
Capítulo 8 de 9
The Curzon Sabha and the National Poem: Poems 48–60
کرزن سبھا اور قومی نظم: نظمیں ۴۸ تا ۶۰
۴۸۔ کرزن سبھا
سبھا میں دوستو کرزن کی آمد آمد ہےگلوں میں غیرتِ گلشن کی آمد آمد ہے
رئیس و راجہ و نواب منتظر ہیں بشوقکہ نائبِ شہِ لندن کی آمد آمد ہے
وہ ہو کے آتے ہیں قائم مقامِ قیصرِ ہندستاروں میں مہِ روشن کی آمد آمد ہے
ہیں ان کے ساتھ میں اتنے اکابرِ یورپکہ گویا دہلی میں لندن کی آمد آمد ہے
غرض یہ ہے کہ ہو تکمیلِ زینت و رونقہر ایک علم کی، ہر فن کی آمد آمد ہے
کمر بندھی نظر آتی ہے آب و آتش کیادھر سے کل، ادھر انجن کی آمد آمد ہے
دکھا رہے ہیں ہنرمند خوابِ مقناطیسدلوں میں حالتِ روشن کی آمد آمد ہے
امنڈ رہی ہے ہر اک سمت سے فراوانیہر ایک جنس کے خرمن کی آمد آمد ہے
ورودِ فوج سے ہے زرق برق کا عالمجدھر کو دیکھیے پلٹن کی آمد آمد ہے
چمک ہے کرچ کی، ہر سو گمک ہے توپوں کیچھما چھم اور دنادن کی آمد آمد ہے
چہل پہل ہے، امنگیں ہیں، جوشِ مستی ہےبہارِ عیش پہ جوبن کی آمد آمد ہے
جو پیر ہیں، انھیں ہیں ولولے جوانی کےجواں ہیں تو لڑکپن کی آمد آمد ہے
تمام مذہب و ملت میں ہے کشش پیدامغاں و شیخ و برہمن کی آمد آمد ہے
گرہ میں زر نہیں اور [illegible] لازم و فرضاسی سبب سے مہاجن کی آمد آمد ہے
ابھارے رکھتا ہے اکبرؔ کے دل کو فیضِ سخناگرچہ پیری و [illegible] کی آمد آمد ہے
۴۹۔ آمدِ اقبال پری
اقبال پری آئی جو انداز بدل کردنیا کی ہوا ساتھ ہوئی ساز بدل کر
۵۰۔ غزل سرائیِ اقبال پری
[illegible] سمورِ حکومت سے بھری ہوںزریں مرا دامن ہے، میں اقبال پری ہوں
ہر شعلہ مقابل مرے چہرے کے ہے بے نورکہتا ہے کہ ہوں بھی تو چراغِ سحری ہوں
ہر ڈھنگ سے دکھلاتی ہوں شاں اپنی جہاں کوہر رنگ میں میں مستِ مے جلوہ گری ہوں
انگلینڈ پہ ہوں سایہ فگن حکمِ خدا سےشاہنشہِ اڈورڈ کی صورت پہ مری ہوں
۵۱۔ مبارکباد، پنچ کی طرف سے
قومِ انگلش کو یہ دربار مبارک ہووےلارڈ کرزن سا یہ سردار مبارک ہووے
دو مبارک شہِ انگلینڈ کو تخت و دیہیممجھ کو یہ پنچ گہربار مبارک ہووے
۵۲۔ نصیحتِ اخلاقی
بیٹے کو لوگ کہتے ہیں آنکھوں کا نور ہےہے زندگی کا لطف، تو دل کا سرور ہے
گھر میں اسی کے دم سے ہے ہر سمت روشنینازاں ہے اس پہ باپ، تو ماں کو غرور ہے
خوش قسمتی کی اس کو نشانی سمجھتے ہیںکہتے ہیں یہ خدا کے کرم کا ظہور ہے
اکبرؔ بھی اس خیال سے کرتا ہے اتفاقاس کا بھی ہے یہ قول کہ ایسا ضرور ہے
البتہ شرط یہ ہے کہ بیٹا ہے ہونہارمائل ہے نیکیوں پہ، برائی سے دور ہے
سنتا ہے دل لگا کے بزرگوں کی پند کووقتِ کلام لب پہ جناب و حضور ہے
برتاؤ اس کا صدق و محبت سے ہے بھرااس میں نہ ہے فریب، نہ کچھ مکر و زور ہے
افکارِ والدین میں ہے دل سے وہ شریکہمدرد ہے، معین ہے، اہلِ شعور ہے
راضی ہے اس پہ باپ کی جو کچھ ہو مصلحتصابر ہے، با ادب ہے، عقیل و غیور ہے
رکھتا ہے خاندان کی عزت کا وہ خیالنیکوں کا دوست، صحبتِ بد سے نفور ہے
