Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 15 sur 19

Дополнение: Гибель праздности и слава подвижников (60–91)

Supplement: The Ruin of Idleness and the Glory of the Strivers (60–91)

ضمیمہ: تن آسانی کی تباہی اور اہلِ ہمت کی شان (بند ۶۰ تا ۹۱)

Altaf Husain Hali

Écriture
Taille

ضمیمہ: تن آسانی کی تباہی اور اہلِ ہمت کی شان (بند ۶۰ تا ۹۱)

نہ ہمت کہ محنت کی سختی اٹھائیں
نہ جرأت کہ خطروں کے میداں میں آئیں
نہ غیرت کہ ذلت سے پہلو بچائیں
نہ عبرت کہ دنیا کی سمجھیں ادائیں
نہ کل فکر تھا یہ کہ ہیں اس کے پس کیا
نہ ہے آج پروا کہ ہونا ہے کل کیا

نہیں کرتے کھیتی میں وہ جاں فشانی
نہ ہل جوتتے ہیں نہ دیتے ہیں پانی
پہ جب یاس کرتی ہے دل پر گرانی
تو کہتے ہیں حق کی ہے نامہربانی
نہیں لیتے کچھ کام تدبیر سے وہ
سدا لڑتے رہتے ہیں تقدیر سے وہ

کبھی کہتے ہیں ہیچ ہیں سب یہ ساماں
کہ خود زندگی ہے کوئی دن کی مہماں
دھرے سب یہ رہ جائیں گے کاخ و ایواں
نہ باقی رہے گی حکومت نہ فرماں
ترقی اگر ہم نے کی بھی تو پھر کیا
یہ بازی اگر جیت لی بھی تو پھر کیا

یہ سرگرمِ کوشش ہیں جو روز و شب ہیں
اٹھاتے سدا بارِ رنج و تعب ہیں
ترقی کے میداں میں سبقت طلب ہیں
نمائش پہ دنیا کی بھولے یہ سب ہیں
نہیں ان کو کچھ اپنی محنت سے لینا
بناتے ہیں وہ گھر نہیں جس میں رہنا

کبھی کرتے ہیں عقلِ انساں پہ نفریں
کہ با وصفِ کوتاہ بینی ہے خود بیں
وہ تدبیریں اس طرح کرتی ہے تلقیں
کہ گویا کھلا اس پہ ہے سرِ تکویں
مگر سب خیالات ہیں خام اس کے
ادھورے ہیں جتنے ہیں یاں کام اس کے

نہ اسبابِ راحت کی اس کو خبر کچھ
نہ آثارِ دولت کی اس کو خبر کچھ
نہ عزت نہ ذلت کی اس کو خبر کچھ
نہ کلفت نہ راحت کی اس کو خبر کچھ
نہ آگاہ اس سے کہ ہستی ہی شے کیا
نہ واقف کہ مقصودِ ہستی سے ہے کیا

کبھی کہتے ہیں زہر ہے مال و دولت
اٹھاتے ہیں جس کے لیے رنج و محنت
اسی سے گناہوں کی ہوتی ہے رغبت
اسی سے دماغوں میں آتی ہے نخوت
یہی حق سے کرتی ہے بندوں کو غافل
ہوئے ہیں عذاب اس سے قوموں پہ نازل

کبھی کہتے ہیں سعی و کوشش سے حاصل
کہ مقسوم بن کوششیں سب ہیں باطل
نہیں ہوتی کوشش سے تقدیر زائل
برابر ہیں یاں محنتی اور کاہل
ہلانے سے روزی کی گر ڈور ملتی
تو روٹی نکموں کو ہرگز نہ ملتی

نکموں کے ہیں سب یہ دلکش ترانے
سلانے کو قسمت کے رنگیں فسانے
اسی طرح کر کے چلے بہانے
نہیں چاہتے دست و بازو ہلانے
وہ بھولے ہوئے ہیں یہ عادت خدا کی
کہ حرکت میں ہوتی ہے برکت خدا کی

سنی تم نے یہ جس جماعت کی حالت
تنزل کی بنیاد ہے یہ جماعت
بگڑتی ہیں قومیں اسی کی بدولت
ہوا اس کی ہے مفسدِ ملک و ملت
کیا صور و صیدا کو برباد اسی نے
بگاڑا دمشق اور بغداد اسی نے

