Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 5 из 28

بلاط الملكة وجزاء النصح

The Queen's Durbar and the Reward of Loyalty

دربار اور صلۂ خیر خواہی

المولوي نذير أحمد

Письмо
Размер

اب نوبل صاحب ابن الوقت کو گھر میں بسا کر چلنے لگے تو اس کو سمجھا گئے کہ ہرچند شہر کامل طور پر فتح ہو گیا ہے، مگر مفصلات میں بدستور بدانتظامی ہے۔ اکثر جگہ سرکاری تھانے تک نہیں بیٹھے۔ صاحب لوگوں میں سے کسی کو سانس لینے کی فرصت نہیں اور شاید آج جھجر پر دوڑ جانے والی ہے۔ عجب نہیں مجھ کو بھی جانا پڑے۔ آپ اطمینان سے گھر بیٹھے رہیے۔ جب موقع ہو گا میں خود آپ کو بلوا بھیجوں گا۔

شاموں شام جاں نثار ہزار روپے کا توڑا لا کر دے گیا کہ صاحب نے مدد خرچ کے لیے دیا ہے اور پھر نوبل صاحب ایسے غائب ہوئے کہ ابن الوقت کو مدت تک ان کا کچھ حال ہی معلوم نہ ہوا کہ کہاں ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ اسی اثنا میں شہر میں بسنے کی بندی بھی کسی قدر کھل گئی تھی۔ لوگ یوں ڈر کے مارے اپنی اپنی جگہ ٹھٹکے ہوئے تھے۔ تاہم شہر میں اکثر محلے اور محلوں میں اکثر گھر اور گھروں میں اکثر آدمی آباد ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ امنِ عام کی منادی گلی گلی اور کوچے کوچے پھرنے لگی اور معلوم ہوا کہ ملکۂ معظمہ نے کمپنی سے ملک نکال کر اپنے ہاتھ میں لیا۔ اور بڑی دھوم کا جشن ہونے والا ہے کل جشن ہو گا۔ اور نوبل صاحب کی کچھ خبر نہیں۔ کوئی چار گھڑی دن رہتے رہتے کمشنری کا چپراسی ابن الوقت کے نام کا ایک لفافہ لایا۔ شرکتِ جشن کے بلاوے کا خط تھا۔ ابن الوقت جی ہی جی میں بہت زچ ہوا کہ مجھ کو انگریزی دربار میں کبھی جانے کا اتفاق ہوا نہیں، حکام میں کسی سے معرفت نہیں، کیا نوبل صاحب کو ایسے ہی وقت میں مجھے چھوڑ کر چلے جانا تھا۔ بارے کشاں کشاں گیا تو نوبل صاحب کو موجود پایا۔ آج پہلا دن تھا کہ ابن الوقت نے نوبل صاحب کو ان کی اصلی شان میں دیکھا۔ بیسوں انگریز، ہندوستانی رئیس (اگرچہ اب رئیس کہاں تھے) ان کو گھیرے ہوئے تھے اور نوبل صاحب دربار کے اہتمام میں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دوڑے دوڑے پھر رہے تھے۔ تھوڑی دیر تک تو ابن الوقت کو انہوں نے دیکھا تک نہیں مگر جب ان کی نظر پڑی فوراً اس کے پاس آ کر ہاتھ ملانے کے بعد کہنے لگے: ''میں رات کے دس بجے آیا اس وقت مجھ کو آپ سے بات کرنے کی مطلق فرصت نہیں، وہ فلاں نمبر کی کرسی آپ کی ہے، وہاں بیٹھیے۔ آج (ذرا سوچ کر) بلکہ کل بھی میں آپ سے نہیں مل سکوں گا۔ پرسوں نو بجے سے گیارہ بجے تک جس وقت آپ کا جی چاہے آپ مجھ سے ٹامسن صاحب کی کوٹھی پر مل سکتے ہیں۔''

