Urdu in Translation
Search

Chapter 11 of 19

Мусаддас: Врачи, поэты и сыновья знати (238–261)

Musaddas: Physicians, Poets and the Sons of the Gentry (238–261)

مسدس: اطبا، شعرا اور شریفوں کی اولاد (بند ۲۳۸ تا ۲۶۱)

Altaf Husain Hali

Script
Size

مسدس: اطبا، شعرا اور شریفوں کی اولاد (بند ۲۳۸ تا ۲۶۱)

وہ طب جس پہ غش ہیں ہمارے اطبا
سمجھتے ہیں جس کو بیاضِ مسیحا
بتانے میں ہے بخل جس کے بہت سا
جسے عیب کی طرح کرتے ہیں اخفا
فقط چند نسخوں کا ہے وہ دفینہ
چلے آئے ہیں جو کہ سینہ بسینہ

نہ ان کو نباتات سے آگہی ہے
نہ اصلاً خبر معدنیات کی ہے
نہ تشریح کی لے کسی پر کھلی ہے
نہ علمِ طبیعی نہ کیمسٹری ہے
نہ پانی کا علم اور نہ علمِ ہوا ہے
مریضوں کا ان کے نگہباں خدا ہے

نہ قانون میں ان کے کوئی خطا ہے
نہ مخزن میں انگشت رکھنے کی جا ہے
سدیدی میں لکھا ہے جو کچھ بجا ہے
نفیسی کے ہر قول پر جاں فدا ہے
سلف لکھ گئے جو قیاس اور گماں سے
صحیفے ہیں اترے ہوئے آسماں سے

وہ شعر اور قصائد کا ناپاک دفتر
عفونت میں سنڈاس سے جو ہے بدتر
زمیں جس سے ہے زلزلہ میں برابر
ملک جس سے شرماتے ہیں آسماں پر
ہوا علم و دیں جس سے تاراج سارا
وہ علموں میں علمِ ادب ہے ہمارا

برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے
عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے
تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے
مقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے
گنہگار واں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے

زمانہ میں جتنے قبیلے اور فرقے ہیں
کمائی سے اپنی وہ سب بہرہ ور ہیں
گویے امیروں کے نورِ نظر ہیں
ڈفالی بھی لے آتے کچھ مانگ کر ہیں
مگر اس تپِ دق میں جو مبتلا ہیں
خدا جانے وہ کس مرض کی دوا ہیں

جو سقے نہ ہوں تو پیاسے جائیں گزر سب
ہوں میلے جہاں گم ہوں دھوبی اگر سب
بے دم ہو گر شہر چھوڑیں نفر سب
جو ٹھہر جائیں مہتر تو گندے ہوں گھر سب
پہ کر جائیں ہجرت جو شاعر ہمارے
رہیں مل کے بخشیں جہاں پاک سارے

عرب جو تھے دنیا میں اس فن کے بانی
نہ تھا کوئی آفاق میں جن کا ثانی
زمانہ نے جن کی فصاحت تھی مانی
مٹا دی عزیزوں نے ان کی نشانی
سب ان کے ہنر اور کمالات کھو کر
رہے شاعری کو بھی آخر ڈبو کر

ادب میں پڑی جان ان کی زباں سے
جلا دیں نے پائی ان کے بیاں سے
سناں کا لیا کام انہوں نے لساں سے
زبانوں کے کوچے تھے بڑھ کر سناں سے
ہوئے ان کے شعروں سے اخلاق صیقل
پڑی ان کے خطبوں سے عالم میں ہلچل

خلف ان کے یاں جو کہ جادو بیاں ہیں
فصاحت میں مقبولِ پیر و جواں ہیں
بلاغت میں مشہورِ ہندوستاں ہیں
وہ کچھ ہیں تو لے دے کے اس گوں کے یاں ہیں
کہ جب شعر میں عمر ساری گنوائیں
تو بھانڈ ان کی غزلیں مجالس میں گائیں

طوائف کو از بر ہیں دیوان ان کے
گویوں پہ بے حد ہیں احسان ان کے
نکلتے ہیں تکیوں میں ارمان ان کے
ثنا خواں ہیں ابلیس و شیطان ان کے
کہ عقلوں پہ پردے دیے ڈال انہوں نے
ہمیں کر دیا فارغ البال انہوں نے

شریفوں کی اولاد بے تربیت ہے
تباہ ان کی حالت بری ان کی گت ہے
اسی کو کبوتر اڑانے کی لت ہے
کسی کو بٹیریں لڑانے کی دھت ہے
چرس اور گانجے پہ شیدا ہے کوئی
مدک اور چنڈو کا رسیا ہے کوئی