جہاں ہے زمیں پر نحوست ہے ان کی
جدھر ہے زمانہ میں نکبت ہے ان کی
مصیبت کا پیغام کثرت ہے ان کی
تباہی کا لشکر جماعت ہے ان کی
وجود ان کا اصل البلیات ہے یاں
خدا کا غضب ان کی بہتات ہے یاں

سب ایسے تن آساں و بے کار و کاہل
تمدن کے حق میں ہیں زہرِ ہلاہل
نہیں ان سے کچھ نوعِ انساں کو حاصل
نہیں ان کی صحبت کے ہے سم قاتل
یہ جب پھیلتے ہیں سمٹتی ہے دولت
یہ جوں جوں کہ بڑھتے ہیں گھٹتی ہے دولت

جہاں بڑھ گئی ان کی تعداد حد سے
ہوئی قوم منسوب سب دام و دد سے
رہا اس کو بہرہ نہ حق کی مدد سے
وہ اب بچ نہیں سکتی نکبت کی زد سے
بچو ایسے شوموں کی پرچھائیوں سے
ڈرو ایسے چپ چاپ پیغامیوں سے

مگر اک فریق اور ان کے سوا ہے
شرف جس سے نوعِ بشر کو ملا ہے
سب اس بزم میں جن کا نور و ضیا ہے
سب اس باغ کی جن سے نشو و نما ہے
ہوئے جو کہ پیدا ہیں محنت کی خاطر
بنے ہیں زمانہ کی خدمت کی خاطر

نہ راحت طلب ہیں نہ محنت طلب وہ
لگے رہتے ہیں کام میں روز و شب وہ
نہیں لیتے دم ایک دم بے سبب وہ
بہت جاگ لیتے ہیں سوتے ہیں تب وہ
وہ تھکتے ہیں اور چین پاتی ہے دنیا
کماتے ہیں وہ اور کھاتی ہے دنیا

چنیں گر نہ وہ ہوں کھنڈر کاخ و ایواں
بنیں گر نہ وہ شاہ و کشور ہوں عریاں
جو بوتے نہ وہ تو ہوں جاندار بے جاں
جو چھانٹیں نہ وہ تو ہوں جنگل گلستاں
یہ چلتی ہے گاڑی انہیں کے سہارے
جو وہ کل سے بیٹھیں تو بے کل ہوں سارے

کھپاتے ہیں کوشش میں تاب و تواں کو
گھلاتے ہیں محنت میں جسم و رواں کو
سمجھتے نہیں اس میں جان اپنی جاں کو
وہ مر مر کے رکھتے ہیں زندہ جہاں کو
بس اس طرح جینا عبادت ہے ان کی
اور اس دھن میں مرنا شہادت ہے ان کی

مشقت میں عمر ان کی کٹتی ہے ساری
نہیں آتی آرام کی ان کے باری
سدا بھاگ دوڑ ان کی رہتی ہے جاری
نہ آندھی میں عاجز نہ مینہ میں ہیں عاری
نہ لو جیٹھ کی دم ترواتی ہے ان کا
نہ ٹھر ماگھ کی جی چھڑاتی ہے ان کا

نہ احباب کی تیغِ احساں سے گھائل
نہ بیٹے سے طالب نہ بھائی سے سائل
نہ دکھ درد میں سوئے آرام مائل
نہ دریا و کوہ ان کے رستے میں حائل
سنے ہوں کبھی رستم و سام جیسے
غیور اب بھی لاکھوں ہیں گمنام ایسے

کسی کو یہ دھن ہے کہ جو کچھ کمائیں
کھلائیں کچھ اوروں کو کچھ آپ کھائیں
کسی کو یہ کد ہے کہ جھیلیں بلائیں
پہ احساں کسی کا نہ ہرگز اٹھائیں
کوئی محو ہے فکرِ فرزند و زن میں
کوئی چور ہے حبِ اہلِ وطن میں

جو مصروف ہے کشتکاری میں کوئی
تو مشغول دوکان داری میں کوئی
عزیزوں کی ہے غمگساری میں کوئی
ضعیفوں کی خدمت گزاری میں کوئی
یہ ہے اپنی راحت کے سامان کرتا
وہ کنبے پہ ہے جان قربان کرتا

