Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 4 из 20

Asghari's Counsel

اصغری کی صلاح

Назир Ахмад

Письмо
Размер

یہ لوگ تو سو رہے؛ محمد عاقل رات بھر اسی خیال کے ادھیڑ بن میں رہا، اور دل ہی دل میں باتیں کرتا رہا۔ صبح کو اٹھا تو دیکھا اصغری جھاڑو دے رہی ہے۔ اس کو دیکھ کر اصغری نے سلام کیا اور کہا، ”بھائی صاحب، وضو کے واسطے گرم پانی موجود ہے۔“

محمد عاقل نے کہا، ”نہیں بھئی، مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔“

اصغری نے کہا، ”بھائی صاحب، چلے نہ جائیے گا، آپ کے واسطے چائے بنائی ہے؛ لیکن سادی پیجیے گا یا دودھ کی؟“

محمد عاقل نے کہا، ”جیسی مل جائے۔“ اصغری بولی، ”آپ کی آواز کچھ بھاری بھاری لگتی ہے، شاید نزلے کی تحریک ہے، تو دودھ ضرر کرے گا۔“

محمد عاقل نے کہا، ”نہیں، نزلے کی تحریک تو نہیں ہے؛ رات کو اماں جان کے ساتھ بہت دیر تک باتیں کرتا رہا، بدخوابی البتہ ہے۔“

محمد عاقل نماز پڑھ کر واپس آیا تو ساس کو دیکھا، نماز سے فارغ ہو کر پان کھا رہی ہیں؛ سلام کر کے بیٹھ گیا۔ اصغری نے سینی لا کر سامنے رکھ دی: چائے دان میں گرما گرم چائے، دو پیالیاں، دو چمچے، اور ایک طشتری میں قند۔ محمد عاقل نے چائے پی؛ خوش ذائقہ، خوش رنگ، بو باس درست؛ پی کر جی باغ باغ ہو گیا۔ اکبری حسبِ عادت پڑی سوتی تھی۔ محمد عاقل نے کہا، ”اماں جان، ان کو بھی نماز کی تاکید کیجیے۔“ ساس نے کہا، ”بیٹا، یہ اپنی نانی کی بہت چہیتی ہیں؛ ان کی محبت نے اس کا مزاج، اس کی عادت، سب خراب کر رکھی ہے۔ جب یہ چھوٹی تھی اور میں کسی بات پر گھڑک بیٹھتی تھی تو کئی کئی دن تک مجھ سے بولنا چھوڑ دیتی تھیں؛ اور یہ تو کیا مجال تھی کہ اکبری کو کوئی ہاتھ لگا دے! اکبری بات بات پر ضد کرتی، چیزوں کو توڑتی پھوڑتی؛ ان کے ڈر کے مارے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اسی بات پر اکبری کے باپ سے روز بگاڑ رہتا تھا۔“

اب محمد عاقل رخصت ہونے لگا۔ چلتے چلتے ساس نے کہا کہ ”بیٹا، رات کی بات یاد رکھنا، اور ضرور اس کا کچھ بندوبست کرنا۔“

راہ میں محمد عاقل اسی کو سوچتا آیا۔ گھر میں پہنچا تو ماں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر فکر معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے سمجھا، ”ضرور آج سسرال میں لڑا۔“ پوچھا، ”محمد عاقل، میرے کہنے پر عمل نہ کیا؟“

محمد عاقل نے کہا، ”اماں، سچ کہتا ہوں، لڑائی بھڑائی کچھ بھی نہیں ہوئی۔“

ماں نے کہا، ”پھر سست کیوں ہے؟“

محمد عاقل نے کہا، ”کچھ بھی نہیں؛ سوتا اٹھ کر آیا ہوں، اس سبب سے شاید آپ کو میرا چہرہ اداس معلوم ہوتا ہو گا۔“ ماں نے کہا، ”لڑکے، ہوش میں آ! کیا تجھ کو سوتا اٹھ کر کبھی تھوڑا ہی دیکھا ہے؟ سچ بتا، کیا بات ہے؟“

