Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 9 из 28

Jan Nisar aconseja un cambio de atuendo

Jan Nisar's Counsel on a Change of Dress

ابن الوقت تبدیلِ وضع کے بارے میں جاں نثار سے صلاح اور استمداد کرتے ہیں

Deputy Nazir Ahmad

Письмо
Размер

ابن الوقت یہ کہہ کر پھر مردانے میں چلا آیا۔ نمازِ مغرب کے تھوڑی دیر بعد جاں نثار آ پہنچا۔ بیٹھنے کے ساتھ ہی پہلی بات اس نے یہی کہی کہ ''آج صاحب ہوا خوری کو بھی نہیں گئے۔ آپ کے چلے آنے کے بعد سے جو چٹھیاں لکھنے بیٹھے تو میرے شیر نے چراغ ہی جلا دیے۔'' پھر مجھ کو بلا کر آپ کے پاس حاضر ہونے کا حکم دیا کہ ابھی چلے جاؤ۔ صاحب آپ سے اس قدر خوش ہیں کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ جو ملاقاتی آتا ہے آپ کا تذکرہ اس سے ضرور کرتے ہیں اور میز پر تو صاحب لوگوں میں برابر آپ کا مذکور رہتا ہے۔ وہ تو آپ شہر میں رہتے ہیں اور آپ کا مکان بھی پیچ در پیچ گلیوں میں ہے اور گلیاں بھی صاف ستھری نہیں۔ اگر کہیں آپ انہیں لوگوں کے میل میں شہر کے باہر کسی بنگلے میں رہتے ہوتے تو دیکھتے کہ سارے سارے دن اور آدھی آدھی رات تک انگریز آپ کا پیچھا نہ چھوڑتے۔ صاحب ہیں تو یہ لوگ کہنے کو کافر، مگر مروت اور خدا ترسی اور اخلاق غرض نیکی کی کل باتیں جیسی میں نے ان لوگوں میں دیکھیں ہم لوگوں میں تو کہیں پاسنگ بھی نہیں۔ یہ نہ ملنے تک کے ہوّا ہیں اور ملے پیچھے ایسے ملتے ہیں کہ کیا کوئی اپنا ملے گا۔ میم صاحب کی چٹھی ولایت سے آتی ہے تو سائیسوں تک کو سلام لکھتی ہیں اور نام بنام ایک ایک کے بیوی بچوں کی خیر و عافیت پوچھتی رہتی ہیں۔ سامنے والی نیلی کوٹھی میں فوج کے ایک صاحب رہتے ہیں ان کی میم صاحب اور بابا لوگ بھی ہیں۔ کل نہیں پرسوں رات کے دو بجے ایک آیا کے سینے میں درد اٹھا۔ اسی وقت صاحب آپ جا کر ڈاکٹر کو لائے اور دونوں میاں بی بی صبح کے پانچ بجے تک اس آیا کے پاس سے ٹلے نہیں۔ بھلا آج کوئی ہندوستانی سردار ہے جو ادنیٰ نوکروں کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کرے؟ معاملے کے ایسے سچے کہ کسی نوکر کو کیسے ہی ناراض ہو کر موقوف کریں، کیا مجال کہ کسی کی تنخواہ کی کوڑی لگا رکھیں۔ ہم لوگوں کی طرح نہیں کہ پہلے چوری کی تہمت کا منصوبہ سوچ لیں تب نوکر کے نکالنے کا نام لیں اور تنخواہ تو تنخواہ اگر نوکر تن بدن کے کپڑے سلامت لے کر عزت و آبرو سے رخصت ہو جائے تو بڑا خوش نصیب۔ ہم لوگوں میں سے جو کوئی تھوڑے دنوں کے لیے بھی انگریز کو چھو گیا ہے پھر کسی ہندوستانی کی نوکری اس سے ہو ہی نہیں سکتی۔ اگر مذہب کا فرق نہ ہوتا تو چاہے آپ اس کو نمک کی تاثیر سمجھیں، انگریز میرے نزدیک پوجنے کے قابل تھے۔ بال بچوں کی طرح نوکروں کی پرداخت کرتے ہیں۔

ابن الوقت: ''سب انگریز ایک مزاج کے نہ ہوں گے۔ اتفاق سے تم کو جن لوگوں کے ساتھ معاملہ پڑا اچھے ہی اچھے ملے۔''

