Urdu in Translation
Search

Chapter 10 of 20

Azmat's Accounts

عظمت کا حساب

Deputy Nazir Ahmad

Script
Size

شبِ برات کے بعد اصغری کے باپ کی آمد شروع ہوئی، اور نو دس دن بات کی بات میں گزر گئے۔ رمضان سے چار دن پہلے دوراندیش خاں صاحب دہلی میں داخل ہوئے۔

اصغری نے پہلے سے اپنے باپ کی آمد سنا رکھی تھی، اور ساس اور میاں سے ٹھہر گیا تھا کہ جس دن تحصیل دار صاحب آویں گے، اسی دن میں ان سے ملنے جاؤں گی۔ جب اصغری کو باپ کے آنے کی خبر معلوم ہوئی، فوراً ڈولی منگا جا پہنچیں۔ باپ نے گلے سے لگا لیا، اور آب دیدہ ہوئے۔ دیر تک حال پوچھتے بتاتے رہے، اور اصغری سے کہا، ”آپ کے حکم کے بموجب خیراندیش خاں لاہور گئے ہیں، اور ان شاء اللہ کل یا پرسوں سمدھی صاحب کو لے کر داخل ہوں گے۔ ان کا ایک خط بھی مجھ کو راہ میں ملا تھا؛ سمدھی صاحب کو رخصت مل گئی ہے۔“

غرض رات بھر اور اگلے دن بھر اصغری اپنی ماں کے یہاں رہی، اور شام کے قریب باپ سے کہا کہ ”اگر اجازت فرمائیے تو آج میں چلی جاؤں۔“

باپ نے کہا، ”اجی، ایک ہفتہ تو رہو؛ ہم سمدھن کو کہلا بھیجیں گے۔“

اصغری نے کہا، ”جیسا آپ ارشاد فرماویں، میں تعمیل کروں؛ لیکن ابا جان کے آنے سے پہلے گھر میں موجود رہنا مصلحت معلوم ہوتا ہے۔“

باپ نے سوچ کر کہا، ”ہاں، یہ بات تو ٹھیک ہے۔“

غرض اصغری باپ سے رخصت ہو، مغرب سے پہلے گھر آ موجود ہوئی۔ اگلے دن عین کھانے کے وقت مولوی محمد فاضل صاحب، محمد کامل کے باپ، بھی یکایک آ موجود ہوئے۔

یہ مولوی صاحب لاہور کے رئیس کی سرکار میں مختار تھے؛ پچاس روپے مہینہ اس کی سرکار سے تنخواہ مقرر تھی، اور مکان اور سواری رئیس کے ذمے۔ خیراندیش خاں اصغری کی تحریر کے بموجب لاہور گیا، اور اصغری کا خط مولوی محمد فاضل صاحب کو دکھایا۔ مولوی صاحب بہو کا خط دیکھ کر باغ باغ ہو گئے؛ اور یوں شاید رخصت نہ بھی لیتے، اب بہو کے دیکھنے کے اشتیاق میں رئیس سے بہت کہہ سن کر ایک مہینے کی رخصت لی، اور خیراندیش خاں کے ساتھ ہو لیے۔

چونکہ اصغری بیاہ کے بعد سسرے کے سامنے نہیں ہوئی تھی، سسرے کو آتے دیکھ شرم کے سبب کوٹھے پر جا بیٹھی۔ محمد کامل کی ماں حیرت میں تھی کہ یہ کیونکر آ گئے۔ غرض کھانے پینے کے بعد باتیں شروع ہوئیں۔ مولوی صاحب نے بیوی سے کہا کہ ”سنو صاحب، مجھ کو تو تمہاری چھوٹی بہو نے کھینچ بلایا ہے۔“ اور سب حال خط کا اور خیراندیش خاں کے جانے کا بیوی سے بیان کیا، اور کہا کہ ”بہو کو بلاؤ۔“

ساس کوٹھے پر گئیں اور کہا، ”بیٹی، چلو، شرم کی کیا بات ہے؟ تم تو ان کی گود میں کھیلی ہو۔“

ساس کے کہنے سے اصغری اٹھ کر ساتھ ہو لی، اور سسرے کو بہت ادب سے سلام کیا اور بیٹھ گئی۔