محمد عاقل نے مجبور ہو کر رات کا تمام قصہ ماں کے روبرو بیان کیا۔ سنتے کے ساتھ ہی ماں کو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں تھا۔ لیکن عورت بڑی دانش مند تھی؛ کہنے لگی کہ ”ہرچند میری تمنا یہ تھی کہ جب تک میرے دم میں دم ہے، تم سب کو اپنے کلیجے سے لگائے رہوں، اور تم دونوں بھائی اتفاق سے رہو؛ لیکن میں دیکھتی ہوں تو سامان الٹے ہی الٹے نظر آتے ہیں۔ لے، آج میں تجھ سے کہتی ہوں کہ بیاہ کے دوسرے مہینے سے مزاج دار بہو کا ارادہ الگ گھر کرنے کا ہے۔ تو جو دس روپے مہینے کے مہینے لا کر مجھ کو دیتا ہے، ان کو نہایت ناگوار ہوتا ہے۔ آئے دن میں تمہاری بہو کی سہیلیوں سے سنتی رہتی ہوں کہ ’بہو بلی ماروں کے محلے میں مکان لیں گی، زلفن کو ساتھ لے جائیں گی۔‘ جب تک یہ سب لڑکیاں اکٹھی بیٹھی رہتی ہیں، یہی ذکر، یہی مذکور آپس میں رہا کرتا ہے۔ میں نے تمہاری خالیا ساس کے منہ پر ایک مرتبہ یہ بات بھی کہہ دی تھی کہ ’مزاج دار بہو کو اگر ہمارے ساتھ رہنا ناگوار ہے تو اپنا کھانا کپڑا الگ کر لیں، اور اسی گھر میں رہیں۔‘ پھر تمہاری خالیا ساس سے معلوم ہوا کہ مزاج دار بہو کو یہ بھی منظور نہیں۔ آدمی بیاہ خوشی اور آسائش کے واسطے کرتا ہے؛ روز کی لڑائی، آئے دن کا جھگڑا نہایت بری بات ہے۔ اگر تمہاری بیوی کو یہی منظور ہے، اور الگ رہنے سے ان کو خوشی ہے، تو بسم اللہ، ہم کو عذر نہیں۔ جہاں رہو، خوش رہو، آباد رہو۔ خدا نے ایک ممتا اولاد کی ہمارے پیچھے لگا دی ہے؛ سو کبھی تم ادھر کو آ نکلے، ایک نظر دیکھ لیا، صبر آ گیا؛ گھر کے کام دھندے سے کبھی چھٹکارا ملا، میں آپ چلی گئی، تم کو دیکھ آئی۔“

یہ کہنا تھا اور محمد عاقل کا جی بھر آیا، اور بے اختیار رونا شروع کیا، اور یہ سمجھا کہ ”آج ماں سے جدائی ہوتی ہے۔“ ماں بھی روئی۔ تھوڑی دیر بعد محمد عاقل نے کہا، ”میں تو الگ نہیں رہوں گا، بیوی رہے یا جائے۔“

ماں نے کہا، ”ارے بیٹا، یہ بھی کہیں ہوتا ہے؟ اشرافوں میں کہیں بیویاں بھی چھٹتی ہیں؟ تم کو اپنی عمر انہیں کے ساتھ کاٹنی ہے۔ ہمارا کیا ہے؟ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں؛ ’آج مرے کل دوسرا دن۔‘ میری صلاح مانو تو وہ جو کہیں سو کرو۔ ہم نے جس دن تمہارا بیاہ کیا، اسی دن سے تم کو الگ سمجھا۔ نہ تم انوکھے بیٹے، نہ میں انوکھی ماں؛ کون بیٹا اپنی ماں کے ساتھ رہا ہے؟“

