Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 8 из 19

المسدّس: الأمراء والعلماء والمشايخ (١٥٨–١٨٩)

Musaddas: The Rich, the Clerics and the Shaikhs (158–189)

مسدس: امرا، علما اور مشائخ کا حال (بند ۱۵۸ تا ۱۸۹)

Altaf Husain Hali

Письмо
Размер

مسدس: امرا، علما، مشائخ اور شعرا کا حال (بند ۱۵۸ تا ۱۸۹)

پریشاں اگر قحط سے اک جہاں ہے
تو بے فکر ہیں کیونکہ گھر میں سماں ہے
اگر باغِ امت میں فصلِ خزاں ہے
تو خوش ہیں کہ اپنا چمن گل فشاں ہے
بنی نوعِ انساں کا حق ان پہ کیا ہے
وہ اک نوع، نوعِ بشر سے جدا ہے

کہاں بندگانِ ذلیل اور کہاں وہ
بسر کرتے ہیں بے غم قوت و ناں وہ
پہنتے نہیں جز سمور و کتاں وہ
مکاں رکھتے ہیں رشکِ خلدِ جناں وہ
نہیں چلتے وہ بے سواری قدم بھر
نہیں رہتے بے نغمہ و ساز دم بھر

کمر بستہ ہیں لوگ خدمت میں ان کی
گل و لالہ رہتے ہیں صحبت میں ان کی
نفاست بھری ہے طبیعت میں ان کی
نزاکت سی داخل ہے عادت میں ان کی
دواؤں میں مشک ان کی اٹھتا ہے ڈھیروں
وہ پوشاک میں عطر ملتے ہیں سیروں

یہ ہو سکتے ہیں ان کے ہم جنس کیونکر
نہیں چین جن کو زمانے سے دم بھر
سواری کو گھوڑا نہ خدمت کو نوکر
نہ رہنے کو گھر اور نہ سونے کو بستر
پہننے کو کپڑا نہ کھانے کو روٹی
جو تدبیر الٹی تو تقدیر کھوٹی

یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
وہی دوست ہے خالقِ دو سرا کا
خلائق سے ہے جس کو رشتہ ولا کا
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

عمل جن کا ہے اس کلامِ متیں پر
وہ سرسبز ہیں آج روئے زمیں پر
تفوق ہے ان کو کہیں و مہیں پر
مدارِ آدمیت کا ہے اب انہیں پر
شریعت کے جو ہم نے پیماں توڑے
وہ لے جا کے سب اہلِ مغرب نے جوڑے

سمجھتے ہیں گمراہ جن کو مسلماں
نہیں جن کو عقبیٰ میں امیدِ غفراں
نہ حصے میں فردوس جن کے نہ رضواں
نہ تقدیر میں حور جن کے نہ غلماں
پس از مرگ دوزخ ٹھکانا ہے جن کا
حمیم آب و زقوم کھانا ہے جن کا

وہ ملک اور ملت پہ اپنی فدا ہیں
سب آپس میں ایک اک کے حاجت روا ہیں
اولو العلم ہیں ان میں یا اغنیا ہیں
طلب گارِ بہبودِ خلقِ خدا ہیں
یہ پٹا تھا گویا کہ حصہ انہیں کا
کہ حبُ الوطن ہے نشاں مومنیں کا

امیروں کی دولت غریبوں کی ہمت
ادیبوں کی انشا حکیموں کی حکمت
فصیحوں کے خطبے شجاعوں کی جرأت
سپاہی کے ہتھیار شاہوں کی طاقت
دلوں کی امیدیں امنگوں کی خوشیاں
سب اہلِ وطن اور وطن پر ہیں قرباں

عروج ان کا جو تم عیاں دیکھتے ہو
جہاں میں انہیں کامراں دیکھتے ہو
مطیع ان کا سارا جہاں دیکھتے ہو
انہیں برتر از آسماں دیکھتے ہو
یہ ثمرے ہیں ان کی جوانمردیوں کے
نتیجے ہیں آپس کی ہمدردیوں کے

غنی ہم میں ہیں جو کہ اربابِ ہمت
مسلم ہے عالم میں جن کی سخاوت
اگر ہے مشائخ سے ان کو عقیدت
تو ہے پیرزادوں پہ وقف ان کی دولت
نکلتے ہیں دن رات واں عیش کرتے
پہ نوکر ہیں جتنے وہ بھوکے ہیں مرتے

عمل واعظوں کے اگر قول پر ہے
تو بخشش کی امید بے صرفِ زر ہے
نماز اور روزہ کی عادت اگر ہے
تو روزِ حساب ان کو پھر کس کا ڈر ہے
اگر شہر میں کوئی مسجد بنا دی
تو فردوس میں نیو اپنی جما دی

عمارت کی بنیاد ایسی اٹھانی
نہ نکلے کہیں ملک میں جس کا ثانی
تماشوں میں ثروت بڑوں کی اڑانی
نمائش میں دولت خدا کی لٹانی
چھٹی بیاہ میں کرنے لاکھوں کے ساماں
یہ ہیں ان کی خوشیاں یہ ہیں ان کے ارماں

مگر دینِ برحق کا بوسیدہ ایواں
تزلزل میں مدت سے ہیں جس کے ارکاں
زمانہ میں ہے جو کوئی دن کا مہماں
نہ پائیں گے ڈھونڈا جسے پھر مسلماں
عزیزوں نے اس سے توجہ اٹھا لی
عمارت کا ہے اس کی اللہ والی

پڑی ہیں سب اجڑی ہوئی خانقاہیں
وہ درویش و سلطاں کی امید گاہیں
کھلیں تھیں جہاں علمِ باطن کی راہیں
فرشتوں کی پڑتی تھیں جن پر نگاہیں
کہاں ہیں وہ جذبِ آتم کے پھندے
کہاں ہیں وہ اللہ کے پاک بندے

