Urdu in Translation
Search

Chapter 12 of 13

The Masnavi

مثنوی

Altaf Husain Hali

Script
Size

مثنوی

مثنوی اصناف سخن میں سب سے زیادہ مفید اور بکارآمد صنف ہے، کیونکہ غزل یا قصیدہ میں اس وجہ سے کہ اول سے آخر تک ایک قافیہ کی پابندی ہوتی ہے، ہر قسم کے مسلسل مضامین کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ مسدس میں یہ دقت ہے کہ ہر بند میں چار قافیے ایک طرح کے اور دو ایک طرح کے لانے پڑتے ہیں؛ پس اس میں مسلسل مضامین ایسی خوبی سے بیان کرنے کہ مطالب برابر بے کم و کاست ادا ہوتے چلے جائیں اور قافیوں کی نشست اور روزمرہ کا سر رشتہ ہاتھ سے نہ جائے، ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ ترجیع بند بھی مسلسل مضامین کی گوں نہیں ہے، کیونکہ اس میں ہر بند کے آخر وہی ایک ترجیع کا شعر بار بار آتا ہے جو سلسلۂ کلام کو منقطع کر دیتا ہے۔ ترکیب بند کے اگر تمام بندوں میں بیتوں کی تعداد برابر رکھی جائے تو بھی ایسی ہی دقت پیش آتی ہے، کیونکہ اس کے ایک بند میں صرف ایک پوائنٹ عمدگی سے بیان ہو سکتا ہے، لیکن ہر پوائنٹ کی وسعت یکساں نہیں ہوتی بلکہ کم و بیش ہوتی ہے؛ پس ضرور ہے کہ بند بھی چھوٹے بڑے ہوں؛ ممکن ہے کہ ایک بند دو تین بیت کا ہو اور دوسرا پندرہ بیس بیت کا، اور یہ بات اس تناسب کے برخلاف ہے جو شعر کا جزو اعظم ہے۔

الغرض جتنی صنفیں فارسی اور اردو شاعری میں متداول ہیں ان میں کوئی صنف مسلسل مضامین کے بیان کرنے کے قابل مثنوی سے بہتر نہیں ہے۔ یہی وہ صنف ہے جس کی وجہ سے فارسی شاعری کو عرب کی شاعری پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔ عرب کی شاعری میں مثنوی کا رواج نہ ہونے یا نہ ہو سکنے کے سبب تاریخ یا قصہ یا اخلاق یا تصوف میں ظاہرا ایک کتاب بھی ایسی نہیں لکھی جا سکی جیسی فارسی میں سیکڑوں بلکہ ہزاروں لکھی گئی ہیں۔ اسی لیے عرب شاہنامہ کو قرآن العجم کہتے ہیں، اور اسی لیے مثنوی معنوی کی نسبت "ہست قرآں در زبان پہلوی" کہا گیا ہے۔

اردو میں چند چھوٹی چھوٹی عشقیہ مثنویوں کے سوا اخلاق یا تاریخ وغیرہ میں ظاہرا آج تک کوئی چھوٹی یا بڑی مثنوی کسی مسلم الثبوت استاد نے نہیں لکھی۔ عشقیہ مثنویوں کا حال بھی جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں اس زمانہ کے مقتضیٰ اور مذاق سے بمراحل دور تر اور بعید تر ہے۔ جو قصے ان مثنویوں میں بیان کیے گئے ہیں ان میں قطع نظر اس کے کہ ناممکن اور فوق العادہ باتیں اور حد سے زیادہ مبالغہ اور غلو بھرا ہوا ہے، اکثر مثنویوں میں شاعری کے فرائض بھی پورے پورے ادا نہیں ہوئے۔ مثنوی میں علاوہ ان فرائض کے جو غزل یا قصیدے میں واجب الادا ہیں کچھ اور شرائط بھی ہیں جن کی مراعات نہایت ضروری ہے۔ ازانجملہ ایک ربط کلام ہے، جو کہ مثنوی اور ہر مسلسل نظم کی جان ہے۔ غزل اور قصیدہ میں ایک شعر کو دوسرے شعر سے جیسا کہ ظاہر ہے کچھ ربط نہیں ہوتا، الا ماشاء اللہ؛ بخلاف مثنوی کے، کہ اس میں ہر بیت کو دوسری بیت سے ایسا تعلق ہونا چاہیے جیسے زنجیر کی ہر کڑی کو دوسری کڑی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے جن لوگوں کی طبیعت پر غزلیت کا رنگ غالب آ جاتا ہے ان سے مثنوی کے فرائض اچھی طرح انجام نہیں ہو سکتے۔ باورچیوں میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ پتیلی پکانے والے سے دیگ اچھی نہیں پک سکتی۔ جو نسبت پتیلی کو دیگ کے ساتھ ہے وہی نسبت غزل کو مثنوی کے ساتھ ہے۔ جس طرح پتیلی پکانے والے کو دیگ کے نمک پانی اور آنچ کا اندازہ معلوم نہیں ہو سکتا، اسی طرح جو لوگ غزل میں منہمک ہو جاتے ہیں اور ان پر غزلیت کا رنگ چڑھ جاتا ہے وہ مثنوی کی ترتیب اور انتظام سے اکثر عہدہ برآ نہیں ہوتے۔

جس نظم میں کوئی تاریخی واقعہ یا کوئی فرضی قصہ بیان کیا جاتا ہے اس میں مضمون آفرینی اور بلند پروازی کی کچھ ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ مطالب ایسی صفائی سے ادا کیے جائیں کہ اگر انھیں مطالب کو نثر میں بیان کیا جائے تو نثر کا بیان نظم سے کچھ زیادہ واضح اور صاف اور مربوط نہ ہو؛ البتہ نظم کا بیان نثر سے صرف اس قدر ممتاز ہونا چاہیے کہ نظم کی طرز بیان نثر سے زیادہ موثر اور دلکش و دلاویز ہو۔

پس مثنوی لکھنے والے کا سب سے مقدم فرض یہ ہے کہ بیتوں اور مصرعوں کی ترتیب ایسی سنجیدہ ہو کہ ہر مصرع دوسرے مصرع سے اور ہر بیت دوسری بیت سے چسپاں ہوتی چلی جائے، اور دونو کے بیچ میں کہیں ایسا کھانچا باقی نہ رہ جائے کہ جب تک کچھ عبارت مقدر نہ مانی جائے تب تک کلام جیسا کہ چاہیے مربوط اور منتظم نہ ہو۔ مثلاً گلزار نسیم میں کہتا ہے:

خوش ہوتے تھے طفل مہ جبیں سے / ثابت یہ ہوا ستارہ بیں سےپیارا یہ وہ ہے کہ دیکھ اسی کو / پھر دیکھ نہ سکیے گا کسی کو

جو مطلب کہ صاحب مثنوی ادا کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ "لوگ تو اس طفل مہ جبیں کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے، مگر نجومیوں نے بادشاہ سے یہ کہا کہ یہ لڑکا آپ کو پیارا تو ہے مگر یہ ایسا پیارا ہے کہ اس کو دیکھ کر پھر کسی کو نہ دیکھ سکیے گا، کیونکہ اس کو دیکھتے ہی بینائی جاتی رہے گی"۔ ظاہر ہے کہ ان دونو بیتوں میں جب تک کہ کئی لفظ بڑھائے اور کئی لفظ بدلے نہ جائیں تب تک یہ مطلب جو ہم نے اوپر بیان کیا ان بیتوں سے سیدھی طرح نہیں نکل سکتا؛ اور پہلا مصرع دوسرے مصرع سے اور دوسرا مصرع تیسرے مصرع سے چسپاں نہیں ہو سکتا۔ یا مثلاً اسی مثنوی میں ہے:

نور آنکھ کا کہتے ہیں پسر کو / چشمک تھی نصیب اس پدر کو

مطلب یہ ہے کہ بیٹا باپ کی آنکھ کا نور ہوتا ہے، مگر یہ بیٹا باپ کی آنکھوں کے لیے ظلمت تھا؛ پس جب تک دوسرے مصرع کے الفاظ بدلے نہ جائیں کلام مربوط نہیں ہو سکتا۔ یا مثلاً:

آتا تھا شکار گاہ سے شاہ / نظارہ کیا پدر نے ناگاہ

یہ دونو مصرعے بھی مربوط نہیں ہیں، کیونکہ ظاہر الفاظ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ شاہ اور شخص ہے اور پدر اور شخص ہے، حالانکہ پدر اور شاہ سے ایک ہی شخص مراد ہے؛ پس دوسرا مصرع یوں ہونا چاہیے: "بیٹے پہ پڑی نگاہ ناگاہ"۔

(۱) بہرحال مثنوی میں ربط کلام کا لحاظ رکھنا، خاص کر جب کہ اس میں تاریخ یا قصہ بیان کیا جائے، نہایت ضرور ہے۔

