
Chapitre 5 sur 11
The Fourth Majlis: Running a Household
چوتھی مجلس: زبیدہ خاتون کا باقی بیان
چوتھی مجلس
زبیدہ خاتون کا باقی بیان
جب مجھے سینا پرونا، پکانا ریندھنا اچھی طرح آ گیا، اور اماں جان نے یہ جان لیا کہ اب یہ کسی کام میں رکنے والی نہیں؛ ایک ایک کھانا بیس بیس پچیس پچیس بار مجھ سے پکوا کر دیکھ چکیں؛ سینے پرونے کے کام میں تیپچی، بخیہ، ترپنا، چھانٹنا، قطع کرنا، سب باتوں میں میری طرف سے خاطر جمع کر چکیں؛ آگے چل کر جالی، کشیدہ اور گوٹے ٹھپے کے کام بھی مجھ سے بار بار لے چکیں؛ تو ایک دن اسی معمولی وقت پر مجھے بلا کر پہلے تو کچھ اور باتیں کرتی رہیں، پھر فرمانے لگیں: "سنو اماں [1]! آدمی جو ہنر سیکھتا ہے یا تو خوشی سے سیکھتا ہے یا لاچاری سے؛ اور جو کام کرتا ہے یا تو اپنے شوق سے کرتا ہے یا کسی کے دباؤ سے۔ مگر اتنا فرق ہے کہ جو بات دل کی امنگ سے ہوتی ہے اس سے کبھی جی نہیں گھبراتا اور دل لگتا ہے، اور جو کام ایکبارگی سر پر آ پڑتا ہے وہ بہت دوبھر [2] معلوم ہوا کرتا ہے۔
آج تم کو ماں باپ کے گھر میں خدا نے نوکر چاکر سب کچھ دے رکھے ہیں؛ جو تم چاہو تو ہل کر اپنے ہاتھ سے پانی نہ پیو۔ تمھارے زبان کے ہلانے میں خدا کے فضل سے سب کام ہو سکتے ہیں۔ جو چاہو کھاؤ، جو چاہو پہنو، اپنی نیند سوؤ، اپنی نیند اٹھو، کوئی تمھارا مزاحم نہیں۔ پر واری! سدا ماں باپ کے گھر رہنا نہیں۔ اب کوئی دن میں تم کہیں ہو گی، ہم کہیں ہوں گے۔ اول تو ہماری زندگی ہی کے دن کی ہے، آج موئے کل دوسرا دن؛ اور جب تم بیاہی گئیں، پھر ہم جیتے بھی رہے تو تمھارے کس کام کے؟ اور یہ کسے خبر ہے کہ تم غریب گھر جاؤ یا امیر گھر؛ اور جو امیر گھر بھی ملا تو وہاں اس طرح بے فکری سے ایک گھڑی بھر نہیں بیٹھ سکتیں۔
اگر ساس نندیں موجود ہیں تو کے دن کے لیے؟ نند آخر کسی نہ کسی دن بیاہی جائے گی، پھر وہ کہاں اور تم کہاں؟ رہی ساس، سو اول تو آج تک کہیں ساس بہو کی ایک جگہ نبھی نہیں [3]، اور جو نبھی بھی تو کب تک؟ ماں باپ اور ساس سسرے کسی کے سدا جیے ہیں نہ جئیں۔ رہا خاوند، سو وہ مرد ذات ہے، اس کو گھر کے دھندوں سے مطلب کیا؟ غرض پھر پھرا کر ایک دن سارا بوجھ تمھیں کو اٹھانا پڑے گا۔
لڑکی پھوہڑ [4] ہو یا سگھڑ [5]، ماں باپ کے ہاں تو سب نبھ جاتی ہے؛ پر خدا نہ کرے جو کسی کی بیٹی سسرال میں جا کر پھوہڑ کہلائے۔ اگر ساس نندیں صاحب سلیقہ ہوئیں تو اس کی بات بات پر ہنسیں گی، اس کے ہر ایک کام پر ٹھٹھے ماریں گی، اس کے میکے کو نام دھریں گی [6]؛ اور جو اپنے بیر کے رشتہ [7] پر آ گئیں تو خاوند کے آگے برائیاں کر کر کے اس کے دل سے گرا دیں گی۔ اور جو وہ بھی اسی کی طرح احمق اور بیوقوف ہوئیں تو چار دن میں لاکھ کا گھر خاک ہو جائے گا۔
اس کہنے سے میرا مطلب یہ ہے کہ اب تم خدا کے فضل سے ہشیار ہوئیں؛ جس وقت لکھنے پڑھنے سے فراغت ہوا کرے، گھر کا انتظام کیا کرو۔ اب مغلانی پاس گھنٹہ گھنٹہ بھر بیٹھنا اور باورچی خانہ کا سارا کام اپنے ہاتھ سے کرنا کچھ ضرور نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اب سینے پرونے یا پکانے ریندھنے کا کیسا ہی مشکل کام ہو، تمھارے آگے رکا نہیں رہنے کا۔ باہر کے خرچ کی تو مردوں کو خبر ہو گی، مگر دو سو روپیہ مہینا جو گھر میں اٹھتا ہے اس کا حساب روزمرہ لکھ لیا کرو۔ اس میں کچھ زیادہ بکھیڑا نہیں ہے، کیونکہ میں نے ادھار [8] کا کام ہی نہیں رکھا؛ ناک پر ٹکا رکھ دیا [9] اور چیز منگا لی۔ میرے نزدیک پیسا ہوتے ساتے [10] اچاپت [11] میں سودا منگانا بڑی بیوقوفی کی بات ہے۔ آگے بازار کا قرض کرنا تمھارے ابا کی بھی چڑ ہے۔ اور جب مہینا تمام ہوا کرے تو سارے مہینے کا حساب صاف کر کے مجھے سنا دیا کرو۔
