
Chapitre 5 sur 20
The Hajjan's Tricks
حجن کی چالاکیاں
کئی دن کے بعد مزاج دار نے حجن سے پوچھا، ”کیوں بی، آج کل بیگم کی کوئی چیز نہیں لاتیں؟“ حجن نے جان لیا کہ اس کو اچھی لت لگ گئی ہے۔ کہا، ”تمہارے ڈھب کی کوئی چیز نکلے تو لاؤں۔“
دو چار دن کے بعد جھوٹے موتیوں کی ایک جوڑی لائی، اور کہا، ”لو بی، خود بیگم کی نتھ کے موتی ہیں؛ نہیں معلوم ہزار کی جوڑی ہے یا پانسو کی۔ پنا مل جوہری کی دکان پر میں نے دکھائی تھی، لٹو ہو گیا، دو سو روپے میرے پلے باندھے دیتا تھا۔ میں بیگم سے پچاس روپے پر لائی ہوں؛ تم لے لو، پھر ایسا مال نہ ملے گا۔“
مزاج دار نے کہا، ”پچاس روپے نقد تو میرے پاس نہیں ہیں۔“
حجن نے کہا، ”کیا ہوا بیٹی؟ پہونچیاں بیچ کر لے لو؛ نہیں، تم جانو، آج یہ موتی بک جائیں گے۔“
حجن نے اس ڈھب سے کہا کہ مزاج دار فوراً زیور کا صندوقچہ اٹھا لائی، اور حجن کو پہونچیاں نکال کر حوالے کر دیں۔ حجن نے مزاج دار کا زیور دیکھ کر کہا، ”اے ہے، کیسی بے احتیاطی سے زیور مولی گاجر کی طرح ڈال رکھا ہے! بیٹی، دھگدھگی میں ڈورا ڈلواؤ؛ بالی، پتے، مگر، مرکیاں، بازوبند میلے چکٹ ہو گئے ہیں؛ میل سونے کو کھائے جاتا ہے، ان کو اجلواؤ۔“
مزاج دار نے کہا، ”کون ڈورا ڈلوائے؟ اور کون اجلی کرا لائے؟ ان سے کہتی ہوں تو وہ کہتے ہیں، ’مجھے فرصت نہیں۔‘“
حجن نے کہا، ”اے بی بیٹی، یہ کون بڑا کام ہے؟ لو، موتی رہنے دو، میں ابھی ڈورا ڈلوا لا دوں؛ اور جو زیور میلا ہے، مجھے نکال دو، میں ابھی اجلوا دوں۔“
مزاج دار نے سب زیور حوالے کیا۔ حجن نے کہا، ”زلفن کو بھی ساتھ کر دو، وہ سنار کے پاس بیٹھی رہے گی، میں پٹوے سے ڈورے ڈلواؤں گی۔“ مزاج دار نے کہا، ”اچھا۔“ یہ کہہ کر زلفن کو آواز دی۔ آئی تو حجن نے کہا، ”لڑکی، ذرا میرے ساتھ چل، سنار کی دکان پر بیٹھی رہیو۔“
حجن نے زیور لیا، زلفن ساتھ ہوئی۔ گلی سے باہر نکل کر حجن نے رومال کھولا، اور زلفن سے کہا، ”لاؤ، اجلوانے کا الگ کر لیں اور ڈورا ڈلوانے کا الگ۔“
زیور کو الگ کرتے کرتے حجن بولی، ”ہیں، ناک کی کیل کہاں ہے؟“ زلفن نے کہا، ”اسی میں ہو گی، ذرا بھر کی تو چیز ہے، اسی پوٹلی میں دیکھو۔“ پھر حجن آپ ہی آپ بولی، ”اے ہے! پاندان کے ڈھکنے پر رکھی رہ گئی۔ اری زلفن، دوڑ تو جا، جلدی سے لے آ۔“
زلفن بھاگی بھاگی آئی، اور دروازے سے چلائی، ”بی بی، ناک کی کیل پاندان کے ڈھکنے پر رہ گئی ہے، حجن نے مانگی ہے، جلدی دو؛ حجن گلی کے نکڑ پر دیبا بنیے کی دکان کے آگے بیٹھی ہے۔“
یہ کہنا تھا اور مزاج دار بہو کا ماتھا ٹھنکا۔ زلفن سے کہا، ”باؤلی ہوئی ہے؟ کیسی کیل؟ میرے پاس کہاں تھی؟ تو نے دیکھی ہے؟ اری کم بخت، دوڑ، دیکھ تو حجن کہیں چلی نہ جائے!“
