Urdu in Translation
Search

Chapter 4 of 5

Winter, Spring and Holi

جاڑے کی بہاریں، بہار اور ہولی

Nazeer Akbarabadi

Script
Size

جاڑے کی بہاریں

جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
اور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
دن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
اور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
چلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

تن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی سی
تھر تھر کا زور اکھاڑا ہو بجتی ہو سب کی بتیسی
ہو شور پھپو ہو ہو کا اور دھوم ہو سی سی سی سی کی
کلے پہ کلا لگ لگ کر چلتی ہو منہ میں چکی سی
ہر دانت چنے سے دلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

ہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکر
جو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو ہر آن کڑاکڑ اور تھر تھر
پیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھر
جھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تس پر لہریں لے لے کر
سناٹا باؤ کا چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

ہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کا
اور تن میں نیمہ شبنم کا ہو جس میں خس کا عطر لگا
چھڑکاؤ ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگا
ہاتھوں میں پیالہ شربت کا ہو آگے اک فراش کھڑا
فراش بھی پنکھا جھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

ہر ایک مکاں ہو خلوت کا اور عیش کی سب تیاری ہو
وہ جان کہ جس سے جی غش ہو سو ناز سے آ جھنکاری ہو
دل دیکھ نظیرؔ اس کی چھب کو ہر آن ادا پر واری ہو
سب عیش مہیا ہو آ کر جس جس ارمان کی باری ہو
جب سب ارمان نکلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

بہار

گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہاررنگ و بو کے حسن کیا کیا کچھ دکھاتی ہے بہار

صبح کو لا کر نسیم دل کشا ہر شاخ پرتازہ تر کس کس طرح کے گل کھلاتی ہے بہار

نونہالوں کی دکھا کر دم بدم نشو و نماجسم میں روح رواں کیا کیا بڑھاتی ہے بہار

بلبلیں چہکارتی ہیں شاخ گل پر جا بجابلبلیں کیا فی الحقیقت چہچہاتی ہے بہار

حوض و فواروں کو دے کر آبرو پھر لطف سےکیا معطر فرش سبزے کا بچھاتی ہے بہار

جنبش باد صبا سے ہو کے ہم دوش نشاطساتھ ہر سبزے کے کیا کیا لہلہاتی ہے بہار

خلق کو ہر لحظہ اپنے حسن کی رنگت دکھابے تکلف کیا ہی ہر دل میں سماتی ہے بہار

مجمع خوباں ہجوم عاشقاں اور جوش گلدیکھ ان رنگوں کو کیا کیا کھلکھلاتی ہے بہار

گل رخوں کی دیکھ کر گل بازیاں ہر دم نظیرگل ادھر خنداں ادھر دھومیں مچاتی ہے بہار

ہولی کی بہاریں

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
پریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
خم، شیشے، جام، جھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
محبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو رنگ بھرے
کچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرے
دل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرے
کچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منہ چنگ بھرے
کچھ گھنگھرو تال چھنکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

سامان جہاں تک ہوتا ہے اس عشرت کے مطلوبوں کا
وہ سب سامان مہیا ہو اور باغ کھلا ہو خوابوں کا
ہر آن شرابیں ڈھلتی ہوں اور ٹھٹھ ہو رنگ کے ڈوبوں کا
اس عیش مزے کے عالم میں ایک غول کھڑا محبوبوں کا
کپڑوں پر رنگ چھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

گل زار کھلے ہوں پریوں کے اور مجلس کی تیاری ہو
کپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب گل کاری ہو
منہ لال، گلابی آنکھیں ہوں، اور ہاتھوں میں پچکاری ہو
اس رنگ بھری پچکاری کو انگیا پر تک کر ماری ہو
سینوں سے رنگ ڈھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

ہولی (۱)

