Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 4 sur 11

The Third Majlis: A Mother's Counsel on Learning

تیسری مجلس: زبیدہ خاتون کا باقی بیان

Altaf Husain Hali

Écriture
Taille

تیسری مجلس

زبیدہ خاتون کا باقی بیان

جب میں سمجھدار ہو گئی تو اماں جان نے مجھ کو اور اور طرح سے سمجھانا شروع کیا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دن کھانا کھا کر سات بجے سے جو بیٹھیں، بارہ بجے تک یہی نصیحتیں کرتی رہیں کہ بیٹا! علم بڑی دولت ہے۔ علم سے خدا ملتا ہے، علم سے نجات ہوتی ہے۔ علم کے آگے مال اور دولت کی کچھ حقیقت نہیں۔ ایک محتاج آدمی جو علم رکھتا ہو وہ بے علم بادشاہ سے بہتر ہے۔ ایک آدمی کا علم اور ہزار آدمیوں کی عبادت برابر نہیں ہو سکتی۔ جس آدمی میں علم نہیں وہ آدمی نہیں، جانور ہے؛ اور جس گھر میں کوئی علم والا نہیں وہ گھر نہیں، جانوروں کا ڈربا ہے؛ اور جس ملک میں علم کا چرچا نہیں وہ ملک نہیں، ڈھوروں کا جنگل ہے۔ علم کی عزت مال و دولت کی عزت سے کہیں سوا ہے۔ امیر آدمی کی عزت یا کپڑے لتے سے ہے، یا مسند تکیہ سے، یا نوکروں چاکروں سے، یا ہاتھی گھوڑوں سے؛ جہاں ان سے الگ ہوا پھر جہان اور خدا کی مخلوق ہے، ایک وہ بھی ہے۔ اور علم والا جس حال میں رہے گا اور جہاں جائے گا اور جس سے ملے گا اس کی عزت ویسی ہی بنی رہے گی۔

بہت دور کیوں جاتی ہو، جتنا ادب تم استانی جی کا کرتی ہو اور جتنی ان سے دبتی ہو اور ان کا لحاظ کرتی ہو، کسی اور سے بھی تمھارا یہ حال ہے؟ میں نے کہا: "اماں جان! پھر وہ میری استاد بھی ہیں، استاد کا ادب سبھی کیا کرتے ہیں۔" کہا: "بیٹا! مغلانی بھی تو تمھاری استاد ہیں؟ ماماں نے بھی تو تمھیں کھانا پکانا سکھایا ہے؟ ان کا اتنا ادب کیوں نہیں کرتیں؟ بنو! استانی جی کی عزت ساری علم سے ہے۔ بھلا تم تو ان کی شاگرد ہو، ہم جو ان کی اتنی تعظیم کرتے ہیں کیوں کرتے ہیں؟ آخر ہماری تو نوکر ہی ہیں۔ مگر یہ چار حرف وہ چیز ہیں کہ آدمی جس کا نوکر ہو اسی سے تعظیم لے۔ اس کے سوا اگر سچ پوچھو تو ہم لوگ پڑھے لکھوں کے سامنے بالکل اندھے ہیں۔ اپنے نفع کو ہم نہیں پہچانتے، اپنے نقصان کو ہم نہیں سمجھتے۔ بات کرنے کا ہمیں سلیقہ نہیں، بات سمجھنے کا ہمیں وقوف نہیں۔

یہ جو بعضے گھروں میں میاں بیوی کی نہیں بنتی، اور عورتیں آپس میں بیٹھ کر مردوں ہی کو برا ٹھہراتی ہیں، اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں اس کا جواب دوں؟ ہے ہے! کیا برا زمانہ ہے؟ انصاف تو کہیں نام کو نہیں۔ اری احمقو! تم سے مردوں کا دل کیا خاک ملے؟ اول تو خدا تعالیٰ نے مردوں کی ذات ہی میں عقل و شعور تم سے زیادہ رکھا ہے، دوسرے پڑھنا لکھنا ان کا کام ہے۔ جو گئے سے گیا [1] ہو گا وہ بھی کچھ نہ کچھ ہنر رکھتا ہو گا؛ اور کچھ نہیں تو پڑھے لکھوں سے سن ہی سن کر اس نے ہزاروں باتیں یاد کر لی ہوں گی۔ آخر مرد ذات ہے، سبھی سے ملتا ہے، سبھی کے ہاں آتا جاتا ہے، سب ہی کے پاس اٹھتا بیٹھتا ہے۔ مولوی کی صحبت میں بیٹھے گا، چار مسئلے دین کے سیکھے گا، دس باتوں کی برائی بھلائی سے واقف ہو گا۔ طبیب سے ملے گا، چار باتیں طبابت کی سیکھے گا۔ کچہری میں جائے گا، نئے نئے حکم نئے نئے قانون سنے گا۔ بڑے بوڑھوں میں بیٹھے گا، زمانہ کی اونچ نیچ سے خبردار ہو گا۔ آخر یوں ہی ہوتے ہوتے آدمی ہو جائے گا۔

تم بتاؤ تم نے آدمیت کہاں سے سیکھی؟ اور کیونکر سیکھی؟ گھر کی عقل تم میں جمی جم ہے، کجی تمھاری طبیعت میں داخل ہے، علم سے تمھیں کچھ بحث ہی نہیں۔ تمھارے نزدیک جس طرح باہر پھرنا، پردیس جانا، کمائی کرنی، یہ سب کام مردوں کے ذمہ ہیں، اسی طرح پڑھنا لکھنا بھی انھیں کا کام ہے۔

