Urdu in Translation
搜索

第 11 章,共 20 章

A House Run on Twenty Rupees

بیس روپے میں گھر کا انتظام

纳齐尔·艾哈迈德

文字
字号

اس طور پر خدا خدا کر کے اصغری نے اپنے دشمن کو نکال پایا، اور گھر کو عذاب سے نجات دی۔ عظمت کا فیصلہ ہو گیا تو اصغری نے باپ کے پاس جانے کی پھر اجازت چاہی، اور خوشی رضا سے رخصت ہو ماں کے گھر آئی۔ ایک ہفتہ برابر یہاں رہی، اور جس جس بات میں باپ سے صلاح لینی تھی، سب طے کیا۔ باپ نے پوچھا، ”عظمت نکل گئی؟“ اصغری نے کہا، ”سب آپ کے طفیل سے بخیر انجام ہوا؛ نہ بڑے بھائی لاہور جاتے، نہ ابا جان آتے، نہ یہ برسوں کا حساب طے ہوتا، نہ عظمت نکلتی۔“

خاں صاحب نے پوچھا، ”اب گھر کا انتظام کیونکر ہو گا؟“

اصغری نے کہا، ”ماما کے نکلتے میں ادھر چلی آئی؛ اب انتظام کیا مشکل ہے؟ اسی عظمت کی خرابی تھی؛ اب میں سب دیکھ بھال لوں گی۔“

خاں صاحب نے پوچھا، ”اور کیا کیا باتیں تم نے گھر میں ایجاد کیں؟“

اصغری نے کہا، ”ابھی میں نے کچھ دیکھا سنا نہیں؛ شروع سے عظمت کا جھگڑا پیش آ گیا۔ اب البتہ ارادہ ہے کہ ہر ایک بات کو سوچوں اور انتظام کروں؛ اور ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کو خط کے ذریعے سے اطلاع دیتی رہوں گی۔“

خاں صاحب نے نکاح کے بعد سے اصغری کا دس روپے مہینہ مقرر کر دیا تھا؛ اصغری سے پوچھا کہ ”اگر تم کو خرچ کی تکلیف رہتی ہو تو میں کچھ روپے تم کو دیتا جاؤں۔“

اصغری نے کہا، ”وہی دس روپے میری ضرورت سے زیادہ ہیں؛ بلکہ آج تک کا روپیہ سب میرے پاس جمع ہے؛ زیادہ لے کر میں کیا کروں گی؟ اور جب ضرورت ہو گی تو میں خود مانگ لوں گی۔“

غرض باپ سے اصغری رخصت ہو آئی۔ سسرال میں آ کر دیکھا کہ ساس چولھا پھونک رہی ہیں۔ اصغری نے حیرت سے پوچھا کہ ”ہیں، اب تک کوئی ماما نہیں رکھی گئی؟“

ساس بولی، ”آنے کو تو کئی عورتیں آئیں، پر تنخواہ سن کر ہمت نہیں پڑتی کہ کسی کو نوکر رکھیے۔ عظمت بری تھی، مگر آٹھ آنے مہینے پر پچیس برس سے اس نے نوکری کی۔ اب جو ماما آتی ہے، دو روپیہ اور کھانے سے کم کا نام نہیں لیتی۔ میں نے تمہارے آنے پر رکھا تھا۔“

اصغری نے کہا، ”ماما تو ایک میری نظر میں بھی ہے، لیکن تنخواہ وہ بھی زیادہ مانگتی ہے: کفایت النسا کی چھوٹی بہن، دیانت النسا۔ پکانا، سینا، سب جانتی ہے؛ اور ایک دفعہ کفایت النسا نے کہا بھی تھا کہ کوئی اچھا ٹھکانا ہو تو دیانت النسا نوکری کرنے کو موجود ہے۔“

