Urdu in Translation
بحث

الفصل 7 من 19

Musaddas : Le déclin commence ; les musulmans de l'Inde (106–157)

Musaddas: The Decline Begins; the Muslims of India (106–157)

مسدس: تنزل کا آغاز اور ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت (بند ۱۰۶ تا ۱۵۷)

Altaf Husain Hali

الخط
الحجم

مسدس: تنزل کا آغاز اور ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت (بند ۱۰۶ تا ۱۵۷)

پہ گدلا ہوا جب کہ چشمہ صفا کا
گیا چھوٹ سر رشتہ دینِ ہدیٰ کا
رہا سر پہ باقی نہ سایہ ہما کا
تو پورا ہوا عہد جو تھا خدا کا
کہ ہم نے بگاڑا نہیں کوئی اب تک
وہ بگڑا نہیں آپ دنیا میں جب تک

برے ان پہ وقت آ کے پڑنے لگے اب
وہ دنیا میں بس کر اجڑنے لگے اب
بھرے ان کے میلے بچھڑنے لگے اب
بنے تھے وہ جیسے بگڑنے لگے اب
ہری کھیتیاں جل گئیں لہلہا کر
گھٹا کھل گئی سارے عالم پہ چھا کر

نہ ثروت رہی ان کی قائم نہ عزت
گئے چھوڑ ساتھ ان کا اقبال و دولت
ہوئے علم و فن ان سے ایک ایک رخصت
مٹیں خوبیاں ساری نوبت بہ نوبت
رہا دین باقی نہ اسلام باقی
اک اسلام کا رہ گیا نام باقی

ملے کوئی ٹیلہ اگر ایسا اونچا
کہ آتی ہو واں سے نظر ساری دنیا
چڑھے اس پہ پھر اک خردمند دانا
کہ قدرت کے دنگل کا دیکھے تماشا
تو قوموں میں فرق اس قدر پائے گا وہ
کہ عالم کو زیر و زبر پائے گا وہ

وہ دیکھے گا ہر سو ہزاروں چمن واں
بہت تازہ تر صورتِ باغِ رضواں
بہت ان سے کمتر پہ سرسبز و خنداں
بہت خشک اور بے طراوت مگر واں
نہیں لائے گو برگ و بار ان کے پودے
نظر آتے ہیں ہونہار ان کے پودے

پھر اک باغ دیکھے گا اجڑا سراسر
جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر
نہیں تازگی کا کہیں نام جس پر
ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی جل کر
نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل
ہوئے روکھ جس کے جلانے کے قابل

جہاں زہر کا کام کرتا ہے باراں
جہاں آ کے دیتا ہے رلا ابرِ نیساں
تردد سے جو اور ہوتا ہے ویراں
نہیں راس جس کو خزاں اور بہاراں
یہ آواز پیہم وہاں آ رہی ہے
کہ اسلام کا باغ ویراں یہی ہے

وہ دینِ حجازی کا بے باک بیڑا
نشاں جس کا اقصائے عالم میں پہنچا
مزاحم ہوا کوئی خطرہ نہ جس کا
نہ عماں میں ٹھٹکا نہ قلزم میں جھجکا
کیے پے سپر جس نے ساتوں سمندر
وہ ڈوبا دہانے میں گنگا کے آ کر

اگر کان دھر کر سنیں اہلِ عبرت
تو سیلون سے تا بکشمیر و تبت
زمیں روکھ بن پھول پھل ریت پربت
یہ فریاد سب کر رہے ہیں بحسرت
کہ کل فخر تھا جن سے اہلِ جہاں کو
لگا ان سے عیب آج ہندوستاں کو

حکومت نے تم سے کیا گر کنارا
تو اس میں نہ تھا کچھ تمہارا اجارا
زمانہ کی گردش سے ہر کس کو چارا
کبھی یاں سکندر کبھی یاں ہے دارا
نہیں بادشاہی کچھ آخر خدائی
جو ہے آج اپنی تو کل ہے پرائی

