Urdu in Translation
بحث

الفصل 13 من 19

Дополнение: Обращение к Надежде; признаки пробуждения (1–27)

Supplement: Address to Hope; Signs of Waking (1–27)

ضمیمہ: امید کا خطاب اور قوم میں بیداری کے آثار (بند ۱ تا ۲۷)

Altaf Husain Hali

الخط
الحجم

ضمیمہ: امید کا خطاب اور قوم میں بیداری کے آثار (بند ۱ تا ۲۷)

بس اے ناامیدی نہ یوں دل بجھا تو
جھلک اے امید اپنی آخر دکھا تو
ذرا ناامیدوں کی ڈھارس بندھا تو
فسردہ دلوں کے دل آ کر بڑھا تو
ترے دم سے مردوں میں جانیں پڑی ہیں
جلی کھیتیاں تو نے سرسبز کی ہیں

سفینہ پہ نوح طوفاں میں تو تھی
سکوں بخشِ یعقوب کنعاں میں تو تھی
زلیخا کی غمخوار ہجراں میں تو تھی
دل آرامِ یوسف کی زنداں میں تو تھی
مصائب نے جب آن کر ان کو گھیرا
سہارا وہاں سب کو تھا ایک تیرا

بہت ڈوبتوں کو تریا ہے تو نے
بگڑتوں کو اکثر بنایا ہے تو نے
اکھڑتے دلوں کو جمایا ہے تو نے
اجڑتے گھروں کو بسایا ہے تو نے
بہت تو نے پستوں کو بالا کیا ہے
اندھیرے میں اکثر اجالا کیا ہے

قوی تجھ سے ہمت ہے پیر و جواں کی
بندھی تجھ سے ڈھارس ہے خرد و کلاں کی
تجھی پر ہے بنیاد نظمِ جہاں کی
نہ ہو تو تو رونق نہ ہو آسماں کی
تگا پو ہے ہر مرحلے میں تجھی سے
روا رو ہے ہر قافلے میں تجھی سے

کسانوں سے کلریں ہے تو بواتی
جہازوں کو گرداب میں ہے کھواتی
سکندر کو دارا پہ ہے تو چڑھاتی
فریدوں کو ضحاک سے ہے لڑاتی
چلے سب جدھر تو نے مائل عناں کی
نظر تیری سیٹی پہ ہے کارواں کی

نوازا بہت بے نواؤں کو تو نے
تونگر بنایا گداؤں کو تو نے
دیا دسترس نارساؤں کو تو نے
کیا بادشہ ناخداؤں کو تو نے
سکندر کو شانِ کئی تو نے بخشی
کلمبس کو دنیائے نو تو نے بخشی

وہ رہرو نہیں رکھتے جو کوئی ساماں
خور و زاد سے جن کا خالی ہے داماں
نہ ساتھی کوئی جس سے منزل ہو آساں
نہ محرم کوئی جو سنے دردِ پنہاں
ترے بل پہ جو کشاں خوش ہیں اس طرح جاتے
کہ جا کر خزانہ ہیں اب کوئی پاتے

زمیں جوتنے کو جب اٹھتا ہے جوتا
سمیں کا گماں تک نہیں جب کہ ہوتا
شب و روز محنت میں ہے جان کھوتا
مہینوں نہیں پاؤں پھیلا کے سوتا
اگر موجزن اس کے دل میں نہ تو ہو
تو دنیا میں غل بھوک کا چار سو ہو

بنے اس سے بھی گر سوا اپنے دم پر
بلاؤں کا ہو سامنا ہر قدم پر
پہاڑ اک فزوں اور ہو کوہِ غم پر
گزرنی ہو جو کچھ گزر جائے ہم پر
نہیں فکر تو دل بڑھاتی ہو جب تک
دماغوں میں بو تیری آتی ہو جب تک

یہ سچ ہے کہ حالت ہماری زبوں ہے
عزیزوں کی غفلت وہی جوں کی توں ہے
جہالت وہی قوم کی رہنموں ہے
تعصب کی گردن پہ ملت کا خوں ہے
مگر اے امید اک سہارا ہے تیرا
کہ جلوہ یہ دنیا میں سارا ہے تیرا

نہیں قوم میں گرچہ کچھ پھر جان باقی
نہ اس میں وہ اسلام کی شان باقی
نہ وہ جاہ و حشمت کے ساماں باقی
پر اس حال میں بھی ہے اک آن باقی
بگڑنے کا گو ان کے وقت آ گیا ہے
مگر اس بگڑنے میں بھی اک ادا ہے

بہت ہیں ابھی جن میں غیرت ہے باقی
دلیری نہیں پر حمیت ہے باقی
فقیری میں بھی بوئے ثروت ہے باقی
تہیدست ہیں پر مروت ہے باقی
مٹے پر بھی پندارِ ہستی وہی ہے
مکاں گرم ہے آگ گو بجھ گئی ہے

سمجھتے ہیں عزت کو دولت سے بہتر
فقیری کو ذلت کی شہرت سے بہتر
گلیمِ قناعت کو ثروت سے بہتر
انہیں موت ہے بارِ منت سے بہتر
سر ان کا نہیں در بدر جھکنے والا
وہ خود پست ہیں پر نگاہیں ہیں بالا

