Urdu in Translation
Search

Chapter 6 of 13

The Qualities of Poetry: Simplicity, Reality, Passion

شعر کی خوبیاں: سادگی، اصلیت، جوش

Altaf Husain Hali

Script
Size

شعر میں کیا کیا خوبیاں ہونی چاہییں

یہاں تک ان خاصیتوں کا بیان ہوا جن کے بغیر شاعر کمال کے درجہ کو نہیں پہنچتا۔ اب وہ خصوصیتیں بیان کرنی ہیں جو دنیا کے تمام مقبول شاعروں کے کلام میں عموماً پائی جاتی ہیں۔ ملٹن نے ان کو چند مختصر لفظوں میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ "شعر کی خوبی یہ ہے کہ سادہ ہو، جوش سے بھرا ہوا ہو، اور اصلیت پر مبنی ہو۔" ایک یوروپین محقق ان لفظوں کی شرح اس طرح کرتا ہے: "سادگی سے صرف لفظوں ہی کی سادگی مراد نہیں ہے، بلکہ خیالات بھی ایسے نازک اور دقیق نہ ہونے چاہییں جن کے سمجھنے کی عام ذہنوں میں گنجائش نہ ہو۔ محسوسات کے شارع عام پر چلنا، بے تکلفی کے سیدھے رستے سے ادھر ادھر نہ ہونا، اور فکر کو جولانیوں سے باز رکھنا، اسی کا نام سادگی ہے۔ علم کا رستہ اس کے طالبوں کے لیے ایسا صاف نہیں ہو سکتا جیسا کہ شعر کا رستہ اس کے سامعین کے لیے صاف ہونا چاہیے۔ طالب علم کو پستی اور بلندی، غار اور ٹیلے، کنکر اور پتھر، موجیں اور گرداب طے کر کے منزل پر پہنچنا ہوتا ہے؛ لیکن شعر پڑھنے یا سننے والے کو ایسی ہموار اور صاف سڑک ملنی چاہیے جس پر وہ آرام سے چلا جائے، ندی نالے اس کے ادھر ادھر چل رہے ہوں، اور پھل پھول، درخت اور مکان اس کی منزل ہلکی کرنے کے لیے ہر جگہ موجود ہوں۔ دنیا میں جو شاعر مقبول ہوئے ہیں ان کا کلام ہمیشہ ایسا ہی دیکھا گیا ہے، اور ایسا ہی سنا گیا ہے کہ اس کی ہر ذہن سے مصالحت اور ہر دل میں گنجائش ہوتی ہے۔ ہومر نے اپنے کلام میں ہر جگہ نیچر کا ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ اس کو جوان، بوڑھے اور وہ قومیں جو ایک دوسرے سے قطبوں کے فاصلے پر رہتی ہیں برابر سمجھ سکتی اور یکساں مزا لے سکتی ہیں۔ عالم محسوسات کے چپے چپے پر، جہاں جہاں کہ اس کا کلام پہنچا ہے، اس کی روشنی سورج کی طرح پھیلی ہوئی ہے؛ وہ آباد اور ویرانہ کو برابر روشن کرتا ہے، اور فاضل و جاہل پر یکساں اثر ڈالتا ہے۔ شکسپیر کا بھی ایسا ہی حال ہے جیسا ہومر کا۔ یہ دونو برخلاف عام شاعروں کے مستثنیات [1] کو نہیں لیتے، بلکہ ہمیشہ عام شق اختیار کرتے ہیں۔ یہ خاص خاص صورتیں اور نادر اتفاقات دکھا کر لوگوں کو اپنی خاص لیاقت پر فریفتہ کرنا نہیں چاہتے۔"

"دوسری بات جو ملٹن نے کہی ہے وہ یہ ہے کہ شعر اصلیت پر مبنی ہو۔ اس سے یہ غرض ہے کہ خیال کی بنیاد ایسی چیز پر ہونی چاہیے جو درحقیقت کچھ وجود رکھتی ہو؛ نہ یہ کہ سارا مضمون ایک خواب کا سا تماشا ہو کہ ابھی تو سب کچھ تھا اور آنکھ کھلی تو کچھ نہ تھا۔ یہ بات جیسی مضمون میں ہونی ضرور ہے ایسی ہی الفاظ میں بھی ہونی چاہیے، مثلاً ایسی تشبیہات استعمال نہ کی جائیں جن کا وجود عالم بالا پر ہو۔"