محمد کامل کی ماں نے پوچھا، ”وہ کیا تنخواہ لے گی؟“

اصغری نے کہا، ”وہ تو اپنے منہ سے تین روپے اور کھانا مانگتی ہے؛ لیکن سمجھائے سے شاید دو روپے پر راضی ہو جائے۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”دو روپے کھانا دینا ہو تو دروازے پر بھوندو بھٹیارے کی بیٹی چنیا کی ماں منتیں کرتی ہے۔“

اصغری نے کہا، ”چنیا کی ماں کو تو میں چار آنے مہینے پر بھی نہ رکھوں۔“

محمد کامل کی ماں نے پوچھا، ”اے، کیوں؟“

اصغری بولی، ”پاس کے رہنے والا آدمی برا؛ آنکھ بچی، اور جو چیز چاہی، گھر میں جا کر رکھ آئی۔ اور جب گھر سے گھر ملا ہے تو ہر گھڑی چنیا کی ماں اپنے گھر جائے گی، اور شاید رات کو بھی اپنے گھر رہے۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”بخشو کی بیوی نے اپنی بیٹی زلفن کے واسطے مجھ سے کئی مرتبہ کہا ہے؛ اور زلفن تو سید فیروز کے بنگلے میں رہتی ہے۔“

اصغری نے پوچھا، ”وہی زلفن نا، جو خوب بنی ٹھنی رہتی ہے؟“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”ہاں؛ بنی ٹھنی کیا رہتی ہے؟ نئی بیاہی ہوئی ہے، کپڑے لتے کا ذرا شوق ہے۔“

اصغری نے کہا، ”ایسا آدمی بھی نہیں رکھنا چاہیے۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”خود زلفن کی ماں نوکری کرنے کو راضی ہے۔“

اصغری نے کہا، ”ان کے ساتھ ایک دمچھلا چھوٹی بیٹی کا لگا ہوا ہے؛ وہ ایک دم ماں کو نہیں چھوڑتی۔ پس نام تو ایک آدمی کا ہو گا، اور کھائیں گے دو دو۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”اور تو کوئی آدمی میرے خیال میں نہیں آتا۔“

اصغری نے کہا، ”دیکھو، اسی دیانت النسا کو بلاؤں گی۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”اور تنخواہ کا کیا ہو گا؟“

اصغری نے کہا، ”ایمان دار آدمی تو کم تنخواہ پر ملنا محال ہے۔ ان لوگوں کو دو کی جگہ تین دینے گون ہیں، لیکن عظمت ایسی کو آٹھ آنے دے کر گھر لٹوانا منظور نہیں۔ وہ کہاوت سچ ہے: گراں بحکمت، ارزاں بعلت۔“

اس وقت کا کھانا تو ساس بہو نے مل کر پکا پکا لیا۔ کھانے کے بعد اصغری محمودہ کو ساتھ لے کوٹھے پر چلی گئی۔ جب تک مولوی صاحب رہے، اصغری نے کوٹھے پر سے اترنا بہت کم کر دیا تھا؛ صرف صبح اور شام نیچے اترتی تھی؛ بلکہ محمودہ کو بھی منع کر دیا تھا کہ ”ہر وقت نیچے مت جایا کرو۔“ محمودہ تو لڑکی تھی؛ اس نے پوچھا بھی، ”اچھی بھابھی جان، کیوں؟“

اصغری نے کہا، ”بڑوں کے سامنے ہر وقت نہیں چلتے پھرتے۔“

کھانے کے بعد گھر کے حساب کتاب میں مولوی صاحب سے اور بیوی سے لڑائی ہونے لگی۔ بیوی کو شکایت تھی کہ ”تم خرچ بہت تھوڑا دیتے ہو؛ یہاں شادی بیاہ، برادری کا لینا دینا، آنا جانا، تیج تہوار، سب مجھ کو کرنا پڑتا ہے۔“ مولوی صاحب کہتے تھے کہ ”بیس روپے مہینہ تھوڑا نہیں ہے؛ تم کو انتظام کا سلیقہ نہیں؛ اسی سبب سے گھر میں بے برکتی رہتی ہے۔“ اتنے میں مولوی صاحب نے محمودہ کو آواز دی۔ محمودہ آئی تو کہا، ”بھابھی کو بلا لاؤ۔“ اصغری نے طلب کی خبر سنی تو حیران ہوئی کہ اس وقت کیوں بلایا؛ محمودہ سے پوچھا، ”کیا ہو رہا ہے؟“

