Urdu in Translation
Search

Chapter 18 of 20

Weddings and Their Expenses

شادی بیاہ کے خرچ

Deputy Nazir Ahmad

Script
Size

یہ دونوں تو رخصت ہوئیں۔ اصغری نے ساس سے کہا، ”اماں جان، کچھ محمودہ کی بھی فکر ہے؟“

ساس بولیں، ”کیا فکر کروں؟ کہیں سے بات بھی آئے؛ میں ایک جگہ سوچے بیٹھی ہوں؛ محمد صالح کے ساتھ محمودہ کا بیاہ کر دوں گی۔“

اصغری نے کہا، ”کجا محمد صالح اور کجا محمودہ؟ بھائی محمد صالح کی عمر بھائی جان سے کچھ کم نہ ہو گی۔“

محمد کامل کی ماں بولیں، ”ہاں، عاقل چھ مہینے محمد صالح سے بڑا ہے؛ ایک ہی برس کے دونوں پیدا ہیں۔“

اصغری نے کہا، ”بھلا، پھر تھوڑا فرق ہے!“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”اور تو کہیں سے سلام پیام نہیں۔“

اصغری نے کہا، ”میں نے ایک بات سوچی ہے؛ اگر آپ کو پسند ہو تو ذکر چلاؤں۔“

محمد کامل کی ماں نے پوچھا، ”وہ کیا؟“

اصغری بولی، ”حکیم فتح اللہ خاں کے لڑکے سے۔“

محمد کامل کی ماں بولیں، ”بھلا بیٹی، جھونپڑے کا رہنا اور محلوں کے خواب دیکھنا! کجا حکیم جی کا گھر؟ آج ان کے یہاں وہ دولت ہے کہ شہر میں ان کا ثانی نہیں؛ اور کجا ہم غریب، کہ رہنے تک کا جھونپڑا بھی درست نہیں؟ یہاں کی بات ان کی خاطر میں آوے گی؟ ناحق کہہ کر بھی پشیمان ہونا ہے۔“

اصغری نے کہا، ”وہ دولت مند ہیں تو اپنے واسطے ہیں؛ ہم کیا، خدانخواستہ، کچھ ان کے دست نگر ہیں؟ وہ اپنے پلاؤ زردے میں مست ہیں، تو ہم اپنے دال دلیے میں مگن ہیں۔ ذات میں ہم ان سے ہیٹے نہیں؛ ہنر جو، ماشاء اللہ، ہماری محمودہ میں ہے، وہ ان کے بڑوں میں بھی نصیب نہ ہوا ہو گا۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”بوا، دولت کے آگے ہنر ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے۔ سونے کا چھپرکھٹ پہلے بنوا لوں، تب ان سے بات کرنے جاؤں۔ ہرگز ہرگز تم اس کا خیال مت کرو۔ اے لو، علوی خاں میں کیا برائی تھی؟ رقعہ بھیج کر انہوں نے الٹا منگوا لیا۔ بوا، غریبوں کی کھپت غریبوں میں ہو سکتی ہے۔“

اصغری نے کہا، ”ہزار دولت کی ایک دولت تو خوب صورتی ہے؛ چشمِ بد دور! ہماری محمودہ سے بہتر کنبے میں تو ڈھونڈ لیں۔“

محمد کامل کی ماں بولیں، ”بوا، تم کیسی لڑکیوں کی سی باتیں کرتی ہو! حسن بھی ہمسری کی حالت میں پوچھا جاتا ہے؛ اور پھر یہ بات منہ سے کہنے کی ہے کہ ہماری لڑکی خوب صورت ہے؟ اور میں تو نہیں سمجھتی کہ خوب صورتی کیا بلا ہے؛ بڑی بڑی خوب صورتوں کو دیکھا ہے کہ جوتیوں کے برابر قدر نہیں؛ اور بدشکلیں ہیں کہ لالوں کی لال بنی بیٹھی ہیں۔“

