Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 13 de 16

Ghazals 251–273 (Radif Ye)

غزلیں ۲۵۱ تا ۲۷۳ (ردیف ی)

Mirza Asadullah Khan Ghalib

Escritura
Tamaño

ردیف ی

۲۵۱۔ مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے

مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہےموجِ شراب یک مژۂ خوابناک ہے

جُز زخمِ تیغِ ناز، نہیں دل میں آرزوجیبِ خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے

جوشِ جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں، اسدؔصحرا ہماری آنکھ میں یک مشتِ خاک ہے

۲۵۲۔ لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی

لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانیقیامت کشتۂٴ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے

۲۵۳۔ آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہے

آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہےنقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے

بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشمِ مست کاشیشے میں نبضِ پری پنہاں ہے موجِ بادہ سے

۲۵۴۔ ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنا

ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنامطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے

۲۵۵۔ سیاہی جیسے گِر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر

سیاہی جیسے گِر جاوے دمِ تحریر کاغذ پرمر ی قسمت میں یو ں تصویر ہے شب ہائے ہجرا ں کی

۲۵۶۔ ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عر ضِ یک افغاں ہے

ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عر ضِ یک افغاں ہےخموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے

تکلف بر طرف، ہے جانستاں تر لطفِ بد خویاںنگاہِ بے حجابِ ناز تیغِ تیزِ عریاں ہے

ہوئی یہ کثرتِ غم سے تلف کیفیّتِ شادیکہ صبحِ عید مجھ کو بدتر از چاکِ گریباں ہے

دل و دیں نقد لا، ساقی سے گر سودا کیا چاہےکہ اس بازار میں ساغر متاعِ دست گرداں ہے

غم آغوشِ بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کوچراغِ روشن اپنا قلزم ِصرصر کا مرجاں ہے

۲۵۷۔ خموشی میں تماشا ادا نکلتی ہے

خموشی میں تماشا ادا نکلتی ہےنگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے

فشارِ تنگئ خلوت سے بنتی ہے شبنمصبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے

نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آبِ تیغِ نگاہکہ زخمِ روزنِ در سے ہوا نکلتی ہے

۲۵۸۔ جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے

جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہےنافہ دماغِ آہوئے دشتِ تتار ہے

کس کا سرا غِ جلوہ ہے حیرت کو اے خداآیئنہ فرشِ شش جہتِ انتظار ہے

ہے ذرہ ذرہ تنگئِ جا سے غبارِ شوقگردام یہ ہے و سعتِ صحرا شکار ہے

دل مدّعی و دیدہ بنا مدّعا علیہنظارے کا مقدّمہ پھر روبکار ہے

چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگِ گل پر آباے عندلیب وقتِ ود اعِ بہار ہے

پچ آپڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھےوہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے

بے پردہ سوئے وادئِ مجنوں گزر نہ کرہر ذرّے کے نقاب میں دل بے قرار ہے

اے عندلیب یک کفِ خس بہرِ آشیاںطوفانِ آمد آمدِ فصلِ بہار ہے

دل مت گنوا، خبر نہ سہی سیر ہی سہیاے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے

غفلت کفیلِ عمر و اسدؔ ضامنِ نشاطاے مر گِ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے

۲۵۹۔ آ ئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

آ ئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسےایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

حسرت نے لا رکھا تری بزمِ خیال میںگلدستۂ نگاہِ سویدا کہیں جسے

پھونکا ہے کس نے گوشِ محبت میں اے خداافسونِ انتظار، تمنا کہیں جسے

سر پر ہجومِ دردِ غریبی سے ڈالیےوہ ایک مشتِ خاک کہ صحرا کہیں جسے

ہے چشمِ تر میں حسرتِ دیدار سے نہاںشوقِ عناں گسیختہ، دریا کہیں جسے

درکار ہے شگفتنِ گلہائے عیش کوصبحِ بہار پنبۂ مینا کہیں جسے

غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہےایسا بھی کو ئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے؟

۲۶۰۔ شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے

شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہےداغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے

دل خوں شدۂ کشمکشِ حسرتِ دیدارآئینہ بہ دستِ بتِ بدمستِ حنا ہے

شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کیجی کس قدر افسردگئ دل پہ جلا ہے

تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بصد ذوقآئینہ بہ اند ازِ گل آغوش کشا ہے

قمری کفِ خا کستر و بلبل قفسِ رنگاے نالہ! نشانِ جگرِ سو ختہ کیا ہے؟

خو نے تری افسردہ کیا وحشتِ دل کومعشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے

مجبوری و دعواۓ گرفتارئ الفتدستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے

معلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہتیغِ ستم آئینۂ تصویر نما ہے

اے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب اِدھر بھیسائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے دادیا رب اگر ِان کردہ گناہوں کی سزا ہے

بیگانگئِ خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔکوئی نہیں تیرا، تو مری جان، خدا ہے

۲۶۱۔ منظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کی

منظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کیقسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی

اِک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیںپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی

واعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلاسکوکیا بات ہے تمہاری شرابِ طہور کی!

لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنجاڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیںکعبے سے ِان بتوں کو بھی نسبت ہے د ور کی

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جوابآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی

گرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اس قدرکی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی

غالبؔ گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

۲۶۲۔ غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مۓ گلفام، بہت ہے

کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہہے یوں کہ مجھے ُدردِ تہِ جام بہت ہے

نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میںگوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائیپاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے

ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟پابستگئِ رسم و رہِ عام بہت ہے

زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حر م سے؟آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے

ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کوانکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے

خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگرہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے

ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے؟شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

۲۶۳۔ مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے

کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کوعرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوئے

پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دمبرسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے

پھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفسمدت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوئے

پھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشقسامانِ صد ہزار نمک داں کیے ہوئے

پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خونِ دلسازِ چمن طرازیِ داماں کیے ہوئے

باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیبنظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہےپندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے

پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلبعرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کیے ہوئے

دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیالصد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے

پھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولناجاں نذرِ دلفریبیِ عنواں کیے ہوئے

مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوسزلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے

چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزوسرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے

اک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہچہرہ فروغِ مے سے گلستاں کیے ہوئے

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیںسر زیرِ بارِ منتِ درباں کیے ہوئے

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دنبیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے

غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سےبیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کئے ہوئے

۲۶۴۔ نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے

نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئےرہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئے

بلا سے!گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہےرکھوں کچھ اپنی ہی مژگان ِخوں فشاں کے لئے

وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناسِ خلق اے خضرنہ تم کہ چور بنے عمرِ جاوداں کے لئے

رہا بلا میں بھی، میں مبتلائے آفتِ رشکبلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لئے

فلک نہ دور رکھ اُس سے مجھے، کہ میں ہی نہیںدراز دستئِ قاتل کے امتحاں کے لئے

مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیرکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لئے

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا، مری جو شامت آئےاٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے

بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزلکچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لئے

دیا ہے خلق کو بھی، تا اسے نظر نہ لگےبنا ہے عیش تجمُّل حسین خاں کے لئے

زباں پہ بارِ خدایا! یہ کس کا نام آیاکہ میرے نطق نے بوسے مر ی زباں کے لئے

نصیرِ دولت و دیں اور معینِ ملّت و ملکبنا ہے چرخِ بریں جس کے آستاں کے لئے

زمانہ عہد میں اُس کے ہے محوِ آرائشبنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لئے

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہےسفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لئے

ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سراصلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے

۲۶۵۔ آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہی

آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہییہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہی

رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں سرذہن میں خوبئِ تسلیم و رضا ہے تو سہی

ہے غنیمت کہ بہ اُمّید گزر جاۓ گی عُمرنہ ملے داد، مگر روزِ جزا ہے تو سہی

دوست ہی کوئی نہیں ہے، جو کرے چارہ گرینہ سہی، لیک تمنّاۓ دوا ہے تو سہی

غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اُس نےنہ سہی ہم سے، پر اُس بُت میں وفا ہے تو سہی

نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں مَیںکچھ نہ کچھ روزِ ازل تم نے لکھا ہے تو سہی

کبھی آ جاۓ گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔشہرۂ تیزئِ شمشیرِ قضا ہے تو سہی

۲۶۶۔ لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓ

لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓجان جاۓ تو بلا سے، پہ کہیں دِل آۓ

ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزریدوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آۓ

وہ نہیں ہم، کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ!ساتھ حُجّاج کے اکثر کئی منزِل آۓ

آئیں جس بزم میں وہ، لوگ پکار اٹھتے ہیں"لو وہ برہم زنِ ہنگامۂ محفل آۓ"

دیدہ خوں بار ہے مدّت سے، ولے آج ندیمدل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آۓ

سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے، نہ کریںعکس تیرا ہی مگر، تیرے مقابِل آۓ

اب ہے دِلّی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ!آج ہم حضرتِ نوّاب سے بھی مِل آۓ

۲۶۷۔ میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی

میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیتم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی

غیر کی مرگ کا غم کس لۓ، اے غیرتِ ماہ!ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہُوا، اور سہی

تم ہو بت، پھر تمھیں پندارِ خُدائی کیوں ہے؟تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہی

حُسن میں حُور سے بڑھ کر نہیں ہونے کی کبھیآپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی

تیرے کوچے کا ہے مائل دلِ مضطر میراکعبہ اک اور سہی، قبلہ نما اور سہی

کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے، واعظ!خلد بھی باغ ہے، خیر آب و ہوا اور سہی

کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا ربسیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی

مجھ کو وہ دو۔ کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوںزہر کچھ اور سہی، آبِ بقا اور سہی

مجھ سے غالبؔ یہ علائی نے غزل لکھوائیایک بیداد گرِ رنج فزا اور سہی

۲۶۸۔ عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر

عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پردامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیۓ

۲۶۹۔ اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے

اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلےرکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے

پروانہ خانہ غم ہو تو پھر کس لۓ اسدؔہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے

۲۷۰۔ زندانِ تحّمل ہیں مہمانِ تغافل ہیں

زندانِ تحّمل ہیں مہمانِ تغافل ہیںبے فائدہ یاروں کو فرقِ غم و شادی ہے

۲۷۱۔ مستعدِ قتلِ یک عالم ہے جلاّدِ فلک

مستعدِ قتلِ یک عالم ہے جلاّدِ فلککہکشاں موجِ شفق میں تیغِ خوں آشام ہے

۲۷۲۔ نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی

نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کیمری محفل میں غالبؔ گردشِ افلاک باقی ہے

۲۷۳۔ صبا لگا وہ طمانچہ طرف سے بلبل کے

صبا لگا وہ طمانچہ طرف سے بلبل کےکہ روۓ غنچہ سوۓ آشیاں پھر جاۓ

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.