
الفصل 12 من 19
Musaddas : La clôture. Sont-ce là nos héritiers bénis ? (262–286)
Musaddas: The Close. Are These Our Blessed Heirs? (262–286)
مسدس: خاتمہ، یہی ہیں وہ نسلیں مبارک ہماری؟ (بند ۲۶۲ تا ۲۸۶)
مسدس: خاتمہ، یہی ہیں وہ نسلیں مبارک ہماری؟ (بند ۲۶۲ تا ۲۸۶)
یہی ہیں وہ نسلیں مبارک ہماری؟
کہ بخشیں گی جو دین کو استواری؟
کریں گی یہی قوم کی غم گساری؟
انہیں پر امیدیں ہیں موقوف ساری؟
یہی شمعِ اسلام روشن کریں گی؟
بڑوں کا یہی نام روشن کریں گی؟
خلف ان کے الحق اگر یاں یہی ہیں
سلف کے اگر فاتحہ خواں یہی ہیں
اگر یادگارِ عزیزاں یہی ہیں
اگر نسلِ اشراف و اعیاں یہی ہیں
تو یاد اس قدر ان کی رہ جائے گی یاں
کہ اک قوم رہتی تھی اس نام کی یاں
سمجھتے ہیں شائستہ جو آپ کو یاں
ہیں آزادیٔ رائے پر جو کہ نازاں
چلن پر ہیں جو قوم کے اپنی خنداں
مسلماں ہیں سب جن کے نزدیک ناداں
جو ڈھونڈو گے یاروں کے ہمدرد ان میں
تو نکلیں گے تھوڑے جوانمرد ان میں
نہ رنج ان کے افلاس کا ان کو اصلاً
نہ فکر ان کی تعلیم اور تربیت کا
نہ کوشش کی ہمت نہ دینے کو پیسا
اڑانا مگر مفت ایک ایک کا خاکا
کہیں ان کی پوشاک پر طعن کرنا
کہیں ان کی خوراک کو نام دھرنا
عزیزوں کی جس بات میں عیب پانا
نشانہ اسے پھبتیوں کا بنانا
شماتت سے دل بھائیوں کا دکھانا
یگانوں کو بیگانہ بن کر چڑانا
نہ کچھ درد کی چوٹ ان کے جگر میں
نہ قطرہ کوئی خون کا چشمِ تر میں
جہاز ایک گرداب میں پھنس رہا ہے
پڑا جس سے جوکھوں میں چھوٹا بڑا ہے
نکلنے کا رستہ نہ بچنے کی جا ہے
کوئی ان میں سوتا کوئی جاگتا ہے
جو سوتے ہیں وہ مستِ خوابِ گراں ہیں
جو بیدار ہیں ان پہ خندہ زناں ہیں
کوئی ان سے پوچھے کہ اے ہوش والو
کس امید پر تم کھڑے ہنس رہے ہو
برا وقت بیڑے پہ آنے کو ہے جو
نہ چھوڑے گا سونوں کو اور جاگتوں کو
بچو گے نہ تم اور نہ ساتھی تمہارے
اگر ناؤ ڈوبی تو ڈوبیں گے سارے
غرض عیب کیجے بیاں اپنے کیا کیا
کہ بگڑا ہوا یاں ہے آوے کا آوا
فقیر اور جاہل ضعیف اور توانا
تاسف کے قابل ہے احوال سب کا
مریض ایسے مایوس دنیا میں کم ہیں
بگڑ کر کبھی جو نہ سنبھلیں وہ ہم ہیں
کسی نے یہ اک مردِ دانا سے پوچھا
”کہ نعمت ہر اک دنیا میں سب سے بڑی کیا؟“
کہا ”عقل جس سے ملے دین و دنیا“
کہا ”گر نہ ہو اس سے انساں کو بہرا“
کہا ”پھر اہم سب سے علم و ہنر ہے
کہ جو باعثِ افتخارِ بشر ہے“
کہا ”گر نہ ہو یہ بھی اس کو میسر“
کہا ”مال و دولت ہے پھر سب سے بڑھ کر“
کہا ”در ہو یہ بھی اگر بند اس پر“
کہا ”اس پہ بجلی کا گرنا ہے بہتر
وہ ننگِ بشر تا کہ ذلت سے چھوٹے
خلائق سب اس کی نحوست سے چھوٹے“
مجھے ڈر ہے اے میرے ہم قوم یارو
مبادا کہ وہ ننگِ عالم تمہیں ہو
گر اسلام کی کچھ حمیت ہے تم کو
تو جلدی سے اٹھو اور اپنی خبر لو
وگرنہ یہ قول آئے گا راست تم پر
کہ ہونے سے ان کا نہ ہونا ہے بہتر
رہو گے یونہیں فارغ البال کب تک
نہ بدلو گے یہ چال اور ڈھال کب تک
رہے گی نئی پود پامال کب تک
نہ چھوڑو گے تم بھیڑیا چال کب تک
بس اگلے فسانے فراموش کر دو