کسبِ کمال کی ہے شب و روز اس کو دھنعلم و ہنر کے شوق کا دل میں وفور ہے
لیکن جو ان صفات کا مطلق نہیں پتااور پھر بھی ہے خوشی، تو خوشی کا قصور ہے
۵۳۔ نظمِ قومی، حسبِ فرمائش نواب محسن الملک بہادر
مسلمانو، بتاؤ تو، تمھیں اپنی خبر کچھ ہے
تمھارے کیا مدارج رہ گئے، اس پر نظر کچھ ہے
اگر کچھ ہے تو سوچو، دل میں بھی اس کا اثر کچھ ہے
حریفوں کی تعلی باعثِ سوزِ جگر کچھ ہے
تمھیں معلوم ہے کچھ، رہ گئے ہو کیا سے کیا ہو کر
کدھر آ نکلے ہو راہِ ترقی سے جدا ہو کر
کوئی آگے نہ تھا تم سے ترقی کی تگ و دو میں
کوئی دس میں چمکتا تھا تو تم ممتاز تھے سو میں
تمھیں نے فرق بتلایا تھا سب کو گندم و جو میں
تمھیں سے سیکھ کر بنتی تھیں عالم مغربی قومیں
شرف پایا تھا تم نے امتیازِ حق و باطل سے
مخالف بھی تمھاری قدردانی کرتے تھے دل سے
تمھاری عزتیں تھیں، اوج تھا، رتبہ تھا، شانیں تھیں
تمھاری بات تھی، احکام تھے، کہنا تھا، آنیں تھیں
تمھارے ذکر میں سرگرم دنیا کی زبانیں تھیں
تمھیں تم تھے زمانے میں، تمھاری داستانیں تھیں
غرورِ ناز کم کرنا پڑا تھا ایک عالم کو
سرِ تسلیم خم کرنا پڑا تھا ایک عالم کو
تمھارا اتفاقِ باہمی دیوارِ آہن تھا
مخالف ایک کا جو تھا وہ گویا سب کا دشمن تھا
تمھاری ہمتوں کا عرشِ اعظم پر نشیمن تھا
تمھارے ہاتھ میں آفاق کا ہر علم ہر فن تھا
تم اپنی حق پرستی سے دبا لیتے تھے دنیا کو
خدا کے سامنے جھک کر جھکا دیتے تھے اعدا کو
نہ یہ آپس کے جھگڑے تھے، نہ یہ ناحق پرستی تھی
طبیعت پر نہ دیوِ نفس کی یہ چیرہ دستی تھی
نہ دل میں بدگمانی تھی، نہ ہمت میں یہ پستی تھی
نظر میں مظہرِ نورِ حقیقت ساری ہستی تھی
تمھاری وضع دلکش تھی، تمھاری شان عالی تھی
خوش اخلاقی تمھاری مظہرِ شانِ جمالی تھی
نہیں ہے اے افسوس اب تمھارا وہ چلن باقی
نہ وہ حسنِ عمل باقی، نہ اب وہ حسنِ ظن باقی
نہ وہ ذوقِ ہنرمندی، نہ شوقِ علم و فن باقی
نہ دل میں ہے وہ جوشِ حبِّ یاران و وطن باقی
جو فکریں ہیں تو اپنے نفس کو راحت رسانی کی
توقع کیا اسی پر ہے خدا کی مہربانی کی
غضب ہے، جذبۂ اسلامی سے خالی سب کا سینا ہے
حسد ہے، ناتوانی ہے، بے مہری ہے، کینا ہے
بس اپنے ہی مزے کے واسطے ہر اک کا جینا ہے
یہی قومی ترقی کا ذرا سوچو تو زینا ہے
کہاں ہے اب مسلمانوں میں باہم رسمِ الفت
جو باقی شاعروں میں ہے تو ہو وہ اک مرضِ الفت
میں تم سے کیا کہوں، اس وقت دل پر کیا گزرتی ہے
تصور دل میں آتا ہے تو آنکھ اشکوں سے بھرتی ہے
طبیعت بات کرنے کو بھی مشکل سے ٹھہرتی ہے
خلش سینے میں ایسی ہے کہ وہ بیچین کرتی ہے
مرا دردیست اندر دل، اگر گویم زباں سوزد
وگر دم در کشم، ترسم کہ مغزِ استخواں سوزد
وہ باتیں جن سے قومیں ہو رہی ہیں نامور سیکھو
اٹھو، تہذیب سیکھو، صنعتیں سیکھو، ہنر سیکھو
بڑھاؤ تجربے، اطرافِ دنیا میں سفر سیکھو
خواصِ خشک و تر سیکھو، علومِ بحر و بر سیکھو
خدا کے واسطے، اے نوجوانو، ہوش میں آؤ