آ دھمکے عیش و طرب کیا کیا جب حسن دکھایا ہولی نے
ہر آن خوشی کی دھوم ہوئی یوں لطف جتایا ہولی نے
ہر خاطر کو خورسند کیا ہر دل کو لبھایا ہولی نے
دف رنگیں نقش سنہری کا جس وقت بجایا ہولی نے
بازار گلی اور کوچوں میں غل شور مچایا ہولی نے

یا سوانگ کہوں یا رنگ کہوں یا حسن بتاؤں ہولی کا
سب ابرن تن پر جھمک رہا اور کیسر کا ماتھے ٹیکا
ہنس دینا ہر دم ناز بھرا دکھلانا سج دھج شوخی کا
ہر گالی، مصری، قند بھری، ہر ایک قدم اٹکھیلی کا
دل شاد کیا اور موہ لیا یہ، جوبن پایا ہولی نے

کچھ طبلے کھٹکے تال بجے کچھ ڈھولک اور مردنگ بجی
کچھ جھڑپیں بین ربابوں کی کچھ سارنگی اور چنگ بجی
کچھ تار طنبوروں کے جھنکے، کچھ ڈھمڈھی اور منہ چنگ بجی
کچھ گھنگرو کھٹکے جھم جھم جھم کچھ گت گت پر آہنگ بجی
ہے ہر دم ناچنے گانے کا یہ تار بندھایا ہولی نے

ہر جاگہ تھال گلالوں سے، خوش رنگت کی گل کاری ہے
اور ڈھیر ابیروں کے لاگے، سو عشرت کی تیاری ہے
ہیں راگ بہاریں دکھلاتے اور رنگ بھری پچکاری ہے
منہ سرخی سے گل نار ہوئے تن کیسر کی سی کیاری ہے
یہ روپ جھمکتا دکھلایا یہ رنگ دکھایا ہولی نے

ہر آن خوشی سے آپس میں سب ہنس ہنس رنگ چھڑکتے ہیں
رخسار گلالوں سے گل گوں، کپڑوں سے رنگ ٹپکتے ہیں
کچھ راگ اور رنگ جھمکتے ہیں کچھ مے کے جام چھلکتے ہیں
کچھ کودے ہیں، کچھ اچھلے ہیں، کچھ ہنستے ہیں، کچھ بکتے ہیں
یہ طور یہ نقشا عشرت کا ہر آن بنایا ہولی نے

ہولی (۲)

پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمیں پر
اور عیش نے عرصہ ہے کیا تنگ زمیں پر
ہر دل کو خوشی کا ہوا آہنگ زمیں پر
ہوتا ہے کہیں راگ کہیں رنگ زمیں پر
بجتے ہیں کہیں تال کہیں زنگ زمیں پر
ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

گھنگرو کی پڑی آن کے پھر کان میں جھنکار
سارنگی ہوئی بین طنبوروں کی مددگار
طبلوں کے ٹھکے طبل یہ سازوں کے بجے تار
راگوں کے کہیں غل کہیں ناچوں کے بندھے تار
ڈھولک کہیں جھنکارے ہے مردنگ زمیں پر
ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

مستی میں اٹھا آنکھ جدھر دیکھو اہاہا
ناچے ہے طوائف کہیں مٹکے ہے بھویا
چلتے ہیں کہیں جام کہیں سوانگ کا چرچا
او رنگ کو گلیوں میں جو دیکھو تو ہر اک جا
بہتی ہیں امنڈ کر جمن و گنگ زمیں پر
ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

بھاگے ہے کہیں رنگ کسی پر جو کوئی ڈال
وہ پوٹلی مارے ہے اسے دوڑ کے فی الحال
یہ ٹانگ گھسیٹے ہے تو وہ کھینچے پکڑ بال
وہ ہاتھ مروڑے تو یہ توڑے ہے کھڑا گال
اس ڈھب کے ہر اک جا پہ مچے ڈھنگ زمیں پر
ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