ہوئی مقتضی جب کہ حکمت خدا کی
کہ تعلیم جاری ہو خیر الوریٰ کی
پڑے دھوم عالم میں دینِ ہدیٰ کی
تو عالم کی تم کو حکومت عطا کی
کہ پھیلاؤ دنیا میں حکمِ شریعت
کرو ختم بندوں پہ مالک کی حجت

ادا کر چکی جب حق اپنا حکومت
رہی اب نہ اسلام کو اس کی حاجت
مگر حیف اے مفخرِ آدم کی امت
ہوئی آدمیت بھی ساتھ اس کے رخصت
حکومت تھی گویا کہ اک جھول تم پر
کہ اڑتے ہی اس کے نکل آئے جوہر

زمانہ میں ہیں ایسی قومیں بہت سی
نہیں جن میں تخصیصِ فرماں دہی کی
پر آفت کہیں ایسی آئی نہ ہو گی
کہ گھر گھر پہ یاں چھا گئی آ کے پستی
چکور اور شہباز سب اوج پر ہیں
مگر ایک ہم ہیں کہ بے بال و پر ہیں

وہ ملت کہ گردوں پہ جس کا قدم تھا
ہر اک کھونٹ میں جس کا برپا علم تھا
وہ فرقہ جو آفاق میں محترم تھا
وہ امت لقب جس کا خیر الامم تھا
نشاں اس کا باقی ہے صرف اس قدر یاں
کہ گنتے ہیں اپنے کو ہم بھی مسلماں

وگرنہ ہماری رگوں میں لہو میں
ہمارے ارادوں میں اور جستجو میں
دلوں میں زبانوں میں اور گفتگو میں
طبیعت میں فطرت میں عادت میں خو میں
نہیں کوئی ذرہ نجابت کا باقی
اگر ہو کسی میں تو ہے اتفاقی

ہماری ہر اک بات میں سفلہ پن ہے
کمینوں سے بدتر ہمارا چلن ہے
لگا نامِ آبا کو ہم سے گہن ہے
ہمارا قدم ننگِ اہلِ وطن ہے
بزرگوں کی توقیر کھوئی ہے ہم نے
عرب کی شرافت ڈبوئی ہے ہم نے

نہ قوموں میں عزت نہ جلسوں میں قیمت
نہ اپنوں سے الفت نہ غیروں سے رغبت
مزاجوں میں سستی دماغوں میں نخوت
خیالوں میں پستی کمالوں سے نفرت
عداوت نہاں دوستی آشکارا
غرض کی تواضع غرض کی مدارا

نہ اہلِ حکومت کے ہمراز ہیں ہم
نہ درباریوں میں سرافراز ہیں ہم
نہ علموں میں شایانِ اعزاز ہیں ہم
نہ صنعت میں حرفت میں ممتاز ہیں ہم
نہ رکھتے ہیں کچھ منزلت نوکری میں
نہ حصہ ہمارا ہے سوداگری میں

تنزل نے کی ہے بری گت ہماری
بہت دور پہنچی ہے نکبت ہماری
گئی گزری دنیا سے عزت ہماری
نہیں کچھ ابھرنے کی صورت ہماری
پڑے ہیں اک امید کے ہم سہارے
توقع پہ جنت کی جیتے ہیں سارے

سیاحت کی گوں ہیں نہ مردِ سفر ہیں
خدا کی خدائی سے ہم بے خبر ہیں
یہ دیواریں گھر کی جو پیشِ نظر ہیں
یہی اپنے نزدیک حدِ بشر ہیں
ہیں تالاب میں مچھلیاں کچھ فراہم
وہی ان کی دنیا وہی ان کا عالم