جاں نثار: ''ہاتھ کی پانچ انگلیاں تو کیوں کر برابر ہو سکتی ہیں اچھے برے سبھی جگہ ہیں مگر اتنا فرق ضرور ہے کہ انگریزوں میں اکثر اچھے اور ہم میں اکثر برے ہیں۔''

ابن الوقت: ''میں سمجھتا ہوں شاید فوجی انگریز زیادہ اکھڑ اور بدمزاج ہوتے ہوں گے۔''

جاں نثار: ''ہرگز نہیں ایسے بھلے مانس، دل کے سخی اور بے تکلف کہ ملکی انگریز کی دوستی نہ فوجی کی صاحب سلامت۔ ہاں دوغلے جن میں ہندوستانیوں کا تخم ملا ہوا ہے، ان کی جس قدر برائی کی جائے تھوڑی ہے۔ خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ ان کا بس چلے تو ہندوستانیوں کو کچا کھا جائیں۔ ان دنوں کا تو کچھ ٹھکانا نہیں۔ غدر کے دنوں میں ہندوستانیوں کے ہاتھ سے طرح طرح کی ایذائیں ان لوگوں کو پہنچی ہیں اس سے دلوں میں غصہ بھرا ہوا ہے اور سری کا ہوتا تو ملک میں گدھوں کا ہل پھروا کر بھی بس نہ کرتا۔ پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ یہ انہیں لوگوں کے حوصلے ہیں کہ رعیت نے اتنا ظلم کیا اور ان کو رعیت کا اجاڑنا منظور نہیں۔ صاحب تو ایسا فرماتے تھے کہ یہ پکڑ دھکڑ بھی تھوڑے دن کی اور رہے۔ ہمارے یہاں تو صاحب لوگوں کا بڑا جمگھٹا رہتا ہے۔ یہ لوگ آپس میں غدر ہی کی باتیں کیا کرتے ہیں۔ میں انگریزی خوب تو نہیں سمجھتا مگر اتنا معلوم ہے کہ اب رحم کی نظر زیادہ ہے۔ یہ غدر بھی ایک کسوٹی ہے۔ جس طرح کھوٹے کھرے ہندوستانی الگ پہچانے گئے اسی طرح برے بھلے انگریز۔ جو لوگ ان میں شریف خاندانوں کے ہیں وہ درگزر ہی کی رائے دیتے ہیں۔ ایک روز ہمارے صاحب تذکرہ کرتے تھے کہ ولایت میں پہلے یہ قاعدہ تھا کہ سرکار شریف خاندانوں کے لڑکوں کو اپنے خرچ سے پڑھا لکھا کر ہندوستان کی نوکریوں کے واسطے تیار کیا کرتی تھی۔ ان دنوں جو انگریز آتے تھے سب خاندانی ہوتے تھے۔ اب چند سال سے سرکار نے اس دستور کو موقوف کر کے امتحان کا طریقہ جاری کیا ہے۔ لوگ اپنے طور پر ہندوستان کی نوکری کے لیے لیاقت بہم پہنچا کر امتحان دیتے ہیں۔ جو امتحان پاس کرتا ہے اس کو نوکری مل جاتی ہے۔ شریف اور رذیل کا امتیاز نہیں ہوتا۔ اکثر عوام کے بلکہ دھوبی، حجام، موچی، بھٹیارے وغیرہ پیشہ وروں کے لڑکے جن کی ولایت میں کچھ بھی عزت نہیں محنت کر کے امتحان پاس کر لیتے ہیں۔ اگرچہ ان کے تعلیم یافتہ ہونے میں کچھ شک نہیں مگر تاہم اصل بد از خطا خطا نہ کند۔ ان کی ذات سے رعایا کو کم تر فیض پہنچتا ہے۔ مگر میں تو یہی کہوں گا کہ ان کے برے بھی اچھوں سے اچھے اور بہت اچھے ہیں۔ آپ ان سے ملیں تو میرے کہے کی آپ کو تصدیق ہو۔''

ابن الوقت: ''نوبل صاحب بھی مجھ کو یہی صلاح دیتے ہیں۔ مگر وہ چاہتے ہیں کہ مجھ کو برابری کے دعوے سے انگریزوں سے ملائیں۔''

جاں نثار: ''ملنے کا مزہ بھی برابری ہی میں ہے۔ یہ کیا کہ امیدوارانہ گئے۔ اردلیوں کے دھکے کھائے، سارے دن کی محنت میں دور سے سلام ہوا، نہ بات نہ چیت، اور خدا نخواستہ آپ کو اس طرح ملنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ چلیے ادھر ہی ایک کوٹھی کرائے پر لے کر رہیے تو بڑا مزہ ہو۔''