دیکھنا، یہاں نوکروں میں سے تو کوئی نہیں بیٹھی؟" میں نے کہا: "نہیں، کوئی نہیں۔ آپ فرمائیے۔"
کہا: "یہ جو روز بازار سے سودا آتا ہے اس میں یہ نامرادیں بڑی کتر بیونت کرتی ہیں۔ دستوری بٹے کے سوا روپیہ پیچھے چار آنے تو ان کے باپ دادا کے ہیں۔ جب تک میرے ہاتھ پاؤں چلتے رہے اور دل ٹھکانے رہا، میں نے ان کا داؤں نہیں چلنے دیا۔ اب برس برس دن سے میں تو بالکل اپاہج ہو گئی ہوں؛ چلا پھرا مجھ سے نہیں جاتا، یاد مجھے کچھ نہیں رہتا، کہتی کچھ ہوں نکلتا کچھ ہے۔ کل کل جھک جھک [12] سے میرا آپ جی گھبراتا ہے۔ جو ان کا جی چاہتا ہے سو کرتی ہیں۔ ایک روپیہ میں آٹھ آنے کھا گئیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں، اور جو روپیہ کا روپیہ ہی رلے [13] میں ڈال دیا تو کوئی حساب لینے والا نہیں۔
بیٹیا! اب ان کا بندوبست تم کو کرنا چاہیے۔ ان کا علاج یہی ہے کہ سقنی، حلال خوری، کنجڑن، پنہاری، مالن، دائی، اور اور باہر کی پھرنے والیاں جو گھر میں آتی جاتی ہیں، ان کو ہر ایک چیز کا بھاؤ تاؤ خوب معلوم ہوتا ہے؛ کبھی کبھی ان سے بازار کا نرخ پوچھتی رہا کرو۔ جس چیز میں کچھ فرق دیکھا، وہی لانے والے کے سر سے مارا۔
اور سودا منگانے کا یہ دستور رکھو کہ سوکھی جنس جس کے بگڑ جانے کا ڈر نہیں، جیسے نمک، تیل، گھی، مصالح، گڑ، شکر، کھانڈ، چھالیا، زردہ، الائچی، کتھا، چونا وغیرہ، ان میں جو جو چیز اپنی فصل میں سستی آتی ہے وہ تو فصل کی فصل، اور باقی مہینے کے مہینے منگا لیا کرو۔ رہی ترکاری، گوشت، دہی، دودھ وغیرہ، یہ روز کے روز منگا لیا۔ پر ہمیشہ ایک ہی آدمی کے ہاتھ چیز منگانی اچھی نہیں۔ خدا کے فضل سے گھر میں کئی عورتیں نوکر ہیں، آگے [14] دو آدمی ڈیوڑھی پر رہتے ہیں؛ کبھی اس سے منگا لیا، کبھی اس سے منگا لیا۔ اس میں ذرا لانے والے کو خوف رہتا ہے۔
رہا اناج، سو تم کو منگانا ہی نہیں پڑنے کا۔ فصل کے سرے پر خدا کے دیے گیہوں، چنے، باجرہ، جوار، مسور، مکئی سال بھر کے خرچ کے موافق آ ہی جاتے ہیں۔ اس کے سوا روز صبح شام کوٹھیار [15] میں آپ جا کر آٹا، دال، گھی، چاول، کھانڈ، جتنا خرچ دیکھو، اپنے سامنے تلوا کر دیا کرو۔ گھر میں جو خرچ روزمرہ اٹھتا ہے اس کا تو ایک اندازہ باندھ لو، روز اس کے موافق دے دیا کرو؛ اور جو کسی دن کوئی نئی چیز پکی، یا کسی کے ہاں دعوت بھیجنی ہوئی، یا کوئی مہمان آ گیا، تو اسی قدر جنس بڑھا دی۔
اور کبھی کبھی تھوڑی دیر کو آپ بھی باورچی خانہ میں جا کر بیٹھا کرو؛ اور کچھ نہیں، کہیں نمک ہی چکھ لیا، ترکاری ہی چھیل لی، مصالح ہی بھون لیا۔ اس میں کئی فائدے ہیں: پکانے والی کو خوف رہے گا، بے پروائی سے کام نہیں کرنے کی، کھانا اچھا پکے گا، اور تم کو بھی یہ عادت پڑی رہے گی۔
اس کے سوا پسائی کے لیے روز دو من دس سیر گیہوں چھڑوا پھٹکوا کر علیحدہ مٹکوں میں بھروا دیا کرو۔ جب پنہاری آئے، اناج تول کر تو اسے دے دیا اور آٹا تول کر اس سے آپ لے لیا، اور اس کی پسائی روز کی روز حساب کر کے دے دی۔ اور گھوڑے بیلوں کے لیے دانہ اپنے سامنے تلوا کر باہر بھیج دیا کرو۔
