Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 3 sur 11

The Second Majlis: Zubaida Khatun's Childhood

دوسری مجلس: آتوجی کا بیان

Altaf Husain Hali

Écriture
Taille

دوسری مجلس

آتوجی کا بیان

زبیدہ خاتون کا اکلوتا بیٹا سید عباس کہتا ہے کہ دلی میں جو عاقل خاں کا کوچہ مشہور ہے، وہاں کے رئیس زادوں میں دو بھائی تھے۔ ان میں چھوٹے بھائی جو میرے نانا تھے ان کا نام خواجہ فضیل تھا، اور بڑے بھائی کا نام خواجہ کمیل۔ خواجہ کمیل کو میں نے نہیں دیکھا، سنا ہے کہ وہ تیس پینتیس برس کی عمر میں دلی سے نوکری چھوڑ کر کہیں کو چلے گئے تھے۔ نانا جان کو ان کی جدائی کا بڑا داغ تھا۔ خدا تعالیٰ نے مال و دولت سب کچھ دے رکھا تھا۔ شہر میں کرایہ کی آمدنی جدا تھی، چار گاؤں جاگیر میں جدا تھے، دس آدمیوں پر حکومت بھی رکھتے تھے۔ شہر کے چھوٹے بڑے سب تعظیم کرتے تھے، یہ سب کچھ تھا، پر ایک بھائی کے نہ ہونے سے ان کی نظر میں سب ہیچ تھا۔ مگر خدا کی عنایت سے نانی جان نہایت ذی شعور اور صاحب علم تھیں۔ وہ طرح طرح سے میاں کا غم غلط کرتی رہتی تھیں۔ جب تک گھر میں رہتے بھائی کو بھولے رہتے۔ جب میری والدہ پیدا ہوئیں تو کچھ خیال ان میں بٹا۔ آرزو تو یہ تھی کہ خدا بیٹا دے، پر اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی ایسی دی کہ سو بیٹے ایک طرف اور یہ بیٹی ایک طرف۔ نانا صاحب اور نانی صاحب دونوں ان پر جان فدا کرتے تھے۔ مگر دانا اور نادان کی محبت میں بڑا فرق ہے۔ دانا کی محبت ابتدا میں بہت کم ظاہر ہوتی ہے، پر اس کا انجام نہایت اچھا ہوتا ہے؛ اور نادان کی محبت کا آغاز تو بہت اچھا، مگر انجام نہایت برا۔

بعضے آدمی بچوں کے لاڈ سے ایک دم فرصت نہیں پاتے۔ کبھی منہ چومنا، کبھی پیار کرنا، کبھی گلے لگانا، کبھی چھاتی پر لٹانا، جو اس نے کہا سو کھلا دیا، جو اس نے مانگا سو دے دیا۔ ایسی باتوں کا انجام اکثر یہ ہوتا ہے کہ بچہ کے دل میں ان کی دہشت نہیں رہتی، گستاخ ہو جاتا ہے، کہنا نہیں مانتا۔ یوں ہوش سنبھال کر وہ اپنی طبیعت کی نیکی سے آدمی بن جائے تو کچھ کہی نہیں جاتی، پر ماں باپ اس کی ابتدا بیشک بگاڑ چکے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ بچہ کو پیار کرنا ایسا ہے جیسے کھیتی کو پانی دینا۔ جس طرح پانی کی طغیانی کھیتی کو نقصان پہنچاتی ہے، اسی طرح حد سے زیادہ پیار بچہ کو خراب کر دیتا ہے۔

جو لوگ عقلمند ہیں اور ہر ایک بات کا انجام پہلے سے سوچ لیتے ہیں، جس وقت ان کے دل میں محبت کا جوش آتا ہے وہ آپے سے باہر نہیں ہو جاتے۔ بچہ کو اگر پیار کرتے ہیں تو اس قدر کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنا مربی سمجھتا رہے۔ کھلانے پہنانے میں اس کے نفع نقصان کا خیال رکھتے ہیں۔ جو چیز اس کی صحت میں خلل ڈالے اس کے پاس نہیں جانے دیتے۔ جس بات سے اس کی عادت بگڑے اس کی پرچھائیں نہیں پڑنے دیتے۔ جب تک بچہ پانچ سات برس کا نہیں ہوتا اپنے نفع نقصان کو بالکل نہیں سمجھتا۔ آگ، پانی، زہر، تریاق اس کے نزدیک سب ایک ہے۔ اور اچھی طرح اپنی برائی بھلائی تو جبھی سمجھے گا جب جوان ہو گا۔ اسی لیے جو لوگ حقیقت میں اپنی اولاد کے خیرخواہ ہیں وہ کبھی ان کا کہنا نہیں کرتے۔ کبھی تسلی اور دلاسا دے کر ٹال دیتے ہیں، کبھی دھمکا کر ڈرا دیتے ہیں، کبھی مار کر سمجھا دیتے ہیں۔ غرض میری مخدومہ کو خدا تعالیٰ نے جیسا ہونہار پیدا کیا تھا ویسے ہی ان کو ماں باپ ملے۔ انھوں نے اپنی ساری چاہت اور محبت ان کی طبیعت کی درستی میں صرف کی۔

