Urdu in Translation
بحث
علامة مرجعية

الفصل 20 من 20

A Letter of Consolation

تعزیت کا خط

المولوي نذير أحمد

الخط
الحجم

بتول کے مرنے کی خبر جب دوراندیش خاں صاحب کو ہوئی، تو بہت مضطرب ہوئے، اور اس اضطراب میں بیٹی کے نام یہ خط لکھا۔

”برخوردار اصغری خانم کو، بعد دعا کے، معلوم ہو۔ اس وقت دلی کے خط سے مجھ کو بتول کے انتقال کا حال معلوم ہوا۔ میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ مجھ کو رنج نہیں ہوا؛ مگر میری عقل اس قدر بے جا نہیں ہوئی کہ نادان آدمیوں کی طرح میں بے صبری کروں۔ مجھ کو بڑا تردد تمہارا ہے؛ عجب نہیں کہ تم پر یہ صدمہ بہت شاق ہوا ہو؛ لیکن ہر ایک حالت میں انسان کو عقل سے مشورہ لینا چاہیے۔ عقل ہم کو اسی واسطے بخشی گئی ہے کہ رنج ہو یا خوشی، ہم اپنی عقل سے اس میں مدد لیں۔

دنیا کے حال پر غور کرنا نہایت ضرور ہے، اور یہ غور فائدے سے خالی نہیں۔ زمین، آسمان، پہاڑ، جنگل، دریا، انسان، حیوان، درخت، لاکھوں طرح کی چیزیں دنیا میں ہیں، اور دنیا کا ایک بہت بڑا کارخانہ ہے۔ دن میں ایک معمول کے ساتھ آفتاب کا نکلنا، پھر رات کا ہونا، اور چاند اور ستاروں کا چمکنا؛ کبھی گرمی، کبھی سردی، کبھی برسات؛ اور پانی کے اثر سے انواع اور اقسام کے رنگا رنگ پھل اور پھولوں کا پیدا ہونا؛ ہر ایک بات غور کرنے والے کو برسوں کے سوچنے کو کافی ہے۔ خود آدمی کو اپنا حال غور کرنے کو کیا کم ہے؟ کیونکر آدمی پیدا ہوتا، اور کیونکر پرورش پاتا، اور بڑا ہوتا، اور کیونکر لڑکپن اور جوانی اور بڑھاپے کی حالتیں اس پر گزرا کرتی ہیں، اور کیونکر آخر میں دنیا سے سفر کر جاتا ہے؛ یہ بڑا عمدہ اور مشکل مضمون ہے۔ یہ سب کارخانہ کسی مصلحت سے خدا نے جاری کر رکھا ہے، اور جب تک وہ چاہے گا، اسی طرح یہ کارخانہ جاری رہے گا۔ یہ دنیا صرف سات یا آٹھ ہزار برس سے ہے، اور اس کی عمر بہت تھوڑی ہے؛ یعنی اب قیامت بہت قریب ہے، اور جلد تر دنیا کو فنا ہونا ہے۔ دنیا کی خانہ شماری سے ثابت ہوا ہے کہ ایک گھنٹے میں ساڑھے تین ہزار آدمی کے قریب دنیا میں مرتا ہے، یعنی ہر ایک پل میں ایک آدمی؛ اسی قدر پیدا بھی ہوتا ہو گا۔ اب حساب کر لو کہ صرف ایک مہینے میں کئی لاکھ آدمی دنیا میں مرتے اور پیدا ہوتے ہیں؛ اور پھر غور کرو کہ سات ہزار برس سے یہی طور چلا آتا ہے؛ یعنی بے شمار آدمی اب تک دنیا میں مر چکے ہیں۔ پس موت ایک ضروری اور معمولی بات ہے۔ بڑے بڑے زبردست بادشاہ، بڑے بڑے عالم، بڑے بڑے حکیم، یہاں تک کہ بڑے بڑے پیغمبر، جو مردوں کو جلا سکتے تھے، خود موت سے نہ بچ سکے۔ دنیا میں جو پیدا ہوا ہے، یہ خدا کا ضروری حکم ہے کہ وہ ایک دن مرے؛ پس اگر یہ حکم کسی دن ہم پر یا ہمارے کسی عزیز قریب پر جاری کیا جائے، تو ہم کو کوئی وجہ شکایت اور فریاد کی نہیں۔ یہ مضمون سرسری نہیں ہے؛ اس کو خوب غور کرو؛ اور جب تم کو موت کی حقیقت معلوم ہو جائے گی، تو مجھ کو یقین ہے کہ تم میری طرح سمجھو گی کہ کسی کے مرنے پر رنج کرنا لاحاصل ہے اور بے سود ہے۔

