
Chapter 5 of 19
Musaddas: Los Compañeros y el ascenso de los musulmanes (46–77)
Musaddas: The Companions and the Rise of the Muslims (46–77)
مسدس: صحابہ کا عہد اور مسلمانوں کا عروج (بند ۴۶ تا ۷۷)
مسدس: صحابہ کا عہد اور مسلمانوں کا عروج (بند ۴۶ تا ۷۷)
ڈرایا تعصب سے ان کو یہ کہہ کر
کہ زندہ رہا اور مرا جو اسی پر
ہوا وہ ہماری جماعت سے باہر
وہ ساتھی ہمارا نہ ہم اس کے یاور
نہیں حق سے کچھ اس محبت کو بہرہ
کہ جو تم کو اندھا کرے اور بہرہ
بچایا برائی سے ان کو یہ کہہ کر
کہ طاعت سے ترکِ معاصی ہے بہتر
تورع کا ہے ذات میں جن کی جوہر
نہ ہوں گے کبھی عابد ان کے برابر
کرو ذکر اہلِ ورع کا جہاں تم
نہ لو عابدوں کا کبھی نام واں تم
غریبوں کو محنت کی رغبت دلائی
کہ بازو سے اپنے کرو تم کمائی
خبر تا کہ لو اس سے اپنی پرائی
نہ کرنی پڑے تم کو در در گدائی
طلب سے ہے دنیا کی گر یاں یہ نیت
تو چمکو گے واں ماہِ کامل کی صورت
امیروں کو تنبیہ کی اس طرح پر
کہ ہیں تم میں جو اغنیا اور تونگر
اگر اپنے طبقہ میں ہوں سب سے بہتر
بنی نوع کے ہوں مددگار و یاور
نہ کرتے ہوں بے مشورت کام ہرگز
اٹھاتے نہ ہوں بے دھڑک گام ہرگز
تو مردوں سے آسودہ تر ہے وہ طبقہ
زمانہ مبارک ملے جس کو ایسا
پہ جب اہلِ دولت ہوں اشرارِ دنیا
نہ ہو عیش میں جن کو اوروں کی پروا
نہیں اس زمانہ میں کچھ خیر و برکت
اقامت سے بہتر ہے اس وقتِ رحلت
دیے پھیر دل ان کے مکر و ریا سے
بھرا ان کے سینہ کو صدق و صفا سے
بچایا انہیں کذب سے افترا سے
کیا سرخرو خلق سے اور خدا سے
رہا قولِ حق میں نہ کچھ باک ان کو
بس اک شوب میں کر دیا پاک ان کو
کہیں حفظِ صحت کے آئیں سکھائے
سفر کے کہیں شوق ان کو دلائے
مفاد ان کو سوداگری کے بجھائے
اصول ان کو فرماں دہی کے بتائے
نشاں راہِ منزل کا ایک اک دکھایا
بنی نوع کا ان کو رہبر بنایا
ہوئی ایسی عادت پہ تعلیم غالب
کہ باطل کے شیدا ہوئے حق کے طالب
مناقب سے بدلے گئے سب مثالب
ہوئے روح سے بہرہ ور ان کے قالب
جسے راج رد کر چکے تھے وہ پتھر
ہوا جا کے آخر کو قائم سرے پر
جب امت کو سب مل چکی حق کی نعمت
ادا کر چکی فرضِ اپنا رسالت
رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی حجت
نبی نے کیا خلق سے قصدِ رحلت
تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی
کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی
سب اسلام کے حکم بردار بندے
سب اسلامیوں کے مددگار بندے
خدا اور نبی کے وفادار بندے
یتیموں کے رانڈوں کے غمخوار بندے
رہِ کفر و باطل سے بیزار سارے
نشہ میں مئے حق کے سرشار سارے
جہالت کی رسمیں مٹا دینے والے
کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے
سر احکامِ دیں پر جھکا دینے والے
خدا کے لیے گھر لٹا دینے والے
ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے
فقط ایک اللہ سے ڈرنے والے
اگر اختلاف ان میں باہم دگر تھا
تو بالکل مدار اس کا اخلاص پر تھا
جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا
خلاف آشتی سے خوش آئندہ تر تھا
یہ تھی موج پہلی اس آزادگی کی
ہر اک جس سے ہونے کو تھا باغ گیتی
نہ کھانوں میں تھی واں تکلف کی کلفت
نہ پوشش سے مقصود تھی زیب و زینت
امیر اور لشکر کی تھی ایک صورت
فقیر اور غنی سب کی تھی ایک حالت
لگایا تھا مالی نے اک باغ ایسا
نہ تھا جس میں چھوٹا بڑا کوئی پودا
خلیفہ تھے امت کے ایسے نگہباں
ہو گلہ کا جیسے نگہبان چوپاں
سمجھتے تھے ذمی و مسلم کو یکساں
نہ تھا عبد و حر میں تفاوت نمایاں
کنیز اور بانو تھی آپس میں ایسی
زمانہ میں ماں جائی بہنیں ہوں جیسی
رہِ حق میں تھی دوڑ اور بھاگ ان کی
فقط حق پہ تھی جس سے تھی لاگ ان کی
بھڑکتی نہ تھی خود بخود آگ ان کی
شریعت کے قبضہ میں تھی باگ ان کی
جہاں کر دیا نرم نرما گئے وہ
جہاں کر دیا گرم گرما گئے وہ
کفایت جہاں چاہیے واں کفایت