(۲) دوسری نہایت ضروری بات یہ ہے کہ جو قصہ مثنوی میں بیان کیا جائے اس کی بنیاد ناممکن اور فوق العادہ باتوں پر نہ رکھی جائے۔ اگرچہ قصوں اور کہانیوں میں ایسی باتیں بیان کرنے کا دستور نہ صرف ایشیا میں بلکہ کم و بیش تمام دنیا میں قدیم سے چلا آتا ہے، اور جب تک کہ انسان کا علم محدود تھا ایسی باتوں کا اثر لوگوں کے دل پر نہایت قوت کے ساتھ ہوتا تھا؛ لیکن اب علم نے اس طلسم کو توڑ دیا ہے۔ اب بجائے اس کے کہ ان باتوں کا لوگوں کے دل پر کچھ اثر ہو، اور ان پر ہنسی آتی ہے اور ان کی حقارت کی جاتی ہے، اور بعوض اس کے کہ ان سے کچھ تعجب پیدا ہو، شاعر کی حماقت اور سادہ لوحی معلوم ہوتی ہے۔ اب شاعر یا ناولسٹ کی لیاقت اس سے ثابت ہوتی ہے کہ جو مرحلے پہلے محالات کے ذریعہ سے طے کیے جاتے تھے اور جن کا عادۃً طے ہونا ناممکن معلوم ہوتا تھا، ان کو علم اور فلسفہ کے موافق نہایت آسانی کے ساتھ طے کر جائے۔ مثلاً شاہنامہ میں جہاں رستم اور سہراب کو لڑایا ہے، وہاں فردوسی یا اصل قصہ بنانے والے کو دو متضاد باتیں ثابت کرنی منظور ہیں: ایک سہراب کا رستم سے بہت زیادہ قوی اور تنومند ہونا، دوسرے رستم کے ہاتھ سے آخر کار اس کو قتل کرانا۔ پہلی بات تو اس نے اس طرح ثابت کی ہے کہ پہلے مقابلہ میں سہراب سے رستم کو پچھڑوایا ہے؛ مگر اب دوسری بات بغیر اس کے ثابت نہیں ہو سکتی کہ رستم میں غیر معمولی طاقت خود بخود پیدا ہو جائے۔ پس اس غرض کے لیے یہ بات گھڑی گئی کہ رستم نے جوانی میں جبکہ وہ اپنی طاقت اور زور سے تنگ آ گیا تھا خدا سے دعا کی تھی کہ میری طاقت کم ہو جائے، چنانچہ اس کی اصلی طاقت بہت کم ہو گئی تھی؛ اب سہراب سے مغلوب ہو کر اس نے پھر دعا کی کہ میری اصلی طاقت مجھ کو مل جائے، چنانچہ اس کی اصلی طاقت جو خدا کے ہاں امانت رکھی تھی اس کو واپس مل گئی، اور دوسرے یا تیسرے مقابلہ میں وہ سہراب پر غالب آ گیا۔ لیکن اس زمانہ میں ایسے ڈھکوسلوں سے کچھ کام نہیں چلتا۔ آج کل کسی کو ایسا مرحلہ پیش آئے تو وہ اس کو اس طرح طے کر سکتا ہے کہ رستم جو کسی سے مغلوب نہ ہوا تھا اور جس کی شہرت تمام ایران اور توران میں ضرب المثل تھی، ایک لونڈے کے ہاتھ سے پچھڑ کر اس کی غیرت سخت جوش میں آئی، اور اپنی عمر بھر کی ناموری اور عزت قائم رکھنے کا ولولہ اس کے دل میں نہایت زور کے ساتھ متحرک ہوا؛ گو وہ طاقت میں سہراب سے بہت کم تھا، مگر سپہگری کے کرتبوں اور تجربوں میں سہراب کو اس سے کچھ نسبت نہ تھی؛ لہٰذا دوسرے یا تیسرے مقابلہ میں جوش غیرت اور پاس عزت اور فن سپہگری کی مشاقی سے اس نے سہراب کو مار رکھا۔

رہی یہ بات کہ اخلاقی مضامین جو اکثر قدیم زمانہ کے نامور شعرا نے سو پر نیچرل باتوں کے پیرایہ میں بیان کیے ہیں، یا اب شایستہ ملکوں میں بیان کرتے ہیں، یہ ایک دوسرا عالم ہے۔ ان کا مطلب ایسے پیرائے اختیار کرنے سے اخلاقی نتائج نکالنے اور کلام کو تعجب انگیز کر کے اس میں اثر پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ناممکن باتوں کا لوگوں کو یقین دلانا اور ان کو واقعات کا لباس پہنانا۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص جانوروں کے پیرایہ میں خصائل انسانی ظاہر کرتا ہے اور ان سے اخلاقی نتائج استخراج کرتا ہے، اور دوسرا شخص بغیر اس مقصد کے جانوروں کی حکایتیں اس طرح بیان کرتا ہے کہ گویا وہ ان میں فی الواقع تمام خصائل انسانی ثابت کرنا اور لوگوں کو ان کا یقین دلانا چاہتا ہے؛ اس میں اور اس میں بہت بڑا فرق ہے۔ پس ایسے بے سر و پا قصے لکھنے سے خاص کر اس زمانہ میں اجتناب کرنا چاہیے۔

(۳) مبالغہ کو اہل بلاغت نے صنائع معنوی اور محسنات کلام میں شمار کیا ہے، مگر افسوس ہے کہ اس کی لے بڑھتے بڑھتے اب وہ اس درجہ کو پہنچ گیا ہے کہ کلام کو بے قدر و سبک اور کم وزن کر دیتا ہے۔ انتہا سے انتہا درجہ کا مبالغہ بھی اس سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو کچھ کسی چیز کی تعریف یا مدح یا ذم میں کہا جائے گو وہ اس چیز کے حق میں صحیح نہ ہو مگر کسی نہ کسی چیز پر صادق آ سکتا ہو، نہ یہ کہ دنیا میں کوئی چیز اس کی مصداق نہ ہو۔ اور مبالغہ کی غایت یہ ہونی چاہیے کہ جو مطلب بیان کرنا منظور ہے مبالغہ کے سبب سے اس کا اثر سامع کے دل پر نہایت قوت کے ساتھ ہو، نہ یہ کہ اس کا رہا سہا یقین بھی جاتا رہے۔ مثلاً کسی پر رونق بازار کی نسبت ایک تو یہ کہنا کہ "وہاں صبح سے شام تک کٹورا بجتا ہے" (اگرچہ وہاں کسی وقت بھی کٹورا بجتا ہو)؛ اور ایک اس کی تعریف اس طرح کرنی:

رات دن جگمگھٹا ہے میلا ہے / مہر و مہ کا کٹورا بجتا ہے

یا مثلاً ایسے بازار کی نسبت ایک تو یہ کہنا کہ "وہاں چھڑکاؤ سے ہر وقت زمین نم رہتی ہے"، اور ایک یہ کہ "وہاں گلاب اور کیوڑے کا نہیں بلکہ آب گوہر کا چھڑکاؤ ہوتا ہے"۔ پس آج کل ایسے مبالغے باعث شرم سمجھے جاتے ہیں، اور بجائے اس کے کہ ان سے سامع کے دل میں کوئی نقش بیٹھے یا شاعر کی لیاقت ظاہر ہو، ان کی لغویت اور بے سلیقگی پائی جاتی ہے۔

(۴) مقتضائے حال کے موافق کلام ایراد کرنا، خاص کر قصہ کے بیان میں، ایسا ضروری ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو بلاغت کا بھید صرف اسی بات میں چھپا ہوا ہے۔ یہ ایک نہایت وسیع بحث ہے، مگر ہم یہاں صرف چند مثالیں دے کر اس مطلب کو ناظرین کے ذہن نشین کرنا چاہتے ہیں۔

مثلاً مثنوی طلسم الفت میں اس موقع پر جب کہ بادشاہ عشق آباد کی طرف سے شیدا وزیر اپنے شہزادہ کے لیے نسبت کا پیغام لے کر شہر حسن آباد میں شاہانہ جاہ و حشم کے ساتھ پہنچا ہے، اور حسن آباد کے بادشاہ نے اس کے آنے کی خبر سن کر اپنے وزیر کو اس سے گفتگو کرنے کے لیے بھیجا ہے، وہاں صاحب مثنوی اس طرح بیان کرتا ہے:

جاتے ہی اس نے قرب شہر پناہ / خیمہ اپنا کیا بہ شوکت و جاہ
بسکہ دانائے روزگار تھا وہ / مرد میدان کارزار تھا وہ
رعب پہلے ہی سے بٹھانے کو / صولت و دبدبہ دکھانے کو
کی اسی روز لشکر آرائی / کثرت فوج سب کو دکھلائی
خبر آمد کی اس کی عام ہوئی / خلق دہشت زدہ تمام ہوئی
اتنے میں واں کے شہریار کو بھی / خبر اس کے ورود کی گذری
کہ کسی شہہ کا کوئی سردار / لے کے ہمراہ لشکر بسیار
آ کے اترا ہے قرب شہر پناہ / مستعد جنگ پہ ہے وہ ذی جاہ
سنتے ہی وہ کمال گھبرایا / وزرا کو بلا کے فرمایا
دیکھو تو کس کا لشکر اترا ہے / کون ہم پر غنیم آیا ہے
الغرض اک وزیر باتدبیر / اپنی ہمراہ لے کے فوج کثیر
تھا فروکش جہاں وہ ہم پایہ / واں ملاقات کے لیے آیا
سنتے ہی پاس یہ کیا اس نے / بے تکلف بلا لیا اس نے
تا لب فرش لینے کو آیا / مل کے پہلو میں اپنے بٹھلایا
پہلے تو ذکر ادھر ادھر کا رہا / بعد اک طور سے یہ اس نے کہا
کہ جہاں دار جو ہمارا ہے / اس فلک قدر نے یہ پوچھا ہے
آپ نے کی ہے کیوں ادھر تکلیف / کس ارادہ سے لائے ہیں تشریف
سیر کا عزم ہے تو گھر ہے یہ / ہر مسافر کا رہگذر ہے یہ
دل میں گر اور کچھ ارادہ ہو / تو میں باہر نہیں ابھی آؤ
فقط اتنی ہی دیکھتا تھا میں راہ / دیر پھر کس لیے ہے بسم اللہ