بہشت اور ارم سلسبیل اور کوثر
پہاڑ اور جنگل جزیرے سمندر
اسی طرح کے اور بھی نام اکثر
کتابوں میں پڑھتے رہے ہیں برابر
پہ جب تک نہ دیکھیں کہیں کس یقیں پر
کہ یہ آسماں پر ہیں یا ہیں زمیں پر

وہ بے مول پونجی کہ ہے اصل دولت
وہ شائستہ لوگوں کا گنجِ سعادت
وہ آسودہ قوموں کا راس البضاعت
وہ دولت کہ ہے وقت جس سے عبارت
نہیں اس کی وقعت نظر میں ہماری
یونہیں مفت جاتی ہے برباد ساری

اگر ہم سے مانگے کوئی ایک پیسا
تو ہو گا کم و بیش بار اس کا دینا
مگر ہاں وہ سرمایۂ دین و دنیا
کہ ایک ایک لمحہ ہے انمول جس کا
نہیں کرتے خست اڑانے میں اس کے
بہت ہم سخی ہیں لٹانے میں اس کے

اگر سانس دن رات کے سب گنیں ہم
تو نکلیں گے انفاس ایسے بہت کم
کہ ہو جن میں کل کے لیے کچھ فراہم
یونہیں گزرے جاتے ہیں دن رات پیہم
نہیں کوئی گویا خبردار ہم میں
کہ یہ سانس آخر ہیں اب کوئی دم میں

گڈریے کا وہ حکم بردار کتا
کہ بھیڑوں کی ہر دم ہے رکھوال کتا
جو ریوڑ میں ہوتا ہے پتے کا کھڑکا
تو وہ شیر کی طرح پھرتا ہے بپھرا
گر انصاف کیجے تو ہے ہم سے بہتر
کہ غافل نہیں فرض سے اپنے دم بھر

وہ قومیں جو سب راہیں طے کر چکی ہیں
ذخیرے ہر اک جنس کے بھر چکی ہیں
ہر اک بوجھ اپنے پہ سر دھر چکی ہیں
ہوئیں تب ہیں زندہ کہ جب مر چکی ہیں
اسی طرح راہِ طلب میں ہیں پویا
بہت دور ابھی ان کو جانا ہے گویا

کسی وقت جی بھر کے سوتے نہیں وہ
کبھی سیرِ محنت سے ہوتے نہیں وہ
بضاعت کو اپنی ڈبوتے نہیں وہ
کوئی لمحہ بے کار کھوتے نہیں وہ
نہ چلنے سے تھکتے نہ اکتاتے ہیں وہ
بہت بڑھ گئے اور بڑھے جاتے ہیں وہ

مگر ہم کہ اب تک جہاں تھے وہیں ہیں
جمادات کی طرح بارِ زمیں ہیں
جہاں میں ہیں ایسے کہ گویا نہیں ہیں
زمانہ سے کچھ ایسے فارغ نشیں ہیں
کہ گویا ضروری تھا جو کام کرنا
وہ سب کر چکے ایک باقی ہے مرنا

یہاں اور ہیں جتنی قومیں گرامی
خود اقبال ہے آج ان کا سلامی
تجارت میں ممتاز دولت میں نامی
زمانہ کے ساتھی ترقی کے حامی
نہ فارغ ہیں اولاد کی تربیت سے
نہ بے فکر ہیں قوم کی تقویت سے

دکان ان کی ہے اور بازار ان کا
بنج ان کا ہے اور بیوپار ان کا
زمانہ میں پھیلا ہے بیوپار ان کا
ہے پیر و جواں بر سرِ کار ان کا
مدار اہلکاری کا ہے اب انہیں پر
انہیں کے ہیں آفس انہیں کے ہیں دفتر

معزز ہیں ہر ایک دربار میں وہ
گرامی ہیں ہر ایک سرکار میں وہ
نہ رسوا ہیں عادات و اطوار میں وہ
نہ بدنام گفتار و کردار میں وہ
نہ پیشہ سے حرفہ سے انکار ان کو
نہ محنت مشقت سے کچھ عار ان کو

