
第 12 章,共 16 章
Ghazals 228–250 (Radif Ye)
غزلیں ۲۲۸ تا ۲۵۰ (ردیف ی)
ردیف ی
۲۲۸۔ ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتےمرتے ہیں، ولے، اُن کی تمنا نہیں کرتے
در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانیظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
یہ باعثِ نومیدیِ اربابِ ہوس ہےغالبؔ کو بُرا کہتے ہو، اچھا نہیں کرتے
۲۲۹۔ کرے ہے بادہ، ترے لب سے، کسبِ رنگِ فروغ
کرے ہے بادہ، ترے لب سے، کسبِ رنگِ فروغخطِ پیالہ، سراسر نگاہِ گلچیں ہے
کبھی تو اِس سرِ شوریدہ کی بھی داد ملے!کہ ایک عُمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے
بجا ہے، گر نہ سُنے، نالہ ہائے بُلبلِ زارکہ گوشِ گُل، نمِ شبنم سے پنبہ آگیں ہے
اسدؔ ہے نزع میں، چل بیوفا! برائے خُدا!مقامِ ترکِ حجاب و وداعِ تمکیں ہے
۲۳۰۔ کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل، کیوں نہ ہو؟
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل، کیوں نہ ہو؟یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
مرتے مرتے، دیکھنے کی آرزُو رہ جائے گیوائے ناکامی! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے
عارضِ گُل دیکھ، رُوئے یار یاد آیا، اسدؔ!جوششِ فصلِ بہاری اشتیاق انگیز ہے
۲۳۱۔ دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے
دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیےہوا رقیب، تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے
یہ ضد کہ آج نہ آوے، اور آئے بِن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے، کیا کہیے!
رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ، کہ کُوئے دوست کو اباگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے، کیا کہیے!
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریبکہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے، کیا کہیے
سمجھ کے کرتے ہیں، بازار میں وہ پُرسشِ حالکہ یہ کہے کہ، سرِ رہگزر ہے، کیا کہیے؟
تمہیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیالہمارے ہاتھ میں کچھ ہے، مگر ہے کیا؟ کہیے!
اُنہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے، کیوں لڑیئےہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے، کیا کہیے؟
حَسد، سزائے کمالِ سخن ہے، کیا کیجےسِتم، بہائے متاعِ ہُنر ہے، کیا کہیے!
کہا ہے کِس نے کہ غالبؔ بُرا نہیں، لیکنسوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے، کیا کہیے
۲۳۲۔ دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھےکر گئی وابستۂ تن میری عُریانی مجھے
بن گیا تیغِ نگاہِ یار کا سنگِ فَساںمرحبا مَیں! کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
کیوں نہ ہو بے التفاتی، اُس کی خاطر جمع ہےجانتا ہے محوِ پُرسش ہائے پنہانی مجھے
میرے غمخانے کی قسمت جب رقم ہونے لگیلِکھ دیا منجملۂ اسبابِ ویرانی، مجھے
بدگماں ہوتا ہے وہ کافر، نہ ہوتا، کاشکے!اِس قدر ذوقِ نوائے مُرغِ بُستانی مجھے
وائے! واں بھی شورِ محشر نے نہ دَم لینے دیالے گیا تھا گور میں ذوقِ تن آسانی مجھے
وعدہ آنے کا وفا کیجے، یہ کیا انداز ہے؟تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے؟
ہاں نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری، واہ واہ!پھر ہُوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
دی مرے بھائی کو حق نے از سرِ نَو زندگیمیرزا یوسف ہے، غالبؔ! یوسفِ ثانی مجھے
۲۳۳۔ یاد ہے شادی میں بھی، ہنگامۂ "یارب"، مجھے
یاد ہے شادی میں بھی، ہنگامۂ "یارب"، مجھےسُبحۂ زاہد ہوا ہے، خندہ زیرِ لب مجھے
ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ دَر، رہنِ سخنتھا طلسمِ قُفلِ ابجد، خانۂ مکتب مجھے
یارب! اِس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!رشک، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
طبع ہے مشتاقِ لذت ہائے حسرت کیا کروں!آرزو سے، ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے
دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مُجھی سے ہوگئےعشق سے آتے تھے مانِع، میرزا صاحب مجھے
۲۳۴۔ حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےچمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں، قیس و کوہکن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخرہنوز اُس خستہ کے نیروۓ تن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں، دیکھو، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر، اچھا، جگر کے پار ہو، بہترغرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائیوفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ، اے دلِ وابستہ! بیتابی سے کیا حاصل؟مگر پھر تابِ زُلفِ پُرشکن کی آزمائش ہے
رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم، تب دیکھیے کیا ہو!ابھی تو تلخئ کام و دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر، وعدہ کیسا، دیکھنا، غالبؔ!نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش ہے
۲۳۵۔ کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سے
کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سےجفائیں کر کے اپنی یاد، شرما جائے ہے، مُجھ سے
خُدایا! جذبۂ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہے!کہ جتنا کھینچتا ہوں، اور کِھنچتا جائے ہے مُجھ سے
وہ بَد خُو، اور میری داستانِ عشق طُولانیعبارت مُختصر، قاصد بھی گھبرا جائے ہے، مُجھ سے
اُدھر وہ بدگمانی ہے، اِدھر یہ ناتوانی ہےنہ پُوچھا جائے ہے اُس سے، نہ بولا جائے ہے مجھ سے
سنبھلنے دے مجھے اے نا اُمیدی! کیا قیامت ہے!کہ دامانِ خیالِ یار، چُھوٹا جائے ہے مُجھ سے
تکلف بر طرف، نظارگی میں بھی سہی، لیکنوہ دیکھا جائے، کب یہ ظُلم دیکھا جائے ہے، مُجھ سے
ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمینہ بھاگا جائے ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
قیامت ہے کہ ہووے مُدعی کا ہمسفر غالبؔ!وہ کافر، جو خُدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مُجھ سے
۲۳۶۔ زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے
زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہےکشاد و بستِ مژہ، سیلئِ ندامت ہے
نہ جانوں، کیونکہ مٹے داغِ طعنِ بد عہدیتجھے کہ آئینہ بھی ورطۂ ملامت ہے
بہ پیچ و تابِ ہوس، سِلکِ عافیت مت توڑنگاہِ عجز سرِ رشتۂ سلامت ہے
وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بُنیادجنونِ ساختہ و فصلِ گُل، قیامت ہے!
۲۳۷۔ لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھےمیرا ذمہ، دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
کیا تعجب ہے کہ اُس کو دیکھ کر آجائے رحموا ں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
منہ نہ دکھلاوے، نہ دکھلا، پر بہ اندازِ عتابکھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خو ش ہے کہ مَیںزلف گر بن جاؤں تو شانے میں اُلجھا دے مجھے
۲۳۸۔ بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیکاک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظورجز وہم نہیں ہستیِ اشیا مرے آگے
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتےگھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھےتو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
سچ کہتے ہو، خود بین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوںبیٹھا ہے بتِ آئنہ سیما مرے آگے
پھر دیکھیے اندازِ گل افشانیِ گفتاررکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
نفرت کا گماں گزرے ہے، میں رشک سے گزراکیونکر کہوں، لو نام نہ ان کا مرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفرکعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کاممجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتےآئی شبِ ہجراں کی تمنا مرے آگے
ہے موجزن اک قلزمِ خوں، کاش یہی ہوآتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہےرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میراغالبؔ کو برا کیوں کہو، اچھا مرے آگے
۲۳۹۔ کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستمگر ہیں "مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو "بجا" کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوےنگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاںوہ زخمِ تیغ ہے جس کو کہ دلکشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیےجو نا سزا کہے اس کو نہ نا سزا کہیے
کہیں حقیقتِ جانکاہئِ مرض لکھیےکہیں مصیبتِ نا سازئِ دوا کہیے
کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجےکبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خونبہا دیجےکٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت، نہ ہو، نگار تو ہے!روانئِ روش و مستئِ ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو بہار تو ہے!طرواتِ چمن و خوبئِ ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آلگا غالبؔخدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!