کسی کی موت پر رنج کرنا تعلق پر موقوف ہے۔ اگر ہم سنیں کہ ملکِ چین کا بادشاہ مر گیا، ہم پر اس خبر کا مطلق اثر نہیں ہوتا، اس واسطے کہ ہم کو اس سے کچھ تعلق نہ تھا؛ بلکہ محلے میں اگر کوئی غیر آدمی مر جائے، جس سے کسی طرح کا واسطہ نہیں، تو ہم کو بہت کم رنج ہو گا۔ پس ہم کو رنج اسی شخص کے مرنے کا ہوتا ہے جس سے ہم کو تعلق ہے؛ اور جتنا تعلق قوی ہے، اسی قدر رنج زیادہ۔ نانی کی، بھتیجی کی، خالہ کی بہو کی، پھوپھی کی بھانجی اگر مرے، تو کیا؟ دور کا واسطہ، دور کا رشتہ۔ بلکہ رشتے ناتے پر کیا موقوف ہے؟ محبت ملاپ میں بھی رنج ہوتا ہے۔ اب سوچنا چاہیے کہ دنیا میں ہم کو کس سے زیادہ تعلق ہے؛ اس کے واسطے کوئی قاعدہ مقرر نہیں۔ قریب کا رشتہ ہوا، اور سدا کی لڑائیاں، سدا کے بگاڑ رہے، تو ایسے رشتہ دار غیر داخل؛ لیکن غیر ہے، رشتہ نہیں، قرابت نہیں، محبت ملاپ بہت، کچھ وہ رشتہ داروں سے بڑھ کر ہے۔ پس ہر ایک شخص موافق اپنی حالت کے خاص تعلق رکھتا ہے۔ یہ دنیاوی تعلقات سب فائدے اور غرض سے ہوتے ہیں؛ اگر اپنا سگا ہمارے فائدے میں خلل انداز ہو، ضرور ہے کہ وہ ہم سے چھٹ جائے؛ اگر غیر آدمی ہمارے کام آوے، ضرور ہے کہ وہ ہم کو مثل اپنوں کے عزیز ہو؛ لیکن وہ فائدہ جس سے تعلق پیدا ہوتا ہے، ضرور نہیں کہ روپے پیسے کا ہو، اگرچہ اکثر اسی قسم کا ہوتا ہے؛ کبھی امید اور توقع سے بھی تعلق پیدا ہوتا ہے۔ بہت لوگ ہمارے دوست ہیں جو ہم کو کچھ دے نہیں دیتے، لیکن یہ توقع کہ ’اگر کبھی ہم کو کسی طرح کی ضرورت ہو تو کام آنے والے ہیں‘، تعلق کے پیدا ہونے کی وجہ ہوتی ہے۔ میں اس بحث کو بہت طول دے سکتا ہوں، اور جس قدر اس بحث کو طول دیا جائے، مناسب ہے؛ لیکن اصل مطلب میرا اس خط میں صرف اولاد کے تعلق سے بحث کرنا ہے؛ اور اگر فرصت ملے گی تو ان شاء اللہ اس تعلق پر ایک کتاب لکھ کر تم کو بھیج دوں گا۔

