھیاں ہیر پھیر کر لو اور آپس میں لکھوٹی بھی لکھ دو۔ پھر کچھ ہچر مچر نہ رہے۔" کنور اودے بھان نے اپنی انگوٹھی رانی کیتکی کو پہنا دی، اور رانی کیتکی نے انگوٹھی کنور کی انگلی میں ڈال دی، اور ایک دھیمی سی چٹکی بھی لے لی۔
اس میں مدن بان بول اوٹھی: "جو سچ پوچھو تو اتنی بھی بہت ہوئی۔ اتنا بڑھ چلنا اچھا نہیں، میرے سر چوٹ ہے۔ اب اوٹھ چلو اور ان کو سونے دو، اور روئیں پڑے رونے دو۔" بات چیت تو ٹھیک ٹھاک ہو چکی تھی۔ پچھلے پہر سے رانی تو اپنی سہیلیوں کو لے کے جدھر سے آئی تھی اودھر چلی گئی، اور کنور اودے بھان اپنے گھوڑے کی پیٹھ لگ کر اپنے لوگوں سے مل کر اپنے گھر پہونچے۔
کنور جی کا انوپ روپ کیا کہوں؟ کچھ کہنے میں نہیں آتا۔ کھانا نہ پینا، نہ لگ چلنا، کسی سے کچھ کہنا نہ سننا۔ جس دھیان میں تھے اوسی میں گھوٹے رہنا اور گھڑی گھڑی کچھ کچھ سوچ سوچ سر دھننا۔ ہوتے ہوتے اس بات کا لوگوں میں چرچا پھیل گیا۔ کسی کسی نے مہاراج اور مہارانی سے بھی کہا: "کچھ دال میں کالا ہے۔ وہ کنور اودے بھان جن سے تمھارے گھر کا اوجالا ہے، ان دنوں کچھ اس کے برے تیور بے ڈول آنکھیں دکھائی دیتی ہیں۔ گھر سے باہر پانو نہیں دھرتا۔ گھر والیاں جو کسی ڈول سے بہلاتیاں ہیں، تو اور کچھ نہیں کرتا، ایک اونچی سانس لیتا ہے۔ بہت کسی نے چھیڑا تو چھپر کھٹ پر جا کے اپنا مونہہ لپیٹ کے آٹھ آٹھ آنسو پڑا روتا ہے۔"
یہ سنتے ہی ماں باپ کنور کے پاس دوڑے آئے۔ گلے لگایا، مونہہ چوما، پانو پر بیٹے کے گر پڑے، ہاتھ جوڑے اور کہا: "جی کی بات ہے سو کہتے کیوں نہیں؟ کیا دکھ پڑا، جو پڑے پڑے کراہتے ہو؟ راج پاٹ جس کو چاہو دے ڈالو۔ کہو تو، تم کیا چاہتے ہو؟ تمھارا جی کیوں نہیں لگتا؟ بھلا وہ ہے کیا، جو ہو نہیں سکتا؟ مونہہ سے بولو، جی کھولو۔ جو کہنے میں کچھ سوچتے ہو، تو ابھی لکھ بھیجو۔ جو کچھ لکھو گے، جوں کی توں وہی کر تمھیں دے جاویں گے۔ جو تم کہو کنویں میں گر پڑو، تو ہم دونو ابھی گر پڑتے ہیں۔ جو کہو سر کاٹ ڈالو، تو ابھی سر کاٹ ڈالتے ہیں۔"
کنور اودے بھان، وہ جو بولتے ہی نہ تھے، انھوں نے لکھ بھیجنے کا آسرا پا کے اتنا بولے: "اچھا، آپ سدھاریے، میں لکھ بھیجتا ہوں۔ پر میرے اوس لکھ بھیجنے کو میرے مونہہ پر کسی ڈھب سے نہ لانا، نہیں تو میں شرماؤں گا۔ اسی لیے مکھ بات ہو کے میں نے کچھ نہ کہا۔" اور یہ لکھ بھیجا:
"اب جو میرا جی ناک میں آ گیا اور کسی ڈھب نہ رہا گیا، اور آپ نے مجھے سو سو روپ سے کھولا اور بہت سا ٹٹولا، تب تو لاج چھوڑ کے، ہاتھ جوڑ کے، مونہہ کو پھوڑ کے، گھگیا کے یہ لکھتا ہوں۔ جگ میں چاہ کے ہاتھوں کسی کو سکھ نہیں ہے۔ بھلا وہ کون ہے جس کو دکھ نہیں؟ وہ اس دن جو میں ہریالی دیکھنے کو گیا تھا، وہاں جو میرے سامنے ایک ہرنی کنوتیاں اوٹھائے ہوئے ہو لی تھی، اس کے پیچھے میں نے گھوڑا بگ چھٹ پھینکا۔ جب تک اوجالا رہا اسی کی دھن میں چلا گیا۔ جب اندھیرا ہو گیا اور سورج ڈوبا، تب جی میرا بہت اوداس ہوا۔ امریاں تاک کے میں اون میں گیا، تو اون امریوں کا پتا پتا میرے جی کا گاہک ہوا۔ وہاں کا یہ سنپھل ہے: کچھ رنڈیاں جھولا جھول رہیں تھیں۔ اون سب کی سر دھری کوئی رانی کیتکی، مہاراجہ جگت پرکاس کی بیٹی ہیں۔ اونھوں نے یہ انگوٹھی اپنی مجھے دی اور میری انگوٹھی انھوں نے لی، اور لکھاوٹ بھی لکھ دی۔ سو یہ انگوٹھی اون کی، لکھاوٹ سمیت، میرے لکھے ہوئے کے ساتھ پہونچتی ہے۔ آپ دیکھ لیجیے، اور جس میں بیٹے کا جی رہ جائے، وہ کیجیے۔"
