
Chapitre 17 sur 20
A Match for Mahmuda
محمودہ کی نسبت
اصغری کے جانے کے بعد دونوں بہنوں نے محمودہ کی حد سے زیادہ تعریف کی۔ سلطانہ تو نیم راضی ہو گئی، لیکن شاہ زمانی بیگم کی بھی ایک بیٹی تھی، دل دار جہاں، اور شاہ زمانی کا یہ ارادہ تھا کہ ارجمند سے اپنی بیٹی کی منگنی کرے؛ لیکن اتنا غنیمت تھا کہ ابھی تک شاہ زمانی نے اپنی بہن سے کچھ اس کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ جب اصغری نے محمودہ کی نسبت گفتگو کی، تو سلطانہ بیگم نے شاہ زمانی بیگم سے پچھوا بھیجا کہ ”آپ کے نزدیک یہ بات کیسی ہے؟“
شاہ زمانی یہ حال سن کر بہت گھبرائی، اور اس فکر میں ہوئی کہ محمودہ کی بات دب دبا جائے تو دل دار جہاں کی بات ٹھہرا دوں۔ اس وقت کہلا بھیجا کہ ”میں سوچ کر جواب کہلا بھیجوں گی۔“
اگلے دن خود بدولت آ موجود ہوئیں، اور جب ذکر چلا، تو سلطانہ سے کہا کہ ”کہاں تم، کہاں مولوی صاحب! زمین آسمان کا کیا جوڑ؟ یہ بات یہاں کون لایا تھا؟“ سلطانہ نے کہا، ”استانی جی۔“
شاہ زمانی نے کہا، ”میں خود استانی جی کے پاس جاتی ہوں۔“ حسن آرا کو ساتھ لے اصغری کے پاس گئیں، اور کہا کہ ”استانی جی، تم اتنی بڑی تو عقل مند، اور تم اتنا نہ سمجھیں کہ رشتہ ناتا برابر کے ساتھ ہوتا ہے؟ علوی خاں کے گھر سے اس بات پر رقعہ پھرا کہ انہوں نے سونے کا چھپرکھٹ نہیں مانا؛ بھلا تم محمودہ کو کیا دو گی؟“
اصغری نے کہا، ”بیگم صاحب، میں نے تو لڑکی کے بیاہ کے واسطے ایک بات کہہ دی تھی؛ کچھ لڑکی کے مول تول کا پیام نہیں دیا۔ شہر میں اگرچہ اب کل رسمیں بگڑ گئی ہیں، لیکن لینے دینے کا چکوتا کہیں نہیں سنا۔ جو بیٹی دے گا، وہ کیا اٹھا رکھے گا؟ باقی رہی برابری، سو ظاہر ہے کہ دولت کے اعتبار سے ہم کو کچھ نسبت نہیں؛ علوی خاں کا چوتھائی بھی یہاں تو نہیں۔ لیکن آپ تو لڑکا بیاہتی ہیں، آپ کو جہیز کی کیا فکر؟ لڑکی دینی ہو تو انسان یہ بھی سوچے کہ ’بھئی، لڑکی کا گزر دیکھ لو‘؛ یا کوئی غریب ہو، اور بہو کے جہیز پر ادھار کھائے بیٹھا ہو، وہ اس کی فکر کرے تو بجا ہے۔ آپ تو بیٹی لیتی ہیں، اور سب کچھ خدا کا دیا ہوا آپ کے یہاں موجود ہے۔ آپ کو تو لڑکی چاہیے، سو لڑکی آپ کی دیکھی ہوئی ہے؛ کوئی حال اس کا آپ سے مخفی نہیں۔ ذات جو کچھ بری بھلی ہے، آپ کو معلوم ہے۔“
شاہ زمانی نے کہا، ”کیا ہوا، پھر بھی جوڑ دیکھ کر بات کی جاتی ہے۔“
اصغری نے کہا، ”بیگم صاحب، خطا معاف، اب جوڑ کہاں ہے؟ جوڑ تو ان دنوں تھا جب علی نقی خاں نے اسی گھر میں بہن کو بیاہ دیا تھا؛ یا یہ وہی گھر ہے کہ بیٹی لینے کے واسطے بھی جوڑ نہیں؟ اب کیا اس گھر میں کرائے پر آ گئے ہیں؟ دولت نہیں، سو یہ بڑا بول خدا کو نہیں بھاتا۔“
اصغری نے شاہ زمانی کو ایسے آڑے ہاتھوں لیا کہ بات نہ بن پڑی، اور شاہ زمانی نے کہا، ”استانی جی، تم تو خفا ہوتی ہو۔“
اصغری نے کہا، ”بیگم صاحب، میری کیا مجال ہے؟ مجھ کو تو امید تھی کہ آپ اس بات میں امداد کیجیے گا، نہ کہ خود آپ ہی کو ناگوار ہے۔“
شاہ زمانی نے کہا، ”استانی جی، برا مانو یا بھلا، جوڑ نہیں ہے۔“
