Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 6 из 11

The Fifth Majlis: Studies, Marriage and Widowhood

پانچویں مجلس: زبیدہ خاتون کا باقی بیان

Altaf Husain Hali

Письмо
Размер

پانچویں مجلس

زبیدہ خاتون کا باقی بیان

جب مجھے تیرھواں سال لگا، اور فارسی میں گلستاں، بوستاں، اخلاق محسنی، عیار دانش، اور عربی صرف نحو کے ضروری رسالے پڑھ چکی، اور حساب میں کسور عام اور کسور اعشاریہ تک سیکھ چکی، اور تحریر اقلیدس کے دو مقالے دیکھ لیے، اور ہندوستان کا جغرافیہ اور تاریخ بھی پڑھ چکی، اور نسخ و نستعلیق کی تختیاں اور کچھ کچھ قطعے بھی صاف کر چکی، اب ابا جان نے دونوں سبق مجھے آپ پڑھانے شروع کیے: صبح کو کیمیائے سعادت ہوتی تھی اور شام کو عربی کلیلہ دمنہ۔ اور اماں جان کا یہ حال تھا کہ وہ دن پر دن گھلی جاتی تھیں۔ ضعف کے مارے یہ نوبت ہو گئی تھی کہ دو آدمی بغلوں میں ہاتھ دے کر بٹھا دیتے تھے تو بیٹھ جاتی تھیں اور لٹا دیتے تھے تو لیٹ جاتی تھیں۔ مجھے جس وقت گھر کے کاروبار سے فرصت ہوتی ان کے پاس جا بیٹھتی؛ کبھی پنکھا جھلنے لگی، کبھی ہاتھ پاؤں دابنے لگی، کبھی تلوے سہلانے لگی۔ اور ان کو بھی میرے ہاتھ کی کچھ ایسی کل پڑ گئی تھی کہ میرے ہوتے نوکروں سے کبھی کام نہ لیتی تھیں۔ چند روز بعد میری منگنی بھی ہو گئی۔ اماں جان کو اپنے جینے کی بالکل آس نہ تھی۔

ایک دن مجھ سے فرمانے لگیں کہ "بیٹیا! تمھاری منگنی تو ہو ہی چکی ہے، اب خدا کرے گا کوئی دن میں بیاہ بھی ہو جائے گا؛ پر دیکھیے یہ خوشی ہم کو بھی دیکھنی نصیب ہوتی ہے یا نہیں؟ اول تو زندگی کا کسی کی بھی اعتبار نہیں؛ سانس ہے، آیا آیا، نہ آیا نہ آیا؛ اور جس میں مجھ سا بیمار، تو خدا ہی ہو جو اٹھے۔ خیر دنیا سے تو ایک دن جانا ہی تھا، پر تمھاری تنہائی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے؛ یہ حسرت قبر میں میرے ساتھ جائے گی۔ مگر خدا تعالیٰ کا شکر میرے منہ سے ادا نہیں ہو سکتا۔ میری ہمیشہ یہ دعا تھی کہ الٰہی! اگر اولاد دے تو نیک بخت دیجیو، نہیں تو ایسے صاحب اولاد ہونے سے بے اولاد رہنا اچھا۔ اس بے نیاز نے میری دعا قبول کی؛ تم نے جیسا اپنی ماں کو خوش رکھا، خدا تم کو دونوں جہان میں خوش رکھے۔ اگرچہ میں یہ خوب جانتی ہوں کہ تم کو اب کسی کی نصیحت کی حاجت نہیں، مگر تم نے ابھی زمانہ کی اونچ نیچ نہیں دیکھی؛ علم پڑھا ہے پر ابھی گنا نہیں۔