اصغری نے کہا، ”خوب صورتی بھی ایسی چیز ہے کہ آدمی اس پر فریفتہ نہ ہو؟ مگر اکثر آدمی جن کی صورت اچھی ہوتی ہے، سیرت کے خراب اور مزاج کے گندے ہوتے ہیں؛ ان کو اپنی صورت پر ناز ہوتا ہے؛ اس وجہ سے ان کی دال کہیں نہیں گلنے پاتی، اور ان کا مزاج ان کے حسن کی قیمت گھٹا دیتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک گھوڑا ہے، رنگ کا صاف، ہاتھ پاؤں کا اچھا، بال بھونری سے پاک، جوڑ بند کا درست، لیکن بدرفتار، کٹر ہے، دولتی الگ چلاتا ہے، سواری میں الف ہوتا ہے، الٹ جاتا ہے؛ ایسے نامراد گھوڑے کی صورت لے کر کوئی کیا کرے؟ لیکن اگر پاکیزگیِ صورت کے ساتھ شایستہ، قدم باز اور غریب بھی ہو، تو نایاب چیز ہے؛ جیسی ہماری محمودہ، صورت سیرت دونوں، ماشاء اللہ، ایک کا جواب ایک۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”آخر کچھ دینے کو بھی چاہیے۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی کہ تمہارے مکتب کی لڑکی پڑھ رہی تھی:

یا مکن با فیل بانان دوستییا درے افراز بر بالائے پیل

یعنی یا فیل بانوں سے میل مت کر، اور جو کرتا ہے تو ہاتھی کی آمد و رفت کے لائق گھر کا دروازہ اونچا بنا۔ ہم غریبوں کے پاس ان کی شان کے لائق دینے لینے کو کہاں؟ ناحق بیٹھے بٹھائے اپنی ہنسی کرانی کیا ضرور ہے؟ اور فرض کیا، بات ہو بھی گئی، اور لڑکی وہاں نظروں میں حقیر رہی، تو ’نقصانِ مایہ و شماتتِ ہمسایہ‘۔“

اصغری نے کہا، ”عزت اور ذلت کچھ جہیز پر منحصر نہیں؛ میاں بیوی کی موافقت تو اور ہی چیز ہے۔ جمال آرا کیا کم جہیز لے کر گئی تھیں؟ لیکن ایک دن بھی سسرال میں رہنا نصیب نہ ہوا۔ دور کیوں جاؤ؟ ہماری آپا کو بھی ہمارے برابر ملا تھا، پھر کیوں روز لڑائی ہوتی ہے؟ یہ تو اپنا اپنا مزاج اور اپنا اپنا سلیقہ ہے۔“

محمد کامل کی ماں بولیں، ”یہ تو میں نے مانا کہ میاں بیوی کا پیار اخلاص جہیز پر موقوف نہیں؛ لیکن کنبے قبیلے کے لوگ بے کہے کب باز آتے ہیں؟ اور لڑکے نے خیال نہ کیا تو کیا ہے؟ ساس نندیں ہی موقع پا کر کبھی بات میں بات کہہ گزریں، آخر دل کو برا لگتا ہی ہے۔ ایک تو بیٹی والے کا یوں ہی سر نیچا ہوتا ہے؛ اس پر دان جہیز واجبی اور غضب ہے۔ نہ بوا، یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔“

اصغری نے کہا، ”کنبے والوں سے کیا مطلب؟ کنبے والے ہر روز تھوڑے ہی پاس بیٹھے رہتے ہیں۔ ہاں، ساس نندوں کے رات دن کے طعنے بے شک غضب کا سامنا ہے؛ سو حسن آرا اور جمال آرا، طعن و تشنیع کا تو کیا ذکر، محمودہ کے پاؤں دھو دھو کر پیا کریں گی۔ ایسا بھی کیا اندھیر ہے؟ کیا بیاہ ہوتے کے ساتھ آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لیں گی؟ حسن آرا کو جیسی محبت محمودہ کے ساتھ ہے، آپ تو دیکھتی ہیں؛ رہیں جمال آرا، سو دل کی خدا جانے، ظاہر میں جب ملتی ہیں، بچھی جاتی ہیں۔ میں بھی تو آخر جیتی بیٹھی ہوں؛ محمودہ کو بری طرح رکھیں گی تو مجھ کو کیا منہ دکھائیں گی؟ اور سو بات کی ایک بات تو میں یہ جانتی ہوں کہ ساس نندیں بھی ہوا دیکھا کرتی ہیں؛ لڑکے کو ریجھا ہوا دیکھیں گی، تو کسی کی مجال نہیں کہ محمودہ کو آنکھ بھر کر دیکھ لے۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”آخر تمہاری مرضی کیا ہے؟ شربت کے پیالے پر نکاح پڑھا دوں؟“

