
Capítulo 9 de 19
Musaddas: Fanatismo, discordia y la ruina de las costumbres (190–217)
Musaddas: Bigotry, Discord and the Ruin of Manners (190–217)
مسدس: تعصب، نفاق اور اخلاق کی تباہی (بند ۱۹۰ تا ۲۱۷)
مسدس: تعصب، نفاق اور اخلاق کی تباہی (بند ۱۹۰ تا ۲۱۷)
وہ دیں جس سے توحید پھیلی جہاں میں
ہوا جلوہ گر حق زمیں و زماں میں
رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں
وہ بدلا گیا آ کے ہندوستاں میں
ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں
وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں
تعصب کہ ہے دشمنِ نوعِ انساں
بھرے گھر کیے سیکڑوں جس نے ویراں
ہوئی بزمِ نمرود جس سے پریشاں
کیا جس نے فرعون کو نذرِ طوفاں
گیا جوش میں بولہب جس کے کھویا
ابوجہل کا جس نے بیڑا ڈبویا
وہ یاں اک عجب بھیس میں جلوہ گر ہے
چھپا جس کے پردے میں اس کا ضرر ہے
بھرا زہر جس جام میں سر بسر ہے
وہ آبِ بقا ہم کو آتا نظر ہے
تعصب کو اک جزوِ دیں سمجھے ہیں ہم
جہنم کو خلدِ بریں سمجھے ہیں ہم
ہمیں واعظوں نے یہ تعلیم دی ہے
کہ جو کام دینی ہے یا دنیوی ہے
مخالف کی ریس اس میں کرنی بری ہے
نشاں غیرتِ دینِ حق کا یہی ہے
مخالف کی الٹی ہر اک بات سمجھو
وہ دن کو کہے دن تو تم رات سمجھو
قدم گر رہِ راست پر اس کا پاؤ
تو تم سیدھے رستے سے کترا کے جاؤ
پڑیں اس میں جو دقتیں وہ اٹھاؤ
لگیں جس قدر ٹھوکریں اس میں کھاؤ
جو نکلے جہاز اس کا بچ کر بھنور سے
تو تم ڈال دو ناؤ اندر بھنور کے
اگر مسخ ہو جائے صورت تمہاری
بہائم میں مل جائے سیرت تمہاری
بدل جائے بالکل طبیعت تمہاری
سراسر بگڑ جائے حالت تمہاری
تو سمجھو کہ ہے حق کی اک شان یہ بھی
ہے اک جلوۂ نورِ ایمان یہ بھی
نہ اوضاع میں تم سے نسبت کسی کو
نہ اخلاق میں تم پہ سبقت کسی کو
نہ حاصل یہ کھانوں میں لذت کسی کو
نہ پیدا یہ پوشش میں زینت کسی کو
تمہیں فضل ہر علم میں بر ملا ہے
تمہاری جہالت میں بھی اک ادا ہے
کوئی چیز سمجھو نہ اپنی بری تم
رہو بات کو اپنی کرتے بڑی تم
حمایت میں ہو جب کہ اسلام کی تم
تو ہو ہر بدی اور گنہ سے بری تم
بدی سے نہیں مومنوں کو مضرت
تمہارے گنہ اور اوروں کی طاعت
مخالف کا اپنے اگر نام لیجے
تو ذکر اس کا ذلت سے خواری سے کیجے
کبھی بھول کر طرح اس میں نہ دیجے
قیامت کو دیکھو گے اس کے نتیجے
گناہوں سے ہوتے ہو گو یا مبرا
مخالف پہ کرتے ہو جب تم تبرا
نہ سنی ہیں اور جعفری میں ہو الفت
نہ نعمانی و شافعی میں ہو ملت
وہابی سے صوفی کی کم ہو نہ نفرت
مقلد کرے نا مقلد پہ لعنت
لڑے اہلِ قبلہ میں جنگ ایسی باہم
کہ دینِ خدا پر ہنسے سارا عالم
کرے کوئی اصلاح کا گر ارادہ
تو شیطان سے اس کو سمجھو زیادہ
جسے ایسے مفسد سے ہے استفادہ
رہِ حق سے ہے بر طرف اس کا جادہ
شریعت کو کرتے ہیں برباد دونوں
ہیں مردود شاگرد و استاد دونوں
وہ دیں جس نے الفت کی بنیاد ڈالی
کیا طبعِ دوراں کو نفرت سے خالی
بنایا اجانب کو جس نے موالی
ہر اک قوم کے دل سے نفرت نکالی
عرب اور حبش ترک و تاجیک و دیلم
ہوئے سارے شیر و شکر مل کے باہم
تعصب نے اس صاف چشمے کو آ کر
کیا بغض کے خار و خس سے مکدر
بنے خصم جو تھے عزیز اور برادر
نفاق اہلِ قبلہ میں پھیلا سراسر
نہیں دستیاب ایسے اب دس مسلماں
کہ ہو ایک کو دیکھ کر ایک شاداں
ہمارا یہ حق تھا کہ سب یار ہوتے
مصیبت میں یاروں کے غمخوار ہوتے