یہ تعلق جو اولاد سے ہے، عام ہے؛ کوئی ماں باپ، بلکہ کوئی جانور تک اس سے خالی نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فائدے اور غرض پر اس کی بنا نہیں، بلکہ خداوندِ عالم، جو بڑا دانشمند ہے، اس کا انتظام چاہتا ہے کہ ضرور ماں باپ کو اپنی اولاد کی محبت ہو۔ اولاد چند سال تک محتاجِ پرورش ہوتی ہے؛ تاکہ اولاد کی پرورش اچھی طرح ہو، ماں باپ کو اولاد کی محبت لگا دی، کہ اس محبت کے لگاؤ سے بچوں کو پالیں اور بڑا کریں، یہاں تک کہ بڑے ہو کر خود دنیا میں رہنے سہنے لگیں۔ پس ماں باپ پرورشِ اولاد کے واسطے ان کے خدمت گزار ہیں؛ پس اولاد کا پال دینا، صرف اتنا تعلق تو خدا کی طرف سے ماں باپ کو دیا گیا۔ باقی یہ بکھیڑے کہ اب اولاد کی تمنا ہے، نہیں ہے تو دوا ہے، اور علاج ہے، اور تعویذ گنڈا ہے، عمل ہیں، اور دعا ہے؛ یا اولاد ہوئی تو یہ فکر ہے کہ بیٹے ہوں، بیٹیاں نہ ہوں، یا جو ہوں، زندہ رہیں؛ یہ خود انسان کی اپنی ہوس کے طمطراق ہیں۔

رہی یہ بات کہ اولاد کی تمنا، جو آدمی نے خدا کی مرضی سے زیادہ اپنے دل میں پیدا کی، کس وجہ سے ہوتی ہے؟ بے شک فائدے اور غرض کے واسطے ہوتی ہے؛ لیکن فائدے کئی قسم کے ہیں۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ اولاد سے نام چلتا ہے؛ بعض کو یہ خیال ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ہمارے مددگار ہوں گے؛ بعض کو یہ تصور ہوتا ہے کہ ہمارا مال و دولت ہمارے بعد لیں گے۔ اب ان خیالات پر غور کرو، کس قدر بیہودہ اور غلط ہیں۔ نام چلنا کیا معنی؟ کہ لوگ یہ جانیں کہ یہ فلانے کے بیٹے، فلانے کے پوتے ہیں؛ اول تو جب ہم خود دنیا میں نہ رہے، تو اگر کسی نے ہم کو جانا تو کیا، اور نہ جانا تو کیا؟ علاوہ اس کے، غور کرو کہ کہاں تک نام چلتا ہے؛ کسی آدمی سے اس کے باپ دادوں کے نام پوچھو؛ شاید دادے تک تو سب کوئی بتا سکے گا، اس سے اوپر خود اولاد کو نہیں معلوم کہ ہمارے پردادا اور سکڑدادا کون بزرگ تھے۔ دوسرے، لوگوں کو ان کے مردوں کی ہڈیاں اکھاڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ پس بالفرض نام چلا بھی، تو ایک یا دو پشت؛ آگے خیر صلّا! اور ایک یا دو پشت نام چلنا بھی صرف خیالی بات ہے۔ دس برس سے میں پہاڑ پر ہوں؛ ہزاروں آدمی مجھ کو جانتے ہیں، اور ہزاروں کو میں جانتا ہوں؛ لیکن نہ وہ میرے باپ کو جانیں، نہ میں ان کے باپوں سے واقف ہوں؛ نہ کچھ باپ کا نام بتانے یا پوچھنے کی کبھی ضرورت واقع ہوتی ہے۔