اصغری نے کہا، ”یہ تو میرا مطلب نہیں؛ اور ناہوت میں شربت بھی نہیں جڑتا، تو کیا بیٹا بیٹی کے کام کاج نہیں کرتے؟ دینا دلانا بھی ایک دنیا جہان کی رسم ہے؛ جتنی چادر دیکھیے، اتنے پاؤں پھیلائیے۔ مقدور موافق جو بن پڑا، دیا؛ نہ بن پڑا، نہ دیا۔ نام و نمود کے پیچھے گھر کا دیوالا نکال بیٹھنا بھی عقل کی بات نہیں۔ میرے مکتب میں سلمیٰ لڑکی پڑھتی ہے؛ اس کے ابا کو غدر کے پیچھے سرکار سے دس ہزار روپیہ انعام کا ملا تھا؛ کسی میم کی جان بچائی تھی۔ دس ہزار روپیہ ان کو اتنا تھا کہ عمر بھر آبرو سے رہتے۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی بیاہنے کو اٹھے؛ شیخی میں آ کر دس ہزار سرکار کا دیا ہوا اٹھا بیٹھے، اور ہزار پانسو اوپر سے قرض لے کر لگا دیا۔ اس وقت تو خوب ہر طرف سے واہ واہ ہوئی؛ اب گھر میں اس قدر تنگی ہے کہ کھانے تک کو حیران ہیں۔ بیاہ میں مجھ کو بھی بلاوا آیا تھا؛ سامان دیکھ کر تو ہوش اڑ گئے؛ بلکہ، شاید سلمیٰ کی اماں نے جی میں برا مانا ہو، میں نے تو کہہ دیا تھا کہ ’بوا، بیٹا بیٹی کا دینا آنکھوں سکھ کلیجے ٹھنڈک؛ گھی کہاں گیا؟ کھچڑی میں؛ مگر اپنی ہنڈیا کی خیر منانی بھی ضرور ہے۔‘ کہنے کو تو میں اتنا کہہ گزری، مگر پیچھے مجھ کو پچھتاوا بھی آیا کہ سلمیٰ کی بہن سمجھی ہو گی کہ استانی جی، لینا ایک نہ دینا دو، ناحق بھنجی مرتی ہیں۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”ہاں، سچ ہے؛ مگر کم بخت دنیا میں رہنا ہے، کیا کریں؟ کہیں جائیں؟ ہو یا نہ ہو، کرنا ہی پڑتا ہے۔ دنیا کی سی نہ کریں، تو نکو کون بنے؟ انگشت نما کون ہو؟ میں نے مولوی اسحاق صاحب کے درس میں سنا تھا کہ اگلے وقتوں میں عرب کے لوگ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے۔“

اصغری نے کہا، ”اماں جان، دور کیوں جاؤ؟ ہمارے ملک میں راجپوت بھی تو یہی غضب کرتے تھے؛ اب انگریزوں کی روک ٹوک سے بندی ہوئی ہے؛ اس پر بھی کئی دفعہ بھنک سن پڑی ہے کہ چوری چھپے خون ہوئے۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”عقل کیا کرے؟ غیرت نہیں قبول کرتی۔“

اصغری بولی، ”غریبی میں غیرت کی کیا بات ہے؟ دنیا میں غریب لوگ زیادہ ہیں؛ اگر غریب ہونا غیرت کی بات ہے تو دنیا میں بے غیرت بہت ہیں۔ امیری غریبی سب اپنی اپنی قسمت ہے؛ سب یکساں کیونکر ہو جائیں؟“

محمد کامل کی ماں بولیں، ”اے ہے، بلا سے شادی بیاہ میں بہت خرچ کرنے کی تو کچھ انگریزی سرکار سے مناہی ہو جاتی، تو جھگڑا مٹتا۔“

اصغری: ”اخبار سے تو معلوم ہوتا ہے کہ انگریز لوگ کچھ بندوبست کرنے والے ہیں؛ ہمارے شہر کے رئیس بھی تو سب بلائے گئے تھے؛ اور سنا ہے کہ خرچ کی ایک حد باندھی گئی ہے، مہر کا اندازہ مقرر ہوا ہے؛ مگر یہ کام ہم لوگوں کے کرنے کے ہیں کہ سب ایکا کر کے جتنے خرچ فضول ہیں، موقوف کریں۔“

محمد کامل کی ماں: ”خرچ کے فضول ہونے کی جو تم نے کہی، تو جس کو خدا نے دیا ہے، کچھ فضول نہیں؛ ہاں، جس کے پلے کوڑی نہیں، اس کو تو سبھی فضول ہے۔“