مولوی صاحب نے کہا، ”سنو بھئی، ہم تو صرف تمہارے بلائے آئے ہیں، اور تمہارا خط دیکھ کر ہمارا جی بہت خوش ہوا۔ خدا تمہاری عمر اور نیک بختی میں برکت دے! اور حقیقت میں ہمارے گھر کے اچھے نصیب ہیں جو تم ہمارے گھر میں آئیں۔ اور اب مجھ کو یقین ہوا کہ اس گھر کے کچھ دن پھرے، اور کل، ان شاء اللہ، انتظام تمہاری مرضی اور تمہاری رائے کے موافق ہو گا۔“

غرض دو چار دن تو مولوی صاحب نئے نئے آئے تھے، ملنے ملانے میں رہے؛ پھر اول کے دو چار روزوں میں، روزے کے سبب، گھر کے کام کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ ایک دن بہو کو بلا کر پاس بٹھایا، اور ماما عظمت کو بلا کر کہا کہ ”ماما، ہمارے رہتے سب حساب کتاب کر لو؛ جس جس کا لینا دینا ہے، سب لکھ دو؛ جس کو جتنا مناسب ہو، دیا جاوے، اور باقی رہ جائے، اس کی قسط بندی کر دی جائے۔“

ماما نے کہا، ”ایک کا حساب ہو تو میں زبانی بھی یاد رکھوں؛ بنیا، بزاز، قصائی، کنجڑا، حلوائی، سب کا دینا ہے، اور ہزاری مل کا حساب ایک الگ رقم ہے۔ جس کو جتنا دینا ہو، مجھ کو دیجیے، دے آؤں؛ آپ کے نام جمع ہو جائے گا۔“

مولوی صاحب تو سیدھے سادے آدمی تھے، دینے کو آمادہ ہو گئے۔ اصغری نے کہا، ”یوں علی الحساب دینے سے کیا فائدہ؟ پہلے ہر ایک کا قرضہ معلوم ہو، تب اس کو سوچ سمجھ کر دینا چاہیے۔“

ماما نے کہا، ”کھانے سے فراغت ہو جائے تو میں ہر ایک سے پوچھ آؤں گی۔“

اصغری نے کہا، ”پوچھ آنے سے کیا ہو گا؟ جس کا لینا ہو، یہیں آ کر حساب کر جائے۔“

ماما نے کہا، ”بیوی، آپ نے تو ایک بات کہہ دی؛ اب میں کہاں کہاں بلاتی پھروں؟ اور وہ لوگ اپنے کام دھندے سے کب چھٹی پاتے ہیں جو میرے ساتھ چلے آئیں گے؟“

اصغری بولی، ”ماما، کوئی روز روز کا بلانا نہیں ہے؛ ایک دن کی بات ہے؛ جا کر بلا لاؤ۔ شام کے کھانے کا کچھ بندوبست ہو جائے گا؛ تم آج یہی کام کرو۔ اور لینے والے تو دینے کا نام سن کر دوڑیں گے۔ ہزاری مل دو کوس پر کچہری تو گیا، یہاں آتے کیا اس کے پاؤں میں مہندی لگی ہے؟ اور دور کون ہے؟ کنجڑا، قصائی، بنیا، حلوائی، سب اسی گلی میں ہیں؛ صرف بزاز اور ہزاری مل دور ہیں؛ ان کو کل پر رکھو؛ یہ پھٹکل حساب آج طے ہو جائے۔“

ماما عظمت کی کسی طرح مرضی نہ تھی کہ حساب ہو، لیکن اصغری نے باتوں میں ایسا دبایا کہ کچھ جواب نہ بن پڑا۔ سب سے پہلے حلوائی آیا۔ پوچھا گیا کہ ”لالہ، تمہارا کیا پاونا ہے؟“

حلوائی بولا، ”تیس روپے۔“ پوچھا گیا کہ ”کیا کیا چیز تمہارے یہاں سے آئی؟ تیس روپے تو بہت زیادہ بتاتے ہو۔“ حلوائی نے کہا، ”صاحب، تیس روپیہ کچھ بہت ہے؟ پندرہ روپے کی چیز اسی شبِ برات میں آئی؛ ایک رقم دس سیر چینی ہے۔“

