Urdu in Translation
Search

Chapter 6 of 20

A Father's Letter

باپ کا خط

Deputy Nazir Ahmad

Script
Size

جب خیراندیش خاں نے اپنے باپ دوراندیش خاں کو اطلاع کی کہ ”خدا کے فضل و کرم سے خیر و خوبی کے ساتھ ہمشیرۂ عزیزہ کا عقد ذی الحجہ کی گیارھویں تاریخ مہرِ فاطمی پر ہو گیا“، دوراندیش خاں نے دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی؛ لیکن بیٹی کی مفارقت کا قلق بہت دن تک رہا۔

اصغری کے نام شادی ہونے کے بعد دوراندیش خاں نے جو خط لکھا، دیکھنے کے لائق ہے۔ اتفاق سے ہم کو اس کی نقل ہاتھ آ گئی تھی؛ وہ خط یہ ہے:

”آرامِ دل و جانم، برخوردار اصغری خانم، سلمہا اللہ تعالیٰ! دعا اور اشتیاقِ دیدبوس کے بعد واضح ہو، تمہارے بھائی خیراندیش خاں کے لکھنے سے تمہاری رخصت کا حال معلوم ہوا۔ برسوں سے یہ تمنا دل میں تھی کہ یہ فرض میں اپنے اہتمامِ خاص سے ادا کروں، مگر حاکم نے رخصت نہ دی، مجبور رہا۔ تم پر ظاہر ہوا ہو گا کہ سب بچوں میں تم سے مجھ کو ایک خاص درجے کا انس تھا؛ اور میں اس بات کو بطورِ اظہارِ احسان نہیں لکھتا، بلکہ تم نے اپنی خدمت گزاری اور فرماں برداری سے خود میرے اور سب کے دل میں جگہ پیدا کی تھی۔ آٹھ برس کی عمر سے تم نے میرے گھر کا تمام بوجھ اپنے سر پر اٹھا رکھا تھا۔ مجھ کو ہمیشہ یہ بات معلوم ہوتی رہی کہ تمہارے سبب بیگم، یعنی تمہاری ماں، کو بڑی بے فکری حاصل ہے۔ جب کبھی اس اثنا میں مجھ کو گھر جانے کا اتفاق ہوا، تمہارا انتظام دیکھ کر ہمیشہ میرا جی خوش ہوا۔ اب تمہارے رخصت ہو جانے سے ایسا نقصان ہوا کہ اس کی تلافی شاید اس عمر میں ہونے کی مجھ کو امید نہیں ہو سکتی۔ خدا تم کو جزائے خیر دے، اور اس خدمت کے صلے میں میری دعاؤں کا اثر تم پر ظاہر ہو۔ خیراندیش خاں کے خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تم نے اکبری خانم سے زیادہ جہیز نہیں لینا چاہا۔ اس سے تمہاری بلند نظری اور عالی ہمتی ثابت ہوتی ہے؛ مگر میں اس کا نعم البدل بھیجتا ہوں، وہ یہ خط ہے۔ اس کو تم بطورِ دستور العمل کے اپنے پاس رکھو، اور ان نصیحتوں پر عمل کرو؛ ان شاء اللہ تعالیٰ ہر ایک تکلیف تم پر آسان ہو گی، اور اپنی زندگی آرام و آسائش میں بسر کرو گی۔

سمجھنا چاہیے کہ بیاہ کیا چیز ہے۔ بیاہ صرف یہی بات نہیں ہے کہ رنگین کپڑے پہنے اور مہمان جمع ہوئے، مال و اسباب و زیور پایا؛ بلکہ بیاہ سے نئی دنیا شروع ہوتی ہے۔ نئے لوگوں سے معاملہ کرنا اور نئے گھر میں رہنا پڑتا ہے۔ جس طرح پہلے پہل بچھڑوں پر جوا رکھا جاتا ہے، آدمی کے بچھڑوں کا جوا بیاہ ہے۔ نکاح ہوا، لڑکی بیوی بنی، لڑکا میاں بنا؛ اس کے یہی معنی ہیں کہ دونوں کو پکڑ کر دنیا کی گاڑی میں جوت دیا۔ اب یہ گاڑی قبر کی منزل تک ان کو کھینچنی پڑے گی۔ پس بہتر یہ ہے کہ دل کو مضبوط کر کے اس بارِ عظیم کا تحمل کیا جائے، اور زندگی کے دن، جس قدر ہوں، عزت، آبرو، صلح کاری، اتفاق سے کاٹ دیے جائیں؛ ورنہ لڑائی بھڑائی، جھگڑے بکھیڑے، شور و فساد، ہائے اور واویلا سے دنیا کی مصیبت اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔

اب تم کو، اے میری پیاری بیٹی اصغری خانم، سوچنا چاہیے کہ میاں بیوی میں خدا نے کتنا فرق رکھا ہے۔ مذہب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت آدم بہشت میں اکیلے گھبرایا کرتے تھے؛ ان کے بہلانے کو خدا نے اماں حوا کو، جو سب سے پہلی عورت دنیا میں گزری، پیدا کیا۔ پس عورت کا پیدا کرنا صرف مرد کی خوش دلی کے واسطے تھا، اور عورت کا فرض ہے مرد کو خوش رکھنا۔ افسوس ہے کہ دنیا میں کس قدر کم عورتیں اس فرض کو ادا کرتی ہیں! مردوں کا درجہ خدا نے عورتوں پر زیادہ کیا؛ نہ صرف حکم دینے سے، بلکہ مردوں کے جسم میں زیادہ قوت اور ان کی عقلوں میں زیادہ روشنی دی ہے۔ دنیا کا بندوبست مردوں کی ذات سے ہوتا ہے۔ مرد کمانے والے، اور عورتیں ان کی کمائی کو موقع مناسب پر خرچ کرنے والیاں اور اس کی نگہبان ہیں۔ کنبہ بطور کشتی کے ہے، اور مرد اس کے ملاح ہیں۔ اگر ملاح نہ ہو تو کشتی پانی کی موجوں میں ڈوب جائے گی، یا کسی کنارے پر ٹکر کھا کر پھٹ پڑے گی۔ کنبے میں اگر مرد منتظم نہیں تو اس میں ہر طرح کی خرابی کا احتمال ہے۔

کبھی نہیں خیال کرنا چاہیے کہ دنیا میں خوشی دولت اور مال داری سے حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں بھی شک نہیں کہ دولت اکثر خوشی کا باعث ہوتی ہے، بہت بڑے اور اونچے گھروں میں لڑائی اور فساد ہم زیادہ پاتے ہیں۔ خانہ داری میں خوشی صرف اتفاق اور صلح کاری سے ہوتی ہے۔ غریب آدمیوں کو ہم دیکھتے ہیں جن کی آمدنی بہت مختصر ہے، دن کو محنت مزدوری سے معاش پیدا کرتے ہیں، رات کو سب مل کر دال روٹی سے اپنا اپنا پیٹ بھر لیتے اور ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہتے؛ بے شک یہ لوگ صلح کاری کے سبب دال روٹی اور گاڑھے دھوتر میں زیادہ آرام سے ہیں، بہ نسبت نوابوں اور بیگموں کے، جن کا تمام عیش آپس کی ناسازگاری سے تلخ رہتا ہے۔ اے میری پیاری بیٹی اصغری خانم، اتفاق پیدا کرو، اور صلح کاری کو غنیمت جانو۔