اصغری نے کہا، ”دولت میں ہم جوڑ نہیں ہیں؛ ذات میں برابری کا دعویٰ ہے؛ ہنر میں، ان شاء اللہ، وہ ہمارے جوڑ نہ ٹھہریں گے؛ کیا مضائقہ؟ ایک بات میں وہ کم، ایک بات میں ہم کم۔ ہماری ایسی بہو دنیا میں چراغ لے کر ڈھونڈتی پھریں گی تو نہ ملے گی۔“
شاہ زمانی بیگم نے کہا، ”استانی جی، اقبال مند خاں کے لڑکے کا رقعہ کیوں نہیں منگواتیں؟“
اصغری نے کہا، ”میں نے سنا تھا کہ آپ کے گھر بات ہو رہی ہے؛ اس سے میں نے خیال نہیں کیا؛ اور رقعوں کی کیا کمی ہے؟ لڑکیوں کو لڑکے بہت، اور لڑکوں کو لڑکیاں بہت۔ میں نے تو یہ سوچا تھا کہ ہنر اور دولت کا ساتھ ہے؛ یہ چیز امیروں کے لائق ہے، اور امیر اس کو زیبا ہیں؛ بات ٹھہر جائے تو دونوں کے لیے اچھا ہے۔ لیکن اگر منظور نہیں ہے، تو آپ دل دار جہاں سے نسبت کر دیجیے۔“
شاہ زمانی نے کہا، ”ابھی دل دارا بچہ ہے؛ اور میرا ارادہ ہے کہ اس کو غیر جگہ دوں؛ رشتے میں رشتہ بے لطفی سے خالی نہیں ہوتا۔“
شاہ زمانی تو یہ کہہ کر رخصت ہوئیں؛ حسن آرا بیٹھی رہ گئی۔ خالہ نے کہا بھی کہ ”بیٹا، چلو۔“ حسن آرا بولی، ”آپ چلیے؛ میں استانی جی سے کئی برس میں ملی ہوں، باتیں کروں گی۔“ جب شاہ زمانی چلی گئیں، تو حسن آرا نے کہا، ”استانی جی، اماں تو راضی ہیں؛ یہی حضرت بات کو بگاڑ رہی ہیں۔ منہ سے انکار کرتی ہیں تو کرنے دو؛ ان کا اصل مطلب یہی ہے کہ دل دارا کی بات ٹھہر جائے۔“
اصغری نے کہا، ”اب تقدیر کی بات ہے؛ بھلا، ان کے ہوتے ہماری کیا اصل ہے؟ لیکن بوا حسن آرا، میں نے تو کچھ بے جا بات نہیں سوچی تھی؛ پیوند میں پیوند ملتا دیکھ لیا تھا۔ تمہارا اتنا بڑا گھر، اور اللہ آمین کا ایک لڑکا؛ جو کچھ مال و متاع ہے، سب اسی کا ہے؛ پس اتنے بڑے کارخانے کے سنبھالنے کو بھی بڑی عقل درکار ہے، اور بڑا سلیقہ چاہیے۔ محمودہ غریب گھر کی ہے، تو کیا ہے؟ اللہ رکھے! حوصلہ اور سلیقہ امیروں ایسا ہے۔ تمہارے گھر میں اگر کوئی بے سلیقہ آئی، اور جہیز کے چھکڑے لائی، تو کس کام کے؟ اس کو اپنے جہیز کا رکھنا اٹھانا مشکل پڑ جائے گا؛ تمہارے گھر کا انتظام کیا کر سکے گی؟ محمودہ تو، ماشاء اللہ، ملک کا انتظام کرنے والی ہے۔ پھر بوا حسن آرا، یہ بات سوچنی چاہیے کہ رشتہ ناتا کس غرض سے ہوتا ہے؟ دنیا میں، جہاں تک ہو سکے، میل ملاپ کو بڑھانا چاہیے؛ گھر کے گھر میں نسبت ناتا کر لیا تو کیا؟ شادی بیاہ جب کرے، غیر جگہ۔“
حسن آرا بولی، ”استانی جی، میں نے اور آپا نے خوب طرح پر اماں سے کہا ہے، اور اب یہ سب باتیں میں اماں سے اور کہوں گی؛ امید تو ہے کہ یہی بات ور رہے۔“ غرض اصغری نے یہ سب پٹی پڑھا کر حسن آرا کو رخصت کیا۔
وہاں شاہ زمانی نے سلطانہ سے جا کر کہا، ”بوا، میں نے استانی کے منہ پر صاف کہہ دیا کہ تمہارا ان کا جوڑ نہیں؛ آدمی کو سمجھ کر بات منہ سے نکالنی چاہیے۔“ لیکن پیچ یہ آ پڑا تھا کہ شاہ زمانی اپنے منہ سے اپنی لڑکی کے واسطے نہیں کہہ سکتی تھی؛ شاہ زمانی کے دل میں تو یہ بات تھی، لیکن سوچے ہوئے تھی کہ مردوں مردوں میں بات ہو جائے گی۔ اب محمودہ کی بات میں غریبی پر بڑا اعتراض تھا۔ آخر شاہ زمانی سے الگ ہو کر سلطانہ بیگم نے اپنی دونوں بیٹیوں سے جو صلاح کی، حسن آرا نے کہا، ”اماں، بات صاف تو یہ ہے کہ خالہ اماں دل دارا کے واسطے تجویز کرتی ہیں۔“