دوسری وجہ تمنائے اولاد کی یہ فائدہ ہے کہ بڑھاپے میں مددگار ہوں؛ لیکن یہ خیال بھی محض واہیات ہے۔ یہ کیونکر یقین ہے کہ ان کے بڑے ہونے تک ہم جیتے رہیں گے، یا ہمارے بڑھاپے تک یہ زندہ رہیں گے؟ اور بالفرض زندگی کا اتفاق بھی ہوا، تو اولاد کا مددگار ہونا محض خیالی بات ہے۔ ان وقتوں میں ہم ایسی اولاد بہت کم پاتے ہیں جن کو ماں باپ کا ادب ملحوظ ہوتا ہے، یا جن کو والدین کی خدمت گزاری کا خیال ہوتا ہے؛ ادب اور خدمت گزاری تو درکنار، اب تو اکثر اولاد سے ماں باپ کو ایذا اور تکلیف پہنچتی ہے۔ جس اولاد کی لوگ تمنا کرتے ہیں، شروع سے آخر تک ان کے ہاتھوں سے رنج پاتے ہیں۔ جب تک چھوٹے ہیں، پالنا ایک مصیبت: آج آنکھیں دکھتی ہیں، کبھی پسلی کا دکھ ہے، کبھی دانت نکلتے ہیں، کبھی چیچک نکلی ہے۔ خدا خدا کر کے بڑے ہوئے، تو ان کے کھانے کپڑے کی فکر؛ آدمی نہیں معلوم کس حالت میں ہے، نوکر ہے یا نہیں، پیسہ پاس ہے یا نہیں، ان کو جہاں سے ہو سکے، دینا ضرور؛ ماں باپ کو فاقہ ہو تو ہو، ان کو، سودا سلف کچھ نہ ہو تو بھی، دمڑی روز کے چنے چاہییں؛ عید ہو، بقرعید ہو، میلا ہو، تہوار ہو، ’لاؤ بھئی، نیا جوڑا‘، ’سودا کھانے کو چار ٹکے پیسے‘؛ یہاں تک بھی غنیمت ہے۔ اب ماں باپ چاہتے ہیں کہ لڑکا کام سیکھے، پڑھے؛ اور لڑکا پاجی ہے کہ پڑھنے کے نام سے کوسوں بھاگتا ہے؛ جب تک مکتب کے چار لڑکے ٹانگ کر نہ لے جائیں، جانا قسم ہے؛ اور وہاں گیا، استاد کی آنکھ بچی، کہیں چوراہے جا نکلے، کہیں نہر پر کھڑے گیڑیاں کھیلتے ہیں، کہیں بازاروں میں خاک چھانتے پھرتے ہیں۔ اور ذرا بڑے ہوئے، ماں باپ کو جواب دینے لگے؛ لچوں کی صحبت، بدمعاشوں کا ساتھ؛ نہ نیچ کا پرہیز ہے، نہ بری صحبت سے گریز؛ باپ دادوں کو بدنام کرتے پھرتے ہیں؛ اسی طرح بعضے شاطر بدمعاش، چور، جواری، شراب خور ہو جاتے ہیں۔

اب اولاد بیاہنے قابل ہوئی؛ تمام شہر چھان مارا، کہیں ڈھب کی بات نہیں ملتی؛ مشاطہ پاؤں توڑ توڑ کر تھکی؛ میل ملاپ والے ہار کر بیٹھ رہے؛ کنبے کے لوگ ایک ایک سے کہہ چکے، کوئی ہامی نہیں بھرتا۔ ایک خرابی میں جان ہے؛ ماں بیچاری کہیں منتیں مانتی پھرتی ہیں، کہیں کھڑی فال گوش لے رہی ہیں، کہیں گڑیا کا بیاہ ہو رہا ہے؛ پانچوں وقت دعا ہے، ’الٰہی، غیب سے کسی کو بھیج!‘ خدا خدا کر کے نسبت ناتا ٹھہرا، تو ایسی جگہ کہ یہاں ماں بیچاری کے پاس چاندی کا تار تک نہیں، سمدھیانے والے چھپکے کے بالے مانگتے ہیں۔ کسی طرح اپنے تئیں بیچ کر بیاہ کیا؛ چڑیا کی جان گئی، کھانے والے کو مزا نہ ملا؛ جہیز ہے کہ پھینکا پھینکا پھرتا ہے؛ سمدھن کہتی ہے، ’اوئی، کیا دیا؟ ایسی ناہوت میں بیٹی جننی کیا ضرور تھی؟‘ کوئی چیز خاطر تلے نہیں آتی؛ بات بات میں طعنہ ہے۔ داماد صاحب جو تشریف لائے، تو ان کے دماغ نہیں ملتے؛ جب تک سسرے سے جوتیاں سیدھی نہ کرا لیں، ہاتھ تک نہیں دھوتے، کھانے کی کون کہے؟ چوتھی نہیں ہوئی کہ میاں بیوی میں جوتی پیزار ہونے لگی؛ بیٹی کی بیٹی دی، اور لڑائی کی لڑائی مول لی۔ پھر یہ نہیں کہ کچھ ایک دن کی ہے؛ نہیں، بس عمر بھر کو مصیبت کا چرخہ چلا۔ بیٹی کی اولاد ہونی شروع ہوئی؛ ماں بے داموں کی لونڈی، بے تنخواہ کی دایہ؛ عمر بھر اپنے بچے پالنے کی مصیبت جھیلتی رہی؛ اب خدا خدا کر کے دو برس سے آرام نصیب ہوا تھا، بیٹی کے چونگے پوتے سنبھالنے پڑے۔ اور اگر بہو آئی، تو فساد کی گانٹھ، لڑائی کی پوٹ؛ ساس کو تو جوتی کے برابر نہیں سمجھتی؛ نندوں کا دم ناک میں کر رکھا ہے؛ نہ جیٹھ کا حجاب، نہ سسرے کا ادب؛ عورت ہے کہ مردوں کی پگڑی اتارے لیتی ہے؛ خدا پناہ میں رکھے! بیٹے نالائق کو دیکھیے کہ بیوی نے تو یہ آفت برپا کر رکھی ہے، یہ مردود بیوی کی حمایت کرتا ہے، اور الٹا ماں باپ سے لڑتا ہے؛ یہاں تک کہ بیچارے ماں باپ گھر چھوڑ، الگ کرائے کے مکان میں جا رہے۔ یہ نتیجہ اس وقت کی اولاد سے ماں باپ کو ملتا ہے؛ بہت کم ہیں وہ لوگ جو اولاد سے راحت پاتے ہیں۔ پس ہم لوگ اپنی بے وقوفی سے اولاد کی کیا تمنا کرتے ہیں، گویا آفت اور مصیبت کو عرضی کر کے بلاتے ہیں۔