ابن الوقت نے شاہی دربار بہتیرے دیکھے تھے۔ ان میں ان گئے گزرے وقتوں میں رونق کہو، شان کہو، صرف درباریوں کے زرق برق لباس کی تھی وہ بھی پرانی... جامہ داریں، دقیانوسی پشمینے۔ اس دربار میں سارے دربارِ شاہی کے مول تول کا تو ایک قالین ہو گا اور شامیانے وخیمے اور میز کرسی اور جھاڑ فانوس اور تصاویر اور اسبابِ آرائش کا تو کوئی اندازہ کر سکتا تھا۔ ابن الوقت نے آج جانا کہ ساری رونق سادگی اور صفائی میں ہے۔ غرض شاہی اشتہار پہلے انگریزی میں اور پھر اردو میں پڑھا گیا۔ میدانِ دربار اور چھاؤنی اور قلعے سے تہری سلامی سر ہوئی۔ انگریزی باجے بجنے لگے۔ نذریں گزرنی شروع ہوئیں۔ اب خیر خواہانِ سرکار کا نمبر آیا۔ ابن الوقت دل میں اپنی ہی خیر خواہی پر بڑا نازاں تھا۔ اب معلوم ہوا کہ خاص شہر کے خیر خواہوں کی فہرست میں اس کا نمبر ۱۲۵ ہے۔ بہر کیف جب ابن الوقت کی نوبت آئی اور اس کا نام پکارا گیا تو صاحب کمشنر نے اس کو سامنے کھڑا کر کے اپنے ہاتھ سے نادان سنگھ جاٹ باغی زمین دار ضلع گوڑگانوہ کے علاقۂ منضبطہ میں سے موضع کھیر کا پور خیر خواہ پور جمعی تین ہزار روپیہ سالانہ کی سند زمین داری نسلاً بعد نسلٍ دستخطی مہری لاٹ صاحب حوالے کی اور نوبل صاحب نے کمشنر صاحب کے پیچھے سے گردن نکال کر اشارے سے وہیں مبارک باد دی۔ ابن الوقت کی خیر خواہی کا چرچا تو اسی دن سے لوگوں میں ہونے لگا تھا جس دن کہ دلی فتح ہوئی آج کے دربار نے اس کو اور بھی مشتہر کر دیا اور معرفت قرابت کے لوگ جو ہنوز شہر کے باہر خانہ بدوش پڑے پھرتے تھے آسرا پا کر کچھ تو سنتے کے ساتھ ٹوٹ آئے اور کچھ لوٹنے کے سامان کرنے لگے مگر ابن الوقت عجب کھرے روکھے کھردرے اکھڑ انگریزی مزاج کا آدمی تھا کہ یوں بے غرض اس سے ملو جلو ملاقات کرو خوش گپ خوش مزاج خوش صحبت اور حرفِ مطلب زبان پر آیا نہیں اور اس نے دو ٹوک ٹکا سا جواب پتھر کی طرح منہ پر کھینچ مارا نہیں۔ اگر سیدھی طرح سے لوگوں کو کہہ دیا کرتا کہ انگریزوں کے معاملے مقدمے میں سفارش کی چڑ ہوتی ہے یا میں صاف طور سے سفارش کرتے ہوئے ڈرتا ہوں یا موقع پاؤں گا تو کلمۃ الخیر سے دریغ نہیں کروں گا تو شاید لوگ اس سے اس قدر بے دل نہ ہوتے مگر اس کا تو حال یہ تھا کہ کسی نے پٹھے پر ہاتھ رکھا اور اس نے دولتیاں جھاڑنی شروع کیں۔ اگرچہ ابن الوقت کی کج مداراتی سے لوگوں کے دلوں میں اس کی طرف سے نفرت پیدا ہو گئی تھی مگر اپنی غرض کو ''مرا بخیر تو امید نیست بد مرساں'' اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے تھے اور کچھ نہیں تو اتنی سی بات کے بہانے سے گھڑی دو گھڑی کو آ بیٹھتے کہ ''آپ نے تو غضب ہی کی جرات کی۔ ایسی شورش میں انگریز کو میگزین میں سے اٹھا لائے اور گھر میں پناہ دی۔ منہ پر کہنا تو خوشامد ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ رستم کو بھی مات کیا۔''