یہاں ایک بات سننے کے قابل ہے۔ جب میری والدہ پیدا ہوئیں تو نانی صاحبہ کو انا کی تلاش ہوئی۔ ایک دن انھوں نے میاں سے بھی کہا کہ کہیں انا ملے تو نوکر رکھنی چاہیے۔ نانا جان نے کہا: "سنو صاحب! انا ملنی کچھ مشکل نہیں، اس وقت دس عورتیں آ سکتی ہیں، مگر جیسی میں چاہتا ہوں جب تک ویسی عورت نہ ملے گی میں ہرگز نوکر نہیں رکھنے کا۔ میں نے کتابوں میں بھی لکھا دیکھا ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ دودھ پلانے والی کی خصلتیں بچہ میں ضرور اثر کرتی ہیں۔ تمھارے کہنے پر کچھ موقوف نہیں، مجھے انا کی خود تلاش ہے۔ کچھ نہیں تو انا میں یہ دو باتیں ہونی بہت ضرور ہیں: اول تو قوم سے شریف ہو، دوسرے خوش مزاج اور غیرت دار ہو۔ تم بھی تلاش میں رہو۔ یہ جو باہر کی پھرنے والیاں آتی ہیں ان سے کہہ دو کہ ایسی عورت ملے تو نوکر رکھوا دیں، دس روپیہ مہینہ دینے کو میں موجود ہوں۔"

غرض کہاں تک بیان کروں، چھ مہینے تک نانی صاحبہ خود دودھ پلاتی رہیں۔ اس عرصہ میں عورتیں بہت سی آئیں، مگر جیسی وہ چاہتے تھے ویسی ملنی ذرا مشکل تھی۔ آخر چھ مہینے کے بعد انا حسینی خانم کو نوکر رکھا۔ ان کی زیادہ تعریف کرنی تو فضول ہے، مگر اتنا جانتا ہوں کہ یہ میری والدہ کی خوش نصیبی تھی کہ حسینی خانم سی شخص ان کے دودھ پلانے پر نوکر ہوئیں۔ نانی صاحبہ ان کی کمال خاطرداری کرتی تھیں۔ جو آپ کھاتیں وہی ان کو کھلاتیں، جو آپ پہنتیں وہی ان کے لیے بنواتیں۔ جو کپڑا میری والدہ کے لیے بنتا اس کے ساتھ کا ان کے کوکا کے لیے پہلے بنتا۔ آخر وہ بھی انھیں کی ہو رہیں، ساری عمر اسی گھر میں کاٹ دی۔