کوئی اس تگ و دو میں رہتا ہے ہر دم
کہ دولت جہاں تک ہو کیجے فراہم
رہیں جیتے جی تا کہ خود شاد و خرم
مریں جب تو دل پر نہ لے جائیں یہ غم
کہ بعد اپنے کھائیں گے فرزند و زن کیا
لباس ان کا اور اپنا ہو گا کفن کیا

بہت دل میں اپنے یہ رکھتے ہیں ارماں
کہ کر جائیں یاں کوئی کارِ نمایاں
وہ ہوں تا کہ جب چشمِ عالم سے پنہاں
تو ذکرِ جمیل ان کا باقی رہے یاں
یہی طالبِ شہرت و نام لاکھوں
بناتے ہیں جمہور کے کام لاکھوں

بہت مخلص اور پاک بندے خدا کے
نشاں جن سے قائم ہیں صدق و صفا کے
نہ شہرت کے خواہاں نہ طالب ثنا کے
نمائش سے بیزار دشمن ریا کے
ریاضت سب ان کی خدا کے لیے ہے
مشقت سب ان کی رضا کے لیے ہے

کوئی ان میں ہے حق کی طاعت پہ مفتوں
کوئی نامِ حق کی اشاعت پہ مفتوں
کوئی زہد و صبر و قناعت پہ مفتوں
کوئی پند و وعظِ جماعت پہ مفتوں
کوئی موج سے آپ کو ہے بچاتا
کوئی ناؤ ہے ڈوبتوں کی تراتا

بہت نوعِ انساں کے غمخوار و یاور
ہوا خواہِ ملت بہ اندیشِ کشور
شدائد کے دریائے خوں میں شناور
جہاں کی پر آشوب کشتی کے لنگر
ہر اک قوم کی ہست و بود ان سے ہے یاں
سب اس انجمن کی نمود ان سے ہے یاں

کسی پر ہو سختی مصیبت ہے ان پر
کسی کو ہو غم رنج و کلفت ہے ان پر
کہیں ہو فلاکت مصیبت ہے ان پر
کہیں آئے آفت قیامت ہے ان پر
کسی پر چلیں تیر آماج ہیں یہ
لٹے کوئی رہ گیر تاراج ہیں یہ

یہ ہیں مشترک بات پر اڑنے والے
یہ پہلوں کو مینہوں سے ہیں جڑنے والے
یہ فوجِ حوادث سے ہیں لڑنے والے
یہ غیروں کی ہیں آگ میں پڑنے والے
امنڈتا ہے رکنے سے اور ان کا دریا
جنوں سے زیادہ ہے کچھ ان کا سودا

جماتے ہیں جب پاؤں ہٹتے نہیں یہ
بڑھا کر قدم پھر پلٹتے نہیں یہ
گئے پھیل جب پھر سمٹتے نہیں یہ
جہاں بڑھ گئے بڑھ کے گھٹتے نہیں یہ
مہم بن کیے سر نہیں بیٹھتے یہ
جب اٹھتے ہیں اٹھ کر نہیں بیٹھتے یہ

خدا نے عطا کی ہے جو ان کو قوت
سمائی ہے دل میں بہت اس کی عظمت
نہیں پھیرتی ان کا منہ کوئی زحمت
نہیں کرتی زیر ان کو کوئی صعوبت
بھروسے پہ اپنے دل و دست و پا کے
سمجھتے ہیں ساتھ اپنے لشکر خدا کے

نہیں مرحلہ کوئی دشوار ان کو
ہر اک راہ ملتی ہے ہموار ان کو
گلستاں ہے صحرائے پر خار ان کو
برابر ہے میدان و کہسار ان کو
نہیں حائل ان کے کوئی رہگزر میں
سمندر ہے پایاب ان کی نظر میں

اسی طرح یاں اہلِ ہمت ہیں جتنے
کمر بستہ ہیں کام پر اپنے اپنے
جہاں کی ہے سب دھوم دھام ان کے دم سے
فقیر اور غنی سب طفیلی ہیں ان کے
بغیر ان کے بے ساز و ساماں تھی مجلس
نہ ہوتے اگر یہ تو ویراں تھی مجلس

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.