
Глава 14 из 19
Дополнение: Что делает народ счастливым; благословение труда (28–59)
Supplement: What Makes a Fortunate People; the Blessing of Work (28–59)
ضمیمہ: اقبال مندی کی شرط اور محنت کی برکت (بند ۲۸ تا ۵۹)
ضمیمہ: اقبال مندی کی شرط اور محنت کی برکت (بند ۲۸ تا ۵۹)
نہیں گرچہ کچھ دردِ اسلام ان کو
نہ بہبودیٔ قوم سے کام ان کو
نہ کچھ فکرِ آغاز و انجام ان کو
برابر ہے ہو صبح یا شام ان کو
مگر قوم کی سن کے کوئی مصیبت
انہیں کچھ نہ کچھ آ ہی جاتی ہے رقت
خصومت سے ہیں اپنی گو خوار یاں سب
نزاعوں سے باہم کے ہیں ناتواں سب
خود آپس کی چوٹوں سے ہیں خستہ جاں سب
پہ ہیں متفق اس پہ پیر و جواں سب
کہ نااتفاقی نے کھویا ہے ہم کو
اسی جزر و مد نے ڈبویا ہے ہم کو
یہ مانا کہ کم ہم میں ہیں ایسے دانا
جنہوں نے حقیقت کو ہے اپنی جانا
تنزل کو ہے ٹھیک ٹھیک اپنے جانا
کہ ہم ہیں کہاں اور کہاں ہے زمانا
پہ اتنا زبانوں پہ ہے سب کی جاری
کہ حالت بری آج کل ہے ہماری
فرائض میں گو دین کے سب ہیں قاصر
نہ مشغولِ باطن نہ پابندِ ظاہر
مساجد سے غائب ملا ہیں حاضر
مگر ایسے فاسق ہیں ان میں نہ فاجر
کہ مذہب پہ حملے ہیں جو ہر طرف سے
وہ دیکھ ان کو ہٹ جائیں راہِ سلف سے
خود اپنی ہے گو قدر و قیمت گنوائی
پہ بھولے نہیں ہیں بڑوں کی بڑائی
جو آپ ان کی خوبی نہیں کوئی پائی
تو ہیں خوبیوں پر انہیں کی فدائی
شرف گو کہ باقی نہیں ان میں اب کچھ
مگر خواب میں دیکھ لیتے ہیں سب کچھ
ذرا پھر کے پیچھے وہ جب دیکھتے ہیں
وہ اپنا حسب اور نسب دیکھتے ہیں
بزرگوں کا علم و ادب دیکھتے ہیں
سرافرازیٔ جد و اب دیکھتے ہیں
تو ہیں فخر سے وہ کبھی سر اٹھاتے
کبھی ہیں ندامت سے گردن جھکاتے
مگر کچھ بھی باقی ہو یاروں میں ہمت
تو ان کا یہی افتخار اور ندامت
شگونِ سعادت ہے اور فالِ دولت
کہ آتی ہے کچھ اس سے بوئے حمیت
وہ کھو بیٹھے آخر کمائی بڑوں کی
بھلا دی جنہوں نے بڑائی بڑوں کی
اسیری میں جو گرمِ فریاد ہیں یاں
وہی آشیاں کرتے آباد ہیں یاں
قفس سے وہی ہوتے آزاد ہیں یاں
چمن کے جنہیں پیچھے یاد ہیں یاں
وہ شاید قفس ہی میں عمریں گنوائیں
گئیں بھول صحرا کی جن کو فضائیں
بلندی میں ہوں یا کہ پستی میں ہوں ہم
قوی ہوں کہ کمزور افزوں ہوں یا کم
محقر زمانہ میں ہوں یا مکرم
مؤخر ہوں اس بزم میں یا مقدم
عبا میں ہوں پوشیدہ یا شال میں ہوں
کسی رنگ میں ہوں کسی حال میں ہوں
اگر باخبر ہیں حقیقت سے اپنی
تلف کی ہوئی اگلی عظمت سے اپنی
بلندی و پستی کی نسبت سے اپنی
گزشتہ اور آئندہ حالت سے اپنی
تو سمجھو کہ ہے پار کھیوا ہمارا