"تیسری بات یہ تھی کہ شعر جوش سے بھرا ہوا ہو۔ اس سے صرف یہی مراد نہیں کہ شاعر نے جوش کی حالت میں شعر کہا ہو، یا شعر کے بیان سے اس کا جوش ظاہر ہوتا ہو؛ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے کہ جو لوگ مخاطب ہیں ان کے دل میں جوش پیدا کرنے والا ہو، اور اس غرض کے لیے ضرور ہے کہ ان کے دل ٹٹولے جائیں، اور ان کے دلوں کو جذب کرنے کے لیے ایک مقناطیسی کشش بیان میں رکھی جائے۔"

جس مقناطیسی کشش کا ذکر اس محقق نے ملٹن کے الفاظ کی شرح میں کیا ہے، لارڈ مکالے کہتے ہیں کہ وہ خود ملٹن ہی کے بیان میں پائی جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "یہ جو مشہور ہے کہ شعر میں جادو کا سا اثر ہوتا ہے، عموماً یہ فقرہ کچھ معنی نہیں رکھتا؛ مگر جب ملٹن کے کلام پر لگایا جاتا ہے تو بہت ہی ٹھیک بیٹھتا ہے۔ اس کا شعر افسوں کی طرح اثر کرتا ہے، حالانکہ بادی النظر میں اس کے الفاظ میں اوروں کے الفاظ سے کچھ زیادہ نظر نہیں آتا۔ مگر وہ منتر کے الفاظ ہیں کہ جونہی تلفظ میں آئے، فوراً ماضی حال اور دور نزدیک ہو گیا، محاسن کی نئی نئی شکلیں موجود ہو گئیں، اور معاً حافظہ کے قبرستان نے اپنے سارے مردے اٹھا بٹھائے۔ لیکن جہاں فقرہ کی ترکیب بدلی، یا کسی لفظ کی جگہ اس کا مرادف رکھ دیا، اسی وقت سارا اثر کافور ہو گیا۔ جو شخص اس کے کلام میں ایسی تبدیلی کے بعد وہی طلسم کھڑا کرنا چاہے، وہ اپنے تئیں ایسی ہی غلطی میں پائے گا جیسا الف لیلہ میں قاسم [2] نے اپنے تئیں پایا تھا کہ وہ ایک دروازہ پر کھڑا ہوا پکار پکار کر کہہ رہا تھا "کھل گیہوں"، "کھل جو"، مگر دروازہ ہرگز نہ کھلتا تھا جب تک یہ نہ کہا جائے "کھل سمسم"۔"

ملٹن کی تینوں شرطوں کی شرح اگرچہ کسی قدر اوپر بیان ہو چکی ہے، لیکن ہمارے نزدیک ابھی اس میں کسی قدر اور تشریح کی ضرورت ہے۔

سادگی سے کیا مراد ہے

سادگی ایک اضافی امر ہے۔ وہی شعر جو ایک حکیم کی نظر میں محض سادہ اور سہل معلوم ہوتا ہے، اور جس کے معنی اس کے ذہن میں بمجرد سننے کے متبادر ہو جاتے ہیں، اور جو خوبی اس میں شاعر نے رکھی ہے اس کو فوراً ادراک کر لیتا ہے، ایک عامی آدمی اس کے سمجھنے اور اس کی خوبی دریافت کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک عامیانہ شعر جس کو سن کر ایک پست خیال جاہل اچھل پڑتا ہے اور وجد کرنے لگتا ہے، ایک عالی دماغ حکیم اسی کو سن کر ناک چڑھا لیتا ہے اور اس کو محض ایک سخیف اور رکیک و سبک تک بندی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔

ہمارے نزدیک ایسی سادگی پر جو سخافت و رکاکت کے درجہ کو پہنچ جائے، سادگی کا اطلاق کرنا گویا سادگی کا نام بدنام کرنا ہے۔ ایسے کلام کو سادہ نہیں بلکہ عامیانہ کلام کہا جائے گا۔ لیکن ایسا کلام جو اعلیٰ و اوسط درجہ کے آدمیوں کے نزدیک سادہ اور سہل ہو، اور ادنیٰ درجہ کے لوگ اس کی اصل خوبی سمجھنے سے قاصر ہوں، ایسے کلام کو سادگی کی حد میں داخل رکھنا چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ جو عمدہ کلام ایسا صاف اور عام فہم ہو کہ اس کو اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک ہر طبقہ اور ہر درجہ کے لوگ برابر سمجھ سکیں اور اس سے یکساں لذت اور حظ اٹھائیں، وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کو سادہ اور سہل کہا جائے؛ مگر کوئی ایسی نظم جس کا ہر شعر عام فہم و خاص پسند ہو، خواہ اس کا لکھنے والا ہومر ہو یا شکسپیر، نہ آج تک سرانجام ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو شکسپیر کے ورکس پر شرحیں لکھنے کی کیوں ضرورت ہوتی۔