اس بیان میں قطع نظر لفظی کمزوریوں کے بڑی کسر یہی ہے کہ کلام مقتضائے حال کے موافق ایراد نہیں کیا گیا۔ تاریخ کے بیان میں مورخ خود واقعات کے قبضہ میں ہوتا ہے، اور قصہ میں واقعات اس کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ تاریخ میں جس واقعہ کی صحت بخوبی ثابت ہو جائے اس کی جوابدہی مورخ کے ذمہ باقی نہیں رہتی، البتہ اس کا یہ فرض ہے کہ اس کے اسباب کا تفحص کرے اور بتائے کہ کیوں ایسا واقع ہوا؛ بخلاف قصہ کے، کہ اس کے بیان میں جو بے ربطی پائی جائے گی اس کا ذمہ دار خود قصہ کا بنانے والا ہے۔ اول تو نسبت کے پیغام کو پہلے خط و کتابت کے ذریعہ سے طے نہ کرنا، اور دفعۃً وزیر اور شاہزادہ کے ساتھ ایک لشکر جرار روانہ کر دینا؛ پھر وزیر کا فوج کثیر لے کر اور مہینوں کا رستہ طے کر کے حسن آباد کی شہر پناہ تک پہنچ جانا، اور بادشاہ حسن آباد کو اس کے حال اور اس کے ارادہ کی مطلق خبر نہ ہونی؛ پھر اس کا حال دریافت کرنے کے لیے بادشاہ کا وزیر کو مع فوج کثیر کے بھیجنا؛ پھر وزیر کا بادشاہ کی طرف سے مہمان کے ساتھ ایسی گفتگو کرنا جیسی کہ بازاریوں میں ہوتی ہے، یعنی یہ کہ "اگر کچھ اور ارادہ ہو تو میں اس سے بھی باہر نہیں ہوں، میں بس اتنی ہی راہ دیکھتا تھا، اب دیر کیا ہے، بسم اللہ"، بالکل مقتضائے مقام کے خلاف ہے۔

اس کے بعد شیدا وزیر بادشاہ عشق آباد کی طرف سے نسبت کا پیغام دینے کے بعد کہتا ہے:

جاہ و حشمت کا کچھ اگر ہو خیال / تو یہ بیجا ہے اے ہمایوں فال
آپ ہیں اپنے شہر کے سلطاں / بندہ ہے تاج بخش باج ستاں
دل میں انصاف کیجیے تو صریح / ہر طرح سے ہے بندہ کو ترجیح
کہ میں سلطان خسرواں ہوں آج / بلکہ شاہنشہ جہاں ہوں آج
میرے قبضے میں ہیں کئی اقلیم / بخشتا ہوں میں افسر و دیہیم
مجھ کو دی ہے خدا نے وہ طاقت / وہ مرا دبدبہ ہے اور صولت
آج چاہوں تو باج دے قاروں / ربع مسکوں پہ سکہ بٹھلاؤں
زور دکھلانے پر میں آؤں اگر / چھین لوں تاج خسرو خاور
میں دلاور وہ ہوں وہ ہوں سفاک / ہفت اقلیم میں ہے جس کی دھاک
سرکش آ آ کے پاؤں پڑتے ہیں / ناک در پر مرے رگڑتے ہیں

اس بیان کی بے ربطی بھی ظاہر ہے کہ وزیر نے جس بادشاہ کی طرف سے نسبت کا پیغام دیا ہے اور جس کا منصب عجز و انکسار کرنے کا ہے، اس کی طرف سے ایسی نامعقول گیدڑ بھبکیاں دیتا ہے۔ اس کے بعد جب وزیر حسن آباد شیدا کی تقریر سن کر اپنے بادشاہ کے پاس واپس گیا ہے، اور وہاں جا کر اس نے شیدا کی تقریر کا اعادہ کیا ہے، تو بادشاہ حسن آباد اس کے جواب میں کہتا ہے:

ہاں کہو جلد فوج ہو تیار / مابدولت کے لاؤ تو ہتھیار
دیکھیں تو کتنا حوصلہ ہے اسے / ہم سے عزم مقابلہ ہے اسے
لوہا دکھلانے کو یہ آیا ہے / ہم کو کیا موم کا بنایا ہے
بادشاہ اس کا کیا ہے یہ کیا ہے / کثرت فوج پر یہ بھولا ہے

یہ تمام تقریر ایسی سبک اور کم وزن ہے کہ ہرگز کسی بادشاہ کے منہ سے زیب نہیں دیتی، بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بادشاہ کی حماقت ظاہر کرنے کے لیے کوئی شخص اس کی نقل اتار رہا ہے۔ پھر جب امیروں نے بادشاہ کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا ہے تو وزیر بادشاہ کی طرف سے شیدا کے پاس یہ مصالحت آمیز پیغام لے کر چلا ہے:

یہ تعلی جو آپ کرتے ہیں / اتنا جرأت کا دم جو بھرتے ہیں
سابقہ ہو تو حال کھل جائے / ادھر آؤ تو حال کھل جائے
گو کہ میں تم سا خود پسند نہیں / سیکڑوں سے بھی پر میں بند نہیں
سر بھی جائے تو یہ قدم نہ ہٹیں / ٹل بھی جائے زمیں تو ہم نہ ہٹیں
یاں تو رستم سے بھی نہیں ڈرتے / شیر سے بھی جری نہیں ڈرتے
کیا کروں پاس ہے شریعت کا / دھیان ہے دوستی و الفت کا
شرم ہے میہماں کے آنے کی / رسم بھی ہے یہی زمانے کی
ورنہ سیر آپ کو دکھا دیتا / سب گھمنڈ آپ کا مٹا دیتا

یہاں تک خود بادشاہ کا پیغام بادشاہ کی طرف ہے۔ ان تمام ابیات میں الفاظ و محاورات کی لغزشوں سے ہم کچھ بحث نہیں کرتے، البتہ ہم کو یہ دکھانا منظور ہے کہ کلام بالکل مقتضائے حال کے برخلاف ایراد کیا گیا ہے۔ اسی داستان پر کچھ موقوف نہیں ہے؛ اس مثنوی میں کہیں بھی اس بات کا خیال نہیں کیا گیا کہ جیسا موقع ہو ویسی گفتگو کی جائے۔ اس داستان سے پہلے جہاں بادشاہ حسن آباد اور اس کی بڑھیا ملکہ بیٹیوں کے عقد کے باب میں باہم مشورہ کر رہے ہیں، اس طرح بیان کرتا ہے:

ایک دن بادشاہ حسن آباد / اندرون محل تھا بادل شاد
اپنی بی بی سے گرم خلوت تھا / محو راحت تھا مست عشرت تھا
اس پریرو نے تخلیہ پا کر / عرض کی اختلاط میں آ کر
لڑکیوں کا نہیں کچھ آپ کو دھیاں / ہو چکی ہیں سلامتی سے جواں
اور باتوں کا تو نہیں کچھ غم / ہاں مگر یہ خیال ہے ہر دم
کہ میں بیٹھی ہوئی ہوں پا بہ رکاب / طاقت جسم دے چکی ہے جواب
سب مہیا ہیں کوچ کے ساماں / اور دو چار دن کی ہوں مہماں
کچھ ہی دن اب سفر میں باقی ہیں / ان کا سہرا تو دیکھ لیتی میں
سن کے کہنے لگا وہ عالی جاہ / تیرے کہنے ہی تک ہے کیا اے ماہ
بخدا خود خیال ہے مجھ کو / جستجو بھی کمال ہے مجھ کو
مجھ کو غیروں میں تو قبول نہیں / ان سے جز رنج کچھ حصول نہیں
یہ بھی بالفرض گر کروں منظور / تو یہ مجھ سے کبھی نہ ہووے حور

اس تقریر میں بھی اکثر الفاظ بالکل بے محل اور بے موقع استعمال ہوئے ہیں۔ بادشاہ خود شیخ فانی ہے اور اس کی ملکہ بھی عجوزۂ سالخوردہ ہے؛ وہ خود جا بجا کہتی ہے کہ میں پا در رکاب بیٹھی ہوں، اور چناں ہوں اور چنیں ہوں؛ باوجود اس کے ایسے الفاظ استعمال کرنے کہ "اپنی بی بی سے گرم خلوت تھا"، یا "محو راحت اور مست عشرت تھا"، یا "اس پریرو" یعنی بڑھیا نے "اختلاط میں آ کر عرض کی"، یا بادشاہ کا اپنی بڑھیا ملکہ کو کہیں "اے ماہ" اور کہیں "اے حور" کہنا، یہ سب باتیں مقتضائے حال کے خلاف ہیں۔

ایک جگہ جب کہ شاہزادہ کو غش آ گیا ہے، اور یہی بڑھیا ملکہ جو اس کی ماں ہے محل کے اندر گھبرا رہی ہے اور بار بار اس کی خبر باہر سے منگواتی ہے، ایک خواص باہر سے یہ کہتی آئی ہے:

لوگو بتلاؤ تو کہاں ہیں حضور / کہہ دو کیا بیٹھی کرتی ہو اے حور

پھر تھوڑی دیر کے بعد اور نوکریں آ کر یہ کہتی ہیں:

دوڑ سی دوڑ ہو رہی ہے حضور / باہر اندر یہی ہے ذکر اے حور

دونو جگہ ایک مصرع میں ملکۂ سالخوردہ کو حضور اور دوسرے مصرع میں اے حور کہنا، اور پھر نوکروں کا، اور وہ بھی نہایت تشویش کی حالت میں کہنا، بالکل مقتضائے حال کے خلاف ہے۔

نواب مرزا شوق لکھنوی نے جو چار مثنویاں یعنی بہار عشق، زہر عشق، لذت عشق اور فریب عشق لکھی ہیں، اگرچہ ان کو روزمرہ اور محاورہ کی صفائی، قافیوں کی نشست، ترکیبوں کی چستی اور مصرعوں کی برجستگی کے لحاظ سے میں تمام اردو کی موجودہ مثنویوں سے بہتر سمجھتا ہوں، لیکن قطع نظر اس کے کہ وہ حد سے زیادہ امورل اور خلاف تہذیب ہیں، ان میں بھی مقتضائے حال کے موافق ایراد کلام کا بہت کم لحاظ کیا گیا ہے۔ مثلاً لذت عشق میں اس موقع پر جہاں بادشاہزادہ اور وزیرزادہ اپنے ساتھ والوں سے بچھڑ کر کسی باغ میں دم لینے کو ٹھیرے ہیں، اور رستے کی تکان سے ایک چبوترہ پر پڑ کے سو رہے ہیں، وہاں اس شہر کی شاہزادی جو باغ کی مالک ہے اور اس کے ساتھ وزیرزادی دونو باغ کی سیر کو آئی ہیں، اور ان دونو سوتوں کے سر پر جا کھڑی ہوئی ہیں، اور ایسے قہقہے لگائے ہیں کہ وہ جاگ اٹھے ہیں۔ اس وقت شاہزادہ نے جو دیکھا کہ شام ہو گئی ہے وہ وہاں سے چلنے کا ارادہ کرتا ہے، اور بادشاہزادی اس سے اس طرح گفتگو کرتی ہے:

