Urdu in Translation
Search

Chapter 19 of 20

Mahmuda's Wedding

محمودہ کا بیاہ

Deputy Nazir Ahmad

Script
Size

منگنی کا ہونا تھا کہ چھوٹے حکیم صاحب نے بیاہ کا تقاضا شروع کیا، اور مولوی صاحب سے کہلا بھیجا کہ ”مدت سے میرا ارادہ حج کو جانے کا ہے، اور صرف اسی بات کا انتظار ہے؛ زندگی کا اعتماد نہیں؛ میں چاہتا ہوں کہ رجب کے مہینے میں عقد ہو جائے۔“ مولوی صاحب نے اصغری سے پوچھا۔ اصغری نے کہا، ”بالفعل یہ کہلا بھیجنا چاہیے کہ ’ہم فکر میں ہیں؛ جہاں تک ہو سکتا ہے، تدبیر کرتے ہیں؛ سامانِ مختصر جو دینا منظور ہے، اگر اس عرصے میں جمع ہوا جاتا ہے، تو ہم کو بھی یہ فرضِ آخر ادا کرنا ہے؛ جس قدر جلد ہو، بہتر۔‘“

حکیم صاحب نے پھر کہلا بھیجا کہ ”میں نے جہیز اور سامان کی امید سے آپ کے یہاں رشتہ نہیں کیا؛ مجھ کو لڑکی چاہیے؛ سامان کی فکر کچھ نہ کیجیے۔“ ادھر سے جواب گیا کہ ”بہت خوب؛ ہم کو بھی رجب میں عقد کر دینا منظور ہے۔“ ستائیس تاریخ رجب کی مقرر ہوئی، اور دونوں طرف سامان ہونے لگے۔ سامان کا شروع ہونا تھا کہ مولوی صاحب کو فکر پیدا ہوئی؛ کبھی کہتے تھے کہ ”ہزاری مل سے قرض لوں“؛ کبھی سوچتے تھے، ”گھی کا کٹرا بیچ ڈالوں یا گروی رکھ دوں؟“ اصغری نے مولوی صاحب کو پریشان دیکھ کر پوچھا کہ ”آپ نے کیا تدبیر کی ہے؟“

مولوی صاحب نے کہا، ”کیا بتاؤں؟ شادی کی تاریخ سر پر چلی آتی ہے، اور روپے کی صورت کہیں سے بن نہیں پڑتی؛ ہزاری مل سے میں نے روپیہ مانگا تھا، وہ بھی ٹال گیا؛ گھی کے کٹرے کو جدا کر دینے کا ارادہ کیا تھا، کوئی خریدار نہیں کھڑا ہوتا۔“

اصغری نے کہا، ”ہرگز ہرگز آپ قرض نہ لیجیے، اور نہ جائداد کو فروخت کیجیے۔ قرض سے بدتر کوئی چیز نہیں ہے؛ اور جائداد کا جدا ہونا کیا مشکل ہے؟ لیکن اس کا بہم پہنچنا بہت دشوار ہوتا ہے۔“

مولوی صاحب نے کہا، ”قرض تو لوں نہیں، اور جائداد کو جدا نہ کروں، تو کیا میں کیمیاگر ہوں؟ یا دستِ غیب جانتا ہوں؟ روپیہ کہاں سے آوے؟“

اصغری نے کہا، ”پہلے گھر کا حساب دیکھ لیجیے۔ کپڑے تو کچھ پہلے سے تیار ہیں؛ صرف تھوڑا مصالح درکار ہو گا؛ سو میرے جوڑوں میں بعضے بہت بھاری ہیں؛ ان میں سے کم کر کے اتنا مصالح نکل آئے گا کہ محمودہ کے جوڑوں کو کافی ہو جائے گا۔ برتن موجود ہیں، کوئی مول لینا نہیں؛ کاٹ کباڑ، سامانِ بالائی، یہ سب میں اپنا دے دوں گی؛ بے فائدہ پڑا پڑا خراب ہوتا ہے؛ نہ میرے کسی مصرف کا ہے۔ اور آخر آپ کے پاس بھی کچھ روپیہ نقد ہو گا۔“