اب رہی صحبت، سو خدا کے فضل سے یہاں آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ میکے میں نانی، دادی، ماں، بہن، بھاوج، چچی، خالہ، پھپھی، اور سسرال میں ساس، نند، دیورانی، جٹھانی، خلیا ساس، چچیا ساس، پھپھیا ساس، غرض سارے کنبے میں چھوٹی سے لے کر بڑی تک اور جوان سے لے کے بوڑھی تک کوئی اتنی نہیں جس کے پاس بیٹھ کر تم کچھ آدمیت سیکھو۔

جسے دیکھو اسے اس کے سوا کچھ نہیں آتا کہ چار سر جوڑ کر بیٹھ گئیں اور زمانہ کی برائی کرنی شروع کی۔ کوئی ساس نند کا جھینکنا جھینکتی ہے، کوئی دیورانی جٹھانی کا دکھڑا روتی ہے، کوئی بہو پر زہر اگلتی ہے، کوئی خاوند کا صبر سمیٹتی ہے، کوئی کسی کی شادی کو نام دھرتی ہے، کوئی کسی کے جہیز پر ہنستی ہے، کوئی کسی کی ذات میں عیب نکالتی ہے؛ اور جو اس میں کسی نے کسی کی بات کاٹ دی تو آپس ہی میں جنگ ہونے لگی۔

اس کے سوا مزاجوں کا وہ حال ہے کہ جو ذرا تیز مزاج ہیں وہ تو چلتی ہوا سے لڑتی ہیں۔ بات اس طرح کرتی ہیں جیسے کسی نے پتھر دے مارا۔ میاں سے بات بات میں اینچ [2] نکالنی، بچوں کو خواہی نخواہی کوسنا، نوکروں سے حق ناحق الجھنا۔ اور جن کے مزاج میں ذرا دھیما پن ہے ان کی یہ صورت ہے کہ ان سے ہل کر پانی نہیں پیا جاتا۔ ماماں نے جیسا پکا دیا ویسا کھا لیا، مغلانی نے جیسا سی دیا ویسا پہن لیا۔ کھانے میں نمک زیادہ پڑ گیا تو بلا سے، کپڑے میں جھول رہ گیا تو جوتی کی نوک سے۔ پانی کی ٹھلیاں کھلی پڑی ہیں تو کچھ خبر نہیں، برتن بے قلعی ہو گئے ہیں تو کچھ پروا نہیں۔ ایسوں کے پاس بیٹھ کر آدمی تو کیا بنو گی، اور کہیں رہی سہی آدمیت بھی نہ کھو بیٹھو؟ ہاں ایک نیا مذہب سارے جہان سے نرالا، ساری خدائی سے انوکھا، نہ جس کا قرآن میں پتا نہ جس کا حدیث میں ذکر، وہ البتہ سیکھ جاؤ گی۔"

میں نے کہا: "اماں جان! کیا عورتوں کا مذہب دور پار سب سے جدا ہے؟" کہا: "بیٹا! کیا تم نے ان کے مسئلے نہیں سنے؟ سچ ہے، تم کہاں سے سنتیں؟ اگر تمھاری ماں بھی اول دن سے تم کو یہی باتیں سکھاتی، اور نماز روزہ کی جگہ انھیں باتوں کی تاکید رکھتی، تو تم کو معلوم ہوتا کہ عورتوں کے دلوں میں کیا کیا خبط سمائے ہوئے ہیں؟" میں نے کہا: "اچھی اماں جان! وہ کیا مسئلے ہیں، ذرا مجھے بھی تو سنا دو؟" کہا: "بیٹا! ایک بات ہو تو کہوں، انھوں نے تو ہزاروں خرافات جوڑ رکھے ہیں۔

قینچی نہ بجاؤ، دستپنا [3] نہ بجاؤ، چاقو سے ناخن نہ لو، ہتھیلیا پر ہاتھ دھر کے پانی نہ پیو؛ یہ سب باتیں نحوست کی نشانی ہیں۔ ننگے سر پانی پیو تو سر پر ہاتھ رکھ لو۔ چوکھٹ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے نہ ہو، اور بھولے سے رکھ دیا تو دونوں ہاتھوں کو چوم لو۔ دو آدمیوں کے بیچ میں سے آگ نہ نکالو، نہیں تو ان میں لڑائی ہو جائے گی۔ چھلنی سر پر نہ رکھو، نہیں تو گنج ہو جائے گا۔ ترازو سے کھڑے ہو کر نہ تولو، نہیں تو برکت جاتی رہے گی۔ کھانا کھا کر انگڑائی نہ لو، نہیں تو کھایا پیا سب کتے کے پیٹ میں چلا جائے گا۔ جھاڑو کو بدن سے نہ لگنے دو، نہیں تو بدن سینک سا ہو جائے گا۔ ڈوئی کو بدن سے نہ لگنے دو، نہیں تو کھانے کا ہوکا ہو جائے گا۔ ٹھکرایا ہوا یا لانگھا ہوا پانی نہ پیو۔ جس پلنگ پر بچہ سوتا ہو اسے پٹیاں پکڑ کر نہ اٹھاؤ، اور جو اٹھا لیا تو دونوں طرف سے ہاتھ ملا کر چوم لو۔ جس پانی کو تین ہاتھ لگ جائیں اسے پھینک دو یا چوتھا ہاتھ لگا لو۔ کہیں بیٹھ کر پاؤں نہ ہلاؤ، رزق ہلتا ہے۔ چراغ کو پھونک مار کر نہ بجھاؤ، منہ میں سے بدبو آنے لگے گی۔ بچوں کو دودھ، دہی، چاول کھلاؤ تو راکھ چٹا دو، نہیں تو نظر ہو جائے گی۔ بدن میں کپڑا سینے سے نیستی آتی ہے۔ گھر میں سیہہ کا کانٹا رکھنے سے لڑائی ہوتی ہے۔ جس پر مرت بیائی [4] کا آنچل پڑ جائے اس کا بچہ بیمار ہو جائے گا، نہیں تو آنچل کا کونا کتر کر جلا دو۔ کسی کے ہاں مہمان جاؤ تو تیسرے دن نہ آؤ۔ بدھ کے دن کسی کے ہاں نہ جاؤ۔ دولہن کا جوڑا سیو تو سات سہاگنوں کا ہاتھ لگا لو۔