محمد عاقل نے اپنے دوستوں سے بھی صلاح پوچھی۔ سب نے یہی کہا کہ ”رفعِ فساد بہتر ہے؛ اور ساتھ رہنے پر کیا منحصر ہے؟ ماں سے الگ رہو اور ان کی خدمت اور اطاعت کرو۔“

جب سب لوگوں نے یہی صلاح دی، محمد عاقل نے بھی کہا کہ ”خیر، الگ رہ کر بھی دیکھ لو۔ اگر یہ عورت سنبھل جائے، اور گھر کو گھر سمجھے، بدمزاجی، نافرمانی، بدزبانی چھوڑ دے، تو الگ رہنا عیب نہیں، گناہ نہیں۔ یہی نا کہ خانہ داری کی فکر کرنی پڑے گی اور تنگی سے گزرے گی؛ سو دنیا میں رہ کر فکر سے کسی حالت میں نجات نہیں۔ اب کچھ فکر نہیں، تو یہ ہر روز کا فساد بجائے خود عذاب ہے۔ اور تنگیِ رزق کا اندیشہ بھی بے جا ہے؛ جتنا رزق مقدر میں ہے، بہرحال پہنچے گا؛ آدمی کی سعی و تدبیر کو اس میں کیا دخل؟“ یہ سوچ کر محمد عاقل نے الگ ہو جانے کا ارادہ مصمم کر لیا۔

اتفاق سے اسی مکان سے متصل ایک مکان بھی خالی تھا۔ ایک روپیہ ماہواری کرائے پر اس کو ٹھہرا لیا، بلکہ سرقفلی دے کر سرخط بھی لکھ دیا؛ کنجی بھی لے لی، اور سسرال کہلا بھیجا کہ ”مکان قرار پا گیا ہے، آپ آئیں تو نئے مکان میں اٹھ چلیں۔“ اور اپنی ماں سے بھی کہہ دیا کہ ”یہی ترکش والا مکان لے لیا ہے۔“

ماں نے جتنا اسباب مزاج دار بہو کا تھا، کپڑوں کے صندوق، برتن، فرش، مسہری، پلنگ، سب ایک علیحدہ کوٹھری میں رکھوایا۔ شام کو مزاج دار بہو بھی آ پہنچیں۔ صبح اٹھ کر ماں نے کوٹھری کھول کر محمد عاقل سے کہا، ”لو بھئی، اپنی چیزیں دونوں میاں بیوی خوب دیکھ بھال لو۔“

محمد عاقل نے کہا، ”اماں، تم کیا کہتی ہو؟ کیا کوئی غیر جگہ تھی؟“

ماں نے کہا، ”بیٹا، یہ بات نہیں؛ ایسا نہ ہو، اٹھانے بٹھانے میں کوئی چیز ادھر ادھر ہو جائے۔“ اور ماما سے کہا کہ ”عظمت، تم اور ہمسائی یہ سب اسباب ترکش والے گھر میں پہنچا دو۔“

اکبری کی سہیلیاں، چنیا، رحمت، زلفن، سلمتی، آ پہنچیں، اور بات کی بات میں سارا اسباب اٹھا کر ادھر سے ادھر لے گئیں۔ مزاج دار بہو ہنسی خوشی نئے گھر میں آ کر بسیں۔ تین دن تک دونوں وقت محمد عاقل کی ماں نے کھانا بھیجا۔ چوتھے دن محمد عاقل نے بیوی سے کہا، ”لو صاحب، اب کچھ کھانے کا بندوبست شروع ہو۔“

مزاج دار نے کہا، ”سب اسباب ابھی بے ٹھکانے پڑا ہے؛ یہ رکھ جائے تو فراغت سے ہانڈی چولھے کو دیکھوں، ابھی تو مجھ کو فرصت نہیں۔“

