
Capítulo 4 de 19
Musaddas: La venida del Profeta y su enseñanza (21–45)
Musaddas: The Coming of the Prophet and His Teaching (21–45)
مسدس: نبیِ امی کا ظہور اور اس کی تعلیم (بند ۲۱ تا ۴۵)
مسدس: نبیِ امی کا ظہور اور اس کی تعلیم (بند ۲۱ تا ۴۵)
یکایک ہوئی غیرتِ حق کو حرکت
بڑھا جانبِ بوقبیس ابرِ رحمت
ادا خاکِ بطحا نے کی وہ ودیعت
چلے آتے تھے جس کی دینے شہادت
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل اور نویدِ مسیحا
ہوئے محو عالم سے آثارِ ظلمت
کہ طالع ہوا ماہِ برجِ سعادت
نہ چمکی مگر چاندنی ایک مدت
پہ چالیسویں سال لطفِ خدا سے
کیا چاند نے کھیت غارِ حرا سے
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولا
خطا کار سے درگزر کرنے والا
بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
مسِ خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا
پڑی کان میں دھات تھی اک نکمی
نہ کچھ قدر تھی اور نہ قیمت تھی جس کی
طبیعت میں جو اس کے جوہر تھے اصلی
ہوئے سب تھے مٹی میں مل کر وہ مٹی
پہ تھا ثبت علمِ قضا و قدر میں
کہ بن جائے گی وہ طلا اک نظر میں
وہ فخرِ عرب زیبِ محراب و منبر
تمام اہلِ مکہ کو ہمراہ لے کر
گیا ایک دن حسبِ فرمانِ داور
سوئے دشت اور چڑھ کے کوہِ صفا پر
یہ فرمایا سب سے کہ اے آلِ غالب
سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب
کہا ”ہے قول آج تک کوئی تیرا
کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا“
کہا ”گر سمجھتے ہو تم مجھ کو ایسا
تو باور کرو گے اگر میں کہوں گا
کہ فوجِ گراں پشتِ کوہِ صفا پر
پڑی ہے کہ ٹوٹے تمہیں گھات پا کر“
کہا ”تیری ہر بات کا یاں یقیں ہے
کہ بچپن سے صادق ہے تو اور امیں ہے“
کہا ”گر مری بات یہ دل نشیں ہے
تو سن لو خلاف اس میں اصلاً نہیں ہے
کہ سب قافلہ یاں سے ہی جانے والا
ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا“
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی
اک آواز میں سوتی بستی جگا دی
پڑا ہر طرف غل یہ پیغامِ حق سے
کہ گونج اٹھے دشت و جبل نامِ حق سے
سبق پھر شریعت کا ان کو پڑھایا
حقیقت کا گر ان کو ایک اک بتایا
زمانہ کے بگڑے ہوؤں کو بنایا
بہت دن کے سوتے ہوؤں کو جگایا
کھلے تھے نہ جو راز اب تک جہاں پر
وہ دکھلا دیے ایک پردہ اٹھا کر
کسی کو ازل کا نہ تھا یاد پیماں
بھلائے تھے بندوں نے مالک کے فرماں
زمانہ میں تھا دورِ صہبائے بطلاں
مئے حق سے محرم نہ تھی بزمِ دوراں
اچھوتا تھا توحید کا جام اب تک
خمِ معرفت کا تھا منہ خام اب تک
نہ واقف تھے انساں قضا اور جزا سے
نہ آگاہ تھے مبدا و منتہا سے
لگا رکھی تھی ایک اک نے لو ماسوا سے
پڑے تھے بہت دور بندے خدا سے
یہ سنتے ہی تھرا گیا گلہ سارا
راعی نے للکار کر جب پکارا
کہ ہے ذاتِ واحد عبادت کے لائق
زباں اور دل کی شہادت کے لائق
اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لائق
اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق
لگاؤ تو لو اس سے اپنی لگاؤ
جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ
اسی پر ہمیشہ بھروسا کرو تم
اسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم
اسی کے غضب سے ڈرو گر ڈرو تم
اسی کی طلب میں مرو گر مرو تم
مبرا ہے شرکت سے اس کی خدائی
نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی
خرد اور ادراک رنجور ہیں واں
مہ و مہر ادنیٰ سے مزدور ہیں واں
جہاندار مغلوب و مقہور ہیں واں
نبی اور صدیق مجبور ہیں واں
نہ پرسش ہے رہبان و احبار کی واں
نہ پروا ہے ابرار و احرار کی واں
تم اوروں کی مانند دھوکا نہ کھانا
کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا
مری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا
بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا
سب انساں ہیں واں جس طرح سرفگندہ
اسی طرح ہوں میں بھی اک اس کا بندہ
بنانا نہ تربت کو میری صنم تم
نہ کرنا مری قبر پر سر کو خم تم
نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھ سے کم تم
کہ بے چارگی میں برابر ہیں ہم تم
مجھے دی ہے حق نے بس اتنی بزرگی
کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی
اسی طرح دل ان کا ایک اک سے توڑا
ہر اک قبلۂ کج سے منہ ان کا موڑا
کہیں ماسوا سے علاقہ نہ چھوڑا
خداوند سے رشتہ بندوں کا جوڑا
کبھی کے جو پھرتے تھے مالک سے بھاگے
دیے سر جھکا ان کے مالک کے آگے
پتا اصلِ مقصود کا پا گیا جب
نشاں گنجِ دولت کا ہاتھ آ گیا جب
محبت سے دل ان کا گرما گیا جب
سماں ان پہ توحید کا چھا گیا جب
سکھائے معیشت کے آداب ان کو
پڑھائے تمدن کے سب باب ان کو
جتائی انہیں وقت کی قدر و قیمت
دلائی انہیں کام کی حرص و رغبت
کہا چھوڑ دیں گے سب آخر رفاقت
ہو فرزند و زن اس میں یا مال و دولت
نہ چھوڑے گا پر ساتھ ہرگز تمہارا
بھلائی میں جو وقت تم نے گزارا
غنیمت ہے صحت علالت سے پہلے
فراغت مشاغل کی کثرت سے پہلے
جوانی بڑھاپے کی زحمت سے پہلے
اقامت مسافر کی رحلت سے پہلے
فقیری سے پہلے غنیمت ہے دولت
جو کرنا ہے کر لو کہ تھوڑی ہے مہلت
یہ کہہ کر کیا علم پر ان کو شیدا
کہ ہیں دورِ رحمت سے سب اہلِ دنیا
مگر دھیان ہے جن کو ہر دم خدا کا
ہے تعلیم کا یا صلاح جن میں چرچا
انہیں کے لیے یاں ہے نعمت خدا کی
انہیں پر ہے واں جا کے رحمت خدا کی
سکھائی انہیں نوعِ انساں پہ شفقت
کہا ”ہے یہ اسلامیوں کی علامت
کہ ہمسایہ سے رکھتے ہیں وہ محبت
شب و روز پہنچاتے ہیں اس کو راحت
وہ جو حق سے اپنے لیے چاہتے ہیں
وہی ہر بشر کے لیے چاہتے ہیں
خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
کسی کے گر آفت گزر جائے سر پر
پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر
کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرشِ بریں پر“
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.