
Chapter 3 of 20
Eid at the In-Laws' House
سسرال میں عید
نماز پڑھ پڑھا کر محمد عاقل آیا تو ماں نے کہا، ”لو، اب سسرال جاؤ، اور تجھے میری ہی جان کی قسم ہے جو تو وہاں کچھ لڑا یا بولا۔“
محمد عاقل نے کہا، ”تو مجھ کو مت بھیجو۔“
ماں نے کہا، ”لڑکے! خیر، خیر مانی۔ الٰہی! کیسی بری زبان ہے! سسرال تو تیری، اور بھیجوں کس کو؟ لو، یہ ایک روپیہ تو اپنی سالی اصغری کے ہاتھ میں عیدی کا دینا، اور یہ ایک اٹھنی اپنی خالیا ساس کے بیٹے میاں مسلم کو؛ اور آدھے کھلونے بھی لیتے جاؤ۔ ایک خوان میں سویاں اور دودھ، اور مٹھائی کی ٹوکری بھی ماما عظمت کے ہاتھ اپنے ساتھ لوا لے جاؤ۔ دیکھو، خبردار! کچھ بولنا چالنا مت۔“
محمد عاقل نے کہا، ”اور اماں، کھنجری اور دفلی بھی لیتا جاؤں؟“
ماں نے کہا، ”لے، بس! کہیں ایسی بات وہاں مت بول اٹھنا۔“
غرض محمد عاقل ساس کے گھر پہنچے۔ گھر میں اکبری خانم اپنی سہیلیوں کے ساتھ اودھم مچا رہی تھی، اور باہر گلی میں تمام غل کی آواز چلی آتی تھی۔ ماما عظمت اندر گئی۔ اصغری نے ماما کو دور سے دیکھ کر دبی آواز سے کہا، ”اے بی آپا، اے بی آپا، چپ کرو، تمہاری سسرال سے ماما آئی ہے۔“
عظمت نے اندر پہنچ کر محمد عاقل کو بلایا، ”صاحب زادے، آئیے۔“
غرض محمد عاقل اندر گئے اور ساس کو سلام کیا۔ انہوں نے کہا، ”جیتے رہو! عمر دراز!“ اتنے میں اصغری بھی اپنی اوڑھنی سنبھال سنبھال کوٹھری سے نکلیں، اور نہایت ادب سے جھک کر بہنوئی کو سلام کیا۔ اصغری کو بہنوئی نے گود میں بٹھا لیا اور روپیہ دیا۔ اصغری اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگی۔ ماں نے کہا، ”لے لو، بہنوئی عیدی دیتا ہے۔“ اصغری نے روپیہ لے کر پھر سلام کیا، اور گود سے اتر ادب سے الگ ہو بیٹھی۔ پھر اٹھ کر نہایت سلیقے کے ساتھ اجلا دسترخوان بہنوئی کے آگے لا بچھایا، اور ایک رکابی میں سویاں، ایک پیالے میں دودھ، طشتری میں قند، ایک چمچہ لا کر سامنے رکھ دیا۔ ساس نے کہا، ”بیٹا، کھاؤ۔“
محمد عاقل نے عذر کیا کہ ”مجھ کو عیدگاہ میں زیادہ دیر ہو گئی تھی، ابھی تھوڑی دیر ہوئی، میں نے کھانا کھایا ہے۔“
ساس نے کہا، ”کیا مضائقہ ہے؟ سویاں تو پانی ہوتی ہیں، کھاؤ بھی۔“
جب تک محمد عاقل سویاں کھاتا رہا، اصغری الائچی ڈال ایک مزے دار پان بنا لائی۔ کھانے کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ تھوڑی دیر بعد محمد عاقل نے کہا، ”جناب، میں رخصت ہوتا ہوں۔“
ساس نے کہا، ”اب کہاں جاؤ گے؟ یہیں سو رہنا۔“
محمد عاقل نے کہا، ”آج عید کا دن ہے، آئے گئے سے ملنا ہے؛ دوسرے، کہیں کچھ بھیجنا بھجوانا؛ اور میں اماں سے رات کے واسطے کہہ کر بھی نہیں آیا۔“
ساس نے کہا، ”ملنے ملانے کا تو اب وقت نہیں رہا، شام ہونے آئی؛ اور بھیجنے بھجوانے کو سمدھن کافی ہیں۔“ اور ہنس کر یہ بھی کہا کہ ”تم کچھ سمدھن کا دودھ نہیں پیتے! آخر عظمت جائے گی، خبر کر دے گی۔“
غرض محمد عاقل نے بہت کچھ حیلے کیے، ساس نے ایک نہ مانی، اور محمد عاقل کو زبردستی رہنا پڑا۔