کہا ہنس کے ملکہ نے اے مہ جبیں / مجھے تیری فرقت گوارا نہیں
مرا کہنا اس وقت کا مان لے / نہیں جان دے دوں گی یہ جان لے
خدارا نہ ٹالو مری بات کو / یہیں آج رہ جاؤ اب رات کو

اس کے بعد وزیرزادہ ملکہ سے کہتا ہے کہ اگر آپ میری اک عرض قبول کر لیں تو نہ میں قدموں سے جدا ہوں گا اور نہ شاہزادہ یہاں سے جائے گا۔ اس کے بعد کہتا ہے:

کھڑی ہے جو یہ پاس دخت وزیر / حقیقت میں ہے یہ نہایت شریر
انیلا پن اس کا مجھے بھا گیا / کروں کیا دل اس پر مرا آ گیا
مجھے اس کو دے دیجیے گر حضور / تو ساری حرمزدگی ہو جائے دور

یہ سن کر دخت وزیر، وزیرزادہ سے کہتی ہے:

سمجھنا نہ دل میں ذرا مجھ کو نیک / سناؤں گی سو گر کہے گا تو ایک
نہ ملکہ کی باتوں پہ مغرور ہو / ہوا کھا ذرا چل پرے دور ہو
ذرا ہوش کی لے تو اپنے خبر / میں جوتی نہ ماروں ترے نام پر

اول تو عورت ذات، دوسرے بادشاہزادی، پھر پہلی ملاقات؛ اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ شاہزادہ پر مائل ہو گئی ہے اور اس کو اپنے اوپر مائل کرنا چاہتی ہے۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ وہ بیسوا ہی ہے، تو بھی اس کی گفتگو ایک محض اجنبی مرد کے ساتھ ایسی کھلی ڈلی اور بے حجابانہ، یا شوق کا اظہار ایسے تقاضے کے ساتھ کہ جس سے دوسرے کو نفرت ہو جائے، کس قدر بے محل اور بے موقع ہے۔ پھر وزیرزادہ کی پہلی ہی گفتگو دخت وزیر کی نسبت ایسی عامیانہ، اور عشق کا اظہار ایسے بھونڈے پن کے ساتھ؛ اور پھر دخت وزیر کا کٹنیوں کی طرح جواب دینا؛ یہ تمام باتیں بلاغت کے بالکل خلاف ہیں۔ میر حسن نے بدر منیر میں بعینہ ایسے ہی موقع پر، یعنی جبکہ پہلے ہی پہل بے نظیر بدر منیر کے باغ میں آیا ہے اور بدر منیر اس کو دیکھ کر فریفتہ ہو گئی ہے، یوں بیان کیا ہے:

کہ وہ نازنیں کچھ جھجک منہ چھپا / کمر اور چوٹی کا عالم دکھا
چلی اس کے آگے سے منہ موڑ کر / وہیں نیم بسمل اسے چھوڑ کر
ادائیں سب اپنی دکھاتی چلی / چھپا منہ کو اور مسکراتی چلی
"یہ ہے کون کم بخت آیا یہاں / میں اب چھوڑ گھر اپنا جاؤں کہاں"
یہ کہتی ہوئی آن کی آن میں / چھپی جا کے اپنے وہ دالان میں
دیا ہاتھ سے چھوڑ پردہ شتاب / چھپا ابر تاریک میں آفتاب

اس بیان میں شوق کے بیان کی نسبت موقع اور محل کا جیسا کہ ظاہر ہے زیادہ خیال کیا گیا ہے۔ اس کے بعد عین ملاقات کے وقت بھی میر حسن کے بیان میں شرم و حجاب کا بہت لحاظ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس موقع کو اس طرح بیان کرتا ہے:

بزور اس کو لا کر بٹھایا جو واں / نہ پوچھ اس گھڑی کی ادا کا بیاں
وہ بیٹھی عجب ایک انداز سے / بدن کو چرائے ہوئے ناز سے
منہ آنچل سے اپنا چھپائے ہوئے / لجائے ہوئے شرم کھائے ہوئے
پسینے پسینے ہوا سب بدن / کہ جوں شبنم آلودہ ہو یاسمن
گھڑی دو تلک وہ مہ و آفتاب / رہے شرم سے پائے بند حجاب

(۵) جو حالت کسی شخص یا کسی چیز یا مکان وغیرہ کی بیان کی جائے وہ لفظاً اور معنیً نیچرل اور عادت کے موافق ایسی ہونی چاہیے جیسی کہ فی الواقع ہوا کرتی ہے۔ اس موقع پر ہم بطور مثال کے شوق اور میر حسن دونو کی مثنویوں سے کچھ کچھ اشعار نقل کرتے ہیں۔ شوق جدائی کے زمانہ میں ملکہ کی حالت اس طرح بیان کرتا ہے:

نہ رونے سے دم بھر تامل کیا / نہ خاصہ بھی دن بھر تناول کیا
یہ نقشہ چمن کا مبدل ہوا / کہ گلزار جو تھا وہ جنگل ہوا
وہ آتشکدہ سب چمن گل کا تھا / صدا سوز کی نالۂ بلبل کا تھا
دکھائی دیا یوں وہ نہر و تالاب / کہ ملکہ کی گویا ہے چشم پر آب
تھے رقاص طاؤس جو باغ کے / نمونہ تھے ملکہ کے ہر داغ کے
لگے خوشے جو حسب دستور تھے / وہ سب زخم ملکہ کے انگور تھے
شجر جتنے تھے صورت غم تھے سب / جو تھے سرو وہ نخل ماتم تھے سب
صبا نے چمن میں اڑائی تھی خاک / دل ملکہ تھا مثل گل چاک چاک
ہوا دن تو رونے میں اس کا بسر / قیامت مگر رات آئی نظر
نہ پہلو میں پایا جو اس یار کو / ہوا صدمہ اک جان بیمار کو
ذرا یاد بھولی نہ اس ماہ کی / جو کروٹ بھی لی دل سے اک آہ کی
نظر آ گیا چاندنی میں جو باغ / ہوا تازہ اس غم سے اک دل پہ داغ
ہوا ٹھنڈی ٹھنڈی جو چلنے لگی / یہ فرقت کی آتش سے جلنے لگی
سحر تک دل اس کا بھٹکتا رہا / کہ پہلو میں کانٹا کھٹکتا رہا
تصور جو تھا اس گل اندام کا / کوئی پہلو نکلا نہ آرام کا
تڑپتی تھی پر سنج جاتا نہ تھا / کسی طرح آرام آتا نہ تھا
خدا کھو دے بنیاد اس چاہ کی / جدھر پھر گیا منہ ادھر آہ کی
کبھی ہو گئے دونو رخسار زرد / کبھی ہو گئے دست و پا دونو سرد
کبھی رنگ رخ کے بدلنے لگے / کبھی شعلے منہ سے نکلنے لگے
کبھی ضبط وہ چاہ کرنے لگی / کبھی چیخ کر آہ کرنے لگی
کبھی جان جینے سے عاری ہوئی / کبھی غش کی صورت سی طاری ہوئی
نہ نیند آئی ہرگز سحر ہو گئی / یہ شب اس کے غم میں بسر ہو گئی
اڑے آشیانوں سے اپنے پرند / ہوئی بانگ اللہ اکبر بلند
ہوا پھر تو یہ شاہزادی کا حال / کہ گھٹ کر ہو جوں ماہ کامل ہلال
تلاطم میں شب بھر طبیعت رہی / نہ رنگت رہی وہ نہ صورت رہی
بہت آ گیا فرق اوقات میں / وہ کھسیانا ہو جانا ہر بات میں
وہ گرمی سے رخ تمتمایا ہوا / وہ رونے سے منہ بھر بھرایا ہوا
وہ سوجی ہوئی برنیاں اور گال / وہ آنکھوں میں ڈورے پڑے لال لال
غرض کیا بیاں ہو کہ جو حال تھا / جو دیکھے وہ روئے یہ احوال تھا

اگرچہ اس نظم میں اول کی چند بیتوں کے سوا سارا بیان بہت صاف اور نیچرل ہے، مگر میر حسن نے شوق سے تقریباً ستر برس پہلے، جب کہ زبان اردو کی ابتدائی حالت تھی، اسی مقام کا سماں اس سے زیادہ نیچرل طور پر باندھا ہے۔ وہ کہتا ہے:

خفا زندگانی سے ہونے لگی / بہانے سے جا جا کے سونے لگی
ٹھہرنے لگا جان میں اضطراب / لگی دیکھنے وحشت آلودہ خواب
نہ اگلا سا ہنسنا نہ وہ بولنا / نہ کھانا نہ پینا نہ لب کھولنا
جہاں بیٹھنا پھر نہ اٹھنا اسے / محبت میں دن رات گھٹنا اسے
کہا گر کسی نے کہ بیوی چلو / تو اٹھنا اسے کہہ کے ہاں جی چلو
جو پوچھا کسی نے کہ کیا حال ہے / تو کہنا یہی ہے جو احوال ہے
کسی نے جو کچھ بات کی بات کی / پہ دن کی جو پوچھی کہی رات کی
کہا گر کسی نے کہ کچھ کھائیے / کہا خیر بہتر ہے منگوائیے
جو پانی پلانا تو پینا اسے / غرض غیر کے ہاتھ جینا اسے
نہ کھانے کی سدھ اور نہ پینے کا ہوش / بھرا دل میں اس کے محبت کا جوش
کسی نے کہا سیر کیجے ذرا / کہا سیر سے دل ہے میرا بھرا
چمن پر نہ مائل نہ گل پر نظر / وہی سامنے صورت آٹھوں پہر
نہفتہ اسی سے سوال و جواب / سدا روبرو اس کے غم کی کتاب
غزل یا رباعی و یا کوئی فرد / اسی ڈھب کی پڑھنا کہ ہو جس میں درد
سو یہ بھی جو مذکور نکلے کہیں / نہیں تو کچھ اس کی بھی پروا نہیں
سبب کیا کہ دل سے تعلق ہے سب / نہ ہو دل تو پھر بات بھی ہے غضب
گیا ہو جب اپنا ہی جیوڑا نکل / کہاں کی رباعی کہاں کی غزل
زباں پر تو باتیں و لے دل اداس / پراگندہ حیرت سے ہوش و حواس
نہ منہ کی خبر اور نہ تن کی خبر / نہ سر کی خبر نے بدن کی خبر
اگر سر کھلا ہے تو کچھ غم نہیں / جو کرتی ہے میلی تو محرم نہیں
جو مسی ہے دو دن کی تو ہے وہی / جو کنگھی نہیں ہے تو یوں ہی سہی
نہ منظور سرمہ نہ کاجل سے کام / نظر میں وہی تیرہ بختی کی شام
و لیکن یہ خوباں کا دیکھا سبھاؤ / کہ بگڑے سے دونا ہو ان کا بناؤ
نہیں حسن کی اس طرح بھی کمی / جو بیٹھی ہے بگڑی تو گویا بنی
غرض بے ادائی ہے یاں کی ادا / بھلوں کو سبھی کچھ لگے ہے بھلا

