
Capítulo 5 de 6
الغزليات ٤١–٥٠: غمّ مرويّ وراء ستار الشعر
Ghazals 41–50: Grief Told Behind the Veil of Verse
غزلیں ۴۱ تا ۵۰: شعر کے پردے میں غم
۴۱۔ دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلاآ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغہو سکے تو شمع ساں دیجے رگِ گردن جلا
بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہِ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوںبیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تبجب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کیکاٹ اپنی رات کو خار و خسِ گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیابجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سےدوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔدے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
۴۲۔ لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جاناکب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا
ہم جاہ و حشم یاں کا کیا کہیے کہ کیا جاناخاتم کو سلیماں کی انگشترِ پا جانا
یہ بھی ہے ادا کوئی خورشید نمط پیارےمنہ صبح دکھا جانا پھر شام چھپا جانا
کب بندگی میری سی بندہ کرے گا کوئیجانے ہے خدا اس کو میں تجھ کو خدا جانا
تھا ناز بہت ہم کو دانست پر اپنی بھیآخر وہ برا نکلا ہم جس کو بھلا جانا
گردن کشی کیا حاصل مانندِ بگولے کیاس دشت میں سر گاڑے جوں سیل چلا جانا
اس گریۂ خونیں کا ہو ضبط تو بہتر ہےاچھا نہیں چہرے پر لوہو کا بہا جانا
یہ نقش دلوں پر سے جانے کا نہیں اس کوعاشق کے حقوق آ کر ناحق بھی مٹا جانا
ڈھب دیکھنے کا ایدھر ایسا ہی تمہارا تھاجاتے تو ہو پر ہم سے ٹک آنکھ ملا جانا
اس شمع کی مجلس میں جانا ہمیں پھر واں سےاک زخمِ زباں تازہ ہر روز اٹھا جانا
اے شورِ قیامت ہم سوتے ہی نہ رہ جاویںاس راہ سے نکلے تو ہم کو بھی جگا جانا
کیا پانی کے مول آ کر مالک نے گہر بیچاہے سخت گراں سستا یوسف کا بکا جانا
ہے میری تری نسبت روح اور جسد کی سیکب آپ سے میں تجھ کو اے جان جدا جانا
جاتی ہے گزر جی پر اس وقت قیامت سییاد آوے ہے جب تیرا یکبارگی آ جانا
برسوں سے مرے اس کی رہتی ہے یہی صحبتتیغ اس کو اٹھانا تو سر مجھ کو جھکا جانا
کب میرؔ بسر آئے تم ویسے فریبی سےدل کو تو لگا بیٹھے لیکن نہ لگا جانا
۴۳۔ ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا
ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشادیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا
ہر چند شورِ محشر اب بھی ہے در پہ لیکننکلے گا یار گھر سے ہووے گا جب تماشا
بھڑکے ہے آتشِ غم منظور ہے جو تجھ کوجلنے کا عاشقوں کے آ دیکھ اب تماشا
طالع جو میرؔ خواری محبوب کو خوش آئیپر غم یہ ہے مخالف دیکھیں گے سب تماشا
۴۴۔ اب نہیں سینے میں میرے جائے داغ
اب نہیں سینے میں میرے جائے داغسوزِ دل سے داغ ہے بالائے داغ
دل جلا آنکھیں جلیں جی جل گیاعشق نے کیا کیا ہمیں دکھلائے داغ
دل جگر جل کر ہوئے ہیں دونوں ایکدرمیاں آیا ہے جب سے پائے داغ
منفعل ہیں لالہ و شمع و چراغہم نے بھی کیا عاشقی میں کھائے داغ
وہ نہیں اب میرؔ جو چھاتی جلےکھا گیا سارے جگر کو ہائے داغ
۴۵۔ شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہتمرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت
بے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غشدرد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت
وادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار ماردلبرانِ شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت
وا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کاظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت
میرؔ گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہےجب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت
۴۶۔ دلِ بیتاب آفت ہے بلا ہے
دلِ بیتاب آفت ہے بلا ہےجگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے
ہمارا تو ہے اصل مدعا توخدا جانے ترا کیا مدعا ہے
محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاسہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے
حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیباگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے
نہیں ملتا سخن اپنا کسو سےہمارا گفتگو کا ڈھب جدا ہے
کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھرفضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے
مروں میں اس میں یا رہ جاؤں جیتایہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے
صبا اودھر گل اودھر سرو اودھراسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے
تماشا کردنی ہے داغِ سینہیہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے
ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیںقیامت جیسے اک اس کی ادا ہے
جگہ افسوس کی ہے بعد چندےابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے
جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تمکہو جو کچھ تمہارا مدعا ہے
سخن کریے تو ہووے حرف زن یوںبس اب منہ موند لے میں نے سنا ہے
کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالماگرچہ یار عالم آشنا ہے
نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہرپہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے
لگا میں گرد سر پھرنے تو بولاتمہارا میرؔ صاحب سر پھرا ہے
۴۷۔ اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شبمجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب
جب میں شروعِ قصہ کیا آنکھیں کھول دیںیعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب
چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تککی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب
بختِ سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کیتھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب
بیٹھے ہی گزری وعدے کی شب وہ نہ آ پھراایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب
سناہٹے سے دل سے گزر جائیں سو کہاںبلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب
تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کےدیتے رہے ہیں میرؔ دکھائی تمام شب
۴۸۔ تا بہ مقدور انتظار کیا
تا بہ مقدور انتظار کیادل نے اب زور بے قرار کیا
دشمنی ہم سے کی زمانے نےکہ جفاکار تجھ سا یار کیا
یہ توہم کا کارخانہ ہےیاں وہی ہے جو اعتبار کیا
ایک ناوک نے اس کی مژگاں کےطائرِ سدرہ تک شکار کیا
صد رگِ جاں کو تاب دے باہمتیری زلفوں کا ایک تار کیا
ہم فقیروں سے بے ادائی کیاآن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
سخت کافر تھا جن نے پہلے میرؔمذہبِ عشق اختیار کیا
۴۹۔ عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفعکڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع
کب تلک ان بتوں سے چشم رہےہو رہے گا بس اب خدا سے نفع
میں تو غیر از ضرر نہ دیکھا کچھڈھونڈھو تم یار و آشنا سے نفع
مغتنم جان گر کسو کے تئیںپہنچے ہے تیرے دست و پا سے نفع
اب فقیروں سے کہہ حقیقتِ دلمیرؔ شاید کہ ہو دعا سے نفع
۵۰۔ اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گااے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
ہم کشتگانِ عشق ہیں ابرو و چشمِ یارسر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا
ہم رہروانِ راہِ فنا ہیں برنگِ عمرجاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دلتو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اپنے شہیدِ ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھردیوانِ حشر میں اسے لایا نہ جائے گا
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاکپھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
ہم بے خودانِ محفلِ تصویر اب گئےآئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا
گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہ کنسنگِ گرانِ عشق اٹھایا نہ جائے گا
ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کرپر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آنادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.