
Глава 7 из 28
Жалоба депутата-коллектора
A Deputy Collector's Complaint
ایک ڈپٹی کلکٹر انگریزوں کی مدارات کا شاکی
میرے نسبتی بھائی ڈپٹی ہیں۔ برس دن ہوا رخصت لے کر انہی دنوں حج کو گئے۔ اب آج کل میں آنے والے ہیں۔ مزاج کے ہیں تیز، کسی حاکم سے ان کی نہیں نبھتی اور برس میں دو دو بار نہیں تو بے چارے ہر برس ضرور بدلتے رہتے ہیں وہ کبھی آ نکلتے ہیں اور اپنے حالات بیان کیا کرتے ہیں۔ ان سے میں قیاس کرتا ہوں کہ واقع میں ایک دن بھی مجھ جیسے آدمی کا انگریزی دربار میں گزر ہونا مشکل ہے۔ میں نے اپنے ان بھائی صاحب سے ایک دن پوچھا تھا کہ کہیے کچھ آپ نے سرمایہ بھی جمع کیا۔ تو کہنے لگے اجی اللہ اللہ کرو۔ کیسا سرمایہ۔ خدا جانے کیسے کیسے کتر بیونت کرتا ہوں کہ قرض نہ لینا پڑے۔ مجھ کو تو آئے دن کی بدلی ادھیڑے ڈالتی ہے، ورنہ خدا کا فضل ہے۔ میری تنخواہ خرچ کو کافی ہے بلکہ کچھ پس انداز ہو رہتا ہے۔ میں: ''حقیقت میں آپ کو برس دن بھی کہیں جم کر رہنا نصیب نہیں ہوتا۔ آخر اس کا سبب کیا ہے؟ اور بھی تو ڈپٹی ہیں۔ قطب از جا نمی جنبد۔ برسوں سے ایک جگہ جمے بیٹھے ہیں۔''
بھائی صاحب: ''خدا جانے صاحب لوگ کیا کمال کرتے ہیں۔ میں ہرچند کوشش کرتا ہوں کہ حکام کو راضی کر لوں مگر کچھ ایسی تقدیر کی گردش ہے کہ خواہ نخواہی ناچاقی ہو ہی جاتی ہے۔ اور بار بار کی بدلی نے مجھے اور بھی بدنام کر رکھا ہے۔ لوگ میرا نام سن کر پکار اٹھتے ہیں۔ اجی وہ لڑاکو ڈپٹی کلکٹر۔''
میں: ''آپ نے اصلی سبب اب بھی نہ بتایا کہ حکام آپ سے کیوں ناراض رہتے ہیں۔ اگر آپ کو میں سرمایہ دار دیکھتا تو شبہ کر سکتا تھا کہ شاید آپ رشوت لیتے ہوں گے۔''
بھائی صاحب: ''بات صاف صاف تو یہ ہے کہ میں رشوت نہیں لیتا۔ اور مجھ جیسا تنک مزاج آدمی رشوت لے بھی نہیں سکتا۔''
میں: ''میں تو سنتا تھا کہ انگریز رشوت سے بہت چڑتے ہیں اور آپ کے فرمانے سے بالکل الٹی بات معلوم ہوتی ہے۔''
بھائی صاحب: ''سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے کسی راشی انگریز سے معاملہ نہیں پڑا۔ میں نے کبھی کسی انگریز کو رشوت دی نہ کسی سے سنا کہ اس نے انگریز کو رشوت دی۔ انگریزوں کی بڑی رشوت کیا ہے۔ ڈالی، یا دورے میں گئے، تو رسد یا ڈاک بٹھانے کی ضرورت ہوئی تو گھوڑا گاڑی، یا شکار کو نکلے تو مانگے کے ہاتھی وغیرہ یا خاص خاص لوگوں سے شاذ و نادر تحفے تحائف۔ سو میں ان چیزوں پر رشوت کا اطلاق نہیں کر سکتا۔ رسد میں تو اکثر نوکروں کی شرارت ہوتی ہے کہ صاحب سے بھی ایک ایک کے دو دو لیتے ہیں اور بیچ میں آپ چٹ کر جاتے ہیں اور صاحب کو خبر نہیں ہونے دیتے اور شاید کوئی میم والا صاحب ہوا اور میم ہو گی کفایت شعار جزرس اور اس نے دھیلے انڈا اور آنے مرغی کے دام کاٹ دیے اور لکڑی گھاس مفت کی یہ چیزیں تحصیل دار، تھانہ دار، دیہات سے ضرور بے قیمت لیتے ہیں اور ہم کتنے ہی دام کیوں نہ دیں اصل مالکوں کو کوڑی ملنے والی نہیں۔ تو وہاں اس کا بھی عجب نہیں۔ مگر پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ انگریزوں میں رشوت نہیں چلتی، مگر ان کے حصے کی بلکہ اس سے بہت زیادہ ان کے اردلی، خدمت گار، شاگرد پیشہ، پیشی کے عملے لے مرتے ہیں اور صاحب کی آنکھ کان زبان بلکہ ہمزاد جو کچھ بھی کہو یہی لوگ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص میری طرح ان ہمزادوں یا حرام زادوں کو راضی نہیں رکھ سکتا تو کتنا ہی بڑا عہدہ دار کیوں نہ ہو، اختیارات، حکومت، تنخواہ سب کچھ ہے مگر عزت نہیں۔ اور میں چاہتا ہوں تو انگریزوں کے شاگرد پیشوں کو کچھ خرچ کرکرا کے راضی کر لے سکتا ہوں۔ مگر مجھ کو ان کے نام کی کچھ ایک چڑ سی آ پڑی ہے کہ دوہری دوہری سواریاں رکھتا ہوں، خدا کے فضل سے نوکر بھی متعدد ہیں، مکان کا کرایہ، اخبار، کھانا کپڑا، میرا سارا خرچ میرے پندار میں اجلا ہے۔ سال میں سینکڑوں روپے تو ہسپتال، مدرسہ اور دوسرے متفرق چندوں میں نکل جاتے ہوں گے۔ یہ تمام مصارف میں خوش دلی سے کرتا ہوں لیکن ڈالیوں اور شاگرد پیشوں کے انعام میں مجھ سے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا جاتا۔ اتنی مدت مجھے نوکری کرتے ہوئی اور چھوٹے بڑے صدہا انگریزوں سے میری معرفت ہے، مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں خوشی سے کبھی انگریز سے ملنے گیا ہوں یا کسی انگریز سے مل کر میری طبیعت خوش ہوئی ہو۔ میں انگریز سے ملتا ضرور ہوں مگر بہ مجبوری، دفعِ ضرورت کے لیے کہ ایسا نہ ہو مغرور سمجھا جاؤں یا عملوں اور اردلیوں کو جو ہمیشہ مجھ سے ناراض رہتے ہیں چغلی کھانے کا موقع ملے۔ مجھ کو بعض ایسے کریم النفس انگریزوں سے بھی واسطہ پڑا ہے جنہوں نے صرف بہ تقاضائے انصاف کارگزاری دیکھ کر مجھ کو فائدے پہنچائے ہیں اور میں ان کا دل سے ممنون ہوں۔ مگر انگریزوں کے عام برتاؤ سے میرا دل کچھ ایسا کھٹا ہو گیا ہے کہ جنہوں نے مجھ پر احسان کیے ہیں ان کے ساتھ بھی میں نے اس سے زیادہ راہ و رسم نہیں رکھی کہ جب تک افسری ماتحتی کا تعلق رہا جب وہ بدل گئے یا میں بدل گیا تو بھول کر بھی کسی کو عرضی نہیں بھیجتا۔ میں انگریزوں کی ملاقات کا ایسا چور ہوں کہ جب دیکھتا ہوں کہ اب بہت دن ہو گئے ہیں تو ہفتوں پہلے سے ارادہ کرتا ہوں اور آخر زبردستی ٹھیل کر دھکیل کر اپنے تئیں لے جاتا ہوں تو کوٹھی پر جا کر ہمیشہ وہی بے لطفی، اور بے عزتی۔ جاڑا ہو، پانی برستا ہو، کڑاکے کی دھوپ ہو، لوئیں چلتی ہوں، ہندوستانی ڈپٹی نہیں ڈپٹی کا باوا کیوں نہ ہو اور چاہے وہ اپنے مکان سے چار گھوڑے کی بگھی پر سوار ہو کر کیوں نہ آیا ہو۔ کلکٹر، جنٹ، اسسٹنٹ کی تو بڑی بارگاہیں ہیں اگر یوریشین ڈپٹی کلکٹر سے بھی ملنے گیا (اور نہ ملے تو کہاں رہے) تو احاطے کے باہر اترنا ضرور اور احاطے بھی شیطان کی انتڑی کہ ہم جیسے پرانی فیشن کے لوگ کوٹھی تک پہنچتے پہنچتے ہانپنے لگتے ہیں اور اگر صاحب کہیں اس حال میں دیکھ پائیں تو سمجھو ملاقات کو گئے نوکری نذر کر آئے اسی دن رپورٹ ہوئی دھری ہے کہ یہ شخص دس قدم پیدل نہیں چل سکتا۔ گویا ڈپٹی کلکٹر کو ضرور رہے کہ کم سے کم ڈاک کے ہرکارے کی ایک چوکی تک پوئی نہیں تو ڈلکی پیٹھی کا بستہ لے کر بھاگ سکے۔ پس اس ڈر کے مارے کسی درخت کی آڑ میں یا کوئی ایسا ہی گانٹھ کا پورا ہے اور اس نے شاگرد پیشوں کو پہلے سے چکھوتیاں کرا دی ہیں تو باورچی خانے یا اصطبل میں پاؤ گھنٹے آدھ گھنٹے کھڑے کھڑے دم لیا اور جب سانس اچھی طرح پیٹ میں سمانے لگا تو رومال سے منہ ہاتھ پونچھا، ہاتھ سے ڈاڑھی مونچھ کو سنوارا، آہستہ سے عمامے کو ذرا اور رچا لیا، چغے کے دامن سمیٹے اور بڑے مؤدب مقطع بن کر ہاتھ باندھے نیچی نظریں کیے ڈرتے ڈرتے دبے پاؤں کوٹھی کی طرف کو بڑھے، خدمت گار اور اردلی کے چپراسیوں نے تو احاطے کے باہر ہی تاڑ لیا تھا۔ کوٹھی کے پاس آتے دیکھ کر قصداً ادھر ادھر کو ٹل گئے۔ تھوڑی دیر زینے کے نیچے ٹھٹکے کہ کوئی آدمی نظر آئے تو اوپر چڑھنے کا قصد کریں، چلنے کی، باتوں کی اور چیزوں کے رکھنے اٹھانے کی آوازیں ہیں کہ چلی آتی ہیں مگر کوئی آدمی نظر نہیں آتا۔ آخر ناچار ستون کی آڑ میں جوتیاں اتار۔ ہمت کر کے بے بلائے اوپر پہنچے۔ کرسی نہیں، مونڈھا نہیں، فرش نہیں، کھڑے سوچ رہے ہیں کہ کیا کریں۔ لوٹ چلیں۔ پھر خیال آتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ لوٹتے کو صاحب اندر آئینوں میں سے دیکھ لیں۔ شرمندگی کے ٹالنے کو وہیں تھوڑی سی جگہ میں ٹہلنا شروع کیا۔ اتنے میں باورچی خانے کی طرف سے ایک آدمی آتا ہوا نظر آیا۔ جی خوش ہوا کہ اس سے صاحب کا اور اردلی کے لوگوں کا حال معلوم ہو گا۔ وہ لپک کر دوسرے دروازے کے اندر گھس گیا۔ اور ادھر کا رخ بھی نہ کیا۔ غرض کوئی آدھے گھنٹے (اور اس انتظار میں تو ایسا معلوم ہوا کہ دو گھنٹے) اسی طرح کھڑے سوکھا کیے۔ بارے خدا خدا کر کے ایک چپراسی اندر سے چٹھی لیے نمودار ہوا۔ کیا کریں اپنی غرض کے لیے گدھے کو باپ بنانا پڑتا ہے۔ حیا اور غیرت بالائے طاق، آپ منہ پھوڑ کر اس کو متوجہ کیا۔ کیوں جمعدار! کچھ ملاقات کا بھی ڈھنگ نظر آتا ہے۔ بس اس کو ڈپٹی کلکٹر کا ادب سمجھو یا شکایت کا ڈر، مگر میں جانتا ہوں کہ ادب اور ڈر تو خاک بھی نہیں صرف اتنی بات کا لحاظ کہ شہر کی فوج داری سپرد ہے خدا جانے کب موقع آ پڑے، چار و ناچار، اچٹتا ہوا سا سلام کر کے جیسے کوئی مکھی اڑاتا ہے۔ اس کو کہنا پڑا کہ آج ولایت کی ڈاک کا دن ہے۔ ملاقات تو شاید ہی ہو لیکن آپ بیٹھیے ابھی تو صاحب غسل خانے میں ہیں۔ یہ کہہ کر وہ پھر اندر کو جانے لگا تو آخر رہا نہ گیا اور زبان سے نکلا کہ کہاں بیٹھوں اپنے سر پر۔ تب اس نے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی، تکیہ اور بازو ندارد، گویا بید کی تپائی لا کر ڈال دی۔ اس کے بعد سے جب کوئی چپراسی یا خدمت گار باہر آتا یہی معلوم ہوتا کہ صاحب ابھی غسل خانے سے نہیں نکلے (الٰہی۔ کیا غسلِ میت ہے؟) اب کپڑے بدل رہے ہیں۔ اب میم صاحب کے کمرے میں ہیں۔ اب چٹھی لکھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آخر کو معلوم ہوا کہ کھانے کی میز پر ہیں۔ یہ سن کر جی ہی تو بیٹھ گیا کہ بس اب کیا خاک ملاقات ہو گی۔ ارادہ ہوا کہ گھر کی راہ لیں پھر خیال ہوا کہ کون وقتوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ آنا تو پڑے ہی گا دوسرے دن کا کیا بھروسہ اتنی محنت کیوں ضائع کی جائے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ اور صبر کرو۔ بڑی دیر کے بعد چپراسی یہ حکم لے کر نکلا کہ سرشتہ دار کو رپورٹ خوانی کے لیے بلایا ہے۔ اب رہی سہی امید اور بھی گئی گزری ہوئی۔ تب تو اپنا سا منہ لے کر چپراسی سے یہ کہتے ہوئے اٹھے کہ خیر میں اب جاتا ہوں صاحب سے میرے آنے کی اطلاع کر دینا۔ تب خدا جانے چپراسی کے دل میں کیا آئی کہ کہنے لگا میں دو بار آپ کی اطلاع کر چکا ہوں۔ کچھ بولے نہیں۔ اب پھر کہے دیتا ہوں۔ خفا ہوں گے تو آپ میری آدھ سیر آٹے کی فکر رکھنا۔ غرض بلائے گئے صاحب کو دیکھا پائپ منہ میں لیے ٹہل رہے ہیں۔ بس معلوم ہو گیا کہ مطمئن ملاقات نہیں ہو سکتی۔ سر جھکائے کوئی کاغذ یا کتاب دیکھ رہے ہیں۔ اب کوئی تدبیر سمجھ میں نہیں آتی کہ کیوں کر ان کو خبر کر دوں کہ میں آیا ہوا کھڑا ہوں۔ غور کیا معلوم ہے کہ شاید جان بوجھ کر کھڑا رکھا ہو۔ بلکہ مجھ کو تو اس بات کا بھی شبہ ہے کہ میرے آنے کی بہت دیر پہلے سے ان کو خبر تھی۔ چپراسی نے شاید نہ بھی کہا ہو مگر چاروں طرف آئینے کے کواڑ ہیں۔ عین سامنے کے دروازے سے آیا۔ درختوں کے نیچے ٹہلتا رہا۔ پھر بڑی دیر تک برآمدے میں بیٹھا رہا۔ کیا اتنے عرصے میں ایک بار بھی ان کی نظر نہ پڑی ہو گی۔ ضرور پڑی ہو گی آخر آپ ہی سر اٹھایا اور ڈپٹی صاحب حاکم بالادست ہو کر جو اتنی آؤ بھگت کرے تو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ صاحب نے بندہ نوازی میں کچھ کمی نہیں کی۔ آنکھیں چار ہوتے ہی اپنے مقابل دوسری طرف کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اپنے گھر یا آپس میں ایک دوسرے کے گھر کرسیوں پر بیٹھنا کون نہیں جانتا۔ لیکن میں تو اپنے سے زیادہ تنخواہ کے ہندوستانی صدر الصدوروں اور ڈپٹیوں کا انگریزوں کے روبرو کرسی پر بیٹھنا دیکھے ہوا تھا کہنے کو کرسی پر بیٹھا مگر حقیقت میں بید پر چوتڑ ٹیکے ہوں تو جیسی چاہو قسم لو۔ تم خدا کے بندے ہو۔ یقین ماننا کہ بس ڈنڈے پر الگ تھلگ جیسے اڈے پر گل دم۔ کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ کم بخت چپراسی نے پیچھے سے ہاتھ جوڑ کر کہا خداوند سرشتہ دار حاضر ہیں صاحب میری طرف دیکھتے جاتے ہیں اور چپراسی سے فرما رہے ہیں ''اچھا آنے بولو'' یعنی اچھا سرشتہ دار سے کہو چلے آئیں۔ سبحان اللہ سات برس اسسٹنٹ رہے نو برس کے قریب جنٹ اور اس سولہ برس میں صرف ایک بار ڈیڑھ برس کے لیے فرلو پر ولایت گئے تھے۔ بارہ برس دلی میں رہے اور بھاڑ جھونکا۔ چودہ برس میں حضرت نے اردو میں کیا کمال حاصل کیا۔ اچھا آنے بولو۔ اب میں منتظر ہوں کہ صاحب کچھ پوچھیں تو جواب دوں۔ اور سرشتہ دار مردود آگے آگے آپ پیچھے پیچھے بستہ قلم دان لیے ہوئے چپراسی آ ہی گھسا۔ سرشتہ دار کے روبرو مجھ سے پوچھتے ہیں تو کیا پوچھتے ہیں ''ول صاحب گرمی بوٹ''۔ میں گردن جھکا کر ''ہاں خداوند گرمی کے تو دن ہی ہیں۔ میرے علاقے میں تو پولیس کی رپورٹ سے ایسا معلوم ہوا ہے کہ لو سے بھی کئی آدمی مرے۔'' صاحب کو تو یہ جواب دے رہا ہوں اور دل میں کہہ رہا ہوں کہ گرمی کا تو حال معلوم تھا ارے ظالم تجھ کو یہ بھی خدا کا ترس نہ آیا کہ ایک بندۂ خدا جس کو کچہری میں سرکار سے ایک ٹٹی ملتی ہے (ناظر اپنی بدذاتی سے تین برس کے پرانے خس کی بندھوا دیتا ہے تو وہ جانے اور اس کا ایمان) اور جس کو گھر پر بھی ٹٹی لگانے کا مقدور ہے اور جو واقع میں گرمی بھر اپنے گھر ٹٹی میں رہتا ہے کتنی دیر سے برآمدے میں پڑا بھن رہا ہے۔ لاؤ سلام لے کر اس کو آزاد کروں۔ میں تو سمجھا تھا کہ آدمیوں کا لو سے مرنا سن کر چونک پڑے گا اور ضرور پوچھے گا کہ کس تھانے سے رپورٹ آئی؟ کتنے آدمی مرے؟ کب مرے؟ لو کا ہندوستانی کیا علاج کرتے ہیں اور کوئی لاش ڈاکٹر صاحب کے ملاحظے کو بھی آئی یا نہیں؟ غرض آدمی کا دل بولنے اور بات کرنے کو چاہے تو بہتیرے چیلے ہیں پر صاحب تو کچھ پی سے گئے۔ نہیں معلوم دھیان سے نہیں سنا یا سمجھے نہیں یا کالے آدمیوں کے مرنے کی پروا نہیں کی۔ اب سرشتہ دار ہے کہ بستہ کھول کر کاغذ پھیلا رہا ہے اور میری اور صاحب کی یہ تپاک کی ملاقات ہو رہی ہے کہ دونوں چپ۔ جب سرشتہ دار کاغذ پھیلا، لگا صاحب کا منہ دیکھنے تو صاحب مجھ سے فرماتے ہیں ''آپ کچ کچ''، یعنی آپ کو کچھ اور کہنا ہے۔ یہ سنتے ہی میں تو یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا کہ نہیں میں تو صرف سلام کے لیے حاضر ہوا تھا۔ بہت دن ہو گئے تھے جی ملنے کو چاہتا تھا پھر حاضر ہوں گا۔ میری اس آخیر بات میں اور باتیں ہی ایسی کون سی ہوئی تھیں کہ اس کو آخیر کہوں۔ بلکہ دوسری بات میں جی ملنے کو چاہتا تھا بالکل جھوٹ تھا۔ کس مسخرے کا جی ملنے کو چاہتا تھا اور کس مسخرے کا جی اب ملنے کو چاہتا ہے۔ ملاقات کے بامزا اور بے مزا ہونے کا معیار وقت ہے۔ دیر تک ملاقات رہی تو جانو خوب دل کھول کر باتیں ہوئیں۔ ہماری ملاقات کیا خاک بامزا سمجھی جائے کہ جانا اور اٹھاؤ چولھے کی طرح بیٹھنا اور گفتگو اور رخصت سب کچھ دو ہی منٹ میں ہو ہوا چکا اپنے حساب سے کون ایسا نیسا ملاقات کے ارادے سے گیا تھا۔ خدا گواہ ہے کہ صرف متھا پھٹول وہ بھی اپنے سر کا چھدا اتارنے کے لیے صاحب مجھ سے چاہے ایک بات بھی نہ کرتے۔ مگر سرشتے دار اور چپراسیوں کو میرے الٹے پاؤں لوٹ آنا نہ معلوم ہوتا۔ تو مجھ کو کچھ بھی شکایت نہ تھی۔ مگر میری تفضیح ان لوگوں کی نظروں میں ہوئی جو منصبی عزت میں میرے پاسنگ بھی نہ تھے باہر نکلا تو چپراسیوں اور خدمت گاروں کا غول کا غول برآمدے میں موجود تھا۔ مجھ کو دیکھتے ہی سب نے فرشی سلام کیا۔ الٰہی یہ کاہے کی ایسی لمبی چوڑی تعظیم ہو رہی ہے۔ گھنٹوں میں برآمدے میں بیٹھا سوکھا کیا ان میں سے کسی کی صورت بھی نظر نہ پڑی۔ اب یہ حشرات الارض کہاں سے نکل پڑے۔ آہا! میں اتنی جان فشانی کے بعد صاحب کو ایک سلام کر لینے کا گنہگار ہوں۔ یہ سرکاری پیادے اس کا جرمانہ وصول کرنے کے لیے مجھ پر تعینات ہیں۔ ہرچند کہتا ہوں مکان پر آنا، تنخواہ پر دیکھا جائے گا۔ عید قریب ہے اس میں سمجھ لینا۔ بے حیا پیچھا نہیں چھوڑتے آخر میں نے ترش رو ہو کر کہا کہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے ہوتا تو دینے کا نام دینا کبھی کا دے چکا ہوتا۔ ایسی ہی بے اعتباری ہے تو ایک آدمی میرے ساتھ چلو۔ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ایک آدمی تیار سا ہوا کہ مجھ سے پہلے آگے کوچ بکس میں بیٹھ لے اتنے میں جمعدار نے پنسل اور ایک پرچہ کاغذ نکال میرے ہاتھ میں دیا کہ حضور ناظر کو رقعہ لکھ دیں۔ جب جب میں قلم اٹھاتا بے ادب ہاتھ پکڑ لیتے تھے پہلے فرما دیجیے کہ آپ کیا لکھتے ہیں۔ اسی کشمکش میں بڑھتے بڑھتے میں تو اپنی بگھی تک جا پہنچا۔ سائیس پٹ کھولے کھڑا ہی تھا لپک کر پائیدان پر پاؤں رکھ غڑپ بگھی کے اندر۔ سائیس نے کھٹ سے پٹ بھیڑ دیا اور گھوڑا تھا کہ آہٹ پاتے ہی چل نکلا۔ میں نے کوچبان سے لے کر کاغذ کے پرزے میں ایک روپیہ رکھ پڑیا بنا اردلیوں کو دکھا نیچے پھینک دیا اور میں نے کھڑکی میں سے منہ نکال کر دیکھا تو ایک چپراسی نے پڑیا اٹھائی بھی ایک روپیہ دیکھ کر یقیناً بہت ہی بگڑے ہوں گے مگر میں ان کی گالیوں کی زد سے باہر نکل چکا تھا۔ بگھی کے اندر بیٹھ کر میں نے ایک ایسا لمبا سانس لیا جیسے کوئی مزدور سر پر سے بھاری بوجھ اتار کر۔ تمام راستہ اسی ملاقات کی ادھیڑ بن میں طے ہوا۔ بار بار خیال آتا تھا کہ سرشتے دار اور چپراسیوں کی نظر میں میری کیا عزت رہی۔ اب یہ لوگ تمام شہر میں اس کا ڈھنڈورا پیٹیں گے ایسی بے حرمتی سے روٹی کمانے پر لعنت ہے۔ پھر دل کو سمجھاتا کہ عزت ایک امرِ اضافی ہے۔ مجھے اپنے اقران و امثال پر نظر کرنی چاہیے۔ ان کے ساتھ بھی تو انیس بیس کے فرق سے ایسی مدارات کی جاتی ہے تو جس مجلس میں سب ننگے ہیں وہاں لنگوٹی کی کیا شرم۔ اسی حیص بیص میں گھر پہنچا چند آدمی منتظرِ ملاقات بیٹھے ہوئے تھے۔ مگر نہ وہ ڈپٹی تھے نہ میں کلکٹر کہ برآمدے میں محتاجِ اطلاع بیٹھے ہوں: آئے تو میں موجود نہ تھا۔ مزے سے گاؤ تکیوں کے سہارے پھیل پھیل کر بیٹھے گھر میں سے پان آ گئے۔ آدمیوں نے حقے بھر دیے۔ جوں مجھ کو دیکھا ایک صاحب بولے۔ اللہ اکبر ڈپٹی صاحب آج تو کلکٹر صاحب سے خوب گاڑھی چھنی۔ کون وقتوں سے میں آپ کا منتظر بیٹھا ہوں۔ دوسرے صاحب: ''آج بندے کا ارادہ بھی کلکٹر صاحب کے سلام کو جانے کا تھا۔ معلوم ہوا ڈپٹی صاحب تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ بس آج کسی کی دال نہیں گلتی۔'' تیسرے صاحب: ''مدت سے جدید تحصیل داری قائم ہونے کی خبر تھی۔ یہاں تک کہ بورڈ سے منظوری بھی آ چکی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج اسی انتظام کے صلاح و مشورے میں اتنی دیر لگی۔'' لوگ آپس میں یہ باتیں کر رہے ہیں اور میں کپڑے اتارتا جاتا ہوں اور اندر ہی اندر دل میں خوش ہوں کہ بھلا ہے خدا کرے لوگ ایسی ہی غلط فہمی میں مبتلا رہیں۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.