محمودہ نے کہا، ”لڑائی ہو رہی ہے۔“

اصغری گئی تو مولوی صاحب نے کہا، ”کیوں بیٹا، اب انتظام کون کرے؟“

اصغری نے کہا، ”اماں جان کریں گی، جس طرح اب تک کرتی تھیں۔“

مولوی صاحب نے کہا، ”ان کے انتظام کا نتیجہ تو دیکھ لیا۔ بیس روپے مہینہ جس گھر میں آتا ہو، اس گھر کی یہی صورت ہوتی ہے کہ نہ سلیقے کا کوئی برتن ہے، نہ عزت کی کوئی چیز؛ اگر کسی وقت ایک چمچہ شربت درکار ہو تو، خدا نے چاہا، اس کا گھر میں سامان بھی نہ نکلے گا۔“

اصغری نے کہا، ”اماں کا اس میں کیا قصور ہے؟ عظمت نامراد نے گھر کو خراب کیا۔“

مولوی صاحب بولے، ”ان میں انتظام کی عقل ہوتی تو عظمت کی کیا طاقت تھی؟ عظمت نوکر تھی یا گھر کی مختار تھی؟“

اصغری نے کہا، ”پچیس برس کا پرانا آدمی جب لوٹنے پر کمر باندھے تو اس کے فریب کو کون جان سکتا ہے؟ ایسے پرانے آدمی پر تو شبہ نہیں ہو سکتا۔“

مولوی صاحب بولے، ”تم کو آخر شبہ ہوا یا نہ ہوا؟“

اصغری نے کہا، ”مجھ کو کیا شبہ ہوا؟ اسی کی شامت تھی کہ اس نے نالش کا ذکر مذکور چھیڑ کر سوتی ہوئی بھڑوں کو جگایا۔“

اتنے میں ساس بولیں، ”پچاس میں تم اپنے اکیلے دم کے واسطے تو تیس روپے رکھو، اور یہاں کنبے کے واسطے بیس روپے!“

مولوی صاحب نے کہا، ”گھر کا خرچ اور باہر کا خرچ کہیں برابر ہو سکتا ہے؟ تم نے تو مجھ کو اکیلا سمجھ لیا؛ اور خدمت گار، سواری، مکان، کپڑا لتا؟“

بیوی نے کہا، ”سواری اور مکان تو سرکار سے ملتا ہے۔“

مولوی صاحب نے کہا، ”گھوڑا ملا؛ دانہ گھاس تو مجھ کو اپنی گرہ سے کھلانا پڑتا ہے؛ چار روپے کا سائیس؛ اور مکان کی مرمت؛ پھر سرکار دربار کے موافق حیثیت، دینا لینا، ہزار بکھیڑے ہیں؛ نہیں معلوم میں کس طرح گزر کرتا ہوں۔“

اصغری نے ساس کی طرف مخاطب ہو کر کہا، ”اماں جان، بیس روپے میں تکرار کرنے سے کیا فائدہ؟ جتنا ملتا ہے، ہزار شکر ہے۔ خدا ابا جان کی کمائی میں برکت دے، یہ بھی ہزاروں ہیں۔“

ساس نے کہا، ”بیٹی، مجھ سے تو بیس میں گھر نہیں چلتا۔“

اصغری نے اشارے سے ساس کو روکا، اور مولوی صاحب سے کہا، ”آپ چاہے دو روپے اور کم دیجیے، لیکن جو کچھ دیجیے، ماہ بماہ ملا کرے۔ جب وقت پر پیسہ نہیں ہوتا تو قرض لینا پڑتا ہے، اور قرض سے گھر کی رہی سہی برکت بھی اڑ جاتی ہے۔“