جب کھانا پک کر تیار ہو جایا کرے اور تمھارے ابا دیوان خانہ سے گھر میں آ جایا کریں، تو چولھے پر بیٹھ کر اپنے سامنے کھانا نکلوایا کرو۔ پہلے جو باہر کوئی مہمان ہو اس کے لیے خاصگی [16] کھانے میں سے کھانا بھیج دیا کرو؛ پھر اپنے ابا کے لیے روٹیوں کا دسترخوان اور دال سالن کی رکابیاں سینی میں لگا کر آپ لوا لایا کرو۔ پہلے اپنے ہاتھ سے دسترخوان چنا، پھر چلمچی آفتابہ لے کر ان کے ہاتھ دھلوائے۔ جب وہ کھانے پر بیٹھ گئے، یہاں تو ماماں کو پانی پلانے پر چھوڑا اور آپ باورچی خانہ میں چلی گئیں۔ اگر کوئی چھپنے والی گھر میں مہمان ہوئی تو اس کے اور اپنی استانی جی کے لیے کھانا لے کر دوسرے مکان میں چلی گئیں، اور سب نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا؛ اور جو کوئی مہمان نہ ہوئی تو پہلے آپ استانی جی کے ساتھ بیٹھ کر کھایا، پھر تصرفی [17] کھانے میں سے باہر کے نوکروں کو باہر بھیج دیا، اندر کی نوکروں کو اندر دے دیا۔
آٹا اتنا پکوایا کرو کہ سقے، حلال خوری کو دے کر ایک آدمی کی خوراک بچ رہا کرے؛ اکثر مہمانوں کے ساتھ بال بچے ہوتے ہیں، خدا جانے کس وقت کھانا مانگ بیٹھیں۔ اور تھوڑا بہت گوشت کسا ہوا ہر وقت تیار رکھا کرو، شاید وقت بے وقت کوئی مہمان آ جائے تو روٹی ہی کی فکر کرنی پڑے۔
جب سب کھانا کھا چکیں، پاندان کھول کر گلوریاں بنائیں؛ جو باہر بھیجنی ہوئیں خاصدان میں رکھ کر باہر بھیج دیں، جن جن کو گھر میں دینی ہوئیں گھر میں دے دیں۔ دال سالن کی رکابی جہاں کہیں بھیجا کرو اس پر سرپوش ضرور ڈھک دیا کرو، اور کھانا سینی میں لگا کر بھیجا کرو۔ دسترخوان ہمیشہ اجلا اور باسن قلعی دار رہیں۔ پان کی گلوریاں جو باہر بھیجو سادی بنا کر بھیجا کرو، اور زردہ خاصدان میں جدا رکھ دیا کرو۔ پان میں چونا اندازہ سے کم لگایا کرو۔
جب یہ ہو چکا، اب ماماں سے کہہ کر سارے برتن منجھوائے اور گن کر کوٹھری میں رکھوا دیے۔ برتن آٹھویں دن نہیں تو پندرھویں دن ضرور قلعی کروا لیا کرو۔ پتیلیوں پر دوسرے تیسرے دن تلا چڑھوا دیا کرو۔ دسویں پندرھویں چولھے لپوا لیے۔ چھٹے چھماسے [18] مصالح پیسنے کی سل چکی رہوا لی۔
اور سب سے زیادہ پانی کا خیال رکھنا چاہیے۔ پانی کے مٹکے اور ٹھلیاں کھلی نہ پڑی رہیں؛ ڈھکنے اور پانی نکالنے کے ڈونگے ان پر ہر وقت موجود رہیں۔ پانی پینے کا ہو یا برتنے کا، ایسی جگہ رکھنا چاہیے جہاں دھوپ نہ آتی ہو۔ باسی پانی کی ٹھلیاں جدا اور تازہ کی جدا رہیں؛ سقے کو یہ تاکید رہے کہ کبھی باسی میں تازہ اور تازہ میں باسی پانی نہ ملنے پائے۔ اسی پانی کے ہیر پھیر سے بیسیوں بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
تیل کا ایک اندازہ باندھ لو کہ گھر میں اتنا جلتا ہے اور ڈیوڑھی اور دیوان خانہ میں اتنا جلتا ہے، اور یہ دیکھ لو کہ اس میں کوئی چراغ بیجا تو نہیں جلتا، اور کہاں کہاں کب تک جلتا ہے۔ جب یہ معلوم ہو گیا، اب روز شام کو اٹھیں اور اسی حساب سے تول کر نوکر کے حوالے کیا۔
