
第 17 章,共 19 章
补篇:拉你自己的车;时代的裁决(124—155)
Supplement: Pull Your Own Cart; the Verdict of the Age (124–155)
ضمیمہ: اپنی گاڑی آپ ہانکو اور وقت کا حکمِ ناطق (بند ۱۲۴ تا ۱۵۵)
ضمیمہ: اپنی گاڑی آپ ہانکو، تعلیم کا حکمِ ناطق اور قومی ہمدردی (بند ۱۲۴ تا ۱۵۵)
بہت خوان بے رشتہ تم نے کھائے
بہت بوجھ بندھ بندھ کے تم نے اٹھائے
بہت آس پر ساز کی راگ گائے
بہت عارضی تم نے جلوے دکھائے
بس اب اپنی گردن پہ رکھو جوا تم
کرو حاجتیں آپ اپنی روا تم
تمہیں اپنی مشکل کو آساں کرو گے
تمہیں درد کا اپنے درماں کرو گے
تمہیں اپنی منزل کا ساماں کرو گے
کرو گے تمہیں کچھ اگر یاں کرو گے
چھپا دستِ ہمت میں زورِ قضا ہے
مثل ہے کہ ہمت کا حامی خدا ہے
سراسر گو سلطنت فیض گستر
رعیت کی خود تربیت میں ہو یاور
مگر کوئی حالت نہیں اس سے بدتر
کہ ہر بوجھ ہو قوم کا سلطنت پر
ہو اس طرح ہاتھوں میں اس کے رعیت
کہ قبضے میں غسال کے جیسے میت
وہی گر تجارت کے اس کو سجھائے
وہی صنعت اور حرفت اس کو بتائے
وہی کشتکاری کے آئیں سکھائے
وہی اس کو لکھوائے وہی پڑھائے
ملا جس رعیت کو ایسا سہارا
کیا آدمیت نے اس سے کنارا
یہی سلطنت کی ہے کافی اعانت
کہ ہو ملک میں امن اس کی بدولت
نفوس اور اموال کی ہو حفاظت
حکومت میں ہو اعتدال اور عدالت
نہ توڑا رعیت پہ بے جا ہو کوئی
نہ قانون چھپٹ کا فرمانروا ہو کوئی
جہاں ہو یہ اندازِ فرمانروائی
رعیت کی ہے واں نپٹ بے حیائی
کہ ہر کام میں آس ڈھونڈے پرائی
کرے آپ اپنی نہ مشکل کشائی
گھڑا ہو سہارے اک اڑوار کے گھر
ہٹی وہ جہاں آ رہا یہ زمیں پر
گیا اب وہ دل تنگیوں کا زمانا
کہ اپنوں کا حصہ تھا پڑھنا پڑھانا
برہمن کا پہنے اگر شودر بانا
تو اس پر نہیں کوئی اب تازیانا
ہوئے برطرف سب نشیب و فراز اب
سفید و سیاہ میں نہیں امتیاز اب
بس اب وقت کا حکمِ ناطق یہی ہے
کہ جو کچھ ہے دنیا میں تعلیم ہی ہے
یہی آج کل اصلِ فرماندہی ہے
اسی میں چھپا سرِ شاہنشہی ہے
ملی ہے یہ طاقت اسی کیمیا کو
کہ کرتی ہے یہ ایک شاہ و گدا کو
سکھاتی ہے محکوم کو یہ اطاعت
سجھاتی ہے حاکم کو راہِ عدالت
دلوں سے مٹاتی ہے نقشِ عداوت
جہاں سے اٹھاتی ہے رسمِ بغاوت
یہی ہے رعیت کو حق دار کرتی
یہی ہے کہ ہر مرحلہ ہموار کرتی
سنی ہے غریبوں کی فریاد اسی نے
کیا ہے غلامی کو برباد اسی نے
رپبلک کی ڈالی ہے بنیاد اسی نے
بنایا ہے پبلک کو آزاد اسی نے
مقید بھی کرتی ہے یہ اور رہا بھی
بناتی ہے آزاد بھی باوفا بھی
تجارت نے رونق ہے اس سے پائی