دلوں میں اپنے غیرت کو جگہ دو، جوش میں آؤ
سخن معقول و موزوں ہو تو سب کا دل بہلتا ہے
کلامِ خوش کلاماں رنگ با معنی بدلتا ہے
زباں سے فقرۂ مدح و ثنا ہر دم نکلتا ہے
مگر شوقِ عمل ہو واقعی تب کام چلتا ہے
توجہ گر نہ ہو دل سے تو پھر تاثیر کیونکر ہو
کلامِ دلکشِ اکبرؔ ہو یا مہدی کا لکچر ہو
۵۴۔ ڈارون صاحب حقیقت سے نہایت دور تھے
ڈارون[۱] صاحب حقیقت سے نہایت دور تھےمیں نہ مانوں گا کہ مورث آپ کے لنگور تھے
اپنی حالت کے مطابق چاہیے طرزِ عملاس سے کیا ہوتا ہے، دادا قیصر و فغفور تھے
اس تقرب پر ہمیں کچھ فخر کا موقع نہیںپاس گو بیٹھے تھے، لیکن ان کے دل سے دور تھے
۵۵۔ ہوائے الحاد رنگِ ملت کو ہر روش پر بدل رہی ہے
ہوائے الحاد رنگِ ملت کو ہر روش پر بدل رہی ہےجو بات بگڑی بنے وہ کیونکر، جو چل گئی ہے وہ چل رہی ہے
ہمیں نے در اس ہوا پہ کھولا، کیا اسے چپ جو کوئی بولاہمیں سے خود اب تردد اس کا، طبیعت اب ہاتھ مل رہی ہے
نہ عاقبت کا کسی کو ڈر ہے، نہ عزتِ قوم پر نظر ہےسروں میں سودا سما رہا ہے، دلوں سے غیرت نکل رہی ہے
جو پیشوا خود ہوں رند مشرب، تو کیا جمے رنگِ وعظِ مذہبقلوب شیطاں کے متبع ہیں، زبان قرآں پہ چل رہی ہے
[illegible][illegible]
جو قوم ہمسایہ ہے ہماری، نہیں ہے اس پر بلا یہ طاریہم اپنی مستی میں گر رہے ہیں، وہ ہوش میں ہے، سنبھل رہی ہے
ہم اپنی صورت بگاڑتے ہیں، بنا رہی ہے وہ اپنے گھر کوہم اپنا نقشہ مٹا رہے ہیں، وہ اپنے سانچے میں ڈھل رہی ہے
خدا کی ساعت ہیں یاں کی صدیاں، [illegible]بلائیں آتی ہیں اور آ رہی ہیں، کوئی گھڑی ہے کہ ٹل رہی ہے
زبانِ اکبرؔ میں کب یہ قدرت کہ کہہ سکے رازِ سوزِ حسرتوہ شمع اس کو بیاں کرے گی جو گورِ سید پہ جل رہی ہے
۵۶۔ چاہا جو میں نے ان سے طریقِ عمل پہ وعظ
چاہا جو میں نے ان سے طریقِ عمل پہ وعظبولے کہ نظمِ ذیل کو ارقام کیجیے
پیدا ہوئے ہیں ہند میں اس عہد میں جو آپخالق کا شکر کیجیے، آرام کیجیے
بے انتہا مفید ہیں یہ مغربی علومتحصیل ان کی بھی سحر و شام کیجیے
یورپ میں جا کے پیرس و لندن کو دیکھیےتحقیقِ ملک کا سحر و شام کیجیے
ہو جائیے طریقۂ مغرب پہ مطمئنخاطر سے محو خطرۂ انجام کیجیے
پیرانِ بے فروغ کا گل ہو چکا چراغناحق نہ دل کو تابعِ اوہام کیجیے
رکھیے نہ دل کو دیر و کلیسا سے منحرفمتروک قیدِ جامۂ احرام کیجیے
الفاظِ کفر و فسق کو بس بھول جائیےہر ملت و طریق کا اکرام کیجیے
ہے یہ جہاں میں وسعتِ مشرب سے نیکنام[illegible] ہندوؤں کو رام کیجیے
رکھیے نمود و شہرت و اعزاز پر نظردولت کو صرف کیجیے، اور نام کیجیے
سامان جمع کیجیے، کوٹھی بنائیےبا صد خلوص دعوتِ حکام کیجیے
آرائشوں سے گھر کو مہذب بنائیےتزئینِ طاق و سقف و در و بام کیجیے
یارانِ ہم مذاق سے ہم بزم ہو جیےموقع ملے تو شغلِ مے و جام کیجیے
چشم و لبِ بتاں سے بھی غافل نہ ہو جیےتکمیلِ ذوقِ پستہ و بادام کیجیے