دھوبن کو کپڑے جب دو، گن کر دو، اور اس سے جب لو، گن کر لو، اور جو یاد نہ رہ سکے تو لکھ لیا کرو۔ جب میلے کپڑے اترا کریں تو مردانے الگ اور زنانے الگ بندھوا کر رکھوا دیا کرو؛ دھوبن آئی، لے گئی۔ اور ایک ایک کپڑا اسے دکھا کر دیا کرو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی کپڑا پھاڑ لائے اور کہے میرے ہاں پھٹا ہی گیا تھا۔ برس دن میں دو چار بار کپڑوں کو دھوپ بھی دے لیا کرو، اور جس میں [19] پشمینہ اور ریشمی کپڑے کا اور بھی زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
جب جاڑا آنے کو ہو تو جڑاول نکال کر دیکھو کہ کون کونسا کپڑا اچھا پرانا ہے اور کون کونسا پہننے اوڑھنے کے قابل ہے۔ جو کپڑا ایسا دیکھو کہ نئی روئی ڈلوانے سے، یا ادھڑوا کر رنگوانے سے، یا گوٹ سنجاف، استر ابرہ بدلنے سے خاصا ہو جائے گا، اس کو درست کرا لو؛ اور جو کہیں سے نہ گیا ہو اسے ویسا ہی رہنے دو؛ اور جو زیادہ پھٹا پرانا ہو اسے کسی ماماں، اصیل، نوکر چاکر کے دینے کو الگ نکال رکھو۔ اور جس قدر نیا کپڑا بنوانے کی ضرورت دیکھو، اس کو ایک فرد پر لکھ لو، تاکہ بار بار بازار سے منگانا نہ پڑے۔ جو پرانی روئی نکلے اس کے دوہر یا شطرنجیاں بنوا لیں، یا نئی روئی سے بدلوا لیا، اور نئی روئی کی جتنی ضرورت ہوئی مول منگا لی۔
کمہاری سے پانچ چار انگیٹھیاں منگا لیں۔ ماماں پر ہمیشہ تاکید رکھی کہ جس قدر باورچی خانہ میں لکڑیاں جلا کریں ان کے کوئلے روز بجھایا کرے، اور باورچی خانہ پر جو ڈھکنی ہے اس میں ڈال دیا کرے؛ اگر ایسا ہوتا رہے گا تو جاڑے میں انگیٹھیوں کے لیے بازار سے کوئلے مول منگانے نہیں پڑنے کے۔
اسی طرح گرمیوں کی آمد میں مکان پر سفیدی کرانی، چھتوں میں پنکھے لگوانے، چمن کی درستی کرانی، پانی کے مٹکے بدلنے، گرمی کے کپڑے کی فکر کرنی؛ اور برسات سے پہلے مکان کی مرمت کرانی، کچی چھتوں پر مٹی ڈلوانی، پکی چھتوں کی درزبندی کرانی، بدررو کھلوانی، پرنالے صاف کرانے؛ یہ سب باتیں یاد رکھنے کی ہیں۔
مکان جہاں تک ہو اجلا اور صاف رہے۔ چلمچی کا پانی دونوں وقت پھکوا دیا جائے۔ وضو کے لوٹے نماز کی چوکی پر سے نہ جانے پائیں۔ مکان کا فرش میلا ہو جایا کرے تو فوراً بدلوا دینا چاہیے۔ روز صبح اٹھ کر ماماں سے اندر کے فرش پر اور حلال خوری سے سارے گھر میں اپنے سامنے جھاڑو دلوایا کرو۔ تخت، چوکی، پیڑھا، گھڑونچی، پلنگ کے پائے، پٹی، سیروا، جو چیز ٹوٹ گئی، ترت بھیج کر درست کرا منگائی۔
برسات کے سوا اور سب دنوں میں آٹھویں دسویں پلنگوں کی ادوائنیں [20] کھچوا دیں۔ ماماں پر تاکید رکھو کہ چولھوں کی راکھ روز نکال کر ایک جگہ اکٹھی کر دیا کرے، اور حلال خوری سے کہہ دو کہ ہمیشہ ٹوکرے میں بھر کر کوڑے کے ساتھ اٹھا لے جایا کرے۔ چھالیا جتنی روز اٹھتی ہے، رات کو بیٹھ کر کچھ آپ کتر لی، کچھ اناؤں سے کتروا لی؛ یہ نہ ہو کہ وقت پر چھالیا کترنی پڑے۔ بعضی دفعہ پچاس پچاس گلوریوں کی مانگ باہر سے آ جاتی ہے؛ اس وقت اگر چھالیا کتری ہوئی نہیں ہوتی تو بڑی دقت پڑتی ہے۔ پاندان کو روز صبح اٹھتے ہی ماماں سے صاف کرانا چاہیے۔ بعضی پھوہڑیں پاندان کو ایسا رکھتی ہیں کہ اس کے دیکھنے سے گھن [21] آتی ہے۔
باغ میں سے جو روز ڈالی آتی ہے اس میں سے تھوڑی سی کنبے میں اور کچھ ہمسائی کے ہاں بھیج دیا کرو۔ اور گاؤں گوین سے آم، بھٹے، دودھ، رس، جو کچھ آیا کرے اس کو بھی اسی طرح بانٹ دیا کرو؛ جو اس میں سے کچھ بچ رہا تو جتنی ضرورت ہوئی اتنا گھر کے خرچ کو رکھ لیا اور باقی نوکروں کو دے دلا دیا۔