اصغری: ”یہ نہ فرمائیے۔ شادی بیاہ میں تو واجبی خرچ کم ہے؛ فضول باتوں میں بہت روپیہ اٹھ جاتا ہے۔ ہمارے خاندان میں تو ناچ، تماشا، باجا گاجا، آتش بازی، نوبت نقارہ، کچھ ہوتا ہواتا نہیں؛ مگر جن کے یہاں ہوتا ہے، اسی میں سیکڑوں ہزاروں پر پانی پھر جاتا ہے۔“

محمد کامل کی ماں: ”ناچ تماشا جن کے یہاں ہوتا ہو، وہ جانیں؛ بھلا ہمارے یہاں کون خرچ فضول ہے؟“

اصغری: ”کیوں نہیں؟ منگنی، تیج تہوار، ساچق، مہندی، برات، بہورا، چوتھی، چالے، بہت بھاری بھاری جوڑے، جڑاؤ گہنا، سب ہی فضول ہیں۔“

محمد کامل کی ماں: ”تو سیدھی یہی ایک بات کیوں نہیں کہتیں کہ سرے سے بیاہ ہی فضول ہے؟“

اصغری ہنسنے لگی، اور کہا کہ ”بیاہ تو فضول نہیں، مگر اس کے لوازمے البتہ ناحق کے ڈھکوسلے ہیں۔“

محمد کامل کی ماں: ”بھلا، رسمیں تو رسمیں، تم تو کپڑوں اور زیور کو بھی فضول بتاتی ہو۔“

اصغری: ”نرے کپڑے اور نرا زیور تو کام کی چیز ہے؛ مگر بھاری بھاری جوڑے، آپ ہی انصاف فرمائیے، کس کام آتے ہیں؟ خود میرے جوڑے پڑے گلتے ہیں؛ گھر میں پہننے سے کم بخت دل کڑھتا ہے؛ کبھی کبھار شادی بیاہ میں پہن گئے، یا عید کو ذرا کی ذرا نکلے؛ باقی بارہ مہینے گٹھری میں بندھے رکھے ہیں؛ آئے دن دھوپ دینی مفت کا دردِ سر؛ اور جو بیچنے اٹھو، تو مال کا مول نہیں ملتا؛ مصالح کے دام تک بھی نہیں کھڑے ہوتے۔ اور یہی حال جڑاؤ زیور کا ہے۔ مولوی کفایت اللہ کی بیٹی کا بیاہ آپ نے سنا ہے؟ پس ایسے بیاہ مجھ کو پسند ہیں۔“

محمد کامل کی ماں: ”کون مولوی کفایت اللہ؟“

اصغری: ”لڑکیوں کے مدرسوں کے افسر۔“

محمد کامل کی ماں: ”وہ تو شاید شہر کے رہنے والے نہیں ہیں۔“

اصغری: ”نہیں، آگرے کی طرف کے رہنے والے ہیں؛ بیوی بچوں کو اپنے پاس بلا لیا ہے۔ بیٹی کی منگنی اسی شہر میں کی تھی۔ بیوی کی مرضی یہ تھی کہ اپنے شہر میں جا کر بیٹی کا بیاہ کریں، یہاں سے برات جائے؛ مولوی صاحب نے بیوی کو سمجھا بجھا کر راضی کر لیا۔ ایک دن دو چار میل ملاپ والوں کو بلا بھیجا؛ مہمان جو گھر میں پہنچے، تو سنا کہ بیٹی کا نکاح ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد سمدھی لڑکے کو ساتھ لے آ موجود ہوئے؛ شرعِ محمدی نکاح پڑھا دیا؛ اللہ اللہ، خیر صلّا؛ دان جہیز جم ہی جم دیا۔ نکاح کے بعد پانسو روپے نقد مولوی صاحب نے بیٹی داماد کے آگے لا کر رکھ دیے، اور کہا کہ ’بس بھئی، میری کمائی میں تمہاری تقدیر کا اسی قدر تھا؛ اگر میں چاہتا تو اس میں مہمانداری بھی کر دیتا، اور دنیا کے دستور موافق ایک دو بھاری جوڑے بھی بنا لیتا؛ مگر میں نے سوچا تو یہی مناسب معلوم ہوا کہ نقد روپیہ تم کو دینا بہتر ہے؛ اب تم جس طرح چاہو، اس کو کام میں لاؤ۔‘“

محمد کامل کی ماں سن کر بولیں کہ ”ہاں، پردیس میں! مولوی صاحب جو چاہتے سو کرتے؛ کہنے سننے والا کون تھا؟“