غرض سات دن تک تنور پر روٹی پکتی رہی؛ رات کو کباب اور دن کو کبھی ربڑی کبھی دہی بازار سے منگواتے، اور دونوں میاں بی بی روٹی کھا لیتے۔ آخر محمد عاقل نے روز کہہ کہہ کر مزاج دار سے کھانا پکوایا۔ مزاج دار نے کبھی کھانا پکایا نہ تھا۔ روٹی پکائی تو عجیب صورت کی؛ نہ گول، نہ چوکونی؛ ایک کونا ادھر نکلا ہوا اور چار کونے ادھر؛ کنارے موٹے، بیچ میں ٹکیا؛ کہیں جلی، کہیں کچی؛ دھوئیں میں کالی۔ اور دال جو پکائی تو پانی الگ، دال الگ۔ غرض مزاج دار ایسا لذیذ اور لطیف کھانا پکاتی تھی کہ جس کو دیکھ کر بھوک بھاگ جائے۔ سالن پکاتی، بدرنگ، بدمزہ؛ نمک ڈالا تو زہر، اور کبھی پھیکا پانی۔ دو ایک دن تو محمد عاقل نے صبر کیا؛ آخرکار اس نے اپنی ماں کے گھر کھانا شروع کر دیا۔ مزاج دار نے بھی اپنے آرام کا ٹھکانا کر لیا؛ دونوں وقت بازار سے کچوریاں اور بالائی، کونڈا کھویا، ربڑی، کباب منگوا کر کھا لیا کرتی۔ کھانا جو پکتا، زلفن وغیرہ کھا کھا کر موٹی ہوئیں۔ ان بلیوں کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا؛ لیکن دس روپے مہینے میں یہ چکھوتیاں کیونکر ہو سکتی تھیں؟ چپکے چپکے اسباب بکنے لگا، مگر محمد عاقل کو اصلاً اس کی خبر نہ تھی۔

ایک روز محمد عاقل تو نوکری پر گیا تھا، مزاج دار دوپہر کو سو گئی۔ چنیا جو آئی، اس نے دیکھا بہو بے خبر سو رہی ہیں؛ اس نے اپنے بھائی میراں کو خبر کر دی۔ وہ بڑا شاطر بدمعاش تھا۔ مزاج دار تو سوتی کی سوتی رہیں، میراں آ کر دن دہاڑے تمام برتن چرا کر لے گیا۔ مزاج دار اٹھ کر جو دیکھیں تو گھر میں جھاڑو دی ہوئی ہے۔ کوٹھری کو قفل لگا ہوا تھا، اس کا اسباب تو بچا؛ باقی جو چیز اوپر تھی، ایک ایک کر کے لے گیا؛ اب پانی پینے تک کو کٹورا نہ رہا۔

محمد عاقل نوکری پر سے آیا تو سن کر بہت مغموم ہوا، لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ بیوی سے خوب لڑا اور خوب اپنا سر پیٹا؛ آخر رو دھو کر بیٹھ رہا۔ قرض دام کر کے ہلکی دو پتیلیاں مول لایا؛ چھوٹے چھوٹے برتن ماں سے مانگ لیے؛ لگن، توا، رکابی ساس نے بھیج دی۔ غرض کسی طرح کام چل نکلا۔

