Urdu in Translation
Search

Chapter 4 of 6

الغزليات ٣١–٤٠: كرائحة الوردة

Ghazals 31–40: Like the Scent of the Rose

غزلیں ۳۱ تا ۴۰: برنگِ بوئے گل

مير تقي مير

Script
Size

۳۱۔ آہِ سحر نے سوزشِ دل کو مٹا دیا

آہِ سحر نے سوزشِ دل کو مٹا دیااس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

سمجھی نہ بادِ صبح کہ آ کر اٹھا دیااس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا

پوشیدہ رازِ عشق چلا جائے تھا سو آجبے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا

اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہپانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا

تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نےدونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا

سب شورِ ما و من کو لیے سر میں مر گئےیاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا

آوارگانِ عشق کا پوچھا جو میں نشاںمشتِ غبار لے کے صبا نے اڑا دیا

اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہہ گئےآخر گدازِ عشق نے ہم کو بہا دیا

کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ طالع جو تھے درستہم کو دلِ شکستہ قضا نے دلا دیا

گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کااس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا

مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلکجلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا

ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاںدل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا

بوئے کبابِ سوختہ آئی دماغ میںشاید جگر بھی آتشِ غم نے جلا دیا

تکلیف دردِ دل کی عبث ہم نشیں نے کیدردِ سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا

ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میرؔہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا

۳۲۔ تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبور تھاپیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا

پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیںمعلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیمیک شعلہ برقِ خرمنِ صد کوہِ طور تھا

مجلس میں رات ایک ترے پرتوے بغیرکیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا

اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوادیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا

منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیااس رند کی بھی رات گزر گئی جو عور تھا

ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہراس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیایکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبرمیں بھی کبھو کسو کا سرِ پُر غرور تھا

تھا وہ تو رشکِ حورِ بہشتی ہمیں میں میرؔسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

۳۳۔ برنگِ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے

برنگِ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتےکہ ہمراہِ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے

سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کووگرنہ ہم خدا تھے گر دلِ بے مدعا ہوتے

فلک اے کاش ہم کو خاک ہی رکھتا کہ اس میں ہمغبارِ راہ ہوتے یا کسو کی خاکِ پا ہوتے

الٰہی کیسے ہوتے ہیں جنہیں ہے بندگی خواہشہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے

تو ہے کس ناحیے سے اے دیارِ عشق کیا جانوںترے باشندگاں ہم کاش سارے بے وفا ہوتے

اب ایسے ہیں کہ صانع کے مزاج اوپر بہم پہنچےجو خاطر خواہ اپنے ہم ہوئے ہوتے تو کیا ہوتے

کہیں جو کچھ ملامت گر بجا ہے میرؔ کیا جانیںانہیں معلوم تب ہوتا کہ ویسے سے جدا ہوتے

۳۴۔ جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے

جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوےاس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے

تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالمیہ تو ہو کوئی گورِ غریباں میں در آوے

مے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخدیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے

کیا جانیں وے مرغانِ گرفتارِ چمن کوجن تک کہ بصد ناز نسیمِ سحر آوے

تو صبح قدم رنجہ کرے ٹک تو ہے ورنہکس واسطے عاشق کی شبِ غم بسر آوے

ہر سو سرِ تسلیم رکھے صیدِ حرم ہیںوہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر آوے

دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقتاب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے

واعظ نہیں کیفیتِ مے خانہ سے آگاہیک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے

صناع ہیں سب خوار ازاں جملہ ہوں میں بھیہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے

اے وہ کہ تو بیٹھا ہے سرِ راہ پہ زنہارکہیو جو کبھو میرؔ بلاکش ادھر آوے

مت دشتِ محبت میں قدم رکھ کہ خضر کوہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے

۳۵۔ جیتے جی کوچۂ دلدار سے جایا نہ گیا

جیتے جی کوچۂ دلدار سے جایا نہ گیااس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا

کاو کاوِ مژۂ یار و دلِ زار و نزارگتھ گئے ایسے شتابی کہ چھڑایا نہ گیا

وہ تو کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہاہم سے ہی حالِ تباہ اپنا دکھایا نہ گیا

گرم رو راہِ فنا کا نہیں ہو سکتا پتنگاس سے تو شمع نمط سر بھی کٹایا نہ گیا

پاسِ ناموسِ محبت تھا کہ فرہاد کے پاسبے ستوں سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا

خاک تک کوچۂ دلدار کی چھانی ہم نےجستجو کی پہ دلِ گم شدہ پایا نہ گیا

آتشِ تیزِ جدائی میں یکایک اس بندل جلا یوں کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا

مہ نے آ سامنے شب یاد دلایا تھا اسےپھر وہ تا صبح مرے جی سے بھلایا نہ گیا

زیرِ شمشیرِ ستم میرؔ تڑپنا کیساسر بھی تسلیمِ محبت میں ہلایا نہ گیا

جی میں آتا ہے کہ کچھ اور بھی موزوں کیجےدردِ دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا

۳۶۔ اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا

اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیاقسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا

کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناکمژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سےواعظ کو ایک جامِ مئے ناب لے گیا

نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوشآیا جو سیلِ عشق سب اسباب لے گیا

میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیارویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا

احوال اس شکارِ زبوں کا ہے جائے رحمجس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا

منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئےشب ہم کو میرؔ پرتوِ مہتاب لے گیا

۳۷۔ بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعدسو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

جدائی کے حالات میں کیا کہوںقیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد

موا کوہ کن بے ستوں کھود کریہ راحت ہوئی ایسی محنت کے بعد

لگا آگ پانی کو دوڑے ہے تویہ گرمی تری اس شرارت کے بعد

کہے کو ہمارے کب ان نے سناکوئی بات مانی سو منت کے بعد

سخن کی نہ تکلیف ہم سے کرولہو ٹپکے ہے اب شکایت کے بعد

نظر میرؔ نے کیسی حسرت سے کیبہت روئے ہم اس کی رخصت کے بعد

۳۸۔ آگے جمالِ یار کے معذور ہو گیا

آگے جمالِ یار کے معذور ہو گیاگل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

اک چشمِ منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہجوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا

قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تبدروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا

پہنچا قریبِ مرگ کے وہ صیدِ ناقبولجو تیری صید گاہ سے ٹک دور ہو گیا

دیکھا یہ ناؤ نوش کہ نیشِ فراق سےسینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا

اس ماہِ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہاب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا

شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹمیری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا

لاشہ مرا تسلی نہ زیرِ زمیں ہواجب تک نہ آن کر وہ سرِ گور ہو گیا

دیکھا جو میں نے یار تو وہ میرؔ ہی نہیںتیرے غمِ فراق میں رنجور ہو گیا

۳۹۔ چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا

چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیاجمالِ یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کربرنگِ سبزۂ نورستہ پائمال کیا

رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقیسو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا

مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدمنہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا

بہارِ رفتہ پھر آئی ترے تماشے کوچمن کو یمنِ قدم نے ترے نہال کیا

جوابِ نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلفکسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا

لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نےجو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا

۴۰۔ امیروں تک رسائی ہو چکی بس

امیروں تک رسائی ہو چکی بسمری بخت آزمائی ہو چکی بس

بہار اب کے بھی جو گزری قفس میںتو پھر اپنی رہائی ہو چکی بس

کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شببہت باہم لڑائی ہو چکی بس

نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سےیہیں تک آشنائی ہو چکی بس

لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگیغموں کی اب سمائی ہو چکی بس

برابر خاک کے تو کر دکھایافلک بس بے ادائی ہو چکی بس

دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولتہمارے ہاتھ آئی ہو چکی بس

دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایاتری قدرت نمائی ہو چکی بس

شرر کی سی ہے چشمک فرصتِ عمرجہاں دے ٹک دکھائی ہو چکی بس

گلے میں گیروی کفنی ہے اب میرؔتمہاری میرزائی ہو چکی بس

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.