اپنے ہاں جو کوئی مہمان آئے اس کی جہاں تک ہو سکے خاطرداری کرنی چاہیے؛ اس کو کھانے، پینے، سونے، بیٹھنے، زردہ، پان، کسی طرح کی تکلیف نہ ہونے پائے۔ جس کے کوئی لڑکا بالا ساتھ ہوا، اس کو کبھی گود میں لے لیا، کبھی بازار سے کچھ سودا منگا دیا، کھانے کے لیے وقت بے وقت پوچھتی رہیں۔ جب کوئی نئی چیز پکا کرے تو تھوڑی بہت ہمسائی کے ہاں بھی ضرور بھیج دیا کرو۔ فقیر فقرا جو دروازہ پر مانگنے آتے ہیں انھیں کبھی خالی نہ جانے دیا کرو۔
باہر کی عورتیں جو روز کی آنے والیاں ہیں، ان کے سوا جب کوئی نئی عورت گھر میں آیا کرے اس سے ذرا ہشیار رہا کرو؛ بے تکلف بات چیت کرنے نہ بیٹھ جایا کرو۔ ہر کسی سے جھٹ پٹ گھل مل جانا عیب میں داخل ہے۔ اسی طرح حق ناحق ایک ایک سے کانا پھوسی کرنی بھی اچھی نہیں؛ اس میں اوروں کو طرح طرح کے شک ہوا کرتے ہیں۔ ہاں جو کوئی ایسی ہی بات چھپانے کے قابل ہوئی تو مضائقہ نہیں۔
روز فرصت نہ ملے تو دوسرے تیسرے دن ضرور سر میں آنولے یا کھلی ڈال کر نہانا چاہیے۔ کپڑے جہاں تک ہوں اجلے رکھنے چاہییں۔
غرض آٹھ سات گھنٹے جو سونے کے ہیں، ان کے سوا ایک ساعت ایک گھڑی بیکار نہ بیٹھو، اور ایک ایک لمحہ ایک ایک پل کو جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھو۔
بیٹیا! تم اپنے جی میں کہتی ہو گی کہ اماں نے مجھے کس تواہی [22] میں ڈال دیا، ایک ہی بار پہاڑ کا پہاڑ میرے سر پر رکھ دیا۔ نہ واری! ایسا خیال دل میں نہ لانا۔ کام کرنے کی قدر تم کو جب معلوم ہو گی جب زمانہ کی اونچ نیچ سے خبردار ہو گی۔
سنو! آدمی کو چاہیے کہ اول اپنے جی میں یہ سوچے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کس کام کے لیے بنایا ہے؟ آخرت میں کون کونسی باتیں میرے کام آئیں گی؟ اور دنیا میں میری عزت آبرو کیونکر بنی رہے گی؟ اور یہ جو بعضے آدمی کہتے ہیں کہ جس طرح ہو زندگی عیش اور آرام کے ساتھ بسر کیجیے، سو اول تو یہ نرا خیال ہی خیال ہے؛ ایک بزرگ کا قول ہے کہ راحت کے ڈھونڈنے والے ایسی چیز ڈھونڈتے ہیں جو دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوئی۔ اور جو یہاں تھوڑی بہت آسائش ہے بھی، تو کچھ مال و دولت پر یا جاہ و منصب پر یا ہنسنے بولنے پر یا اچھا کھانے اچھا پہننے پر موقوف نہیں۔
آدمی کیسا ہی محنت اور مشقت کا کام کرے، جہاں چند روز میں اس کی عادت پڑی پھر اس کی برابر کوئی کام آسان نہیں معلوم ہوتا، اور اس کو محنت کا ایسا مزا پڑ جاتا ہے کہ ایک دم بھر نکما بیٹھتا ہے تو اس کا جی گھبرانے لگتا ہے۔ پنہاریاں جو برابر بیٹھ کر چکیاں پیستی ہیں، اور پنھیاریاں جو پنگھٹ سے دو دو مٹکے سر پر رکھ کر لاتی ہیں، اور چوڑی والیاں جو دن بھر بیٹھی دیدہ ریزی کرتی ہیں، اور گھوسنیں جو دن بھر اپلے تھاپتی ہیں، اور کسانوں کی عورتیں جو جیٹھ بیساکھ کی گرمی میں چار چار پہر ہل جوتنے اور اناج گاہنے میں کاٹ دیتی ہیں، اگر ان کے دل کو دیکھو تو بڑی بڑی رانیوں اور بیگموں سے بھی زیادہ خوش و خرم پاؤ۔
تمھارے ابا ذکر کرتے تھے کہ ایک لڑکا چودہ پندرہ برس کی عمر کا کسی قصور میں دس برس کو قید ہو گیا۔ جب قید بھگت چکا تو اس کے چھوڑنے کے لیے حاکم کے سامنے لائے۔ اس نے کہا: 'اگر سرکار میری خداوندی کرے تو پھر مجھے جیل خانہ ہی میں بھیج دے۔ جس طرح پہلے مجھ کو جیل خانہ میں جانے سے ڈر لگتا تھا، اب وہاں سے نکلنا وبال معلوم ہوتا ہے؛ اور اگر سرکار نہ بھیجے گی تو قید ہونے کے لیے پھر چوری کروں گا۔' حاکم نے اسے نوکر رکھ کر جیل خانہ ہی میں بھیج دیا؛ پھر ساری عمر اس نے وہیں کاٹ دی۔