جو گرتے ہیں گر کر سنبھل جاتے ہیں وہ
پڑے زد تو بچ کر نکل جاتے ہیں وہ
ہر اک سانچے میں جا کے ڈھل جاتے ہیں وہ
جہاں رنگ بدلا بدل جاتے ہیں وہ
ہر اک وقت کا مقتضیٰ جانتے ہیں
زمانہ کے تیور وہ پہچانتے ہیں

یہ ہیں ڈھنگ ان تازہ آفت زدوں کے
بہت کم زمانہ ہوا جن کو بگڑے
ابھی ایک عالم ہے آگاہ جن سے
کہ ہیں کس کے بیٹے وہ اور کس کے پوتے
جنہیں دیس پردیس سب جانتے ہیں
حسب اور نسب جن کا پہچانتے ہیں

مگر مٹ چکا جن کا نام و نشاں ہے
پرانی ہوئی جن کی اب داستاں ہے
فسانوں میں قصوں میں جن کا بیاں ہے
بہت نسل پر تنگ ان کی جہاں ہے
نہیں ان کی قدر اور پرسش کہیں اب
انہیں بھیک تک کوئی دیتا نہیں اب

بہت آگ چلہوں کی سلگانے والے
بہت گھانس کی گٹھڑیاں لانے والے
بہت در بدر مانگ کر کھانے والے
بہت فاقے کر کر کے مر جانے والے
جو پوچھو کہ کس کان کے ہیں وہ جوہر
تو نکلیں گے نسلِ ملوک ان میں اکثر

انہیں کے بزرگ ایک دن حکمراں تھے
انہیں کے پرستار پیر و جواں تھے
یہی مامنِ عاجز و ناتواں تھے
یہی مرجعِ دیلم و اصفہاں تھے
یہی کرتے تھے ملک کی گلہ بانی
انہیں کے گھروں میں تھی صاحبقرانی

یہ اے قومِ اسلام عبرت کی جا ہے
کہ شاہوں کی اولاد در در گدا ہے
جسے سنیے افلاس میں مبتلا ہے
جسے دیکھیے مفلس و بے نوا ہے
نہیں کوئی ان میں کمانے کے قابل
اگر ہیں تو ہیں مانگ کھانے کے قابل

نہیں مانگنے کا طریق ایک ہی یاں
گدائی کی ہیں صورتیں نت نئی یاں
نہیں حصر کنگلوں پہ گدیہ گری یاں
کوئی دے تو منگتوں کی ہے کیا کمی یاں
بہت ہاتھ پھیلائے زیرِ ردا ہیں
بچھے اجلے کپڑوں میں اکثر گدا ہیں

بہت آپ کو کہہ کے مسجد کے بانی
بہت بن کے خود سیدِ خاندانی
بہت سیکھ کر نوحہ و سوز خوانی
بہت مدح میں کر کے رنگیں بیانی
بہت آستانوں کے خدام بن کر
پڑے مانگتے کھاتے پھرتے ہیں در در

مشقت کو محنت کو جو عار سمجھیں
ہنر اور پیشہ کو جو خوار سمجھیں
تجارت کو کھیتی کو دشوار سمجھیں
فرنگی کے پیسے کو مردار سمجھیں
تن آسانیاں چاہیں اور آبرو بھی
وہ قوم آج ڈوبے گی گر کل نہ ڈوبی

کریں نوکری بھی تو بے عزتی کی
جو روٹی کمائیں تو بے عزتی کی
کہیں پائیں خدمت تو بے عزتی کی
قسم کھائیے ان کی خوش قسمتی کی
امیروں کے بنتے ہیں جب یہ مصاحب
تو جاتے ہیں ہو کر حمیت سے تائب

کہیں ان کی صحبت میں گانا بجانا
کہیں مسخرہ بن کے ہنسنا ہنسانا
کہیں پھبتیاں کہہ کے انعام پانا
کہیں چھیڑ کر گالیاں سب سے کھانا
یہ کام اور بھی کرتے ہیں پر نہ ایسے
مسلمان بھائی سے بن آئیں جیسے