صبح کو کوا بولے تو جانو کوئی عزیز پردیس سے آنے والا ہے؛ اس کے سامنے سب پردیسیوں کے نام لینے شروع کرو، جس کے نام پر وہ اڑ جائے وہی آئے گا۔ صبح اٹھتے ہی حکیم کا نام لو تو چیرے والا، اور دھوبن کا نام لو تو اجلی کہو۔ چاند کو اوپر والا، سانپ کو رسی، ہیضہ کو تھتکارا، مسان [5] کو نناواں کہو۔ رات کو کتے بھونکیں تو جانو انھیں شیطان دکھائی دیتا ہے۔ توا چولھے سے اتر کر ہنسے تو جانو کچھ خوشی ہونے والی ہے۔ اٹھتے ہوئے کوئی چھینک دے تو بیٹھ جاؤ۔ الٹی چارپائی کھڑی نہ کرو، نحوست کی نشانی ہے۔ کپڑا بیونتو [6] تو زمین کو چھوا لو۔ پانی میں منہ نہ دیکھو۔ دوا پیو تو کٹورا الٹ دو۔ پاؤں پر پاؤں نہ دھرو، نحوست آتی ہے۔ جوتی پر جوتی چڑھ جائے تو جانو کہیں سفر کرنا ہے۔ کھانا کسی کے اوپر سے نہ دو، نہیں تو صدقہ ہو جائے گا۔ کسی پر سے لانگ کر نہ جاؤ، نہیں تو سر دکھے گا۔ ناک کھجلائے تو باہر سے آئے ہوئے مرد کی جوتی لے کر سات بار چھوا لو، نہیں تو بیمار ہو جاؤ گے۔ ٹہلیا نہ بجاؤ، نحوست آتی ہے۔ جس نے دوسرا نکاح کیا ہو اسے بیوی کی صحنک پر نہ بٹھاؤ۔

تیسری، تیرھویں، تیئیسویں اور آٹھویں، اٹھارویں، اٹھائیسویں، یہ سب تاریخیں نحس ہیں۔ ان میں کوئی نیا کام نہ کرو۔ بدھ کے دن سفر کو نہ جاؤ۔ جمعرات کو مسہل نہ لو، حکیم کے ہاں نہ جاؤ، فصد نہ کھلواؤ۔ رات کو ادوائن نہ کھینچو۔ چھپکلی کپڑوں پر گر پڑے تو سونے کا پانی بدن پر ڈالو۔ ہچکیاں آئیں تو جانو کوئی یاد کرتا ہے۔ مکھی منہ میں چلی جائے تو جانو کچھ مٹھاس کھائیں گے۔ بچہ کی آنکھیں دکھیں تو چھوت جھاڑو۔ بچہ کے چیچک نکلے تو گوشت نہ بگھارو، اجلے کپڑے پہن کر نہ آؤ، نہا کر نہ آؤ۔ پلنگ پر جھاڑو نہ دو، نحوست آتی ہے۔ کوری ٹھلیا بھری جائے تو پہلے کسی مرد کو پانی پلا لو۔ کسی کی ناک کو اپنا ہاتھ لگ جائے تو اس کا ہاتھ اپنی ناک کو لگا لو، نہیں تو وہ بیمار ہو جائے گا۔

غرض اسی طرح کی سیکڑوں باتیں ہیں، کہاں تک بیان کروں۔ اور بیٹا! ہمارے شہر میں تو جب سے عورتیں کچھ کچھ پڑھنے لکھنے لگی ہیں بہت باتیں چھوٹ بھی گئی ہیں، پر قصبات کی عورتیں اب تک ان باتوں کو مانے جاتی ہیں۔ ایک بھلے مانس کہیں باہر کے رہنے والے ہمارے پڑوس میں آ کر رہے تھے، ان کی عورتوں سے ہمارا بھی ملنا جلنا تھا۔ انھیں جو دیکھا تو اسی طرح کی سیکڑوں باتیں ان کی زبان پر تھیں۔