زلفن الٹے پاؤں دوڑی گئی؛ حجن کو ادھر دیکھا، ادھر دیکھا، کہیں پتا نہ ملا۔ مزاج دار سے آ کر کہا، ”بی، حجن کا تو کہیں پتا نہیں؛ میں بازار تک دیکھ آئی۔ اتنی دیر میں نہیں معلوم کہاں غائب ہو گئی۔“
یہ سن کر مزاج دار سر پیٹنے لگی، ”ہائے، میں لٹ گئی! ہائے، میں لٹ گئی! ارے لوگو، خدا کے لیے دوڑیو!“
موم گروں کے چھتے تک لوگ دوڑے۔ وہیں جا کر معلوم ہوا کہ کہیں کی بہتی بہاتی مہینہ بھر سے کرائے پر آ کر رہی تھی، چار دن سے مکان چھوڑ چلی گئی۔ اب کیا ہو سکتا تھا؟ محمد عاقل نے آ کر سنا، سر پیٹ لیا، اور بیوی سے کہا، ”اری، تو گھر کو خاک سیاہ کر کے چھوڑے گی؛ میں تجھ کو پہلے سے جانتا ہوں۔“
مزاج دار نے کہا، ”چل، دور ہو! اب باتیں بنانے کھڑا ہوا ہے! ازاربند دیکھ کر تو نے آپ مجھ سے نہیں کہا کہ ’ہاں، بیگم کا اسباب ضرور دیکھنا‘؟“
غرض خوب مزے کی لڑائی دونوں میاں بیوی میں ہوئی؛ تمام محلہ جمع ہو گیا۔ بات پر بات چلی تو معلوم ہوا کہ اسی حجن نے کنچنی گلی میں احمد بخش خاں کی بیوی کا تمام زیور اس حیلے سے ٹھگ لیا کہ ایک فقیر سے دونا کر لاؤں گی۔ روئی کے کٹرے میں میاں مسیتا کی بیٹی سے ایسی محبت بڑھائی کہ ان کا زیور عاریت کے حیلے سے اڑا لے گئی۔ غرض زیور تو گیا گزرا ہوا، باتیں بہت سی رہ گئیں۔
برتن چوری جا چکے تھے؛ زیور یوں غارت ہوا؛ ہزار روپے کے موتیوں کی جوڑی جو لوگوں نے دیکھی تو تین پیسے کی تھی۔ تھانے میں اطلاع ہوئی؛ لوگوں نے بطورِ خود بہت ڈھونڈا، حجن کا سراغ نہ ملا، پر نہ ملا۔
اکبری کو جہیز میں جو کپڑے ملے تھے، ان کا حال سنیے۔ جب تک ساس کے ساتھ رہیں، ساس دسویں پندرھویں دن نکال کر دھوپ دے دیا کرتی تھیں۔ برسات میں الگ ہو کر رہیں؛ کپڑوں کا صندوق جس کوٹھری میں جس طرح رکھا گیا تھا، تمام برسات گزر گئی، اس کو دیکھنا نصیب نہ ہوا، وہیں اسی طرح رکھا رہا۔ جاڑے کی آمد میں دلائی کی ضرورت ہوئی تو صندوق کھولا گیا۔ بہت سے کپڑوں کو دیمک چاٹ گئی تھی، چوہوں نے کٹ کٹ کر بغارے ڈال دیے تھے؛ کوئی کپڑا سلامت نہیں بچنے پایا۔ جو لڑکیاں چھٹپن میں لاڈ پیار میں رہا کرتی ہیں، اور ہنر اور سلیقہ نہیں سیکھتیں، یوں اکبری کی طرح عمر بھر رنج و تکلیف اٹھاتی ہیں۔ اکبری کا جتنا حال تم نے پڑھا، اس سے تم کو معلوم ہوا ہو گا کہ اکبری کو ماں اور نانی کے لاڈ نے اس کی زندگی بھر کیسی مصیبت میں رکھا۔ لڑکپن میں اکبری نے نہ تو کوئی ہنر سیکھا، نہ کچھ اس کے مزاج کی اصلاح ہوئی۔ جب اکبری نے ساس سے جدا ہو کر الگ گھر کیا، برتن بھانڈا، کپڑا، زیور، سب کچھ اس کے پاس موجود تھا؛ چونکہ خانہ داری کا سلیقہ نہیں رکھتی تھی، چند روز میں تمام مال اسباب خاک میں ملا دیا، اور ایک ہی برس میں ہاتھ کانوں سے ننگی رہ گئی۔ اگر محمد عاقل بھی اس کی طرح احمق و بدمزاج ہوتا تو شاید ایک دوسرے سے قطعِ تعلق ہو جاتا؛ لیکن محمد عاقل نے ہمیشہ عقل و شرافت کو برتا۔
اب سنو اصغری کا حال۔