کہ ہیچ اس کے آگے ہے فرمانروائی
فلاحت کی یہ منزلت ہے بڑھائی
کہ فلاح کرتے ہیں معجز نمائی
ترقی یہ صنعت کو دی ہے بلا کی
کہ ہوتی ہے معلوم قدرت خدا کی
یہ نااتفاقی ہے قوموں سے کھوتی
یہ قومی محبت کا ہے بیج بوتی
یہ آپس کے کینے دلوں سے ہے دھوتی
یہ دانے ہے سب ایک لڑی میں پروتی
یہ نقطوں پہ خط کی طرح ہے گزرتی
کروڑوں دلوں کو ہے یہ ایک کرتی
جہاں یہ نہیں واں نہ قوم اور نہ ملت
نہ ملکی حمایت نہ قومی حمیت
جدا سب کے رنج اور جدا سب کی راحت
الگ سب کی عزت الگ سب کی ذلت
خبر واں نہیں یہ کہ ہے قوم شے کیا
چھپا سرِ ترقی اس تعلق میں ہے کیا
جنہوں نے کہ تعلیم کی قدر و قیمت
نہ جانی مسلط ہوئی ان پر ذلت
ملوک اور سلاطیں نے کھوئی حکومت
گھرانوں پہ چھائی امیروں کے نکبت
رہے خاندانی نہ عزت کے قابل
ہوئے سارے دعوے شرافت کے باطل
نہ چلتے ہیں واں کام کاریگروں کے
نہ برکت ہے پیشہ میں پیشہ وروں کے
بگڑنے لگے کھیل سوداگروں کے
ہوئے بند دروازے اکثر گھروں کے
کماتے تھے دولت جو دن رات بیٹھے
وہ ہیں اب دھرے ہاتھ پر ہاتھ بیٹھے
ہنر اور فن واں ہیں سب گھٹتے جاتے
ہنرمند ہیں روز و شب گھٹتے جاتے
ادیبوں کے فضل و ادب گھٹتے جاتے
طبیب اور ان کے مطب گھٹتے جاتے
ہوئے پست سب فلسفی اور مناظر
نہ ناظم ہیں سرسبز ان کے نہ ناثر
اگر اک پہننے کو ٹوپی بنائیں
تو کپڑا وہ اک اور دنیا سے لائیں
جو سینے کو وہ ایک سوئی منگائیں
تو مشرق سے مغرب میں لینے کو جائیں
ہر اک شے میں غیروں کے محتاج ہیں وہ
کمینگی کی رو میں تاراج ہیں وہ
نہ پاس ان کے چادر نہ بستر ہے گھر کا
نہ برتن ہیں گھر کے نہ زیور ہے گھر کا
نہ چاقو نہ قینچی نہ نشتر ہے گھر کا
صراحی ہے گھر کی نہ ساغر ہے گھر کا
کنول مجلسوں میں نہ قلم دفتروں میں
اثاثہ ہے سب عاریت کا گھروں میں
جو مغرب سے آئے نہ مالِ تجارت
تو مر جائیں بھوکے وہاں اہلِ حرفت
ہو تجار پر بند راہِ معیشت
دکانوں میں ڈھونڈے نہ پائے بضاعت
پرائے سہارے ہیں بیوپار واں سب
طفیلی ہیں سیٹھ اور تجار واں سب
یہ ہیں ترکِ تعلیم کی سب سزائیں
وہ کاش اب بھی غفلت سے بازاپنی آئیں
مبادا رہِ عافیت پھر نہ پائیں
کہ ہیں بے پناہ آنے والی بلائیں
ہوا بڑھتی جاتی سرِ رہگزر ہے
چراغوں کو فانوس بن اب خطر ہے
نئے فرد بخشیٔ دوراں کھڑا ہے
ہر اک فوج کا جائزہ لے رہا ہے
جنہیں ماہر اور کرتبی دیکھتا ہے
انہیں بخشتا تیغ و طبل و لوا ہے
پہ ہیں بے ہنر یک قلم چھٹتے جاتے
رسالوں سے نام ان کے ہیں کٹتے جاتے
بس اب علم و فن کے وہ پھیلاؤ ساماں