اسی طرح وہ کہتے تھے کہ جب میں پنجاب کو گیا، ان نواح میں گرمی بہت سخت پڑتی تھی۔ ایک دن چلتے چلتے راہ ہی میں دوپہر ہو گئی، ایک درخت کے سایہ میں ٹھہر گیا۔ تھوڑی سی دیر میں ادھر سے ایک پینس آئی؛ آٹھ کہار، ایک بہشتی، دو خدمتگار ساتھ؛ پینس کے دونوں طرف خس کے پردے چھٹے ہوئے؛ بہشتی برابر پانی چھڑکتا چلا آتا ہے۔ سامنے کچھ اور درخت سایہ دار تھے، وہاں آن کر ٹھہری۔ برابر کنواں اور حلوائی کی دکان تھی۔ کہاروں نے پینس کو تو وہاں پٹکا [23]، اور آپ کنویں پر جا کر منہ ہاتھ دھویا، اور حلوائی کی دکان سے پوریاں لے کر دھوپ ہی میں کھانے بیٹھ گئے، اور کھا پی کر ڈفلی بجانی اور گانا شروع کیا۔
ادھر جو ان کو دیکھتا ہوں تو پینس میں پڑے ہائے وائے کے نعرے مار رہے ہیں، اور بار بار بہشتی سے پانی چھڑکواتے ہیں۔ میں نے ان کے خدمتگاروں سے پوچھا کہ یہ کیا بیمار ہیں؟ انھوں نے کہا: صاحب! بیمار تو کچھ نہیں، گرمی کے مارے گھبرا رہے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: سبحان اللہ! کیا خدا کی شان ہے! یہ قیامت کی دھوپ، اور یہ تپتی زمین، اور ننگے پاؤں، اور پینس کا کندھے پر لانا، اور خدا جانے آٹھ کوس سے لائے ہیں یا دس کوس سے؛ اس پر کہاروں کا تو یہ حال ہے کہ مزے سے بیٹھے ڈفلی بجا رہے ہیں اور گا رہے ہیں، ان کی صورت پر یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کہیں سے چل کر آئے ہیں؛ اور ایک یہ شخص ہے کہ پینس میں بیٹھا ہوا ہے، ہاتھ نہیں ہلاتا، پاؤں نہیں ہلاتا، اندر دھوپ کا کہیں نام نہیں، خس کے پردے لگے ہوئے ہیں، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سوندھی سوندھی خوشبو آ رہی ہے، اس پر یہ حال ہے کہ گرمی کے مارے مرا جاتا ہے۔
اس دن سے مجھے یقین ہو گیا کہ امیر سے لے کر غریب تک اور بادشاہ سے لے کر فقیر تک سب کا حال خوشی و رنج میں یکساں ہے، بلکہ محنتی مزدوروں کا دل امیروں سے بھی زیادہ خوش رہتا ہے۔
اور ہاں، بہت دور کیوں جاتی ہو؟ یہ تو کل کی بات ہے کہ تمھارے چچا جان جب کچہری میں سررشتہ دار تھے تو ان کو کچہری کے کام کی ایسی عادت ہو گئی تھی کہ چھٹی والے دن سدا ان کا جی اچاٹ رہتا۔ ایک دن میں نے کہا: 'بھیا! یہ کیا بات ہے کہ چھٹی کے دن تم کچھ سست سست رہا کرتے ہو؟' انھوں نے کہا: 'صاحب! میں نہیں جانتا؛ کام میں تو میرا جی خوش رہتا ہے، اور جس دن کچھ کام نہیں ہوتا اس دن شام پکڑنی دشوار ہو جاتی ہے۔'
غرض بنو! یہ سمجھ لو کہ چین اور آرام تو ایک ایسی چیز ہے کہ آدمی جو کام اختیار کرے گا اسی میں اس کا جی خوش رہنے لگے گا۔
اب رہی یہ بات کہ تم کو کونسا کام اختیار کرنا چاہیے؟ سو بیوی! آخرت میں تو نیکی کے سوا اور کچھ کام نہیں آنے کا؛ اور جس سے دنیا میں عزت و آبرو بنی رہے، ماں باپ اور ساس سسرے خوش رہیں، خاوند تابعدار رہے، نند بھاوج، دیورانی جٹھانی کی زبان بند رہے، کنبے میں واہ واہ ہو، ہمسائے دعائیں دیں، نوکر چاکر خیر منائیں، وہ انھیں باتوں میں ہے: پڑھنا لکھنا، سینا پرونا، سارا گھر کا کام کرنا، ہر ایک کے ساتھ جیسا چاہیے ویسا برتاؤ برتنا۔ یہ اسی وقت تمھیں مشکل معلوم ہوتا ہے؛ جہاں مہینے دو مہینے تم ان دھندوں میں رہیں، پھر تم کو خالی بیٹھنا خود دوبھر ہو جائے گا؛ اگر تمھارے پاس کچھ کام نہ ہو گا، اوروں کے کام بٹواتی پھرا کرو گی۔
