Urdu in Translation
搜索

第 7 章,共 9 章

To Saqib, Mirza Hatim Ali Mehr and Zain-ul-Abidin Khan

ثاقب، مرزا حاتم علی مہر اور زین العابدین خاں کے نام

米尔扎·阿萨杜拉·汗·迦利布

文字
字号

مرزا شہاب‌الدین احمد خاں "ثاقب"

خط ۱

بھائی،

تمہارا خط حکیم محمود خاں صاحب کے آدمی کے ہات پہنچا۔ خیر و عافیت معلوم ہوئی۔ اِنصاف کرو، کتاب کوئی سی ہو اوس کا پتا کیوں کر لگے؟ لوٹ کا مال چوری چوری کونے کھدروں میں بک گیا۔ اور اگر سڑک پر بھی بکا، تو میں کہاں جو دیکھوں؟ صبر کرو اور چپ ہو رہو؛

بر دل نفسِ اندہ گیتی بسر آریدگیرید، کہ گیتی ہمہ یکسر بسر آمد۔

آدمی تو آتے جاتے رہتے ہیں۔ خدا کرے یہاں کا حال سن لیا کرتے ہو۔ اگر جیتے رہے اور ملنا نصیب ہوا تو کہا جائے گا؛ ورنہ، قصہ مختصر، قصہ تمام ہوا۔ لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں؛ اور وہ بھی کون سی خوشی کی بات ہے، جو لکھوں؟

اپنے گھر میں اور اپنے بچوں کو، میری اور میرے گھر کی طرف سے دعا کہہ دینا، اور تم کو بھی تمہاری اُستانی دعا کہتی ہیں۔ زیادہ، زیادہ

دوشنبہ، ۸ فروری سنہ ۱۸۵۸ع۔

از غالب۔

خط ۲

بھائی شہاب‌الدین خاں،

واسطے خدا کے! یہ تم نے اور حکیم غلام نجف خاں نے میرے دیوان کا کیا حال کر دیا ہے؟ یہ اشعار جو تم نے بھیجے ہیں، خدا جانے کس ولد الزنا نے داخل کر دیے ہیں۔ دیوان تو چھاپے کا ہے۔ متن میں اگر یہ شعر ہوں تو میرے ہیں اور اگر حاشیے پر ہوں تو میرے نہیں ہیں۔ بالفرض، اگر یہ شعر متن میں پائے بھی جاویں تو یوں سمجھنا کہ کسی ملعون، زن جلب نے اصل کلام کو چھیل کر یہ خرافات لکھ دیے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جس مفسد کے یہ شعر ہیں اوس کے باپ پر اور دادا پر اور پردادا پر لعنت، اور وہ ہفتاد پشت تک ولد الحرام، اِس کے سوا اور کیا لکھوں۔ ایک تو لڑکے۔ میاں غلام نجف، دوسرے تم؛ میری کم بختی بڑھاپے میں آئی کہ میرا کلام تمہارے ہات پڑا۔ بعد اِن سطروں کے لکھنے کے تمہارا خط پہنچا۔ یہ دوسرا حادثہ مجھ کو پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا۔ قضا و قدر کے اُمور میں دم مارنے کی گنجایش نہیں ہے۔ کہیں جاگیر پر جلد جانے کی اِجازت ہو جائے تا کہ سب یکجا باہم آرام سے رہو۔ اپنے کاتب کو کہہ دینا کہ یہ خرافات متن میں نہ لکھے۔ اگر لکھ دیے ہوں، تو وہ ورق نکلوا ڈالنا۔ اور ورق اوس کے بدلے لکھوا کر لگا دینا۔ مناسب تو یوں ہے کہ تم کسی آدمی کے ہات وہ دیوان جو تمہارے کاتب نے نقل کیا ہے میرے پاس بھیج دو، تاکہ میں اوس کو ایک نظر دیکھ کر پھر تم کو بھیج دوں۔ زیادہ، زیادہ۔

آج نہ میرے پاس ٹکٹ ہے نہ دام۔ معاف رکھنا۔ والسلام۔

خط ۳

بھائی،

تمہارا خط پہنچا۔ کوئی مطلب جواب‌طلب نہیں تھا کہ میں اوس کا جواب لکھتا۔ پھر سونچا کہ مبادا تم آزردہ ہو، اِس واسطے آج یہ رقعہ تم کو لکھتا ہوں۔ میرا جی تو یہ چاہتا تھا کہ اب جو خط تمہیں لکھوں اوس کے آغاز میں یہ لکھوں کہ مبارک ہو۔ تمہارے اَب و عم مع الخیر اپنی جاگیر کو روانا ہو گئے۔ اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ اب کے جو خط تم کو لکھوں گا اوس کا مضمون یہی ہوگا۔ خاطر جمع رکھنا، اور اگر میرا خط دو چار دن نہ پہنچے تو مجھ کو اوسی مضمون کے ظہور کا منتظر سمجھنا اور گلہ نہ کرنا۔

اور ہاں صاحب، تم جو خط لکھتے ہو تو اوس میں احمد سعید خاں کا کچھ ذکر نہیں لکھتے۔ لازم ہے کہ اوس کی خیر و عافیت اور اوس کی بہن کی خیر و عافیت لکھتے رہا کرو۔ یہاں تمہاری پھوپھی اور تمہارے دونوں بھتیجے اچھی طرح ہیں۔ والدعا۔

یکشنبہ، ۱۱ اپریل سنہ ۱۸۵۸ع۔

از غالب۔

خط ۴

تمہارے بھائی کا خط تمہارے پاس بھیجتا ہوں۔ "کلیات اُردو" جو تم نے خریدے ہیں ایک اوس میں سے چاہو اپنے چچا کے نذر کرو، چاہو بھائی کو تحفہ بھیجو۔ میں نے اِس وقت اون کے نام کا خط لوہارو کو روانا کیا ہے۔ بعد اِرسالِ خط مولوی سدیدالدین خاں صاحب میرے ہاں آئے۔ اثناے حرف و حکایت میں میں نے "شاہین" کی حقیقت پوچھی۔ جواب دیا کہ ہاں، عربی میں ایک باجے کا نام "شاہین" ہے۔ صورت اوس کی پوچھی گئی؛ کہا مجھے معلوم نہیں، "صراح" میں میں نے دیکھا ہے۔ فقط۔

تم جو مولانا علائی کو خط لکھو، یہ رقعہ ملفوف کرو۔

غالب۔

خط ۵

نورچشم شہاب‌الدین خاں کو دعا کے بعد معلوم ہو:

یہ جو رقعہ لے کر پہنچتے ہیں اِن کا نام حسن علی ہے؛ اور یہ سید ہیں۔ دواسازی میں یگانہ، رکاب‌داری میں یکتا۔ جان محمد، اِن کا باپ، ملازم سرکار شاہی تھا۔ اب اِن کا چچا میر فتح علی پندرہ روپئے مہینے کا الور میں نوکر ہے۔ بہر حال اِن سے کہا گیا کہ پانچ روپئے مہینا ملے گا اور لوہارو جانا ہوگا۔ اِنکار کیا کہ پانچ روپئے میں میں کیا کھاؤں گا؟ یہاں زن و فرزند کو کیا بھجواؤں گا؟ جواب دیا گیا کہ سرکار بڑی ہے۔ اگر کام تمہارا پسند آئے گا، تو اِضافہ ہو جائے گا۔ اب وہ کہتا ہے کہ خیر توقع پر یہ قلیل مشاہرہ قبول کرتا ہوں، مگر دونوں وقت روٹی سرکار سے پاؤں، بغیر اِس کے کسی طرح نہیں جا سکتا۔ سنو میاں، حق بہ جانب اِس غریب کے ہے۔ روٹی مقرر ہوئے بغیر بات نہیں بنتی۔ یقین ہے، تم رپوٹ کرو گے تو اِس امر کی منظوری کا حکم آ جائے گا۔ یہ قصہ فیصل ہوا۔ اب یہ کہتا ہے کہ دوماہہ مجھے پیشگی دو، تاکہ کچھ کپڑا لتا بناؤں اور کچھ گھر میں دے جاؤں: راہ میں روٹی اور سواری سرکار سے پاؤں؛ میں تو یہاں بھی حق بہ جانب سائل کے جانتا ہوں، مگر کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اپنی راے اِس باب میں لکھ نہیں سکتا۔ خیر، تم یہی میرا رقعہ اپنے نام کا علائی مولائی کو بھیج دو۔

سہ‌شنبہ، ۲۴ ستمبر سنہ ۱۸۶۱ع۔

غالب۔

خط ۶

میاں،

وہ قاضی تو مسخرا، چوتیا ہے، اون کا خط دیکھ لیا؛ خیر۔ ہاں، علاءالدین خاں کا خط گھنٹا بھر بھانڈ کے طائفے کا تماشا ہے۔ اب تم کہو، اُستاد میر جان کو کیوں‌کر بھیجو گے؟ اون کو کہاں پاؤ گے؟ اور علاءالدین خاں نے حسب الحکم تمہارے چچا کے لکھا ہے۔ لوہارو کی سواریاں، آئی ہوئی، شاید کل یا پرسوں جائیں؛ اِس کی فکر آج کرو۔ امین‌الدین خاں بیچارہ اکیلا گھبراتا ہوگا۔

"چکیدن دہیم"۔ "رمیدن دہیم"۔ یہ غزل علاءالدین کو بھیج چکا ہوں۔ تم علاءالدین خاں کو لکھو کہ بڑی شرم کی بات ہے کہ:

ہر دم آزردگی غیر سبب را چہ علاج

اِس غزل کو حافظ کی غزل سمجھتے ہو! واہ! واہ! "غیر سبب" کہاں کی بولی ہے؟

از خواندن قرانِ تو، قاری، چہ فائدہ۔

عیاذاً باللّٰہ! امیر خسرو "قرآن" کو، کہ بہ سکون راے قرشت و الف ممدودہ ہے، "قُران" بر وزن "پُران" لکھیں گے؟ یہ دونوں غزلیں دو گدھوں کی ہیں۔ شاید ایک نے مقطع میں "حافظ" اور ایک نے مقطع میں "خسرو" لکھ دیا ہو۔

غالب۔

خط ۷

رباعی

رُقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
"ثاقب" حرکت یہ کی ہے بیجا تم نے
حاجی کلو کو دے کے بے وجہ جواب،
"غالب" کا پکا دیا کلیجا تم نے

خط ۸

رباعی

اے روشنی دیدہ، شہاب‌الدین خاں!
کٹتا ہے، بتاو، کس طرح سے رمضاں؟
ہوتی ہے تراویح سے فرصت کب‌تک؟
سنتے ہو تراویح میں کتنا قرآں؟

خط ۹

میاں مرزا شہاب‌الدین خاں،

اچھی طرح رہو۔ غازی‌آباد کا حال شمشاد علی سے سنا ہوگا۔ ہفتے کے دن، دو تین گھڑی دن چڑھے، احباب کو رخصت کر کے راہی ہوا۔ قصد یہ تھا کہ پلکھوے رہوں۔ وہاں قافلے کی گنجایش نہ پائی؛ ہاپوڑ کو روانا ہوا۔ دونوں برخوردار گھوڑوں پر سوار پہلے چل دیے۔ چار گھڑی دن رہے میں ہاپوڑ کی سرائے میں پہنچا۔ دونوں بھائیوں کو بیٹھے ہوئے اور گھوڑوں کو ٹہلتے ہوئے پایا۔ گھڑی بھر دن رہے قافلہ آیا۔ میں نے چھٹانک بھر گھی داغ کیا۔ دو شامی‌کباب اوس میں ڈال دیے۔ رات ہو گئی تھی۔ شراب پی لی۔ کباب کھائے۔ لڑکوں نے ارہر کی کھچڑی پکوائی خوب گھی ڈال کر آپ بھی کھائی اور سب آدمیوں کو بھی کھلائی۔ دن کے واسطے سادہ سالن پکوایا۔ ترکاری نہ تلوائی۔ بارے آج تک دونوں بھائیوں میں موافقت ہے۔ آپس کی صلاح و مشورت سے کام کرتے ہیں۔ اِتنی بات زائد ہے کہ حسین علی منزل پر اوتر کر پاپڑ اور مٹھائی کے کھلونے خرید لاتا ہے؛ دونوں بھائی مل کر کھالیتے ہیں۔ آج میں نے تمہارے والد کی نصیحت پر عمل کیا۔ چار بجے، پانچ کے عمل میں، ہاپوڑ سے چل دیا۔ سورج نکلے بابو گڑھ کی سرائے میں آ پہنچا۔ چارپائی بچھائی؛ اوس پر بچھونا بچھا کر حقہ پی رہا ہوں اور یہ خط لکھ رہا ہوں۔ دونوں گھوڑے کوتل آ گئے۔ دونوں لڑکے رتھ میں سوار آتے ہیں۔ اب وہ آئے اور کھانا کھا لیا اور چلے۔ تم اپنی اُستانی کے پاس جا کر یہ رقعہ سراسر پڑھ کر سنا دینا۔ شمشاد کو کتاب کے مقابلے اور تصحیح کی تاکید کر دینا۔

مرزا حاتم علی "مہر"

خط ۱

بہت سہی غم گیتی، شراب کم کیا ہے!غلام ساقی کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے!

سخن میں خامۂ "غالب" کی آتش‌افشانییقیں ہے ہم کو بھی، لیکن اب اوس میں دم کیا ہے!

علاقۂ محبت ازلی کو برحق مان کر اور پیوند غلامی جناب مرتضیٰ علی کو سچ جان کر ایک بات اور کہتا ہوں کہ: بینائی اگرچہ سب کو عزیز ہے، مگر شنوائی بھی تو آخر ایک چیز ہے۔ مانا کہ روشناسی اوس کے اِجارے میں آئی ہے، یہ بھی دلیل آشنائی ہے۔ کیا فرض ہے کہ جب تک دید وادید نہ ہو لے اپنے کو بیگانۂ یک‌دگر سمجھیں؟ البتہ ہم تم دوست دیرینہ ہیں، اگر سمجھیں۔ سلام کے جواب میں خط بہت بڑا اِحسان ہے۔ خدا کرے، خط جس میں میں نے آپ کو سلام لکھا تھا آپ کی نظر سے گزر گیا ہو۔ اِحیاناً اگر نہ دیکھا ہو، تو اب "مرزا تفتہ" سے لے کر پڑھ لیجیے گا؛ اور خط کے لکھنے کے اِحسان کو اوس خط کے پڑھ لینے سے دوبالا کیجیے گا۔

ہاے میجر جان جاکوب، کیا جوان مارا گیا ہے! سچ، اوس کا یہ شیوہ تھا کہ اُردو کی فکر کو مانع آتا اور فارسی زبان میں شعر کہنے کی رغبت دلواتا۔ بندہ [پرور]، یہ بھی اونہیں میں ہے کہ جن کا میں ماتمی ہوں۔ ہزارہا دوست مرگئے۔ کس کو یاد کروں اور کس سے فریاد کروں؟ جیوں، تو کوئی غمخوار نہیں؛ مروں، تو کوئی عزادار نہیں۔

غزلیں آپ کی دیکھیں۔ سبحان اللّٰہ، چشم بد دور! اُردو کی راہ کے تو سالک ہو، گویا اِس زبان کے مالک ہو۔ فارسی بھی خوبی میں کم نہیں۔ مشق شرط ہے۔ اگر کہے جاؤ گے، لطف پاؤ گے۔ میرا تو گویا بقول "طالب" آملی اب یہ حال ہے:

لب از گفتن چناں بستم کہ گوئی:دہن بر چہرہ زخمے بود، بہ شد۔

جب آپ نے بغیر خط کے بھیجے خط مجھ کو لکھا ہو، تو کیوں‌کر مجھ کو اپنے خط کے جواب کی نہ تمنا ہو؟ پہلے تو اپنا حال لکھیے، کہ میں نے سنا تھا آپ کہیں کے صدر امین ہیں، پھر آپ اکبرآباد میں کیوں خانہ‌نشین ہیں؟ اِس ہنگامے میں آپ کی صحبت حکام سے کیسی رہی؟

راجہ بلوان سنگھ کا بھی حال لکھنا ضرور ہے کہ کہاں ہیں اور وہ دو ہزار مہینا، جو اون کو سرکار انگریزی سے ملتا تھا، اب بھی ملتا ہے یا نہیں؟

ہاے لکھنٔو! کچھ نہیں کھلتا کہ اوس بہارستان پر کیا گزری؟ اموال کیا ہوئے؟ اشخاص کہاں گئے؟ خاندان شجاع الدولہ کے زن و مرد کا انجام کیا ہوا؟ قبلہ و کعبہ حضرت مجتہد العصر کی سرگزشت کیا ہے؟ گمان کرتا ہوں کہ بہ نسبت میرے تم کو کچھ زیادہ آگہی ہوگی۔ اُمیدوار ہوں کہ جو آپ پر معلوم ہے وہ مجھ پر مجہول نہ رہے۔ پتا مسکن مبارک کا "کشمیری بازار" سے زیادہ نہیں معلوم ہوا۔ ظاہرا اِسی قدر کافی ہوگا، ورنہ آپ زیادہ لکھتے۔ "مرزا تفتہ" کو دعا کہیے گا اور اون کے اوس خط کے پہنچنے کی اِطلاع دیجیے گا، جس میں آپ کے خط کی اونھوں نے نوید لکھی تھی۔ والسلام۔

خط ۲

خود شکوہ دلیلِ رفع آزار بس‌ستآید بہ زبان ہر آنچہ از دل برود

بندہ پرور،

فقیر شکوے سے برا نہیں مانتا؛ مگر شکوے کے فن کو سواے میرے کوئی نہیں جانتا۔ شکوے کی خوبی یہ ہے کہ راہِ راست سے منہ نہ موڑے اور معہذا دوسرے کے واسطے جواب کی گنجایش نہ چھوڑے۔ کیا میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو آپ کا فرخ‌آباد جانا معلوم ہو گیا تھا، اِس واسطے آپ کو خط نہیں لکھا تھا؟ کیا میں یہ کہہ نہیں سکتا کہ میں نے اِس عرصے میں کئی خط بھجوائے اور وہ اولٹے پھر آئے؟ آپ شکوہ کاہے کو کرتے ہیں، اپنا گناہ میرے ذمے دھرتے ہیں۔ نہ جاتے وقت لکھا کہ میں کہاں جاتا ہوں، نہ وہاں جاکر لکھا کہ میں کہاں رہتا ہوں۔ کل آپ کا مہربانی‌نامہ آیا، آج میں نے اوس کا جواب بھجوایا۔ کہیے، اپنے دعوے میں صادق ہوں یا نہیں؟ بس دردمندوں کو زیادہ ستانا اچھا نہیں۔ "مرزا تفتہ" سے آپ فقط اون کے خط نہ لکھنے کے سبب سرگراں ہیں۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ اِن دنوں میں کہاں ہیں۔ آج، توکلت علی اللّٰہ، سکندرآباد خط بھیجتا ہوں؛ دیکھوں، کیا دیکھتا ہوں۔