اس کے سوا تیج تہوار، موت شادی میں جو رسمیں ہوتی ہیں ان کا تو کچھ ٹھکانا ہی نہیں۔ انھیں نہ کچھ دین کا فائدہ ہے نہ دنیا کا، اور لاکھوں روپیہ یونہیں برباد ہوتا ہے۔ مرد کماتے کماتے تھک جاتے ہیں، پر عورتیں اٹھاتی اٹھاتی نہیں تھکتیں۔ تمھارے ابا کہتے تھے کہ انگریزوں نے یہاں کی رسمیں ایک کتاب میں لکھ کر اپنی ولایت کو بھیجی ہیں۔ جب سے میں نے یہ بات سنی ہے مجھے رہ رہ [7] کے خیال آتا ہے: ہے ہے! جس ملک کا بچہ بچہ پڑھا لکھا، اور کیا مرد اور کیا عورت سب عقل کے پتلے ہیں، جب وہ لوگ اس کتاب کو دیکھتے ہوں گے تو ہماری بیوقوفیوں پر کیسے ہنستے ہوں گے؟ اور ابھی کیا ہے، دیکھیے ہماری جہالت ہم کو اور کیا کیا دکھاتی ہے؟ ہماری بہنیں اسی بات پر چاہتی ہیں کہ خاوند ہمارے تابعدار رہیں اور ہمارے پاؤں دھو دھو کر پئیں؟ ذرا اپنے گریبان میں تو منہ ڈال کر دیکھیں کہ ہم کون ہیں اور کن کو اپنا تابعدار کیا چاہتی ہیں؟ اگر تمھارا دل بیل اور گائے بکری سے مل جائے تو تمھارے خاوندوں کا دل بھی تم سے ملے۔ تم میں اور انھیں اتنا ہی فرق ہے جتنا آدمی اور جانور میں۔ ہاں جو تم بھی پڑھ لکھ کر آدمی بنو تو تم سے زیادہ کوئی ان کا دوست اور غمخوار نہیں۔

سنو! آدمی کا دل آدمی سے جبھی ملتا ہے جب دونوں کی طبیعت ایک سی ہوتی ہے۔ بچوں کے ساتھ کیسا ہی پیار اخلاص کرو، مگر وہ بڑوں کی صحبت سے سو سو کوس بھاگتے ہیں؛ لیکن کوئی بڑا آدمی ان میں مل کر انھیں کے سے کھیل کھیلنے لگے تو ان کا پرچانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ اسی طرح بڑے بوڑھے جوانوں کی صحبت سے گھبراتے ہیں، لیکن اگر کوئی جوان آدمی بھاری بھرکم بن کر بوڑھوں کی سی باتیں کرنے لگے تو وہ اس سے گھل مل کر باتیں کریں گے۔ اور عورت مرد کا دل تو خدا کی قدرت سے ملا ہوا ہے؛ جس طرح مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، اسی طرح مرد کا دل عورت کی طرف خود بخود کھنچتا ہے۔ اب اگر عورت میں ایک اتنی بات اور ہو کہ جو کام کرے اس کے مزاج کے موافق کرے، اور جو بات کہے اس کے جی لگتی کہے، تو پھر مرد کو اور کیا چاہیے؟ یقین تو یہ ہے کہ پھر گھڑی بھر کے لیے اس کی جدائی گوارا نہ کرے۔

مرد کو ایسا سمجھو جیسے پیاسا، اور عورت کو ایسا سمجھو جیسے چشمہ۔ اگر چشمہ کے گرد درختوں کا سایہ بھی ہے، اور چاروں طرف سبزہ بھی لہلہا رہا ہے، اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی ہے، تو پانی پی کر پیاسے کا جی بے اختیار یہ چاہے گا کہ دو چار گھڑی یہاں بیٹھ کر سبزہ کی بھی سیر دیکھیے۔ اور جو نرا چشمہ ہی چشمہ ہے اور کچھ ایسی فضا کی جگہ نہیں ہے، تو پانی پی کر اپنا رستہ لے گا۔ اسی طرح اگر گھر کی بیوی مزاج کے موافق ہے تو خاوند اس کے پاس بھی بیٹھے گا، اس سے بات چیت بھی کرے گا، اس سے صلاح بھی لے گا۔ اس کا جی بہلے گا تو اس سے بہلے گا، اس کا دل لگے گا تو اس کی صحبت میں لگے گا۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا، ہنسنا، بولنا، کوئی چیز اس کے بغیر بھلی نہیں لگنے کی۔

لیکن مردوں کا مزاج پہچاننا اور ہر ایک بات ان کے مزاج کے موافق کرنی اور ان کے دل میں گھر کرنا عورت کو بغیر علم کے نہیں آ سکتا، کیونکہ گھر کی چار دیواری میں ایسی چیز جو اس کو آدمیت سکھائے علم کے سوا کوئی نہیں۔ بلکہ جو عورتیں باہر پھرتی ہیں وہ بھی بغیر علم کے کچھ سلیقہ حاصل نہیں کر سکتیں۔ ہندوستان میں بیسیوں قومیں ایسی ہیں جن کے ہاں پردہ کا دستور نہیں، پر میاں بیوی میں ان کے ہاں بھی ان بن رہتی ہے۔ ہاں انگریزوں میں بیشک یہ بات سننے میں آئی ہے کہ جیسی ان کے ہاں میاں بیوی میں محبت ہوتی ہے ایسی کہیں نہیں ہوتی۔ بس اس کا سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عورتیں پڑھی لکھی قابل ہوتی ہیں، ہر طرح خاوندوں کا دل ہاتھ میں رکھتی ہیں، کوئی بات ان کی مرضی کے خلاف نہیں کرتیں؛ خاوند بھی ان کا دم بھرنے لگتے ہیں۔