ایک دن حسینی خانم میری مخدومہ سے ملنے کو آئی تھیں۔ خدا جانے کیا بات تھی، اس پر مجھ سے کہنے لگیں کہ جس طرح تمھاری نانی صاحبہ نے تمھاری اماں جان کو پرورش کیا کوئی کیا کرے گا۔ میاں! میری جو اس قدر خاطر تھی یہ تمھاری ماں ہی کا صدقہ تھا، نہیں تو میری بہنیں تین ہزار پھرتی ہیں، کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ (میری مخدومہ کا نام تو زبیدہ خاتون تھا، مگر انا ان کو بی زبیدہ کہہ کر پکارتی تھیں۔) وہ مجھ سے یہ باتیں ہی کر رہی تھیں کہ والدہ صاحبہ چلی آئیں۔ انا نے کہا: "بی زبیدہ! تم کو وہ بچپن کے کھلونے تو کیا یاد ہوں گے؟" انھوں نے کہا: "کیوں بی! یاد کیوں نہیں؟ میری عمر خاصی چھ سات برس کی ہو گی، جب تک تو میں ان سے کھیلتی ہی تھی۔" میں نے کہا: "اماں جان! جیسی مٹی کے ہاتھی گھوڑے ہوں گے؟" انھوں نے کہا: "نہیں بیٹا! مٹی کے نہیں، کپڑے کے تھے۔ ہمارے ہاں جو مغلانی نوکر تھی وہ سینے پرونے کے کام میں نہایت ہوشیار تھی۔ اماں جان نے اس سے میرے لیے کپڑے کے کھلونے سلوا کر ان پر روغن پھروا دیا تھا۔ مگر ان کے نام ہی نرالے تھے، جو بہت بری صورت کے تھے اور ان کے دیکھنے سے نفرت آتی تھی۔ ان میں کسی کا نام تو غصہ تھا، کسی کا نام بدزبانی، کسی کا نام غیبت، کسی کا نام جھوٹ، کسی کا نام شوخی، کسی کا نام لتری، کسی کا نام پھوہڑ، کسی کا نام ہٹ، کسی کا نام زبان دراز، کسی کا نام کام چور، کسی کا نام سستی، کسی کا نام کاہلی۔ انھیں میں ایک کھلونا دو پھپھلائیوں کی شکل کا تھا، اس کا نام لڑائی جھگڑا تھا۔ اس کی صورت سے صاف یہ معلوم ہوتا تھا کہ دو بھتنیاں لڑ رہی ہیں؛ اس کے جھونٹے [1] اس کے ہاتھ میں ہیں، اس کے جھونٹے اس کے ہاتھ میں۔ اور ایک گھوڑا بھی انھیں میں تھا، اس کی عجب صورت تھی: پھٹی پھٹی آنکھیں، بھیانک صورت، بال بکھرے ہوئے، زبان باہر کو نکلی ہوئی۔ اس میں ایک کل لگی ہوئی تھی، جہاں اسے دبایا اور وہ بھاگا۔ دو گز تک تو وہ ایسا جاتا جیسے ناوک کا تیر، اور پھر منہ کے بل گر کر لوٹ پوٹ ہو جاتا۔ اس کا نام جلد باز تھا۔ اور جن کی صورتیں اچھی تھیں ان میں کسی کا نام تو حیا تھا، کسی کا نام غیرت، کسی کا نام سلیقہ، کسی کا نام ستھرائی، کسی کا نام پارسائی، کسی کا نام تحمل، کسی کا نام صبر، کسی کا نام قناعت، کسی کا نام سلوک، کسی کا نام ملاپ، کسی کا نام فرمانبردار۔ انھیں میں ایک کھلونا ہرن کی صورت کا تھا، اس کے تیور سے صاف یہ معلوم ہوتا تھا کہ اب اڑ جائے گا، اس کا نام چستی تھا۔ اور انھیں میں ایک نہایت خوبصورت پری تھی، وہ ایسی معلوم ہوتی تھی جیسے کوئی مسکراتا ہو، اور بے اختیار یہ جی چاہتا تھا کہ اسے دیکھے جائیے؛ اس کا نام ہنس مکھ تھا۔"

میں نے کہا: "اماں جان! نانی اماں نے یہ کھلونے کیوں بنوائے تھے؟" انھوں نے کہا: "بیٹا! یہ اس لیے بنوائے تھے کہ مجھے بری باتوں سے نفرت ہو جائے اور نیک عادتیں اختیار کروں۔" میں نے کہا: "پھر آپ کو ان سے کچھ فائدہ بھی معلوم ہوا؟" کہا: "میاں! اور تو کیا فائدہ ہوتا، ہاں پر اتنی بات ضرور ہے کہ آج تک ان کی صورتیں میرے دل سے نہیں بھولیں۔ جب کوئی کسی پر غصہ ہوتا ہے تو وہی کھلونا جس کا نام غصہ تھا اس کی صورت میری آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ یا جب دو عورتیں آپس میں لڑتی جھگڑتی ہیں تو انھیں دو پھپھلائیوں کی شکل میرے روبرو آن کھڑی ہوتی ہے۔ یا جب کوئی کچھ کام بولا یا ہوا کرتا ہے تو اسی گھوڑے کی تصویر میرے آگے آ جاتی ہے۔ اسی طرح اور ساری باتوں کو سمجھ لو۔"

