Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 16 sur 19

Supplément : La puissance du savoir ; souvenez-vous de vos aïeux (92–123)

Supplement: The Power of Knowledge; Remember Your Forefathers (92–123)

ضمیمہ: علم کی فضیلت اور اپنے بزرگوں کی یاد (بند ۹۲ تا ۱۲۳)

Altaf Husain Hali

Écriture
Taille

ضمیمہ: علم کی فضیلت اور اپنے بزرگوں کی یاد (بند ۹۲ تا ۱۲۳)

زمیں سب خدا کی ہے گلزار انہیں سے
زمانہ کا ہے گرم بازار انہیں سے
ملے ہیں سعادت کے آثار انہیں سے
کھلے ہیں خدائی کے اسرار انہیں سے
انہیں پر ہے کچھ فخر ہے گر کسی کو
انہیں سے ہے گر ہے شرف آدمی کو

انہیں سے ہے آباد ہر ملک و دولت
انہیں سے ہے سرسبز ہر قوم و ملت
انہیں پر ہے موقوف قوموں کی عزت
انہیں کی ہے سب ربعِ مسکوں میں برکت
دم ان کا ہے دنیا میں رحمت خدا کی
انہیں کو ہے پھبتی خلافت خدا کی

انہیں کا اجالا ہے ہر رہگزر میں
انہیں کی ہے یہ روشنی دشت و در میں
انہیں کا ظہور ہے سب خشک و تر میں
انہیں کے کرشمے ہیں سب بحر و بر میں
انہیں سے یہ رتبہ تھا آدم نے پایا
کہ سر اس سے روحانیوں نے جھکایا

ہر اک ملک میں خیر و برکت ہے ان سے
ہر اک قوم کی شان و شوکت ہے ان سے
نجابت ہے ان سے شرافت ہے ان سے
شرفِ ان سے فخر ان سے عزت ہے ان سے
جفا کش نہ ہو گر ہو عزت کے خواہاں
کہ عزت کا ہے بھید ذلت میں پنہاں

مشقت کی ذلت جنہوں نے اٹھائی
جہاں میں ملی ان کو آخر بڑائی
کسی نے بغیر اس کے ہرگز نہ پائی
فضیلت نہ عزت نہ فرمانروائی
نہال اس گلستاں میں جتنے بڑے ہیں
ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں

حکومت ملی ان کو صفار تھے جو
امامت کو پہنچے وہ قصار تھے جو
وہ قطبِ زماں ٹھہرے عطار تھے جو
بنے مرجعِ خلق نجار تھے جو
اولو الفضل یاں اٹھے سراج کتنے
ابوالوقت یاں گزرے حلاج کتنے

نہ بونصر تھا نوع میں ہم سے بالا
نہ تھا بوعلی کچھ جہاں سے نرالا
طبیعت کو بچپن سے محنت میں ڈالا
ہوئے اس لیے صاحبِ قدر والا
اگر فکرِ کسبِ ہنر تم کو بھی ہو
تمہیں پھر ابوالنصر اور بوعلی ہو

بڑا ظلم اپنے پہ تم نے کیا ہے
کہ عزت کی یاں جس ستوں پر بنا ہے
ترقی کی منزل کا جو رہنما ہے
تنزل کی کشتی کا جو ناخدا ہے
قوی پشت تھیں جس سے پشتیں تمہاری
ہوئی دست بردار قوم اس سے ساری

ہنر ہے نہ تم میں فضیلت ہے باقی
نہ علم و ادب ہے نہ حکمت ہے باقی
نہ نطق ہے باقی نہ ہیئت ہے باقی
اگر ہے تو کچھ قابلیت ہے باقی
اندھیرا نہ چھا جائے اس گھر میں دیکھو
پھر اک سا دو اس ٹمٹماتے دیے کو

بہت ہم میں اور تم میں جوہر ہیں مخفی
خبر کچھ نہ ہم کو نہ تم کو ہے جن کی
اگر جیتے جی ان کی کچھ نہ خبر لی
تو ہو جائیں گے مل کے مٹی میں مٹی
یہ جوہر ہیں ہم میں امانت خدا کی
مبادا تلف ہو ودیعت خدا کی