یہ لڑکی اس گھر میں ایسی تھی جیسے باغ میں گلاب کا پھول، یا آدمی کے جسم میں آنکھ۔ ہر ایک طرح کا ہنر، ہر ایک طرح کا سلیقہ اس کو حاصل تھا۔ عقل، ہنر، حیا، لحاظ، سب صفتیں خدا نے اصغری کو عنایت کی تھیں۔ لڑکپن سے اس کو کھیل کود، ہنسی اور چھیڑ سے نفرت تھی؛ پڑھنا یا گھر کا کام کرنا۔ کبھی اس کو کسی نے واہیات بکتے یا کسی سے لڑتے نہیں دیکھا۔ محلے کی جتنی عورتیں تھیں، سب اس کو بیٹیوں کی طرح چاہتی تھیں۔ بے شک، زہے قسمت اس ماں اور باپ کی جن کی بیٹی اصغری تھی، اور خوش نصیب اس گھر کے جس میں اصغری بہو بن کر جانے والی تھی۔
اب خدا کے فضل و کرم سے اصغری کی عمر تیرہ برس کی ہوئی۔ بات تو اس کی محمد کامل سے ٹھہری ٹھہرائی تھی؛ اب چرچے ہونے لگے کہ مہینہ اور دن مقرر ہو جائے۔ ادھر محمد کامل کی ماں اکبری کے ڈھنگ دیکھ کر اتنا ڈر گئی تھی (مثل ہے کہ ”دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے“) کہ اکبری کے تصور سے بدن پر رونگٹے کھڑے ہوتے تھے۔ در پردہ محمد کامل کی ماں کا ارادہ تھا کہ چھوٹے لڑکے کی منگنی دوسرے گھر میں کروں۔ محمد عاقل کو کسی طرح معلوم ہو گیا، اور اس نے ماں سے کہا، ”اماں، میں نے سنا ہے، تم محمد کامل کی منگنی چھڑانا چاہتی ہو۔“
ماں نے کہا، ”کیا بتاؤں بیٹا، بڑے سوچ میں ہوں، کیا کروں کیا نہ کروں۔ تم سے میری آنکھ سامنے نہیں ہوتی؛ خدا نے مجھ کو تمہارا گنہگار بنا دیا۔ دیکھیے، محمد کامل کی قسمت کیسی ہے۔“
محمد عاقل نے کہا، ”اماں، میں سچ کہتا ہوں، اصغری ہزار لڑکیوں میں ایک ہے؛ عمر بھر چراغ لے کر ڈھونڈو گی تو اصغری جیسی لڑکی نہ پاؤ گی۔ صورت سیرت دونوں میں خدا نے اس کو فائق اور لائق بنایا ہے۔ ہرگز اندیشہ مت کرو، بسم اللہ کر کے بیاہ کروا لو۔ اور بڑی بہن پر جو خیال کرو تو آپ نے سنا ہو گا: (بیت)
نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مردخدا پنج انگشت یکساں نہ کرد
اپنا اپنا مزاج ہے اور اپنی اپنی طبیعت: (شعر)
گل جو چمن میں ہیں ہزار
دیکھ ظفر ہے کیا بہار
سب کی ہے رنگ الگ الگ
سب کی ہے بو الگ الگ
تمہاری بڑی بہو کو (لا حول ولا قوۃ!) اصغری سے کیا نسبت؟ (مصرع)
چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک
خدا راست لائے، بیاہ کے بعد میری بات کا تم کو یقین حاصل ہو گا۔“
محمد عاقل نے جو اصغری کی اس قدر تعریف بیان کی، پھر محمد کامل کے ساتھ جو بات تھی، وہ پکی ہو گئی۔ غرض دونوں سمدھیانوں کی صلاح سے یہ امر قرار پایا کہ بقرعید کے اگلے دن اصل خیر سے نکاح ہو۔