ان دونو نظموں میں باعتبار سادگی اور نیچرل ہونے کے جو فرق ہے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی؛ لیکن میر حسن کے بیان میں جہاں جہاں نیچرل حالت کی تصویر بعینہ کھینچی گئی ہے اس کو جتا دینا ضرور ہے۔ بہانہ سے جا جا کے سونا، وحشت آلودہ خواب دیکھنا، جہاں بیٹھ جانا پھر وہاں سے نہ اٹھنا، اگر کسی نے اٹھنے کو کہا تو اٹھ کھڑا ہونا نہیں تو بیٹھے رہنا؛ کسی نے حال پوچھا تو خیر و عافیت کہہ دی؛ کسی نے بات کی تو جواب دے دیا، مگر بے ٹھکانے؛ کسی نے کھانے کو کہا تو کہا بہت اچھا، نہیں تو کچھ نہیں؛ ہر کام اوروں کے کہنے سے کرنا، نہیں تو کچھ نہ کرنا؛ دل ہی دل میں کسی سے سوال و جواب کرنے؛ دن رات کسی کی صورت آنکھوں کے سامنے رہنی؛ زبان سے باتیں کرنی اور دل میں اداس رہنا؛ جو سر کھلا ہے تو کھلا ہی ہے، جو کرتی میلی ہے تو میلی ہی ہے؛ جو مسی نہیں ملی تو یوں نہیں سہی؛ جو کنگھی نہیں کی تو بے کنگھی ہی سہی؛ نہ سرمے سے مطلب نہ کاجل سے غرض؛ مگر بغیر بناؤ سنگار کے بھی بھلا لگنا اور بگڑنے سے اور زیادہ بننا؛ یہ سب ایسی سچی اور پتے کی باتیں ہیں جو ہمیشہ ایسی حالتوں میں واقع ہوا کرتی ہیں۔ اگرچہ شوق کا بیان اور مثنویوں کی نسبت نہایت عمدہ ہے، مگر جیسی چچی تلی باتیں میر حسن نے بیان کی ہیں ویسی شوق کے ہاں بہت کم ہیں۔

جو لوگ صنعت الفاظ پر فریفتہ ہوتے ہیں اور لفظی مناسبتوں پر جان دیتے ہیں وہ کبھی کسی نیچرل حالت کی تصویر نہیں کھینچ سکتے۔ یہی جدائی اور انتظار کا بیان طلسم الفت میں اس طرح کیا گیا ہے:

شرم اس کو حیا سے آنے لگی / بے حجابی کے ناز اٹھانے لگی
کم وقاری کی قدر بڑھنے لگی / چشم تر بھی نظر پہ چڑھنے لگی
ٹھنڈی سانسوں کا دم وہ بھرنے لگی / سوز الفت کا پاس کرنے لگی
پان کے بدلے خون دل کھانا / دیکھ کر مہندی پانو پھیلانا
رات دن ہم کلام خاموشی / یاد ہر دم زخود فراموشی
گرم صحبت تھی سرد آہوں سے / سرمہ بھی گر گیا نگاہوں سے
ناتوانی بھی زور کرنے لگی / لاغری فکر گور کرنے لگی
آشنا دود آہ لب سے ہوا / اوج سوز دل اس سبب سے ہوا
شدتیں درد دل کی سہنے لگی / یاس پہلو کے پاس رہنے لگی
رنگ خون جگر بھی لانے لگا / آنکھ سے جائے اشک آنے لگا
سرگرانی بھی سر اٹھانے لگی / بیقراری سے چین پانے لگی
کاجل اور آئینہ سے آٹھ پہر / چشم پوشی تھی اس کو مد نظر
روز افزوں تھا شوق کم سخنی / زرد ہی رنگ رخ پہ غازہ بنی
چوٹی بھولے سے بھی نہ گندھواتی / پیچ و تاب اور کنگھی سے کھاتی
ذکر سن سن کے لاکھے کا وہ نگار / ہونٹ اپنے چباتی سو سو بار
ہمنشینوں سے ہو گئی نفرت / کنج عزلت سے رہتی تھی خلوت
خشکی لب جو کرتی منہ زوری / صاف کر جاتی اس کی غمخوری
بدلے ہنسنے کے روز رونا تھا / خاک مسند کی جا بچھونا تھا
خاصہ جس وقت کوئی لاتی تھی / گھڑیوں ابکائی اس کو آتی تھی
کوفت کھانے سے بس وہ جیتی تھی / خون دل جائے آب پیتی تھی
گو کہ درد جگر مصاحب تھا / ضبط آٹھوں پہر مصاحب تھا
گاہ آنکھیں لگی ہوئیں چھت سے / مشورے گاہ درد فرقت سے
دل سے کہنا کبھی نہیں اے دل / دلربا کا یہ زعم ہے باطل
کچھ تو امید جی میں تھی کچھ یاس / گاہ درجہ یقین کا گاہ ہراس

یہ مثنوی لکھنؤ کے ایک مشہور شاعر آفتاب الدولہ مہر الملک خواجہ اسد علی خاں بہادر شمس جنگ متخلص بہ قلق کی ہے۔ سنا ہے کہ اکثر اہل لکھنؤ اس کو اعلیٰ درجہ کی مثنوی سمجھتے ہیں؛ شاید ایسی ہی ہو، مگر افسوس ہے کہ وہ زمانۂ حال کے مذاق سے بالکل آشتی نہیں رکھتی۔ جو شعر ہم نے اس مقام پر اس سے نقل کیے ہیں ان کی کچھ خصوصیت نہیں ہے، بلکہ اس مثنوی کا تمام بیان اول سے آخر تک اسی قبیل کا ہے۔ لفظی رعایتوں میں معنی کا سر رشتہ اکثر ہاتھ سے جاتا رہتا ہے، اور کوئی حالت یا سماں جیسا کہ چاہیے بیان نہیں ہو سکتا۔ اول کے چاروں شعروں میں پہلے مصرعوں کا تو بمشکل کچھ کچھ مطلب سمجھ میں آتا ہے، مگر آخر کے چاروں مصرعوں کا مطلب ہماری سمجھ میں مطلق نہیں آیا۔ ان کے بعد بھی اکثر مصرعے اسی طرح کے ہیں۔ باقی جن شعروں یا مصرعوں کا مفہوم کچھ سمجھ میں آتا ہے، ان میں کوئی بات سیدھی طرح نہیں بیان کی۔ مثلاً "اس کو کسی کی شرم باقی نہیں رہی تھی"، اس کو یوں بیان کیا ہے کہ "اس کو شرم سے شرم آنے لگی"؛ یا "رات دن وہ خاموش رہتی تھی"، اس کی جگہ "وہ خاموشی سے ہمکلام رہتی تھی"؛ یا "وہ خود فراموش رہتی تھی"، اس کی جگہ "اس کو خود فراموشی یاد رہتی تھی"۔ غرض کہ کل اشعار کا حال جیسا کہ ظاہر ہے ایسا ہی ہے، یا اس سے بھی زیادہ ژولیدہ اور ان نیچرل۔

مثنوی گلزار نسیم میں بھی لفظی رعایتوں کا بہت التزام کیا گیا ہے۔ اس نے بھی بکاؤلی کا حال تاج الملوک کے فراق میں کچھ مختصر سا لکھا ہے؛ وہ اس طرح بیان کرتا ہے:

کرتی تھی جو بھوک پیاس بس میں / آنسو پیتی تھی کھا کے قسمیں
جامہ سے جو زندگی کے تھی تنگ / کپڑوں کے عوض بدلتی تھی رنگ
یکچند جو گذری بے خور و خواب / زائل ہوئی اس کی طاقت و تاب
صورت میں خیال رہ گئی وہ / ہیئات میں مثال رہ گئی وہ

اس بیان میں بھی تیسرے شعر کے سوا باقی تین شعروں کا مطلب کچھ نہیں معلوم ہوتا، اور ظاہراً اس نے کوئی مطلب رکھا بھی نہیں؛ اس کو تو فقط یہ لطیفہ بیان کرنا مقصود ہے کہ کھانے کی جگہ قسمیں کھاتی تھی، پینے کی جگہ آنسو پیتی تھی، کپڑوں کی عوض رنگ بدلتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔

(۶) قصہ میں اس بات کا بھی لحاظ رکھنا ضرور ہے کہ ایک بیان دوسرے بیان کی تکذیب نہ کرے، کیونکہ اس سے قصہ نگار کا پھوڑپن ثابت ہوتا ہے، اور وہ سچ مچ اس مثل کا مصداق بنتا ہے کہ "دروغگو را حافظہ نباشد"۔ آج کل جو شایستہ ملکوں میں نوول لکھے جاتے ہیں ان کا تو کیا ذکر ہے، ایشیا کے قدیم زمانہ کے قصہ نویسوں نے بھی اس بات کا ہمیشہ لحاظ رکھا ہے کہ ایک بیان دوسرے بیان کے منافی نہ ہو۔ یہ سچ ہے کہ قصہ میں کسی خاص واقعہ کا بیان نہیں ہوتا، مگر قصہ نگار اس کو ایک واقعہ ہی کی صورت میں بیان کرتا ہے؛ پس اس کو ایسے طور پر بیان کرنا جس سے جا بجا اس کی غلط بیانی ثابت ہو، اصول قصہ نگاری کے خلاف ہے۔