سنو واری! علم بیشک بڑی دولت ہے؛ یہ دولت صاحب نصیبوں ہی کو ملتی ہے۔ تمھارے باپ کا بڑا احسان تم پر یہ ہے کہ تم کو پڑھا لکھا کر قابل کیا۔ میں بڑا بول تو نہیں بولتی، پر خدا کے فضل سے آج تم اپنے سارے کنبے میں چراغ ہو۔ لیکن مجھ سے جو پوچھو تو واری! علم کا گھر بہت دور ہے۔ دیکھو، کبھی اپنے دل میں یہ سمجھو کہ مجھے کچھ آ گیا ہے۔ یہ جو اگلے لوگ کہہ گئے ہیں کہ 'نیم طبیب خطرۂ جان اور نیم ملا خطرۂ ایمان'، یہ سچ بات ہے؛ تھوڑے علم والا بعضی بات ایسی کر اٹھتا ہے جو ان پڑھ بھی نہ کرے۔ مجھے اس بات کا بڑا خیال ہے کہ تم نے اپنے باپ کے گھر میں آنکھ کھول کر پڑھنے لکھنے کے سوا کچھ نہیں دیکھا، ہمیشہ بسم اللہ کے گنبد میں رہی ہو۔ تم کیا جانو کہ لوگ باپ دادا کی رسموں پر جان دیتے ہیں۔ جو روپیہ پیسا بڑوں نے جان کھپا کر پیدا کیا ہے اور اس لیے رکھ مرے ہیں کہ ہماری اولاد کے اڑے وقتوں میں کام آئے، اس کو بیاہ شادیوں میں مفت برباد کر دیتے ہیں، اور پھر آپ چند روز میں روٹی تک کو محتاج ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئی مر جاتا ہے تو سیکڑوں روپیہ اس کے مرنے میں لگا دیتے ہیں؛ آدمی کا آدمی گیا، روپیہ کا روپیہ برباد ہوا۔ آگے چل کر تیج تہوار میں سیکڑوں خرچ بے فائدہ بڑھا رکھے ہیں۔ غرض ہر طرح سے خدا کی نعمت کو خاک میں ملاتے ہیں۔

مجھے یہ ڈر ہے کہ جس وقت تم سسرال میں گئیں، اور تم نے وہاں جا کر ایک نئی دنیا دیکھی، اور صبح سے شام تک بیسیوں باتیں تمھاری نظر سے ایسی گزریں کہ نہ کبھی تم نے اپنے باپ کے گھر میں دیکھیں، نہ کتابوں میں کہیں ان کا ذکر، نہ عقل کے نزدیک ان کی کچھ حقیقت، اس کے سوا ہر طرح سے مال کا نقصان، اس وقت تمھارا کیا حال ہو گا؟ اگر دل ہی دل میں گھٹیں اور زبان سے کچھ نہ کہا تو دور پار دشمنوں کا خدا جانے کیا حال ہو؟ اور جو تم سے نہ رہا گیا اور کسی بات میں دخل دے بیٹھیں اور لگیں اپنی علمیت جتانے، اس وقت تمھارا کہنا تو کوئی کاہے کو مانے گا، ہاں بیٹھے بٹھائے ایک فساد کھڑا ہو جائے گا۔ ادھر تم اپنے علم پر بھولی ہوئی ہو گی، ادھر ان کو اپنے بزرگوں کی رسموں کا پاس ہو گا؛ ناحق اچھے دل برے ہو جائیں گے، اور پھر پھرا کر تمھیں کو سب احمق بنائیں گے۔

بیٹیا! یہ بات یاد رکھو کہ دنیا میں یہ دستور قدیم سے چلا آتا ہے کہ جہاں کہیں کوئی بری رسم پڑ جاتی ہے، پھر وہ مشکل سے جایا کرتی ہے۔ لوگوں کو اتنا دین کا پاس نہیں ہوتا جتنا باپ دادا کی رسموں کا ہوتا ہے؛ اور جو شخص رسموں کو برا کہتا ہے یا ان کو مٹانا چاہتا ہے، وہی اپنی قوم میں نکو ٹھیرا کرتا ہے۔ رسمیں تو سبھی بری ہوتی ہیں، پر بعضی حد سے زیادہ بری ہوتی ہیں لیکن لوگ ان کو بھی اپنا دین ایمان جاننے لگتے ہیں، اور جو ان کی رسموں کو نام دھرتا ہے اس کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ ایک زمانہ میں عرب کا یہ دستور تھا کہ جس کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی وہ اسے جیتی کو زمین میں گاڑ دیتا تھا؛ بس اس سے زیادہ اور کیا بری رسم ہو گی؟ لیکن وہ اس کو نہایت غیرت اور حمیت کی بات سمجھتے تھے۔ اور بیٹیوں کے مار ڈالنے کا دستور تو ہندوستان کے راجپوتوں میں اب تک چلا جاتا ہے، پر اب سرکار کے خوف سے بہت کم ایسا کرتے ہیں، اور کرتے بھی ہیں تو چوری چھپاول کرتے ہیں۔ اسی طرح بیوہ عورتوں کے نکاح کی اجازت خدا رسول نے تو دے رکھی ہے، مگر یہاں کے مسلمانوں میں اس کا ایسا عیب پڑ گیا ہے کہ اس کو بدکاری سے بھی برا جانتے ہیں۔ اگر ان سے یہ کہو کہ اس کا حکم قرآن اور حدیث میں آیا ہے، آگے چل کر ہم جن کے نام لیوا ہیں ان کی بہو بیٹیوں نے دو دو تین تین نکاح کیے ہیں، تو اس کا کچھ جواب نہیں دیتے؛ لیکن یہ جو چاہیے کہ اپنی کرنی سے باز آئیں، کیا ذکر ہے؟ غرض رسموں کی محبت کا دل سے نکلنا اور گوشت کا ناخن سے چھوٹنا برابر ہے۔ آدمی کو اپنے گھر کا تو ہر طرح سے اختیار ہے، جو چاہے کرے جو چاہے نہ کرے، پر اوروں سے یہ عادتیں چھڑوانی بہت مشکل ہیں؛ اس کے لیے نہایت عقلمند اور بردبار آدمی چاہیے۔ دیکھو، اگر اس کام میں قدم ڈالو تو ذرا سوچ سمجھ کر ڈالنا؛ ایسا نہ ہو کہ بے سمجھے بوجھے بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ بیٹھو اور الٹے لینے کے دینے پڑ جائیں۔ جو بات کرو ایسی خوبصورتی سے کرو کہ سانپ کا سانپ مرے اور لاٹھی کی لاٹھی نہ ٹوٹے۔