مولوی صاحب نے کہا، ”صرف پانسو روپیہ ہے۔“

اصغری نے کہا، ”بس، بہت ہے۔ جب میں سیالکوٹ جانے لگی، مکتب کی رقم کے چار سو روپیہ تھے، وہ امانت رکھے ہیں؛ میرے پیچھے دو سو روپیہ اور ہوا؛ سو آدھا آپا کا حق ہے، اور سو روپیہ محمودہ کا؛ یہ ملا کر مکتب کی رقم کے پانسو ہو جائیں گے۔ محمودہ کے چھوٹے بھائی کو میں نے خط لکھا ہے، اور تین سو روپیہ منگوایا ہے؛ دو سو روپیہ بھائی جان نے بھیجنے کو لکھا ہے؛ اس طور پر ڈیڑھ ہزار روپیہ نقد اس وقت موجود ہے۔ ہزار کے کڑے جو حسن آرا کے بیاہ میں مجھ کو ملے تھے، میرے کس کام کے ہیں؟ میرا ارادہ تھا کہ محمودہ کو چڑھا دوں؛ لیکن پھر غور کیا تو اسی گھر کے کڑے اسی گھر میں جانے مناسب نہیں معلوم ہوتے؛ میں ان کو بیچ ڈالوں گی۔ تماشا خانم کی معرفت بازار میں بھیجے تھے؛ پنا لال تیرہ سو روپیہ دیتا تھا؛ محمودہ کی تقدیر سے اگر کوئی حاجت مند مل گیا، ان شاء اللہ، پندرہ سو وصول ہو جائیں گے۔ اور ایک تدبیر یہ ذہن میں آتی ہے کہ آپ بھائی جان کے لانے کو لاہور جائیے، اور رئیس پر رخصت کی تقریب میں یہ بات ظاہر کر دیجیے؛ رئیس بڑا سیر چشم ہے؛ امید ہے کہ ضرور کچھ مدد کرے گا۔ ہمیشہ سے ہندوستانی سرکاروں کا دستور رہا ہے، ایسی تقریبات میں اپنے معتمد نوکروں کی اعانت کی ہے۔“

غرض اصغری نے سسرے کو لاہور بھیجا۔ مولوی صاحب رئیس کے سلام کو جو گئے، تو رئیس نے پوچھا، ”مولوی صاحب، کیونکر تشریف لائے؟“

مولوی صاحب نے عرض کیا کہ ”بندہ زادی کا عقد ہے؛ اس غرض سے حاضر ہوا ہوں کہ محمد عاقل کو ایک مہینے کی رخصت مرحمت ہو؛ اور یہ تو عرض نہیں کر سکتا کہ حضور کے خاندان سے کوئی شریک ہو؛ لیکن اگر دیوان صاحب، جو دلی میں ہیں، سرکار کی طرف سے زیب دہِ محفل ہوں، تو ہم چشموں میں میرے لیے افزایشِ آبرو کا باعث ہو گا۔“

رئیس نے محمد عاقل کی رخصت بھی منظور کی، اور مولوی صاحب کو آنے جانے کا خرچ دیا، اور دیوان صاحب کو حکم بھیج دیا کہ ”ہماری طرف سے مولوی صاحب کی محفل میں شریک ہونا، اور پانسو روپیہ نیوتے کا دینا۔“ اصغری کی صلاح سے بیٹھے بٹھائے یہ پانسو روپیہ مفت کا آ گیا۔ ادھر جڑاؤ کڑے تماشا خانم کی معرفت نواب حاتم زمانی بیگم تک پہنچے؛ دیکھ کر لوٹ ہو گئیں، اور آنکھ بند کر کے دو توڑے حوالے کر دیے۔ اب تو روپے کی ہر طرف سے ریل پیل ہو گئی۔ اصغری کا اہتمام؛ عمدہ سے عمدہ جوڑے تیار ہوئے، اور چوہرا زیور بنا۔ وہ شادی ہوئی کہ مولوی صاحب کی تو کئی پشتوں میں نہ ہوئی تھی، اور سمدھیانے والے بھی سامان دیکھ کر دنگ ہو گئے۔ جو سامان تھا، متعدد اور بیش قیمت تھا؛ اور جو چیز تھی، نئے طور کی تھی۔ دو جوڑے تو بیٹے والوں کی طرف سے آئے: ایک رات کے واسطے کرکری تاش کا، دوسرا چوتھی کے واسطے کارچوبی۔ اور گہنے، جہیز اور چڑھاوے کے ملا کر، تو بے انتہا تھے: ناک میں نتھ اور کیل؛ ماتھے کا ٹیکا، جھومر، بینا؛ کانوں میں بالی، پتے، جڑاؤ اور سادے، چھپکے کے بالے، کان جھالے، مگر، مرکیاں، بجلیاں، کرن پھول، جھمکے؛ گلے میں گلوبند، طوق، چمپا کلی، کنٹھی، توڑا، دھگدھگی، چندن ہار، زنجیر، مالا؛ بازو پر جوشن، نورتن، بھوج بند، نونگے؛ ہاتھوں میں کڑے، چوہے دنتیاں، لچھے، دست بند؛ انگلیوں میں انگوٹھی، چھلے، جوڑ؛ پاؤں میں پازیب، توڑے، چوڑیاں، لچھے، چٹکی، چھلے۔ کارچوبی، جالدار، مصالحدار، سب ملا کر پچیس جوڑے؛ دو سو برتن، اور اسی حیثیت کا بالائی سامان۔ غرض بڑی دھوم دھام سے عقد ہو گیا۔ محمودہ رخصت ہوئیں؛ قمر آستانی بیگم سسرال سے خطاب ملا۔