اب دیکھنا چاہیے کہ اتفاق کن باتوں سے پیدا ہوتا ہے: نہ صرف اس بات سے کہ بیوی اپنے میاں سے محبت کرے، بلکہ محبت کے علاوہ اس کو میاں کا ادب بھی کرنا لازم ہے۔ بڑی نادانی ہے اگر بیوی برابر درجے میں میاں کو سمجھے؛ بلکہ اس زمانے میں عورتوں نے ایسا خراب دستور اختیار کیا ہے کہ وہ ادب کے بالکل خلاف ہے۔ جب چند سہیلیاں آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتی ہیں تو اکثر یہ تذکرہ ہوتا ہے کہ فلانی کا میاں اس کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ رکھتا ہے۔ ایک کہتی ہے، ’بوا، میں نے تو یہاں تک ان کو دبایا ہے، کیا مجال جو میری بات کو کاٹیں، یا الٹ کر جواب دیں؟‘ دوسری فخر کرتی ہے، ’جب تک گھڑیوں خوشامد نہ کریں، میں کھانا نہیں کھاتی۔‘ تیسری بڑائی مارتی ہے، ’میں تو جب وہ دس مرتبہ پوچھتے ہیں، تب ایک جواب مشکل سے دیتی ہوں۔‘ چوتھی ڈینگ لیتی ہے، ’چاہے وہ آپ پہروں نیچے بیٹھے رہیں، بندی کو پلنگ سے اترنا قسم ہے۔‘ پانچویں شیخی بگھارتی ہے، ’جو میری زبان سے نکلتا ہے، پورا کرا کے رہتی ہوں۔‘ شادی بیاہ میں ٹونے ٹوٹکے بھی اسی غرض سے نکلے ہیں کہ میاں مطیع و فرماں بردار رہے۔ کہیں تو جوتی پر کاجل پاڑ کر میاں کے سرمہ لگایا جاتا ہے؛ اس کا یہ مطلب کہ عمر بھر جوتیاں کھاتا رہے اور چوں نہ کرے۔ کہیں نہاتے وقت انگوٹھے کے تلے بیڑا رکھا جاتا ہے اور میاں کو کھلایا جاتا ہے؛ اس کے یہ معنی کہ پیروں پڑتا رہے۔ ان باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ عورتیں مردوں کا درجہ اور اختیار کم کرنے پر آمادہ ہیں؛ لیکن یہ تعلیم بہت بری تعلیم ہے، اور ہمیشہ اس کا نتیجہ قباحت سے خالی نہیں۔ مردوں کو خدا نے شیر بنایا ہے؛ اگر دباؤ اور زبردستی سے کوئی ان کو زیر کرنا چاہے، ناممکن ہے۔ بہت آسان ترکیب ان کو زیر کرنے کی خوشامد اور تابعداری ہے۔ اور جو احمق عورت اپنا دباؤ ڈال کر مرد کو زیر کرنا چاہتی ہے، وہ بڑی غلطی میں ہے؛ وہ شروع سے تخمِ فساد بوتی ہے، اور انجام اس کا ضرور فساد ہو گا، اگرچہ وہ اس کو بالفعل نہیں سمجھتی۔ اصغری خانم، میری صلاح یہ ہے کہ تم گفتگو اور نشست و برخاست میں بھی اپنے میاں کا ادب ملحوظ رکھنا۔

کیا وجہ ہے کہ شادی بیاہ ایسے چاؤ سے ہوتا ہے، اور چوتھی کے بعد بہو سے ساس نندوں کا بگاڑ شروع ہو جاتا ہے؟ یہ مضمون غور کے قابل ہے۔ بیاہ کے پہلے تک لڑکی ماں باپ میں رہی، اور صرف انہیں کے ساتھ اس کو تعلق تھا۔ ماں باپ نے اس کو پرورش کیا، اور یہ توقع کرتے رہے کہ بڑھاپے میں ہماری خدمت کرے گا۔ بیاہ کے بعد بہو ڈولی سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگتی ہے کہ میاں آج ماں باپ کو چھوڑ دیں۔ پس لڑائی ہمیشہ بہوؤں کی طرف سے شروع ہوتی ہے۔ اگر بہو کنبے میں مل کر رہے، اور کبھی ساس کو یہ نہ معلوم ہو کہ یہ بیٹے کو ہم سے چھڑانا چاہتی ہے، تو ہرگز فساد نہ پیدا ہو۔ یہ تو سب کوئی جانتا ہے کہ بیاہ کے بعد ماں باپ سے تعلق چند روزہ ہے؛ آخر گھر الگ ہو گا، میاں بیوی جدا ہو کر رہیں گے؛ دنیا میں یہی ہوتا آیا۔ لیکن نہیں معلوم کم بخت بہوؤں کو بے صبری کہاں کی ہوتی ہے کہ جو کچھ ہونا ہو، اسی دم ہو جائے۔