پھر فرمانے لگیں: "بیٹا! ایک اسی بات پر کیا موقوف ہے، اماں جان مجھے نئی نئی طرح سے تربیت کرتی تھیں۔ اگر میں کسی قابل ہوتی تو ان کی صحبت میں آدمی بن جاتی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میری بسم اللہ ہو چکی تو اماں جان نے سب سے پہلے مجھ کو نماز کی دعائیں اور نماز پڑھنے کے قاعدے سکھائے۔ جب یہ مجھے خوب یاد ہو گئے تو نماز پر کھڑا کیا۔ دس پندرہ دن تک اپنے سامنے نماز پڑھواتی رہیں۔ پھر جب فرصت ہوتی مجھے لے بیٹھتیں، اور طرح طرح سے خدا کا خوف میرے دل میں بٹھاتیں، اور یہ کہتیں کہ بیٹا! خدا تعالیٰ ہر وقت اور ہر گھڑی ہمارے پاس اور ہمارے ساتھ ہے۔ ہمارا جو کام ہے وہ دیکھتا ہے، ہماری جو بات ہے وہ سنتا ہے۔ اگر سات پردوں میں کوئی جا کر چھپے، خدا کے سامنے ایسا ہے جیسے میں اور تم۔ دیکھو جس بات کو ہم منع کیا کریں کبھی اس کے پاس نہ جانا، نہ ہمارے سامنے نہ ہمارے پیچھے۔ ہم نہیں دیکھتے تو خدا ضرور دیکھتا ہے۔ اس کے سوا کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، بات کرنی، بات سننی، بڑوں کی تعظیم، بزرگوں کا لحاظ، سب باتوں کے ادب قاعدے سکھاتی رہتیں۔ اور نوکروں کے پاس بیٹھنا، چلا کر بولنا، دوڑ کر چلنا، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی، قہقہہ مار کر ہنسنا، ہر وقت کھلے سر رہنا، بے ضرورت کوٹھے پر چڑھنا، ایسی ایسی باتوں سے روکتیں، اور ہر ہر بات کی اس قدر روک ٹوک رکھتیں کہ وہ ان کی تنبیہ اور تاکید عمر بھر نہ بھولوں گی۔ میاں! اسی سبب سے تو بچپن کی باتیں مجھے آج تک یاد ہیں، نہیں تو پانچ برس کی بھی کچھ عمر ہوتی ہے، اس عمر کی باتیں اب تک کیونکر یاد رہتیں؟ ان کی بہتیری باتیں ایسی تھیں کہ ان سے مجھے خود بخود نصیحت ہوتی رہتی تھی۔ جب میری عمر دس بارہ برس کی ہوئی تب میں نے جانا کہ یہ باتیں اماں جان میری نصیحت کے لیے کیا کرتی تھیں۔ کھلونوں کا حال تو تم سن ہی چکے، بھلا اس عمر میں مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ کھلونے میری تربیت کے لیے ہیں؟ اس کے سوا جب کسی نوکر سے کوئی خطا ہو جاتی اور ان کو یہ معلوم ہو جاتا کہ اس نے جان بوجھ کر یہ خطا کی ہے، تو اس کو میرے سامنے دھمکاتیں اور اس قدر برا بھلا کہتیں کہ میرے کان کھڑے ہو جاتے [2]۔ اگر کسی کی بات میں کچھ جھوٹ معلوم ہو جاتا تو میرے سامنے اس پر لے دے کرتیں [3]، اور یہ کہتیں: "سنو صاحب! جھوٹ میری چڑ [4] ہے۔ مجھے جھوٹ اپنی اولاد کا بھی نہیں بھاتا۔ اب کے تو بولیں سو بولیں، اگر پھر تمھارا جھوٹ ثابت ہوا تو میرے ہاں آپ کا کچھ کام نہیں۔" اور جب کسی سے کچھ خطا ہو جاتی اور وہ آن کر سچ سچ کہہ دیتی، تو اس سے ایسی ناراض نہ ہوتیں، اور کہتیں کہ تم نے جو سچ بولا اسی لیے تمھارا قصور معاف کیا۔ جب کوئی گھر میں آن کر کسی بچہ کی شوخی یا شرارت کا حال کہتا تو میرے منہ پر یوں کہتیں: "اگر ایسا میرا بچہ ہو تو موئے کا منہ جھلس دوں۔" بعضی دفعہ صرف میری نصیحت کے لیے اپنے اوپر تکلیف گوارا کرتیں، پر اپنی عادت نہ چھوڑتیں۔ مثلاً ان کا جی ماندا [5] ہے اور کوئی بڑی بوڑھی ان کی خبر کو آ گئیں۔ اب جب تک وہ ان کے پاس بیٹھی رہیں گی کیا مقدور ہے جو اماں جان پلنگ پر لیٹ جائیں، برابر بیٹھی رہیں گی۔ جو کسی نے بہت ہی کہا تو کمر سے تکیہ لگا لیا۔ ان کی دیکھا دیکھی مجھے بھی ویسی ہی عادت پڑ جاتی۔ بعضی دفعہ ایک ذرا سی بات پر مجھے اس قدر تاکید کرتیں کہ پھر تمام عمر کو میرے لیے نصیحت ہو جاتی، اور میں یہ جان لیتی کہ اس بات کا کرنا بہت ہی ضرور ہے۔ مثلاً میں اپنی بقچی کھلی چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی، اور کوئی ماماں اٹھ کر باندھنے لگی، اور اس میں اماں جان کی بھی نگاہ پڑ گئی؛ اب کیا مجال ہے جو وہ اسے باندھ کر رکھ دے؟ پھر اسی طرح کھلوا کر مجھ سے بندھوائیں گی۔"