بیٹا! علم بڑی شے ہے۔ اگلے زمانہ میں جو پڑھی لکھی عورتیں گزری ہیں انھوں نے مردوں سے بھی بڑھ کر کام کیے ہیں۔ شاہجہاں بادشاہ نے اپنی بیٹی روشن آرا بیگم کو خوب پڑھایا لکھایا تھا۔ جب عالمگیر نے باپ کو قید کیا تو روشن آرا نے باپ کا ساتھ نہ چھوڑا، اور آپ بھی شاہجہاں کے ساتھ قید خانہ میں چلی گئی، اور ہمیشہ لونڈیوں کی طرح باپ کی خدمت کرتی رہی۔ دیکھو عالمگیر سا بیٹا، پڑھا لکھا، مولوی، نمازی، پرہیزگار، اس نے تو باپ کے ساتھ وہ سلوک کیا، اور بیٹی نے یہ حق ادا کیا کہ آج تک لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ ساری علم کی خوبیاں ہیں۔

اور خیر یہ تو اگلے زمانہ کی بات ہے، شاید کوئی نہ بھی مانے؛ میں تمھیں اس سے بھی پاس کی بات بتاؤں۔ تمھارے باپ سے ایک انگریز سے ملاقات تھی، اس کی میم سے ہمارا بھی ملنا جلنا تھا۔ وہ ایک دن کہتی تھی کہ ہماری بادشاہزادی ملکہ وکٹوریا نے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں اول سے آخر تک اپنے میاں کا اور اپنا اور اپنی اولاد کا حال لکھا ہے۔ اس میں بیسیوں باتیں ایسی ہیں جن کے دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اکبر! خدا تعالیٰ نے دنیا میں ایسی ایسی عورتیں بھی پیدا کی ہیں۔

خیر بادشاہزادیوں کی ریس کرنی تو مشکل ہے، پر آدمی اتنا تو ہو کہ اپنے نفع کو نفع جانے، اپنے نقصان کو نقصان سمجھے۔ یہ نہیں کہ بڑے بوڑھوں سے جو کچھ سن لیا اسی پر جمے ہوئے ہیں، خواہ اس میں نفع ہو خواہ نقصان ہو۔ بچہ چیچک میں مرے یا جیے، پر کیا ذکر ہے جو اس کا علاج ہو۔ بہت کیا، سونے کا پانی پلا دیا، یا بیٹھ کر نیم کی ٹہنی جھلنے لگیں۔ ہاں یہ روک ٹوک ضرور ہو گی کہ گھر میں گوشت نہ پکنے پائے، کسی کھانے کو بگھار نہ دیا جائے، جو نہا کر یا اجلے کپڑے پہن کر آئے اس کا پرچھاواں بچہ پر نہ پڑے۔

سرکار نے جو ٹیکا نکالا ہے اس کا یہ حال ہے کہ اگر سو بچوں کے لگایا جائے تو خدا کی ذات سے امید تو یہ ہے کہ سو میں نوے کے تو بالکل نہ نکلے، اور دس جو باقی رہے ان کو بھی خدا کے فضل سے کچھ ایسی جوکھوں نہیں؛ اگر نکلی بھی تو کم نکلے گی۔ تمھارے ابا ایک دن کہتے تھے کہ میں نے آج تک کسی انگریز کے منہ پر چیچک کا داغ نہیں دیکھا۔ مگر یہاں یہ صورت ہے کہ ٹیکے کے نام سے ہول آتا ہے۔ سرکاری ڈاکٹر چیچک کے دنوں میں گلی گلی پھرتے ہیں کہ کوئی اپنے بچہ کے ٹیکا لگوائے، مگر یہ ایسی ڈرتی ہیں جیسے کوئی موت سے ڈرتا ہے۔ جہاں ڈاکٹر کا نام سنا اور دروازوں کی کنڈیاں دے لیں۔

آگے چل کر گلرالی، بد، اورنگ زیبی، کنٹھ مالا، کنپیڑے، اور اور طرح طرح کے پھوڑے پھنسی جو بچوں کے نکلتے ہیں، ان میں مہینوں بچوں کو گلاتی ہیں، اور ہندوستانی جراحوں کے ڈھکوسلوں پر رکھتی ہیں، یا ملا سیانوں سے جھڑواتی ہیں؛ پر ڈاکٹری علاج، جس سے ایسے ایسے برسوں کے روگ ایک آن کی آن میں جاتے رہتے ہیں، اس کی ہوا تک نہیں لگنے دیتیں۔

پھر جب بچہ کو تپ بخار کا عارضہ ہو گا حکیم کو کبھی نہ دکھائیں گی؛ نظر گزر کے بھلاوے میں کچھ اور ہی اور علاج کریں گی۔ کہیں نون رائی یا کالے دانے کی دھونی دیں گی، کہیں بچہ پر سے صدقہ اتار کر چوراہہ میں رکھوائیں گی۔ پھر جب بچہ کی آنکھیں دکھیں گی کبھی حکیم یا کحال کا علاج نہ کریں گی۔ علاج میں علاج کریں گی تو یہ کریں گی کہ ایک رسی پر چیتھڑا لپیٹ کر ایسی جگہ ڈلوائیں گی جہاں آئے گئے اس پر سے لانگ کر جائیں، پھر اس کو تیل میں ڈبو کر روشن کریں گی، اور باسن میں پانی بھر کر بچہ پر سے چھوت جھاڑیں گی، اور ہر بار بچہ سے یہ پوچھتی جائیں گی کہ "چھوت جھڑی؟" وہ کہے گا "ہاں، چھوت جھڑی۔" تیسری بار اس بتی کو پانی میں ڈال دیں گی۔