۲۴۰۔ رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گۓ
رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گۓدھوۓ گۓہم ایسے کہ بس پاک ہو گۓ
صرفِ بہاۓ مے ہوۓ آلاتِ میکشیتھے یہ ہی دو حساب، سو یوں پاک ہو گۓ
رسواۓ دہر گو ہوۓ آوارگی سے تمبارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گۓ
کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثرپردے میں گُل کے لاکھ جگر چاک ہو گۓ
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہلِ شوق کاآپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گۓ
کرنے گۓ تھے اس سے تغافُل کا ہم گِلہکی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گۓ
اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعشدشمن بھی جس کو دیکھ کے غمناک ہو گۓ
۲۴۱۔ نشّہ ہا شادابِ رنگ و ساز ہا مستِ طرب
نشّہ ہا شادابِ رنگ و ساز ہا مستِ طربشیشۂ مے سروِ سبزِ جوئبارِ نغمہ ہے
ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کرنہ بزمِ عیشِ دوستواں تو میرے نالے کو بھی اعتبارِ نغمہ ہے
۲۴۲۔ عرضِ نازِ شوخئِ دنداں براۓ خندہ ہے
عرضِ نازِ شوخئِ دنداں براۓ خندہ ہےدعوئ جمعیّتِ احباب جاۓ خندہ ہے
ہے عدم میں غنچہ محوِ عبرتِ انجامِ گُلیک جہاں زانو تامّل در قفاۓ خندہ ہے
کلفتِ افسردگی کو عیشِ بے تابی حرامورنہ دنداں در دل افشردن بِناۓ خندہ ہے
سوزشِ باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاںدل محیطِ گریہ و لب آشناۓ خندہ ہے
۲۴۳۔ حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے
حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہےآئنہ زانوۓ فکرِ اختراعِ جلوہ ہے
تا کُجا اے آگہی رنگِ تماشا باختن؟چشمِ وا گر دیدہ آغوشِ وداعِ جلوہ ہے
۲۴۴۔ جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئیمشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی
عالم غُبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسرکب تک خیالِ طرّۂ لیلیٰ کرے کوئی
افسردگی نہیں طرب انشاۓ التفاتہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھےآخر کبھی تو عُقدۂ دل وا کرے کوئی
چاکِ جگر سے جب رہِ پرسش نہ وا ہوئیکیا فائدہ کہ جَیب کو رسوا کرے کوئی
لختِ جگر سے ہے رگِ ہر خار شاخِ گلتا چند باغبانئِ صحرا کرے کوئی
ناکامئِ نگاہ ہے برقِ نظارہ سوزتو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
ہر سنگ و خشت ہے صدفِ گوہرِ شکستنقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
سَر بَر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عُمرفُرصت کہاں کہ تیری تمنّا کرے کوئی
ہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیزیہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
بیکارئ جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغلجب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
حسنِ فروغِ شمعِ سُخن دور ہے اسدؔپہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی
۲۴۵۔ ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئی
شرع و آئین پر مدار سہیایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
چال جیسے کڑی کمان کا تیردل میں ایسے کے جا کرے کوئی
بات پر واں زبان کٹتی ہےوہ کہیں اور سنا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
نہ سنو گر برا کہے کوئینہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئیبخش دو گر خطا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مندکس کی حاجت روا کرے کوئی
کیا کیا خضر نے سکندر سےاب کسے رہنما کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔکیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
۲۴۶۔ بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے
بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہےغلامِ ساقیِ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے
تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم، کیا ہےرقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
کٹے تو شب کہیں، کاٹے تو سانپ کہلاوےکوئی بتاؤ کہ وہ زلفِ خم بہ خم کیا ہے
لکھا کرے کوئی احکامِ طالعِ مولودکسے خبر ہے کہ واں جنبشِ قلم کیا ہے
نہ حشر و نشر کا قائل، نہ کیش و ملت کاخدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہمدموگرنہ مہرِ سلیمان و جامِ جم کیا ہے
سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانییقیں ہے ہم کو بھی، لیکن اب اس میں دم کیا ہے
۲۴۷۔ باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھےسایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے
جوہرِ تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلومہُوں میں وہ سبزہ کہ زہرآب اُگاتا ہے مجھے
مدّعا محوِتماشائے شکستِ دل ہےآئنہ خانے میں کوئی لۓ جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کفِ خاکآسمان بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھےدیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے
۲۴۸۔ روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی
روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کیاترائے کیوں نہ خاک سرِ رہگزار کی
جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہلوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
بُھوکے نہیں ہیں سیرِ گلستان کے ہم ولےکیوں کر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
۲۴۹۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اس کی گردن پروہ خوں جو چشمِ تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
ذرا کر زور سینے پر کہ تیرِ پر ستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے، جو دل نکلے تو دم نکلے
خدا کے واسطے پردہ نہ کعبے سے اٹھا ظالمکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظپر اتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
۲۵۰۔ کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے
کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیےبے تکلف اے شرارِ جستہ! کیا ہوجائیے
بیضہ آسا ننگِ بال و پر ہے یہ کنجِ قفساز سرِ نو زندگی ہو، گر رِہا ہو جائیے
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。