وہ علمِ شریعت کے ماہر کدھر ہیں
وہ اخبارِ دیں کے مبشر کدھر ہیں
اصولی کدھر ہیں مناظر کدھر ہیں
محدث کہاں ہیں مفسر کدھر ہیں
وہ مجلس جو کل سر بسر تھی چراغاں
چراغ اب کہیں ٹمٹماتا نہیں واں

مدارس وہ تعلیمِ دیں کے کہاں ہیں
مراحل وہ علم و یقیں کے کہاں ہیں
وہ ارکانِ شرعِ متیں کے کہاں ہیں
وہ وارث رسولِ امیں کے کہاں ہیں
رہا کوئی امت کا ملجا نہ ماویٰ
نہ قاضی نہ مفتی نہ صوفی نہ ملا

کہاں ہیں وہ دینی کتابوں کے دفتر
کہاں ہیں وہ علمِ الٰہی کے منظر
چلی ایسی اس بزم میں بادِ صرصر
بجھیں مشعلیں نورِ حق کی سراسر
رہا کوئی ساماں نہ مجلس میں باقی
صراحی نہ طنبور نہ مطرب نہ ساقی

بہت لوگ بن کر ہوا خواہِ امت
سفیہوں سے منوا کے اپنی فضیلت
سدا گاؤں در گاؤں نوبت بہ نوبت
پڑے پھرتے ہیں کرتے تحصیلِ دولت
یہ ٹھہرے ہیں اسلام کے رہنما اب
لقب ان کا ہے وارثِ انبیا اب

بہت لوگ پیروں کی اولاد بن کر
نہیں ذاتِ والا میں کچھ جن کے جوہر
بڑا فخر ہے جن کو لے دے کے اس پر
کہ تھے ان کے اسلاف مقبولِ داور
کرشمے ہیں جا جا کے جھوٹے دکھاتے
مریدوں کو ہیں لوٹتے اور کھاتے

یہ ہیں جادہ پیمائے راہِ طریقت
مقام ان کا ہے ماورائے شریعت
انہیں پر ہے ختم آج کشف و کرامت
انہیں کے ہے قبضہ میں بندوں کی قسمت
یہی ہیں مراد اور یہی مرید اب
یہی ہیں جنید اور یہی بایزید اب

بڑھے جس سے نفرت وہ تقریر کرنی
جگر جس سے شق ہوں وہ تحریر کرنی
گنہگار بندوں کی تحقیر کرنی
مسلمان بھائی کی تکفیر کرنی
یہ ہے عالموں کا ہمارے طریقہ
یہ ہے ہادیوں کا ہمارے سلیقہ

کوئی مسئلہ پوچھنے ان سے جائے
تو گردن پہ بارِ گراں لے کے آئے
اگر بد نصیبی سے شک اس میں لائے
تو قطعی خطابِ اہلِ دوزخ کا پائے
اگر اعتراض اس کی نکلا زباں سے
تو آنا سلامت ہے دشوار واں سے

کبھی وہ گلے کی رگیں ہیں پھلاتے
کبھی جھاگ پر جھاگ ہیں منہ پہ لاتے
کبھی خوک اور سگ ہیں اس کو بتاتے
کبھی مارنے کو عصا ہیں اٹھاتے
ستوں چشمِ بد دور ہیں آپ دیں کے
نمونہ ہیں خلقِ رسولِ امیں کے

جو چاہے کہ خوش ان سے مل کر ہوں آں
تو ہے شرط وہ قوم کا ہو مسلماں
نشاں سجدہ کا ہو جبیں پر نمایاں
تشرع میں اس کے نہ ہو کوئی نقصاں
لبیں بڑھ رہی ہوں نہ ڈاڑھی چپٹی ہو
ازار اپنی حد سے نہ آگے بڑھی ہو

عقائد میں حضرت کا ہم داستاں ہو
ہر اک اصل میں فرع میں ہم زباں ہو
حریفوں سے ان کے بہت بدگماں ہو
مریدوں کا ان کے بڑا مدح خواں ہو
گر ایسا نہیں ہے تو مردود دیں ہے
بزرگوں سے ملنے کے قابل نہیں ہے

شریعت کے احکام تھے وہ گوارا
کہ شیدا تھے ان پر یہود اور نصاریٰ
گواہ ان کی نرمی کا قرآں ہے سارا
خود ”الدین یسر“ نبی نے پکارا
مگر یاں کیا ایسا دشوار ان کو
کہ مومن سمجھنے لگے بار ان کو

نہ کی ان کی اخلاق میں رہنمائی
نہ باطن میں کی ان کے پیدا صفائی
پہ احکامِ ظاہر کی لے یہ بڑھائی
کہ ہوتی نہیں ان سے دم بھر رہائی
وہ دیں جو کہ چشمہ تھا خلقِ نکو کا
کیا قلتین اس کو غسل و وضو کا

سدا اہلِ تحقیق سے دل میں بل ہے
حدیثوں پہ چلنے میں دیں کا خلل ہے
فتاووں پہ بالکل مدارِ عمل ہے
ہر اک رائے قرآں کا نعم البدل ہے
کتاب اور سنت کا ہے نام باقی
خدا اور نبی سے نہیں کام باقی

جہاں مختلف ہوں روایات باہم
کبھی ہوں نہ سیدھی روایت سے خوش ہم
جسے عقل رکھے نہ ہرگز مسلم
اسے ہر روایت سے سمجھیں مقدم
سب اس میں گرفتار چھوٹے بڑے ہیں
سمجھ پر ہماری یہ پتھر پڑے ہیں

کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بہرِ سجدہ تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں
شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایماں جائے

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.