اس کے سوا سسرال میں ساس نند اور دیورانی جٹھانی کے ساتھ نباہ کرنا سب سے بھاری منزل ہے۔ یہ بات مشہور ہے کہ ساس بہو اور نند بھاوج اور دیورانی جٹھانی کی کبھی نہیں بنتی۔ واری! تم کو بھی ایک دن یہ معاملہ پیش آنا ہے۔ دیکھو، ساس کی تابعداری اور نند کی دلجوئی میں کمی نہ کرنا۔ زمانہ کا دستور ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجا کرتی ہے۔ سو اول تو اس گھرانے کے آدمی کیا مرد کیا عورت سب اچھے ہیں، سو بسوے تو ان سے کوئی ایسی بات ہونے کی نہیں؛ اور بندہ بشر ہے، جو کسی سے ایسی بات ہو بھی جائے تو تم کو تحمل کرنا چاہیے۔ اس بات سے تمھاری جگہ شوہر کے دل میں بھی ہو گی، اور ساس نندیں بھی آخر کو تمھارا دم بھرنے لگیں گی۔ اور اگر انصاف سے دیکھو تو ان کی رنجش کچھ بیجا نہیں ہوتی۔ سچ کہنا، تمھاری ماں کو جتنا لگاؤ تمھارے ساتھ ہے، اگر اس سے آدھا بھی کسی غیر کے بچے کے ساتھ ہو جائے تو تم کو کیسا برا معلوم ہو؟ بیٹیا! یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی شے میں آدمی کا کوئی نیا شریک کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کو حد سے زیادہ ناگوار گزرتا ہے۔ پہلے ایک شخص کو ماں اور بہن کے سوا کسی سے کچھ علاقہ تک نہ تھا؛ اب ان کی ایک ایسی شریک پیدا ہو گئی جس کا حصہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ مگر ساس نندیں بھی اگر غور کریں تو ان کا ناخوش ہونا کچھ راہ پر نہیں۔ آدمی کو دنیا میں ہزاروں چیزوں سے تعلق ہوتا ہے، مگر ہر چیز کے ساتھ ایک نئی طرح کا لگاؤ ہوتا ہے۔ جو ماں باپ کے ساتھ علاقہ ہوتا ہے وہ اولاد کے ساتھ نہیں ہوتا، جو اولاد کے ساتھ ہوتا ہے وہ ماں باپ کے ساتھ نہیں ہوتا؛ بھائی بہنوں میں کچھ اور ہی طرح کی محبت ہوتی ہے، میاں بیوی میں کچھ اور ہی بات ہوتی ہے۔ اس میں ایک کو دوسرے پر رشک کرنا بیفائدہ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ آدمی جس طرح اچھا کھانا کھا کر خوش ہوتا ہے، اسی طرح خوشبو سونگھ کر اور اچھی آواز سن کر اور اچھی صورت دیکھ کر خوش ہوتا ہے؛ مگر اچھا کھانا کھانے سے جو مزا آتا ہے وہ زبان کو آتا ہے، خوشبو سونگھنے سے دماغ معطر ہوتا ہے، اچھی آواز کانوں کو بھلی لگتی ہے، اچھی صورت آنکھوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اب جو کوئی یوں کہنے لگے کہ صاحب! ان کو کھانے کا کیا مزہ ہو گا، یہ تو خوشبو پر جان دیتے ہیں؟ یا ان کو اچھی آواز سننے کا شوق ہے، یہ اچھی صورت کی قدر کیا جانیں؟ تو اس کو سب لوگ اور تو کیا کہیں گے، احمق ہی کہیں گے۔