چار گھڑی رات گئے جب کھانے پینے سے فراغت ہوئی، اصغری نے برتن بھانڈا، گری پڑی چیز، سب ٹھکانے سے رکھا؛ باہر کے دروازے کی زنجیر بند کی؛ کوٹھریوں کو قفل لگا، کنجیاں ماں کے حوالے کیں؛ باہر کے دالان اور باورچی خانے کا چراغ گل کیا؛ ماں اور آپا اور بہنوئی، سب کو پان بنا کر دیے، اور فراغت سے جا کر سو رہی۔
اب ساس نے محمد عاقل سے کہا، ”کیوں بیٹا، تم میاں بیوی میں یہ کیا آئے دن لڑائی رہا کرتی ہے؟ اکبری کی تو ایسی بری عادت ہے کہ کبھی بھول کر بھی سسرال کی بات مجھ سے کہتی نہیں۔ دنیا جہان کی بیٹیوں کا دستور ہوتا ہے کہ سسرال کی ذرا ذرا بات ماؤں سے کہا کرتی ہیں؛ نہیں معلوم اس کو کیا خدا کی سنوار ہے۔ بہتیرا پوچھ پوچھ کر اپنا منہ تھکاؤ، حاشا کہ یہ کچھ بھی بتائے۔ لیکن ٹولے محلے کی بات کانوں کان پہنچ ہی جاتی ہے؛ اوپری لوگوں سے میں بھی گھر میں بیٹھی بیٹھی سنا کرتی ہوں۔“
محمد عاقل نے ساس سے یہ بات سن کر تھوڑی دیر تامل کیا، اور لحاظ کے سبب جواب منہ سے نہیں نکلتا تھا؛ مگر اس نے خیال کیا کہ ”مدت کے بعد ایسا اتفاق ہوا ہے، اور خود انہوں نے چھیڑ کر پوچھا ہے؛ ایسے موقع پر سکوت کرنا سراسر خلافِ مصلحت ہے۔ بہتر ہے کہ عمر بھر کا زہر اگل ڈالیے، شاید آج کی گفتگو میں آئندہ کے واسطے کوئی بات نکل آئے۔“
غرض محمد عاقل نے شرماتے شرماتے کہا کہ ”آپ کی صاحب زادی موجود ہیں، انہیں سے پوچھیے، ہمارے یہاں ان کو کیا تکلیف پہنچی؟ خاطر داری و مدارات میں کسی طرح کی کمی ہوئی؟ یا کوئی ان سے لڑا، یا کسی نے ان کو برا کہا؟ آپ کو معلوم ہے، گھر میں ہم گنتی کے کَے آدمی ہیں۔ والدہ صاحب سے تو تمام محلہ واقف ہے، ایسی صلحِ کل ہیں کہ تمام عمر ان کو کسی سے لڑنے کا اتفاق نہیں ہوا؛ اگر کوئی ان کو دس باتیں سخت بھی کہہ جاوے تو چپ ہو جاتی ہیں۔ محمد کامل دن بھر لکھنے پڑھنے میں لگا رہتا ہے، صبح کا نکلا رات کو گھر آتا ہے، کھانا کھایا اور سو رہا؛ میں نے اس کو ان سے کبھی بات کرتے بھی نہیں دیکھا۔ محمودہ ان کی صورت سے ڈرتی ہے۔ رہا میں، سو موجود بیٹھا ہوں؛ جو کچھ شکایت مجھ سے ہو، بے تکلف بیان کریں۔“
محمد عاقل کی ساس اب بیٹی کی طرف مخاطب ہو کر بولیں، ”ہاں بھئی، جو کچھ تمہارے دل میں ہو، تم بھی صاف صاف کہہ گزرو۔ بات کا دل میں رہنا اچھا نہیں ہوتا؛ دل میں رکھنے سے رنج بڑھتا ہے اور فساد زیادہ ہوتا ہے۔“
اکبری، اگرچہ جھوٹ بولنے پر بہت دلیر تھی، لیکن اس وقت محمد عاقل کے روبرو کوئی بات کہتے نہ بن پڑی؛ اور جی ہی جی میں ڈر رہی تھی کہ ”میں نے بہت سی جھوٹی باتیں ماں سے آ کر لگائی ہیں، ایسا نہ ہو کہیں اس وقت قلعی کھل جائے۔“ یہ سوچ سمجھ کر اس نے اس بات کو ٹال دیا، اور کہا تو یہ کہا کہ ”ہم تو الگ گھر کریں گے۔“