سب ایک اک کے باہم مددگار ہوتے
عزیزوں کے غم میں دل افگار ہوتے
جب الفت میں یوں ہوتے ثابت قدم ہم
تو کہہ سکتے اپنے کو خیر الامم ہم
اگر بھولتے ہم نہ قولِ پیمبر
کہ ”ہیں سب مسلمان باہم برادر“
برادر ہے جب تک برادر کا یاور
معین اس کا ہے خود خداوندِ داور
تو آتی نہ بیڑے پہ اپنے تباہی
فقیری میں بھی کرتے ہم بادشاہی
وہ گھر جس میں دل ہوں ملے سب کے باہم
خوشی ناخوشی میں ہوں سب یار و ہمدم
اگر ایک خوش دل تو گھر سارا خرم
اگر ایک غمگیں تو دل سب کے پر غم
مبارک ہے اس قصرِ شاہنشہی سے
جہاں ایک دل ہو مکدر کسی سے
اگر ہو مدار اس پہ تحقیقِ دیں کا
کہ ہے دین والوں کا برتاؤ کیسا
کھرا ان کا بازار ہے یا کہ کھوٹا
ہے قول و قرار ان کا جھوٹا کہ پکا
تو ایسے نمونے بہت شاذ ہیں یاں
کہ اسلام پر جن سے قائم ہو برہاں
مجالس میں غیبت کا زور اس قدر ہے
کہ آلودہ اس خوں میں ہر بشر ہے
نہ بھائی کو بھائی سے یاں درگزر ہے
نہ ملا کو صوفی کو اس سے حذر ہے
اگر نشہ مے ہو غیبت میں پنہاں
تو ہشیار پائے نہ کوئی مسلماں
جنہیں چار پیسے کا مقدور ہے یاں
سمجھتے نہیں ہیں وہ انساں کو انساں
موافق نہیں جن سے ایامِ دوراں
نہیں دیکھ سکتے کسی کو وہ شاداں
نشہ میں تکبر کے ہے چور کوئی
حسد کے مرض میں ہے رنجور کوئی
اگر مرجعِ خلق ہے ایک بھائی
نہیں ظاہرا جس میں کوئی برائی
بھلا جس کو کہتی ہے ساری خدائی
ہر اک دل میں عظمت ہے جس کی سمائی
تو پڑتی ہیں اس پر نگاہیں غضب کی
کھٹکتا ہے کانٹا سا نظروں میں سب کی
بگڑتا ہے جب قوم میں کوئی بن کر
ابھی بخت و اقبال تھے جس کے یاور
ابھی گردنیں جھکتی تھیں جس کے در پر
مگر کر دیا اب زمانے نے بے پر
تو ظاہر میں گڑھتے ہیں پر خوش ہیں جی میں
کہ ہمدرد ہاتھ آیا اک مفلسی میں
اگر ایک جوانمرد ہمدردِ انساں
کرے قوم پر دل سے جان اپنی قرباں
تو خود قوم اس پر لگائے یہ بہتاں
کہ ہے اس کی کوئی غرض اس میں پنہاں
وگرنہ پڑی کیا کسی کو کسی کی
یہ چالیں سراسر ہیں خود مطلبی کی
نکالے گر ان کی بھلائی کی صورت
تو ڈالیں جہاں تک بنے اس میں کھنڈت
سنیں کامیابی میں گر اس کی شہرت
تو دل سے تراشیں کوئی تازہ تہمت
منہ اپنا ہو گو دین و دنیا میں کالا
نہ ہو ایک بھائی کا پر بول بالا
اگر پاتے ہیں دو دلوں میں صفائی
تو ہیں ڈالتے اس میں طرحِ جدائی
ٹھنی دو گروہوں میں جس دم لڑائی
تو گویا تمنا ہماری بر آئی
بس اس سے نہیں مشغلہ خوب کوئی
تماشا نہیں ایسا مرغوب کوئی
تغلب میں بدنیتی میں دغا میں
نمود اور بناوٹ فریب اور ریا میں
سعایت میں بہتان میں افترا میں
کسی بزمِ بیگانہ و آشنا میں
نہ پاؤ گے رسوا و بدنام ہم سے
بڑھے پھر نہ کیوں شانِ اسلام ہم سے
خوشامد میں ہم کو وہ قدرت ہے حاصل
کہ انساں کو ہر طرح کرتے ہیں مائل
کہیں احمقوں کو بناتے ہیں فاضل
کہیں ہوشیاروں کو کرتے ہیں غافل
کسی کو اتارا کسی کو چڑھایا
یونہیں سیکڑوں کو اسامی بنایا
روایات پر حاشیہ اک چڑھانا
قسم جھوٹے وعدوں پہ سو بار کھانا
اگر مدح کرنا تو حد سے بڑھانا
مذمت پہ آنا تو طوفاں اٹھانا
یہ ہے روز مرہ کا یاں ان کے عنواں
فصاحت میں بے مثل ہیں جو مسلماں
اسے جانتے ہیں بڑا اپنا دشمن
ہمارے کرے عیب جو ہم پہ روشن
نصیحت سے نفرت ہے ناصح سے ان بن
سمجھتے ہیں ہم رہنماؤں کو رہزن
یہی عیب ہے سب کو کھویا ہے جس نے
ہمیں ناؤ بھر کر ڈبویا ہے جس نے
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.