مولوی صاحب نے کہا، ”ہندوستانی سرکاروں میں تنخواہوں کا دستور قاعدہ بہت خراب ہے؛ کبھی چھٹے مہینے تقسیم ہوتی ہے، کبھی برسویں دن ملتی ہے؛ اس سبب سے خرچ کا معمول نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہزاری مل سے میں کہہ جاؤں گا کہ مہینے کے مہینے تم کو بیس روپے دے دیا کرے گا۔“

اصغری نے پوچھا کہ ”مہاجن بتا جائے گا تو وہ آپ سے سود مانگے گا؟“

مولوی صاحب نے کہا، ”نہیں، سود کیا لے گا؟ ہماری سرکار میں بھی اس کا لین دین ہے، وہاں سے حکم آ جائے گا۔“

اصغری نے کہا، ”تو اس کا مضائقہ نہیں۔“

غرض بیس روپیہ تنخواہ ٹھہر گئی؛ لیکن محمد کامل کی ماں کو ناگوار ہوا، اور الگ جا کر اصغری سے گلہ کیا۔

اصغری نے کہا، ”گھر تو بیس میں، ان شاء اللہ، میں چلا دوں گی؛ اس کا آپ کچھ فکر نہ کیجیے۔ اور مولوی صاحب واقع میں تیس روپے سے کم میں اپنی حیثیت درست نہیں رکھ سکتے۔ مختاری کی نوکری میں اول تو اوپر سے آمدنی کی کوئی صورت نہیں؛ اور جو ہو بھی تو مولوی صاحب کیوں لینے لگے؟ پس گنی بوٹی، ناپا شوربا؛ مولوی صاحب خود تکلیف میں رہیں، اور دو چار روپے گھر میں زیادہ بھی آئیں، تو مناسب نہیں۔“

یہ سن کر ساس چپ ہو رہیں۔ اصغری نے دیانت النسا کو بلا بھیجا، اور کہہ سن کر دو روپے اور کھانے پر راضی کر لیا، اور جتا دیا کہ ”دیانت النسا، خبردار! کوئی ایسی بات نہ ہو کہ تمہارے اعتبار میں فرق ڈالے؛ جس طرح تمہاری بڑی بہن ہمارے گھر رہتی ہے، اسی طرح تم رہنا۔“

دیانت النسا نے کہا، ”بیوی، خدا اس گھڑی کو موت دے کہ پرائے مال پر نظر کروں! ضرورت ہو تو تم سے مانگ کر کھا لوں، پر بے حکم نون تک چکھنا حرام سمجھتی ہوں۔“