یہ باتیں کہہ کر انا حسینی سے فرمایا: "کیوں بی! تمھیں بھی یہ باتیں یاد ہیں؟" انھوں نے کہا: "لو اچھی کہی! تم سات برس کی جان تھیں، تمھیں تو یاد ہے، میں خاصی تیس برس کی عورت تھی، مجھے یاد نہ ہو گا؟" "اچھا، اس عمر کی اور باتیں بھی تمھیں یاد ہیں؟" اماں جان نے کہا: "بی! میں نے کوئی کتاب تو لکھ ہی نہیں رکھی، بہتیری یاد ہیں، بہتیری بھول گئی۔" انا نے کہا: "بھلا جب تم استانی کے پاس پڑھنے بیٹھیں تو تمھاری کیا عمر تھی؟ اور کون کون سے وقت کیا کیا کام کیا کرتی تھیں؟ اور صاحب کے پاس کس وقت جا کر بیٹھتی تھیں؟ اور وہ تم کو کیا کیا نصیحتیں کیا کرتی تھیں؟" اماں جان نے کہا: "بی! میرے مغز میں تو اتنا بوتا [6] نہیں کہ اب ساری داستان تمھارے سامنے لے کر بیٹھوں۔" میں نے کہا: "نہیں اماں جان! ہم تو سنیں گے۔ آپ کو میری ہی جان کی قسم جو آپ نہ کہیں۔" انھوں نے کہا: "لو اور سنو، نہ شد دو شد۔ یہ انا نے میرے پیچھے اور جھاڑ کانٹا لگایا۔ میں جانتی تو یہ ذکر ہی نہ کرتی۔ اچھا میاں! کہو گے سو کروں گی۔ اب تو تم مولوی صاحب کے پاس جا کر سبق پڑھ آؤ [7]۔ رات کو فرصت کے وقت کہوں گی۔"

غرض جب رات کو کھانے پینے سے فراغت پا چکے، اماں جان نے اپنا سارا قصہ بیان کیا۔ وہ کہتی تھیں کہ میں پانچ برس کی تھی جو اماں جان نے مجھے استانی کے سپرد کیا۔ اتنی بات تو مجھے خوب یاد ہے، سات برس تک میں ان سے فقط قرآن شریف پڑھتی رہی، اس میں پانچ چھ سیپارے میں نے یاد کر لیے۔ ابھی پڑھنے لکھنے کی کسی نے زیادہ تاکید مجھ پر نہیں کی۔

جب آٹھواں سال لگا تو میرے سارے وقت رک گئے۔ صبح کو چھ بجے سے نو بجے تک تو مجھے استانی جی قرآن شریف پڑھاتیں، پھر ایک گھنٹے مغلانی کچھ سینا پرونا سکھاتیں۔ دس بجے کھانا کھانے کے بعد مجھ کو اماں جان نے کھیلنے کی چھٹی دے رکھی تھی، پر میں اپنی خوشی سے اکثر مغلانی پاس چلی جاتی اور کچھ نہ کچھ سینا لے بیٹھتی۔ گیارہ بجے ابا جان دیوان خانہ سے محلسرا میں سونے کو تشریف لاتے تھے۔ وہ مجھ کو اپنے پلنگ کے برابر فرش پر بٹھا کر اپنے سامنے نسخ اور نستعلیق کی مشق کراتے۔ جب تک وہ جاگتے رہتے میرے حرفوں کو دیکھتے رہتے، جہاں میرا ہاتھ بہکتا وہیں ٹوک دیتے۔ جب ان کی آنکھ لگ جاتی میں آپ بیٹھی مشق کیا کرتی۔ ایک کے عمل [8] میں وہ اٹھتے تھے، میں جب تک وہیں بیٹھی لکھا کرتی۔ جہاں وہ ذرا ہوشیار ہوئے اور میں تختی، دوات، قلم رکھ کر نماز کو اٹھی۔ کبھی کبھی وہ مشق دیکھنے کو ٹھہرا لیتے۔ اگر مشق اچھی نہ ہوتی یا کم ہوتی تو مجھے رسان میں سمجھا دیتے، اور ایک آدھ بات ایسی بھی کہہ دیتے جس سے مجھے غیرت آئے۔ ظہر کی نماز کے بعد استانی جی سے اردو مسائل کی کتاب کا سبق لیتی، تین بجے تک ان کی خدمت میں رہتی۔