اتفاق سے ان دنوں میں ایک کٹنی اس شہر میں وارد تھی، اور تمام شہر میں اس کا غل تھا۔ محمد عاقل نے بھی بیوی سے کہہ دیا تھا کہ ”اجنبی عورت کو گھر میں مت آنے دینا؛ ان دنوں میں ایک کٹنی آئی ہوئی ہے، کئی گھروں کو لوٹ چکی ہے۔“ لیکن مزاج دار شدت سے بے وقوف تھی؛ اس کی عادت تھی ہر ایک سے جلد مل جانا۔ ایک دن وہی کٹنی حجن کا بھیس بنا اس کی گلی میں آئی۔ یہ حجن مکارہ بے وقوف عورتوں کے پھسلانے کے واسطے طرح طرح کے تبرکات اور صدہا قسم کی چیزیں اپنے پاس رکھا کرتی تھی: تسبیحِ خاکِ شفا، زمزمیاں، مدینۂ منورہ کی کھجوریں، کوہِ طور کا سرمہ، خانۂ کعبہ کے غلاف کا ٹکڑا، عقیق البحر اور مونگے کے دانے، اور نادِ علی، پنج سورے، اور بہت سی دوائیں۔ گلی میں آ کر جو اس نے دکان کھولی، بہت سی لڑکیاں جمع ہو گئیں۔ مزاج دار نے بھی سنا؛ زلفن سے کہا، ”گلی سے جب اٹھنے لگے، حجن کو یہاں لوا لانا، ہم بھی تبرکات کی زیارت کریں گے۔“ زلفن جا کھڑی ہوئی اور حجن کو لوا لائی۔ مزاج دار نے بہت خاطر داری سے حجن کو پاس بٹھایا اور سب چیزیں دیکھیں۔ سرمہ اور نادِ علی، دو چیزیں مزاج دار نے پسند کیں۔ حجن نے مزاج دار کو باتوں میں تاڑ لیا کہ یہ عورت ڈھب پر جلدی چڑھ جائے گی۔ ایک پیسے کا بہت سا سرمہ تول دیا، اور دو آنے کو نادِ علی حوالے کی؛ اور فیروزے کی ایک انگوٹھی مفت نذر کی۔ مزاج دار ریجھ گئیں۔

اس کے بعد حجن نے سمندر کا حال، عرب کی کیفیت، اور دل سے جوڑ کر دو چار باتیں ایسی کیں کہ مزاج دار نے کمال شوق سے سنا، اور اس کی طرف ایک کھنچ گیا۔ حجن نے پوچھا، ”کیوں بی، تمہارے کوئی بال بچہ نہیں؟“

مزاج دار نے کہا، ”ہماری ایسی تقدیر کہاں تھی؟“

حجن نے پوچھا، ”بیاہ کو کتنے دن ہوئے؟“ مزاج دار نے کہا، ”ابھی برس روز نہیں ہوا۔“ مزاج دار کی بے عقلی کا اب تو حجن کو یقین ہوا، اور دل میں کہنے لگی کہ ”اس نے تو اولاد کا نام سن کر ایسی آہ کھینچی جیسے کوئی برسوں کا امیدوار ہو۔“ حجن نے کہا، ”ناامیدی کی بات نہیں، تمہارے تو اتنے بچے ہوں گے کہ تم سنبھال نہ سکو گی۔ البتہ بالفعل اکیلے گھر میں جی گھبراتا ہو گا۔ میاں کا کیا حال ہے؟“

مزاج دار نے کہا، ”ہمیشہ مجھ سے ناخوش رہا کرتے ہیں۔“

غرض پہلی ہی ملاقات میں مزاج دار نے حجن سے ایسی بے تکلفی کی کہ اپنا حال جزو و کل اس سے کہہ دیا، اور حجن نے باتوں ہی باتوں میں تمام بھید معلوم کر لیا۔

ایک پہر کامل حجن بیٹھی رہی۔ رخصت ہونے لگی تو مزاج دار نے بہت منت کی، ”اچھی بی حجن، کب تک آؤ گی؟“

حجن نے کہا، ”میری بھانجی موم گروں کے چھتے میں رہتی ہے اور بہت بیمار ہے؛ اسی کے علاج کے واسطے میں آگرے سے آئی ہوں۔ اس کے دوا معالجے سے فرصت کم ہوتی ہے، مگر ان شاء اللہ تعالیٰ دوسرے تیسرے دن تم کو دیکھ جایا کروں گی۔“ اگلے دن حجن پھر آ موجود ہوئی، اور ایک ریشمی ازاربند لیتی آئی۔ مزاج دار دور سے حجن کو آتے دیکھ کر خوش ہو گئی، اور پوچھا، ”یہ ازاربند کیسا ہے؟“