ابن الوقت: ''کیا تم سمجھتے ہو کہ انگریز مجھ کو اپنی سوسائٹی میں لینا پسند کریں گے؟''

جاں نثار: ''آپ کو اور آپ کے غلاموں کو۔ آپ کی صورت شکل اور شان میں ماشاء اللہ کسی طرح کی کمی نہیں۔ خدا نے آپ کو امیر کیا ہے۔ کچھ یہ بات نہیں کہ آپ اونچی حیثیت سے رہ نہیں سکتے۔ انگریزی میں کسی قدر کمی ہے سو آپ باتیں سمجھ تو سب لیتے ہیں بولنے میں جھجک ہے۔ دو چار مہینے میں ملنے جلنے سے خود بخود نکل جائے گی۔ اور سب سے بڑھ کر تو صاحب کا زبردست پایہ ہے۔ خدا ان کو سلامت رکھے۔ آج سٹیشن میں ان کی وہ بات بن رہی ہے کہ واہ واہ اور میں سمجھتا ہوں کہ کوئی دن جاتا ہے آپ کا کچھ کام بھی ضرور ہونے والا ہے۔''

ابن الوقت: ''مگر ہندوستانی اس کی نسبت کیا خیال کریں گے؟''

جاں نثار: ''ہندوستانی تو یہی سمجھیں گے کہ آپ کرسٹان ہو گئے اور میں تو جانتا ہوں اب بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ کوئی بیسیوں آدمیوں نے تو آج ہی مجھ سے پوچھا ہے۔''

ابن الوقت: ''تم انگریزوں کے ساتھ کھانا کھانے کو کیسا خیال کرتے ہو؟''

جاں نثار: ''صاحب کے منہ سے سنا ہے کہ روم اور مصر اور ایران اور عرب کہیں کے مسلمان پرہیز نہیں کرتے، بے تکلف انگریزوں کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں۔ مگر ہمارے ملک کے لوگ تو بڑی چھوت مانتے ہیں۔''

ابن الوقت: ''خیر جیسی پیش آئے گی دیکھی جائے گی۔ میں نے نوبل صاحب سے وعدہ کر لیا ہے۔ مگر انگریزوں کی شان کے مطابق سامان بہم پہنچانا مشکل معلوم ہوتا ہے۔''

جاں نثار: ''جناب ذرا بھی مشکل نہیں۔ اس کا تو آپ خیال بھی نہ کیجیے۔ کلکتے میں جنرل سپلائر ایک کمپنی ہے۔ اس کا ایجنٹ یہاں آیا ہوا ہے۔ ایک بنگلہ تجویز کر کے اس کو دکھایا جائے گا کہ اس طور پر اس کو سجا دو۔ ہمارے صاحب نے بھی تو یہی کیا تھا۔ اس کوٹھی کی تو چھت تک بھی اکھاڑ کر لے گئے تھے۔ صاحب جھجر جاتے ہوئے اس ایجنٹ سے کہتے گئے۔ اس نے ایک ہی مہینے میں مکان بھی بنوا دیا اور جتنا ساز و سامان آپ دیکھتے ہیں سب مہیا کر دیا۔ ہماری کوٹھی کے مقابل سڑک پار ۲۴ نمبر کا بنگلہ خالی ہے۔ صاحب سے بھی قریب ہے۔ موقع بھی اچھا ہے۔ شاید چالیس پینتالیس روپے ایسا ہی کچھ کرایہ ہے اگر حکم ہو تو اس کو روک دیا جائے۔ جس مہاجن کا بنگلہ ہے اس نے حال ہی میں اس کو درست کرایا ہے۔ غدر میں یہ بھی ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ جنرل سپلائر کا ایجنٹ دو ہفتے کے قریب میں جیسا فرمائیے گا سجا دے گا۔ ان لوگوں میں ٹھہرانے چکانے کا دستور نہیں، بل بنا کر بھیج دے گا۔ آپ اس کی رقم چکا دینا۔ نہ ہڑ ہڑ نہ کھڑ کھڑ بلکہ فرمائیے تو میں صاحب سے عرض کر دوں وہ تو خوشی خوشی اس کا انتظام کر دیں گے۔ مگر کہیں گے وہ بھی ایجنٹ ہی سے۔''