ہمارے نزدیک کلام کی سادگی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ خیال کیسا ہی بلند اور دقیق ہو مگر پیچیدہ اور ناہموار نہ ہو، اور الفاظ جہاں تک ممکن ہو تحاور اور روزمرہ کی بول چال کے قریب قریب ہوں۔ جس قدر شعر کی ترکیب معمولی بول چال سے بعید ہوگی اسی قدر سادگی کے زیور سے معطل سمجھی جائے گی۔ تحاور اور روزمرہ کی بول چال سے نہ تو عوام الناس اور سوقیوں کی بول چال مراد ہے اور نہ علما و فضلا کی، بلکہ وہ الفاظ و محاورات مراد ہیں جو خاص و عام دونو کی بول چال میں عام طور پر رائج ہیں۔ لیکن اردو زبان میں سادگی کا ایسا التزام ہر قسم کے کلام میں نبھ نہیں سکتا؛ اگر کچھ نبھ سکتا ہے تو محض عشقیہ غزل یا عشقیہ مثنوی میں، جیسا کہ میر و سودا اور ان کے اکثر معاصرین اور بعض متاخرین نے خاص ان دو صنفوں میں کیا ہے۔ قصیدہ میں سودا اور ذوق جیسے مشاق شاعروں سے بھی ایسی سادگی نبھ نہیں سکی۔ میر انیس، باوجودیکہ زبان کی شستگی اور صفائی پر نہایت دلدادہ ہیں، مگر طرز جدید کے مرثیہ میں ان کو بھی کثرت سے عربی فارسی الفاظ استعمال کرنے اور ہمیشہ کے لیے اپنے روزمرہ میں داخل کرنے پڑے ہیں۔ خصوصاً اس زمانہ میں کہ روز بروز لوگوں کی معلومات اور اطلاع بڑھتی جاتی ہے، اور شاعری میں خیالات جدید اضافہ ہوتے جاتے ہیں جن کے لیے اردو معلّیٰ میں الفاظ بہم نہیں پہنچتے، ممکن نہیں کہ اردو کے محدود روزمرہ میں ہر قسم کے خیالات ادا کیے جائیں۔

اصلیت سے کیا مراد ہے

اصلیت پر مبنی ہونے سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر شعر کا مضمون حقیقت نفس الامری پر مبنی ہونا چاہیے، بلکہ یہ مراد ہے کہ جس بات پر شعر کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ نفس الامر میں یا لوگوں کے عقیدہ میں یا محض شاعر کے عندیہ میں فی الواقع موجود ہو، یا ایسا معلوم ہوتا ہو کہ اس کے عندیہ میں فی الواقع موجود ہے۔ نیز اصلیت پر مبنی ہونے سے یہ بھی مقصود نہیں ہے کہ بیان میں اصلیت سے سر مو تجاوز نہ ہو، بلکہ یہ مطلب ہے کہ زیادہ تر اصلیت ہونی ضرور ہے؛ اس پر اگر شاعر نے اپنی طرف سے فی الجملہ کمی بیشی کر دی تو کچھ مضائقہ نہیں۔

پہلی صورت کی مثال، جس میں شعر کی بنا محض حقائق نفس الامریہ پر ہو، ایسی ہے جیسے شیخ شیرازی بہار کی تعریف میں کہتے ہیں:

آدمی زادہ اگر در طرب آید چہ عجب / سرو در باغ برقص آمدہ و بید و چنار
باش تا غنچۂ سیراب دہن باز کند / بامداداں چو سر نافۂ آہوئے تتار
ژالہ بر لالہ فرود آمدہ ہنگام سحر / راست چوں عارض گلبوئے عرق کردۂ یار

باد بوئے سمن آورد و گل و سنبل و بید / در دکاں بچہ رونق بکشاید عطار
خیری و خطمی و نیلوفر و بستاں افروز / نقشہائے کہ درو خیرہ بماند ابصار
ارغواں ریختہ بر در گہ خضرائے چمن / ہمچنانست کہ بر تختۂ دیبا دینار
ایں ہنوز اول آذار جہاں افروز ست / باش تا خیمہ زند دولت نیسان و ایار
شاخہا دختر دوشیزہ باغند ہنوز / باش تا حاملہ گردند بہ الوان ثمار