اکبری کی ماں نے داماد سے کہا، ”کیوں بھئی، تم کو الگ ہو کر رہنے میں کیا عذر ہے؟ خدا کا فضل ہے، خود نوکر ہو، خود کماتے ہو، کسی بات میں ماں باپ کے محتاج نہیں؛ اپنا کھانا، اپنا پہننا، پھر دوسرے کا دست نگر ہو کر رہنا کیا فائدہ؟ بیٹا، بہو کیسی ہی پیاری ہوں، پھر بھی جو آرام الگ رہنے میں ہے، ماں باپ کے گھر کہاں؟ جو چاہا سو کھایا، اور جو چاہا سو پکایا۔ اور ذرا غور کرنے کی بات ہے، ماں باپ کے ساتھ رہ کر لاکھ کماؤ، پھر بھی نام نہیں؛ لوگ کیا جانیں، تم اپنا کھاتے ہو یا ماں باپ کے سر پڑے ہو؟“
محمد عاقل نے کہا، ”آرام کی جو پوچھیے تو ہم کو جو اب حاصل ہے، الگ ہوئے پیچھے اس کی قدر معلوم ہو گی۔ دونوں وقت پکی پکائی کھا لی، اور بے فکر ہو کر بیٹھ رہے۔ الگ ہونے پر آٹا، دال، گوشت، ترکاری، کنڈا، لکڑی، سب کی فکر کرنی پڑے گی؛ اور آپ ہی انصاف فرمائیے، خانہ داری میں کتنے بکھیڑے ہیں؟ بے سبب ان سب آفتوں کو اپنے سر لینا میرے نزدیک تو عقل کی بات نہیں رہی۔ یہ بات کہ جو چاہا سو کھایا اور جو چاہا سو پکایا، اب بھی حاصل ہے؛ انہیں سے پوچھیے، کبھی کوئی فرمائش کی ہے جس کی تعمیل نہ ہوئی ہو؟ بڑے کنبوں میں البتہ اس طرح کی تکلیف ہوا کرتی ہے: ایک کا دل میٹھے چاولوں کو چاہتا ہے، دوسرے کو بھنی کھچڑی چاہیے، تیسرے کو پلاؤ درکار ہے، چوتھے کو قورمہ کھانا منظور ہے، پانچویں کو پرہیزی کھانا حکیم نے بتایا ہے؛ دس کے واسطے دس ہانڈیاں روز کے روز کہاں سے آئیں؟ ہمارے یہاں کنبہ کون بہت بڑا ہے؟ فرمائش کریں تو ہم، اور نہ کریں تو ہم۔ اس کو بھی جانے دیجیے؛ اگر ان کو ایسا ہی لحاظ ہے، آپ کھانے کا اہتمام کیا کریں؛ خود والدہ کئی مرتبہ کہہ چکی ہیں، انہیں سے پوچھیے، کہا ہے یا نہیں؟ اور نام کو جو آپ نے فرمایا، یہ بھی میرے نزدیک عقل کی بات نہیں؛ اپنے آرام سے کام ہے، لوگ اپنے دلوں میں جو چاہیں سو سمجھیں۔ اور فرض کیجیے، لوگوں نے یہی جانا کہ ہم ماں باپ کے سر پڑے ہیں، تو اس میں ہماری کیا بے عزتی ہے؟ ماں باپ ہیں، کوئی غیر تو نہیں ہیں۔ ماں باپ نے ہم کو پالا، پرورش کیا، کھلایا، پہنایا، پڑھایا، لکھایا، شادی بیاہ کیا؛ ان سب باتوں میں بے عزتی نہیں ہوئی، تو اب کون سا سرخاب کا پر ہم میں لگ گیا ہے کہ ان کا دست نگر ہونا ہماری بے عزتی کا موجب سمجھا جائے؟“
ساس نے جواب دیا، ”اگر سب لوگ تمہاری طرح سمجھا کریں تو کیوں الگ ہوں؟ دنیا کا دستور ہے، اور ہوتا چلا آیا ہے، اور ہوتا چلا جائے گا، کہ بیٹے ماں باپوں سے جدا ہو جاتے ہیں۔ اور میں تو جانتی ہوں کہ دنیا میں کوئی بہو ایسی نہ ہو گی جس کا میاں کمائی ہو، اور وہ ساس نندوں میں رہنا پسند کرے۔“
محمد عاقل نے کہا، ”یہ آپ کا فرمانا درست ہے؛ اگر بیٹے ماں باپ سے جدا نہ ہوا کرتے تو شہر میں اتنے گھر کہاں سے آتے؟ لیکن ہر ایک کی حالت جدا ہے۔ الگ ہو کر رہنا میری حالت کے لیے ہرگز مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ دس روپے کا تو میں نوکر ہوں؛ اتنی آمدنی میں الگ گھر سنبھالنا نہایت مشکل نظر آتا ہے۔ اور پھر اس نوکری کا بھی اعتبار نہیں۔ خدانخواستہ الگ ہوئے پیچھے اگر نوکری جاتی رہی تو پھر باپ کے گھر آنا مجھ پر نہایت شاق ہو گا؛ اس وقت البتہ بے عزتی ہو گی کہ ’میاں الگ تو ہو گئے تھے، پھر جھک مار کر باپ کے ٹکڑوں پر آ پڑے!‘ لوگوں کی ریس اس معاملے میں ٹھیک نہیں؛ اپنے حال پر خود غور کرنا چاہیے۔ وہ نقل آپ نے سنی ہے کہ ایک شخص نے بازار سے نمک اور روئی مول لی؛ نمک تو خچر پر لادا اور روئی گدھے پر۔ چلتے چلتے راہ میں ایک ندی واقع ہوئی؛ ندی پایاب تھی۔ اس شخص نے خچر اور گدھے کو لدا لدایا پانی میں اتار دیا۔ بیچ ندی میں پہنچ کر خچر نے غوطہ لگایا۔ تھوڑی دیر بعد سر ابھارا تو گدھے نے پوچھا، ’کیوں یار خچر، یہ تم نے کیا کیا؟‘ خچر نے جواب دیا کہ ’بھائی، تم تو بڑے خوش قسمت ہو، تم پر روئی لدی ہے، اس کا بوجھ تو بہت ہلکا ہوتا ہے؛ مجھ کم بخت پر نمک ہے، بوجھ کے مارے میری کمر کٹ کر لہو لہان ہو گئی ہے۔ یہ ہمارا مالک ایسا بے رحم ہے کہ اس کو مطلق ہماری تکلیف کا خیال نہیں، اناپ شناپ جتنا چاہتا ہے لاد دیتا ہے۔ میں نے سمجھا کہ منزل تک پہنچتے پہنچتے کمر ندارد ہے؛ غوطہ لگاؤ، نمک پانی میں بھیگ کر کچھ تو گل جائے گا، جس قدر ہلکا ہوئے غنیمت۔ مالک بہت کرے گا، چھ سات ڈنڈے اور مار لے گا؛ سو یوں بھی راہ بھر ڈنڈے کھاتا آتا ہوں۔ دیکھو، اب میرا بوجھ آدھا رہ گیا ہے۔‘ گدھے بے وقوف نے بھی خچر کی ریس کر کے غوطہ لگایا؛ روئی بھیگ کر اور وزنی ہو گئی؛ سر ابھارا تو ہلا نہ جاتا تھا۔ خچر ہنسا اور کہا، ’کیوں بھائی گدھے، کیا حال ہے؟‘ گدھے نے کہا، ’یار، میں تو مرا جاتا ہوں۔‘ خچر نے کہا، ’ابے، تو بے وقوف ہے؛ تو نے میری ریس تو کی، لیکن اتنا تو سمجھ لیتا کہ تیری پیٹھ پر روئی ہے، نمک نہیں ہے۔‘ اماں جان، ایسا نہ ہو، لوگوں کی ریس کرنے سے میرا حال اس گدھے کا سا ہو۔“
ساس نے کہا، ”بھئی، تم تو کسی سے قائل ہونے والے نہیں ہو، اور نہ میں تمہاری طرح منطق پڑھی ہوں۔ میں تو سیدھی بات یہ سمجھتی ہوں کہ دس روپے مہینہ تم کماتے ہو، خدا کا فضل ہے، سستا سماں ہے؛ بال نہیں، بچے نہیں، اللہ رکھے، دو میاں بیوی خاصی طرح گوشت روٹی کھاؤ، نین سکھ تن زیب پہنو۔ آئندہ کی فکر تمہاری طرح کیا کریں تو دنیا کا کارخانہ بند ہو جائے۔ نوکری تو نوکری، زندگی کا اعتبار نہیں؛ جے دن جند ہے، ہنسی خوشی سے ٹیر کر دینا چاہیے۔“
محمد عاقل نے کہا، ”یہی تو میں سوچتا ہوں کہ خوشی الگ ہو کر رہنے میں ہے یا ساتھ میں۔“
ساس نے کہا، ”دلیل اور حجت سے کیا مطلب؟ سیدھی بات یہی کیوں نہیں کہتے کہ مجھ کو ماں سے الگ ہونا منظور نہیں؟ ایک بات تم سے بیوی نے کہی، اس کے قبول کرنے میں تم کو بلا کا تامل ہے؛ اور پھر کہتے ہو کہ ہم ان کی خاطر داری میں کمی نہیں کرتے۔ آرام و خوشی کیا چیز ہے؟ جس میں بیوی خوش ہو، اور جس کو وہ آرام سمجھے۔“ اس کے بعد باتوں میں رنجش تراوش کرنے لگی؛ محمد عاقل نے سکوت اختیار کیا۔ رات بھی زیادہ گئی تھی۔ محمد عاقل نے ساس سے کہا، ”اب آپ آرام کیجیے، میں اس مضمون کو پھر سوچوں گا۔“
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.