حجن نے کہا، ”بکاؤ ہے۔“

مزاج دار نے پوچھا، ”کتنے کا ہے؟“

حجن نے کہا، ”چار آنے کا۔ میرے محلے میں ایک بیگم رہتی ہیں، اب گردش میں آ گئی ہیں، اسباب بیچ بیچ کر گزر کرتی ہیں؛ میں اکثر چیزیں بیچ لا دیا کرتی ہوں۔“

مزاج دار اتنا سستا ازاربند دیکھ کر لوٹ ہو گئی۔ فوراً پیسے نکال حجن کے ہاتھ دیے، اور بہت گڑگڑا کر حجن سے کہا، ”اچھی بی، جو چیز بکاؤ ہوا کرے، پہلے مجھ کو دکھا دیا کرو۔“

حجن نے کہا، ”بہت اچھا، پہلے تم اور پیچھے اور۔“

اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوا کیں۔ چلتے ہوئے حجن نے ایک بٹوا نکالا؛ اس میں کپڑے اور کاغذ کی کئی تہوں میں تھوڑی لونگیں تھیں۔ ان میں سے دو لونگیں حجن نے مزاج دار کو دیں، اور کہا کہ ”دنیا میں محبت اسی واسطے ہوا کرتی ہے کہ ایک دوسرے کو فائدہ ہو۔ یہ دو لونگیں میں تم کو دیتی ہوں؛ ایک تو تم اپنی چوٹی میں باندھ لو، دوسری، بہتر تھا کہ تمہارے میاں کی پگڑی میں رہتی، پر تمہارے میاں شاید شبہ کریں؛ خیر، تکیے میں سی دو، اور ان کا اثر آج ہی سے دیکھ لینا۔ لیکن اتنی احتیاط کرنا کہ پاک صاف جگہ میں رہیں۔ اور اپنے قد کے برابر ایک کلاوا مجھ کو ناپ دو، میں تم کو ایک گنڈا بنوا لا دوں گی۔ میں جب حج کو گئی تھی تو اسی جہاز میں بھوپال کی ایک بیگم بھی سوار تھیں، شاید تم نے ان کا نام بھی سنا ہو، بلقیس جہانی بیگم۔ سب کچھ خدا نے ان کو دے رکھا تھا؛ دولت کی کچھ انتہا نہ تھی؛ نوکر چاکر، لونڈی غلام، پالکی نالکی، سبھی کچھ تھا۔ ایک تو اولاد کی طرف سے مغموم رہا کرتی تھیں، کوئی بچہ نہ تھا؛ دوسرے نواب صاحب کو ان کی طرف مطلق التفات نہ تھا، اور شاید اولاد نہ ہونے کے سبب محبت نہ کرتے ہوں، ورنہ بیگم صورت شکل میں چندے آفتاب، چندے مہتاب؛ اور اس حسن و دولت پر مزاج ایسا سادہ کہ ہم جیسے ناچیزوں کو برابر بٹھانا اور بات پوچھنا! بیگم کو فقیروں سے پرلے درجے کا اعتقاد تھا۔ ایک دفعہ سنا کہ تین کوس پر کوئی کامل وارد ہیں؛ اندھیری رات میں اپنے گھر سے پیادہ پا ان کے پاس گئیں، اور پہر بھر تک ہاتھ باندھے کھڑی رہیں۔ فقیروں کے نام کے قربان جائیے! ایک مرتبہ جو شاہ صاحب نے آنکھ اٹھا کر دیکھا، فرمایا، ’جا مائی، اسی رات کو حکم ملے گا۔‘ بیگم کو خواب میں بشارت ہوئی کہ ’حج کو جا، اور مراد کا موتی سمندر سے نکال لا۔