جو کاریگر کسی انسان کی مورت پتھر یا دھات کی بناتا ہے، ظاہر ہے کہ وہ مورت انسان کی نقل ہوتی ہے نہ اصلی انسان؛ لیکن کاریگر کا فرض ہے کہ اس میں اور اصلی انسان میں ایک جان پڑنے کے سوا اور کوئی فرق محسوس نہ ہو۔ اسی طرح قصہ نگار کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ قصہ کل واقعات کی شکل میں بیان کیا جائے۔ اس مطلب کے ذہن نشین کرنے کے لیے ہم چند شعر مثنوی طلسم الفت کے نقل کرتے ہیں۔ ایک قصہ گو شاہزادۂ عشق آباد یعنی جان جہان سے حسن آباد کی شہزادی عالم آرا کا حال اپنی آنکھوں دیکھا بیان کر رہا ہے کہ جب میں حسن آباد میں پہنچا تو ایک شخص نے مجھ سے عالم آرا کے حسن و جمال کا ذکر کرنے کے بعد کہا:

دیکھنا بھی تو اس کا مشکل ہے / کہ وہ لیلیٰ میان محمل ہے [1]آدمی کیا ملک سے پردہ ہے / بلکہ چشم فلک سے پردہ ہے

اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو بڑے اہتمام کے ساتھ پردہ میں رکھا جاتا ہے؛ مگر اسی بیان میں اس کا ذکر ہوتے ہوتے یہ ارشاد ہوتا ہے کہ باغ میں جس دریچہ میں جا کر وہ بیٹھتی ہے وہاں:

تہ بام اژدہام رہتا ہے / مجمع خاص و عام رہتا ہے
مشق جور و ستم کسی پر ہے / چشم لطف و کرم کسی پر ہے
ناز سے ایک سے کلام کیا / ایک کو غمزہ سے تمام کیا
وصل کا ایک سے کیا اقرار / ایک مشتاق سے کیا انکار
دو ہی فقروں میں اک کو ٹال دیا / ٹھٹھے بازی میں اک کو ڈال دیا
کھینچ مارا کسی پہ ہنس کے اگال / رنج سے منہ کسی کا ہو گیا لال
دور سے ہنس کے اک کو شاد کیا / قرب پردہ کسی کو یاد کیا
یوں ہی وہ دن تمام ہوتا ہے / کیا کہوں قتل عام ہوتا ہے
دو گھڑی دن رہے سے تا سر شام / جلوہ آرا رہی وہ مہر اندام

غرض کہاں تک لکھوں، دور تک ایسے ہی اشعار جن سے نہ صرف بے پردگی بلکہ غایت درجہ کا بیسواپن پایا جاتا ہے چلے جاتے ہیں۔ اس بیان میں اور اوپر کے دونو شعروں کے بیان میں جو منافات ہے وہ ظاہر ہے۔ ایسی مثالیں اس مثنوی میں اور گلزار نسیم میں بہت ہیں، مگر اور مثنویاں بھی اس سے بالکل پاک نہیں ہیں۔

(۷) اس بات کا بھی خیال رکھنا ضرور ہے کہ قصہ کے ضمن میں کوئی بات ایسی بیان نہ کی جائے جو تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہو۔ جس طرح ناممکن اور فوق العادہ باتوں پر قصہ کی بنیاد رکھنی آج کل زیبا نہیں ہے، اسی طرح قصہ کے ضمن میں ایسی جزئیات بیان کرنی جن کی تجربہ اور مشاہدہ تکذیب کرتا ہو ہرگز جائز نہیں ہے۔ اس سے قصہ نگار کی اتنی بے سلیقگی ثابت نہیں ہوتی جتنی کہ اس کی لاعلمی اور دنیا کے حالات سے ناواقفیت اور ضروری اطلاع حاصل کرنے سے بے پروائی ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً بدر منیر میں ایک خاص موقع اور وقت کا سماں اس طرح بیان کیا ہے:

وہ گانے کا عالم وہ حسن بتاں / وہ گلشن کی خوبی وہ دن کا سماںدرختوں کی کچھ چھاؤں اور کچھ وہ دھوپ / وہ دھانوں کی سبزی وہ سرسوں کا روپ

اخیر مصرع سے صاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ ایک طرف دھان کھڑے تھے اور ایک طرف سرسوں پھول رہی تھی؛ مگر یہ بات واقع کے خلاف ہے، کیونکہ دھان خریف میں ہوتے ہیں اور سرسوں ربیع میں گیہوں کے ساتھ بوئی جاتی ہے۔

یا مثلاً مثنوی طلسم الفت میں جب کہ شاہزادہ جان جہان کا جہاز غرق ہوا ہے اور جان جہان اور سب اہل جہاز ڈوب چکے ہیں، اس طرح بیان کرتا ہے:

دوسرے دن وہ گوہر یکتا / جھیل کر محنت محیط بلامثل خورشید ڈوب کر نکلا / زندہ اک تختہ پر مگر نکلا

یعنی جان جہان ایک رات اور ایک دن ڈوبے رہنے کے بعد زندہ دریا سے نکلا، اور نکلا بھی ایک تختہ پر بیٹھا ہوا۔ اول تو اس قدر عرصہ کے بعد زندہ نکلنا، اور پھر قعر دریا سے ایک تختہ پر بیٹھے ہوئے نکلنا، بالکل تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہے۔

(۸) جس طرح ان اہم اور ضروری باتوں کو جن پر قصہ کی بنیاد رکھی گئی ہے نہایت صراحت کے ساتھ بیان کرنا ضرور ہے، اسی طرح ان ضمنی باتوں کو جو صاف صاف کہنے کی نہیں ہیں رمز و کنایہ میں بیان کرنا ضرور ہے؛ مگر افسوس ہے کہ ہماری مثنویوں میں دونو باتوں کا بہت کم لحاظ کیا گیا ہے۔ مثلاً گل بکاؤلی کے قصہ میں سارے قصہ کی بنیاد صرف اس بات پر رکھی گئی ہے کہ زین الملوک کے جب پانچواں بیٹا پیدا ہوا تو نجومیوں نے یہ حکم لگایا کہ اگر بادشاہ اس بیٹے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے گا تو اس کی بینائی جاتی رہے گی؛ مگر گلزار نسیم میں اس بات کو ایسا ناکافی طور پر بیان کیا ہے کہ اگر گل بکاؤلی کا قصہ پہلے سے کسی کو معلوم نہ ہو تو اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ سکتا۔ رہی دوسری بات، سو اس کا خیال تو ہمارے شعرا نے کبھی بھول کر بھی نہیں کیا، بلکہ جو باتیں بے شرمی کی ہوتی ہیں وہاں اور بھی زیادہ پھیل پڑتے ہیں، اور نہایت فخر کے ساتھ ناگفتنی باتوں کو کھلم کھلا بیان کرتے ہیں۔ افسوس کہ ہم ایسے موقعوں کی زیادہ صاف اور کھلی ہوئی مثالیں نہیں دے سکتے؛ صرف تصریح اور کنایہ کی صورت زیادہ ذہن نشین کرنے کے لیے یہاں ایک سرسری مثال پر اکتفا کرتے ہیں۔ خواجہ میر اثر دہلوی اپنی مثنوی خواب و خیال میں اختلاط کے موقع پر کہتے ہیں:

ہاتھا پائی میں ہانپتے جانا / کھلتے جانے میں ڈھانپتے جانا

دوسرے مصرع میں اس بات کی کچھ تصریح نہیں کی گئی کہ کیا چیز کھلتی جاتی تھی اور کس چیز کو بار بار ڈھانپا جاتا تھا۔ یہ مطلب اس سے بہتر لفظوں میں ادا نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسے موقع پر ہمیشہ بولا بھی یوں ہی جاتا ہے کہ سینے یا چھاتی یا محرم وغیرہ کا صراحۃً نام نہیں لیا جاتا۔ اسی مطلب کو نواب مرزا شوق نے بہار عشق میں اس طرح ادا کیا ہے:

ہاتھا پائی میں ہانپتے جانا / چھوٹے کپڑوں کو ڈھانپتے جانا

شوق نے اتنا پردہ تو رکھا ہے کہ لباس ہی کے نام پر اکتفا کیا ہے، سینے وغیرہ کا نام نہیں لیا؛ مگر پردہ ایسا باریک ہے کہ اس میں بدن جھلکتا نظر آتا ہے۔

تصریح کچھ بے شرمی و بے حیائی ہی کے موقع پر بدنما نہیں ہوتی، بلکہ قصہ میں اکثر مقام ایسے آ جاتے ہیں کہ اگر وہاں رمز و کنایہ سے کام نہ لیا جائے تو کلام نہایت سبک اور کم وزن ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بحث فی الواقع چوتھی دفعہ سے علاقہ رکھتی ہے جس میں مقتضائے حال کے موافق ایراد کلام کا ذکر ہو چکا ہے، لیکن اس کو زیادہ اہم سمجھ کر خصوصیت کے ساتھ علیحدہ بیان کیا گیا ہے۔

ان آٹھ باتوں کے سوا قصہ نگاری کے اور بھی فرائض ہیں، مگر یہاں صرف انھیں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اگر ہمارے ہموطنوں کو شاعری کی اصلاح کا خیال ہو گا تو ان کو کسی کے بتانے کی ضرورت نہیں ہے، خود ان کی طبیعت ان کی رہنمائی کرے گی۔

