Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 10 de 19

Musaddas: El odio al consejo, el culto al saber antiguo (218–237)

Musaddas: Hatred of Advice, the Worship of Old Learning (218–237)

مسدس: نصیحت سے نفرت اور پرانی حکمت کی پرستش (بند ۲۱۸ تا ۲۳۷)

Altaf Husain Hali

Escritura
Tamaño

مسدس: نصیحت سے نفرت، پرانی حکمت کی پرستش اور علما کی تعلیم (بند ۲۱۸ تا ۲۳۷)

وہ عہدِ ہمایوں جو خیر القروں تھا
خلافت کا جب تک کہ قائم ستوں تھا
نبوت کا سایہ ابھی رہنموں تھا
سماں خیر و برکت کا ہر دم فزوں تھا
عدالت کے زیور سے تھے سب مزین
پھلا اور پھولا تھا احمد کا گلشن

سعادت بڑی اس زمانہ کی یہ تھی
کہ جھکتی تھی گردن نصیحت پہ سب کی
نہ کرتے تھے خود قولِ حق سے خموشی
نہ لگتی تھی حق کی انہیں بات کڑوی
غلاموں سے ہو جاتے تھے بند آقا
خلیفہ سے لڑتی تھی ایک ایک بڑھیا

نبی نے کہا تھا انہیں فخرِ امت
جنہیں خلد کی مل چکی تھی بشارت
مسلم تھی عالم میں جن کی عدالت
رہا مفتخر جن سے تختِ خلافت
وہ پھرتے تھے راتوں کو چپ چپکے در در
کہ شہر میں اپنا کہیں عیب سن کر

مگر ہم کہ ہیں دام و دد ہم سے بہتر
نہ ظاہر کہیں ہم میں خوبی مضمر
نہ اقران و امثال میں ہم موقر
نہ اجداد و اسلاف کے ہم میں جوہر
نصیحت سے ایسا برا مانتے ہیں
کہ گویا ہم اپنے کو پہچانتے ہیں

نبوت نہ گر ختم ہوتی عرب پر
کوئی ہم پہ مبعوث ہوتا پیمبر
تو ہے جیسے مذکور قرآن کے اندر
ضلالت یہود اور نصاریٰ کی اکثر
یونہیں جو کتاب اس پیمبر پہ آتی
وہ گمراہیاں سب ہماری جتاتی

ہنر ہم میں جو ہیں وہ معلوم ہیں سب
علوم اور کمالات معدوم ہیں سب
چلن اور اطوار مذموم ہیں سب
فراغت کی دولت سے محروم ہیں سب
جہالت نہیں چھوڑتی ساتھ دم بھر
تعصب نہیں بڑھنے دیتا قدم بھر

وہ تقویمِ پارینہ یونانیوں کی
وہ حکمت کہ ہے ایک دھوکے کی ٹٹی
یقیں جس کو ٹھہرا چکا ہے نکمی
عمل نے جسے کر دیا آ کے ردی
اسے وحی سے سمجھے ہیں ہم زیادہ
کوئی بات اس میں نہیں کم زیادہ

زبور اور توریت و انجیل و قرآں
بالاجماع ہیں قابلِ نسخ و نسیاں
مگر لکھ گئے جو اصولِ اہلِ یوناں
نہیں نسخ و تبدیل کا ان میں امکاں
نہیں مٹتے جب تک کہ آثارِ دنیا
مٹے گا کبھی کوئی شوشہ نہ ان کا

نتائج ہیں جو مغربی علم و فن کے
وہ ہیں ہند میں جلوہ گر سو برس سے
تعصب نے لیکن یہ ڈالے ہیں پردے
کہ ہم حق کا جلوہ نہیں دیکھ سکتے
دلوں پہ ہیں نقشِ اہلِ یوناں کی رئیں
جواب وحی اترے تو ایماں نہ لائیں