تعصب کے شعلے کو خاموش کر دو
حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں
ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں
صدائیں یہ ہر سمت سے آ رہی ہیں
کہ راجا سے پرجا تلک سب سکھی ہیں
تسلط ہے ملکوں میں امن و اماں کا
نہیں بند رستہ کسی کارواں کا
نہ بدخواہ ہے دین و ایماں کا کوئی
نہ دشمن حدیث اور قرآں کا کوئی
نہ ناقص ہے ملت کے ارکاں کا کوئی
نہ مانع شریعت کے فرماں کا کوئی
نمازیں پڑھو بے خطر معبدوں میں
اذانیں دھڑلے سے دو مسجدوں میں
کھلی ہیں سفر اور تجارت کی راہیں
نہیں بند صنعت کی حرفت کی راہیں
جو روشن ہیں تحصیلِ حکمت کی راہیں
تو ہموار ہیں کسبِ دولت کی راہیں
نہ گھر میں غنیم اور دشمن کا کھٹکا
نہ باہر ہے قزاق و رہزن کا کھٹکا
مہینوں کے کٹتے ہیں رستے پلوں میں
گھروں سے سوا چین ہے منزلوں میں
ہر اک گوشہ گلزار ہے جنگلوں میں
شب و روز ہے ایمنی قافلوں میں
سفر جو کبھی تھا نمونہ سقر کا
وسیلہ ہے وہ اب سراسر ظفر کا
پہنچتی ہیں ملکوں میں دم دم کی خبریں
چلی آتی ہیں شادی و غم کی خبریں
عیاں ہیں ہر اک برِ اعظم کی خبریں
کھلی ہیں زمانہ پہ عالم کی خبریں
نہیں واقعہ کوئی پنہاں کہیں کا
ہے آئینہ احوالِ روئے زمیں کا
کرو قدر اس امن و آزادگی کی
کہ ہے صاف ہر سمت راہِ ترقی
ہر اک راہ رو کا زمانہ ہے ساتھی
یہ ہر سو سے آواز پیہم ہے آتی
کہ دشمن کا کھٹکا نہ رہزن کا ڈر ہے
نکل جاؤ رستہ ابھی بے خطر ہے
بہت قافلے دیر سے جا رہے ہیں
بہت بوجھ بار اپنے لد وا رہے ہیں
بہت چل چلاؤ میں گھبرا رہے ہیں
بہت سے نہ چلنے کی پچھتا رہے ہیں
مگر ایک تمہیں ہو کہ سوتے ہو غافل
مبادا کہ غفلت میں کھوٹی ہو منزل
نہ بد خواہ سمجھو بس اب یاروں کو
لٹیرے نہ ٹھہراؤ تم رہبروں کو
دو الزام پیچھے نصیحت گروں کو
ٹٹولو ذرا پہلے اپنے گھروں کو
کہ خالی ہیں یا پر ذخیرے تمہارے
برے ہیں کہ اچھے وتیرے تمہارے
امیروں کی تم سن چکے داستاں سب
چلن ہو چکے عالموں کے بیاں سب
شریفوں کی حالت سے تم ہو عیاں سب
بگڑنے کو تیار بیٹھے ہیں یاں سب
یہ بوسیدہ گھر اب گرا کا گرا ہے
ستوں مرکزِ ثقل سے ہٹ چکا ہے
یہ جو کچھ ہوا ایک شمہ ہے اس کا
کہ جو وقت یاروں پہ ہے آنے والا
زمانہ نے اونچے سے جس کو گرایا
وہ آخر کو مٹی میں مل کر رہے گا
نہیں گرچہ کچھ قوم میں حال باقی
ابھی اور ہونا ہے پامال باقی
یہاں ہر ترقی کی غایت یہی ہے
سرانجام ہر قوم و ملت یہی ہے
سدا سے زمانہ کی عادت یہی ہے
طلسمِ جہاں کی حقیقت یہی ہے
بہت یاں ہوئے خشک چشمے ابل کر
بہت باغ چھانٹے گئے پھول پھل کر
کہاں ہیں وہ اہرامِ مصری کے بانی
کہاں ہیں وہ گردانِ زابلستانی
گئے پیشدادی کدھر اور کیانی
مٹا کر رہی سب کو دنیائے فانی
لگاؤ کہیں کھوج کلدانیوں کا
بتاؤ نشاں کوئی ساسانیوں کا
وہی ایک ہے جس کو دائم بقا ہے
جہاں کی وراثت اسی کو سزا ہے
سوا اس کے انجام سب کا فنا ہے
نہ کوئی رہے گا نہ کوئی رہا ہے
مسافر یہاں ہیں فقیر اور غنی سب
غلام اور آزاد ہیں رفتنی سب
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.