محمد کامل کی ماں بولی، ”ارے، کیسی چینی؟ اب کے مرتبہ تو ہمارے گھر جو کچھ پکا پکایا، بازار سے نقد آیا۔“

یہ سن کر ماما عظمت کا رنگ فق ہو گیا، اور حلوائی سے بولی کہ ”وہ دس سیر چینی تو نے ان کے حساب میں کیوں لکھ لی؟ وہ تو دوسرے گھر کے واسطے میں لے گئی تھی، اور تجھ کو بتا بھی دیا تھا۔“

حلوائی نے کہا، ”مجھ سے تو تم نے کسی کا نام نہیں لیا؛ اسی سرکار کے نام سے لائی ہو؛ ورنہ مجھے کیا فائدہ تھا دوسرے کی چیز ان کے نام لکھنا؟ اور مجھ سے تو اور کسی سرکار سے اچاپت بھی نہیں ہے۔“

غرض ماما کھسیانی باتیں بکنے لگی۔

مولوی صاحب نے کہا، ”بھلا، چینی کی رقم تو رہنے دو؛ اور چیزیں بتاؤ۔“

غرض اسی طرح بہت سی چیزیں اس نے بتائیں جو عمر بھر گھر میں نہیں آئی تھیں: چار سیر بالو شاہی مولود شریف کے واسطے؛ اور مزا یہ کہ یہاں کبھی کسی نے مولود کی مجلس نہیں کی! غرض صرف چھ سات روپیہ تو سچ نکلا، باقی سب جھوٹ۔

مولوی صاحب کا جی جل گیا، اور بے طرح ان کو غصہ آیا، اور پوچھا، ”کیوں ری نمک حرام عظمت، ایسا ہی دنیا بھر کا قرض تو نے اس گھر پر کر رکھا ہے؟ اور یوں تو نے گھر کو خاک میں ملایا ہے؟“

حلوائی ہو چکا تو کنجڑا آیا۔ اس نے کہا، ”میاں، میرا تو معمولی حساب ہے، دو آنے روز کی ترکاری۔“

محمد کامل کی ماں بولی، ”ارے! سیر بھر ترکاری میرے گھر میں آتی ہے، دو آنے روز کی ہوئی؟“

کنجڑا بولا، ”حضرت، میری دکان سے ماما تین سیر لاتی ہے۔“

ماما بولی، ”ہاں، تین سیر لاتی ہوں؛ سیر بھر تمہارے نام سے، سیر بھر اپنی بیٹی کے واسطے، اور سیر بھر دوسرے گھر کے واسطے؛ میں کیا مکرتی ہوں؟ یہ موا سب تمہارے نام بتاتا ہے۔“

کنجڑے نے کہا، ”اری بڑھیا بے ایمان، ہمیشہ سے تو اسی گھر کے حساب میں تین سیر لاتی رہی؛ اور جب روپیہ ملا، اسی گھر سے ملا۔“

قصائی اور بنیے کا حساب ہوا تو اس میں بھی ہزاروں فریب نکلے، اور ثابت ہوا کہ ماما اسی گھر کے سودے میں اپنی بیٹی خیراتن اور دو تین ہمسایوں کے گھر پورے کرتی تھی، اور اسی گھر کے نام سے سودا لاتی اور دوسری جگہ بیچ ڈالتی۔ غرض شام تک پھٹکل حساب ہوا؛ اب صرف بزاز اور ہزاری مل باقی رہا۔

مولوی صاحب نے کہا، ”اب آج ملتوی کرو، کل دیکھا جائے گا۔“ لیکن مولوی صاحب نے آہستہ سے کہا کہ ”ایسا نہ ہو، عظمت بھاگ جائے۔“

اصغری نے کہا، ”گھر بار، لڑکے بالے، مکان چھوڑ کر کہاں بھاگ جائے گی؟ ہاں، شاید غیرت مند ہو تو کچھ کھا پی لے؛ مگر ایسی غیرت مند ہوتی تو ایسا کام کیوں کرتی؟ تاہم اس کی حفاظت ضرور ہے، لیکن فقط اسی قدر کہ باہر آتے جاتے کو کوئی آدمی دیکھتا رہے۔“

مولوی صاحب کے خدمت گار جو ساتھ آئے تھے، ایک کو چپکے سے کہہ دیا کہ ”ماما کو آتے جاتے دیکھتے رہو۔“