جب قرآن شریف ختم کر چکی اور نماز روزہ اور نہانے دھونے کے مسئلوں سے خبردار ہو گئی، تو ابا جان نے مجھے شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ اور فارسی اور حساب شروع کرایا، اور یہ فرمایا کہ اپنے سبقوں سے فراغت پایا کرو تو گھڑی آدھ گھڑی کو چار درویش یا اخلاق محسنی کا ترجمہ لے بیٹھا کرو اور اپنے آپ دیکھا کرو۔ جو حرف سمجھ میں نہ آیا وہ استانی جی سے پوچھ لیا۔ میرا جی ان کتابوں میں خوب لگتا تھا۔ وہ تو گھڑی آدھ گھڑی کے لیے کہتے، میں گھنٹہ گھنٹہ بھر انھیں میں لگی رہتی۔ تین بجے مجھے چھٹی ہوتی تھی۔ اس میں کبھی تو مغلانی پاس جا بیٹھی، کچھ ان کا کام بٹوا لیا، اور کبھی جو ہمارے ہاں کنبے کی لڑکیاں آ گئیں اور میرے بہت ہی گرد ہوئیں [9]، تو ان کے ساتھ گڑیاں کھیلنے لگی۔ پر مجھ کو اماں جان نے اول ہی سے کچھ ایسا کام میں لگایا تھا کہ کھیل سے بچپن ہی میں مجھے نفرت ہو گئی تھی۔

غرض جب عصر کی نماز پڑھ چکی، اب باورچی خانہ میں جا کر ماماں کو مصالح پیستے، ہانڈی چڑھاتے، گوشت بھونتے دیکھتی، اور نمک، پانی اور آنچ کا اندازہ نگاہ میں رکھتی۔ کھانا پکانے میں سب سے زیادہ مشکل کام یہی ہے۔ جب یہ بات میری نگاہ میں چڑھ گئی اور روزمرہ کے کھانے پکانے کی ترکیب اچھی طرح میری سمجھ میں آ گئی، تو اماں جان نے کہا: "بیٹا! کبھی کبھی کوئی چیز تم بھی اپنے ہاتھ سے پکا لیا کرو۔ یہ کام دیکھنے سے نہیں آتا، اس میں سارا کھیل آنچ کا ہے۔ جب تک ہر ایک کھانا دس دس بیس بیس دفعہ تمھارے ہاتھ سے نہ نکلے گا کبھی نہیں آنے کا۔ دوسرے یہ عادت پڑی ہوئی خدا جانے کس وقت کام آ جائے؛ آدمی کا حال سدا یکساں نہیں رہتا۔" میری طبیعت میں سدا سے یہ بات تھی کہ ہر ایک کام کو خوب جی لگا کر سیکھتی تھی۔ کچھ تو مجھے شوق تھا ہی، کچھ ان کا کہنا ہوا؛ رفتہ رفتہ سارا کام باورچی خانہ کا اپنے ہاتھ سے کرنے لگی۔ دال دھونی، مصالح پیسنا، چولھے میں آگ سلگانی، ترکاری چھیلنی، پیاز کترنی، گھی داغ کرنا، کباب بنانے، یخنی چڑھانی، چاول پسانے [10]، پلاؤ دم کرنا۔ ماماں کو فقط اپنے سامنے بٹھا لیتی، اور اس کے سامنے یہ سب کام آپ کرتی۔ اول تو میرے ہاتھ سے کھانے بگڑتے رہے: کبھی سالن میں نمک زیادہ ہو گیا، کبھی دال کچی رہ گئی، کبھی کھچڑی میں پانی زیادہ پڑ گیا، کبھی گوشت بھونتے میں داغ لگ گیا، کبھی چاولوں میں کنی رہ گئی۔ مگر اماں جان کبھی اس پر خفا نہ ہوتیں۔ جو ابا جان کسی دن جھنجھلاتے تو اشارہ سے انھیں منع کر دیتیں، اور میرے پس غیبت یہ کہتیں: "جسے تم سمجھے ہو اس نے کھانا نہیں پکایا، زبیدہ نے پکایا ہے۔ وہ ابھی بچہ ہے، میرے کہنے سے کبھی کبھی کوئی پتیلی پکا لیتی ہے۔ یونہیں پکاتے پکاتے ہاتھ سنور جائے گا۔ جو ابھی سے اس کے پکانے کو نام دھرو گے تو وہ پھر کبھی چولھے پر جا کر قدم بھی نہیں رکھنے کی۔" غرض چند روز میں مجھے کھانا پکانے کا خاصا ڈھب ہو گیا۔ جو کھانے کدھی کدھی [11] پکتے تھے ان کی بھی ترکیبیں میں نے سیکھ لی تھیں۔ پر میں تو سچی بندی ہوں، مجھے ان کا پکانا جیسا چاہیے ویسا آج تک نہیں آتا۔ اصل بات یہ ہے کہ یا تو جسے زبان کا لپکا [12] ہوتا ہے اسے ویسی چیزیں آتی ہیں، یا جن کا یہ کام ہے انھیں آتی ہیں۔ مجھے نہ کبھی دور پار چٹورپن کی عادت ہوئی، نہ خدا کے فضل سے کہیں ماماں گیری کرنی تھی، پھر آتا تو کیونکر آتا؟

