
Глава 8 из 28
Мистер Нобл делает реформатора
Mr Noble Makes a Reformer
نوبل صاحب ابن الوقت کو رفارمر بناتے ہیں
نوبل صاحب نے اس قصہ کو بہت ہی غور اور توجہ سے سنا۔ بیچ بیچ میں کبھی مسکرانے لگتے اور کبھی استکراہ ان کے چہرے سے ظاہر ہوتا تھا۔ مگر ابن الوقت کی بات کو انہوں نے نہیں کاٹا۔ جب ابن الوقت نے بات پوری کی تو فرمانے لگے کہ ''ہمیشہ میری یہ رائے ہے کہ انگریزی عمل داری میں یہی بڑا خطرناک نقص ہے کہ حاکم و محکوم میں ارتباط نہیں۔ یہ اجنبیت اگر سببِ غدر نہیں ہوئی تو غدر کی ترقی کا موجب تو ضرور ہوئی۔ اور جب تک ہندوستان کے لوگ انگریزوں کے ساتھ مانوس نہیں ہوں گے سلطنت ایک منٹ کے لیے بھی قابلِ اطمینان نہیں۔ مگر اس میں دونوں کا قصور ہے۔ انگریز بہ غرورِ حکومت ہندوستانیوں کی طرف ملتفت نہیں ہوتے اور ہندوستانی بوجہ نادانی انگریزوں سے پرہیز اور گریز کرتے ہیں۔ کیونکر ایسے دو آدمیوں میں اتحاد ہو سکتا ہے جن کی نہ زبان ایک، نہ مذہب ایک، نہ رسم و عادت ایک، نہ مزاج ایک؟ پھر اس اجنبیت کے نقصان بھی دونوں کی طرف عائد ہیں۔ ہندوستانیوں کا تو صریح نقصان یہ ہے کہ خدا نے انگریزوں کو سلطنت کے ذریعے سے عزت اور دولت کا منبع بنا دیا ہے اور اب اس غدر نے بخوبی ثابت کر دیا کہ جس سلطنت کو انگریزوں نے بہ زورِ شمشیر حاصل کیا ہے اس کو بہ زورِ شمشیر قائم رکھنے پر قادر بھی ہیں۔ ہندوستانی جس قدر انگریزوں سے بھاگتے ہیں اسی قدر عزت سے محروم اور دولت سے بے نصیب ہیں۔ اس کے مقابلے میں انگریز کب نقصان سے محفوظ ہیں۔ ضعفِ سلطنت سے بڑھ کر اور کیا نقصان ہو گا۔ آج اگر رعایا دوستدار ہوتی تو تلنگوں کو اول تو بغاوت کرنے کی جرات ہی نہ ہوتی اور خیر نادانی کر بھی بیٹھے تھے تو بغاوت اس قدر جلد کبھی نہ پھیلتی کہ گویا چٹکی بجانے میں اس سرے سے اس سرے تک آگ سی لگ گئی۔ تلنگوں نے سلگائی اور رعایا نے بھڑکائی۔''
ابن الوقت: ''پھر کسی طرح یہ آپس کا نفاق دفع بھی ہو۔''
نوبل صاحب: ''دونوں ایک دوسرے کی طرف کو جھکیں۔ سو میں سمجھتا ہوں خدا کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ شاید یہ غدر اسی غرض سے ہوا تھا کہ دونوں کو اپنی اپنی غلطیوں پر تنبہ ہو۔ ابھی تو غدر کی یادداشت تازہ ہے۔ چند سال بعد غدر اور اس کی خوفناک حکایتیں سب قصے اور افسانے معلوم ہونے لگیں گے۔ ایک بار اچھی طرح پھٹ کر اس زخم کا انگور بندھے گا اور جس طرح آپ آج کے بعد کل اور کل کے بعد پرسوں کو دیکھ رہے ہیں مجھ کو وہ دن نظر آ رہا ہے اور خدا نے چاہا تو میں اس کو اپنی زندگی میں ان آنکھوں سے دیکھوں گا۔ ہندوؤں کا کفر تو شاید مدتوں میں جا کر ٹوٹے گا کیوں کہ ان بے چاروں کے پاس رسم و رواج کے سوائے مذہب کوئی چیز نہیں، مگر ہاں مسلمانوں کو اپنے مذہب پر بڑا ناز ہے اور جہاں تک مجھ کو معلوم ہے ان کے مذہبی اصول اکثر اچھے بلکہ بہت اچھے ہیں، ان میں اور انگریزوں میں ارتباط اور اختلاط کا ہو جانا چنداں دشوار نہیں معلوم ہوتا۔''
ابن الوقت: ''بے شک ہونا تو یوں ہی چاہیے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہاں کے مسلمان اس خصوص میں ہندوؤں سے بہت زیادہ شدید ہیں۔''
نوبل صاحب: ''شدید ہیں یا دونوں کی اجنبیت کی وجہ سے ارتباط و اختلاط کا موقع نہیں ملا اور اس بارے میں کسی نے کوشش نہیں کی؟''
ابن الوقت: ''دونوں ہی باتیں ہیں۔''
نوبل صاحب: ''آپ اپنی فرمائیے میرے جتنے دوست ہیں سب ہی تو آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں بلکہ بعض تو متقاضی ہیں۔ اس بات کو تو میرا جی نہیں چاہتا کہ انگریزی سوسائٹی میں اس طرح پر آپ کی تقریب کروں کہ گویا آپ اہلِ غرض ہیں یا امیدوارِ خدمت۔ اس وقت ساری انگریزی سوسائٹی خیر خواہی کی وجہ سے آپ کو نظرِ وقعت سے دیکھتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اسی وقعت کے ساتھ آپ کو انٹروڈیوس کرا دوں یعنی صاحب لوگوں سے آپ کی دوستانہ اور برابری کی ملاقات کرا دوں۔ مگر آپ سے اس بات کے کہنے کی معافی مانگتا ہوں کہ اس لیے آپ کو اپنی حالت کچھ بدلنی پڑے گی۔ اور اگر آپ کو اس میں تعذر ہو تو شاید نہیں ملنا بہتر ہو گا۔ اگرچہ اس صورت میں مجھ کو بڑی مشکل پیش آئے گی اور میں اپنے دوستوں کو شاید کوئی معقول وجہ نہیں بتا سکوں گا۔''