اسی طرح ماں بہنوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارا بیٹا یا ہمارا بھائی اگر بیوی کا مرید بھی ہو جائے گا تو بھی ہماری محبت کہیں نہیں گئی؛ جب ہمارا گوشت پوست، جان جگر سب ایک ہے، پھر بیوی کی محبت سے ہماری الفت کیوں جانے لگی؟ بلکہ ان کو تو یہ چاہیے کہ اگر میاں بیوی میں دور پار کچھ ان بن ہو تو جس طرح ہو سکے ان میں ملاپ کرائیں؛ اگر میاں کے دل میں بیوی کی جگہ نہ ہو تو طرح طرح سے میاں کے دل میں اس کی جگہ کریں؛ اگر لڑکا بدمزاج ہو تو سمجھا سمجھا کر اس کے مزاج کو دھیما کریں؛ غرض جہاں تک ہو سکے بہو کا ساتھ دیں؛ اور یہ سمجھیں کہ ایک بھلے مانس نے جو اپنی جان اپنا جگر ہمارے حوالے کر دیا ہے کچھ لڑکے کے بھروسے پر نہیں کیا، بلکہ ہمارا چال چلن اور ہمارے برتاؤ دیکھ کر کیا ہے۔ منگنی پیچھے کی ہے، پہلے ایک ایک سے یہ پوچھ لیا ہے کہ ان کے گھرانے کے مرد عورت کیسے ہیں؟ لڑکے کے ماں باپ بدمزاج تو نہیں ہیں؟ لڑکے کی بہنیں زبان دراز تو نہیں ہیں؟ پہلے جو ان کے ہاں قوم کی بیٹیاں بیاہی آئی ہیں ان کے ساتھ انھوں نے کیسے برتاؤ برتے ہیں؟ لڑکے کا بہت کیا، پڑھنے لکھنے کا حال پوچھ لیا؛ اس سے زیادہ اول تو کوئی پوچھتا نہیں، اور جو پوچھتے ہیں وہ ناحق پوچھتے ہیں۔ بہتیرے خوش مزاج اور نیک بخت لڑکے بیاہ ہوئے پر بدمزاج بن جاتے ہیں؛ بہتیرے نک چڑھے منہ پھولے، جن کے ماتھے پر سے کسی آن بل نہیں اترتا، بیوی کے آگے سیدھے ہو جاتے ہیں؛ پھر ایسی بات کا پوچھنا کیا؟ بہرحال بیٹیا! تم کو اطاعت ہی کرنی چاہیے۔ تمھارا صبر و تحمل کسی طرح اکارت نہیں جانے کا؛ اگر اس میں ساس نندیں راہ پر آ گئیں تو فہو المراد، اور نہیں تو اس کا اجر خدا کے ہاں پاؤ گی۔

اب رہیں دیورانی جٹھانی، سو تمھیں ان سے کام ہی نہیں پڑنے کا؛ تمھارے سسرے کے ہاں چار بیٹیوں میں اللہ رکھے ایک ہی بیٹا ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھو کہ دیورانی جٹھانیوں کے قصے سارے گھربار پر ہوا کرتے ہیں۔ اس کا علاج کچھ ایسا مشکل نہیں؛ ان کے خاوندوں کو چاہیے کہ جو کچھ ماں باپ چھوڑ گئے ہیں اس کو صلح سلوک کے ساتھ آپس میں بانٹ لیں، اور یہ خیال نہ کریں کہ بھائی بھائی ایک دوسرے سے چھوٹ جائیں گے۔ ترکہ بانٹ لینے سے کچھ دلوں میں فرق نہیں آیا جاتا۔ جس بات سے عمر بھر کا جھگڑا کٹے وہ اچھی، یا روز روز کی کل کل جھک جھک اچھی؟ بیٹیا! وہ جو کہتے ہیں کہ ساجھے کی ہنڈیا چوراہے میں پھوٹتی ہے، یہ بات سچ ہے؛ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے سب کے حصے بخرے قرآن میں بتا دیے ہیں۔ اور عورت ذات کی تو ساجھے میں کسی سے بنی ہے نہ بنے۔