خط ۳

صاحب میرے،

عہدۂ وکالت مبارک ہو۔ موکلوں سے کام لیا کیجیے، پریوں کو تسخیر کیا کیجیے۔ مثنوی پہنچی۔ جھوٹ بولنا میرا شعار نہیں، کیا خوب بول چال ہے! انداز اچھا، بیان اچھا، روزمرا صاف۔ حبشیوں کا اِستغاثہ، کیا کہوں، کیا مزا دے رہا ہے:

بگم صاحب پھسوڑے میں پھنسایاچُھٹا بیگم نے بے حرمت کرایا۔

اِس مثنوی نے اگلی مثنویوں کو تقویم پارینہ کر دیا۔

"بیانِ بخشایش" ہم گنہگاروں تک کیوں پہنچے گا؟ مگر ہاں، اِس راہ سے:

کہ مستحقِ کرامت گناہگارانند،

"بخشش" کا متوقع ہوں۔ میں ابھی تک یہ بھی نہیں سمجھا کہ وہ نسخہ نظم ہے، یا نثر ہے؛ اور مضمون اوس کا کیا ہے۔ مرزا یوسف علی خاں آٹھ آٹھ دس دس مہینے سے مع عیال و اطفال اِسی شہر میں مقیم ہیں۔ ایک ہندو امیر کے گھر پر مکتب کا سا طور کر لیا ہے، میرے مسکن کے پاس ایک مکان کرائے کو لے لیا ہے؛ اوس میں رہتے ہیں۔ اگر اون کو خط بھیجو، تو میرے مکان کا پتا لکھ دینا۔ اور یہ بھی آپ کو معلوم رہے کہ میرے خط کے سرنامے پر محلے کا نام لکھنا ضرور نہیں؛ شہر کا نام اور میرا نام، قصہ تمام۔ ہاں، یار "عزیز" کے خط پر میرے "مکان کے قریب" کا پتا ضرور ہے۔ دو روز سے "شعاع مہر" کو دیکھ رہے ہیں۔ اکثر تمہارا ذکر خیر رہتا ہے۔ وہ تو اب ہر وقت یہیں تشریف رکھتے ہیں۔ رات کو تو پہر چھ گھڑی کی نشست روز رہتی ہے۔ ابھی یہیں سے اوٹھ کر مکتب کو گئے ہیں۔ تم کو سلام کہتے ہیں اور "شعاع مہر" کے مدّاح اور "بیان بخشایش" کے مشتاق ہیں۔

خط ۴

بھائی صاحب،

تمہارا خط اور قصیدہ پہنچا۔ اصل خط تمہارا لفافے میں لپیٹ کر "مرزا تفتہ" کو بھیج دیا، تاکہ حال اون کو مفصل معلوم ہو جائے۔ بعد اِس رپوٹ کے تم کو تہنیت دیتا ہوں۔ پروردگار بہ تصدق ائمۂ اطہار یہ پیش‌آمد اِقبال تم کو مبارک کرے اور منصبہاے خطیر اور مدارج عظیم کو پہنچاوے۔ واقعی یہ کہ تم نے بڑی جرأت کی۔ فی‌الحقیقت اپنی جان پر کھیلے تھے۔ بات پیدا کی، مگر اپنی مردی و مردانگی سے۔ دولت کا ہات آنا مع نیک نامی؛ اِس سے بہتر دنیا میں کوئی بات نہیں۔ اب یقین ہے کہ خدمت منصفی ملے اور جلد ترقی کرو؛ ایسا کہ سال آیندہ تک، چشم بد دور، صدرالصدور ہو جاؤ۔

اللّٰہ! اللّٰہ! ایک وہ زمانہ تھا کہ "مغل" نے تمہارا ذکر مجھ سے کیا تھا اور وہ اشعار جو تم نے اوس کے حسن کے وصف میں لکھے تھے، تمہارے ہات کے لکھے ہوئے مجھ کو دکھائے تھے۔ اب ایک یہ زمانہ ہے کہ طرفین سے نامہ و پیام آتے جاتے ہیں۔ اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ، وہ دن بھی آ جائے گا کہ ہم تم باہم بیٹھیں اور باتیں کریں، قلم بیکار ہوجائے، زبان بر سر گفتار آئے۔ انشاء اللّٰہ خاں کا بھی قصیدہ میں نے دیکھا ہے۔ تم نے بہت بڑھ کر لکھا ہے اور اچھا سماں باندھا ہے۔ زبان پاکیزہ، مضامین اچھوتے، معانی نازک، مطالب کا بیان دل‌نشین۔ زیادہ کیا لکھوں؟

خط ۵

بندہ پرور،

آپ کا مہربانی‌نامہ آیا۔ آپ کی مہرانگیز اور محبت‌خیز باتوں نے غم‌بیکسی بھلایا۔ کہاں دھیان لڑا ہے! کہاں سے "دستنبو" کی مناسبت کے واسطے "ید بیضا" ڈھونڈھ نکالا ہے! آفریں، صد ہزار آفریں! تیسرا مصرع اگر یوں ہو، تو فقیر کے نزدیک بہت مناسب ہے:

نامہ خود سال خویش داد نشان۔

"مرزا تفتہ" کا خط ہاترس سے آیا، اون کے لڑکے بالے اچھے ہیں۔ آپ گھبرائیں نہیں، وہ آنے کے آئے ہیں۔ اگر تمہیں بغیر اون کے آرام نہیں، تو اون‌کو بغیر تمہارے چین کہاں؟ صاحب بندہ، اِتنا عشری ہوں۔ ہر مطلب کے خاتمے پر بارہ کا ہندسہ کرتا ہوں۔ خدا کرے، میرا بھی خاتمہ اِسی عقیدے پر ہو۔ ہم تم ایک آقا کے غلام ہیں؛ تم جو مجھ سے محبت کرو گے یا میری غمگساری میں محنت کروگے، کیا تم کو غیر جانوں، جو تمہارا اِحسان مانوں؟ تم سراپا مہر و وفا ہو؛ و اللّٰہ، اسم با مسمیٰ ہو۔

مبالغہ اِس کتاب کی تصحیح میں اِس واسطے کرتا ہوں کہ عبارت کا ڈھنگ نیا ہے، صحیح کا درست پڑھنا بڑی بات ہے۔ اگر غلط ہوجائے، تو پھر وہ عبارت نری خرافات ہے۔ بارے، بہ سبب اِلتفات بھائی منشی نبی بخش صاحب کے، صحت الفاظ سے خاطر جمع ہے۔ متوقع ہوں کہ وہ تکلیف سہیں اور ختم کتاب تک متوجہ رہیں۔ منشی شیو نراین صاحب نے کاپی میرے دیکھنے کو بھیجی تھی، سب طرح میرے پسند آئی۔ چنانچہ اون کو لکھ بھیجا ہے: اگر ہوسکے، تو سیاہی ذرا اور بھی رنگت کی اچھی ہو۔

حضرت، چار جلدیں یہاں کے حکام کو دوں گا اور دو جلدیں ولایت کو بھیجوں گا۔ اللّٰہ! اللّٰہ! کیا غفلت ہے اور کیا اِعتماد ہے! زندگی پر بہر حال یہ ہوس تھی اور شاید اب بھی ہو کہ اِن چھ جلدوں کی کچھ تزیین اور آرایش کی جاوے۔ آپ اور بھائی صاحب اور اون کا فرزند رشید منشی عبداللطیف اور منشی شیو نراین، یہ چاروں صاحب فراہم ہوں اور بہ اِجلاس کونسل یہ امر تجویز کیا جاوے کہ کیا کیا کیا جاوے۔ معہذا دو دو روپیہ کتاب سے زیادہ کا مقدور بھی نہیں۔ ہاں، یہ ممکن ہے کہ چار جلدیں چھ روپئے میں اور دو جلدیں چھ روپئے میں تیار ہوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ یا رب، آرایش کی گنجایش کہاں! ناچار، چار کتابوں کی جلد ڈیڑھ ڈیڑھ روپئے اور دو کتابوں کی جلد تین تین روپئے کی بنائی جائے۔ قصہ مختصر، کچھ کیا جائے یا یہی کہہ دیا جائے کہ تیری راے کونسل میں مقبول اور صرف [چھ] جلدوں کی تیاری منظور ہوئی بارہ روپئے بھیج دے۔