اب ہم خاص ان مثنویوں پر جو ہمارے نزدیک کسی نہ کسی حیثیت سے امتیاز رکھتی ہیں ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں۔ اب تک اردو میں جتنی عشقیہ مثنویاں ہماری نظر سے گذری ہیں ان میں سے صرف تین شخصوں کی مثنوی ایسی ہے جس میں شاعری کے فرائض کم و بیش ادا ہوئے ہیں۔ اول میر تقی، جنھوں نے غالباً سب سے اول چند عشقیہ قصے اردو مثنوی میں بیان کیے ہیں۔ جس زمانہ میں میر نے یہ مثنویاں لکھی ہیں اس وقت اردو زبان پر فارسیت بہت غالب تھی، اور مثنوی کا کوئی نمونہ اردو زبان میں غالباً موجود نہ تھا، اور اگر ایک آدھ نمونہ موجود بھی ہو تو اس سے چنداں مدد نہیں مل سکتی۔ اس کے سوا اگرچہ غزل کی زبان بہت منجھ گئی تھی، مگر مثنوی کا رستہ صاف ہوتے ہوتے تک ابھی بہت زمانہ درکار تھا؛ اسی لیے میر کی مثنویوں میں فارسی ترکیبیں، فارسی محاوروں کے ترجمے، اور ایسے فارسی الفاظ جن کی اب اردو زبان متحمل نہیں ہو سکتی، اس اندازہ سے جو آج کل فصیح اردو کا معیار ہے بلاشبہ کسی قدر زیادہ پائے جاتے ہیں۔ نیز اردو زبان کے بہت سے الفاظ و محاورات جو اب متروک ہو گئے ہیں میر کی مثنوی میں موجود ہیں؛ اگرچہ یہ تمام باتیں میر کی غزل میں بھی کم و بیش پائی جاتی ہیں، مگر غزل میں ان کی کھپت ہو سکتی ہے، کیونکہ غزل میں اگر ایک شعر بھی صاف اور عمدہ نکل آئے تو ساری غزل کو شان لگ جاتی ہے؛ وہ عمدہ شعر لوگوں کی زبان پر چڑھ جاتا ہے اور باقی پرکن اشعار سے کچھ سروکار نہیں رہتا۔ لیکن مثنوی میں جستہ جستہ اشعار کے صاف اور عمدہ ہونے سے کام نہیں چلتا؛ زنجیر کی ایک کڑی بھی ناہموار اور بے میل ہوتی ہے تو ساری زنجیر آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ پس ان اسباب سے شاید میر کی مثنوی آج کل کے لوگوں کی نگاہ میں نہ جچے، مگر اس سے میر کی شاعری میں کچھ فرق نہیں آتا۔ جس وقت میر نے یہ مثنویاں لکھی ہیں اس وقت اس سے بہتر زبان میں مثنوی لکھنی امکان سے خارج تھی۔ باایں ہمہ میر کی مثنوی اکثر اعتبارات سے امتیاز رکھتی ہے۔ باوجودیکہ میر صاحب کی عمر غزل گوئی میں گذری ہے، مثنوی میں بھی بیان کے انتظام اور تسلسل کو انھوں نے کہیں ہاتھ سے نہیں جانے دیا، اور مطالب کو بہت خوبی کے ساتھ ادا کیا ہے، جیسا کہ ایک مشاق و ماہر استاد کر سکتا ہے۔ اس کے سوا صاف اور عمدہ شعر بھی میر کی مثنوی میں بمقابلہ ان اشعار کے جن میں پرانے محاورے یا فارسیت غالب ہے کچھ کم نہیں ہیں؛ صدہا اشعار میر کی مثنویوں کے آج تک لوگوں کے زبان زد چلے جاتے ہیں۔

اگرچہ میر کی مثنویوں میں قصہ پن بہت کم پایا جاتا ہے؛ انھوں نے چند صحیح یا صحیح نما واقعات بطور حکایات کے سیدھے سادے طور پر بیان کر دیے ہیں؛ نہ ان میں کسی شادی یا تقریب یا وقت اور موسم کا سماں بیان کیا گیا ہے، نہ کسی باغ یا جنگل یا پہاڑ کی فضا یا اور کوئی ٹھاٹھ دکھایا گیا ہے؛ مگر جتنی میر کی عشقیہ مثنویاں ہم نے دیکھی ہیں وہ سب نتیجہ خیز اور عام مثنویوں کے برخلاف بے شرمی و بے حیائی کی باتوں سے مبرا ہیں۔

میر تقی کے بعد میر حسن دہلوی کی مثنوی بدر منیر نے ہندوستان میں جو سچی شہرت اور قبولیت حاصل کی ہے وہ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد آج تک کسی مثنوی کو نصیب نہیں ہوئی۔ یہ خیال کہ میر تقی کے نمونوں سے میر حسن کو کچھ مدد ملی ہو گی یا کچھ رہبری ہوئی ہو گی، ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، کیونکہ قصہ کی شان جو میر حسن کی مثنوی میں ہے میر تقی کی مثنویوں میں اس کا کہیں پتا بھی نہیں۔

اگر اس بات سے قطع نظر کر لی جائے کہ قدیم قصوں کی طرح اس مثنوی کی بنیاد بھی دیو افسانوں پر رکھی گئی ہے، تو یہ کہنا کچھ بے جا نہیں ہے کہ میر حسن نے قصہ نگاری کے تمام فرائض پورے پورے ادا کر دیے ہیں۔ سلطنت کی شان و شوکت، تختگاہ کی رونق اور چہل پہل، لاولدی کی حالت میں یاس و ناامیدی اور دنیا سے دل برداشتگی، جوتشیوں کی گفتگو، شاہزادہ کی ولادت اور چھٹی کی تقریب، ناچ رنگ اور گانے بجانے کے ٹھاٹھ، باغوں اور ہر قسم کی محفلوں کے سمے، سواریوں کے جلوس، حمام میں نہانے کی کیفیت، اور حالت مکانوں کی آرایش، شاہانہ لباس اور جواہرات اور زیورات کا بیان، خوابگاہ کا نقشہ، جوانی کی نیند کا عالم، رنج اور غم کے عالم میں محلوں اور باغوں کی بے رونقی، عاشق و معشوق کی پہلی ملاقات اور اس میں شرم و حجاب کا پاس و لحاظ، عشق و محبت کا بیاں، حسن و جمال کا بیان، جدائی کا بیان، مصائب کا بیان، خوشی کا بیان، نسبت کے پیغام و سلام، بیاہ شادی کے سامان، بچھڑے ہوؤں کا ملنا اور اس حالت کا نقشہ؛ غرض کہ جو کچھ اس مثنوی میں بیان کیا ہے اس کی آنکھوں کے سامنے تصویر کھینچ دی ہے؛ اور مسلمانوں کے اخیر دور میں سلاطین و امرا کے ہاں جو جو حالتیں ایسے موقعوں پر گذرتی تھیں اور جو معاملات پیش آتے تھے ان کا بعینہ چربا اتار دیا ہے۔ میر حسن کے بعد اور مثنویوں میں بھی بدر منیر کی ریس سے یہ تمام سین دکھانے کا قصد کیا گیا ہے، لیکن اکثر راہ راست سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ ایک صاحب بازار کی تعریف میں کہتے ہیں کہ "وہاں ناز و شوخی و انداز کی جنس بکتی ہے" (یعنی کوئی جنس دستیاب نہیں ہوتی)؛ "ٹھنڈی سانسوں کا بازار گرم رہتا ہے" (یعنی بازار میں بالکل رونق نہیں)؛ "داغ دل کا سکہ ہر طرف بھنایا جاتا ہے" (یعنی سکۂ رائج کی ریزگاری نہیں ملتی)؛ "خار مژگاں کے کانٹے میں زر جان تلتا ہے" (یعنی نہ وہاں سونا ہے نہ سونا تولنے کا کانٹا)؛ "میوہ فروش سیب ذقن بیچتے ہیں" (یعنی سیب نہیں ملتے)؛ "ترکاری کی جگہ جوبن بکتا ہے" (یعنی ترکاری نہیں ملتی)؛ "حلوائیوں کی دوکان پر شیرۂ جان کی مٹھائی بنتی ہے" (یعنی لڈو پیڑے اور بالوشاہی وغیرہ کا قحط ہے)؛ "بازار میں آب گوہر کا چھڑکاؤ ہوتا ہے اور مہر و ماہ کا کٹورا بجتا ہے" (یعنی بازار میں خاک اڑتی ہے اور ہر وقت سناٹا رہتا ہے)۔ اسی طرح جو سین دکھانا چاہا ہے اس میں محض الفاظ کا طلسم باندھا ہے، معنی سے کچھ سروکار نہیں رکھا۔ بہرحال اردو کی عشقیہ مثنویوں میں ہمارے نزدیک اکثر اعتبارات سے بدر منیر کے برابر آج تک کوئی مثنوی نہیں لکھی گئی۔ البتہ اس میں کچھ الفاظ و محاورات ایسے ضرور ہیں جو کہ اب متروک ہو گئے ہیں؛ لیکن آج سے ستر اسی برس پہلے کی مثنوی کا حسن اور زیور یہی ہے کہ اس میں ایسے الفاظ و محاورے موجود ہوں۔