ابن الوقت: ''میں آپ سے ذرا تفصیل کے ساتھ سننا چاہتا ہوں کہ آپ کس طرح کی تبدیلی کی مجھ سے توقع رکھتے ہیں۔''
نوبل صاحب: ''کم سے کم اس قدر کہ انگریزی مذاق کے مطابق ایک مکان درست ہو۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہم لوگ ہمیشہ بیرونِ شہر کھلے ہوئے مکانوں میں رہنا پسند کرتے ہیں اور ہم لوگوں کا طریقہ نشست و برخاست اور طرزِ ماند و بود بھی مختلف ہے۔ میرے دوست آپ سے ملنے کے لیے کہتے رہتے ہیں کئی بار دل میں آیا کہ آپ کے پاس لے چلوں۔ پھر سوچا کہ آپ ان لوگوں سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ناحق شرمندگی ہو گی۔ اول تو آپ کا مکان ایسی گلیوں میں واقع ہے کہ وہاں تک بگھی جا نہیں سکتی۔ پھر گلیاں تنگ اور ناصاف کہ کوئی صاحب لوگ ایسی پیچ در پیچ جگہ جانا پسند نہیں کر سکتا۔ آپ کا مکان اگرچہ چنداں برا نہیں مگر صاحب لوگ کی آسائش کے لیے میز کرسی وغیرہ کوئی سامان نہیں۔ ان وجوہ سے میں نے کسی دوست کو آپ کے پاس لے جانے کی جرات نہیں کی تو اس بارے میں جیسا کہ آپ کو منظور ہو بیان کیجیے کہ آپ کو انگریزوں کے ساتھ جس طرح پر کہ میں چاہتا ہوں ملنا پسند ہے یا نہیں۔''
ابن الوقت: ''یہ معاملہ بڑا ٹیڑھا ہے۔ ہمارے مسلمان بھائیوں کا تعصب (یہ ایک دوسری بات ہے کہ بجا ہے یا بے جا) اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آپ ہرگز اس کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتے۔ جن لوگوں نے غدر میں آپ کا ہمارے یہاں رہنا سنا ہے مجھ کو ان کے تیور بھی بدلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور آج میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھاتے تو کھا لیا اور میں نے اپنے اذعان میں ہرگز خلافِ مذہبِ اسلام نہیں کیا، کیونکہ آپ لوگ اہلِ کتاب ہیں اور ہمارے قرآن مجید میں اہلِ کتاب کے ساتھ کھانے کی صریح اجازت موجود ہے۔ مگر شہر کے مسلمان اگر سن پائیں گے (اور کیوں نہ سنیں گے) کم بخت اس طرح کے جاہل ہیں کہ شہر میں میرا رہنا دشوار کر دیں گے اور میں ٹھہرا کنبے اور جتھے کا آدمی عجب نہیں سب مل کر مجھ کو برادری سے خارج کر دیں۔''
نوبل صاحب: ''مگر آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ بے اصل تعصب جس کو عقل کی تائید اور مذہب کی سند نہیں محض شورشِ جاہلانہ بے ثبات ہے۔ بے شک شروع شروع میں چند روز تک شاید لوگ آپ کو حقارت سے دیکھیں گے اور اس سے آپ کو ضرور کسی قدر ایذا بھی ہو گی۔ مگر تا بہ کے؟ اگر آپ استقلال کے ساتھ ایک طرز کو اختیار کریں گے اور کچھ شک نہیں کہ لوگوں پر اس نمونے کا مفید ہونا دیر سویر ثابت ہو گا پر ہو گا، تو مجھ کو پورا یقین ہے کہ رفتہ رفتہ لوگ اپنی غلطی پر متنبہ ہوتے جائیں گے اور نفرت کے عوض خود اسی طریقے کی تقلید کرنے لگیں گے۔ پس جس بات سے آپ ڈرتے ہیں ایذا ہے عارضی اور تکلیف ہے چند روزہ۔ آپ نے سرکاری خیر خواہی کے لیے کیسی جان جوکھوں اٹھائی تو کیا اپنی قوم، اپنے بھائی بندوں کے مفاد کے لیے تھوڑی سی خیالی ایذا کا تحمل کرنا کچھ بڑی بات ہے؟ یہ بات اچھی طرح سمجھ رکھنے کی ہے کہ پہلے ہی سے مسلمان ہندوستان کے باشندوں میں سب سے زیادہ خستہ حال تھے اب اس غدر نے رہا سہا اور تباہ کر دیا۔ معدودے چند شاید سارے ہندوستان میں پورے ایک درجن بھی برائے نام کچھ رئیس تھے میں سمجھتا ہوں۔ اس غدر کی آفت سے شاذ و نادر اور کوئی بچا ہو تو بچا ہو۔ کارتوس کے کاٹنے پر بگڑے ہندو اور اس اعتبار سے بغاوت کی ابتدا ہندوؤں نے کی۔ مگر آخرکار تھپ گئی مسلمانوں پر۔ اب بغاوت کا سارا نچوڑ مسلمانوں پر ہے اور ان احمقوں نے ہم وطنی کے لحاظ سے ہندوؤں کا ساتھ دے کر اپنا ایسا نقصان کر لیا ہے کہ سالہائے دراز تک ان کے پنپنے کی کچھ توقع نہیں۔ اب ان کے فلاح کی صرف یہی ایک تدبیر ہے کہ تلافیِ مافات کریں۔ اور جس قدر انگریزوں سے الگ تھلگ رہے ہیں اسی قدر بلکہ اس سے بھی زیادہ ان سے ٹوٹ کر ملیں اور ہمارے نزدیک کوئی وجہ نہیں کہ کوئی آدمی کیوں ایسی تدبیریں عمل میں نہ لائے جو اس کے حق میں مفید ہیں۔ مسلمان کتنے ہی گئے گزرے کیوں نہ ہوں اب بھی ان کے سروں میں تعزز کے خیالات بھرے ہوئے ہیں جہاں تک میں نے آزمایا ہے۔ مسلمانوں کے مزاج کارفرمائی کے لیے نہایت مناسب ہیں۔ میں نے ان کو کبھی ذلیل خوشامد کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ لوگ سختی اور مصیبت کو بڑے استقلال کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں جودت، ان کی عقلوں میں رسائی دوسری قوموں سے زیادہ ہے۔ راست بازی، راست گوئی، دیانت، حمیت، اور غیرت میں یہ لوگ اپنے ہم وطنوں سے ضرور سربرآوردہ ہیں۔ میں نے مختلف اضلاع میں بہ تعلق خدمتِ سرکاری ہندوستانیوں کی اکثر قوموں کا تجربہ کیا ہے۔ خدمت گار، چپراسی، عملۂ کچہری، حکام، پیشہ ور، تاجر کوئی حیثیت کیوں نہ ہو، میں نے ہمیشہ مسلمانوں کو بہت بہتر پایا ہے بہ مقابلہ دوسری قوم کے۔ میں ان کے مذہب کو (آپ معاف کیجیے گا) سپاہیانہ مذہب خیال کرتا ہوں۔ اور میرے نزدیک ہر مسلمان مذہباً سپاہی ہے۔ ایک مسلمان تحصیل دار صاحب میرے دوست ہیں۔ نہیں معلوم غدر میں ان کو کیا پیش آئی۔ مگر آدمی تیز مزاج، شدید الحکومت تھے، ضرور مبتلائے بغاوت ہوئے ہوں گے۔ ایک روز ہندوؤں اور مسلمانوں کے تذکرے میں کہنے لگے کہ میں بدون دیکھے ہندو فقیر کی آواز پہچان لیتا ہوں۔ ہندو فقیر جب بھیک مانگے گا گڑگڑا کر اور مری ہوئی آواز سے بھگوان بھلا کرے، برخلاف مسلمان فقیر کے کہ فقیری میں بھی طنطنے کو نہیں جانے دیتا۔ یا علی کہہ کر جو ایک ڈانٹ بتاتا ہے تو سارا محلہ چونک پڑتا ہے۔ میں ایسا سمجھتا ہوں کہ مدتوں اس قوم میں سلطنت رہی ہے یہ تمام صفات اسی کے آثار ہیں۔ لیکن سو برس بھی مسلمانوں پر افلاس کے اور گزرے تو ضرور ان کی نسلیں ایسی بگڑ جائیں گی کہ پھر ان کی اصلاح شاید ناممکن ہو۔ یہ قوم ایک رفارمر کی پہلے سے محتاج تھی اور اب تو رفارمر کے ہونے نہ ہونے پر انہیں کے ہونے نہ ہونے کا فیصلہ ہے۔ میں کہتا ہوں وہ رفارمر تمہیں کیوں نہ ہو؟ شخصی عزتیں فروع ہیں قومی عزت کی۔ کوئی شخص دولت یا ہنر یا کسی اور وجہ سے کیسا ہی قابلِ عزت کیوں نہ ہو جب تک وہ ایک ذلیل قوم کا آدمی ہے، اس کو پوری پوری عزت کی توقع ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ ذلیل قوموں کے لوگ دولت پیدا کر کے بڑے مالدار ہو جاتے ہیں۔ مگر ناصیۂ امارت سے قومی ذلت کے داغ کو نہیں چھڑا سکتے اور سوسائٹی کبھی ان کی ایسی وقعت نہیں کرتی جس کے وہ امیری کی وجہ سے مستحق ہیں۔ میں نے اب نہیں غدر سے بہت پہلے اسی ہندوستان کے بڑے شہر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک بازار میں کوئی چار گھڑی دن رہے لوگوں کی آمد و شد اس کثرت سے تھی کہ اس سرے سے اس سرے تک گویا ایک میلہ لگا ہوا ہے جو لوگ سواریوں پر تھے وہ اور ان کے نوکر سبھی تو چلاتے تھے، ہٹو، بڑھو، بچو، کون سنتا ہے؟ اتنے میں سامنے سے ایک گورا نظر پڑا کہ اکیلا پائپ پیتا ہوا سیدھا چلا آ رہا ہے اور لوگ ہیں کہ آپ سے آپ کائی کی طرح اس کے آگے سے پھٹتے چلے جاتے ہیں۔ میں نے اس وقت خیال کیا تھا کہ یہ قومی تعزز کا اثر ہے شخصی تعزز پر اگر قومی تعزز مستزاد ہو تو نور علیٰ نور ورنہ بدون قومی تعزز کے شخصی تعزز اصلی عزت نہیں بلکہ عزت کا ملمع ہے۔ دنیا میں نیکی کے بہت سے کام ہیں لیکن قوم کی رفارم سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں ہے یہ وہ نیکی ہے جس کا فائدہ عام اور اثر نسلاً بعد نسلٍ رہ سکتا ہے۔ جن کو آپ پیغمبر کہتے ہیں وہ میرے نزدیک اپنے وقت کے رفارمر تھے۔''
ابن الوقت: ''مسلمانوں میں رفارمر کی ضرورت کو میں تسلیم کرتا ہوں۔ مگر یہ کام میرے بوتے کا نہیں ایک آدمی بگڑا ہوا ہوتا ہے تو کوئی اس کی اصلاح کا بیڑا نہیں اٹھا سکتا۔ نہ کہ قوم کا یہ کام مقدورِ بشر نہیں۔ قوم کے دلوں کا پھیر دینا میرے نزدیک تصرفِ الٰہی ہے۔''
نوبل صاحب: ''تصرفِ الٰہی ہی سہی اور سہی کا لفظ میں نے غلط کہا۔ مجھ کو کہنا چاہیے تھا تصرفِ الٰہی ہے۔ لیکن دنیا میں تصرفاتِ الٰہی ہمیشہ اسبابِ ظاہری کے ذریعے سے ہوتے ہیں آیندہ کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ کون کہہ سکتا ہے؟ شاید مسلمانوں کی تباہی حد کو پہنچ چکی ہو اور اب خدا کو ان کی حالت کا بہتر کرنا منظور ہو اور عجب نہیں اس بہتری کا یہی سامان ہو یا یہی نہ ہو تو منجملہ بہت سے اسباب کے یہ بھی ہو کہ ہم آپ اس قسم کا تذکرہ کر رہے ہیں اور خدا آپ کے دل میں ڈال دے اور آپ استقلال کے ساتھ اس کام کو شروع کریں اور آپ کی سعی مشکور ہو۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے واقعات اکثر محض خفیف اور ضعیف اسباب سے پیدا ہوئے ہیں۔ جیسے بڑے بڑے عظیم الشان درخت چھوٹے چھوٹے بیجوں سے، دنیا کے حالات پر نظر کرنے سے ایسی امید کی جا سکتی ہے کہ شاید تمام روئے زمین پر ترقی کا دور شروع ہو گیا ہے۔ لوگ جو اس زمانے میں پیدا ہوتے ہیں، خلقۃً متقدمین سے زیادہ ذہین اور روشن دماغ اور آزاد مزاج اور وسیع خیال ہوتے ہیں۔ پس اس زمانے میں رفارم کوئی ایسا مشکل کام نہیں کیونکہ طبیعتیں خود رفارم کی طرف متوجہ ہیں جیسے بادبانی جہاز کا بادِ شرطہ کے رخ پر لے چلنا یا ایک بوجھ کا اوپر سے نیچے کو اتارنا۔ پھر اگلے زمانوں میں رفارمر کو اپنے خیالات کا دوسروں تک پہنچانا سخت مشکل ہوتا تھا۔ وہ انہی لوگوں کو اپنے خیالات سے آگاہ کر سکتا تھا جن کے ساتھ اس کو بالمشافہ گفتگو کرنے کا موقع ملتا۔ اور اس زمانے میں چھاپے اور ڈاک اور ریل نے ایسی سہولتیں بہم پہنچا دی ہیں کہ ایک بات کو مشتہر کرنا چاہو تو ساری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے شاید ایک مہینہ کافی ہے۔ پس ایک رفارمر کا صلہ یعنی شہرت اور شہرت بھی نیک نامی کے ساتھ اور خوشنودیِ سرکارِ انگریزی اور جو منفعتیں اس پر مترتب ہوں اور ثوابِ عاقبت سب کچھ مفت ہے اگر کسی کی خواہش ہو اور میں آپ کے لیے اس سے بہتر کوئی مشغلہ نہیں پاتا۔''
ابن الوقت: ''ہمارے ملک میں تو یہ بالکل ایک انوکھا اور کٹھن کام ہے۔ آپ کے فرمانے سے جی تو میرا بھی چاہتا ہے مگر بوجوہ چند در چند ہمت تصور کرتی ہے۔''
نوبل صاحب: ''سنیے صاحب! ملک کی آب و ہوا رفارم رفارم پکار رہی ہے۔ اور مجھے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عن قریب پردۂ غیب سے رفارمر خروج کرنے والے ہیں۔ میرا جی چاہتا تھا کہ یہ نیک نامی آپ کے حصے میں آتی اور فرض کیجیے کہ آپ کو اس کوشش میں ناکامیابی ہو جو کبھی ہونے والی نہیں اور میں اس کا ذمہ لے سکتا ہوں، تاہم آپ کا نقصان ہی کیا ہے۔ یہ کیا کم ہے کہ اول آپ فلاحِ قوم کے محرک ہوئے۔''
ابن الوقت: ''تنہائی سے طبیعت الجھتی ہے ساری قوم کنفس واحدۃ میری مخالفت کرے گی میں اکیلا چنا بھاڑ کا کیا کر لوں گا؟ ایسے بڑے کام کے انجام کو چاہئیں اعوان و انصار اور میں اپنے متعارفین میں کسی کو اس خیال کا نہیں پاتا۔''
نوبل صاحب: ''میں ہندوستانی تو نہیں ہوں مگر جتنا میں ہندوستانیوں سے ملتا ہوں شاید کوئی انگریز نہ ملتا ہو گا۔ جہاں تک مجھ کو معلوم ہے جتنے انگریزی خواں ہیں سب انہی خیالات کے ہیں اور ان کے دوست آشنا رشتہ دار ملا کر کم سے کم اتنے ہی اور سمجھ لیجیے۔ پھر جو لوگ انگریزوں کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں کسی وجہ سے کیوں نہ ہو اکثر انہی کے بھی اور پھر اس قسم کے لوگوں کا شمار روز افزوں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ خیالات اگر نہیں ہیں تو مسلمانوں میں، اور مسلمانوں میں بھی ممالکِ مغربی شمالی اور اودھ اور پنجاب کے مسلمانوں میں۔ سو اودھ عیاش اور پنجاب سپاہی۔ دونوں کو ہندوستانی عمل داریوں نے مدتوں جاہل رکھ کر ہیولیٰ صفت بنا دیا ہے۔ جو ہر صورت کو آسانی سے قبول کر سکتا ہے۔ عسیر الانقیاد اگر ہیں تو ممالکِ شمالی مغربی کے مسلمان، جن کو انگریزی عمل داری کے امن و اطمینان نے اس بات کا موقع دیا کہ اپنے علوم کی یادگار کو جو فی زمانہ بالکل بے سود ہیں تازہ رکھیں۔ آپ کو یورپ جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لیکن اگر آپ گئے ہوتے تو آپ پر ثابت ہو جاتا کہ اہلِ یورپ کی عظمت سلطنت میں نہیں ہے بلکہ ان کی تمام عظمت ان علوم میں ہے جو جدید ایجاد ہوئے ہیں اور ہوتے جا رہے ہیں اور جن علوم کے ذریعے سے انہوں نے ریل اور تار برقی اور سٹیمر اور ہزارہا قسم کی بکار آمد کلیں بنا ڈالی ہیں اور بناتے چلے جاتے ہیں اور ہر طرح کی کاری گری میں دوسرے ملکوں کے لوگوں پر سبقت لے جا کر روئے زمین کی دولت اپنے ملک میں گھسیٹ لے گئے اور گھسیٹے لیے جا رہے ہیں۔ جس جس طرح کے ہنر اور کمال اہلِ یورپ میں ان کے ہوتے ممکن نہ تھا کہ ان کو سلطنت نہ ہو۔ سلطنت ان کے کمالات کی قیمت نہیں ہے بلکہ رونگھن میں ہے اور ان کا حقِ لازمی ہے۔ سلطنت سے انگریزوں کو کچھ مفاد ہے تو یہی ہے ان کے ملک کے چند آدمی آ کر نوکری کرتے اور تنخواہ پاتے ہیں۔ اس سے بھی ہم کو انکار نہیں کہ ہندوستانیوں کے مقابلے میں انگریزوں کو بڑی تنخواہ ملتی ہے اور کیوں نہ ملے؟ ان کے سفرِ دور و دراز کو دیکھو۔ اختلافِ آب و ہوا کی وجہ سے ان کی جان جوکھم پر نظر کرو۔ ان کی اجلی، شان دار، کثیر المصارف طرزِ زندگی اور ساتھ ہی ان کی دیانت داری کا بھی خیال کرو، تو معلوم ہو کہ انگریزوں کی تنخواہیں بہ واجب بڑی ہیں یا بنا واجب۔ یہ بھی انگریزوں ہی کے جگر ہیں کہ ان تنخواہوں پر کیسے کیسے سخت امتحان دیتے ہیں اور اپنا دیس اور اپنے عزیز یگانے چھوڑ کر کالے کوسوں نوکری کو نکل آتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات ان کے اصولِ زندگی میں داخل ہے کہ ہر انسان کو اپنے قوتِ بازو سے کمائی کرنی چاہیے جب کہ خاندانِ شاہی میں کا کوئی متنفس اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں اور خود ملکۂ معظمہ کے بیٹے پوتے قاعدے کے مطابق چھوٹے چھوٹے عہدوں سے نوکری شروع کرتے ہیں تو دوسرے کس گنتی میں ہیں۔ یہی تنخواہیں اور یہی امتحان اور یہی پردیس اور یہی اختلافِ آب و ہوا اور یہی تمام حالات ہندوستانیوں کے ہوں تو شاید گھر سے نکلنے کا نام نہ لیں۔ ولایت تو ولایت آج کسی کو برما جانے کا حکم دیا جاتا ہے تو سارے گھر میں رونا پیٹنا مچ جاتا ہے۔ اپنی ہمت کا تو یہ حال اور انگریزوں کی تنخواہوں پر حسد، بہر کیف یہی سہی کہ جتنے انگریز ہندوستان میں نوکر ہیں، حتیٰ کہ گورے سب کے سب یہاں کی تنخواہیں پا پا کر آسودہ حال ہو جاتے ہیں، لیکن ان معدودے چند کے تمول سے اس ملک کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے جس میں سے ان سے دو چند سہ چند ہر سال جزائرِ دور دست میں جا کر سکونت اختیار کر لیتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ علمِ طب اور صفائی میں جو بہت ترقی ہوئی ہے، عمروں کا اوسط بڑھ گیا ہے۔ بیماری اور موت میں بہت کمی ہو گئی ہے۔ توالد تناسل کثرت سے ہوتا ہے۔ ملک کی وسعت اس قدر کثیر التعداد باشندوں کو کافی نہیں۔ اور اہلِ یورپ کے تمول کا اندازہ کسی قدر آپ اس بات سے کر سکیں گے کہ وہاں دو روپیہ روز کی آمدنی کا آدمی سوسائٹی میں اس سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا جیسے یہاں ڈیڑھ دو آنے روز کا مزدور، اور دس ہزار روپیہ سالانہ کہ یہ سویلین کی پنشن کی مقدارِ غایت ہے۔ سواری اور اپنے ذاتی ملازم رکھنے کے لیے مشکل سے کفالت کر سکتا ہے۔ تو موٹی سے موٹی سمجھ کا آدمی بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ سلطنت کی وجہ سے یورپ میں یہ کچھ دولت پھٹ پڑی ہے۔ اصلی بات یہ ہے کہ خدا کو اہلِ یورپ کی ترقی ان کی فلاح منظور تھی کہ ملک کے ملک کو واقعاتِ نفس الامری اور موجوداتِ خارجی میں غور کرنے کی دھن لگا دی۔ اس غور سے سینکڑوں ہزاروں نئے نئے اصول دریافت ہوئے جن پر عمل کرنے سے انسان کی قدرت اس قدر بڑھ گئی کہ کچھ انتہا نہیں۔ غرض یورپ کی دولت مندی کے اصل نکلے سٹیم اور الیکٹریسٹی وغیرہ وغیرہ یعنی ان کے علومِ جدیدہ ہیں۔ ہالوے کا نام تو آپ نے سنا ہو گا۔ اس شخص کے یہاں مرہم اور گولیوں کا کارخانہ ہے۔ مگر اس کی آمدنی کو آپ اس پر قیاس کر سکتے ہیں کہ چار لاکھ روپیہ سالانہ تو صرف اجرتِ اشتہار کا خرچ ہے اور پھر کچھ بڑے کارخانوں میں اس کا شمار نہیں۔ ولایت جا کر دیکھیے تو معلوم ہو کہ تجارت کے مقابلے میں سلطنت ایک محض بے حقیقت چیز ہے۔ اگر تاجروں کے تمول کا حال آپ سے بیان کروں تو آپ مبالغہ سمجھیں۔ پھر ہماری ولایت کوئی سیر حاصل ملک نہیں۔ پیداوار اور معدنیات کے اعتبار سے یورپ کسی طرح ہندوستان سے لگا نہیں کھا سکتا۔ مگر چوں کہ ہندوستان کے لوگ نئے علوم سے ناواقف ہیں، خدا داد سرمایہ سے فائدہ اٹھانے کا سلیقہ نہیں رکھتے۔ ہندوستانیوں کی بدقسمتی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ مثلاً روئی ہندوستان سے ولایت جاتی ہے اور وہ لوگ اپنی ہنرمندی سے اسی روئی کے انواع و اقسام کے کپڑے بنا کر پھر ہندوستانیوں کے ہاتھ چند در چند نفع پر فروخت کرتے ہیں۔ پس ہندوستانیوں کے پنپنے کی اگر کوئی تدبیر ہے تو یہی کہ ان میں علومِ جدیدہ کو پھیلایا جائے اور ان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جائے کہ اپنی تمام قوتِ عقلی واقعات میں صرف کریں۔ یہاں کے لوگ بالطبع ذہین ہوتے ہیں۔ ادھر طبیعتیں لڑانی شروع کریں اور اس کا ان کو چسکا پڑ جائے تو بس ساری شکایتیں رفع ہیں۔ اور از بس کہ تمام علومِ جدیدہ جن پر ملکی ترقی کا انحصار ہے، انگریزی ہی میں ہیں۔ سب سے پہلے زبانِ انگریزی کو رواج دینا ہو گا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی خیال کیا ہے کہ علومِ جدیدہ کی کتابیں اردو میں ترجمہ کرائی جائیں مگر میں اس رائے سے متفق نہیں ہوں۔ اول تو زبانِ اردو میں اتنی وسعت نہیں کہ علومِ جدیدہ کی تمام مصطلحات کا اردو ترجمہ ہو سکے۔ ناچار اکثر مصطلحاتِ انگریزی کو اختیار کرنا پڑے گا اور ان کے تلفظ میں ضرور غلطیاں ہوں گی۔ میں نے اس طرح کی بعض طبی اور بعض کیمیا اور بوٹنی وغیرہ علوم کی کتابیں دیکھیں۔ کوئی سطر انگریزی الفاظ سے خالی نہیں۔ یہ ترجمے اردو انگریزی مخلوط آدھا تیتر آدھا بٹیر مجھ کو سخت بدمزہ معلوم ہوتے ہیں اور پھر کسی زبان کے ایک لفظ کی دوسرے زبان میں کیسی ہی ہندی کی چندی کیوں نہ کرو اس کا ٹھیک مفہوم دوسری زبان میں ادا ہونا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی زبان کے رواج دینے سے ایک غرض تو علومِ جدیدہ کا پھیلانا ہے اور دوسری غرض اور بھی ہے یعنی عموماً انگریزی خیالات کا پھیلانا۔ اکیلے علومِ جدیدہ سے کام چلنے والا نہیں۔ جب تک خیالات میں آزادی، ارادے میں استقلال، حوصلے میں وسعت، ہمت میں علو، دل میں فیاضی اور ہمدردی، بات میں سچائی، معاملات میں راست بازی یعنی انسان پورا پورا جنٹلمین نہ ہو اور وہ بدون انگریزی جاننے کے ہو نہیں سکتا۔ انگریزی داں آدمی کو اخباروں اور کتابوں کے ذریعے سے انگریزی خیالات پر آگہی بہم پہنچانے کی بڑی آسانی ہو سکتی ہے۔ رفارم جس کی ضرورت ہندوستان کی ترقی کے لیے ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہندوستانیوں کو انگریز بنایا جائے۔ خوراک میں، پوشاک میں، زبان میں، عادات میں، طرزِ تمدن میں، خیالات میں ہر ایک چیز میں۔ اور وقت اس کے لیے چپکے چپکے کوشش کر رہا ہے مگر اس کی کوشش دھیمی ہے اور اسی پر نتیجے کا مترتب ہونا دیر طلب۔ لوگوں کے دلوں میں خود بخود اس طرح کے خیالات بہ تقاضائے وقت ہو چلے ہیں۔ کوئی رفارمر کھڑا ہو کر اس سلگتی ہوئی آگ کو جلدی سے بھڑکا دے۔''
ابن الوقت: ''آپ کے سمجھانے سے دل میں آتا ہے کہ اس کام کو کرنا چاہیے۔ اس کے ضروری اور مفید ہونے میں تو کوئی شک نہیں مگر یہ تو فرمائیے کہ اس کی ابتدا کس طرح پر کی جائے۔''
نوبل صاحب: ''رفارمر بننے کی بسم اللہ یہ ہے کہ رفارمر جو کیفیت لوگوں میں پیدا کرنی چاہتا ہے پہلے خود اس سے متکیف ہو لے اور اپنا نمونہ دکھا کر لوگوں کو تقلید کی ترغیب دے۔''
ابن الوقت: ''اگر عرض کرنا سوءِ ادب نہ ہو تو میں کہتا ہوں کہ آپ ہی رفارمر کیوں نہیں بنتے۔ یورپ ٹھہرا آپ کا وطن۔ وہاں کے حالات سے تو آپ بالتفصیل واقف ہیں۔ رہا ہندوستان آپ نے ذاتی شوق سے ہر طرف کی سیر و سیاحت کی ہے۔ ہر قوم و ملت کے ہندوستانی کے ساتھ آپ کو اختلاط بھی بہت رہا ہے اور بلا تخصیصِ قوم و مذہب و ملک عام انسانی ہمدردی بھی آپ کے دل میں کچھ کم نہیں، تو اس صورت میں منصبِ رفارم کے لیے آپ سے بہتر اور کون ہو گا؟''
نوبل صاحب: ''میں آپ کے ان خیالات کا شکر گزار ہوں مگر میرا یورپین ہونا منصبِ رفارم کے منافی ہے۔ ہم ملکی انگریزوں میں شاذ و نادر کوئی ایسا ہو گا جس کے دل میں اس طرح کے خیالات نہ گزرتے ہوں۔ ہم ہی میں کا ایک گروہ مشنری لوگوں کا ہے جن کی تمام ہمت اسی کام میں مصروف ہے۔ مگر چونکہ ان کے اغراض میں مذہب کا شمول ہے ان کی تمام کوششیں رائیگاں ہیں۔ شروع شروع میں تو پادریوں نے اکثر ہنود کے چند نوجوان لڑکوں کو اور بعض مسلمانوں کو بھی عیسائیت کی طرف راغب کر لیا تھا۔ اور کبھی کبھی سننے میں آتا تھا کہ فلاں ہندو یا مسلمان نے اصطباغ لیا۔ مگر مذہب کا عجیب معاملہ ہے، دل کی تسلی کا نام مذہب ہے۔ پھر تو لوگ چوکنے ہو گئے۔ پادریوں کی بڑی چوٹ ہندو دھرم پر تھی۔ سو انہوں نے کاٹ چھانٹ کر اپنے مذہب کو ایسا کر لیا کہ ہندو انگریزی پڑھ کر بگڑنا چاہتا ہے تو کوئی نہ کوئی سماج اس کو اپنے میں ملا لیتا ہے۔ غرض مدتوں سے غیر مذہب کے لوگ عیسائی ہوتے ہوتے نہیں الا شاذ۔ اب پادریوں کی بڑی کامیابی اس پر آ کر ٹھہری ہے کہ قحط کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔ کال پڑے اور صاحبِ ضلع سے لاوارث بچوں کو پرورش کے لیے لیں۔ ان کو اپنے طور پر لکھائیں، پڑھائیں، تربیت کریں، یہ بچے بڑے ہو کر عیسائی ہوں۔ اللہ اللہ خیر صلاح۔ پس فرض کیجیے کہ مشنری نہیں کوئی انگریز رفارمر بننا چاہے تو مذہبی بدگمانی کا کیا انسداد، انگریز کی تو صورت دیکھ کر لوگ ہتھے سے اکھڑ جائیں۔ سننے کے ہوں بھی تو نہ سنیں۔ ماننے کے ہوں تو نہ مانیں۔ رفارمر چاہیے اپنی قوم کا کہ وہ تردید کے عوض تائید کا اور اعتراض کی جگہ سند کا کام دے۔''
ابن الوقت: ''بہت خوب۔ خدا نے چاہا تو میں اس کام کو شروع کر دوں گا۔ ہرچہ بادا باد ما کشتی در آب انداختیم۔ لیکن آپ سے توقع کرتا ہوں کہ آپ میرے مددگار رہیں گے۔''
نوبل صاحب: ''نہ صرف میں بلکہ تمام انگلش کمیونٹی اور سرکار اور خود آپ ہی کی قوم کے بہت سے اشخاص معقول پسند جن کے سروں میں یہ خیالات بھرے ہوئے ہیں اور ضعفِ ہمت کی وجہ سے سہارا ڈھونڈ رہے ہیں کہ کوئی مقدمۃ الجیش بنے تو ہم پیچھے ہو لیں اور سنیے مجھ کو کامل یقین ہے کہ بہت جلد آپ کو اس ارادے میں کامیابی ہو گی۔ لوگوں کے مادے تیار ہیں۔ تھوڑے ہی دنوں میں آپ کو دیکھوں گا کہ ایک بڑا گروہ آپ کی رائے کی تحسین کرتا ہے۔ گویا وہ آپ کی امت ہیں اور آپ ان کے امام۔''
اللہ اکبر! نوبل صاحب اور ابن الوقت کون وقتوں کے باتوں میں لگے ہیں! گیارہ بجے کے بیٹھے بیٹھے چار بجا دیے اور باتوں کا سلسلہ ہے کہ منقطع نہیں ہونے پاتا۔ چپراسی خدمت گار ہیں کہ آئینوں میں سے جھانک جھانک کر چلے جاتے ہیں۔ جمعدار چپکے چپکے ایک چپراسی سے کہہ رہا ہے ''تمہی کہتے تھے نا کہ ان کو ملاقات سے پہلے کمرہ میں کیوں بٹھایا۔ اب دیکھا اس لیے بٹھایا تھا۔ صاحب کی نظروں میں آج جو یہ ہیں دوسرا نہیں ہونے کا۔'' اتنے میں نوبل صاحب اور ابن الوقت دونوں باتیں کرتے ہوئے باہر نکلے۔ ابن الوقت کہتے ہوئے چلے آ رہے تھے ''کہ بیچ میں آپ کو ضرورت ہو تو بلوا بھیجیے گا۔ ورنہ جس دن مجھ کو حاضر ہونا ہو گا ایک دن پہلے اطلاع کر دوں گا۔ اور ہاں! جاں نثار خاں کو اتنی اجازت دیجیے کہ یہاں کے کام سے فارغ ہو کر آج رات کو میرے یہاں رہیں۔ علی الصباح تو سب سے پہلے پھر اپنی نوکری پر آ موجود ہوں گے۔''
بری بات بھی کتنی جلدی شہرت پکڑتی ہے۔ گیارہ بجے کے قریب ابن الوقت نے نوبل صاحب کے ساتھ کھانا کھایا اور ظہر کی اول جماعت کے بعد محلے کی مسجد کے نمازی آپس میں تذکرہ کر رہے تھے کہ ''کیوں جی! میاں ابن الوقت کی نسبت بازار میں یہ کیا چرچا ہو رہا ہے کہ کرسٹان ہو گئے۔''
ایک نمازی: ''کرسٹان ہونے کی تو نہیں سنی۔ اتنا البتہ سنا ہے کہ وہی انگریز جو ان کے یہاں غدر میں چھپا تھا اس کو شہر میں کوئی بڑا بھاری کام ملا ہے۔ یہ اس کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ آج اس کے ساتھ کھانا کھا لیا۔''
دوسرا: ''میاں تم بھی عجیب آدمی ہو... نہیں... چھی چھی، انگریز کے ساتھ کھانا کھایا تو وہ کرسٹان، اس کی ہفتاد پشت کرسٹان۔ کیا کرسٹان کے سر میں سینگ لگے ہوتے ہیں؟''
تیسرا: ''اس انگریز کے ساتھ انہوں نے آج کچھ نیا کھانا نہیں کھایا۔ سارے غدر وہ انگریز ان کے گھر رہا اور برابر ان کے ساتھ کھاتا رہا۔''
دوسرا: ''دیکھو تو اس ظالم نے کیا غضب کیا ہے۔ خیر انگریز کو چھپایا تھا تو وہ جانے اس کا ایمان جانے مگر انگریز کے ساتھ کھا کر ہم لوگوں کے ساتھ کھانا پینا نہیں رکھنا چاہیے تھا۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ شاید روزے اور نماز سب کی قضا لازم آئے گی۔ دیکھو مولوی صاحب (امامِ مسجد) سلام پھیر لیں تو مسئلہ پوچھا جائے۔''
پہلا: ''شہر پر یہ کچھ تو آفتیں ٹوٹ رہی ہیں کہ کام والے کام سے گئے، نوکر نوکری سے، گھر والے گھر سے بے گھر ہوئے اور ہنوز کسی کی جان کا بھروسا نہیں، تحقیقاتِ بغاوت در پیش ہے، وہی کہاوت ہے کہ کر تو ڈر اور نہ کر تو خدا کے غضب سے ڈر۔ تم کو اگر اپنی جان دوبھر ہے تو مرنے کے سو حیلے ہزار بہانے۔ ہم غریبوں کو اپنی آنچ میں کیوں دھکیلتے ہو۔ دیوار ہم گوش دارد یہی بات اگر کوئی میاں ابن الوقت سے جا لگائے تو دم کے دم میں ساری مشیخت کرکری ہو جائے۔ نا بابا ہمارا تو اس وقت سے جماعت کی نماز کو سلام ہے۔ کس کی شامت آئی ہے کہ بیٹھے بٹھائے کھنچا کھنچا پھرے۔''