نہیں دور منجدھار سے کچھ کنارا
الپ ارسلاں سے طغرل نے پوچھا
کہ قومیں ہیں دنیا میں جو جلوہ فرما
نشاں ان کی اقبال مندی کے ہیں کیا
کب اقبال مند ان کو کہنا ہے زیبا
کہا ملک و دولت ہو ہاتھ ان کے جب تک
جہاں ہو کمر بستہ ساتھ ان کے جب تک
جہاں جائیں وہ سرخرو ہو کے آئیں
ظفر ہم عناں ہو جدھر باگ اٹھائیں
نہ بگڑیں کبھی کام جو وہ بنائیں
نہ اکھڑیں قدم جس جگہ وہ جمائیں
کریں مس کو گر مس تو وہ کیمیا ہو
اگر خاک میں ہاتھ ڈالیں طلا ہو
ولیعہد کی جب کہ باتیں سنیں یہ
ہنسا سن کے فرزانۂ دور بیں یہ
کہا جانِ عم گپ ہے گو دل نشیں یہ
مگر شرطِ اقبال ہرگز نہیں یہ
حوادث سے ہے بن گزارہ نہیں یاں
بلندی و پستی سے چارہ نہیں یاں
بہم ہے کبھی گاہ برہم ہے محفل
کٹھن ہے کبھی گاہ آساں ہے منزل
زمانہ کی گردش سے بچنا ہے مشکل
نہ محفوظ ہیں اس سے مدبر نہ مقبل
بہت یکہ تازوں کو یاں گھرتے دیکھا
سدا شہسواروں کو یاں گرتے دیکھا
جہاں سود ہے یاں وہیں ہے زیاں بھی
جہاں روشنی ہے وہیں ہے دھواں بھی
مستقر بھی ہے یہ خاکداں اور جنباں بھی
بہاریں بھی ہیں اس چمن میں خزاں بھی
نکھرتے ہیں جو یاں وہ گدلاتے بھی ہیں
چمکتے ہیں جو یاں وہ گہناتے بھی ہیں
ضعیف اور قوی ارمنی اور عراقی
چکھاتا ہے دورِ فتوح سب کو ساقی
پہ اقبال کی ہے رمق جن میں باقی
یہ سب تلخیاں ان میں ہیں اتفاقی
بلاؤں میں گھر کر نکل جاتے ہیں وہ
ذرا ڈگمگا کر سنبھل جاتے ہیں وہ
نہیں ہوتے نیرنگِ گردوں سے حیراں
ہر اک درد کا ڈھونڈ لیتے ہیں درماں
اٹھاتے نہیں کچھ حوادث سے نقصاں
وہ چونک اٹھتے ہیں دیکھ خوابِ پریشاں
بھڑکتے ہیں افسردہ ہو کر سوا وہ
پھلتے ہیں پژمردہ ہو کر سوا وہ
پگھلتے ہیں سانچے میں ڈھلنے کی خاطر
لگاتے ہیں غوطہ ابھرنے کی خاطر
ٹھہرتے ہیں دم لے کے چلنے کی خاطر
وہ کھاتے ہیں ٹھوکر سنبھلنے کی خاطر
سبب کو مرض سے سمجھتے ہیں پہلے
الجھتے ہیں پیچھے سلجھتے ہیں پہلے
ضرورت نہیں یہ کہ فرمانروا ہوں
رعیت ہوں وہ خواہ کشور کشا ہوں
سپاہی ہوں تاجر ہوں یا ناخدا ہوں
وہ کچھ ہوں پہ اپنے سے واقف ذرا ہوں
کہ ہم کیا ہیں اور کون ہیں اور کہاں ہیں
گھٹے یا بڑھے ہیں سبک یا گراں ہیں
جب آئے انہیں ہوش کچھ وقت کھو کر
رہیں بیٹھ قسمت کو اپنی نہ رو کر
کریں کوششیں سب بہم ایک ہو کر
رہیں داغِ ذلت کا دامن سے دھو کر
نہ ہو تابِ پرواز اگر آسماں تک
تو واں تک اڑیں ہو رسائی جہاں تک
پڑا ہے وہی وقت اب ہم پہ آ کر
کہ اٹھے ہیں سوتے بہت دن چڑھا کر
سواروں نے کی راہ طے باگ اٹھا کر
گئے قافلے ٹھہر منزل پہ جا کر
گر افتاں و خیزاں سدھاریں بھی اب ہم