دوسری صورت کی مثال، جس میں شعر کی بنیاد سامعین کے عقیدہ پر رکھی جاتی ہے، ایسی ہے جیسے مثلاً میر انیس ماتم سید الشہدا میں لکھتے ہیں:

تھراتے ہیں لوح و قلم و عرش معظم / کرسی پہ یہ صدمہ ہے کہ ہل جاتی ہے ہر دم
باندھی ہیں ملائک کی صفیں حلقۂ ماتم / ڈر ہے نہ الٹ جائے کہیں دفتر عالم
ہاتھوں سے عطارد کے قلم چھوٹ پڑا ہے
ہر فرد پہ اک غم کا فلک ٹوٹ پڑا ہے

منہ ڈھانپے ہے رونے کے لیے چرخ پہ مہتاب / سر کھولے ہے خورشید فلک، چشم ہے پر آب
تاروں پہ بھی طاری ہے غم ایسا کہ نہیں تاب / سیاروں پہ ثابت ہے کہ راحت ہوئی نایاب
قتل پسر سید لولاک کا دن ہے
یہ خاتمۂ پنجتن پاک کا دن ہے

تیسری صورت کی مثال، جس میں شاعر محض اپنے عندیہ پر شعر کی بنیاد رکھتا ہے، ایسی ہے جیسے شیخ شیرازی معشوق کی طرف خطاب کر کے کہتے ہیں:

عقل من پروانہ گشت و ہم ندید / چوں تو شمعے در ہزاراں انجمن

اسی صورت کی دوسری مثال شیراز کی فصل بہار کے بیان میں:

ریح ریحان ست یا بوئے بہشت / خاک شیراز ست یا مشک ختن

چوتھی صورت کی مثال، جس میں سامعین کو یہ معلوم ہو کہ گویا شاعر کے عندیہ میں اسی طرح ہے جس طرح وہ بیان کرتا ہے، ایسی ہے جیسے نظیری اپنی بڑائی اور زمانہ کی ناقدردانی کے بیان میں کہتا ہے:

تو نظیری ز فلک آمدہ بودی چو مسیح / باز پس رفتی و کس قدر تو نشناخت دریغ

عرفی اپنی بڑائی اس طرح کرتا ہے:

سر بزدہ ام با مہ کنعاں ز یکے جیب / معشوق تماشا طلب و آئینہ گیرم

ایسی خودستائی اور فخر کو اصلیت پر مبنی ٹھہرانے سے شاید ناظرین کو بادی النظر میں تعجب ہوگا، لیکن غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ گو ایسے مضامین مبالغہ سے خالی نہیں ہوتے، مگر ان میں کم و بیش راستی کی جھلک ضرور ہوتی ہے۔ اور اگر فرض کر لیا جائے کہ ایسے مضامین میں راستی مطلق نہیں ہوتی، تو بھی اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض شعرا کے فخر و مباہات میں ایسا جوش ہوتا ہے جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وہ لوگ فی الواقع شعر لکھتے وقت اپنے تئیں ایسا ہی سمجھتے تھے، اور صرف ان کا ایسا سمجھنا اس بات کے لیے کافی ہے کہ ان کے فخریہ اشعار کو اصلیت پر مبنی سمجھا جائے؛ کیونکہ اصلیت کے معنی جو کچھ کہ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ شاعر کے بیان کا کوئی منشا یا محکی عنہ نفس الامر میں یا صرف شاعر کے ذہن میں موجود ہو۔

پانچویں صورت کی مثال، جس میں اصلیت پر شاعر نے کسی قدر اضافہ کر دیا ہو، جیسے شیخ شیرازی ترکان خاتون کرمانی کی مدح میں کہتے ہیں:

منشور در نواحی و مشہور در جہاں / آوازۂ تعبد و خوف و رجائے تو
شکر مسافراں کہ بہ آفاق می برند / گر بر فلک رسد نہ رسد بر عطائے تو
تیغ مبارزاں نکند در دیار خصم / چنداں اثر کہ ہمت کشور کشائے تو

نیز شیخ ابوبکر سعد کی تعریف میں کہتے ہیں:

بہ تیغ و طعن گرفتند جنگجویاں ملک / تو بر و بحر گرفتی بہ عدل و ہمت و رائے
دو خصلت اند نگہبان ملک و یاور دیں / بگوش جان تو پندارم ایں دو گفت خدائے
یکے کہ گردن زور آوراں بقہر بزن / دوم کہ از در بیچارگاں بلطف درآئے
بچشم عقل مرا ایں خلق بادشاہانند / کہ سایہ بر سر ایشاں فگندہ چو ہمائے

چونکہ شیخ کے ان دونو ممدوحوں کا حال معلوم ہے کہ وہ اوصاف مذکورہ کے ساتھ کسی نہ کسی قدر متصف تھے، اس لیے شیخ کے ان مدحیہ اشعار کو اصلیت پر مبنی سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر یہ اوصاف کسی ایسے ممدوح کے حق میں بیان کیے جائیں جو بالکل ان سے معرا ہو، جیسا کہ ہمارے شعرا کے قصائد میں عموماً دیکھا جاتا ہے، تو کہا جائے گا کہ شعر اصلیت پر مبنی نہیں۔

ان پانچ صورتوں کے سوا اور کوئی صورت ایسی نہیں نکل سکتی جس میں شعر کو کھینچ تان کر کسی طرح اصلیت پر مبنی قرار دیا جائے؛ اور ایسے کلام کی ہماری شاعری میں کچھ کمی نہیں ہے۔ نہ صرف متاخرین کے بلکہ متقدمین کے کلام میں بھی ایسی مثالیں دفتر دفتر موجود ہیں۔ یہاں صرف نمونہ کے طور پر ایک دو مثال لکھی جاتی ہیں۔

(۱) نظیری نیشاپوری، باوجودیکہ ایک نہایت معقول و سنجیدہ شاعر ہے، شاہزادہ مراد کی مدح میں کہتا ہے:

توئی کہ بودہ و نابودۂ جہاں از تست / سخن درست بگفتیم ہر چہ باد اباد

(۲) عرفی حکیم ابوالفتح کے گھوڑے کی تعریف میں کہتا ہے:

آں سبک سیر کہ چوں گرم عنانش سازی / از ازل سوئے ابد و ز ابد آید بہ ازلقطرہ کش دم رفتن چکد از پیشانی / شبنم آساش نشیند گہ رجعت بہ کفل

جوش سے کیا مراد ہے

جوش سے یہ مراد ہے کہ مضمون ایسے بے ساختہ الفاظ اور موثر پیرائے میں بیان کیا جائے جس سے معلوم ہو کہ شاعر نے اپنے ارادہ سے یہ مضمون نہیں باندھا بلکہ خود مضمون نے شاعر کو مجبور کر کے اپنے تئیں اس سے بندھوایا ہے۔

ایسا جوش شاعر کے ہر قسم کے بیان میں، عام اس سے کہ وہ خود اپنی حالت بیان کرے یا دوسرے کی، اور خوشی کا بیان کرے یا غم کا، اور تعریف کرے یا مذمت، یا نہ تعریف کرے نہ مذمت، غرضکہ اصناف مضامین میں جو کہ شعر کے پیرایہ میں بیان کیے جا سکتے ہیں، پایا جانا ممکن ہے۔ شاعر کی ذات میں ہر چیز سے متاثر ہونے، ہر شخص کی خوشی یا غم میں شریک ہونے، اور ہر ایک کے جذبات سے متکیف ہو جانے کا ایک خداداد ملکہ ہوتا ہے۔ وہ بے زبان بلکہ بے جان چیزوں کی حالت ان کی زبان حال سے ایسی بیان کر سکتا ہے کہ اگر ان میں گویائی ہوتی تو وہ بھی اپنی حالت اس سے زیادہ بیان نہ کر سکتیں۔ خاقانی نوشیرواں کی بارگاہ کے ان کھنڈروں کی زبان حال سے، جو مدائن میں اس نے اپنی آنکھ سے دیکھے، ان کی تباہی و بربادی کو اس طرح بیان کرتا ہے:

ما بارگہ دادیم، ایں رفت ستم بر ما / بر قصر ستمگاراں آیا چہ رود خذلاں

یعنی ہم جو کبھی نوشیرواں کے عدل و انصاف کی بارگاہ تھے، جب گردش روزگار نے ہمیں اس حال کو پہنچا دیا تو ظالموں کے محلوں پر کیا نوبت گذرتی ہوگی۔

فردوسی اس گفتگو کو جو یزدجرد نے سعد وقاص کے ایلچی سے کی تھی اس طرح بیان کرتا ہے:

ز شیر شتر خوردن و سوسمار / عرب را بجائے رسید ست کارکہ ملک عجم را کنند آرزو / تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو

فردوسی نے اس موقع پر، جیسا کہ اس کے بیان سے ظاہر ہے، بالکل یزدجرد کا جامہ پہن لیا ہے، اور اس کے غصہ اور جوش کی نقل کو بالکل اصل کر دکھایا ہے۔

جوش سے یہ مراد نہیں ہے کہ مضمون خواہ نخواہ نہایت زوردار اور جوشیلے لفظوں میں ادا کیا جائے۔ ممکن ہے کہ الفاظ نرم ملائم اور دھیمے ہوں، مگر ان میں غایت درجہ کا جوش چھپا ہوا ہو۔ خواجہ حافظ کہتے ہیں:

شنیدہ ام سخنے خوش کہ پیر کنعاں گفت / فراق یار نہ آں میکند کہ بتواں گفت

میر تقی کہتے ہیں:

ہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیا / دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

مگر ایسے دھیمے الفاظ میں وہی لوگ جوش کو قائم رکھ سکتے ہیں جو میٹھی چھری سے تیز خنجر کا کام لینا جانتے ہیں؛ اور اس جوش کا پورا پورا اندازہ کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو صاحب ذوق ہیں، اور جن پر بے محل ہزاروں آہیں اور نالے اتنا اثر نہیں کرتے جتنا کہ برمحل کسی کا ایک ٹھنڈا سانس بھرنا۔

حواشی

[1] مستثنیٰ صورتوں پر شعر کی بنیاد رکھنے کی مثال ایسی ہے جیسے مومن کا یہ شعر:
رہتے ہیں جمع کوچۂ جاناں میں خاص و عام / آباد ایک گھر ہے جہان خراب میں
یعنی شاعر نے معشوق کے چند خریداروں کو، جن کو بمقابلہ تمام بنی نوع کے مستثنیات میں شمار کرنا چاہیے، اس کے کوچہ میں جمع دیکھ کر یہ حکم لگایا ہے کہ سارا جہان اس کے کوچہ میں مجتمع رہتا ہے۔ اگرچہ اس کی طرز بیان سے شاعر کا لطف طبع ضرور ثابت ہوتا ہے، لیکن اثر کچھ نہیں۔ بخلاف اس کے یہی شاعر دوسری جگہ کہتا ہے:
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس / ایک وہ ہیں کہ جنھیں چاہ کے ارماں ہوں گے
اس میں اس نے ایسی عام شق اختیار کی ہے جس میں استثنا کو بہت ہی کم دخل ہے، کیونکہ ہوا و ہوس کا انجام ہمیشہ پشیمانی ہوتی ہے اور اس کی ابتدا شوق اور ارماں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ پس ہر شخص کا دل اس بات کو فوراً قبول کر لیتا ہے اور اس لیے اس سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

[2] الف لیلہ میں قاسم اور علی بابا دو نو بھائیوں کے قصہ میں ذکر ہے کہ کسی پہاڑ میں ایک غار تھا۔ قزاق لوگ ادھر ادھر سے لوٹ مار کر کے جو لاتے تھے، اسی میں جمع کر دیا کرتے تھے۔ غار کا دروازہ ہمیشہ "کھل سمسم" کہنے پر کھل جایا کرتا تھا اور "بند ہو سمسم" پر بند ہو جاتا تھا۔ ایک بار علی بابا نے چھپ کر قزاقوں کو دروازہ کھولتے اور بند کرتے دیکھ لیا۔ جب وہ چلے گئے تو اسی ترکیب سے اس نے دروازہ کھولا اور بہت سا مال و اسباب وہاں سے گدھوں پر لاد کر لے آیا۔ قاسم کو خبر ہوئی تو وہ بھی اس سے دروازہ کھولنے کا منتر سیکھ کر وہاں پہنچا۔ جب کوئی وہ دروازہ کھول کر اندر جاتا تھا تو کواڑ خود بخود بند ہو جایا کرتے تھے اور پھر اسی منتر سے کھلتے تھے۔ قاسم اندر گیا تو وہ منتر یاد تھا، جب مال لے کر باہر آنا چاہا تو سمسم بھول گیا؛ اس کی جگہ "کھل جو" یا "کھل گیہوں" کہنے لگا۔ دروازہ نہ کھلا، یہاں تک کہ قزاق آ پہنچے اور قاسم کو قتل کر ڈالا۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.