رہا خاوند، سو اور کوئی خوش رہے یا نہ رہے، اس کا خوش رکھنا سب سے مقدم ہے۔ اگر ایک وقت اس کی بات بری بھی لگے تو خاموش ہو رہنا۔ بات بات میں الجھنا، ناشکری کرنی، طعنے دینے، بے سبب تیوری چڑھانی، رونکھی صورت بنانی، عورتوں کی عادت میں داخل ہے؛ کہیں خدا کے لیے تم ان باتوں کے پاس نہ جانا۔ سنو! اپنوں کو خوش رکھنا کچھ بڑی بات نہیں؛ آدمی وہ ہے جو غیر کو اپنا کر لے۔ اور خاوند کے ساتھ تو ساری عمر کاٹنی ہے۔ اگر میاں بیوی کا دل ملا ہے تو جنگل میں ایک درخت کا سایہ سو محلوں سے بہتر ہے؛ اور جو دور پار ناموافقت ہے تو گھر دوزخ کا نمونہ ہے اور آبادی ویرانی سے بدتر ہے۔ میں نے سنا ہے کہ ہماری بادشاہزادی ملکہ وکٹوریا، جو آج دنیا کے چوتھے کھونٹ کی مالک ہیں، اپنے میاں کی اس قدر خاطر کرتی تھیں کہ کبھی ان کے دل پر میل تک نہ آنے دیتی تھیں؛ اور میاں کے ساتھ جو ان کو محبت تھی یہ تو ایک زمانہ جانتا ہے۔ سنا ہے کہ جب ان کے میاں کا انتقال ہوا تو ملکہ معظمہ مدتوں ان کے سوگ میں رہیں، اور ایک کتاب بھی انھوں نے ساری میاں ہی کے حال میں لکھی ہے۔ بیٹیا! خاوندوں کا بڑا درجہ ہے، اس بات کو پلے باندھ [1] لو۔ اور یہ جو عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ ہر ایک بات پر اڑ بیٹھتی ہیں اور ہر ایک معاملہ میں یہ چاہا کرتی ہیں کہ کچھ ہو مگر ہمارا کہنا ہو، یہ شیوہ بہت برا ہے؛ اس میں گھر کے گھر بگڑ گئے ہیں؛ اس خصلت سے پناہ مانگنی چاہیے۔

خیر باتیں تو بہت سی ہیں، مگر اس وقت میرا دل اڑا جاتا ہے؛ آج مجھے اپنے طور اچھے نظر نہیں آتے؛ خدا جانے میں تم سے کیونکر باتیں کر رہی ہوں۔ اب زیادہ میرے کہنے کی تم کو حاجت نہیں؛ تم کو جو چار حرف پڑھائے ہیں، اسی لیے پڑھائے ہیں کہ جو کام کرو سوچ سمجھ کر کرو۔"

اماں جان یہ باتیں تمام کرنے نہ پائی تھیں کہ ایکبارگی ان کا سانس اکھڑا ہو گیا۔

سید عباس کہتا ہے کہ جب میری مخدومہ [2] کہتے کہتے یہاں تک پہنچیں، ان کا دل قابو سے جاتا رہا اور بے اختیار ہو کر رونے لگیں، اور اس قدر روئیں کہ روتے روتے ہچکی لگ گئی۔ پھر میری جرأت نہ پڑی کہ ان سے کچھ اور حال پوچھوں۔

خلاصہ یہ کہ جب نانا جان اور نانی جان میری مخدومہ کو اس طرح تربیت کر چکے، اب یہ فکر ہوئی کہ ان کی کہیں نسبت کیجیے، مگر ایسی جگہ کیجیے کہ لڑکا ذات اور صفات میں برگزیدہ ہو۔ اس زمانہ میں میرے جد امجد میر سید علی مغفور، اگرچہ علم و فضل میں کچھ ایسے مشہور نہ تھے، مگر اولاد کی تربیت کرنی لوگ ان کی نظیر دیا کرتے تھے۔ تمام عمر میں ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی، جس میں تین بیٹے تو مر گئے، اور ایک میرے والد ماجد اور دوسری پھپھی اماں زندہ و سلامت رہیں۔ دادا جان نے ابا جان کی تعلیم و تربیت میں تو خوب کوشش کی، مگر پھپھی اماں کو ایک قرآن شریف تو یاد کرا دیا، اس کے سوا کچھ اور پڑھنا لکھنا ان کو نہ آیا۔ بھید اس میں یہ تھا کہ دادی جان کو پڑھنا لکھنا بالکل نہ آتا تھا؛ پھر پھپھی اماں پڑھتیں تو کیونکر پڑھتیں؟ غرض ابا جان کی لیاقت اور قابلیت کی شہر میں دھوم تھی۔