حکیم فتح اللہ خاں بڑے متقی پرہیزگار باخدا آدمی تھے؛ مدتوں سے حج کا ارادہ کر رہے تھے، لیکن صرف ارجمند خاں کے بیاہ کے منتظر تھے۔ اب بیاہ ہونے کے بعد چند روز تک بہو کا رنگ ڈھنگ دیکھتے رہے۔ یہاں دیکھنے کی کیا حاجت تھی؟ محمودہ تو بی اصغری صاحبہ کی خراد پر چڑھ چکی تھی؛ کسی طرح کی کور کسر اس میں باقی نہ تھی۔ حکیم صاحب نے جس قدر آزمایا، بہو کو ہنرمند، عاقلہ، سلیقہ شعار پایا۔ کچھ تو خربوزہ میٹھا، اور کچھ اوپر سے ملا قند؛ اول تو خود محمودہ اپنی ذات سے اچھی، اور اس پر اصغری کی تعلیم، اصغری کی صلاح؛ بھلا، پھر کیا پوچھنا تھا؟

غرض حکیم صاحب کو خوب یقین ہو گیا کہ قمر آستانی اچھی طرح گھر کو سنبھال لیں گی۔ اب حکیم صاحب نے یکایک زور شور کے ساتھ عرب کی تیاریاں کرنی شروع کیں؛ یا تو حج کی نیت تھی، یا ہجرت کا ارادہ کر لیا۔ نقد کی قسم سے جو کچھ تھا، اپنے ساتھ لیا؛ مکانات، دکانیں، کٹرے، گنج، دیہات، سرائیں، سب کچھ بیٹے کے نام لکھ دیا۔ رشتے ناتے کے لوگوں نے، جیسا دستور ہے، سمجھایا بھی؛ لیکن حکیم صاحب کو تو خدا کی دھن تھی؛ ایک نہ سنی؛ خدا کا نام لے، چل کھڑے ہوئے، اور دنیا بھر کی جائداد بیٹے بہو کو دے گئے۔

محمودہ اگرچہ بیاہی جا چکی تھی، لیکن پھر بھی اصغری کا ادب لحاظ پہلے سے زیادہ کرتی تھی؛ ذرا ذرا بات میں اصغری سے صلاح لیتی۔ اب البتہ اصغری کو اپنی عقل آزمانے کا موقع ملا؛ بڑا کارخانہ، بڑے کام؛ وہ وہ انتظام کیے کہ ارجمند خاں کو، خدا جھوٹ نہ بلوائے، وقت کا بادشاہ وزیر بنا دیا۔ کوئی سرکار اس کے مقابلے کی، دلی کیا، دور دور نہ تھی۔