آگے چل کر جس عورت کی اولاد نہیں جیتی اس کے کچھ اور ہی اور علاج ہیں۔ کہیں گزشت ہے، کہیں نہان ہے۔ کہیں یہ روک ٹوک ہے کہ کڑاہی کا پکا نہ کھائے، انڈا نہ کھائے، مچھلی نہ کھائے، گڑ یا دودھ دہی نہ کھائے، میت میں نہ جائے، چھٹی میں نہ جائے۔ اس کے سوا اور بیسیوں خرافات ہیں۔ یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ خدا کو زندگی دینی ہو گی تو ہر طرح جیے گا، اور جو اسی کو منظور نہیں تو ان واہی تباہی باتوں سے کیا ہوتا ہے۔

پھر جس کے سرے ہی سے اولاد نہیں ہوتی اس کے لیے کہیں پریوں کی چوکیاں بھرتی ہیں، کہیں بیٹھکیں دیتی ہیں۔ جن کے سر پر پریاں آتی ہیں ان کے آگے تمام تمام رات ڈومنیاں گاتی ہیں، اور وہ خود سر ہلاتی جاتی ہیں، اور جو جی میں آتا ہے سو مانگتی ہیں۔ پریوں کا یہاں تک ادب ہے کہ ان کا نام نہیں لیتیں، جب کہتی ہیں "اوپر والیاں" کہتی ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے، پریاں کون بلا ہیں جو اولاد دیں گی؟ اولاد کا دینا نہ دینا مالک کے اختیار ہے، جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے۔ اس کے سوا اڑے بھڑے وقت میں خدا کو چھوڑ کر کوئی اللہ بخش کو مانتی ہے، کوئی شیخ سدو کا بکرا دیتی ہے، کوئی سید احمد کبیر کی گائے چڑھاتی ہے۔ کہیں بالے میاں پجتے ہیں، کہیں ننھے میاں مانے جاتے ہیں، کہیں دریا خاں کا عمل دخل ہے۔ غرض اسی طرح جسے دیکھو ایک نہ ایک بلا میں پھنسی ہوئی ہے۔

خیر یہ باتیں تو ایسی ہیں کہ اب اب کر کے شہر سے بہت جاتی رہی ہیں، اور جو ہیں تو جاہل اور ان پڑھ لوگوں میں ہیں جن کے ہاں کے مرد عورت علم سے بالکل کورے ہیں۔ اور یہ عیب بھی ایسے ہیں کہ آدمی کچھ بھی سمجھ رکھتا ہو تو سمجھائے سے سمجھ سکتا ہے۔

پر بیٹا! ان کے سوا اور بہت سی گپتی بیماریاں ایسی ہیں جنھیں آدمی کچھ چیز نہیں سمجھتا اور وہ اس کا کام تمام کیے جاتی ہیں۔ ان بیماریوں کا سمجھنا اور ان کا علاج کرنا اسی شخص کا کام ہے جس کی آنکھ پر علم کی خوردبین لگی ہوئی ہے۔ اس وقت جتنی یہاں بیٹھی ہیں، خواہ اس میں میں ہوں، خواہ تم ہو، خواہ اور کوئی ہو، وہ آزار سب کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ پر یہ کسی کو گوارا نہیں کہ ہماری بیماریاں کسی پر ظاہر ہو جائیں۔ اس وقت اگر کسی کے سامنے کہہ دو کہ تمھیں یہ بیماری ہے تو وہ فوراً برا مان جائے۔ اسی لیے تو وہ بیماریاں مشکل سے جاتی ہیں۔ جیسے لکڑی کو گھن لگ جاتا ہے، اسی طرح اندر ہی اندر وہ آدمی کا کام تمام کر دیتی ہیں۔ یہ جو ظاہر کی بیماریاں ہیں ان میں تو جان کا ڈر ہے، اور ان میں ایمان کا خوف ہے۔"

میں نے کہا: "اچھی اماں جان! وہ کیا بیماریاں ہیں؟" کہا: "بیٹا! وہ یہ بیماریاں ہیں کہ انسان اپنے تئیں سب سے اچھا جانے اور اپنے سامنے کسی کو کچھ نہ سمجھے؛ کسی کو اچھے حال میں دیکھے تو جل جائے؛ دل میں کپٹ [8] رکھے اور ظاہر میں دوست بنا رہے؛ لوگوں کو پیٹھ پیچھے برا کہے اور سامنے خوشامد کرے؛ جس سے ملے اپنی غرض کے لیے ملے؛ اپنے فائدے کے لیے دوسرے کے نقصان کا روادار ہو؛ نیک کام لوگوں کے دکھانے کو کرے؛ کسی پر ذرا سا احسان کرے تو ایک ایک سے کہتا پھرے؛ اوروں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عیب نکالے اور اپنے عیبوں سے آنکھیں بند کر لے؛ کسی میں ایک عیب دیکھے تو اس کی ساری خوبیوں پر پانی پھیر دے۔ اسی طرح لالچ، ہوکا [9]، لترا پن [10]، جھوٹ، مکر، دغا، یہ سب بیماریاں ہیں۔ خدا دشمن سے دشمن کو یہ آزار نہ لگائے۔ چوری، جوا، بدکاری، یہ عیب بلا سے ایسے تو ہیں کہ ان کا کرنے والا ان کو عیب تو جانتا ہے؛ اور یہ عیب جو میں نے بتائے ان کا تو حال ہی نہیں کھلتا۔ غرور کرنے والا کبھی اپنے آپ کو مغرور نہیں جانتا۔ غیبت کرنے والا کبھی کسی کی برائی کرنے سے شرمندہ نہیں ہوتا۔ فریبی ہمیشہ فریب دینے کو ہنر جانتا ہے۔"