ابن الوقت: ''نہیں صاحب کو کیوں تکلیف دو تمہیں جس طرح مناسب سمجھو کر دھر لو۔ اور ہاں بھائی کپڑوں کے بارے میں کیا کہتے ہو؟''

جاں نثار: ''ہر چیز میل سے بھلی معلوم ہوتی ہے۔ پیروں میں انگریزی ہاف بوٹ، ٹانگوں میں ڈھیلے پائنچوں کا پاجامہ، آدھی پنڈلیاں کھلی ہوئی، یا کوٹ پتلون کے ساتھ سر پر عمامہ یا اسی طرح کی دوسری بے جوڑ چیزیں مجھ کو تو بری معلوم ہوتی ہیں۔ نقل کیجیے تو پوری پوری کیجیے ورنہ دونوں جگہ ہنسی ہو گی۔ آگے آپ کو اختیار ہے۔''

ابن الوقت: ''خیر تو ایک سال کے کپڑوں کے لیے بھی ایجنٹ سے فرمائش کر دینا اور چونکہ تم انگریزی سوسائٹی کے دستور سے واقف ہو، اس بات کا خیال رکھنا کہ انگریزوں کی نظر میں سبکی نہ ہو۔''

جاں نثار: ''کیا مجال۔ خدا نے چاہا تو آپ کی کوٹھی سرتاپا ایسی آراستہ ہو کہ لیڈیاں دیکھنے کو آئیں اور ساری چھاؤنی میں آپ کے کھانوں کا غل ہو۔ اصل چیز ہے روپیہ اور سلیقہ سو روپیہ کی خدا کے فضل سے آپ کے پاس کمی نہیں اور سلیقہ تو خاک چاٹ کر کہتا ہوں، برسوں میم صاحب کی جھڑکیاں سہیں، گھڑکیاں سنیں، صاحب نے لارڈ گورنر کو کھانا دیا۔ شاہزادہ بلجیم کی دعوت کی۔ خیر اپنے منہ سے اپنی بڑائی کرنی مناسب نہیں، دیکھ لیجیے گا۔ اس بات کو آپ دریافت کر لیجیے گا کہ چھاؤنی میں جب کوئی بڑا کھانا دیا جاتا ہے تو آپ کے خانہ زاد ہی کو بلاتے ہیں۔ فرنیچر کا سجانا بڑا مشکل کام ہے۔ اچھے اچھے چوک جاتے ہیں۔ مگر میم صاحب نے میرے پیچھے بڑی جان ماری ہے۔ تب کہیں برسوں میں جا کر یہ بات حاصل ہوئی ہے۔ خیر اور سب باتوں کو تو میں دیکھ بھال لوں گا۔ مگر آپ کو خود بھی انگریزی قاعدہ سیکھنا چاہیے۔ کیوں کہ آپ ہوں گے صاحب خانہ۔ آؤ بھگت، استقبال، رخصت، مزاج پرسی، تواضع وغیرہ وغیرہ بہت سے کام آپ کو اپنی ذات سے کرنے پڑیں گے۔ ایک ذرا سی بے تمیزی سے سارا کیا دھرا اکارت ہو جاتا ہے۔ لیڈیوں کے ساتھ ملنے میں خاص کر بڑی احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ میم صاحب کی دی ہوئی اٹیکٹ کی میرے پاس ایک کتاب ہے۔ میں آپ کے پاس بھیج دوں گا۔ ایک دفعہ وہ کتاب نظر سے گزر جائے گی تو سارے کام شدھ ہو جائیں گے اور آخر ان لوگوں کو ایک دوسرے سے ملتے ہوئے بھی تو آپ دیکھیں گے۔ شروع شروع میں ذرا اس کا خیال رکھیے گا کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کیوں کر برتاؤ کرتے ہیں۔''