ہولی کی نظیرؔ اب جو بہاریں ہیں اہاہا
محبوب رنگیلوں کی قطاریں ہیں اہاہا
کپڑوں پہ جمی رنگ کی دھاریں ہیں اہاہا
سب ہولی ہے ہولی ہی پکارے ہیں اہاہا
کیا عیش ہے کیا رنگ ہے کیا ڈھنگ زمیں پر
ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

ہولی (۳)

میاں تو ہم سے نہ رکھ کچھ غبار ہولی میں
کہ روٹھے ملتے ہیں آپس میں یار ہولی میں
مچی ہے رنگ کی کیسی بہار ہولی میں
ہوا ہے زور چمن آشکار ہولی میں
عجب یہ ہند کی دیکھی بہار ہولی میں

اب اس مہینے میں پہنچی ہے یاں تلک یہ چال
فلک کا جامہ پہن سرخیٔ شفق سے لال
بنا کے چاند کے سورج کے آسماں پر تھال
فرشتے کھیلیں ہیں ہولی بنا عبیر و گلال
تو آدمی کا بھلا کیا شمار ہولی میں

سنا کہ ہولی جو زہرہ بجاتی ہے طبنور
تو اس کے راگ سے بارہ بروج ہیں معمور
چھوؤں ستاروں کے اوپر پڑا ہے رنگ کا نور
سبھوں کے سر پہ یہ ہر دم پکارتی ہے حور

جو گھر کے ابر کبھی اس مزے میں آتا ہے
تو بادلوں میں وہ کیا کیا ہی رنگ لاتا ہے
خوشی سے رعد بھی ڈھولک کی گت لگاتا ہے
ہوا کو ہولیاں گا گا کے کیا نچاتا ہے
تمام رنگ سے پر ہے بہار ہولی میں

چمن میں دیکھو تو دن رات ہولی رہتی ہے
شراب ناب کی گلشن میں نہر بہتی ہے
نسیم پیار سے غنچے کا ہاتھ گہتی ہے
تو باغبان سے بلبل کھڑی یہ کہتی ہے
نہ چھیڑ مجھ کو تو اے بد شعار ہولی میں

امیر جتنے ہیں سب اپنے گھر میں ہیں خوش حال
قبائیں پہنے ہوئے تنگ تنگ گل کی مثال
بنا کے گہری طرح حوض مل کے سب فی الحال
مچائے ہولیاں آپس میں لے عبیر و گلال
بنے ہیں رنگ سے رنگیں نگار ہولی میں

یہ سیر ہولی کی ہم نے تو برج میں دیکھی
کہیں نہ ہووے گی اس لطف کی میاں ہولی
کوئی تو ڈوبا ہے دامن سے لے کے تا چولی
کوئی تو مرلی بجاتا ہے کہہ کنہیا جی
ہے دھوم دھام پہ بے اختیار ہولی میں

گھروں سے سانوری اور گوریاں نکل چلیاں
کسنبی اوڑھنی اور مست کرتی اچھلیاں
جدھر کو دیکھیں ادھر مچ رہی ہیں رنگ رلیاں
تمام برج کی پریوں سے بھر رہیں گلیاں
مزا ہے سیر ہے در ہر کنار ہولی میں

جو کوئی سیانی ہے ان میں تو کوئی ہے نا کند
وہ شور بور تھی سب رنگ سے نپٹ یک چند
کوئی دلاتی ہے ساتھن کو یار کی سوگند
کہ اب تو جامہ و انگیا کے ٹولے ہیں سب بند
پھر آ کے کھلیں گے ہو کر دو چار ہولی میں

نظیرؔ ہولی کا موسم جو جگ میں آتا ہے
وہ ایسا کون ہے ہولی نہیں مناتا ہے
کوئی تو رنگ چھڑکتا ہے کوئی گاتا ہے
جو خالی رہتا ہے وہ دیکھنے کو جاتا ہے
جو عیش چاہو سو ملتا ہے یار ہولی میں

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.