میں نے کہا: "اماں جان! پھر یہ عیب آدمی سے کیونکر چھوٹیں؟" کہا: "بیٹیا! ان کا علاج اسی سے ہو سکتا ہے جو علم رکھتا ہے اور ہر وقت اخلاق کی کتابیں دیکھتا رہتا ہے، اور ہر ایک عیب کو اس طرح جانتا ہے جیسے طبیب ہر ایک بیماری کی جڑ کو پہچانتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ ہماری بادشاہزادی ملکہ وکٹوریا ایسی رحمدل اور خلق والی ہیں کہ ایسا ہونا مشکل ہے۔ غرور اور گھمنڈ کبھی ان کے پاس ہو کر نہیں گزرا۔ سنا ہے کہ ایک دن کہیں گاڑی میں بیٹھی ہوئی سڑک پر چلی جاتی تھیں اور آبادی وہاں سے بہت دور تھی۔ ایک بوڑھا آدمی گھاس کا گٹھا سر پر رکھے چلا جاتا تھا۔ ملکہ نے اس کا گٹھا گاڑی میں رکھوا لیا اور اس کو گاڑی کے پیچھے بٹھا لیا۔ جب وہ جگہ آ گئی جہاں اس کو پہنچنا تھا تو ملکہ نے فرمایا: 'جاؤ، تمھاری جگہ آ گئی۔' وہ اتر کر آداب بجا لایا اور عرض کیا کہ 'آج میری ماں جیتی ہوتی تو وہ بھی میرے ساتھ اس سے زیادہ نہ کرتی جو حضور نے کیا۔'

اسی طرح ایک دن رستہ میں کچھ ہجوم سا تھا۔ ملکہ کی گاڑی جو ادھر کو آئی، نوکر چاکر لوگوں کو ہٹانے لگے۔ ملکہ نے دیکھا کہ انبوہ بہت ہے، فوراً گاڑی سے اتر لیں، اور جب تک اس ہجوم سے نہ نکل لیں سوار نہ ہوئیں۔

اسی طرح ایک دن ایک شہزادہ کھیلتا کھیلتا دریا کی طرف جا نکلا۔ وہاں کسی غریب کا لڑکا مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔ شہزادہ نے اس سے مچھلیاں مانگیں۔ اس نے ایک مچھلی تو دے دی، پھر جو مانگی نہ دی۔ شہزادہ نے کچھ سختی کی۔ وہ ان سے عمر میں بڑا تھا، اس نے انھیں خوب مارا۔ کسی طرح یہ خبر ملکہ کے حضور میں بھی پہنچ گئی۔ ملکہ نے اس لڑکے کو بلا کر بہت آفریں کی اور کہا: 'شاباش! تم بڑے غیرت دار اور بہادر ہو کہ بادشاہ کی اولاد سے بھی نہ ڈرے۔' پھر اس کو شہزادوں کے ساتھ تعلیم و تربیت کرایا اور تجارت کے لیے روپیہ دیا۔ اسی ملک میں ایک جزیرہ ہے، وہاں اس کے برابر کوئی سوداگر نہیں۔

دیکھو، علم والوں کا ایسا خلق ہوتا ہے۔ آج ایک ادنیٰ ماما کا ایک روپیہ سے دو روپیہ مہینہ ہو جاتا ہے تو سیدھے مونہہ سے بات نہیں کرتی، اور جو دو ولایتوں کی وارث ہے اس کا یہ حال ہے۔ یہ سارا علم کا ظہور ہے۔"

غرض اماں جان یہی باتیں کر رہی تھیں کہ اس میں مغلانی جی بھی چلی آئیں۔ اس روز دن کو یہ ہوا تھا کہ ہمارے کنبے کی دو ایک لڑکیاں آ گئی تھیں۔ میں جو ان سے باتوں میں لگی، مغلانی پاس جانا بھول گئی۔ جب یاد آیا تو اس وقت دس بج چکے تھے، وہ میرے لکھنے کا وقت تھا، اس لیے نہ گئی۔ اب جو میں نے مغلانی کی صورت دیکھی، دل میں سمجھی کہ یہ ضرور اس وقت تیری فریاد کریں گی۔ اماں جان کے ڈر سے کچھ بہانا کر کے ٹل گئی۔ میرے پیچھے مغلانی نے خوب کان بھرے [11]۔ اماں جان اس وقت تو سن کر چپکی ہو رہیں۔