جب کھانے سے فراغت ہوئی، ماما چپکے سے اٹھ باہر چلی؛ خدمت گار پیچھے پیچھے ساتھ ہوا۔ ماما پہلے تو اپنے گھر گئی، اور وہاں سے کچھ بغل میں مار، تیر کی طرح سیدھی بزاز کے مکان پر جا، اس کو آواز دی۔ بزاز گھبرا کر باہر نکلا کہ ”بڑی بی، تم اس وقت کہاں؟“

عظمت نے کہا کہ ”مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں؛ جس جس کا دینا ہے، سب کا حساب ہوتا ہے؛ کل تم بھی بلائے جاؤ گے، تو ایسی بات مت کرنا جس میں میری فضیحت ہو۔“

بزاز نے کہا، ”حساب میں تمہاری فضیحت کی کیا بات ہے؟“

ماما بولی، ”لالہ، تم تو جانتے ہو، یہ کم بخت لالچ بہت برا ہوتا ہے۔ سرکار کے حساب میں میں اپنے واسطے بھی تمہاری دکان سے کبھی کبھی لٹھا، نین سکھ، دریس لے گئی ہوں۔“

بزاز نے کہا، ”کیا معلوم، تم اپنے واسطے کیا لے گئی ہو؟“

ماما نے کہا، ”مجھ کو اس وقت حساب کرنے کا تو ہوش نہیں؛ لیکن دو چار تھان دریس، اور لٹھے نین سکھ کے، اور دس گز اودا قند میرے حساب میں نکلے گا۔ لو، میرے ہاتھ کی چار چوڑیاں سولہ روپے کی ہیں؛ گھس گھسا کر ایک روپیہ کم ہو گیا ہو گا؛ پندرہ روپے نام سے کم کر دینا؛ اور دو چار روپیہ جو میرے نام کا نکلے گا، میں دینے کو موجود ہوں۔“

بزاز نے کہا، ”چوڑیاں تم دیتی ہو، خیر، میں لیے لیتا ہوں؛ لیکن رات کا وقت ہے، بہی کھاتا دکان پر ہے؛ بے دیکھے کیا معلوم ہو، کیا گیا ہے اور کیا پاونا ہے؟“

عظمت نے کہا، ”اس وقت میری عزت تمہارے ہاتھ ہے؛ جس طرح ہو سکے، بچاؤ۔“

بزاز سے رخصت ہو، سیدھی ہزاری مل کے گھر پہنچی۔ وہ بھی حیران ہوا کہ ”اس وقت تم کہاں!“ اس کے پاؤں پر گر پڑی، اور رو کر کہنے لگی کہ ”مجھ سے ایک خطا ہو گئی ہے۔“

ہزاری مل نے کہا، ”وہ کیا؟“

عظمت بولی، ”تم وعدہ کرو کہ معاف کر دو گے تو میں کہوں۔“

ہزاری مل نے کہا، ”بات تو کہو۔“

عظمت نے کہا، ”چار مہینے ہوئے، لاہور سے خرچ آیا تھا، اور مولوی صاحب نے سو روپیہ تم کو بھیجا تھا؛ وہ میرے پاس خرچ ہو گیا، اور سرکار میں ڈر کے مارے میں نے ظاہر نہیں کیا۔ اب مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں، تم کو حساب کے واسطے طلب کریں گے؛ میں اس روپے کا ٹھکانا لگا دوں گی، تم اس رقم کو مت ظاہر کرنا۔“

ہزاری مل نے کہا، ”دو چار روپے کی بات ہوتی تو میں چھپا بھی لیتا؛ اکٹھے سو روپے تو میرے کیے چھپ نہیں سکتے۔“

ماما نے کہا، ”کیا سو روپے کا بھی میرا اعتبار نہیں؟“

ہزاری مل نے کہا، ”صاف بات تو یہ ہے کہ تمہارا ایک کوڑی کا بھی اعتبار نہیں۔ جس گھر میں تم نے عمر بھر پرورش پائی، انہیں کے ساتھ تم نے یہ سلوک کیا، تو دوسرے کے ساتھ تم کب چوکنے والی اسامی ہو؟“