مطالب اور مقاصد تمام ہوئے اور ہم تم بزبان قلم باہمدگر ہم‌کلام ہوئے۔

خط ۶

بھائی صاحب،

از روے تحریر "مرزا تفتہ" آپ کا چھ کتابوں کی تزیین کی طرف متوجہ ہونا معلوم ہوا۔ پھر بھائی منشی نبی بخش صاحب نے دو بار لکھا کہ میں بہ اِجمال لکھتا ہوں، مفصل مرزا حاتم علی صاحب نے لکھا ہوگا۔ یارب، اون کے دو خط آ گئے؛ مرزا صاحب نے اگر لکھا ہوتا، تو اون کا خط کیوں نہ آتا؟ اپنے حسن اِعتقاد سے یوں سمجھا کہ نہ لکھنا بہ مقتضاے یکدلی ہے۔ جب اپنا کام سمجھ لیے، تو مجھ کو لکھنا کیا ضرور ہے؟ مگر اِس کو کیا کروں کہ جواب‌طلب باتوں کا جواب نہیں۔ مطبعِ اخبارِ "آفتابِ عالمتاب" میں یکم ستمبر سنہ۱۸۵۸ حال سے حکیم احسن اللّٰہ خاں کا نام لکھوا دینا اور دو نمبروں کا ایک بار بھجوا دینا اور آیندہ ہر ہفتے اوس کے اِرسال کا طور ٹھہرا دینا۔ کیوں صاحب، یہ امر ایسا کیا دشوار تھا کہ آپ نے نہ کیا؟ اور اگر دشوار تھا تو اوس کی اِطلاع دینی کیا دشوار تھی؟ ابھی شکایت نہیں کرتا، پوچھتا ہوں کہ آیا یہ امور مقتضی شکایت ہیں یا نہیں؟ "مرزا تفتہ" کے ایک خط میں یہ قصہ لکھ چکا ہوں۔ کیا اونھوں نے بھی وہ خط تم کو نہیں پڑھایا؟ ہر چند عقل دوڑائی، کوئی درنگ کی وجہ خیال میں نہ آئی۔ اب حصول مدعا سے قطع نظر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ دیکھوں چھ مہینے بعد، برس دن بعد، اگر مرزا صاحب خط لکھتے ہیں، تو اِس امر خاص کا جواب کیا لکھتے ہیں؟ میں بھی شاعر ہوں؛ اگر کوئی مضمون ہوتا، تو میرے بھی خیال میں آ جاتا۔ کوئی عذر ایسا میرے ذہن میں نہیں آتا کہ قابل سماعت کے ہو۔ میں بھی تو دیکھوں، تم کیا لکھتے ہو؟

خط ۷

مرا بہ سادہ‌دلیہاے من توان بخشیدخطا نمودہ‌ام و چشم آفرین دارم۔

کل دوشنبے کا دن، ۲۰ ستمبر کی تھی۔ صبح کو میں نے آپ کو شکایت نامہ لکھا اور بیرنگ ڈاک میں بھیج دیا۔ دوپہر کو ڈاک کا ہرکارہ آیا، تمہارا خط اور ایک "مرزا تفتہ" کا خط لایا۔ معلوم ہوا کہ جس خط کا جواب میں آپ سے مانگتا ہوں، وہ نہیں پہنچا۔ کچھ شکوے سے شرمندگی اور کچھ خط کے نہ پہنچنے سے حیرت ہوئی۔ دوپہر ڈھلے "مرزا تفتہ" کے خط کا جواب لکھ کر ٹکٹ نکالنے لگا، بکس میں سے وہ تمہارے نام کا خط نکل آیا۔ اب میں سمجھا کہ خط لکھ کر بھول گیا ہوں اور ڈاک میں نہیں بھیجا۔ اپنے نسیان کو لعنت کی اور چپ ہو رہا۔ متوقع ہوں کہ میرا قصور معاف ہو۔ بعد چاہنے عفوِ جرم کے آپ کے کل کے خط کا جواب لکھتا ہوں۔

سبحان اللّٰہ، جلدوں کی آرایش کے باب میں کیا اچھی فکر کی ہے! میرے دل میں بھی ایسی ہی باتیں تھیں۔ یقین ہے کہ متاع شاہوار ہو جائیں گی۔ اہار مہرہ اگر ہو جائے گا، تو حرف خوب چمک جائیں گے۔ اِس کا خیال اون چار جلدوں میں بھی رہے، بارہ روپئے کی ہنڈوی پہنچتی ہے۔ روپیہ وصول کر کر مجھ کو اِطلاع دیجیے گا؛ ورنہ میں مشوش رہوں گا۔

حضرت، یہاں دو خبریں مشہور ہیں۔ اِن کے باب میں آپ سے تصدیق چاہتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ لوگ کہتے ہیں آگرے میں اِشتہار جاری ہوگیا ہے اور ڈھنڈورا پٹ گیا ہے کہ کمپنی کا ٹھیکا ٹوٹ گیا اور بادشاہی عمل ہندستان میں ہوگیا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ جناب اڈمنسٹن صاحب بہادر، گورمنٹ کلکتہ کے چیف سکرٹر، اکبرآباد کے لفٹنٹ گورنر ہو گئے۔ خبریں دونوں اچھی ہیں۔ خدا کرے، سچ ہوں اور سچ ہونا اِن کا آپ کے لکھنے پر منحصر ہے۔

ہاں صاحب، ایک بات اور ہے اور وہ محلّ غور ہے۔ میں نے حضرت ملکۂ معظمۂ اِنگلستان کی مدح میں ایک قصیدہ اِن دنوں میں لکھا ہے: "تہنیتِ فتح ہند اور عملداریِ شاہی"۔ ساٹھ بیت ہے۔ منظور یہ تھا کہ کتاب کے ساتھ قصیدہ ایک اور کاغذ مذہب پر لکھ کر بھیجوں۔ پھر یہ خیال میں آیا کہ دس سطر کے مسطر پر کتاب لکھی گئی ہے، یعنی چھاپا ہوئی ہے۔ اگر یہ چھ صفحے یعنی تین ورق اور چھپ کر اوس کتاب کے آغاز میں شامل جلد ہو جائیں، تو بات اچھی ہے۔ آپ اور منشی نبی بخش صاحب اور "مرزا تفتہ"، منشی شیونراین صاحب سے کہہ کر اِس کا طور درست کریں اور پھر مجھ کو اِطلاع دیں، تو میں مسودہ آپ کے پاس بھیج دوں۔ جب کتاب چھپ چکے، تو یہ چھپ جائے۔ دو باتیں ہیں:

ایک تو یہ کہ چھپے بعد کتاب کے، اور لگایا جائے پہلے کتاب سے۔

دوسرے یہ کہ اِس کی سیاہ قلم کی لوح الگ ہو اور پہلے صفحے پر جس طرح کتاب کا نام چھاپتے ہیں اِس طرح یہ بھی چھاپا جائے کہ "قصیدہ در مدح جناب ملکۂ اِنگلستان خلد اللّٰہ ملکہا"۔ میرا نام کچھ ضرور نہیں، کتاب کے پہلے صفحے پر تو ہوگا۔

ہنڈوی کی رسید اور اِس مطلبِ خاص کا جواب با صواب یعنی نوید قبول جلد لکھیے۔

خط ۸

بھائی صاحب،

خدا تم کو دولت و اِقبال روز افزوں عطا کرے اور ہم تم ایک جگہ رہا کریں۔ خدا کرے، قصیدے کے چھاپے کی منظوری اور ہنڈوی کی رسید آئے، گویا صفر کے مہینے میں عید آئے۔ ہنڈوی کا روپیہ جب چاہو، تب منگواؤ اور کتابوں کی لوحیں اور جلدیں موافق اپنی راے کے بنوا لو۔

اب آپ دو ورقے کا ڈاک میں بھیجنا موقوف رکھیں اور کتابوں کی درستی پر ہمت مصروف رکھیں۔ قصیدے کے مسودے کا ورق "مرزا تفتہ" کے خط میں، پہنچ گیا ہوگا، آپ نے اور "مرزا تفتہ" نے اور بھائی منشی نبی بخش صاحب نے قصیدے کو دیکھا ہوگا۔ قصیدے کا شامل کتاب ہونا بہت ضرور ہے؛ پر دیکھا چاہیے صاحب مطبع کو کیا منظور ہے۔ اگر وہ کاغذ کی قیمت کا عذر کریں گے، تو ہم پانچ سات روپئے سے اور بھی اون کا بھرنا بھریں گے۔

جناب اڈمنسٹن صاحب بہادر سے میں صورت‌آشنا نہیں، کبھی میں نے اون کو دیکھا نہیں، خطوں کی میری اون کی ملاقات ہے اور نامہ و پیام کی یوں بات ہے کہ جب کوئی نواب گورنر جنرل بہادر نئے آتے ہیں، تو میری طرف سے ایک قصیدہ بہ طریق نذر جاتا ہے۔ بے ذریعۂ جناب صاحب بہادر ایجنٹ دہلی اور نواب لفٹنٹ گورنر بہادر آگرہ بھجواتا ہوں اور صاحب سکرتر بہادر گورمنٹ کا خط اوس کی رسید میں بہ سبیل ڈاک پاتا ہوں۔ جب جناب لارڈ کیننگ بہادر نے کرسی گورنری پر اِجلاس فرمایا، تو میں نے موافق دستور کے قصیدہ ڈاک میں بھجوایا۔ اِڈمنشٹن صاحب بہادر چیف سکرتر کا جو مجھ کو خط آیا، تو اونھوں نے باوجود عدم سابقہ معرفت میرا القاب بڑھایا۔ قبل ازیں "خان صاحب بسیار مہربان دوستان" میرا القاب تھا، اِس قدرشناس نے از راہِ قدر افزائی "خان صاحب مشفق بسیار مہربانِ مخلصان" لکھا۔ اب فرمائیے اون کو کیوں کر اپنا محسن اور مربی نہ جانوں؟ کیا کافر ہوں جو اِحسان نہ مانوں؟