سدا گرم اغیار سے ان کی صحبت
ہر اک رند و اوباش سے ان کی ملت
پڑھے لکھوں کے سایہ سے ان کو وحشت
مدارس سے تعلیم سے ان کو نفرت
کمینوں کے جرگے میں عمریں گنوانی
انہیں گالیاں دینی اور آپ کھانی

نہ علمی مدارس میں ہیں ان کو پاتے
نہ شائستہ جلسوں میں ہیں آتے جاتے
پہ میلوں کی رونق ہیں جا کر بڑھاتے
پڑے پھرتے ہیں دیکھتے اور دکھاتے
کتاب اور معلم سے پھرتے ہیں بھاگے
مگر ناچ گانے میں ہیں سب سے آگے

اگر کیجے ان پاک شہدوں کی گنتی
ہوا جن کے پہلو سے بچ کر ہے چلتی
ملی خاک میں جن سے عزت بڑوں کی
مٹی خاندانوں کی جن سے بزرگی
تو یہ جس قدر خانہ برباد ہوں گے
وہ سب ان شریفوں کی اولاد ہوں گے

ہوئی ان کی بچپن میں یوں پاسبانی
کہ قیدی کی جیسے کٹے زندگانی
لگی ہونے جب کچھ سمجھ بوجھ سیانی
چڑھی بھوت کی طرح سر پر جوانی
بس اب گھر میں دشوار تھمنا ہے ان کا
اکھاڑوں میں تکیوں میں رہنا ہے ان کا

نشہ میں مئے عشق کے چور ہیں وہ
صفِ فوجِ مژگاں میں محصور ہیں وہ
غمِ چشم و ابرو میں رنجور ہیں وہ
بہت ہات سے دل کے مجبور ہیں وہ
کریں کیا کہ ہے عشق طینت میں ان کی
حرارت بھری ہے طبیعت میں ان کی

اگر شش جہت میں کوئی دلربا ہے
تو دل ان کا نادیدہ اس پر فدا ہے
اگر خواب میں کچھ نظر آ گیا ہے
تو یاد اس کی دن رات نامِ خدا ہے
بھری سب کی وحشت سے روداد ہے یاں
جسے دیکھیے قیس و فرہاد ہے یاں

اگر ماں ہے دکھیا تو ان کی بلا سے
اپاہج ہے باوا تو ان کی بلا سے
جو ہے گھر میں فاقہ تو ان کی بلا سے
جو مرتا ہے کنبا تو ان کی بلا سے
جنہوں نے لگا لی ہو لو دلربا سے
غرض پھر انہیں کیا رہی ماسوا سے

نہ گالی سے دشنام سے جی چرائیں
نہ جوتی سے پیزار سے ہچکچائیں
جو میلوں میں جائیں تو لچپن دکھائیں
جو محفل میں بیٹھیں تو فتنے اٹھائیں
لرزتے ہیں اوباش ان کی ہنسی سے
گریزاں ہیں رند ان کی ہمسائیگی سے

سپوتوں کو اپنے اگر بیاہ دیجے
تو بہوؤں کا بوجھ اپنی گردن پہ لیجے
جو بیٹی کے پیوند کی فکر کیجے
تو بدراہ ہیں بھانجے اور بھتیجے
یہی جھینکنا کو بہ کو گھر بہ گھر ہے
بہو کو ٹھکانا نہ بیٹی کو بر ہے

نہ مطلب نگاری کا ان کو سلیقہ
نہ دربار داری کا ان کو سلیقہ
نہ امیدواری کا ان کو سلیقہ
نہ خدمت گزاری کا ان کو سلیقہ
قلی یا نفر ہو تو کچھ کام آئے
مگر ان کو کس مد میں کوئی کھپائے

نہیں ملتی روٹی جنہیں پیٹ بھر کے
وہ گزران کرتے ہیں سو عیب کر کے
جو ہیں ان میں دو چار آسودہ گھر کے
وہ دن رات خواہاں ہیں مرگِ پدر کے
نمونے یہ اعیان و اشراف کے ہیں
سلف ان کے وہ تھے خلف ان کے یہ ہیں

وہ اسلام کی پود شاید یہی ہے
کہ جس کی طرف آنکھ سب کی لگی ہے
بہت جس سے آئندہ چشم سبھی ہے
بقا منحصر جس پہ اسلام کی ہے
یہی جان ڈالے گی باغِ کہن میں؟
اسی سے بہار آئے گی اس چمن میں؟

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.