عظمت نے کہا، ”ہاں لالہ، جب برا وقت سر پر پڑتا ہے تو اپنے دشمن ہو جاتے ہیں۔ خیر، اگر تم کو اعتبار نہیں تو لو، یہ میری بیٹی کی پہونچیاں اور جوشن رکھ لو۔“

ہزاری مل نے کہا، ”ہاں، یہ معاملے کی بات ہے؛ لیکن دن ہو تو مال پرکھا جائے، تب معلوم ہو کتنے کا ہے؛ لیکن اٹکل سے تو سب مال پچاس ساٹھ کا ہو گا۔“

عظمت نے کہا، ”اے ہے لالہ، ایسا غضب تو مت کرو۔ ابھی چار مہینے ہوئے، دونوں عدد بنوائے تھے؛ سو، سوا سو کی لاگت کے ہیں۔“

ہزاری مل نے کہا، ”اس میں برا ماننے کی کیا بات ہے؟ تمہاری چیز سو کی ہو یا دو سو کی، کوئی نکالے لیتا ہے؟ تلوانے سے جتنے کی ٹھہرے گی، معلوم ہو جائے گا۔“

یہ سب بندوبست کر کے ماما گھر واپس آئی؛ اور مولوی صاحب کے خدمت گار نے پاؤں دباتے میں یہ سب حال مولوی صاحب سے بیان کیا، اور محمد کامل کی معرفت اصغری کو بھی معلوم ہوا۔

صبح ہوئی تو بزاز اور ہزاری مل طلب ہوئے۔ حساب میں کچھ حجت ہونے لگی؛ ماما چڑھ چڑھ کر بولتی تھی۔ بزاز نے کہا، ”تو بڑھیا، کیا بڑ بڑ کرتی ہے؟ اٹھا اپنی چوڑیاں؛ تو تو پندرہ روپے کی بتاتی تھی، بازار میں نو روپے کی آنکتے ہیں۔“

پھر ہزاری مل نے پہونچیاں اور جوشن نکال سامنے رکھ دیے، اور عظمت سے کہا، ”نہیں صاحب، یہ مال ہمارے کام کا نہیں۔“ مولوی صاحب نے بزاز اور ہزاری مل دونوں سے پوچھا، ”کیوں بھئی، یہ کیسی چیزیں ہیں؟“ تب دونوں نے رات کی حکایت بیان کی، اور عظمت کے منہ پر گویا لاکھوں جوتیاں پڑ رہی تھیں۔

جب حساب طے ہو گیا، اور مولوی صاحب نے دینے کو روپیہ نکالا، تو جتنا واجبی تھا، آدھا آدھا سب کا دے دیا، اور کہا کہ ”میں نے لاہور سے روپیہ منگایا ہے؛ دس پانچ دن میں آتا ہے تو باقی بھی دیا جائے گا۔“

سب لوگوں نے پوچھا، ”اور ماما کی طرف جو ہمارا نکلا، وہ ہم کس سے لیں؟“

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ مسلم مکتب سے جاتے ہوئے ادھر کو نکلا، اور یہ باتیں سنتا گیا۔ وہاں جا کر تماشا خانم سے کہا کہ ”آج تو آپا اصغری کے دروازے پر بڑی بھیڑ جمع ہے؛ ان کے سسرے حساب کر رہے ہیں۔“ تماشا خانم سنتے کے ساتھ ڈولی میں چڑھ آ پہنچی۔ اتری تو اصغری سے شکوہ کیا، ”کیوں جی! تم نے مجھ کو خبر نہ کی تو کیا ہوا؟“

اصغری نے کہا، ”ابھی تو حساب درپیش ہے؛ یہ بکھیڑا ہو چکتا تو میں تم کو خبر کرتی۔“

غرض مولوی صاحب نے لوگوں سے کہا کہ ”جو ماما سے لینا ہے، وہ ماما سے لو۔“ اور عظمت کی طرف متوجہ ہو کر بولے، ”حضرت، ان کا روپیہ ادا کرو۔“

عظمت نے نیچی آنکھیں کر کے کہا، ”میرے پاس بیٹی کا زیور ہے؛ اس میں یہ لوگ اپنا اپنا سمجھ بوجھ لیں۔“