اور بیٹیا! بڑا فائدہ اس میں یہ ہے کہ کامی آدمی ہزاروں بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے، اور جس میں جوان عورت کے لیے تو نکما بیٹھنا ایسا ہے جیسا زہر۔ جب تک بہو بیٹی کے سر پر ماں باپ یا ساس سسرے موجود ہیں، جب تک تو کچھ ایسا خوف نہیں، گھر کے کاروبار کرے یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے [24] بیٹھی رہے؛ لیکن جب خود مختار ہوئی اور کوئی بڑا بوڑھا سر پر نہ رہا، اب اگر بچپن سے کام کی عادت پڑی ہوئی ہے تو تو خیر ہے، اور نہیں تو وہی مثل ہو گی: 'میاں میرا گھر نہیں، مجھے کسی کا ڈر نہیں۔' اور کچھ نہیں تو خالی بیٹھی کسی کے گلے شکوے ہی کرے گی، کسی کو نام ہی دھرے گی۔ آگے بچے ننگے کھلے پھرتے ہیں تو کچھ پروا نہیں؛ نوکریں گھر لوٹے لیے جاتی ہیں تو کچھ خبر نہیں؛ چھت گیری پھٹ گئی تو بلا سے؛ چاندنی میلی ہو گئی تو پاپوش سے۔
اور یہ قاعدہ ہے کہ جس گھر کی بیوی کو کام دھندے کا کچھ خیال نہیں ہوتا، اس کے ہزار نوکریں ہوا کریں، وہ اس سے زیادہ کاہل وجود ہو جاتی ہیں۔ اور جو دور پار کوئی بری صحبت مل گئی تو رفتہ رفتہ خدا جانے دشمنوں کی نوبت کہاں پہنچے؟ پھر باپ دادا اور ساس سسروں کی عزت کا خدا ہی حافظ ہے۔
بیٹیا! عورت کو خدا نے الٹی سمجھ دی ہے؛ اس کا علاج یہی ہے کہ دن بھر گھر کے دھندوں میں پھنسی رہے، اتنی فرصت ہی نہ ملے کہ اپنے دل سے مشورہ لے۔ اور جو عورت نکمی بھی ہو اور صحبت بھی اچھی نہ ہو اس کا تو کچھ ٹھکانا ہی نہیں؛ اور جو اپنے کام دھندوں میں لگی رہے گی اس کو کیسی ہی بری صحبت ہو کبھی نقصان نہیں کرنے کی۔
اس کے سوا یہ کتنا بڑا فائدہ ہے کہ چلنے پھرنے محنت کرنے سے کھایا پیا انگ لگتا ہے، ڈیل قابو میں رہتا ہے، بیماری کم ہوتی ہے، رات کو نیند خوب آتی ہے۔
لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ نرم نرم اطلس اور حریر کے بچھونوں میں سونا۔ اس نے کہا: 'یہ بات میرے اختیار کی نہیں ہے؛ اگر میسر نہ ہوں تو کیا کروں؟' لقمان نے کہا: 'اگر دن بھر محنت کر کے رات کو زمین میں یا کھری چارپائی پر بھی سو گے تو ویسا ہی آرام پاؤ گے جیسا اطلس اور حریر کے بچھونوں میں پاتے۔'"
غرض کہاں تک بیان کروں، عشا کی نماز پڑھ کر انھوں نے مجھے سمجھانا شروع کیا تھا، آدھی رات گئے تک یہی باتیں کرتی رہیں۔ انھوں نے جو بات کہی کچھ ایسے طور پر کہی کہ ترت [25] میرے جی نے قبول کر لی۔ آخر اسی وقت توشہ خانہ اور کوٹھیار اور تمام صندوقوں اور خوانچوں کی کنجیاں مجھے سونپ دیں، اور فرمایا: "لو بیٹیا! آج جو کچھ میرا حق تھا وہ پورا کر دیا۔ اگر میرے سر میں بوتا ہوتا تو تم کو روز تاکید کرتی رہتی، ہر بات پر ٹوکتی رہتی، جہاں تم سے بھول چوک ہو جاتی وہاں تم کو خبردار کر دیا کرتی۔ اب نہ میرا دل ٹھکانے، نہ میرے حواس درست۔ اب تم جانو اور تمھارا کام جانے۔ اگر ماں کا کہنا کرو گی، دل سے دعا نکلے گی، تمھاری عاقبت سنورے گی، زمانہ تعریف کرے گا، سیکڑوں آفتوں سے محفوظ رہو گی، باپ کی خفگی اٹھانے سے بچو گی؛ اور ایسا نہ کیا تو آج نہیں کل پچھتاؤ گی۔ رہی میری آزردگی، سو وہ کے دن کی ہے؟ میں پہلے ہی چلنے کو تیار بیٹھی ہوں؛ یہ بیماری میری جان کے ساتھ جائے گی۔"