‘ صبح اٹھ حج کی تیاریاں ہونے لگیں۔ پانسو مسکین بیگم نے آپ کرایہ دے کر جہاز پر سوار کرائے؛ ان میں سے ایک میں بھی تھی۔ ہر وقت کا پاس رہنا، بیگم صاحب (الٰہی! دونوں جہان میں سرخ رو!) مجھ پر بہت مہربانی کرنے لگیں اور سہیلی کہا کرتی تھیں۔ دس دن تک برابر جہاز پانی میں چلا گیا؛ گیارھویں دن بیچ سمندر میں ایک پہاڑ نظر آیا۔ ناخدا نے کہا، ’کوہِ حبشہ یہی ہے، اور ایک بڑا کامل فقیر اس پر رہتا ہے؛ جو گیا، بامراد آیا۔‘ بیگم صاحب نے ناخدا سے کہا، ’کسی طرح مجھ کو اس پہاڑ پر پہنچاؤ۔‘ ناخدا نے کہا، ’حضور، جہاز تو پہاڑ تک نہیں پہنچ سکتا؛ البتہ اگر آپ ارشاد کریں تو جہاز کو لنگر کر دیں، اور آپ کو ایک کشتی میں بٹھا کر لے چلیں۔‘ بیگم نے کہا، ’خیر، یہی سہی۔‘ پانچ عورتیں بیگم کے ساتھ کوہِ حبشہ پر گئی تھیں، ایک میں اور چار اور۔ پہاڑ پر پہنچے تو عجیب طرح کی خوشبو مہک رہی تھی۔ چلتے چلتے شاہ صاحب تک پہنچے۔ ہو کا مقام تھا؛ نہ آدمی نہ آدم زاد؛ تنِ تنہا شاہ صاحب ایک گھر میں رہتے تھے۔ کیسی نورانی شکل! جیسے فرشتہ! ہم سب کو دیکھ کر دعا دی؛ بیگم کو بارہ لونگیں دیں، اور کچھ پڑھ کر دم کر دیا۔ مجھ سے کہا، ’چلی جا، آگرے اور دلی میں لوگوں کے کام بنایا کر۔‘ بیٹی، ان بارہ لونگوں میں کی دو لونگیں یہ ہیں۔ حج کر کے جو لوٹے تو نواب، یا تو بیگم کی بات پوچھتے نہ تھے، یا یہ نوبت ہوئی کہ ایک مہینے آگے سے بمبئی میں آ کر بیگم کے لینے کو پڑے تھے۔ جوں ہی بیگم نے جہاز سے پاؤں اتارا، نواب نے اپنا سر بیگم کے قدموں پر رکھ دیا، اور رو رو کر خطا معاف کرائی۔ چھ برس میں بھوپال میں حج سے آ کر ٹھہری۔ فقیر کی دعا کی برکت سے لگاتار اوپر تلے، اللہ رکھے، چار بیٹے بیگم کے میرے رہنے تک ہو چکے تھے۔ پھر مجھ کو اپنا دیس یاد آیا؛ بیگم سے اجازت مانگی، بہتیرا روکا۔ میں نے کہا، ’شاہ صاحب نے مجھ کو دلی آگرے کی خدمت سپرد کی ہے، مجھ کو وہاں جانا ضرور ہے۔‘ یہ سن کر بیگم نے چار و ناچار مجھ کو رخصت کیا۔“

دو لونگ، اور اس کے ساتھ دو ورق کی حکایت دلچسپ! مزاج دار دل و جان سے معتقد ہو گئی۔ حجن تو لونگیں دے کر رخصت ہوئی۔ مزاج دار بہو نے غسل کر، کپڑے بدل، خوشبو لگا، ایک لونگ تو بسم اللہ کر کے اپنی چوٹی میں باندھی، اور میاں کے پلنگ کی چادر اور تکیوں کے غلاف بدل، ایک لونگ کسی تکیے میں رکھ دی۔

