
Capítulo 6 de 6
Gazales 51–60: ¿Cuándo no se leerá el gazal de Mir?
Ghazals 51–60: When Will Mir's Ghazal Not Be Read?
غزلیں ۵۱ تا ۶۰: غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں
۵۱۔ آج کل بے قرار ہیں ہم بھی
آج کل بے قرار ہیں ہم بھیبیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی
آن میں کچھ ہیں آن میں کچھ ہیںتحفۂ روزگار ہیں ہم بھی
منعِ گریہ نہ کر تو اے ناصحاس میں بے اختیار ہیں ہم بھی
درپئے جاں ہے قراولِ مرگکسو کے تو شکار ہیں ہم بھی
نالے کریو سمجھ کے اے بلبلباغ میں یک کنار ہیں ہم بھی
مدعی کو شراب ہم کو زہرعاقبت دوست دار ہیں ہم بھی
مضطرب گریہ ناک ہے یہ گلبرقِ ابرِ بہار ہیں ہم بھی
گر ز خود رفتہ ہیں ترے نزدیکاپنے تو یادگار ہیں ہم بھی
میرؔ نام اک جواں سنا ہوگااسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی
۵۲۔ اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہواچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوارِ وعدۂ دیدار مر چلےآتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیںکچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیںمعلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابرِ کرم کی کیا خجلاے چشم جوشِ اشکِ ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرفاے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پرکیا جانیے کہ حالِ نہایت کو کیا ہوا
۵۳۔ گل کو محبوب ہم قیاس کیا
گل کو محبوب ہم قیاس کیافرق نکلا بہت جو پاس کیا
دل نے ہم کو مثالِ آئینہایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بنشوق نے ہم کو بے حواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانےقیس کی آبرو کا پاس کیا
دورِ چرخ سے نکل نہ سکےضعف نے ہم کو مورِ طاس کیا
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہیکیا پتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیںسو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباںمیرؔ کو تم عبث اداس کیا
۵۴۔ بے یار شہرِ دل کا ویران ہو رہا ہے
بے یار شہرِ دل کا ویران ہو رہا ہےدکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے
اس منزلِ جہاں کے باشندے رفتنی ہیںہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہو رہا ہے
اچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنیآئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہو رہا ہے
گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہےیعنی ہزار جی سے قربان ہو رہا ہے
حالِ زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا توسنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہو رہا ہے
ظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمعِ صبح گاہیایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہو رہا ہے
قرباں گہِ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سودشوار جان دینا آسان ہو رہا ہے
ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تماک روز میرؔ صاحب طوفان ہو رہا ہے
۵۵۔ آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی
آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھیدیوانگی کسو کی بھی زنجیرِ پا نہ تھی
بیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائےایسی گئی بہار مگر آشنا نہ تھی
کب تھا یہ شورِ نوحہ ترا عشق جب نہ تھادل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی
وہ اور کوئی ہوگی سحر جب ہوئی قبولشرمندۂ اثر تو ہماری دعا نہ تھی
آگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنجلیکن ہماری جان پر ایسی بلا نہ تھی
دیکھے دیارِ حسن کے میں کارواں بہتلیکن کسو کے پاس متاعِ وفا نہ تھی
آئی پری سی پردۂ مینا سے جام تکآنکھوں میں تیری دخترِ رز کیا حیا نہ تھی
اس وقت سے کیا ہے مجھے تو چراغ وقفمخلوق جب جہاں میں نسیم و صبا نہ تھی
پژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میرؔتن میں ہمارے جان کبھو تھی بھی یا نہ تھی
۵۶۔ مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا
مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیاجیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا
دیکھا ہو کچھ اس آمد و شد میں تو میں کہوںخود گم ہوا ہوں بات کی تہہ اب جو پا گیا
کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوںمانندِ ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا
جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میںیک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا
وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سےجوں جوں نیاز کر کے میں اس سے لگا گیا
جورِ سپہرِ دوں سے برا حال تھا بہتمیں شرمِ ناکسی سے زمیں میں سما گیا
دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسےپھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا
بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میرؔصف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا
۵۷۔ عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا
عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایااس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا
حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہعالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا
غیروں ہی کے ہاتھوں میں رہے دستِ نگاریںکب ہم نے ترے ہاتھ سے آزار نہ پایا
جاتی ہے نظر خس پہ گہِ چشم پریدنیاں ہم نے پرِ کاہ بھی بے کار نہ پایا
تصویر کے مانند لگے در ہی سے گزریمجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا
سوراخ ہے سینے میں ہر اک شخص کے تجھ سےکس دل کے طرح تیرِ نگہ پار نہ پایا
مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہلاس باغ میں ہم نے گلِ بے خار نہ پایا
دم بعدِ جنوں مجھ میں نہ محسوس تھا یعنیجامے میں مرے یاروں نے اک تار نہ پایا
آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہمپر سیر ہو اس شخص کا دیدار نہ پایا
وہ کھینچ کے شمشیرِ ستم رہ گیا جو میرؔخوں ریزی کا یاں کوئی سزاوار نہ پایا
۵۸۔ یار نے ہم سے بے ادائی کی
یار نے ہم سے بے ادائی کیوصل کی رات میں لڑائی کی
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھاب توقع نہیں رہائی کی
کلفتِ رنجِ عشق کم نہ ہوئیمیں دوا کی بہت شفائی کی
طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سبدھوم ہے اس کی رہ گرائی کی
خندۂ یار سے طرف ہو کربرق نے اپنی جگ ہنسائی کی
کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میںدیکھ کر کیا یہ آشنائی کی
وصل کے دن کو کارِ جاں نہ کھنچاشب نہ آخر ہوئی جدائی کی
منہ لگایا نہ دخترِ رز کومیں جوانی میں پارسائی کی
جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچےعمر نے سخت بے وفائی کی
کوہ کن کیا پہاڑ توڑے گاعشق نے زور آزمائی کی
چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہےدیر واں ہم نے بے نوائی کی
اک نگہ میں ہزار جی مارےساحری کی کہ دل ربائی کی
نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئیبرسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی
میرؔ کی بندگی میں جاں بازیسیر سی ہو گئی خدائی کی
۵۹۔ ہو گئی شہر شہر رسوائی
ہو گئی شہر شہر رسوائیاے مری موت تو بھلی آئی
یک بیاباں برنگِ صوتِ جرسمجھ پہ ہے بیکسی و تنہائی
نہ کھنچے تجھ سے ایک جا نقاشاس کی تصویر وہ ہے ہرجائی
سر رکھوں اس کے پاؤں پر لیکندستِ قدرت یہ میں کہاں پائی
میرؔ جب سے گیا ہے دل تب سےمیں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی
۶۰۔ غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں
غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیںکہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں
زباں سے ہماری ہے صیاد خوشہمیں اب امیدِ رہائی نہیں
کتابت گئی کب کہ اس شوخ نےبنا اس کی گڈی اڑائی نہیں
نسیم آئی میرے قفس میں عبثگلستاں سے دو پھول لائی نہیں
مری دل لگی اس کے رو سے ہی ہےگلِ تر سے کچھ آشنائی نہیں
نوشتے کی خوبی لکھی کب گئیکتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں
جدا رہتے برسوں ہوئے کیونکہ یہکنایہ نہیں بے ادائی نہیں
گلہ ہجر کا سن کے کہنے لگاہمارے تمہارے جدائی نہیں
سیہ طالعی میری ظاہر ہے ابنہیں شب کہ اس سے لڑائی نہیں
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.