نوبل صاحب بے چارے کا کچھ دوش نہیں۔ انہوں نے اپنے انگریزی خیالات کے مطابق نیک نیتی سے اپنے دوست ابن الوقت اور اس کی قوم کے حق میں مفید سمجھ کر اس کو ایک صلاح دی۔ ابن الوقت دودھ پیتا بچہ نہ تھا کہ نوبل صاحب کے جھانسے میں آ گیا۔ اس کو اپنی قابلیت، قوم کی حالت، اطراف و جوانب، نتائج و عواقب پر نظر کر کے کام کرنا تھا۔ بات یہ ہے کہ خود اسی کی طبیعت شروع سے اس طرف راغب تھی۔ نوبل صاحب کا کہنا اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ ہو گیا۔ اپنی قوم اور قوم کی ہر چیز کی حقارت اور انگریز اور ان کی ہر بات کی وقعت پہلے سے اس کے ذہن میں مرتکز تھی۔ مگر وہ ایک شخصی رائے تھی نہ کسی کے حق میں مفید نہ کسی کے لیے کار آمد۔ اتنی بات ابن الوقت کو نوبل صاحب نے سمجھائی کہ اس خیال سے کس طرح پر اس کو اور اس کی قوم کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ابن الوقت کی ظاہری حالت بدلنے میں ابھی دیر ہے مگر جاں نثار کے چلے جانے کے بعد بھی وہ اسی خیال میں مستغرق ہے تھوڑی دیر کے لیے اس کو معلوم ہوا کہ گویا نوبل صاحب کی سی کوٹھی ہے اور خانہ باغ میں کرسی بچھائے صاحب لوگوں کی شکل بنائے بیٹھا ہوا شبِ ماہ کے مزے لے رہا ہوں۔ پھر وہ آپ ہی آپ چونک پڑا کہ اس حالت میں کسی نے مجھ کو دیکھا تو نہیں۔ تب وہ اس خیال کو دفع کرتا ہے کہ اوکھلی میں سر دیا تو دھمکیوں کا کیا ڈر۔ رہ رہ کر اس کو خیال آتا ہے کہ اپنے عزیز، رشتہ دار، دوست آشنا، جان پہچان، اہلِ محلہ، اہلِ شہر، اہلِ ملک میرے ساتھ کیا معاملہ رکھیں گے۔ یہ تصور ہے کہ رفارم پر طبیعت کو مطلقاً جمنے نہیں دیتا کہ اس کا کچھ منصوبہ سوچے سمجھے۔ نوبل صاحب کو زبان دیے پیچھے اس ارادے سے دست کش ہونا کسی طرح ممکن نہیں۔ کبھی جی ہی جی میں اپنے تئیں ملامت کرتا ہے کہ جلدی ناحق کی۔ پھر کہتا ہے اس سے بہتر اور کون سا موقع ہو گا کہ نوبل صاحب بیچ پر ہیں۔ غرض ابن الوقت ہر وقت سوچ میں رہتا تھا۔ اور زیادہ دیر تک سوچتے سوچتے گھبرا اٹھتا تھا اور چاہتا تھا کہ جو کچھ ہونا ہے پرسوں کا ہوتا کل اور کل کا ہوتا آج ہو جائے۔ صرف ایک آدمی نوبل صاحب تھے جن کے ساتھ وہ اس بارے میں صلاح یا مشورہ یا گفتگو یا بحث یا جو کچھ کہو کر سکتا تھا۔ وہ بھی ان دنوں کسی سرکاری ضرورت سے باہر چلے گئے تھے۔ پس ابن الوقت کا ایک مہینہ کیوں خاصے دس دن اوپر ایک مہینہ بہت ہی پریشانی میں گزرا۔ مگر اس کو انگریزی اٹیکٹ سیکھنے کی خوب مہلت ملی۔ اسی اثنا میں جاں نثار نے ضروری آداب اس کو سب تعلیم کر دیے۔ گویا انگریزی سوسائٹی کی یونیورسٹی کا انٹرنس پاس کرا دیا۔ بارے مئی ۱۸۵۸ء کی تیرھویں تاریخ تھی کہ جاں نثار نے آ کر خبر دی کہ ''لیجیے حضرت! آج دن کے چار بجے سب سامان آپ کو مہیا ملے گا۔ دیر تو ہوئی، مگر کوٹھی کو بھی ایجنٹ نے ایسا سجایا ہے کہ پڑی جگمگا رہی ہے۔ دیکھیے گا تو پسند کیجیے گا۔ اور آج رات کو نو بجتے بجتے صاحب بھی خدا نے چاہا تو آ پہنچیں گے۔ آپ چاہیں تو آج رات کو وہیں چل کر آرام کریں۔ دن بھی اچھا ہے۔ مہورت بھی اچھا ہے۔ خدا مبارک کرے۔''

ابن الوقت: ''بہتر ہے۔ صاحب کو آ لینے دو۔ اور خوب دھیان کر لو۔ کسی چیز کی کسر تو نہیں رہ گئی۔''