کہاں تک یہ داستان لکھی جائے؟ اتنا لکھا جا چکا، لیکن اگر سچ پوچھو تو ابھی من میں چھٹانک بھی نہیں ہوا۔ ابھی تک تو اصغری مفلسی میں تھی؛ ننگی نہائے کیا اور نچوڑے کیا! لیکن اب، خدا رکھے، دولت ثروت نصیب ہوئی؛ انتظام کا قابو، بندوبست کا موقع، من مانتا ملا۔ اس حالت میں جو جو کام اس عورت نے کیے، وہ البتہ قیامت تک زمانے میں یادگار رہیں گے؛ مگر افسوس ہے کہ ان کے لکھنے کی فرصت نہیں۔ پھر بھی اگر نصیحت ماننے والا ہو، اور بات کا سننے اور سمجھنے والا، تو جس قدر لکھا جا چکا، کم نہیں؛ ہر طرح کی بات، ہر قسم کی تعلیم اس میں موجود ہے؛ کہنے کو قصہ اور حکایت ہے، لیکن حقیقت میں نصیحت اور ہدایت۔ اب اس کتاب کو ختم کرنے سے پہلے ایک اور بات لکھنی ضرور ہے؛ وہ یہ ہے کہ اصغری بہت چھوٹے سن میں ماں بن گئی تھی، ابھی تک کچھ اس کی اولاد کا تذکرہ نہیں ہوا۔ اصغری کے بچے تو بہت ہوئے، لیکن، خدا کی قدرت، زندہ کم رہے؛ صرف ایک لڑکا، محمد اکمل، جو آخر میں محمودہ کی اکلوتی بیٹی مسعودہ سے بیاہا گیا، زندہ رہا۔ یہ لڑکا کئی بچوں کے اوپر پیدا ہوا؛ اس سے پہلے محمد عادل ایک بیٹا اور بتول ایک لڑکی مر چکے تھے۔

بچوں کی پرورش میں احتیاط تو بہتیری ہوتی تھی: سردی گرمی کا بچاؤ؛ کھانے تک کے وقت مقرر اور بندھا ہوا اندازہ؛ اور خبرداری یہ کہ ثقیل اور ردی چیز کہیں منہ میں نہ ڈال لیں؛ دانت نکلنے شروع ہوئے اور مسوڑھوں میں نشتر دیا گیا کہ ایسا نہ ہو، دانتوں کی تکلیف کو بچہ سہار نہ سکے؛ چار برس کے ہوئے، اور چیچک کے بچاؤ کی نظر سے ٹیکا لگوا دیا گیا؛ غرض جہاں تک آدمی کی عقل کام کرتی ہے، سب طور کا بندوبست کیا جاتا تھا؛ لیکن تقدیر کے آگے کسی کی حکمت نہیں چلتی۔ محمد عادل چار برس کا ہو کر مرا؛ پیچش ہوئی؛ دست بند کرنے کی دوا دی؛ بخار آنے لگا؛ سرسام ہو گیا؛ پلا پلایا لڑکا ہاتھ سے جاتا رہا۔ ابھی اس کا داغ تازہ تھا کہ بتول سات برس کی ہو کر بیمار پڑی؛ کچھ ایسے بلا کے دست چھوٹے کہ جان لے کر بند ہوئے؛ دنیا جہان کی دوائیں ہوئیں؛ موت کب دوا کو مانتی ہے؟ ایک ہی ہفتے میں لڑکی تحلیل ہو کر چلی گئی۔ بتول کے مرنے کا اصغری پر بہت بڑا صدمہ ہوا؛ اول تو لڑکی؛ دوسرے، کچھ مرنے والی تھی یا کیا، ایسی ماں پر فریفتہ تھی کہ ایک دم کو الگ نہ ہوتی تھی؛ ماں نماز پڑھتی ہے تو جانماز پر بیٹھی ہے؛ ساتھ سونا، ساتھ اٹھنا؛ ماں کی دوا تک ہو، چکھ لینا ضرور؛ اور اس چھوٹی سی عمر میں ایسا پڑھنے پر دھیان کہ دسویں سیپارے کا ترجمہ شروع تھا۔

جب محمد عادل مرا تھا، عورتوں نے اصغری کے ایمان میں خلل ڈالنا شروع کیا تھا۔ کوئی کہتی، ”کوکھ کا خلل ہے؛ مہر علی شاہ کا علاج کرو۔“ کوئی کہتی، ”دودھ پر نظر ہے؛ چوراہے میں اتارا رکھواؤ۔“ کوئی کہتی، ”مسان کا دکھ ہے؛ رمضان شاہ سے گرنٹ کراؤ۔“ کوئی کہتی، ”مکان اچھا نہیں؛ میر عالم سے کیلواؤ۔“ کوئی کہتی، ”سفر میں آئی گئی ہو؛ کوئی چڑیل لپٹ گئی ہے؛ کچھوچھے چلو۔“ گنڈے، اور تعویذ، اور عمل، ٹونے، اور ٹوٹکے تو دنیا جہان کے لوگ بتاتے تھے؛ لیکن واہ ری اصغری! یوں اوپر تلے دو بچے مرے، لیکن سدا خدا پر شاکر رہی۔ کسی نے کچھ کہا بھی، تو یہی جواب دیا، ”خدا کو جب منظور ہو گا، تو یوں بھی وہ فضل کر سکتا ہے۔“

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.