سخاوت جہاں چاہیے واں سخاوت
جچی اور تلی دشمنی اور محبت
نہ بے وجہ الفت نہ بے وجہ نفرت
جھکا حق سے جو جھک گئے اس سے وہ بھی
رکا حق سے جو رک گئے اس سے وہ بھی
ترقی کا جس دم خیال ان کو آیا
اک اندھیر تھا ربعِ مسکوں میں چھایا
ہر اک قوم پر تھا تنزل کا سایا
بلندی سے تھا جس نے سب کو گرایا
وہ نیشن جو ہیں آج گردوں کے تارے
دھندلکے میں پستی کے پنہاں تھے سارے
نہ وہ دور دورہ تھا عبرانیوں کا
نہ یہ بخت و اقبال نصرانیوں کا
پرگندہ دفتر تھا یونانیوں کا
پریشاں تھا شیرازہ ساسانیوں کا
جہاز اہلِ روما کا تھا ڈگمگاتا
چراغ اہلِ ایراں کا تھا ٹمٹماتا
ادھر ہند میں ہر طرف تھا اندھیرا
کہ تھا گیان گن کا لدا یاں سے ڈیرا
ادھر تھا عجم کو جہالت نے گھیرا
کہ دل سے نہ کیش و کنش سے تھا پھیرا
نہ بھگوان کا دھیان تھا گیانیوں میں
نہ یزداں پرستی تھی یزدانیوں میں
ہوا ہر طرف موجزن تھی بلا کی
گلوں پر چھری چل رہی تھی جفا کی
عقوبت کی حد تھی نہ پرسش خطا کی
پڑی لٹ رہی تھی ودیعت خدا کی
زمیں پر تھا ابرِ ستم کا دڑیڑا
تباہی میں تھا نوعِ انساں کا بیڑا
وہ قومیں جو ہیں آج غمخوارِ انساں
درندوں کی اور ان کی طینت تھی یکساں
جہاں عدل کے آج جاری ہیں فرماں
بہت دور پہنچا تھا واں ظلم و طغیاں
بنے آج جو گلہ باں ہیں ہمارے
وہ تھے بھیڑیے آدمی خوار سارے
ہنر کا جہاں گرم بازار ہے اب
جہاں عقل و دانش کا بیوپار ہے اب
جہاں ابرِ رحمت گہربار ہے اب
جہاں مینہ برستا لگاتار ہے اب
تمدن کا پیدا نہ تھا واں نشاں تک
سمندر کی آئی نہ تھی موج واں تک
نہ رستہ ترقی کا کوئی کھلا تھا
نہ زینہ بلندی پہ کوئی لگا تھا
وہ صحرا انہیں قطع کرنا پڑا تھا
جہاں نقشِ پا تھا نہ شورِ درا تھا
جونہیں کان میں حق کی آواز آئی
لگا کرنے خود ان کا دل رہنمائی
گھٹا اک پہاڑوں سے بطحا کے اٹھی
پڑی چار سو یک بیک دھوم جس کی
کڑک اور دمک دور دور اس کی پہنچی
جو ٹیگس پہ گرجی تو گنگا پہ برسی
رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
ہری ہو گئی ساری کھیتی خدا کی
کیا انہوں نے جہاں میں اجالا
ہوا جس سے اسلام کا بول بالا
بتوں کو عرب اور عجم سے نکالا
ہر اک ڈوبتی ناؤ کو جا سنبھالا
زمانہ میں پھیلائی توحیدِ مطلق
لگی آنے گھر گھر سے آوازِ حق
ہوا غلغلہ نیکیوں کا بدوں میں
پڑی کھلبلی کفر کی سرحدوں میں
ہوئی آتش افسردہ آتشکدوں میں
لگی خاک سی اڑنے سب معبدوں میں
ہوا کعبہ آباد سب گھر اجڑ کر
جمے ایک جا سارے دنگل بچھڑ کر
لیے علم و فن ان سے نصرانیوں نے
کیا کسبِ اخلاق روحانیوں نے
ادب ان سے سیکھا صفاہانیوں نے
کہا بڑھ کے لبیک یزدانیوں نے
ہر اک دل سے رشتہ جہالت کا توڑا
کوئی گھر نہ دنیا میں تاریک چھوڑا
ارسطو کے مردہ فنوں کو جلایا
فلاطون کو زندہ پھر کر دکھایا
ہر اک شہر و قریہ کو یوناں بنایا
مزا علم و حکمت کا سب کو چکھایا
کیا برطرف پردہ چشمِ جہاں سے
جگایا زمانے کو خوابِ گراں سے
ہر اک میکدہ سے بھر آ جا کے ساغر
ہر اک گھاٹ سے آئے سیراب ہو کر
گرے مثلِ پروانہ ہر روشنی پر
گرہ میں لیا باندھ حکمِ پیمبر
کہ ”حکمت کو اک گم شدہ لال سمجھو
جہاں پاؤ اپنا اسے مال سمجھو“
ہر اک علم کے فن کے جویا ہوئے وہ
ہر اک کام میں سب سے بالا ہوئے وہ
فلاحت میں بے مثل و یکتا ہوئے وہ
سیاحت میں مشہورِ دنیا ہوئے وہ
ہر اک ملک میں ان کی پھیلی عمارت
ہر اک قوم نے ان سے سیکھی تجارت
کیا جا کے آباد ہر ملکِ ویراں
مہیا کیے سب کی راحت کے ساماں
خطرناک تھے جو پہاڑ اور بیاباں
انہیں کر دیا رشکِ صحنِ گلستاں
بہار اب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے
یہ سب پود انہیں کی لگائی ہوئی ہے
یہ ہموار سڑکیں یہ راہیں مصفا
دو طرفہ برابر درختوں کا سایا
نشاں جا بجا میل و فرسنگ کے برپا
سرِ رہ کوئیں اور سرائیں مہیا
انہیں کے ہیں سب نے یہ چربے اتارے
اسی قافلہ کے نشاں ہیں یہ سارے
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.