جاں نثار: ''میں نے اچھی طرح دھیان کر لیا ہے اور دو ایک شخصوں کو بھی دکھا لیا ہے۔ بس اگر کسر ہے تو آپ ہی کی ہے۔ ان شاء اللہ ہر چیز آپ تیار پائیں گے۔''

آفتاب نکلا ہی تھا کہ اگلے دن نوبل صاحب کا بلاوا آ موجود ہوا۔ نوبل صاحب جیسا ان کا دستور تھا بہت تپاک سے ملے اور کچہری کے بکس سے ایک چٹھی نکال ابن الوقت کے حوالے کی کہ ''لیجیے مبارک ڈھائی سو کی اکسٹرا اسسٹنٹی کی منظوری آئی ہوئی چار دن سے میرے پاس رکھی ہے۔ چونکہ میں آنے کو تھا۔ میں نے چاہا کہ اپنے ہاتھ سے چٹھی اور اپنی زبان سے مبارک باد دوں۔ ایک بات میں نے آپ کے بے پوچھے کی کہ مقدماتِ تحقیقاتِ بغاوت میں مجھ کو آپ سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی۔ اس کام کے ختم ہونے تک میں نے آپ کو اپنے محکمے میں لے لیا ہے۔''

ابن الوقت: ''آپ نے تو احسانات سے اس قدر مجھ کو لاد دیا کہ شکر گزاری کا نام منہ سے نکالنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ بھلا خیر زمین داری تک تو مضائقہ نہ تھا۔ یہ اکسٹرا اسسٹنٹی کیوں کر میرے سنبھالے سنبھلے گی۔''

نوبل صاحب: ''ایسی سنبھلے گی کہ دوسروں کے چھکے چھوٹ جائیں گے ضوابطِ کچہری سے ایک طرح کی ناآشنائی بے شک ہے۔ سو کچھ بڑی بات نہیں اور اسی غرض سے میں نے آپ کو اپنے محکمے میں لے لیا ہے۔ ایک ہوشیار سا منشی آپ کے اجلاس میں تعینات کر دیا جائے گا اور وہ تھوڑے دنوں میں آپ کو ضوابط سے آگاہ کر دے گا۔ آپ کے لیے زمین داری کے ساتھ اس خدمت کی تجویز ہو چکی تھی۔ مگر ایک دم سے اتنی بڑی نوکری دیتے ہوئے لوگ ہچکچاتے تھے۔ آخر لاٹ صاحب کے یہاں سے منظوری منگوائی گئی۔ حسنِ اتفاق سے آج غدر کو بھی پورا برس ہوا۔ بس کل سے ضلع کی کچہری میں میرے اجلاس کے پہلو میں اجلاس شروع کیجیے میں جاں نثار سے یہ بات سن کر بہت ہی خوش ہوا کہ آپ نے ۲۴ نمبر کا بنگلہ اپنے رہنے کے لیے تجویز کیا ہے۔ اور وہ بہمہ وجوہ مرتب بھی ہو گیا ہے۔''

ابن الوقت: ''شاید آپ کو یہ بھی معلوم ہوا ہو گا کہ میں مکان کے ساتھ لباس اور تمام ہندوستانی طرز کو بھی بدلنے والا ہوں۔''

نوبل صاحب: ''آہا! تو آپ کو پورا پورا رفارمڈ اور رفارمر جنٹلمین دیکھ کر میں بہت ہی خوش ہوں گا۔''

کھانے کا وقت قریب تھا۔ نوبل صاحب نے چاہا کہ ابن الوقت بھی شریک ہو۔ مگر اس نے عذر کیا کہ بس آج اس وقت اور معاف کیجیے۔ اس وقت کے بدلے اگر آپ چاہیں تو میں رات کو کھانے میں وضعِ جدید کے ساتھ شریک ہو سکتا ہوں۔ مجھ کو اس حالت سے آپ کے پاس بیٹھنا، باتیں کرنا اور آپ کے ساتھ کھانا کھانا بھلا نہیں معلوم ہوتا۔

نوبل صاحب نے اس بات کو بہت پسند کیا اور فرمایا کہ آج ڈنر پر میں اپنے احباب کو بھی جمع کروں گا اور کھانے کے بعد سب سے آپ کی تقریب بھی کرا دوں گا تاکہ ایک جلسے میں سب صاحب لوگوں سے معرفت ہو جائے۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.