اتنے میں مولوی صاحب دعا سے فارغ ہو کر منہ پر ہاتھ پھیر رہے تھے کہ اس کٹے نمازی نے مسئلہ پوچھا ہی پوچھا۔
مولوی صاحب نے جواب دیا کہ انگریز کے ساتھ کھانے سے آدمی عیسائی نہیں ہو جاتا۔ مگر وعید ''من تشبہ بقوم فھو منھم'' اس پر متوجہ ہوتا ہے۔ مسلمان کو اس سے محترز رہنا چاہیے۔ لیکن ''الخبر یحتمل الصدق والکذب'' افواہ کا کیا اعتبار اور لو فرضاً سچ بھی ہو تو ''لا تزر وازرۃ وزر اخریٰ''۔ ایک شخص کا فعل اس کے اسلاف کی طرف کیوں متعدی ہونے لگا۔
غرض اس وقت تو نمازی متفرق ہو گئے۔ مگر اتنوں کے کان پڑی ہوئی بات سارے محلے میں ایک غل سا پڑ گیا۔ ابن الوقت لوٹ کر گھر آیا تو ہر طرف سے انگلیاں اٹھتی تھیں اور جن لوگوں کا معمول صاحب سلامت میں تقدیم کرنے کا تھا وہ بھی آنکھیں چراتے اور منہ چھپاتے تھے۔ جوں ابن الوقت نے مردانے میں پاؤں رکھا ہے زنان خانے سے عورتوں نے ڈیوڑھی میں آ کر جھانکنا شروع کیا۔ ابن الوقت لوگوں کی یہ مدارات دیکھ کر جی ہی جی میں کھٹکا تو سہی مگر کسی نے نہ منہ پھوڑ کر اس سے کچھ پوچھا اور نہ اس نے اپنی طرف سے ابتدا کرنا مناسب سمجھا۔ ابھی درباری لباس کے بوجھ سے بھی سبک دوش نہیں ہوا تھا کہ اندر سے پھوپھی صاحب کی طلب آئی۔ ابن الوقت کے ساتھ چار آنکھیں ہوتے ہی وہ نیک بخت بی بی آپ ہی بولیں ''میں تو کچھ نہیں کہتی۔ بس جھوٹوں سے خدا ہی سمجھے۔ سدا سے لوگوں کو اس گھر سے جلن رہی ہے پر ان شاء اللہ لوگ جلیں گے اور ہم پھلیں گے۔ تیسرے پہر سے سنتے سنتے کان بہرے ہو گئے کہ دشمنوں کو انگریزوں نے اپنے مذہب میں ملا لیا۔ برا چاہنے والوں کو اپنا جھوٹا کھانا کھلا دیا۔ کہنے والوں کو اب گھر میں آنا ہی نہیں ملنے کا اور میں ایک ایک سے کہتی تھی کہ نوج میرا بھتیجا اس قابل ہی نہیں۔ وہ تو انگریزوں کو عقل سکھلانے والا ہے۔ لاکھ جتن کریں گے۔ ایک نہ ایک بات ایسی اتار کر کہے گا کہ سب کے سب اس کا منہ دیکھنے لگیں گے۔ قربان جاؤں اس غفور الرحیم کے کہ تم بھلے چنگے لوٹ کر آئے بیٹا! اگر سچ مچ انگریزوں کی نیت بدلی ہوئی دیکھو جیسا کہ لوگ پکارا کر رہے ہیں تو پھوپھی صدقے گئی۔ ایسی خیر خواہی پر لعنت بھیجو، قلعہ غارت ہوا تو خیر خدا کی مرضی جس نے جان دی ہے وہ کہیں نہ کہیں سے ان بزرگوں کے طفیل، جن کے ہم نام لیوا ہیں نان بھی ضرور دے گا۔''
ابن الوقت: ''یہ کیا بے ہودہ بات آپ سے کسی نے آ کر کہہ دی ہے۔ حقیقت تو اسی قدر ہے کہ میں نوبل صاحب کے پاس گیا تھا۔ کھانے کا تھا وقت۔ انہوں نے اصرار کر کے مجھ کو میز پر بٹھا لیا۔''
پھوپھی: ''پھر تم نے کھایا تو نہیں؟''
ابن الوقت: ''کھایا تو کیا ہوا؟ وہی نوبل صاحب ہیں نا جو کامل تین مہینے ہمارے گھر مہمان تھے۔''
پھوپھی: ''خیر وہ الگ بات تھی۔''
ابن الوقت: ''آپ تو قرآن کا ترجمہ پڑھی ہوئی ہیں۔ سورۂ مائدہ کے پہلے ہی رکوع میں دیکھ لیجیے ''وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لہم'' کے کیا معنی لکھے ہیں۔ پھر ایک انگریز کے ساتھ کھانا کھا لینے کے علاوہ آپ بے دینی کی کوئی اور بات بھی مجھ میں دیکھتی ہیں۔ میں بدستور نماز پڑھتا ہوں۔ آپ کو یاد ہو گا عین رمضان کا مہینہ تھا کہ نوبل صاحب ہمارے یہاں آئے۔ میں دن بھر روزہ رکھتا تھا۔ خدا کے فضل سے ایک روزہ قضا نہیں کیا اور رات کو صاحب کے ساتھ کھانا بھی کھاتا تھا۔ صبح کی تلاوت جو میرا معمول تھا، میں نے اس کو ناغہ نہیں ہونے دیا۔ میں نہیں جانتا کہ مسلمان میں اور کیا سرخاب کا پر لگا ہوتا ہے۔ مذہب کیا چیز ہے؟ بندے کا معاملہ خدا کے ساتھ۔ بس کسی شخص کو دوسرے کے مذہبی معاملے میں دخل دینے کی ضرورت نہیں اور فرض کیجیے کہ نعوذ باللہ من ذالک اگر میں کرسٹان ہونا چاہوں تو کون مجھ کو روک سکتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ دنیا کے اعتبار سے کنگلوں کے زمرے سے نکل کر امیروں کے گروہ میں جا ملوں گا۔ محکوموں سے حاکموں میں۔ احمقوں سے عقل مندوں میں، بے عزتوں سے عزت والوں میں۔ مگر وہ بھی کچھ مذہب ہے، جس پر دنیا کا لالچ یا خوف اثر کر سکے!''
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.