محمد عاقل جو گھر میں آیا، بیوی کو دیکھا صاف ستھری، پلنگ کی چادر بے کہے بدلی ہوئی؛ خوش ہوا، اور التفات کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔

مزاج دار نے کہا، ”دیکھو، ہم نے آج ایک چیز مول لی ہے۔“ یہ کہہ کر ازاربند دکھایا۔ محمد عاقل نے کہا، ”کتنے کو لیا ہے؟“ مزاج دار نے کہا، ”تم تو آنکو، کتنے کا ہے؟“

وہ ازاربند خاص لاہور کا بنا ہوا، نہایت عمدہ تھا، چوڑا چکلا، کلابتوں کی گچھے دار ہڑیں تھیں۔ محمد عاقل نے کہا، ”دو روپے سے کسی طرح کم کا نہیں ہے۔“

مزاج دار نے کہا، ”چار آنے کو لیا ہے۔“

محمد عاقل نے کہا، ”سچ کہو۔“

مزاج دار نے کہا، ”تمہارے سر کی قسم، چار ہی آنے کو لیا ہے۔“

محمد عاقل نے کہا، ”بہت سستا ہے؛ کہاں سے مل گیا؟“

مزاج دار نے کہا، ”ایک حجن بڑی نیک بخت ہے، بہت دنوں سے گلی میں آیا کرتی ہے؛ کسی بیگم کا ہے، وہ بیچنے کو لائی تھی۔“ یہ کہہ کر سرمہ، نادِ علی، فیروزے کی انگوٹھی مزاج دار نے دکھائی۔

طمع ایسی بری چیز ہے کہ بڑا سیانا آدمی بھی اس سے دھوکا کھا جاتا ہے۔ جنگلی جانور، مینا، طوطا، لال، بلبل، آدمی کی شکل سے بھاگتے ہیں، لیکن دانے کی طمع سے جال میں پھنس جاتے ہیں اور زندگی بھر قفس میں قید رہتے ہیں۔ اسی طرح محمد عاقل اپنا فائدہ دیکھ کر خوش ہوا؛ اور جب مزاج دار نے کہا کہ ”وہ حجن بیگم کا تمام اسباب جو بکنے کو نکلے گا، میرے پاس لانے کا وعدہ کر گئی ہے،“ محمد عاقل نے کہا، ”ضرور، دیکھنا چاہیے؛ لیکن ایسا نہ ہو، چوری کا مال ہو، پیچھے کو خرابی پڑے۔ اور ہاں، حجن کوئی ٹھگنی نہ ہو۔“

مزاج دار نے کہا، ”خدا خدا کرو، وہ حجن ایسی نہیں ہے۔“ غرض بات گئی گزری ہوئی۔

محمد عاقل سے جو آج ایسی باتیں ہوئیں، لونگوں پر مزاج دار کا اعتقاد جم گیا۔ اگلے دن زلفن کو بھیج حجن کو بلوایا؛ اور آج مزاج دار بیٹی بنیں، اور حجن کو ماں بنایا۔ رات کے وقت محمد عاقل سے پھر حجن کا ذکر آیا تو پھر محمد عاقل نے کہا کہ ”دیکھو، ہوشیار رہنا؛ اس بھیس میں کٹنیاں اور ٹھگنیاں بہت ہوا کرتی ہیں۔“ لیکن طمع نے خود محمد عاقل کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ اتنی موٹی بات وہ نہ سمجھا کہ دو روپے کا مال چار آنے کو کوئی بے وجہ بھی دیتا ہے؟

محمد عاقل کو مناسب تھا کہ قطعاً اس حجن کے آنے کی ممانعت کرتا، اور سب چیزیں اس کی پھروا دیتا؛ اور مزاج دار کو اتنی عقل کہاں تھی کہ اس تہ کو سمجھتی؟

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.