اب رہی روٹی پکانی، سو اس سے البتہ میں ذرا جی چراتی تھی۔ اماں جان نے جو دیکھا کہ یہ اس سے گھبراتی ہے، آپ چولھے پر آن بیٹھتیں، اور ایک دو روٹی اپنے ہاتھ سے توے پر ڈالتیں، پھر مجھ سے ڈلواتیں۔ میں نے کہا یہ فقط میرا دل بڑھانے کے لیے اپنے اوپر تکلیف اٹھاتی ہیں، یہ کچھ بات نہیں۔ ایک دن میں نے کہا: "اماں جان! آپ کو میرے سر کی قسم، بس آپ اپنی جائے [13] بیٹھی رہا کریں۔ میرا جی پہلے پہلے تو بیشک ذرا رکتا تھا، اور اب تو مجھ سے کہیے میں روز من بھر آٹا پکا ریندھ کر رکھ دیا کروں۔" غرض چند روز میں مجھے روٹی پکانی بھی آ گئی۔ چپاتیاں، پھلکے، روغنی روٹی، بیڑی [14] روٹی، پراٹھے، سب اپنے ہاتھ سے پکا لیتی تھی۔ خیر یہ کہنا تو بیوقوفی ہے کہ میں ماماں سے اچھا پکاتی تھی؛ وہ پھر میری استاد ہی تھی۔ پر میرے ہاتھ کا پکا ابا جان کے منہ کو ایسا لگ گیا تھا کہ ان کو کسی باورچی کے ہاتھ کی چیز پسند نہ آتی تھی۔ اب خدا جانے وہ سچ مچ میری تعریف کرتے تھے یا خاطر سے کرتے تھے؛ جوں جوں وہ میری تعریف کرتے میں اور جی لگا کر پکاتی۔

غرض جب سب کھانے سے فراغت پا چکتے تو رات کے نو دس بجے تک اماں جان کے پاس بیٹھنے کا معمول تھا۔ وہ باتوں ہی باتوں میں مجھے ہر طرح کی نصیحت کرتی رہتی تھیں، اور سب سے زیادہ پڑھنے لکھنے کا شوق دلاتیں۔ اول تو انھوں نے میرے لیے ایک چھوٹی سی الماری بنوائی، اور ابا جان کے کتب خانہ میں جتنی چھوٹی چھوٹی کتابیں تھیں ان سب کی خوبصورت خوبصورت جلدیں بندھوائیں: کسی کا رنگ سبز، کسی کا سرخ، کسی کا زرد، کسی کا آبی، کسی کا بادامی، اور سب پر سنہری ٹھپا کیا ہوا۔ غرض وہ سب کی سب میری الماری میں چن دیں، اور کہا: "بیٹا! یہ الماری تمھارے لیے ہے، اور لو اس کی کنجی بھی تم ہی اپنے پاس رکھو۔ اگر میں نے استانی جی سے تمھاری کچھ بھی فریاد سنی تو الماری چھین لوں گی۔" کتاب کی محبت میرے دل میں اسی دن سے پیدا ہوئی، اور اس کے چھن جانے کے ڈر سے پڑھنے میں بھی خوب جی لگاتی تھی۔

پھر کبھی یوں کہتیں: "بیٹا! تم یہ بھی جانتی ہو کہ ان کتابوں کے پڑھنے سے کیا ہوتا ہے؟ دیکھو! تمھارے چچا جان کی اتنے دنوں سے خبر نہیں آئی؛ اگر تم یہ کتابیں پڑھ لو اور ان کا ذرا بھی پتہ معلوم ہو جائے، تو تم یہیں بیٹھی بیٹھی ان سے روز باتیں کر لیا کرو۔" کبھی کہتیں: "تم یہ بھی جانتی ہو یہ سورج روز صبح کو کہاں سے آتا ہے اور شام کو کہاں چلا جاتا ہے؟ ان کتابوں کے پڑھنے سے تمھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا۔" کبھی کہتیں: "بیٹا! بھلا یہ تو بتاؤ، یہ جو غریبوں کے بچے ننگے کرلے پھرتے ہیں، انھیں اور تم میں کیا فرق ہے؟ کیا یہ آدمی نہیں ہیں؟" میں کہتی: "اماں جان! کیوں آدمی کیوں نہیں؟" "بھلا واری [15]! پھر یہ کیا بات ہے کہ تمھارے پاس تو خدا کا دیا کپڑا لتا، گہنا پاتا سب کچھ ہے، اور ان کے نہ پاؤں میں جوتی ہے، نہ سر پر ٹوپی، نہ بدن میں کپڑا؟ بس ساری بات یہ ہے کہ ان کے ہاں پڑھنے لکھنے کا دستور نہیں ہے، اور ہم کو خدا نے یہ عزت علم کی بدولت دے رکھی ہے۔" کبھی کہتیں: "بھلا یہ تو بتاؤ، اچھے کھاتے پیتوں کی اولاد فقیر کیوں ہو جاتی ہے؟ اور بھوکے ننگوں کی اولاد امیر کیوں ہو جاتی ہے؟" پھر آپ ہی کہتیں: "بیٹا! جب پڑھے لکھوں کی اولاد جاہل رہ جاتی ہے تو نیستی آ جاتی ہے، اور جہاں بے پڑھوں کی اولاد کچھ پڑھ لکھ لیتی ہے اس گھر کے دن پھر جاتے ہیں۔" کبھی کہتیں: "بھلا یہ تو بتاؤ ہمارے گھر میں بڑی قیمتی چیزیں کیا کیا ہیں؟" میں کہتی: "اماں جان! سب سے زیادہ تو جڑاؤ گہنا ہے، اس سے اتر کر سادہ گہنا ہے، پھر کپڑا ہے، تانبے کے برتن ہیں، چینی کے باسن ہیں، فرش ہے، قالین ہے، کوچ ہے، مسہری ہے، پلنگ ہے، پیڑھا ہے، یہی چیزیں ہیں۔" آپ کہتیں: "نہیں لاڈو [16]! ایسی بات پھر نہ کہنا۔ سارا گھر تو ایک طرف اور تمھاری الماری کی ایک کتاب ایک طرف، تو بھی برابر نہیں ہو سکتے۔ ان کتابوں میں بعضے بعضے حرف ساری دنیا کے مول سے زیادہ کے ہیں۔"