اب اس فلسفہ پر جو ہیں مرنے والے
شفا اور مجسطی کے دم بھرنے والے
ارسطو کی چوکھٹ پہ سر دھرنے والے
فلاطون کی اقتدا کرنے والے
وہ تیلی کے کچھ بیل سے کم نہیں ہیں
پھرے عمر بھر اور جہاں تھے وہیں ہیں

وہ جب کر چکے ختم تحصیلِ حکمت
بندھی سر پہ دستارِ علم و فضیلت
اگر رکھتے ہیں کچھ طبیعت میں جودت
تو ہے سب سے ان کی بڑی یہ لیاقت
گر دن کو وہ رات کہہ دیں زباں سے
تو منوا کے چھوڑیں اسے اک جہاں سے

ہوا اس کے جو آئے اس کو پڑھاویں
انہیں جو کچھ آتا ہے اس کو بتاویں
وہ سیکھے ہیں جو بولیاں سب سکھا دیں
میاں مٹھو اپنا سا اس کو بنا دیں
یہ رہے دیکھیے ہر علم کا ان کے حاصل
اسی پر ہے فخر ان کو بین الاماثل

نہ سرکار میں کام پانے کے قابل
نہ دربار میں لب ہلانے کے قابل
نہ جنگل میں ریوڑ چرانے کے قابل
نہ بازار میں بوجھ اٹھانے کے قابل
نہ پڑھتے تو سو طرح کھاتے کما کر
وہ کھوئے گئے اور تعلیم پا کر

جو پوچھو کہ حضرت نے جو کچھ پڑھا ہے
مراد آپ کی اس کے پڑھنے سے کیا ہے
مفاد اس میں دنیا کا یا دین کا ہے
نتیجہ کوئی یا کہ اس کے سوا ہے
تو مجذوب کی طرح سب کچھ کہیں گے
جواب اس کا لیکن نہ کچھ دے سکیں گے

نہ حجتِ رسالت پہ لا سکتے ہیں وہ
نہ اسلام کا حق جتا سکتے ہیں وہ
نہ قرآں کی عظمت دکھا سکتے ہیں وہ
نہ حق کی حقیقت بتا سکتے ہیں وہ
دلیلیں ہیں سب آج بے کار ان کی
نہیں چلتی توپوں میں تلوار ان کی

پڑے اس مشقت میں ہیں وہ سراپا
نتیجہ نہیں ان کو معلوم جس کا
گئیں بھول آگے کی بھیڑیں جو رستہ
اسی راہ پر پڑ لیا سارا گلا
نہیں جانتے یہ کہ جاتے کدھر ہیں
گئے بھول رستہ وہ یا راہ پر ہیں

مثال ان کی کوشش کی ہے صاف ایسی
کہ کھائی کہیں بندروں نے جو سردی
ادھر اور ادھر دیر تک آگ ڈھونڈی
کہیں روشنی ان کو پائی نہ اس کی
مگر ایک جگنو چمکتا جو دیکھا
پتنگا اسے آگ کا سب نے سمجھا

لیا جا کے تھام اور سب نے اسی دم
کیا گھاس پھونس اس پہ لا کر فراہم
لگے اس کو سلگانے سب مل کے پیہم
پہ کچھ آگ سلگی نہ سردی ہوئی کم
یونہیں رات ساری انہوں نے گنوائی
مگر اپنی محنت کی راحت نہ پائی

گزرتے تھے جو جانور اس طرف سے
عجب اس کشمکش میں انہیں دیکھتے تھے
ملامت بہت سخت تھے ان کو کرتے
کہ شرمائیں وہ زعمِ باطل سے اپنے
مگر اپنی کد سے نہ باز آتے تھے وہ
ملامت پہ اور الٹے غراتے تھے وہ

نہ سمجھے وہ جب تک ہوا دن نہ روشن
اسی طرح جو ہیں حقیقت کے دشمن
نہ جھاڑیں گے گردِ توہم سے دامن
پہ جب ہو گا نورِ سحر لمعہ افگن
بہت جلد ہو جائے گا آشکارا
کہ جگنو کو سمجھے تھے وہ اک شرارا

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.