برخوردار "مرزا تفتہ" کو دعا کہتا ہوں؛ بھائی اب میں اِس کا منتظر رہتا ہوں کہ تم اور مرزا صاحب مجھ کو لکھو کہ لو صاحب، "دستنبو" کا چھاپا تمام کیا گیا اور قصیدہ چھاپ کر اِبتدا میں لگا دیا گیا۔ مادۂ تاریخ میں کیا برائی ہے جو تمہارے جی میں یہ بات آئی ہے کہ مجھ سے بار بار پوچھتے ہو؟ مادّہ اچھا ہے۔ قطعہ لکھ لو اور خاتمۂ کتاب پر لگا دو۔ ایک قطعہ مرزا صاحب کا، ایک قطعہ تمہارا، یہ دونوں قطعے رہیں اور اگر وہاں کوئی اور صاحب شاعر ہوں، تو وہ بھی کہیں۔ اِس عبارت سے یہ نہ سمجھنا کہ روے سخن ساری خدائی کی طرف ہے، بلکہ خاص یہ اِشارہ بھائی کی طرف ہے۔ مولانا "حقیر" کو توجہ اِس باب میں چاہیے اور اون کا نام بھی اِس کتاب میں چاہیے۔

اِس خط کو لکھ کر بند کر چکا تھا کہ ڈاک کا ہرکارہ میرے مشفق منشی شیو نراین صاحب کا خط لایا۔ بارے، قصیدے کا مسودہ پہنچ گیا اور منشی صاحب نے اوس کا چھاپنا قبول کیا۔ یہ تشویش بھی رفع ہوگئی۔ آپ اون سے میرا سلام کہیے گا اور یہ کہیے گا:

شکر رافتہاے تو چندانکہ رافتہاے تو۔

اور یہ اون کو اِطلاع دیجیے گا کہ اخبار کا لفافہ ہرگز مجھ کو نہیں پہنچا؛ ورنہ کیا اِمکان تھا کہ میں اوس کی رسید نہ لکھتا؟

خط ۹

بھائی صاحب،

آپ کے خامۂ مشکبار کی صریر نے کتابوں کی لوح طلائی کا آوازہ یہاں تک پہنچایا؛ بلکہ مجھ کو اون کی لوحوں کا ہر خط طلائی مانند شعاعِ آفتاب نظر آیا۔ کیا پوچھنا ہے، اور کیا کہنا! مجھ کو تو، بموجب اِس مصرع کے:

خاموشی از ثناے تو حد ثناے تست،

دل میں خوش ہو کر چپ رہنا ہے!

حضرت، مدح کو ایک موقع ضرور ہے؛ مجھ کو آپ کے حکم کا بجا لانا منظور ہے۔ اِس نذر کے پہنچنے کے بعد جب کوئی اون کا عنایت نامہ آئے گا، تو بندۂ درگاہ مدح‌گستری کا جوہر دکھائے گا۔ اوس نظم میں آپ کا ذکر خیر بھی آ جائے گا۔ اب یہ تو فرمائیے کہ مدت اِنتظار کب انجام پائے گی اور کتابوں کی روانگی کی خبر مجھ کو کب آئے گی؟ آپ کی فرطِ توجہ کا سب طرح یقین ہے۔ سیاہ قلم کی پانچوں لوحیں بھی اگر بن گئی ہوں، تو کچھ عجب نہیں ہے۔ جلدوں کا بننا، البتہ چھاپے کے اِختتام پر موقوف ہے۔ معلوم تو ہوتا ہے کہ بھائی نبی بخش صاحب اور ہمارے شفیق منشی‌شیو نراین صاحب کی ہمت اوس کے جلد انجام ہونے پر مصروف ہے۔ یارب، اِسی اکتوبر کے مہینے میں یہ کام انجام پا جائے اور چالیس جلدوں کا پشتارا میرے پاس آ جائے -

”مرزا تفتہ“ کو کیا دوں اور کیا لکھوں؟ مگر دعا دوں اور دعا لکھوں - صاحب، اب ڈھیل نہ کرو، کام میں تعجیل کرو -

ای ز فرصت بےخبر، در ہرچہ باشی زود باش -

خدا کرے، نثر کی تحریر انجام پا گئی ہو اور قصیدے کے چھاپے کی نوبت آ گئی ہو - قصیدے کا نثر سے پہلے لگانا از راہ اکرام و اعزاز ہے؛ ورنہ نثر میں اور صنعت، اور نظم کا اور انداز ہے - یہ اوس کا دیباچہ کیوں ہو؟ بلکہ صورت اِن دونوں کے اجماع کی یوں ہو کہ سررشتۂ آمیزش توڑ دیا جائے اور قصیدے کے اور ”دستنبو“ کے بیچ میں ایک ورق سادہ چھوڑ دیا جائے - راے اُمید سنگھ کا کوئی خط اگر اندور سے آیا ہو، تو مجھ کو بھی آگہی دو - چاہو تمہیں ابتدا کرو اور ایک خط اون کو لکھو اور اوس کا پرداز اِس بات پر رکھو کہ اب وہ کتابیں تیار ہونے کو آئی ہیں، آپ کی خدمت میں کہاں بھیجی جائیں اور کیا پتا لکھا جائے - یہ خط جواب‌طلب ہو جائے گا اور اون کو جواب لکھنا پڑے گا -

خط ۱۰

مرزا صاحب،

میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلے کو مکالمہ بنا دیا ہے - ہزار کوس سے بزبانِ قلم باتیں کیا کرو، ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو - کیا تم نے مجھ سے بات کرنے کی قسم کھائی ہے؟ اِتنا تو کہو کہ یہ کیا بات تمہارے جی میں آئی ہے؟ برسوں ہوگئے کہ تمہارا خط نہیں آیا؛ نہ اپنی خیروعافیت لکھی نہ کتابوں کا بیورا بھجوایا - ہاں، ”مرزا تفتہ“ نے ہاترس سے یہ خبر دی ہے کہ پانچ ورق پانچ کتابوں کے آغاز کے اون کو دے آیا ہوں اور اونھوں نے سیاہ قلم کی لوحوں کی تیاری کی ہے - یہ تو بہت دن ہوئے جو تم نے خبر دی ہے کہ دو کتابوں کی طلائی لوح مرتب ہوگئی ہے - پھر اب اون دو کتابوں کی جلدیں بن جانے کی کیا خبر ہے؟ اور اِن پانچ کتابوں کے تیار ہونے میں درنگ کس قدر ہے؟ مہتمم مطبع کا خط پرسوں آیا تھا، وہ لکھتے ہیں کہ تمہاری چالیس کتابیں بعد منہائی لینے سات جلدوں کے اِسی ہفتے میں تمہارے پاس پہنچ جائیں گی - اب حضرت اِرشاد کریں کہ یہ سات جلدیں کب آئیں گی - ہر چند کاریگروں کے دیر لگانے سے تم بھی مجبور ہو، مگر ایسا کچھ لکھو کہ آنکھوں کی نگرانی اور دل کی پریشانی دور ہو - خدا کرے، اون تینتیس جلدوں کے ساتھ یا دو تین روز آگے پیچھے یہ سات جلدیں آپ کی عنایتی بھی آئیں، تا خاص و عام کو جا بجا بھیجی جائیں -

میرا کلام میرے پاس کبھی کچھ نہیں رہا - ضیاءالدین خاں اور حسین مرزا جمع کر لیتے تھے - جو میں نے کہا اونھوں نے لکھ لیا - اون دونوں کے گھر لٹ گئے، ہزاروں روپئے کے کتاب خانے برباد ہوئے - اب میں اپنے کلام کے دیکھنے کو ترستا ہوں - کئی دن ہوئے کہ ایک فقیر، کہ وہ خوش‌آواز بھی ہے اور زمزمہ‌پرداز بھی ہے، ایک غزل میری کہیں سے لکھوا لایا، اوس نے وہ کاغذ جو مجھ کو دکھایا، یقین سمجھنا کہ مجھ کو رونا آیا - غزل تم کو بھیجتا ہوں اور صلے میں اوس کے اِس خط کا جواب چاہتا ہوں -

غزل

درد منت کش دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو؟اِک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا

رہزنی ہے، کہ دلستانی ہے؟لے کے دل، دلستاں روانہ ہوا

ہے خبر گرم اون کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا!

زخم، گر دب گیا؛ لہو نہ تھماکام، گر رک گیا؛ روا نہ ہوا

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیبگالیاں کھا کے بےمزا نہ ہوا!

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا!