تو پہنچے بھلا جا کے منزل پہ کب ہم
مگر بیٹھ رہنے سے چلنا ہے بہتر
کہ ہے اہلِ ہمت کا اللہ یاور
جو ٹھنڈک میں چلنا نہ آیا میسر
تو پہنچیں گے ہم دھوپ کھا کھا کے سر پر
یہ تکلیف و راحت ہے سب اتفاقی
چلو اب بھی ہے وقت چلنے کا باقی
ہوا کچھ وہی جس نے یاں کچھ کیا ہے
لیا جس نے پھل بیج بو کر لیا ہے
کرو کچھ کہ کرنا ہی کچھ کیمیا ہے
مثل ہے کہ کرتے کی سب بڑھیا ہے
یونہیں وقت سو سو کے ہیں جو گنواتے
وہ خرگوش کچھووں سے ہیں زک اٹھاتے
برکت ہے دنیا میں محنت کی ساری
جہاں دیکھیے فیض اسی کا ہے جاری
یہی ہے کلیدِ درِ فضلِ باری
اسی پر ہے موقوف عزت تمہاری
اسی سے ہے قوموں کی یاں آبرو سب
اسی پر ہیں مغرور میں اور تو سب
گلستاں میں جوبن گل و یاسمن کا
سماں زلفِ سنبل کی تاب و شکن کا
قدِ دلربا سرو اور نارون کا
رخِ جاں فزا لالہ و نسترن کا
غریبوں کی محنت کی ہے رنگ و بو سب
کمیروں کے خوں سے ہیں یہ تازہ رو سب
ہلاتے نہ اگلے اگر دست و بازو
جہاں عطرِ حکمت سے ہوتا نہ خوشبو
نہ اخلاق کی وضع ہوتی ترازو
نہ حق پھیلتا ربعِ مسکوں میں ہر سو
حقائق یہ سب غیر معلوم رہتے
خدائی کے اسرار مکتوم رہتے
ستارہ شریعت کا تاباں نہ ہوتا
اثر علمِ دیں کا نمایاں نہ ہوتا
جدا کفر سے نورِ ایماں نہ ہوتا
مساجد میں یوں وردِ قرآں نہ ہوتا
خدا کی ثنا معبدوں میں نہ ہوتی
اذاں جا بجا مسجدوں میں نہ ہوتی
نہیں ملتی کوشش سے دنیا ہی تنہا
کہ ارکانِ دیں بھی اسی پر ہیں برپا
جنہیں ہو نہ دنیائے فانی کی پروا
کریں آخرت کا ہی وہ کاش سودا
نہیں ملتے دنیا کی خاطر اگر تم
تو لو دینِ حق کی ہی اٹھ کر خبر تم
بنی نوع میں دو طرح کے ہیں انساں
تفاوت ہر اک حالت میں جن کی نمایاں
کچھ ان میں ہیں راحت طلب اور تن آساں
بدن کے نگہباں بستر کے درباں
نہ محنت پہ مائل نہ قدرت کے قائل
سمجھتے ہیں تنکے کو رستے میں حائل
اگر ہیں تونگر تو بے کار ہیں سب
اپاہج ہیں روگی ہیں بیمار ہیں سب
تعیش کے ہاتھوں سے لاچار ہیں سب
تن آسانیوں میں گرفتار ہیں سب
برابر ہے یاں ان کا ہونا نہ ہونا
نہ کچھ جاگنا ان کا بہتر نہ سونا
اگر ہیں تہی دست اور بے نوا وہ
تو محنت سے ہیں جی چراتے سدا وہ
نصیبوں کا کرتے ہیں اکثر گلا وہ
ہلاتے نہیں کچھ مگر دست و پا وہ
اگر بھیک مل جائے قسمت سے ان کو
تو سو بار بہتر ہے محنت سے ان کو
نہ جو بے نوا ہیں نہ ہیں کچھ تونگر
وہ ہیں ڈھور کی طرح قانع اسی پر
کہ کھانے کو ملتا رہے پیٹ بھر کر
نہیں بڑھتے بس اس سے آگے قدم بھر
ہوئے زیورِ آدمیت سے عاری
معطل ہوئیں قوتیں ان کی ساری
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.