مہاراج اور مہارانی اوس بیٹے کے لکھے ہوئے پر سونے کے پانی سے یوں لکھتے ہیں: "ہم دونوں نے اوس انگوٹھی اور لکھاوٹ کو اپنی آنکھوں سے ملا۔ اب تم اپنے جی میں کچھ کڑھو مت۔ جو رانی کیتکی کے ماں باپ تمھاری بات مانتے ہیں، تو ہمارے سمدھی اور سمدھن ہیں، دونو راج ایک جاگہ ہو جائیں گے۔ اور جو کچھ ناہ نوہ کی ٹھیرے گی، تو جس ڈول سے بن آوے گا، ڈھال تلوار کے بل تمھاری دولہن ہم تم سے ملاویں گے۔ آج سے اوداس مت رہا کرو، کھیلو کودو، بولو چالو، آنندیں کرو۔ ہم اچھی گھڑی شبھ مہورت سوچ کے تمھارے سسرال میں کسی بامھن کو بھیجتے ہیں، جو بات چت چاہی ٹھیک کر لاوے۔"
بامھن جو شبھ گھڑی دیکھ کر ہڑبڑی سے گیا تھا، اوس پر بڑی کڑی پڑی۔ سنتے ہی رانی کیتکی کے باپ نے کہا: "اون کے ہمارے ناتا نہیں ہونے کا۔ اون کے باپ دادے ہمارے باپ دادوں کے آگے سدا ہاتھ جوڑ کے باتیں کرتے تھے، اور جو ٹک تیوری چڑھی دیکھتے تھے، تو بہت ڈرتے تھے۔ کیا ہوا، جو اب وے بڑھ گئے اور اونچے پر چڑھ گئے؟ جس کے ماتھے ہم بائیں پاؤں کے انگوٹھے سے ٹیکا لگاویں، وہ مہاراجوں کا راجہ ہو جائے۔ کس کا منہ، جو یہ بات ہمارے منہ پر لائے؟"
بامھن نے جل بھن کے کہا: "اگلے بھی اسی بچار میں تھے، اور بھری سبھاؤں میں یہی کہتے تھے: ہم میں اون میں کچھ گوت کا تو میل نہیں ہے۔ پھر کنور کی ہٹ سے کچھ ہماری نہیں چلتی، نہیں تو ایسی اوچھی بات کب ہمارے منہ سے نکلتی؟"
یہ سنتے ہی مہاراج نے بامھن کے سر پر پھولوں کی چھڑی پھینک ماری اور کہا: "جو بامھن کے ہتیا کا دھڑکا نہ ہوتا، تو تجھ کو ابھی چکی میں دلوا ڈالتا۔ اس کو لے جاؤ اور ایک اندھیری کوٹھری میں موند رکھو۔"
جو اس بامھن پر بیتی، سو سب کنور اودے بھان کے ماں باپ نے سنتے ہی لڑن کی ٹھان اپنے ٹھاٹھ باندھ کر دل بادل جیسے گھر آتے ہیں، چڑھ آیا۔ جب دونوں مہاراجوں میں لڑائی ہونے لگی، رانی کیتکی ساون بھادوں کے روپ سے رونے لگی، اور دونو کے جی پر یہ آ گئی: "یہ کیسی چاہت ہے جس میں لوہو برسنے لگا، اور اچھی باتوں کو ترسنے لگا!"
کنور نے چپکے سے یہ لکھ بھیجا: "اب میرا کلیجا ٹکڑے ٹکڑے ہوا جاتا ہے۔ دونوں مہاراجوں کو آپس میں لڑنے دو۔ کسی ڈول سے جو ہو سکے، تو تم مجھے اپنے پاس بلا لو۔ ہم تم دونوں مل کے کسی اور دیس کو نکل چلیں۔ جو ہونی ہو سو ہو، سر رہتا رہے جاتا جائے۔"
ایک مالن، جس کو پھول کلی کر سب پکارتے تھے، اون نے اوس کنور کی چٹھی کسی پھول کی پنکھڑی میں لپیٹ سپیٹ کے رانی کیتکی تک پہونچا دی۔ رانی نے اوس چٹھی سے آنکھیں اپنی ملیں، اور مالن کو ایک تھال بھر کے موتی دیے، اور چٹھی کی پیٹھ پر اپنے منہ کی پیک سے یہ لکھا: "اے میرے جی کے گاہک! جو تو مجھے بوٹی بوٹی کر چیل کوے کو دے ڈالے، تو بھی میری آنکھوں کو چین، کلیجے میں سکھ ہووے۔ پر یہ بات بھاگ چلنے کی اچھی نہیں۔ ڈول سے بیٹا بیٹی کے باہر ہے۔ جی تجھ سے پیارا نہیں، ایک تو کیا، جو کروڑ جی جاتے رہیں، پر بھاگنے کی کوئی بات ہمیں رچتی نہیں۔"
یہ چٹھی پیک بھری جو کنور تک جا پہونچتی ہے، وہ کئی ایک سونے کے ہیرے موتی پکھراج کے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھال نچھاور کر کے لٹا دیتا ہے، اور چٹھی سے اس کی بیکلی چوگنی پچگنی ہو جاتی ہے، اور اس چٹھی کو اپنے گورے ڈنڈ پر باندھ لیتا ہے۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.