رفتہ رفتہ یہ ذکر خواجہ صاحب کے کان تک بھی پہنچا۔ وہ سنتے ہی بیتاب ہو گئے، لیکن زبان سے کچھ نہ نکال سکے۔ جو لوگ نانا صاحب کے مزاجدان تھے انھوں نے دادا جان تک اس بات کی نوبت پہنچا دی۔ ہمارے اور نانا جان کے بزرگوں سے کچھ قرابت یا میل جول پہلے سے نہ تھا؛ دوسرے ضلع [3] بھی غیر تھا: ہمارا مکان خاندوران خاں کی حویلی میں تھا اور ان کی املاک عاقل خاں کے کوچہ میں تھی؛ اسی سبب سے دادا جان کو اب تک ان کا کچھ حال معلوم نہ تھا۔ مگر اب لوگوں نے جو جتایا تو ان کو بھی خبر ہوئی۔ یہ اس بات کے سنتے ہی ایسے بیقرار ہوئے کہ اسی وقت ابا جان کو بلایا اور ان کے ہاتھ سے رقعہ لکھوا کر خواجہ صاحب کے ہاں بھجوا دیا۔ انھوں نے رقعہ تو رکھ لیا اور آدمی کو رخصت کیا۔

اگلے دن اپنے داروغہ کے ہاتھ کہلا بھیجا کہ "مجھے یہ بات منظور ہے، مگر آپ کو یہ معلوم رہے کہ نکاح ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اس کو مختصر کیجیے تو دو بولوں پر فیصلہ ہے، اور جو بڑھائیے تو اس سے مشکل کوئی کام نہیں۔ اگر آدمی اس کام میں ایک سلطنت لٹا دے تو بھی خلقت کی زبان سے نہیں بچ سکتا۔ مثل مشہور ہے: 'ناکردن یک عیب و کردن ہزار عیب'۔ پھر ایسا کام کیوں کیجیے جس میں روپیہ کا روپیہ برباد ہو، مہینوں اوقات جدا ضائع ہو، نہ خدا خوش نہ رسول خوش، اور لوگوں کے طعنے رہے سو جدا؟ میں اس وقت صاف کہے دیتا ہوں کہ یہ جو شہر والے بیاہ شادیوں میں ہزاروں بیہودہ رسمیں کرتے ہیں اور نمود کے مارے لڑکیوں کا مہر لاکھ لاکھ اور دو دو لاکھ روپیہ کا بندھواتے ہیں، میں ان رسموں میں سے کچھ نہیں کرنے کا۔ اگر آپ کی غیرت اس بات کو گوارا کرے تو بسم اللہ، ایک تاریخ مقرر کر کے اس دن چلے آئیے۔"

دادا جان نے یہ سب باتیں قبول کیں اور یہ کہلا بھجوایا کہ "یہ سب باتیں آپ نے میرے دل کی سی فرمائیں؛ اگر آپ سے رہ جاتیں تو شاید مجھ کو خود کہنی پڑتیں۔ مگر گستاخی معاف ہو تو ایک عرض میں بھی کروں؟ مجھ کو میرے والد مرحوم نے وصیت کی تھی کہ بیٹوں کی شادی کم سے کم پچیس برس کی عمر میں کرنی چاہیے۔ یہ جو ہمارے ملک میں لوگ اکثر کمزور اور بودے ہوتے ہیں اور چالیس پینتالیس برس کی عمر میں جا کر کسی کام کے نہیں رہتے، اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ ان کی شادیاں چھوٹی چھوٹی عمر میں کی جاتی ہیں؛ نہ ابھی ان کے بدن زور پکڑنے پاتے ہیں، نہ ان کی عقلیں کامل ہونے پاتی ہیں، دفعتاً ان پر یہ بوجھ آن پڑتا ہے؛ چند روز میں پھول کی طرح کمہلا جاتے ہیں۔ غرض جو بات تھی وہ قرار پا گئی؛ میں امجد علی کو آپ کی غلامی میں دے چکا؛ مگر رخصت میں ابھی جلدی نہ کیجیے گا تو کمال بندہ نوازی ہے۔ امجد علی کو عنایت الٰہی سے بائیسواں سال شروع ہے؛ تین برس کی اور مہلت دیجیے۔ اس میں یہ فائدہ اور ہو گا کہ اس نے جب سے یہ سنا ہے کہ مولوی فیض اللہ بنارسی علم ہیئت خوب جانتے ہیں اور ان کے ہاں کرے اور ہر قسم کے آلات موجود ہیں، اس وقت سے اس کو بنارس کی لو لگی ہوئی ہے؛ اس عرصہ میں یہ وہاں بھی ہو آئے گا۔ اور وہیں سے کچھ اسباب تجارت اور ایک دو آدمی تجربہ کار اس کے ساتھ کر کے دکھن بھیجنے کا قصد ہے؛ یہ ارادہ بھی پورا ہو جائے گا، کیونکہ اس سے ذرا اس کا دل بھی کھلے گا، اور تجارت میں بھی تھوڑا بہت سلیقہ پیدا کرے گا، اور دس بیس شہر مفت دیکھنے میں آ جائیں گے۔ یقین ہے کہ یہ سب مراتب تین برس سے ورے ورے ختم ہو جائیں گے؛ پھر آپ کو اختیار ہے، جب چاہیے گا رخصت کر دیجیے گا۔"