بیٹی کا تمام زیور تو کنجڑے، قصائی، بنیے، بزاز کے حساب میں آدھے داموں پر لگ گیا؛ ہزاری مل کے سو روپے کے واسطے رہنے کا ٹھیکرا گروی رکھنا پڑا۔ لکھا پڑھی پکے کاغذ پر ہو کر چار بھلے مانسوں کی گواہی ہو گئی۔

مولوی صاحب نے عظمت سے کہا، ”بس، اب آپ خیر سے سدھاریے۔ تم ایسے نمک حرام، دغا باز، بے ایمان آدمی کا ہمارے گھر میں کچھ کام نہیں۔“

اصغری نے کہا، ”ان میں نمک حرامی کے علاوہ ایک صفت اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ گھر میں فساد ڈلوانے کی فکر میں تھیں۔ کیوں عظمت، وہ کڑھائی کی بات یاد ہے، جو محمودہ کے بھائی نے فرمائش کی تھی، اور تو نے میری طرف سے جھوٹ جا کر کہہ دیا تھا کہ بہو کہتی ہیں، ’میرے سر میں درد ہے‘؟ بول تو سہی، کب تو نے مجھ سے کہا تھا، اور کب میں نے دردِ سر کا عذر کیا تھا؟“

عظمت نے کہا، ”بیوی، تم کوٹھے پر قرآن پڑھ رہی تھیں؛ میں کہنے کو اوپر گئی، تم کو پڑھتے دیکھ کر الٹی پھر آئی۔“

اصغری نے کہا، ”اور دردِ سر کی بات دل سے بنائی؟“

عظمت نے کہا، ”میں نے سوچا کہ صبح سے اب تک تو تم پڑھ رہی ہو، اب کہاں چولھے میں سر کھپاؤ گی۔“

اصغری نے کہا، ”بھلا، پہاڑ جانے کی بات تو نے کس غرض سے کہی تھی؟ میں نے تجھ سے صلاح کی تھی، یا تو نے مجھ کو کہتے سنا تھا؟“

اس کا کچھ جواب عظمت کو نہ آیا۔

پھر اصغری نے اشتہار نکال کر مولوی صاحب کے سامنے ڈال دیا، اور کہا کہ ”دیکھیے، یہ بیوی عظمت ان گنوں کی ہیں؛ خود تو محلے کے پھاٹک سے اشتہار اکھاڑ کر لائیں اور مکان پر لگا دیا، اور خود اماں جان سے کہنے کو دوڑی گئیں۔“

اصغری یہ باتیں کہہ رہی تھی، اور مولوی صاحب کا چہرہ سرخ ہو ہو جاتا تھا؛ ادھر تماشا خانم دانت پیس رہی تھی۔

مولوی صاحب نے کہا، ”تجھ کو نکال دینا کافی نہیں ہے؛ تو بڑی بدذات عورت ہے۔“ یہ کہہ کر اپنے خدمت گار کو آواز دی، اور کہا کہ ”بہادر! اس ناپاک کو کوتوالی میں لے جا، اور رقعے میں اس کا سب حال ہم لکھ دیتے ہیں۔“

اصغری نے مولوی صاحب سے کہا کہ ”بس، اب یہ اپنی سزا کو پہنچ گئی؛ کوتوالی سے اس کو معاف رکھیے۔“ اور ماما کو اشارہ کیا کہ ”چل دے“؛ بلکہ دروازے تک ماما کے ساتھ گئی۔

غرض ماما عظمت اپنے کوتکوں کے پیچھے یہاں سے نکالی گئی۔ گھر پہنچی تو بیٹی بلا کی طرح لپٹی، ”میں نہ کہتی تھی؟ ’اماں، ایسی لوٹ تو مت مچاؤ؛ سو دن چور کے تو ایک دن ساہ کا؛ ایسا نہ ہووے، کسی دن پکڑے جاؤ۔‘ تم کس کی مانتی تھیں؟ خوب ہوا! جیسا کیا، ویسا پایا۔ اب سسرال میں میرا نام تو بد مت کرو؛ جہاں تمہارا خدا لے جائے، چلی جاؤ؛ میرے گھر میں تمہارا کام نہیں۔ زیور کو میں نے صبر کیا؛ تقدیر میں ہو گا تو پھر مل رہے گا۔“

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.