اصغری: ”کیوں؟ کہنے سننے والی گھر والی بیوی! اور پردیس پر کیا موقوف ہے؟ ہمت چاہیے؛ کرنے والا ہو تو شہر میں بھی کر گزرے؛ کہنے والوں کو بکنے دیا، اپنے کام سے کام۔“

محمد کامل کی ماں: ”کیا تم نے محمودہ کا اسی طرح کا اونگھتا اداس نکاح تجویز کیا ہے؟“

اصغری: ”بے شک، میں تو لوگوں کے کہنے سننے کی کچھ پروا نہیں کرتی؛ میرا بس چلے تو محمودہ کا نکاح کفایت اللہ کی بیٹی کا جواب ہو۔ انہوں نے دو چار مہمان بھی بلائے تھے، اور میرے نزدیک اس کی بھی ضرورت نہیں۔“

محمد کامل کی ماں: ”نہ بوا، خدا کے لیے ایسا غضب تو مت کرو؛ اس بڑھاپے میں میری تو یہی ایک بچی بیاہنے کو ہے؛ اب کیا میں قبر سے کسی کا بیاہ برات کرنے پھر آؤں گی؟“

اصغری: ”نہیں، ایسا تو میرا بھی ارادہ نہیں ہے؛ مگر البتہ یہ بات ضرور میں نے اپنے دل میں ٹھان رکھی ہے کہ نہ تو ایک پیسہ قرض کا لیا جائے، اور نہ کوئی جائداد گروی رکھی جائے۔ جو کچھ جوڑا بٹورا اس کے نام کا رکھا ہے، اور جو کچھ اس کی تقدیر سے عین وقت پر ہو جائے، بس کافی ہے۔“

محمد کامل کی ماں: ”سبحان اللہ! ایسا ہو تو کیا بات ہے! مگر جب دوسری طرف والے بھی ہامی بھریں۔“

اصغری نے کہا، ”اور اگر وہ راضی ہو جائیں؟“

محمد کامل کی ماں بولیں، ”ان کا راضی ہونا کیا ہنسی ٹھٹھا ہے؟ اللہ آمین کا ایک تو بیٹا؛ نہیں معلوم کیا کیا حوصلے ان کے دلوں میں ہوں؛ وہ تو برابر کی ٹکر کا گھر دیکھ کر بات کریں گے، اور سب ارمان نکالیں گے۔“

اصغری نے کہا، ”جب سے میں سیالکوٹ سے آئی ہوں، اسی بات کی تدبیر کر رہی ہوں؛ ادھر سب ٹھیک ٹھاک ہو گیا ہے۔ ابھی جمال آرا اور حسن آرا بھاگی ہوئی آئی تھیں؛ چھوٹے حکیم صاحب کو بھی منظور ہے۔ شاہ زمانی بیگم نے اپنی بیٹی کے واسطے بہت بہت تدبیریں کیں؛ خدا کے فضل سے کوئی کارگر نہ ہوئی۔ اب دیر نہیں کرنی چاہیے؛ پرسوں دن بھی اچھا ہے؛ ادھر سے مٹھائی آ جائے، بات پکی ہو جائے؛ پھر بیاہ کو دیکھا جائے گا۔“

محمد عاقل کی ماں یہ سن کر حیران رہ گئیں، اور کہا کہ ”بات تو بہت اچھی ہے، ہماری لیاقت سے کہیں زیادہ ہے؛ لیکن ان کے لائق سامان ہم سے ہونا مشکل ہے۔“

اصغری نے کہا، ”خدا مسبب الاسباب ہے؛ جب محمودہ کی تقدیر ایسے اونچے گھر میں لڑی ہے، تو خدا اپنی قدرت سے وقت پر کچھ سامان بھی کر دے گا۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”اپنے سسرے کو آنے دو؛ مٹھائی کے واسطے ان سے پوچھ لوں۔“

تھوڑی دیر میں مولوی صاحب آئے، اور منگنی کا حال سن کر بہت خوش ہوئے، اور کہا کہ ”بے تامل پرسوں مٹھائی آوے۔“ اصغری نے حسن آرا کو کہلا بھیجا۔ روزِ مقررہ پر پانچ من مٹھائی اور سو روپے آ گئے؛ سوا من مٹھائی اور سوا سو روپیہ گیا۔ ہر طرف سے مبارک سلامت ہو گئی۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.