اب رہا یہ خیال کہ مال و دولت کا کوئی وارث ہو، اس وجہ سے اولاد کی تمنا کی جائے؛ یہ خیال جیسا مہمل اور پوچ اور لچر اور خرافات ہے، ظاہر ہے۔ جب آدمی خود دنیا سے اٹھ گیا، تو اس کی دولت اگر اس کے بیٹوں نے لی تو کیا، اور اگر مال لاوارث قرار پا کر سرکار میں گیا تو کیا؟ یہ دولت عاقبت میں کچھ بکار آمد نہیں، مگر اسی قدر جو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہم خود صرف کر جائیں، یا ہمارے بعد ہمارے نام سے خدا تعالیٰ کی راہ میں صرف ہو۔ جب ہم نے دولت کو خود صرف نہ کیا، اور ایسا ضروری کام اولاد کے ذمے چھوڑ گئے، تو ہم سے زیادہ کوئی احمق نہیں۔ جو اولاد ماں باپ کا اندوختہ مفت میں پا جاتی ہے، ہرگز ان کو اس کے خرچ کرنے میں دریغ نہیں ہوتا۔ آدمی اسی روپیہ کی قدر کرتا ہے جس کو وہ خود اپنی قوتِ بازو اور عرق ریزی سے پیدا کرتا ہے؛ اور بے محنت جو روپیہ ملتا ہے، اس کا حال یہی ہوتا ہے کہ ’مالِ مفت، دلِ بے رحم‘۔ البتہ اولاد ناچ، رنگ، سیر، تماشے میں خوب دولت کو اڑائے گی؛ لیکن چاہیے کہ باپ کے نام باجرے کے دلیے پر فاتحہ تک بھی دلائے، تو کیا مذکور؟ کیا ایسی مثالیں دنیا میں سیکڑوں ہزاروں نہیں ہیں کہ لوگ بخل اور خست سے عمر بھر جمع کرتے رہے، اولاد نے دولت پاتے ہی وہ گلچھرے اڑائے کہ چند روز میں باپ کا اندوختۂ عمر بھر فنا کر دیا؟