نانا جان نے یہ سب باتیں منظور کیں۔ غرض کہاں تک بیان کروں، چوتھے برس جب ابا جان دکھن سے واپس آ گئے، ان کے آتے ہی نکاح کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ میں نے سنا ہے کہ نکاح کے وقت دادا جان نے ہر چند چاہا کہ مہر کچھ زیادہ بندھے، مگر نانا صاحب نے دو ہزار سے زیادہ نہ بندھوایا۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ نکاح سے پہلے آپ اٹھ کر محلسرا میں تشریف لے گئے، اور جتنی پردہ والیاں تھیں ان کو الگ کرا کر صاحبزادی سے یہ فرمایا کہ "بیٹیا! تم خدا کے فضل سے پڑھی لکھی، قابل اور ہوشیار ہو، ہر ایک بات کی برائی بھلائی کو خوب جانتی ہو، تم کو زیادہ سمجھانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ میر سید علی کے گھرانے کا حال تمھاری اماں بہشتن تم سے سب کچھ کہہ چکی ہیں؛ ان کے ہاں کے مرد و عورت کا چال چلن جو میں نے سنا ہے بہت اچھا ہے، آگے خدا کو علم ہے۔ اور ان کا بیٹا امجد علی بھی ظاہر میں نہایت سعادتمند اور اہل [4] معلوم ہوتا ہے؛ اور لیاقت میں تو اپنے ہم جولیوں سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ مگر یہ نکاح کا وقت ہے؛ اس وقت تم سے پوچھ لینا شرط ہے؛ جو کچھ تمھاری مرضی ہو بے تکلف کہہ دو۔" وہ سن کر چپکی ہو رہیں۔ خواجہ صاحب نے ایک بار کہا، دو بار کہا؛ آخر جب دیکھا کہ یوں کام نہیں چلتا، کہا: "سنو میری جان! یہ کوئی دو چار دن کا معاملہ نہیں، یہ عمر بھر کی قید ہے۔ تمھارا باپ ایسا نادان نہیں ہے کہ بے پوچھے تمھارا ہاتھ ایک غیر آدمی کے ہاتھ میں دے دے۔ اپنی اپنی سمجھ جدا ہے؛ میرے نزدیک وہ لاکھ اچھے ہوں، مجھے کیا خبر ہے کہ تمھارے دل میں کیا ہے؟ اور معاملہ کی بات میں شرم کرنی بیوقوفی ہے، اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ ہم نے تم کو چار حرف اس لیے نہیں پڑھائے کہ جہالت کی قید میں پھنسی رہو اور وہی اگلے زمانہ کی بیہودہ رسمیں برتتے چلی جاؤ۔ نہیں، علم کے معنی یہ ہیں کہ آدمی وہ کام کرے جو اس کے حق میں برا نہ ہو اور خدا رسول کے نزدیک اچھا ہو، خواہ اس میں کوئی برا کہے خواہ بھلا کہے۔ بس یہ بے محل شرم و حجاب کہاں تک رہے گا؟ باہر دس بھلے مانس بیٹھے راہ دیکھ رہے ہیں۔ اگر سو دفعہ تمھارا دل ٹھکے تو اس بات کو قبول کرو، نہیں تو جواب دو؛ میں ابھی لوگوں کو ایک خوبصورتی کے ساتھ ٹال دیتا ہوں، خدانخواستہ تم پر کوئی بات نہیں آنے کی۔" بیٹی نے جب باپ سے یہ کلام سنا، ان کی ناخوشی کے آگے برادری کے طعنوں کا کچھ خیال نہ کیا، اور صاف صاف ان کی خدمت میں عرض کیا کہ "حضور نے لونڈی کے حق میں جو کچھ تجویز کیا ہے عین مصلحت ہے؛ آگے ہوتا وہی ہے جو تقدیر میں لکھا ہے۔" نانا جان یہ کلمہ سن کر نہایت خوش ہوئے اور بیٹی کو دعا دے کر باہر دیوان خانہ میں تشریف لائے، اور قاضی صاحب سے کہا: "میں لڑکی کا ولی بھی ہوں اور اس کی طرف سے وکیل بھی ہوں، آپ بسم اللہ کریں۔" غرض جب نکاح ہو چکا، نانا جان نے داروغہ کو اشارہ کیا؛ وہ توشہ خانہ میں گیا اور پانچ توڑے روپوں کے اور کچھ خوان زیور اور کپڑے وغیرہ کے سب اہل مجلس کے روبرو لا کر رکھ دیے۔ نانا جان نے اپنی جیب میں سے ایک گاؤں کی سند نکال کر اور سامان جہیز کے ساتھ اس کو بھی رکھ دیا، اور دادا جان کی طرف متوجہ ہو کر یہ شعر پڑھا:

سپردم بتو مایۂ خویش راتو دانی حساب کم و بیش را

دادا جان نے بہت کچھ شکریہ ادا کیا اور کہا: "جہاں اللہ تعالیٰ کے اور مجھ پر بڑے بڑے احسان ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امجد علی کو آپ کی غلامی نصیب ہوئی۔" نانا جان نے داروغہ سے کہا کہ "جلد کہاروں سے کہو، زنانی ڈیوڑھی پر پینس لگائیں۔" اور آپ اٹھ کر اندر تشریف لے گئے جو جو چھپنے والیاں تھیں چھپ گئیں۔ آپ سیدھے بیٹی کے پاس چلے گئے اور ان سے کچھ کان میں کہہ کر گلے لگایا، اور فرمایا: "لو بیٹیا، خدا حافظ! انا حسینی خانم تمھارے ساتھ جائیں گی؛ برس چھ مہینے جب تک سسرال میں تمھارا جی لگے، یہ تمھارے پاس رہیں گی۔" پھر جس وقت اماں جان رخصت ہو کر پینس میں سوار ہو چکیں تو ابا جان کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور گھڑی بھر تک ان کو کچھ سمجھاتے رہے، پھر رخصت کیا۔

مجھ سے یہ ساری داستان انا حسینی خانم ہی نے بیان کی تھی۔ میں نے اپنے ہوش میں ابا جان کو نہیں دیکھا؛ میری عمر کچھ اوپر تین برس کی تھی کہ ان کا انتقال ہو گیا، مگر شادی کے بعد بیس بائیس برس جیے۔ میں ان کی شادی سے کہیں اٹھارہ یا انیس برس بعد جا کر پیدا ہوا تھا۔ ایک دن میں نے اماں جان سے پوچھا کہ نانا جان نے رخصت کے وقت آپ سے اور ابا جان سے کیا کہا تھا؟ آپ اٹھ کر اندر چلی گئیں اور کتابوں کی الماری میں سے کچھ لکھے ہوئے کاغذ لا کر میرے حوالے کیے، اور فرمایا کہ "لو، یہ وصیت نامہ تمھارے ابا لکھ مرے ہیں؛ اس میں جو کچھ تم پوچھتے ہو سب لکھا ہوا ہے۔ آج سے اس کو تم اپنے پاس رکھو اور کبھی کبھی اسے دیکھتے رہا کرو۔" میں نے جو اسے کھول کر اول سے آخر تک پڑھا تو حقیقت میں اس کا ایک ایک بول جواہرات کا مول رکھتا تھا۔ خدا نے چاہا تو کبھی فرصت کے وقت اول سے آخر تک سناؤں گا۔

(پہلا حصہ تمام ہوا)

حواشی

[1] پلے باندھ: اچھی طرح یاد رکھو۔

[2] مخدومہ: والدہ۔

[3] ضلع: یہاں مراد محلہ یا شہر کا ہے۔

[4] اہل: لائق اور نیک۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.