نظارۂ مساں سے تر و تازہ رکھیے آنکھتفریحِ پارک میں سحر و شام کیجیے
مذہب کا نام لیجیے، عامل نہ ہو جیےجو متفق نہ ہو، اسے بدنام کیجیے
طرزِ قدیم پر جو [illegible] آئیں مولوییکلخت ان کو موردِ الزام کیجیے
زنجیرِ فقہ توڑیے، کہہ کر خلافِ شرعمضمون لکھیے، دعویِ الہام کیجیے
ممنوع ہے تعددِ ازواج جان کریوں گھوم پھر کے [illegible] کیجیے
قومی ترقیوں کے مشاغل بھی ہیں ضروراس مد میں بھی ضرور کوئی کام کیجیے
لڑکے نہ ہوں تو ہو نہیں سکتی چہل پہل[illegible] پئے وظیفہ و انعام کیجیے
تحصیلِ چندہ کیجیے، لڑکوں کو بھیج کرسارا علاقۂ ہند کا [illegible] کیجیے
بے رونقی سے کاٹیے کیوں اپنی عمر کوکیوں انتظارِ گردشِ ایام کیجیے
جو چاہیے وہ کیجیے، بس یہ ضرور ہےہر انجمن میں دعویِ اسلام کیجیے
لیکن نہ بن پڑیں جو یہ باتیں حضور سےمُردوں کے ساتھ قبر میں آرام کیجیے
۵۷۔ میں دیکھتا ہوں صلح و محبت ہے اٹھ گئی
میں دیکھتا ہوں صلح و محبت ہے اٹھ گئیہر دل سے، ہر گروہ سے، ہر خاندان سے
اس کا سبب نہیں ہے سوا اس کے اور کچھیعنی کہ اٹھ گیا ہے خدا درمیان سے
۵۸۔ تعجب سے کہنے لگے بابو صاحب
تعجب سے کہنے لگے بابو صاحبگورنمنٹ سید پہ کیوں مہرباں ہے
اسے کیوں ہوئی اس قدر کامیابیکہ ہر بزم میں بس یہی داستاں ہے
کبھی لاٹ صاحب ہیں مہماں اس کےکبھی لاٹ صاحب کا وہ میہماں ہے
نہیں ہے ہمارے برابر وہ ہرگزدیا ہم نے ہر صیغے کا امتحاں ہے
وہ انگریزی سے کچھ بھی واقف نہیں ہےیہاں جتنی انگلش ہے سب بر زباں ہے
کہا ہنس کے اکبرؔ نے، اے بابو صاحبسنو مجھ سے جو رمز اس میں نہاں ہے
نہیں ہے تمھیں کچھ بھی سید سے نسبتتم انگریزی داں ہو، وہ انگریز داں ہے
۵۹۔ طبع سمجھی کہ بلندی میں بڑھی جاتی ہے
طبع سمجھی کہ بلندی میں بڑھی جاتی ہےزلف خوش ہے کہ یہ پھانسی پہ چڑھی جاتی ہے
وہ ہے نافہم، یہ عیار، محل ہے نازکاہلِ بینش میں یہ اک نظم پڑھی جاتی ہے
دارد آں آفتِ جاں حسن و جمالِ عجبےچشمِ مستِ عجبے دارد و خالِ عجبے
او بتاراجِ دلم مائل و من مائلِ اواو بہ فکرِ عجبے، من بہ خیالِ عجبے
۶۰۔ اک رنگ پہ پھریاں کوئی شے رہ نہیں جاتی (سنہ [illegible]ء کے ایک گم شدہ مضمون کے چند اشعار)
اک رنگ پہ پھریاں کوئی شے رہ نہیں جاتیوہ شوکت و شانِ جم و کے رہ نہیں جاتی
یورپ کے ترقی کا چمکتا ہے ستاراتوقیرِ عرب، عظمتِ رے رہ نہیں جاتی
دلکش نظر آتا ہے بہت لفظِ نومبرتزئینِ رخِ بہمن و دے رہ نہیں جاتی
گڈ بائی کا غل مچتا ہے اطرافِ جہاں میںتسلیم نہیں رہتی ہے، جے رہ نہیں جاتی
عالم کو لبھاتی ہیں پیانو کی صدائیںبلبل کے ترانوں میں وہ لے رہ نہیں جاتی
آہنگِ طرب کے لیے چھڑتے ہیں نئے سازدمسازیِ احباب کو نے رہ نہیں جاتی
رندوں سے بدل جاتی ہیں ساقی کی نگاہیںوہ گرمیِ بس، پیمانہ وہ مے رہ نہیں جاتی
ہوتی ہے بہت سخت یہ منزل، مگر اکبرؔہمت ہو تو پھر ناحق یہ طے رہ نہیں جاتی
حواشی
[۱] [illegible]
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.