امیروں کا عالم نہ پوچھو کہ کیا ہے
خمیر ان کا اور ان کی طینت جدا ہے
سزاوار ہے ان کو جو ناسزا ہے
روا ہے انہیں سب کہ جو ناروا ہے
شریعت ہوئی ہے نکو نام ان سے
بہت فخر کرتا ہے اسلام ان سے

ہر اک بول پر ان کے مجلس فدا ہے
ہر اک بات پر واں درست اور بجا ہے
نہ گفتار میں ان کی کوئی خطا ہے
نہ کردار ان کا کوئی ناسزا ہے
وہ جو کچھ کہ ہیں، کہہ سکے کون ان کو
بنایا ندیموں نے فرعون ان کو

وہ دولت کہ ہے مایۂ دین و دنیا
وہ دولت کہ ہے توشۂ راہِ عقبیٰ
سلیماں نے کی جس کی حق سے تمنا
بڑھا جس سے آفاق میں نامِ کسریٰ
کیا جس نے حاتم کو مشہورِ دوراں
کیا جس نے یوسف کو مسجودِ اخواں

بلا ہے یہ فخر اس کو ان کی بدولت
کہ سمجھی گئی ہے وہ اصلِ شقاوت
کہیں ہے وہ سرمایۂ جہل و غفلت
کہیں نشۂ بادہ کبر و نخوت
جہاں کے لیے جو کہ آبِ بقا ہے
وہ اس قوم کے حق میں سمی دوا ہے

ادھر مال و دولت نے یاں منہ دکھایا
ادھر ساتھ ساتھ اس کے ادبار آیا
پڑا آ کے جس گھر پہ ثروت کا سایا
عمل واں سے برکت نے اپنا اٹھایا
نہیں راس یاں چار پیسے کسی کو
مبارک نہیں جیسے پر چیونٹی کو

سمجھتے ہیں سب عیب جن عادتوں کو
بہائم سے نسبت ہے جن سیرتوں کو
چھپاتے ہیں اوباش جن خصلتوں کو
نہیں کرتے اجلاف جن حرکتوں کو
وہ یاں اہلِ دولت کو ہیں شیرِ مادر
نہ خوفِ خدا ہے نہ شرمِ پیمبر

طبیعت اگر لہو و بازی پہ آئی
تو دولت بہت سی اسی میں لٹائی
جو کی حضرتِ عشق نے رہنمائی
تو کر دی بھرے گھر کی دم میں صفائی
پھر آخر لگے مانگنے اور کھانے
یونہیں بیٹھ گئے یاں ہزاروں گھرانے

نہ آغاز پر اپنے غور ان کو اصلاً
نہ انجام کا اپنے کچھ ان کو کھٹکا
نہ فکر ان کو اولاد کی تربیت کا
نہ کچھ ذلتِ قوم کی ان کو پروا
نہ حق کوئی دنیا پہ ان کا نہ دیں پر
خدا کو وہ کیا منہ دکھائیں گے جا کر

کسی قوم کا جب الٹتا ہے دفتر
تو ہوتے ہیں مسخ ان میں پہلے تونگر
کمال ان میں رہتے ہیں باقی نہ جوہر
نہ عقل ان کی ہادی نہ دین ان کا رہبر
نہ دنیا میں ذلت نہ عزت کی پروا
نہ عقبیٰ میں دوزخ نہ جنت کی پروا

نہ مظلوم کی آہ و زاری سے ڈرنا
نہ مفلوک کے حال پر رحم کرنا
ہوا و ہوس میں خودی سے گزرنا
تعیش میں جینا نمائش پہ مرنا
سدا خوابِ غفلت میں بے ہوش رہنا
دمِ نزع تک خود فراموش رہنا

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.