کہ نسلیں تمہاری نہیں جن سے انساں
غریبوں کو راہِ ترقی ہو آساں
امیروں میں ہو نورِ تعلیم تاباں
کوئی ان میں دنیا کی عزت کو تھامے
کوئی کشتیٔ دین و ملت کو تھامے
بنے قوم کھانے کمانے کے قابل
زمانے میں ہو منہ دکھانے کے قابل
تمدن کی مجلس میں آنے کے قابل
خطابِ آدمیت کے پانے کے قابل
سمجھنے لگیں اپنے سب نیک و بد وہ
لگیں کرنے آپ اپنی اپنی مدد وہ
کرو قدر ان کی ہنر جن میں پاؤ
ترقی کی اور ان کو رغبت دلاؤ
دل اور حوصلے ان کے مل کر بڑھاؤ
ستوں اس کھنڈر گھر کے ایسے بناؤ
کوئی قوم کی جن سے خدمت بن آئے
بٹھائیں انہیں سر پہ اپنے پرائے
کرو گے اگر ایسے لوگوں کی عزت
تو پاؤ گے اپنے میں تم اک جماعت
بڑھائے گی جو قوم کی شان و شوکت
گھرانوں میں پھیلائے گی خیر و برکت
مدد جس قدر تم سے وہ آج لے گی
عوض تم کو کل اس کا دو چند دے گی
ترقی کے یوناں کے اسباب کیا تھے
ہنر پر جہاں پیر و برنا فدا تھے
تمدن کے میداں میں زور آزما تھے
وطن کی محبت میں بے خود فنا تھے
مقاصد بڑے اور ارادے تھے عالی
نہ تھا اس سے چھوٹا بڑا کوئی خالی
سبب کچھ نہ تھا اس کا جز قدردانی
کہ ہوتے تھے جو علم و حکمت کے بانی
ترقی میں کرتے تھے جو جاں فشانی
حیات ان کو ملتی تھی واں جاودانی
وطن جیتے جی ان پہ قربان تھا سارا
پس از مرگ پجتے تھے وہ آشکارا
اسی گر نے تھا جوش سب کو دلایا
کہ تھا اک جزیرہ نے رتبہ یہ پایا
اسی شوق نے تھا دلوں کو بڑھایا
اسی نے تھا یوناں کو یوناں بنایا
اس امید پر کوششیں تھیں یہ ساری
کہ ہو قوم کے دل میں عظمت ہماری
جنہیں ملک میں اپنی رکھنی ہو وقعت
جنہیں سلطنت کی ہو مطلوب قربت
جنہیں تھامنی ہو گھرانے کی عزت
جنہیں دین کی ہو نہ منظور ذلت
جنہیں نسل و اولاد ہو اپنی پیاری
انہیں فرض ہے قوم کی غمگساری
بہت دل ہیں نرم ان دنوں ہوتے جاتے
کہ حالت پہ ہیں قوم کی امڈے آتے
تنزل پہ ہیں اس کے آنسو بہاتے
نہیں آپ کچھ کر کے لیکن دکھاتے
خبر بھی ہے دل ان کے جلتے ہیں کس پر
وہ ہیں آپ ہی ہاتھ ملتے ہیں جس پر
رئیسوں کی جاگیرداروں کی دولت
فقیہوں کی دانشوروں کی فضیلت
بزرگوں کی اور واعظوں کی نصیحت
ادیبوں کی اور شاعروں کی فصاحت
جچے تب کچھ آنکھوں میں اہلِ وطن کی
جو کام آئے بہبود میں انجمن کی
جماعت کی عزت میں ہے سب کی عزت
جماعت کی ذلت میں ہے سب کی ذلت
رہی ہے نہ ہرگز رہے گی سلامت
نہ شخصی بزرگی نہ شخصی حکومت
وہی شاخ پھولے گی یاں اور پھلے گی
ہری ہو گی جڑ جس گلستاں میں جس کی
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。