دوسرے دن جب وہی وقت آیا تو مجھے خوب آڑے ہاتھوں لیا [12]۔ پہلے تو خفا ہوئیں، پھر رسان میں سمجھانے لگیں: "بیٹیا! علم بادشاہ ہے اور ہنر اس کا وزیر ہے۔ جیسے بادشاہ بغیر وزیر کے نکما ہوتا ہے، اسی طرح علم بغیر ہنر کے دنیا میں کچھ کام نہیں آتا۔ عورتوں کو جو علم پڑھاتے ہیں اس لیے پڑھاتے ہیں کہ بری عادتیں چھوڑ دیں، اچھی عادتیں اختیار کریں، خدا رسول کو پہچانیں، گھر کا بندوبست اچھی طرح کریں، اولاد کی تربیت کرنی سیکھیں، خاوند کا دل ہاتھ میں رکھیں۔ عورتوں کا علم اڑے وقت [13] میں کبھی کام نہیں آتا؛ وہاں آتا ہے تو اپنے ہاتھ کا ہنر ہی کام آتا ہے۔ کیا تم اس بات پر بھولی [14] ہو کہ باپ کے گھر میں خدا کا دیا سب کچھ موجود ہے؟ واری! ایسا خیال ہرگز نہ کرنا۔ بس خدا بری گھڑی ہی نہ لائے، نہیں تو ایک دم میں کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ ہماری تو کیا بساط ہے؟ جب برا وقت آتا ہے تو ملک کے وارث [15] ایک ایک روٹی کو محتاج ہو جاتے ہیں۔ خیر نادر گردی [16] اور شاہ گردی کو تو ایک زمانہ [17] گزرا، اسے جانے دو۔ یہ تو کل کی بات ہے کہ جب غلام قادر نے شاہ عالم کی آنکھیں نکالیں تو قلعہ اور شہر پر کیسی کیسی مصیبتیں پڑیں۔ جن امیرزادیوں کے سامنے دس دس نوکریں کام کرنے کو ہر وقت موجود رہتی تھیں، وہ آپ برقع اوڑھے گلی گلی ماما گیری کی نوکریاں ڈھونڈھتی پھرتی تھیں اور کوئی نہ پوچھتا تھا؛ اور جو ٹکے کی مزدوری کر کے کھاتی تھیں ان کو خدا نے اس وقت بھی سب کچھ دے رکھا تھا۔

اور بنو! یہ بڑی بیوقوفی کی بات ہے کہ مردوں کی کمائی کے بھروسے پر آپ ہنر پیشہ کچھ نہ سیکھیں۔ انگریزوں سے زیادہ تو بیویوں کی خاطرداری جہان میں کوئی نہ کرتا ہو گا، اور ان کے مردوں کو آج خدا نے دے بھی سب کچھ رکھا ہے۔ لیکن سنا جاتا ہے کہ ان کے ہاں ہنر سے خالی کوئی عورت نہیں ہوتی؛ ایسے ایسے کام کرتی ہیں کہ کیا کوئی مرد کرے گا۔ اور تو اور [18]، ہماری شاہزادی ملکہ وکٹوریا کو جہان اور بیسیوں ہنر آتے ہیں، ایک تصویر ایسی کھینچتی ہیں کہ کوئی اور کھینچتا ہو گا تو اتنی ہی کھینچتا ہو گا۔ بھلا جب ملک کی مالک کا یہ حال ہو تو ہم کس گنتی میں ہیں؟

سنو! میں جو تم سے ہر بات پر اتنی مغز زنی کرتی ہوں، کچھ اپنے لیے نہیں کرتی، تمھارے ہی فائدے کے لیے کہتی ہوں۔ اب تو کیا، مگر بڑی ہو کر ان باتوں کی قدر جانو گی۔ اس وقت تو ہماری خفگی تم کو بےشک بری معلوم ہوتی ہو گی، لیکن اب کوئی دن جاتا ہے کہ اس خفگی کو یاد کرو گی۔ ہاں میں ہاں ملانے والے تو بیسیوں مل جائیں گے، پر خفا ہونے والا ہمارے بعد کوئی نہیں ملنے کا۔"

غرض بارہ بجے تک اسی طرح کی نصیحتیں کرتی رہیں۔ پھر سب اٹھ کر اپنے اپنے بچھونوں میں جا سوئے۔

حواشی

[1] گئے سے گیا: نکمے سے نکما۔

[2] اینچ: بدمزگی کی باتیں کرنا۔

[3] دستپنا: چمٹا۔

[4] مرت بیائی: جس عورت کے بچے مر جائیں۔

[5] مسان: پسلی کا درد جو بچوں کو ہوتا ہے۔

[6] بیونتو: قطع کرو۔

[7] رہ رہ: بار بار۔

[8] کپٹ: کینہ، بغض۔

[9] ہوکا: کھانے کا حریص ہونا۔

[10] لترا پن: چغلی کھانا، پیٹھ پیچھے برا کہنا۔

[11] کان بھرے: شکایت کی۔

[12] آڑے ہاتھوں لیا: دھمکایا، شرمندہ کیا۔

[13] اڑے وقت: مصیبت کے وقت۔

[14] بھولی: نازاں۔

[15] ملک کے وارث: بادشاہ۔

[16] نادر گردی: نادر شاہ کے وقت کا انقلاب۔

[17] ایک زمانہ: بہت عرصہ۔

[18] اور تو اور: غریب لوگ تو ایک طرف رہے۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.