اماں جان کو عرق النسا کی بیماری تھی۔ پہلے تو ان کو مہینے میں ایک آدھ بار اس کا دورہ ہوا کرتا تھا، ایک دو دن کے بعد آرام ہو جاتا تھا؛ پر اب برس برس دن سے یہ دکھ ان کی جان کو لگ گیا تھا، ہر وقت درد رہتا تھا، چلنے پھرنے سے عاجز ہو گئی تھیں۔
غرض میں یہ باتیں سن کر رونے لگی۔ ان کا بھی جی بھر آیا، پر دل کو تھامے رکھا، اور مجھے گلے لگا کر پیار کیا اور فرمایا: "اچھی بیوی! رونے کی کیا بات ہے؟ جب بیماری بڑھ جاتی ہے اور روز کی تکلیفیں اٹھاتے اٹھاتے جی چھوٹ جاتا ہے تو بیمار کو موت ہی نظر آتی ہے؛ اور خدا کے کارخانہ میں کس کو دخل ہے؟ خدا چاہے تو ابھی دم بھر میں اچھا کر دے؛ جو مردہ کو زندہ کر سکتا ہے اس کو میری بیماری کھونی کیا مشکل ہے؟" یہ کہہ کر مجھے پھر گلے لگایا اور فرمایا: "لو، اب اپنی پلنگڑی پر جا کر سو رہو، مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔" میں اٹھی اور اپنی چارپائی پر آن کے سو رہی۔
اگلے دن سے میں ان کے کہنے کے موافق سارا گھر کا کام کرنے لگی؛ جہاں پڑھنے لکھنے سے فراغت پائی اور میں اپنے کام دھندے میں لگی۔ دو تین مہینے تو یہ حال رہا کہ رات کو جس وقت پلنگ پر جا کر لیٹتی تو یہ معلوم ہوتا کہ بدن میں جان نہیں؛ بوٹی بوٹی جدی دکھتی تھی، ڈیل جدا اکڑا پڑتا تھا؛ پھرتے پھرتے تھک کر چور ہو جاتی تھی، اور پڑتے ہی ایسی بے خبر سوتی تھی کہ صبح کی نماز کو انا پانی کے چھینٹے دیتی تھیں تو بھی میری آنکھ نہیں کھلتی تھی۔ مگر ایک خدا کا شکر ہے کہ دن بھر اس قدر تو چکر رہتا تھا، اس پر بھی کبھی میرا سر تک نہیں دکھا؛ صبح کو جہاں سوتے سے اٹھی اور طبیعت بحال ہو گئی۔
دو تین مہینے کے بعد پھر جو مجھے کام دھندے کا مزا پڑا، میں نہیں جانتی کہ مجھ میں کہاں کی طاقت آ گئی تھی؛ ایک دم بھر میرا پاؤں زمین پر نہ ٹکتا تھا۔ اس میں ایک سبق ابا جان سے بھی پڑھنے لگی تھی۔ تین چار گھنٹے جو ان سے اور استانی جی سے پڑھنے کے تھے، بس وہی تو سمجھ لو؛ ان کے سوا پھر میں نہ جانتی تھی کہ آرام سے بیٹھنا کس کو کہتے ہیں۔ اور آج تک وہی عادت چلی جاتی ہے؛ تم بھی دیکھتی ہو کہ میں کسی وقت نکمی نہیں بیٹھتی، اور نہ مجھے نکما آدمی بھاتا ہے۔
حواشی
[1] اماں: محبت سے بیٹی کی جگہ اماں کہا ہے۔
[2] دوبھر: مشکل۔
[3] نبھی نہیں: موافقت نہیں ہوئی۔
[4] پھوہڑ: بے سلیقہ۔
[5] سگھڑ: سلیقہ والی۔
[6] نام دھریں گی: عیب نکالیں گی۔
[7] بیر کے رشتہ: دشمنی۔
[8] ادھار: قرض چیزیں خریدنا۔
[9] ناک پر ٹکا رکھ دیا: نقد دام دے دیے۔
[10] ہوتے ساتے: جب موجود ہو۔
[11] اچاپت: قرض، ادھار۔
[12] کل کل جھک جھک: تکرار، جھگڑا۔
[13] رلے: بھول چوک۔
[14] آگے: اس کے علاوہ۔
[15] کوٹھیار: جس مکان میں کھانے کی جنس رکھی جائے۔
[16] خاصگی: گھر کے معزز آدمیوں کا کھانا۔
[17] تصرفی: معمولی کھانا۔
[18] چھٹے چھماسے: چھٹے مہینے۔
[19] جس میں: خاص کر۔
[20] ادوائنیں: پائنتیاں۔
[21] گھن: نفرت۔
[22] تواہی: مصیبت۔
[23] پٹکا: جلدی سے زمین پر رکھ دیا۔
[24] ہاتھ پر ہاتھ دھرے: نکمی۔
[25] ترت: فوراً۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.