جان دی، دی ہوئی اوسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں:آج ”غالب“ غزل‌سرا نہ ہوا -

خط ۱۱

بھائی صاحب،

مطبع میں سے سادہ کتابیں یقین ہے کہ آج کل بھیجی جائیں اور پس و پیش سات جلدیں آپ کی بنوائی ہوئی بھی آئیں - بالفعل ایک اور عقدہ سررشتۂ خیال میں پڑا ہے، یعنی از روے اخبارِ ”مفیدِ خلائق“ ذہن یوں لڑا ہے، کہ اِس ہفتے میں جناب اِڈمنسٹن صاحب بہادر آگرے آئیں گے اور وسادۂ لفٹنٹ گورنری پر اِجلاس فرمائیں گے - اِس صورت میں اغلب ہے کہ ولیم میور صاحب بہادر اون کی جگہ چیف سکرتر بن جائیں گے - پھر دیکھیے کہ یہ محکمۂ لفٹنٹ گورنری میں اپنا سکرتر کس کو بنائیں گے؛ میر منشی اِس محکمے کے تو وہی منشی غلام غوث خاں رہیں گے - دیکھیے، ہمارے منشی مولوی قمرالدین خاں کہاں رہیں گے - بہر حال، آپ سے یہ اِستدعا ہے کہ پہلے کتابوں کا احوال لکھیے اور پھر جدا جدا جواب ہر سوال کا لکھیے - جب تک اِڈمنسٹن صاحب بہادر چیف سکرتر تھے، تو یہ خیال میں تھا کہ اون کی نذر اور نواب گورنر جنرل بہادر کی نذر یعنی دو کتابیں مع اپنے خط کے اون کے پاس بھیجوں گا - اب حیران ہوں کہ کیا کروں؟ آیا اون کی جگہ سکرتر کون ہوا؟ اور یہ جو لفٹنٹ گورنر ہوئے، تو اِنھوں نے سکرتر کس کو کیا؟ میر منشی لفٹنٹ گورنر کا کون رہا اور گورنر جنرل کا میر منشی کون ہے؟ جو آپ کو معلوم ہو وہ، اور جو نہ معلوم ہو وہ دریافت کر کر، لکھیے - قمرالدین خاں کا حال ضرور، منشی غلام غوث خاں کا حال پر ضرور - بھائی میرے سر کی قسم، اِس خط کا جواب ضرور لکھنا اور مفصل لکھنا اور ایسا واضح لکھنا کہ مجھ سا کند ذہن اچھی طرح اوس کو سمجھ لے - زیادہ کیا لکھوں؟

خط ۱۲

بھائی جان،

کل جو جمعہ، روزِ مبارک و سعید، تھا؛ گویا میرے حق میں روزِ عید تھا - چار گھڑی دن رہے نامۂ فرحت فرجام اور چار گھڑی کے بعد وقتِ شام:

سات جلدوں کا پارسل پہنچاواہ کیا خوب بر محل پہنچا -

آدمی کو موافق اوس کی تمنا کے آرزو بر آنی بہت محال ہے؛ میری آرزو ایسی بر آئی کہ وہ برتر از وہم و خیال ہے - یہ بناو تو میرے تصور میں بھی نہیں گزرتا تھا - میں تو صرف اِسی قدر خیال کرتا تھا کہ جلدیں بندھی ہوئی، دو کی لوحیں زریں اور پانچ کی لوحیں سیاہ قلم کی ہوں گی - واللہ! اگر تصور میں بھی گزرتا ہو کہ کتابیں اِس رقم کی ہوں گی - جب تک جہان ہے تم جہان میں رہو، ائمۂ اطہار علیہم السلام کی امان میں رہو - میرا مقصود یہ تھا کہ ایک کتاب مثل اون چار کے بن جائے، نہ یہ کہ دو کتابوں کا سا رنگ دکھلائے - اب میں حیران ہوں کہ آیا شمارِ ائمہ نے اِون بارہ روپئے میں برکت دی یا کچھ تمہارا روپیہ صرف ہوا؟ دو پارسلوں کا محصول، دو رجسٹریوں کا معمول، تین کتابوں کی لوحیں طلائی، یہ ساری بات اِس روپئے میں کس طرح بن آئی؟ اور کیوں کر معلوم کروں؟ کس سے پوچھوں؟ خدا کرے، تم تکلّف نہ کرو اور اِس امر کے اِظہار میں توقّف نہ کرو - خفقانی آدمی کو بغیر حال معلوم ہوئے آرام نہیں آتا - جہاں محبتیں دینی اور روحانی ہوں وہاں تکلف کام نہیں آتا - زیادہ اِس سے کہ شکرگزار ہوں اور شرمسار ہوں کیا لکھوں؟ -

چارہ خاموشیست چیزے را کہ از تحسین گزشت -

[۲۰ نومبر ۱۸۵۸ع] -

خط ۱۳

بندہ پرور،

آپ کا خط کل پہنچا، آج جواب لکھتا ہوں - داد دینا کتنا شتاب لکھتا ہوں - مطالب مندرجہ کے جواب کا بھی وقت آتا ہے - پہلے تم سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ برابر کئی خطوں میں تم کو غم و اندوہ کا شکوہ‌گزار پایا ہے - پس اگر کسی بے درد پر دل آیا ہے، تو شکایت کی کیا گنجایش ہے؟ بلکہ یہ غم تو، نصیبِ دوستاں، درخور افزایش ہے - بقول ”غالب“ علیہ الرحمۃ:

کسی کو دے کے دل، کوئی نواسنجِ فغاں کیوں ہو؟نہ ہو جب دل ہی پہلو میں، تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو؟

ہے ہے! حسنِ مطلع:

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے؟ہوا تو دوست جس کا، دشمن اوس کا آسماں کیوں ہو؟

افسوس ہے کہ اِس غزل کے اور اشعار یاد نہ آئے - اور اگر، خدا نہ خواستہ باشد، غم دنیا ہے؛ تو بھائی، ہمارے ہمدرد ہو - ہم اِس بوجھ کو مردانہ اوٹھا رہے ہیں، تم بھی اوٹھاؤ، اگر مرد ہو - بقول غالب مرحوم:

دلا یہ درد و الم ہے، تو مغتنم ہے کہ آخرنہ گریۂ سحری ہے، نہ آہ نیم شبی ہے -

”سحر ہوگی“، ”خبر ہوگی“؛ اِس زمین میں وہ شعر یعنی:

تمہارے واسطے، دل سے مکاں کوئی نہیں بہترجو آنکھوں میں تمہیں رکھوں، تو ڈرتا ہوں؛ نظر ہوگی

کتنا خوب ہے اور اُردو کا کیا اچھا اُسلوب ہے! قصیدے کا مشتاق ہوں - خدا کرے، جلد چھاپا جائے تو ہمارے دیکھنے میں بھی آئے - ”کیا کہیے“، ”بھلا کہیے“؛ یہ زمین ایک بار یہاں طرح ہوئی تھی - مگر بحر اور ہی تھی -

کہوں جو حال، تو کہتے ہو: مدعا کہیےتمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو، تو کیا کہیے

رہے نہ جان، تو قاتل کو خوں‌بہا دیجےکٹے زبان، تو خنجر کو مرحبا کہیے

سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا، ”غالب“خدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے

اور وہ جو ”فعلاتن فعلاتن فعلن“ یہ بحر ہے، اوس میں ایک میرا قطعہ ہے - وہ میں نے کلکتے میں کہا تھا - تقریب یہ کہ مولوی کرم حسین صاحب ایک میرے دوست تھے، اونھوں نے ایک مجلس میں ”چکنی ڈلی“ بہت پاکیزہ اور بےریشہ اپنے کف دست پر رکھ کر مجھ سے کہا کہ اِس کی کچھ تشبیہات نظم کیجیے - میں نے وہاں بیٹھے بیٹھے نو دس شعر کا قطعہ کہہ کر اون کو دیا اور صلے میں وہ ”ڈلی“ اون سے لی - اب سوچ رہا ہوں - جو شعر یاد آتے جاتے ہیں لکھتا جاتا ہوں:

ہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلی؛زیب دیتا ہے اِسے جس قدر اچھا کہیے

خامہ انگشت بہ دنداں کہ اِسے کیا لکھیےناطقہ سر بہ گریباں کہ اِسے کیا کہیے

اخترِ سوختۂ قیس سے نسبت دیجےخالِ مشکینِ رخِ دلکشِ لیلیٰ کہیے

حجر الاسودِ دیوارِ حرم کیجیے فرضنافہ آہوے بیابانِ ختن کا کہیے

صومعے میں اِسے ٹھہرائیے گر مہرِ نمازمیکدے میں اِسے خشتِ خُم صہبا کہیے

مسی آلودہ سرانگشتِ حسیناں لکھیےسرپستانِ پریزاد سے مانا کہیے

غرض کہ بیس بائیس پھبتیاں ہیں - اشعار سب کب یاد آتے ہیں؟ اخیر کی بیت یہ ہے:

اپنے حضرت کے کفِ دست کو دل کیجیے فرضاور اِس چکنی سپاری کو سُویدا کہیے -

لو حضرت، آپ کے خط کے جواب نے انجام پایا - اب میرا دردِ دل سنو - برخوردار منشی شیو نراین نے میرے دو خطوں کا جواب نہیں لکھا، اور وہ خطوط جواب طلب تھے - تم اون کو میری دعا کہو اور کہو کہ میاں میرا کام بند ہے؛ اوس مطلب خاص کا جواب جلد لکھو - یعنی اگر وہ کتاب بن چکی ہے، تو جلد بھیجو اور اگر اوس کے بھیجنے میں دیر ہی ہو، تو یہ لکھ بھیجو کہ وہ سیاہ قلم کی لوح کی ہے یا طلائی؟

خط ۱۴

خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ آپ کو اپنی طرف متوجہ پاتا ہوں - ”مرزا تفتہ“ کا خط جو آپ نے نقل کر کر بھیج دیا ہے، میں نے منشی شیو نراین کا بھیجا ہوا اصل خط دیکھ لیا ہے - اگر تم مناسب جانو تو ایک بات میری مانو: ”رقعاتِ عالمگیری“ یا ”اِنشاے خلیفہ“ اپنے سامنے رکھ لیا کرو، جو عبارت اوس میں سے پسند آیا کرے، وہ خط میں لکھ دیا کرو - خط مفت میں تمام ہو جایا کرے گا اور تمہارے خط کے آنے کا نام ہو جایا کرے گا - اگر کبھی کوئی قصیدہ کہا اوس کا دیکھنا مشاہدۂ اخبار پر موقوف رہا:

براتِ عاشقاں بر شاخِ آہو -

واقعی، جو اخبار آگرے سے دلی آتے ہیں، وہ میرے سامنے پڑھے جاتے ہیں - صاحب، ہوش میں آؤ اور مجھ کو بتاؤ کہ یہاں جو پارسیوں کی دکانوں میں ”فرنچ“ اور ”شام پین“ کے درجن دھرے ہوئے ہیں یا ساہوکاروں کے اور جوہریوں کے گھر روپئے اور جواہر سے بھرے ہوئے ہیں، میں کہاں وہ شراب پینے جاؤں گا اور وہ مال کیوں کر اُٹھاؤں گا؟ بس، اب زیادہ باتیں نہ بنائیے اور وہ قصیدہ مجھ کو بھجوائیے - میں نے کتابیں جا بجا بہ سبیلِ پارسل اِرسال کی ہیں - اگرچہ پہنچنے کی خبر پائی ہے، مگر نوید قبول ابھی کہیں سے نہیں آئی ہے -

رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا؟

دیکھنا بھائی، اِس غزل کا مطلع کیا ہے؟

غزل

جور سے باز آئیں، پر باز آئیں کیا؟کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا؟

موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جاے،آستانِ یار سے اوٹھ جائیں کیا؟

لاگ ہو تو اوس کو ہم سمجھیں لگاوجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

پوچھتے ہیں وہ کہ ”غالب“ کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

غزل نا تمام ہے -

ہے بسکہ ہر اِک اون کے اِشارے میں نشاں اورکرتے ہیں محبت، تو گزرتا ہے گماں اور

تم شہر میں ہو، تو ہمیں کیا غم؟ جب اوٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے، جا کر، دل و جاں اور

لوگوں کو ہے خورشید جہاں‌تاب کا دھوکاہر روز دکھاتا ہوں میں اِک داغ نہاں اور

ابرو سے ہے کیا اوس نگہ ناز کو پیوند؟ہے تیر مقرر، مگر اوس کی ہے کماں اور

یا رب! وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری باتدے اور دل اون کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

ہر چند سبک‌دست ہوئے بت‌شکنی میں؛ہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور

پاتے نہیں جب راہ، تو چڑھ جاتے ہیں نالےرکتی ہے مری طبع، تو ہوتی ہے رواں اور

مرتا ہوں اِس آواز پہ ہر چند سر اوڑ جائےجلّاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ’ہاں اور‘

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھےکہتے ہیں کہ ”غالب“ کا ہے انداز بیاں اور

دوشنبے کا دن، ۲۰ دسمبر کی؛ صبح کا وقت ہے، انگیٹھی رکھی ہوئی ہے، آگ تاپ رہا ہوں اور خط لکھ رہا ہوں - یہ اشعار یاد آ گئے تم کو لکھ بھیجے -

و السلام -

[۱۸۵۸ع] -

خط ۱۵

شرط اِسلام بود ورزش ایمان بالغیباے تو غائب ز نظر، مہر تو ایمان من ست -

حلیۂ مبارک نظر افروز ہوا - جانتے ہو کہ مرزا یوسف علی خاں ”عزیز“ نے جو کچھ تم سے کہا اوس کا منشا کیا ہے؟ کبھی میں نے بزم احباب میں کہا ہوگا کہ مرزا حاتم علی کے دیکھنے کو جی چاہتا ہے، سنتا ہوں کہ وہ طرح‌دار آدمی ہیں اور بھائی تمہاری طرح‌داری کا ذکر میں نے مغل جان سے سنا تھا - جس زمانے میں کہ وہ نواب حامد علی خاں کی نوکر تھی اور اون میں مجھ میں بےتکلفانہ ربط تھا، تو اکثر ”مغل“ سے پہروں اِختلاط ہوا کرتے تھے - اوس نے تمہارے شعر اپنی تعریف کے بھی مجھ کو دکھائے ہیں - بہر حال، تمہارا حلیہ دیکھ کر تمہارے کشیدہ قامت ہونے پر مجھ کو رشک نہ آیا؛ کس واسطے [کہ] میرا قد بھی درازی میں انگشت‌نما ہے - تمہارے گندمی رنگ پر رشک نہ آیا؛ کس واسطے کہ جب میں جیتا تھا، تو میرا رنگ چنپئی تھا اور دیدہ‌ور لوگ اوس کی ستایش کیا کرتے تھے - اب جو کبھی مجھ کو وہ اپنا رنگ یاد آتا ہے، تو چھاتی پر سانپ سا پھر جاتا ہے - ہاں، مجھ کو رشک آیا، اور میں نے خونِ جگر کھایا، تو اِس بات پر کہ ڈاڑھی خوب گھٹی ہوئی ہے - وہ مزے یاد آ گئے - کیا کہوں، جی پر کیا گزری، بقولِ شیخ علی حزیں:

تا دسترسم بود، زدم چاک گریبانشرمندگی از خرقۂ پشمینہ ندارم -

جب ڈاڑھی مونچھ میں سفید بال آ گئے، تیسرے دن چیونٹی کے انڈے گالوں پر نظر آنے لگے؛ اِس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے؛ ناچار مسی بھی چھوڑ دی اور ڈاڑھی بھی - مگر یہ یاد رکھیے کہ اِس بھونڈے شہر میں ایک وردی ہے عام: ملا، حافظ، بساطی، نیچہ بند، دھوبی، سقا، بھٹیارا، جولاہہ، کنجڑا: منُہ پر ڈاڑھی، سر پر بال - فقیر نے جس دن ڈاڑھی رکھی، اوسی دن سر منڈوایا - لا حول و لا قوۃ اِلّا باللّٰہ العلی العظیم، کیا بک رہا ہوں!

صاحب، بندے نے ”دستنبو“ جنابِ اشرف الامرا جارج فریڈرک اِڈمنسٹن صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر غرب و شمال کی نذر بھیجی تھی؛ سو اون کا فارسی خط محررۂ دہم مارچ مشتمل بر تحسین و آفرین و اِظہار خوشنودی بہ طریقِ ڈاک آ گیا - پھر میں نے تہنیت میں لفٹنٹ گورنری کی قصیدۂ فارسی بھیجا، اوس کی رسید میں نظم کی تعریف اور اپنی رضامندی پر متضمن خط فارسی بہ سبیلِ ڈاک مرقومۂ چہاردہم آ گیا - پھر ایک قصیدۂ فارسی مدح اور تہنیت میں جناب رابرٹ منٹگمری صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب کی خدمت میں بواسطۂ صاحب کمشنر بہادرِ دہلی بھیجا تھا، کل اون کا مُہری خط بذریعۂ صاحب کمشنر بہادر دہلی آ گیا - پنشن کے باب میں ابھی کچھ حکم نہیں - اسباب توقع کے فراہم ہوتے جاتے ہیں - دیر آید درست آید - اناج کھاتا ہی نہیں ہوں، آدھ سیر گوشت دن کو اور پاؤ بھر شراب رات کو ملے جاتی ہے -

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے -

اگر ہم فقیر سچے ہیں اور اِس غزل کے طالب کا ذوق پکا ہے، تو یہ غزل اِس خط سے پہلے پہنچ گئی ہوگی - رہا سلام، وہ آپ پہنچا دیں گے -

[۱۸۵۹ع] -

خط ۱۶

جناب مرزا صاحب،

”دلی کا حال“ تو یہ ہے:

گھر میں تھا کیا، جو ترا غم اوسے غارت کرتا؟وہ جو رکھتے تھے ہم اِک حسرت تعمیر، سو ہے -

یہاں دھرا کیا ہے، جو کوئی لوٹے گا؟ وہ خبر محض غلط ہے - اگر کچھ ہے، تو بدیں نمط ہے کہ چند روز گوروں نے اہلِ بازار کو ستایا تھا - اہلِ قلم اور اہلِ فوج نے بہ اِتفاق راے ہمدگر ایسا بندوبست کیا کہ وہ فساد مٹ گیا - اب امن و امان ہے - ”ناسخ“ مرحوم جو تمہارے اُستاد تھے میرے بھی دوست صادق الوداد تھے - مگر یک فنی تھے، صرف غزل کہتے تھے، قصیدے اور مثنوی سے اون کو کچھ علاقہ نہ تھا - سبحان اللّٰہ! تم نے قصیدے میں وہ رنگ دکھایا کہ ”اِنشا“ کو رشک آیا - مثنوی کے اشعار جو میں نے دیکھے، کیا کہوں، کیا حظ اُوٹھایا -

خدا سے میں بھی چاہوں از رہِ مہرفروغ میرزا حاتم علی ”مہر“ -

اگر اِسی انداز پر انجام پائے گی، تو یہ مثنوی کارنامۂ اُردو کہلائے گی - خدا تم کو جیتا رکھے، تمہارا دم غنیمت ہے - صاحب، میں تم سے پوچھتا ہوں کہ ”معیار الشعرا“ میں تم نے اپنا خط کیوں چھپوایا؟ تمہارے ہات کیا آیا؟ سنو تو سہی، اگر سب کا کلام اچھا ہو، تو اِمتیاز کیا رہے؟