مشابہ ہے قوم اس مریضِ جواں سے
کیا ضعف نے جس کو بے ہوش جاں سے
نہ بستر سے حرکت نہ جنبش مکاں سے
اجل کے ہیں آثار جس پر عیاں سے
نظر آتے ہیں سب مرض جس کے مزمن
نہیں کوئی مہلک مرض اس کو لیکن

بجا ہیں حواس اس کے اور ہوش قائم
طبیعت میں میلِ خور و نوش قائم
دماغ اور دل چشم اور گوش قائم
جوانی کا پندار اور جوش قائم
کرے کوئی اس کی اگر غور کامل
عجب کیا جو ہو جائے زندوں میں شامل

عیاں سب پہ احوالِ بیمار کا ہے
کہ تیل اس میں جو کچھ تھا سب جل چکا ہے
موافق دوا ہے نہ کوئی غذا ہے
ہزال بدن ہے نزولِ قویٰ ہے
مگر ہے ابھی یہ دیا ٹمٹماتا
بجھا جو کہ ہے یاں نظر سب کو آتا

یہ سچ ہے کہ ہے قوم میں قحطِ انساں
نہیں قوم کے ہیں سب افراد یکساں
سفال و خزف کے ہیں انبار گراں یاں
جواہر کے ٹکڑے بھی ہیں ان میں پنہاں
چھپے سنگریزوں میں گوہر بھی ہیں کچھ
ملے ریت میں ریزۂ زر بھی ہیں کچھ

جو بے غم ہیں ان میں تو غمخوار بھی ہیں
جو بے مہر ہیں کچھ تو کچھ یار بھی ہیں
انہیں غافلوں میں خبردار بھی ہیں
خرابات میں چند ہشیار بھی ہیں
جماعت سے اپنی نرالے بھی ہیں یاں
نکموں میں کچھ کام والے بھی ہیں یاں

جو چاہیں پلٹ دیں یہی سب کی کایا
کہ ایک اک نے ملکوں کو ہے یاں جگایا
اکیلوں نے ہے قافلوں کو بچایا
جہازوں کو ہے زورقوں نے ترایا
یونہیں کام دنیا کا چلتا رہا ہے
دیے سے دیا یوں نہیں جلتا رہا ہے

یہ سچ ہے کہ ہیں بیشتر ہم میں ناداں
نہیں جن کے دردِ تعصب کا درماں
جہاں میں ہیں جو ان کی عزت کے خواہاں
انہیں سے وہ رہتے ہیں دست و گریباں
پہ ایسے بھی کچھ ہوتے جاتے ہیں پیدا
کہ جو خیر خواہوں پہ ہیں اپنے شیدا

کوئی خیر خواہی میں ہے ہمسر ان کا
کوئی دست و بازو سے ہے یاور ان کا
کوئی ہے زباں سے ستائش گر ان کا
بہت رکھتے ہیں نقشِ حب دل پر ان کا
بہت ان کے گن سنتے میں چپکے چپکے
بہت سن کے سر دھنتے میں چپکے چپکے

بہت دن سے دریا کا پانی کھڑا تھا
تموج کا جس میں نہ ہرگز پتا تھا
تغیر سے یہ حال اس کا ہوا تھا
کہ مکروہ تھی بو تو کڑوا مزا تھا
ہوئی تھی یہ پانی سے زائل روانی
کہ مشکل سے کہہ سکتے تھے اس کو پانی

پر اب اس میں رو کچھ کچھ آنے لگی ہے
کناروں کو اس کے بلانے لگی ہے
ہوا بلبلے کچھ اٹھانے لگی ہے
عفونت وہ پانی سے جانے لگی ہے
اگر ہو نہ یہ انقلاب اتفاقی
تو دریا میں بس اک تموج ہے باقی

حوادث نے ان کو ڈرایا ہے کچھ کچھ
مصائب نے نیچا دکھایا ہے کچھ کچھ
ضرورت نے رستہ بتایا ہے کچھ کچھ
زمانے کے غل نے جگایا ہے کچھ کچھ
ذرا دست و بازو ہلانے لگے ہیں
وہ سوتے میں کچھ کلبلانے لگے ہیں

راہِ راست پر ہیں وہ کچھ آتے جاتے
تعلی سے ہیں اپنی شرماتے جاتے
تفاخر سے ہیں اپنے پچھتاتے جاتے
سراغ اپنا کچھ ہیں وہ پاتے جاتے
بندگی کے دعووں سے پھرنے لگے ہیں
وہ خود اپنی نظروں سے گرنے لگے ہیں

نہیں گھاٹ پر گو ترقی کے آتے
نئی بات سے ناک بھوں ہیں چڑھاتے
نئی روشنی سے ہیں آنکھیں چراتے
مگر ساتھ ہی یہ بھی ہیں کہتے جاتے
کہ دنیا نہیں گرچہ رہنے کے قابل
پر اس طرح دنیا میں رہنا ہے مشکل

تنزل پہ وہ ہاتھ ملنے لگے ہیں
کچھ اس سوز سے جی پگھلنے لگے ہیں
دھوئیں کچھ دلوں سے نکلنے لگے ہیں
کچھ آرے سے سینوں پہ چلنے لگے ہیں
وہ غفلت کی راتیں گزرنے کو ہیں اب
نشے جو چڑھے تھے اترنے کو ہیں اب

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.