اللہ اللہ! کہ تلف کرد؟ کہ اندوختہ بود؟

اس بیان سے ظاہر ہو گا کہ جس قدر تعلق اولاد کے ساتھ ہم نے دل سے بڑھا لیا ہے، وہ ہمارے حق میں نہایت ضرر کرتا ہے۔ ہم کو اولاد کے ساتھ اسی قدر تعلق رکھنے کا حکم ہے کہ جب تک وہ ہماری مدد کے محتاج رہیں، ان کی پرورش کریں؛ اور اس پرورش کرنے میں بھی اس امید کو دل میں جگہ نہ دیں کہ اولاد، بڑی ہو کر، اس پرورش کے عوض کبھی ہماری خدمت کرے گی۔ یہ امید پیدا کرنا سخت درجے کی نادانی ہے؛ بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ خدا نے، جو ہمارا مالک ہے، ان کی پرورش کی خدمت ہم سے متعلق کی ہے؛ ہم اولاد کو پالنے میں اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہ باغ خدا کا ہے، اور ہم اس کی طرف سے اس باغ کے مالی ہیں؛ اگر باغ کا مالک کسی درخت کو قلم کرنے یا کاٹ ڈالنے کا حکم دے، مالی کو یہ کہنے کا کب منصب ہے کہ ’میں نے اس درخت کو بڑی محنت سے پالا ہے، یہ کیوں کاٹا اور قلم کیا جاتا ہے؟‘ دنیا کے تمام تعلقات صرف اتنے واسطے ہیں کہ آدمی ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائے۔ ہم چند روز کے واسطے کسی مصلحت سے اس دنیا میں بھیجے گئے ہیں؛ اور یہاں ہم کو کسی کا باپ، کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی بنا دیا ہے، اس واسطے کہ لوگ ہماری اور ہم لوگوں کی مدد کریں، اور باہم سازگاری میں اپنی زندگی، جو مقرر کر دی گئی ہے، پوری کر جائیں۔ دنیا ہمارا گھر نہیں ہے؛ ہم کو دوسری جگہ جا کر رہنا ہو گا؛ نہ کوئی ہمارا ہے، نہ ہم کسی کے؛ ہم اگر کسی کے باپ ہیں تو صرف چند روز کے واسطے، اور اگر کسی کے بیٹے ہیں تو بھی چند روز کے واسطے۔ اگر ہم کسی کو مرتا دیکھیں، تو افسوس کی کیا بات ہے؟ افسوس تو جب کریں جب ہم یہاں بیٹھے رہیں؛ ہم کو خود وہی سفر درپیش ہے؛ نہیں معلوم کس گھڑی بلاوا ہو، اور چلنا ٹھہر جائے۔

پھر سب سے مشکل یہ ہے کہ مرنا صرف یہی نہیں ہے کہ بدن سے جان نکل گئی، گویا روح ایک مکان سے دوسرے مکان میں چلی گئی؛ نہیں، وہاں جا کر بات بات کا حساب دینا ہو گا۔ زبان جھوٹ، اور غیبت، اور قسم، اور فحش، اور بیہودہ بکواس کے واسطے جوابدہی کرے گی؛ آنکھ نظرِ بد کی سزا پائے گی؛ کان کو کسی کی بدی اور راگ سننے کے عوض میں گوشمالی دی جائے گی؛ ہاتھ نے کسی پر زیادتی کی ہے، یا پرایا مال چرایا ہے، کاٹا جائے گا؛ پاؤں اگر بے راہ چلا ہے، شکنجے میں کسا جائے گا۔ بڑا ٹیڑھا وقت ہو گا؛ خدا ہی اپنے فضل سے بیڑا پار کرے تو ہو سکتا ہے۔ جس کو ان باتوں سے فراغت ہو، وہ کسی کے مرنے پر غم کرے یا کسی کے پیدا ہونے پر خوش ہو، تو بجا ہے؛ لیکن دنیا میں کوئی ایسا ہے جو اپنی عاقبت سے بے فکر ہو چکا ہو؟ اصغری، اپنی خبر لو، اور اس دن کے واسطے سامان کرو جہاں، سوائے عمل کے، کچھ کام نہ آئے گا۔ اور دعا کرو کہ خداوندِ عالم اپنے دوست محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طفیل سے ہم سب کا انجام بخیر کرے۔ والدعا۔“

گنہگار دوراندیش خاں

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.