اصغری کا باپ دوراندیش خاں پہاڑ پر نوکر تھا؛ اس کو خط گیا۔ خط کے پہنچتے ہی خاں صاحب کی باچھیں کھل گئیں؛ اصغری کو سب بچوں میں بہت چاہتا تھا۔ فوراً رخصت کی درخواست کی؛ جواب صاف ملا۔ بہت زور مارے، ایک نہ چلی؛ جاڑے کی آمد تھی، دورہ شروع ہونے کو تھا، حاکم کو بھی بہانہ معقول تھا۔ دوراندیش خاں کو رخصت نہ ملنے سے بہت رنج ہوا، مگر بندگی و بےچارگی، کیا کرتا؟ ”قہرِ درویش بر جانِ درویش“، چپ ہو کر بیٹھ رہا۔ لیکن بڑا بیٹا خیراندیش خاں ساتھ تھا؛ پانسو روپے نقد دے اس کو گھر روانہ کیا، اور سب پس و پیش سمجھا دیا۔ گھر پر زیور، کپڑا، برتن، سب پہلے سے موجود تھا۔ خیراندیش خاں نے مکان پر پہنچ کر چاول، گھی، گیہوں، مصالحہ، نمک، سب بقدرِ ضرورت خرید لیا۔ اصغری کے کپڑوں میں مصالحہ ٹکنا شروع ہوا۔ ماں کا ارادہ تھا کہ اصغری کو بڑی بہن کی بہ نسبت بڑھ چڑھ کر جہیز ملے؛ جوڑے بھی اس کے بھاری ہوں، زیور کے عدد بھی زیادہ ہوں، برتن بھی استعمالی وزنی دیے جائیں۔ اصغری آخر اسی گھر میں رہتی تھی، جو بات ہوتی، اس کو ضرور معلوم ہو جاتی۔ جب اصغری نے سنا کہ مجھ کو آپا سے زیادہ جہیز ملنے والا ہے، بے وقوف لڑکی ہوتی تو خوش ہوتی؛ اصغری کو رنج ہوا، اور اس فکر میں ہوئی کہ کس تدبیر سے اماں کو منع کر دوں۔ آخر تماشا خانم، اپنی خالہ زاد بہن سے شرماتے شرماتے کہا کہ ”میں نے ایسا ایسا سنا ہے، مجھ کو اس کا نہایت سوچ لگا ہے۔ کئی دن سے نہایت فکر میں تھی، الٰہی کیا کروں۔ اچھا ہوا، تم آ نکلیں؛ بوجہِ ہم عمری تم سے کہنے میں تامل نہیں۔ کوئی اماں کو اتنی بات سمجھا دے کہ مجھ کو آپا سے زیادہ ایک چیز نہ دیں۔“
تماشا خانم نے سن کر کہا، ”تم بھی، بوا، کوئی تماشے کی عورت ہو۔ وہی کہاوت ہے، گدھے کو نون دیا، اس نے کہا میری آنکھیں دکھتی ہیں۔ خدا دلواتا ہے، تم کیوں انکار کرو؟“
اصغری نے کہا، ”تم دیوانی ہوئی ہو؟ اس میں کئی قباحتیں ہیں۔ آپا کے مزاج سے تم واقف ہو، ان کو ضرور رنج ہو گا؛ ناحق اماں سے بدمزگی ہو گی؛ مجھ سے بھی ان کو بدگمانی پیدا ہو گی۔“
تماشا خانم نے کہا، ”بوا، اس میں رنج کی کیا بات ہے؟ اپنی اپنی قسمت ہے؛ اور سمجھنے کو سو طرح کی باتیں ہیں۔ ان کی بسم اللہ کی شادی ہوئی، روزہ رکھا گیا، چار برس تک منگنی رہی، تیج تہوار ان کا کون سا نہیں ہوا؟ ان کی کسر ادھر سمجھ لیں۔“
اصغری نے کہا، ”سچ ہے، مگر نام تو جہیز کا ہے۔ چھوٹی کو زیادہ ملے گا تو بڑی کو رنج ہو ہی گا۔ ایک محلے کا رہنا، روز کا ملنا ملانا؛ جس بات سے دلوں میں فرق پڑے، کیوں کی جائے؟“
تماشا خانم نے کہا، ”بہن، ناحق تم اپنا نقصان کرتی ہو؛ اجی، مہینے دو مہینے میں سب بھول بسر جائیں گے۔“
اصغری نے کہا، ”اری بی، اللہ اللہ کرو! نفع نقصان کیسا؟ کہیں ماں باپ کے دینے سے پوری پڑتی ہے؟ اور جہیز سے عمریں کٹتی ہیں؟ خدا اپنی قدرت سے دے۔ تم اس بات میں اصرار مت کرو، نہیں تو میں کچھ دوسری تدبیر کروں؛ مجھ کو کسی طرح منظور نہیں۔“
غرض اصغری کی ماں تک یہ بات پہنچ گئی، اور وہ بھی کچھ سوچ سمجھ کر اپنے ارادے سے باز رہی، اور دل میں کہنے لگی، ”دینے کے سو ڈھب ہیں، دوسری جگہ سمجھ لوں گی۔“