کبھی کہتیں: "بھلا یہ تو بتاؤ مردوں کا درجہ بڑا ہے یا عورتوں کا؟" میں کہتی: "اماں جان! مردوں ہی کا درجہ بڑا معلوم ہوتا ہے۔" آپ کہتیں: "نہ بیوی! ایسا ہرگز نہ سمجھنا۔ علم ایسی چیز ہے جس کی بدولت ایک عورت لاکھوں کروڑوں مردوں کو اپنا تابعدار بنا لے۔ دیکھو ہماری بادشاہزادی ملکہ وکٹوریا یہاں سے ہزاروں کوس بیٹھی اپنے علم کے زور سے دو ولایتوں پر بادشاہت کر رہی ہیں۔" کبھی کہتیں: "بیٹا! اگر تم ان کتابوں کو پڑھ لو تو گھر میں بیٹھی سارے ملکوں کی سیر کر لیا کرو، اور آسمان کے اوپر اور زمین کے نیچے، اور دریا کی تہ میں، اور پہاڑ کی کھوہ میں جو کچھ ہے سب تم پر آئینہ ہو جائے۔" کبھی ہمارے کنبے کی لڑکیوں میں جو پڑھی لکھی ہوتی اس کی ہزار ہزار زبان سے تعریف کرتیں، اور جو ان پڑھ تھیں ان کی طرح طرح سے ہجو کرتیں۔ غرض نو دس برس کی عمر تک مجھے اسی طرح کے دم دلاسوں سے پڑھنے لکھنے کا شوق دلاتی رہیں۔ ان کی ان باتوں سے میرے دل پر ایسا اثر ہوتا تھا کہ دن پر دن مجھے علم کی قدر زیادہ ہوتی جاتی تھی۔

آتوجی: محمودہ بیگم! کیا بجا ہو گا؟

محمودہ بیگم: حضرت! ابھی ابھی دس بجے ہیں۔

آتوجی: بس بیٹا! جاؤ سو رہو، صبح کو سویرے اٹھنا ہے۔ اب آگے کل کو سننا۔

حواشی

[1] جھونٹے: سر کے بال۔

[2] کان کھڑے ہو جاتے: میں خبردار ہو جاتی۔

[3] لے دے کرتیں: خفا ہوتیں۔

[4] جھوٹ میری چڑ ہے: جھوٹ سے مجھے نفرت ہے۔

[5] جی ماندا: وہ بیمار ہیں۔

[6] بوتا: اتنی طاقت۔

[7] پڑھ آؤ: پڑھ آؤ۔

[8] ایک کے عمل: ایک بجے کے قریب۔

[9] گرد ہوئیں: مجھ سے بہت ہی اصرار کیا۔

[10] پسانے: چاول ابال کر ان کا پانی نکالنا۔

[11] کدھی کدھی: کبھی کبھی۔

[12] زبان کا لپکا: مزہ دار کھانوں کا شوق۔

[13] جائے: جگہ۔

[14] بیڑی روٹی: چنے کی پسی ہوئی دال بھری ہوئی روٹی۔

[15] واری: میں تم پر قربان ہو جاؤں۔

[16] لاڈو: پیاری، جس کی ناز برداری کی جائے۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.