یہی نوجواں پھرتے آزاد جو ہیں
کمینوں کی صحبت میں برباد جو ہیں
شریفوں کی کہلاتے اولاد جو ہیں
مگر ننگِ آبا و اجداد جو ہیں
اگر نقدِ فرصت نہ یوں مفت کھوتے
یہی فخرِ آبا و اجداد ہوتے

یہی جو کہ پھرتے ہیں بے علم و جاہل
بہت ان میں ہیں جن کے جوہر ہیں قابل
رذائل میں پنہاں ہیں ان کے فضائل
انہیں ناقصوں میں ہیں پوشیدہ کامل
نہ ہوتے اگر مائلِ لہو و بازی
ہزاروں انہیں میں تھے طوسی و رازی

یہی قوم ہے جس میں قحطِ آدمی کا
جہاں شور ہے ہر طرف ناکسی کا
نہیں جہل میں جس کے حصہ کسی کا
کبھی علم و فن پر تھا قبضہ اسی کا
وہ تھیں برکتیں سعی و کوشش کی ساری
وہی خوں ہے ورنہ رگوں میں ہماری

حکومت سے مایوس تم ہو چکے ہو
زر و مال سے ہاتھ تم دھو چکے ہو
دلیری کو ڈھک ڈھک کے منہ رو چکے ہو
بزرگی بزرگوں کی سب کھو چکے ہو
مدار اب فقط علم پر ہے شرف کا
کہ باقی ہے ترکہ یہی اک سلف کا

ہمیشہ سے جو کہتے ہیں آئے سب یاں
کہ ہے علم سرمایۂ فخرِ انساں
عرب اور عجم ہند اور مصر و یوناں
رہا اتفاق اس پہ قوموں کا یکساں
یہ دعویٰ تھا اک جس پہ حجت نہ تھی کچھ
کھلی اس پہ اب تک شہادت نہ تھی کچھ

جواہر تھا اک سب کی نظروں میں بھاری
پرکھنے کی بس کے نہ آئی تھی باری
فضائل تھے سب علم کے اعتباری
نہ تھیں طاقتیں اس کی معلوم ساری
پہ اب بحر و بر دے رہے ہیں گواہی
کہ ہے علم میں زورِ دستِ الٰہی

کیا کوہساروں کو مسمار اس نے
بنایا سمندر کو بازار اس نے
زمینوں کو منوایا دوار اس نے
ثوابت کو ٹھہرایا سیار اس نے
لیا بھاپ سے کام لشکر کشی کا
دیا پتلیوں کو سکت آدمی کا

یہ پتھر کا ایندھن ہے جلوانے والا
جہازوں کو خشکی میں چلوانے والا
صداؤں کو سانچے میں ڈھلوانے والا
زمیں کے خزانے اگلوانے والا
یہی برق کو نامہ بر ہے بناتا
یہی آدمی کو ہے بے پر اڑاتا

تمدن کے ایواں کا معمار ہے یہ
ترقی کے لشکر کا سالار ہے یہ
کہیں دستکاروں کا اوزار ہے یہ
کہیں جنگجویوں کا ہتھیار ہے یہ
دکھایا ہے نیچا دلیروں کو اس نے
بنایا ہے روباہ شیروں کو اس نے

اسی کی ہے اب چار سو حکمرانی
کیے اس نے زیر ارمنی اور یمانی
ہوئے رام دیوانِ مازندرانی
گئے زابلی بھول سب پہلوانی
ہوا اس کی طاقت سے تسخیرِ عالم
پڑے سامنے اس کے چرکس نہ دیلم

یہ لاکھوں پہ ہے سینکڑوں کو چڑھاتا
سواروں کو پیادوں سے ہے زک دلاتا
جہازوں سے ہے زورقوں کو بھڑاتا
حصاروں کو ہے چٹکیوں میں اڑاتا
ہوا کوئی حربوں سے اس کے نہ سربر
نہ ٹھہرے زرہ اس کے آگے نہ خنجر