سلطانہ نے کہا، ”بھلا، ارجمند سے بھی تو ہنسی ہنسی میں پوچھو۔“
جمال آرا نے بھائی کو بلایا، اور کہا کہ ”کیوں بھئی، شادی بیاہ کی تجویز ہو رہی ہے؛ تم بھی تو کچھ بولو؛ دل دار جہاں سے راضی ہو؟“
ماں کے منہ پر تو، لحاظ کے سبب، ارجمند کچھ نہ بولا؛ لیکن اشارے سے اپنی بہنوں سے انکار کیا۔ اس کا انکار جمال آرا اور حسن آرا کو حجت ہو گیا۔
حسن آرا نے کہا، ”سیرت، شکل، ہنر، سلیقہ، یہ باتیں تو محمودہ کے پاسنگ بھی کسی لڑکی میں نہ ملیں گی؛ اس کا ذمہ تو میں کرتی ہوں۔ ہاں، چاہو کہ سونے کا چھپرکھٹ ملے، سو یہ ان بیچارے غریبوں کے پاس کہاں؟“
سلطانہ بولی، ”بوا، اصل تو لڑکی کا دیکھنا ہے؛ خدا کے فضل سے ہمارے گھر میں خود کسی چیز کی کمی نہیں؛ ہم کو بھاری جہیز لے کر کیا کرنا ہے؟“
جمال آرا نے کہا، ”پھر کیا تامل ہے؟ بسم اللہ کیجیے۔“
حسن آرا نے کہا، ”گو غریبی ہے، لیکن استانی جی بڑی چال کی آدمی ہیں؛ منہ سے نہیں کہتیں تو کیا ہے؟ وقت پر حیثیت سے بڑھ کر کریں گی۔“
سلطانہ نے کہا، ”اچھا، تمہارے ابا آئیں تو ان سے بھی صلاح پوچھی جائے۔“
چھوٹے حکیم صاحب آئے، تو جمال آرا اور حسن آرا نے محمودہ کے مقدمے کو اس طرح پیش کیا جیسے کچہری میں وکیل اپنے موکل کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ غرض چھوٹے حکیم صاحب نے بھی محمودہ کی بات کو پسند کیا۔
اب تو دونوں بہنیں بے تحاشا اصغری کے پاس دوڑی گئیں۔ محمد کامل کی ماں کو اصلاً ان باتوں کی خبر بھی نہ تھی؛ انہوں نے پوچھا بھی، ”کیا ہے؟ بیگم صاحب، اس طرح کیوں دوڑتی ہو؟ پائنچے تو اٹھا کر چلو۔“
حسن آرا نے کہا، ”کچھ نہیں؛ استانی جی کے پاس جاتے ہیں۔“
اصغری کے پاس جاتے ہی حسن آرا نے کہا، ”لیجیے استانی جی، مبارک! ہمارا انعام دلوائیے۔“
اصغری نے کہا، ”خدا تم سب صاحبوں کو بھی مبارک کرے؛ اور انعام دینے کا میرا کیا منہ ہے؟ میرا انعام ہے دعا؛ سو شبانہ روز میں تمہاری دعاگو ہوں۔“
حسن آرا نے کہا، ”نہیں استانی جی، ہم تو آج اپنا منہ ضرور میٹھا کرائیں گے۔“
اصغری نے کہا، ”بیٹھے بیٹھے مٹھائی کھائیے گا۔“ دیانت کو بلایا، اور پانچ روپے نکال اس کے ہاتھ دیے، اور کہا کہ ”گھنٹے والے کی دکان پر سے بہت عمدہ قلاقند، اور دریبے کے نکڑ سے پیٹھے کی مٹھائی، اور شاہ تارا کی گلی سے موتیا پاک، اور چاندنی چوک سے لوزات، اور نیل کے کٹرے سے گھی کی تلی دال، اور خانم کے بازار سے نمش، ابھی جا کر لاؤ۔“
اتنے میں دونوں کو گلوریاں بنا کر دیں؛ اور مٹھائی کی ٹوکری آ موجود ہوئی۔ اصغری، اکبری، حسن آرا، جمال آرا، سب نے مل کر خوب کھائی؛ اور جو بچی، مکتب میں بھیج دی۔ اب چلتے ہوئے اصغری نے کہا، ”اس وقت تک میں نے اماں جان کو خبر نہیں کی تھی؛ اب ان سے تذکرہ کر کے، ان شاء اللہ، پرسوں اچھی تاریخ اور اچھا دن ہے، معمولی رسم ادا ہو جائے۔“
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.