بہوؤں میں ایک عیب چغلی کا ہوتا ہے جس سے زیادہ فساد ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ سسرال کی ذرا ذرا بات آ کر ماں سے کہا کرتی ہیں، اور مائیں خود بھی کھود کرید کر پوچھا کرتی ہیں؛ لیکن اس کہنے اور پوچھنے سے، سوائے اس کے کہ لڑائیاں پڑیں اور جھگڑے کھڑے ہوں، کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بعض بہوئیں اس طرح کی مغرور ہوتی ہیں کہ سسرال میں کیسا ہی اچھا کھانا اور کیسا ہی اچھا کپڑا ان کو ملے، ہمیشہ نظرِ حقارت سے دیکھتی ہیں۔ ایسی باتوں سے میاں کی دل شکنی ہوتی ہے۔ اصغری، اس کی تم کو بہت احتیاط چاہیے۔ سسرال کی ہر ایک چیز قابلِ قدر ہے، اور تم کو ہمیشہ کھانا کھا کر اور کپڑا پہن کر بشاشت ظاہر کرنی چاہیے، جس سے معلوم ہو کہ تم نے پسند کیا۔

سسرال میں نئی دلہن کو اس بات کا خیال بھی ضرور رکھنا چاہیے کہ بے دلی سے وہاں نہ رہے۔ اگرچہ ناآشنا ہونے کے سبب البتہ اجنبی لوگوں میں جی نہیں لگتا، لیکن جی کو سمجھانا چاہیے؛ نہ یہ کہ ’روتے گئے، وہاں رہے تو روتے؛ جاتے دیر نہیں ہوئی، آنے کا تقاضا شروع ہوا۔‘ رفتہ رفتہ انس پیدا کرنے کے واسطے چالوں کا رواج بہت پسندیدہ ہے؛ اس سے زیادہ میکے کا شوق ظاہر کرنا سسرال والوں کو ضرور ناپسند ہوتا ہے۔

گفتگو میں درجۂ اوسط ملحوظ رہے، یعنی نہ اتنی بہت کہ خود بخود بک بک، نہ اتنی کم کہ غرور سمجھا جائے۔ بہت بکنے کا انجام رنجش ہوتا ہے؛ جب رات دن کی بکواس ہو گی، ہزاروں طرح کا تذکرہ ہو گا، نہیں معلوم کس تذکرے میں کیا بات منہ سے نکل جائے۔ نہ اتنی کم گوئی اختیار کرنی چاہیے کہ اب بولنے کے واسطے لوگ خوشامد اور منت کریں۔ ضد اور اصرار کسی بات پر زیبا نہیں؛ اگر کوئی بات تمہاری مرضی کے خلاف بھی ہو، اس وقت ملتوی رکھو، پھر کسی دوسرے وقت بہ طرزِ مناسب طے ہو سکتی ہے۔ فرمائش کسی چیز کی نہ کرنی چاہیے؛ فرمائش کرنے سے آدمی نظروں میں گھٹ جاتا ہے، اور اس کی بات ہیٹی ہو جاتی ہے۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں، تم کو اپنے ہاتھوں سے کرنا عار نہ سمجھنا چاہیے۔ چھوٹوں پر مہربانی اور بڑوں کا ادب ہر دل عزیز ہونے کے واسطے بڑی عمدہ تدبیر ہے۔ اپنا کوئی کام دوسروں کے ذمے نہیں رکھنا چاہیے، اور اپنی کوئی چیز بے خبری سے نہ پڑی رکھنی چاہیے کہ دوسرے اس کو اٹھا لیں گے۔ جب دو آدمی چپکے چپکے باتیں کریں، ان سے علیحدہ ہو جانا چاہیے؛ پھر اس کی فکر بھی مت کرو کہ یہ آپس میں کیا کہتے تھے، اور خواہ مخواہ یہ بھی مت سمجھو کہ کچھ ہمارا ہی تذکرہ تھا۔ اپنا معاملہ شروع سے ادب لحاظ کے ساتھ رکھو؛ جن لوگوں میں بہت جلد نہایت درجے کا اختلاط پیدا ہو جاتا ہے، اسی قدر جلد ان میں رنجش پیدا ہونے لگتی ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ تم ہر روز، بلا ضرورت بھی، اس خط کو کم از کم ایک دفعہ پڑھ لیا کرو، تاکہ اس کا مطلب پیشِ نظر رہے۔ والدعا! حریرۂ دوراندیش خاں۔“

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.