میر حسن کے بعد نواب مرزا شوق لکھنوی کی مثنویاں سب سے زیادہ لحاظ کے قابل ہیں۔ شوق نے غالباً واجد علی شاہ کے اخیر زمانۂ سلطنت میں یہ مثنویاں لکھی ہیں۔ ان میں سے تین [2] مثنویوں میں اس نے اپنی بوالہوسی اور کامجوئی کی سرگذشت بیان کی ہے، یا یوں کہو کہ اپنے اوپر افترا باندھا ہے؛ اور ایک مثنوی یعنی لذت عشق میں ایک قصہ بالکل بدر منیر کے قصے سے ملتا جلتا اسی کی بحر میں لکھا ہے۔ ان مثنویوں میں اکثر مقامات اس قدر ان مورل اور خلاف تہذیب ہیں کہ ایک مدت سے ان تمام مثنویوں کا چھپنا حکماً بند کر دیا گیا ہے؛ لیکن اگر شاعری کی حیثیت سے دیکھا جائے تو ایک خاص حد تک ان کو بدر منیر پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔ وہ قدیم الفاظ اور محاوروں سے جو اب متروک ہو گئے ہیں اور حشو اور بھرتی کے الفاظ سے بالکل پاک ہیں۔ ان میں ایک قسم کا بیان، زبان کی گھلاوٹ، روزمرہ کی صفائی، قافیوں کی نشست اور مصرعوں کی برجستگی کے لحاظ سے بمقابلہ بدر منیر کے بہت بڑھا ہوا ہے۔ ان میں مردانے اور زنانے محاوروں کو اس طرح برتا ہے کہ نثر میں بھی ایسی بے تکلفی سے آج تک کسی نے نہیں برتا۔ اگرچہ ان مثنویوں میں بدر منیر کی طرح ہر موقع کا سین نہیں دکھایا گیا جس سے شاعر کی قدرت بیان کا پورا پورا اندازہ ہو سکے، مگر جو کچھ اس نے بیان کیا ہے، خواہ وہ مورل ہو اور خواہ ان مورل، اس میں حسن بیان کا پورا پورا حق ادا کر دیا ہے۔ اس نے برخلاف عام شعرائے لکھنؤ کے لفظی رعایتوں کا مطلق التزام نہیں کیا، اور اردو کے عام روزمرہ کو صحت الفاظ پر، جس کے اہل لکھنؤ سخت پابند ہیں، اکثر ترجیح دی ہے۔ ردیف و قافیہ میں عروضیوں کی بے جا قیدوں کی بھی چنداں پابندی نہیں کی، مگر جو اصل مقصود ردیف و قافیہ سے ہوتا ہے اس کو کہیں ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ مثلاً:

کوئی مرتا ہے کیوں؟ بلا جانے / ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں

اس ردیف کو ہمارے شعرا ضرور غلط بتائیں گے، مگر ردیف کا جو اصل مقصد ہے وہ اس سے بخوبی حاصل ہوتا ہے، کیونکہ سامع کو یہ شعر سن کر واحد اور جمع کا فرق مطلق محسوس نہیں ہوتا، اور یہی ردیف کا ماحصل ہے۔ اختلاط کے موقع پر جس بے تکلفی کے ساتھ معاملات کی تصویر اس نے کھینچی ہے اس کی نسبت سوا اس کے اور کیا کہا جائے کہ "چور کی ماں گھٹنوں میں سر دے اور روئے"۔ افسوس ہے کہ شوق کی مثنویوں کی اس سے زیادہ اور کچھ داد نہیں دی جا سکتی کہ جو شاعری اس نے ایسی ان مورل مثنویوں کے لکھنے میں صرف کی ہے اگر وہ اس کو اچھی جگہ صرف کرتا اور روشنی کے فرشتے سے تاریکی کے فرشتے کا کام نہ لیتا تو آج اردو زبان میں اس کی مثنویوں کا جواب نہ ہوتا۔

یہ بات تعجب سے خالی نہیں کہ نواب مرزا شوق کو اپنے اسکول کے برخلاف مثنوی میں ایسی صاف اور بامحاورہ زبان برتنے کا خیال کیونکر پیدا ہوا، کیونکہ جب سوسائٹی کا رخ دوسری طرف پھرا ہوا ہوتا ہے تو اس کے مخالف رخ بدلنے کے لیے کسی خارجی تحریک کا ہونا ضروری ہے۔ ظاہرا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ میر درد کے چھوٹے بھائی خواجہ میر اثر دہلوی نے جو ایک مثنوی لکھی ہے، جس کا نام غالباً خواب و خیال رکھا تھا، اور جس کی شہرت ایک خاص وجہ سے زیادہ تر پورب میں ہوئی تھی؛ اس مثنوی میں، جیسا کہ ہم نے اپنے بعض احباب سے سنا ہے، تقریباً ۴۰–۴۵ شعر اسی قسم کے ہیں جیسے کہ شوق نے بہار عشق میں اختلاط کے موقع پر اس سے بہت زیادہ لکھے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ شوق کو ایسی صاف زبان برتنے کا خیال اس مثنوی کو دیکھ کر پیدا ہوا، اور چونکہ وہ ایک شوخ طبع آدمی تھا اور بیگمات کے محاورات پر بھی اس کو زیادہ عبور تھا، اس نے اپنی مثنوی کی بنیاد خواب و خیال کے انھیں ۴۰–۴۵ شعروں پر رکھی، اور ان معاملات کو جو خواجہ میر اثر کے ہاں ضمناً مختصر طور پر بیان ہوئے تھے اپنی مثنوی میں زیادہ وسعت کے ساتھ بیان کیا، اور جس قسم کے محاوروں کی انھوں نے بنیاد قائم کی تھی شوق نے اس پر ایک عمارت چن دی۔ اس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ خواب و خیال کے اکثر مصرعے اور شعر تھوڑے تھوڑے تفاوت سے بہار عشق میں موجود ہیں، جن میں سے ایک دو شعر ہم کو بھی یاد ہیں؛ مگر اس میں شک نہیں کہ موجودہ حالت میں خواب و خیال کو بہار عشق سے کچھ نسبت نہیں ہو سکتی۔

اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں۔ اس کی نسبت یہ امید رکھنی کہ ہمارے دیرینہ سال شاعر، جن پر قدیم شاعری کا رنگ چڑھ گیا ہے، اس مضمون کی طرف التفات کریں گے یا اس کو قابل التفات سمجھیں گے، محض بے جا ہے؛ اور یہ خیال کرنا بھی فضول ہے کہ جو کچھ اس میں لکھا گیا ہے وہ سب واجب التسلیم ہے۔ البتہ ہم کو اپنے نوجوان ہموطنوں سے، جو شاعری کا چسکا رکھتے ہیں اور زمانہ کے تیور پہچانتے ہیں، یہ امید ہے کہ وہ شاید اس مضمون کو پڑھیں، اور کم سے کم اس قدر تسلیم کریں کہ اردو شاعری کی موجودہ حالت بلاشبہ اصلاح یا ترمیم کی محتاج ہے۔ ہم نے اپنی ناچیز رائیں جو اس مضمون میں شاعری کی اصلاح کے متعلق ظاہر کی ہیں، گو ان میں سے ایک رائے بھی تسلیم نہ کی جائے، لیکن اس مضمون سے ملک میں عموماً یہ خیال پھیل جائے کہ فی الواقع ہماری شاعری اصلاح طلب ہے، تو ہم سمجھیں گے کہ ہم کو پوری کامیابی حاصل ہوئی ہے، کیونکہ ترقی کی پہلی سیڑھی اپنے تنزل کا یقین ہے۔

اگرچہ اردو شاعری کی حقیقت ظاہر کرنے کے لیے اس بات کی نہایت ضرورت تھی کہ مشہور اور مسلم الثبوت شاعروں کے کلام پر صراحۃً نکتہ چینی کی جائے، کیونکہ عمارت کا بودا پن جیسا بنیاد کی کمزوری سے ثابت ہوتا ہے ایسا اور کسی چیز سے ثابت نہیں ہوتا؛ مگر صرف اس خیال سے کہ ہمارے ہموطن ابھی اعتراض سننے کے عادی نہیں ہیں، بلکہ تنقید کو تنقیص سمجھتے ہیں، جہاں تک ہو سکا ہے اس مضمون میں کسی خاص شاعر کے کلام پر کوئی گرفت یا اعتراض اس طرح نہیں کیا گیا جو خاص اس کے کلام سے خصوصیت رکھتا ہو؛ بلکہ شاعری کے عام طریقہ پر اعتراض کر کے مثال کے طور پر جس کسی کا کلام یاد آیا ہے نقل کر دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص پر بالتخصیص اعتراض کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ شاعری کے عام طریقہ کی خرابی ظاہر کرنی مقصود ہے، جس میں اس شخص کے ساتھ اور لوگ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جہاں تک ممکن تھا کسی پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ اپنی شاعری کے اصول مسلمہ سے ناواقف ہے، یا اس نے کوئی گرامر یا عروض کی غلطی کی ہے، یا کوئی ایسی فروگذاشت کی ہے جس سے قدیم طریقہ کے موافق اس کی شاعری پر حرف آتا ہے؛ بلکہ زیادہ تر ایسے اعتراض کیے ہیں جو نہ صرف اردو شاعری بلکہ تمام ایشیائی شاعری پر وارد ہوتے ہیں۔

باایں ہمہ اگر بمقتضائے بشریت کوئی ایسی بات لکھی گئی ہو جو ہمارے کسی ہموطن کو ناگوار گذرے تو ہم نہایت عاجزی اور ادب سے معافی کے خواستگار ہیں۔ اور چونکہ یہ مضمون اردو لٹریچر میں جہاں تک کہ ہم کو معلوم ہے بالکل نیا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ اگر بالفرض اس میں کچھ خوبیاں ہوں تو ان کے ساتھ کچھ لغزشیں اور خطائیں بھی پائی جائیں۔ اگرچہ خدا نے تو یہ قاعدہ بتایا ہے کہ "اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ" [3]، مگر انسان نے اس کی جگہ یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ "اِنَّ السَّیِّئَاتِ یُذْہِبْنَ الْحَسَنَاتِ"؛ پس اس انسانی قاعدہ کے موافق ہم کو یہ امید رکھنی تو نہیں چاہیے کہ اس مضمون کی غلطیوں کے ساتھ اس کی خوبیاں بھی (اگر کچھ ہوں) ظاہر کی جائیں گی؛ لیکن اگر صرف غلطیوں کے دکھانے ہی پر اکتفا کیا جائے اور خوبیوں کو بہ تکلف برائیوں کی صورت میں ظاہر نہ کیا جائے، تو بھی ہم اپنے تئیں نہایت خوش قسمت تصور کریں گے۔

راقم: الطاف حسین حالی

حواشی

[1] یعنی پردہ میں ہے۔ ۱۲

[2] یعنی بہار عشق، زہر عشق اور فریب عشق میں۔ ۱۲

[3] یعنی نیکیاں بدیوں کو مٹا دیتی ہیں؛ پس دوسرے فقرہ کے یہ معنی ہوں گے کہ بدیاں نیکیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ ۱۲

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.