عید کے اگلے دن مولوی صاحب تو لاہور سدھارے؛ اور ضرورت کی سب چیزیں اصغری نے اکٹھی منگوا لیں، اور آئندہ ہمیشہ فصل پر سستی دیکھ کر اکٹھی چیزیں لے رکھتی تھی: مرچ، پیاز، دھنیا، اناج، دالیں، چاول، کھانڈ، لکڑی، کنڈا، آلو، اروی، شلجم، میتھی، سوئے کا ساگ؛ ہر چیز وقتِ مناسب پر خرید کی جاتی تھی۔ ماما ملا کر پانچ آدمی تھے؛ دونوں وقت میں تین پاؤ گوشت آتا تھا؛ اس میں دیانت دو طرح کا کر لیتی تھی، کبھی آدھے میں ترکاری اور آدھا سادا، کبھی آدھے میں کباب؛ اور ایک وقت دن کو دال؛ اور ساتویں دن پلاؤ اور میٹھے چاولوں کا معمول تھا۔ گھر میں دو تین قسم کی چٹنی، کوئی چاشنی دار، کوئی عرقِ نعناع کی، کوئی سرکے کی؛ دو چار قسم کا مربا بنا رکھا؛ ان کے علاوہ شربتِ انار، لیموں کی سکنجبین، شربتِ بنفشہ، شربتِ نیلوفر، شربتِ فالسہ کی ایک ایک بوتل بنا لی۔ ہر طرح کا ضروری سامان گھر میں موجود رہا کرتا تھا۔ باوجود اس سامان کے پندرہ روپے سے زیادہ خرچ نہیں ہوتا تھا۔ پانچ روپے جو بچتے تھے، اس سے بڑے بڑے پنسیرے دسیرے دو پتیلے، ایک سینی، کچھ چھوٹے چمچے، دو لوٹے، ایک عدد چائے کے لوازم، اس قسم کی چیزیں خرید ہوئیں؛ دو صندوق بنوائے گئے؛ دو الماریاں، ایک باورچی خانے میں، ایک اسباب کی کوٹھری میں؛ بیٹھنے کے تخت پرانے تھے، وہ درست ہوئے؛ دو پلنگ تیار ہوئے۔ خلاصہ یہ کہ اصغری نے اس بیس روپے میں گھر کو وہ جلوہ دی کہ ظاہر حال میں بڑی رونق معلوم ہوتی تھی۔ ہر چیز میں کفایت، اور ہر چیز میں انتظام کو دخل دیا۔ عظمت کے وقتوں میں ہمیشہ محمودہ کے واسطے تین چار پیسے روز کا سودا بازار سے آتا تھا، اس واسطے کہ دسترخوان میں ایک ٹکڑا نہیں بچتا؛ اب دونوں وقت دو چار روٹیاں دسترخوان میں رہنے لگیں۔ کبھی بھنے میں سے دو بوٹیاں محمودہ کے لیے نکال رکھیں، کبھی ایک چٹکی کھانڈ نکال دی، کبھی مربے کی ایک پھانک دے دی؛ روز کا سودا موقوف ہوا؛ کسی دن، کبھی کبھار، جو محمودہ کا جی چاہا تو کچھ منگوا لیا۔ اس گھر سے فقیر کو عمر بھر ایک چٹکی آٹا یا آدھی روٹی نہیں ملی تھی؛ اب دونوں وقت دو دو روٹیاں فقیروں کو بھی دی جاتی تھیں۔ گھر میں جو اسباب تھا، عجیب بدسلیقگی سے ساگ مولی کی طرح پڑا رہتا تھا؛ اب ہر ایک چیز ٹھکانے لگی۔ کپڑوں کی گٹھریاں ہیں تو کپڑے اچھی طرح تہ کیے ہوئے، ترتیب سے بندھے ہیں۔ اناج پانی کی کوٹھری میں ہر ایک شے احتیاط سے ڈھکی ہوئی ہے۔ برتن صاف ستھرے اپنی جگہ رکھے ہیں، چینی کے الگ، تانبے کے الگ؛ گویا گھر ایک کل تھی جس کے کل پرزے سب درست، اور اس کل کی کنجی اصغری کے ہاتھ میں تھی؛ جب کوک دیا، کل اپنے معمول سے چلنے لگی۔

رفتہ رفتہ دو دو چار چار روپے پس انداز ہونے لگے، اور اصغری اس کو بطورِ امانت علیحدہ جمع کرتی گئی۔ جب سے اصغری نے گھر کا اہتمام اپنے ہاتھ میں لیا، قرض کا لینا قسم ہو گیا؛ بھول کر بھی دمڑی چھدام تک کی چیز بازار سے ادھار نہ آئی۔ اصغری گھر کا سب حساب ایک کتاب میں لکھا کرتی تھی۔ جب کوئی چیز ہو چکنے پر آئی، اور دیانت النسا نے اطلاع کی کہ ”بیوی، گھی دو دن کا اور ہے“، اصغری نے اپنی کتاب نکال کر دیکھی کہ کس تاریخ کتنا گھی آیا تھا، اور کتنے روز کے حساب سے خرچ ہوا؛ اگر بے حساب ہوا تو دیانت النسا سے باز پرس کی۔ مجال نہ تھی کہ کسی چیز میں فضول خرچی ہو اور بے حساب اٹھ جائے۔ پسائی والی کی پسائیاں اور دھوبن کی دھلائیاں تک اصغری کی کتاب میں لکھی جاتی تھیں۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。