[۱۸۵۹ع] -

خط ۱۷

جناب مرزا صاحب،

آپ کا غم‌افزانامہ پہنچا؛ میں نے پڑھا، یوسف علی خاں ”عزیز“ کو پڑھوا دیا - اُنھوں نے جو میرے سامنے اوس مرحومہ کا اور آپ کا معاملہ بیان کیا، یعنی اوس کی اِطاعت اور تمہاری اوس سے محبت، سخت ملال ہوا اور رنج کمال ہوا - سنو صاحب، شعرا میں ”فردوسی“ اور فقرا میں ”حسن بصری“ اور عشاق میں ”مجنون“، یہ تین آدمی تین فن میں سردفتر اور پیشوا ہیں - شاعر کا کمال یہ ہے کہ ”فردوسی“ ہو جائے - فقیر کی اِنتہا یہ ہے کہ ”حسن بصری“ سے ٹکر کھائے - عاشق کی نمود یہ ہے کہ ”مجنون“ کی ہم‌طرحی نصیب ہووے - لیلیٰ اوس کے سامنے مری تھی، تمہاری محبوبہ تمہارے سامنے مری، بلکہ تم اوس سے بڑھ کر ہوئے کہ لیلیٰ اپنے گھر میں، اور تمہاری معشوقہ تمہارے گھر میں مری - بھئی، مغلچے بھی غضب ہوتے ہیں - جس پر مرتے ہیں اوس کو مار رکھتے ہیں - میں بھی مغلچہ ہوں، عمر بھر میں ایک بڑی ستم‌پیشہ ڈومنی کو میں نے بھی مار رکھا ہے - خدا اون دونوں کو بخشے اور ہم تم دونوں کو بھی، کہ زخمِ مرگ دوست کھائے ہوئے ہیں، مغفرت کرے - چالیس بیالیس برس کا یہ واقعہ ہے - با آنکہ یہ کوچہ چُھٹ گیا، اِس فن سے میں بیگانۂ محض ہوگیا، لیکن اب بھی کبھی کبھی وہ ادائیں یاد آتی ہیں - اوس کا مرنا زندگی بھر نہ بھولوں گا - جانتا ہوں کہ تمہارے دل پر کیا گزرتی ہوگی - صبر کرو اور اب ہنگامۂ عشقِ مجازی چھوڑو -

”سعدی“ اگر عاشقی کنی و جوانیعشقِ محمد بس است و آلِ محمد -

اللّٰہ بس، ما سویٰ ہوس -

خط ۱۸

مرزا صاحب،

ہم کو یہ باتیں پسند نہیں - پینسٹھ برس کی عمر ہے، پچاس برس عالمِ رنگ و بو کی سیر کی ہے - اِبتداے شباب میں ایک مرشدِ کامل نے یہ نصیحت کی ہے کہ ہم کو زہد و ورع منظور نہیں، ہم مانع فسق و فجور نہیں - پیو، کھاؤ، مزے اوڑاؤ؛ مگر یہ یاد رہے کہ مصری کی مکھی بنو، شہد کی مکھی نہ بنو - سو میرا اِس نصیحت پر عمل رہا ہے - کسی کے مرنے کا وہ غم کرے، جو آپ نہ مرے - کیسی اشک‌فشانی، کہاں کی مرثیہ‌خوانی؟ آزادی کا شکر بجا لاؤ، غم نہ کھاؤ؛ اور اگر ایسے ہی اپنی گرفتاری سے خوش ہو، تو چنّا جان نہ سہی، منّا جان سہی - میں جب بہشت کا تصور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اگر مغفرت ہوگئی اور ایک قصر ملا اور ایک حور ملی؛ اِقامت جاودانی ہے اور اوسی ایک نیک بخت کے ساتھ زندگانی ہے - اِس تصور سے جی گھبراتا ہے اور کلیجا منہ کو آتا ہے - ہے ہے، وہ حور اجیرن ہو جائے گی، طبیعت کیوں نہ گھبرائے گی؟ وہی زمردین کاخ اور وہی طوبیٰ کی ایک شاخ، چشم بد دور، وہی ایک حور! بھائی ہوش میں آؤ؛ کہیں اور دل لگاؤ -

زنِ نو کن، اے دوست، در ہر بہارکہ تقویم پارینہ ناید بکار -

مرزا مظہر کے اشعار کی تضمین کا مسدس دیکھا؛ فکر سراپا پسند، ذکر بہ ہمہ جہت ناپسند - اپنے نام کا خط مع اون اشعار کے مرزا یوسف علی خاں ”عزیز“ کے حوالے کیا -

مکرمی نواب محمد علی خاں صاحب کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہوں - پروردگار اون کو سلامت رکھے -

مولوی عبدالوہاب صاحب کو میرا سلام - دم دے کے مجھ سے فارسی عبارت میں خط لکھوایا، میں منتظر رہا کہ آپ لکھنئو جائیں گے، وہ عبارت جناب قبلہ و کعبہ کو دکھائیں گے، اون کے مزاجِ اقدس کی خیر و عافیت مجھ کو رقم فرمائیں گے - میں کیا جانوں کہ حضرت میرے وطن میں جلوہ افروز ہیں -

یار در خانہ و ما گردِ جہاں می گردیم -

اب مجھے اون سے یہ اِستدعا ہے کہ دستخط خاص سے مجھ کو خط لکھیں اور لکھنئو نہ جانے کا سبب اور جناب قبلہ و کعبہ کا حال جو کچھ معلوم ہو، وہ اوس خط میں درج کریں -

[۱۸۶۰ع] -

صاحبزادہ زین‌العابدین خاں عرف کلن میاں، رام پور

خط ۱

بندہ پرور،

مہربانی‌نامہ پہنچا - میں تو سمجھا تھا آپ مجھ کو بھول گئے، بارے یاد کیا - جناب نواب صاحب میرے محسن اور میرے قدردان اور میری امیدگاہ ہیں - میں اگر رامپور نہ آؤں گا تو کہاں جاؤں گا - یہ جو آپ کہتے ہیں کہ تجھ کو آنے میں تردد کیا ہے - تردد کچھ نہیں؛ توقف ہے - وجہ توقف کی یہ کہ میں نے اپنے پنسن کے باب میں چیف کمشنر بہادر کو درخواست دی تھی - وہاں سے صاحب کمشنر شہر کے وہ درخواست حوالے ہوئی - صاحب کمشنر دہلی نے صاحب کلکٹر شہر سے کیفیت طلب کی ہے - پس اگر وہ کیفیت پنسن کی ہے؛ تو یہاں کی کلکٹری کا دفتر اگر نہیں رہا نہ رہے - ریوِنُو بورڈ کے دفتر اور لفٹنٹ گورنری آگرہ اور نواب گورنر جنرل کلکتہ کے دفتر اِس پنسن کی کیفیت سے خالی نہیں ہیں - اور اگر میری کیفیت مطلوب ہے، تو میرا بے جرم اور بری اور الگ ہونا فساد سے از روے دفتر قلعہ و اِظہار مخبرین ظاہر ہے - بہر حال صاحب کمشنر شہر، کیفیت صاحب کلکٹر سے طلب کر کر، چیف کمشنر کے ساتھ پنجاب کو گئے ہیں - دیکھیے کب آویں؛ اور بعد ملاحظۂ کیفیت کیا حکم دیں - مگر تا صدور حکم میں یہاں سے کہیں جا نہیں سکتا - ہاں بعد ملنے حکم کے، خواہی دلخواہ ہو خواہی مخالفِ مدعا، دونوں صورت میں، رامپور آؤں گا - مگر حیران ہوں کہ جب تک یہاں رہوں، کھاؤں کیا؛ اور جب چلنے کا قصد ہو، تو رامپور کس طرح پہنچوں - کیا خوب ہو کہ تم یہ رقعہ اپنے نام کا حضور کو یعنی حضرت نواب صاحب کو پڑھوا کر اِس مدعاے خاص کا جواب، جو وہ فرمائیں، مجھ کو لکھ بھیجو - لیکن تم سے یہ توقع کیوں کر پڑے؟ کس واسطے کہ تم نے اُردو دیوان کے پہنچنے نہ پہنچنے کا حال جناب عالی سے دریافت کر کر کب لکھا ہے، جو اِس بات کا جواب لکھو گے - زیادہ اِس سے کیا لکھوں؟

نگاشتہ و رواں داشتۂ پنجشنبہ، ۲۵ مارچ سنہ ۱۸۵۸ع -

ضروری، جواب طلب -

از غالب -

خط ۲

نواب صاحب والا قدر عظیم‌الشان سلمکم اللّٰہ تعالیٰ،

بعد سلام مسنون مشہود خاطر عاطر ہو - سابق آپ کا خط متضمن اُردو کے اِستفتاے روزمرہ کا آیا تھا - اوس کا جواب جو مجھے معلوم تھا لکھ بھیجا - اب جو دوسرا خط آیا، اوس میں آپ نے اپنے اشعار بہ توقع اِصلاح بھیجے ہیں - آپ کو معلوم رہے کہ میں خاص خدمت اِصلاح اشعار پر جناب نواب صاحب قبلہ کا نوکر ہوں، اور آپ حضور کے عزیزوں میں اور فرزندوں میں ہیں - پس میں بے حکم حضور کے آپ کی خدمت بجا نہیں لا سکتا - ناچار کاغذ اشعار مسترد بھیجتا ہوں - یہ امر، یقین ہے کہ، موجب ملال خاطر اقدس نہ ہوگا - بندگی بیچارگی - زیادہ اِس سے کیا لکھوں کہ مدعاے ضروری‌الاظہار اِسی قدر تھا - والسلام -

۱۴ مارچ سنہ ۱۸۶۵ع -

راقم: اسد اللّٰہ خاں غالب -

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。