الغرض روزِ مقرر کو ساعتِ نیک میں نکاح ہو گیا؛ ”مبارک“ ”سلامت“ ہونے لگی۔ خیراندیش خاں ایسا منتظم آدمی تھا کہ اکیلے نے نہایت خوبی کے ساتھ بہن کا بیاہ کر دیا۔ براتیوں کی مدارات علیٰ قدرِ مراتب خوب ہوئی؛ حق حقوق والوں کو بہت خاصی طرح راضی کر دیا۔ جب اصغری کی رخصت کا وقت آ پہنچا، گھر میں آفت برپا تھی۔ ماں پر تو نہایت درجے کا صدمہ تھا۔ محلے کی بیبیوں کا یہ حال تھا کہ آ آ کر اصغری کو گلے لگا لگا روتی تھیں، اور ہر ایک کے دل سے دعا نکلتی تھی۔ اصغری ان دعاؤں کا بڑا بھاری جہیز لے کر سسرال میں داخل ہوئی۔
وہاں کی رسمیں جو تھیں، ادا ہوئیں۔ رونمائی کے بعد اصغری خانم کو ”تمیز دار بہو“ کا خطاب ملا۔
آگے چل کر تم کو معلوم ہو جائے گا کہ اصغری نے خانہ داری کو کس طرح پر سنبھالا، کیا کیا مشکلیں اس کو پیش آئیں، اور اس نے اپنی عقل سے کیونکر ان کو رفع کیا۔ ذرا اصغری کی حالت کو اکبری کی حالت سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ اصغری ماں کی دوسری بیٹی اور ساس کی دوسری بہو تھی؛ دونوں طرف کے ارمان اور حوصلے اکبری کے بیاہ میں نکل چکے تھے۔ اکبری سولہ برس کی بیاہی گئی تھی، اور اصغری بیاہ کے وقت پورے تیرہ برس کی بھی نہ تھی۔ جب اکبری کا بیاہ ہوا، اس کا دولہا محمد عاقل دس روپے کا نوکر تھا؛ اور اصغری کا دولہا محمد کامل ہنوز پڑھتا ہی تھا۔ محمد عاقل کی بہ نسبت محمد کامل کم علم اور کم عقل بھی تھا۔ اکبری کامل دو برس تک بال بچوں کے بکھیڑے سے آزاد رہی، اور اصغری کو خدا نے بیاہ کے دوسرے برس ہی چھوٹی سی عمر میں ماں بنا دیا۔ اکبری کو کبھی شہر سے باہر نکلنے کا اتفاق نہیں ہوا، اصغری برسوں سفر میں رہی۔ پس بہرحال اصغری کی حالت اکبری کی حالت کے مقابلے میں اچھی نہ تھی؛ مگر اصغری کو چھٹپن سے تربیت ہوئی تھی۔ روز بروز گھر میں برکت زیادہ ہوتی جاتی تھی، یہاں تک کہ اکبری کا نام بھی کوئی نہیں جانتا، اور خانم کے بازار میں تمیز دار بہو ہی کا وہ عالی شان محل کھڑا ہے کہ آسمان سے باتیں کرتا ہے، اور اصغری خانم کے نام سے وہ محلہ خانم کا بازار مشہور ہوا۔ جوہری بازار میں وہ اونچی مسجد، جس میں حوض اور کنواں ہے، تمیز دار بہو ہی کی بنوائی ہوئی ہے۔ خاص بازار سے آگے بڑھ کر لال ڈگی کی بغل میں تمیز گنج اسی کا ہے۔ مولوی محمد حیات صاحب کی مسجد میں اب تک بیس مسافروں کو اس کے لنگرخانے سے خمیری روٹی اور چنے کا قلیہ دونوں وقت پہنچا کرتا ہے۔ قطب صاحب میں اولیا مسجد کے برابر سرائے اسی تمیز دار بہو کی بنوائی ہوئی ہے۔ فتح پوری میں بمبئی کے چھاپے کے پانسو قرآن ایک دن اسی نے تقسیم کیے تھے۔ ہزار کمل آتے جاڑے اب تک مسکینوں کو اسی کے گھر سے ملا کرتے ہیں۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.