جنہوں نے بنایا اسے اپنا یاور
ہر اک راہ میں اس کو ٹھہرایا رہبر
یہ قول آج کل صادق آتا ہے ان پر
کہ اک نوع ہر نوعِ انساں سے برتر
الگ سب سے کام ان کے اور طور ہیں کچھ
اگر سب ہیں انساں تو وہ اور ہیں کچھ

بہت ان کو معجز نما جانتے ہیں
بہت دیوتا ان کو گردانتے ہیں
پہ جو ٹھیک ٹھیک ان کو پہچانتے ہیں
وہ اتنا مقرر انہیں مانتے ہیں
کہ دنیا نے جو کی تھی اب تک کمائی
وہ سب جزو و کل ان کے حصہ میں آئی

کیا علم نے ان کو ہر فن میں یکتا
نہ ہمسر رہا ان کا کوئی نہ ہمتا
ہر اک چیز ان کی ہر اک کام ان کا
سمجھ بوجھ سے ہے زمانہ کی بالا
صنائع کو سب ان کی تکتے ہیں ایسے
عجائب میں قدرت کے حیراں ہوں جیسے

دیے علم نے کھول ان پر خزانے
چھپے اور ظاہر نئے اور پرانے
دکھائے انہیں غیب کے مال خانے
بتائے فتوحات کے سب ٹھکانے
ہوا جیسے چھائی ہے سب بحر و بر پر
وہ یوں چھا گئے خاور اور باختر پر

یہ سچ ہے کہ ہے اصلِ تعلیم دولت
رہی ہے سدا پشتِ حکمت حکومت
ہوئی سلطنت جن کی دنیا سے رخصت
نہ علم ان میں باقی رہا اور نہ حکمت
نہ یونان محکوم ہو کر رہا کچھ
نہ ایران تاج اپنا کھو کر رہا کچھ

پہ اک خار کش صبر و ہمت میں کامل
یہ کہتا تھا محنت سے گھٹتا تھا جب دل
کہ جن نعمتوں کا اٹھانا ہے مشکل
وہی ہیں کچھ اے دل اٹھانے کے قابل
حلال آدمی پر ہے کھانا نہ پینا
نہ ہو ایک جب تک لہو اور پسینا

نہیں سہل گر صید کا ہاتھ آنا
تو لازم ہے گھوڑوں کو سرپٹ بھگانا
نہ بیٹھو جو ہے بوجھ بھاری اٹھانا
ذرا تیز ہانکو جو ہے دور جانا
زمانہ اگر ہم سے زور آزما ہے
تو وقت اے عزیزو یہی زور کا ہے

کرو یاد اپنے بزرگوں کی حالت
شدائد میں جو ہارتے تھے نہ ہمت
اٹھاتے تھے برسوں سفر کی مشقت
غریبی میں کرتے تھے کسبِ فضیلت
جہاں کھوج پاتے تھے علم و ہنر کا
نکل گھر سے لیتے تھے رستہ ادھر کا

عراقین و شامات و خوارزم و توراں
جہاں جنسِ تعلیم سنتے تھے ارزاں
وہیں پے سپر کر کے کوہ و بیاباں
پہنچتے تھے طلاب افتان و خیزاں
جہاں تک عملِ دینِ اسلام کا تھا
ہر اک راہ میں ان کا تانتا بندھا تھا

نظامیہ نوریہ مستنصریہ
نفیسیہ سنیہ اور صاحبیہ
رواحیہ عزیہ اور قتاہریہ
عزیزیہ زینیہ اور ناصریہ
یہ کالج تھے مرکز سب آفاقیوں کے
حجازی و کردی و قبچاقیوں کے

بشر کو ہے لازم کہ ہمت نہ ہارے
جہاں تک ہو کام آپ اپنے سنوارے
خدا کے سوا چھوڑ دے سب سہارے
کہ ہیں عارضی زور کمزور سارے
اڑے وقت تم دائیں بائیں نہ جھانکو
سدا اپنی گاڑی کو تم آپ ہانکو

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.