دوسرا: ''خیر بہادری تو بہادری کمال تو یہ تھا کہ نافِ شہر میں مجمعِ مجاہدین یعنی خانقاہ کے زیرِ سایہ انگریز چھپا رہا اور کسی کے فرشتوں کو خبر بھی نہ ہوئی۔''

تیسرا: ''بھلا انگریزوں کی قدر دانی کو تو ملاحظہ کیجیے کہ اس جان جوکھم کے صلے میں دیا تو کیا دیا تین ہزار کی زمین داری! اے جناب یہ ملک بخش دینے کے کام ہیں۔ ہائے آج کو شاہ جہاں ہونا تھا۔''

چوتھا: ''اجی ابھی کیا خبر ہے انگریزوں کے یہاں زمین دینے کا دستور نہیں مگر ڈپٹی کر دیں۔ صدرِ اعلیٰ کر دیں، کابل میں سفیر یا کسی ریاست میں وزیر بنا کر بھیج دیں جو چاہیں سو کر سکتے ہیں اور میرا دل گواہی دیتا ہے کہ کریں گے پر کریں گے میں آپ کو دکھا دوں گا۔''

کھلی خوشامد ہوتی تو ابن الوقت بھی ایسا نرا احمق نہ تھا کہ سن کر اظہارِ بشاشت کرتا مگر عیار لوگ دوشالوں میں لپیٹ لپیٹ کر جوتیاں مارتے تھے اور یہ جھانسے میں آ کر فخر کے طور پر ایک ایک کے آگے غدر کی حکایتیں بیان کر کے داد چاہتا تھا۔ جب لوگ اس کو بھرے پر چڑھا لیتے تو باتوں ہی باتوں میں یہ بھی پوچھتے: ''کیوں صاحب پھر وہ انگریز کپڑے کیسے پہنتا تھا؟''

ابن الوقت: ''جب صاحب کو ہم لاشوں میں سے اٹھا کر لائے تو ان کے کپڑے تمام خون میں لت پت تھے۔ صاحب کو اپنے تن بدن کی مطلق خبر نہ تھی اور اس وقت تک ہم میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کہاں کہاں زخم لگے ہیں۔ جو کپڑے پہنے ہوئے تھے بہتیرا چاہا کر چیر کر الگ کر دیں مگر کپڑے اس بلا کے ڈھٹ تھے کہ پھاڑے نہیں پھٹتے تھے۔ ہار کر قینچی سے کترے۔ پھر جب تک صاحب ہمارے گھر رہے یہی ہم لوگوں کی طرح ہندوستانی کپڑے پہنتے رہے مگر طنزاً نہیں بلکہ نصیحتاً اکثر کہا کرتے کہ افسوس ہندوستان کے لوگ عقل سے مطلق کام نہیں لیتے ایک کپڑے ہم لوگ پہنتے ہیں کہ برسوں پھٹنے کا نام نہیں لیتے ایک کپڑے یہ ہیں کہ پہنے اور مسکے، ایسے نازک اور مہین کپڑے عورتوں کی زیب و زینت کے لیے زیادہ مناسب ہیں۔ مردوں کو خدا نے اسی غرض سے زیادہ توانائی دی ہے کہ ان کو محنت اور مشقت کرنی ہے۔ ہندوستان کا لباس ان کی کاہلی اور آسائش طلبی کی دلیل ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس لباس میں چستی اور چالاکی باقی نہیں رہ سکتی۔''

ہم نشیں: ''بھلا صاحب ان کے کھانے کا آپ نے کیا انتظام کیا تھا؟''

ابن الوقت: ''انتظام کیا کرنا تھا۔ جو کچھ گھر میں پکتا تھا صاحب بھی کھا لیا کرتے تھے۔ البتہ اتنا اہتمام کرنا پڑتا تھا کہ ان کے کھانے میں مرچ نہیں ڈالی جاتی تھی۔ ایک نمک دان میں پسا ہوا نمک اور دوسرے میں کالی مرچیں ان کے لیے الگ رکھا کرتے تھے۔ ہندوستانی کھانوں میں پلاؤ، کباب، سموسے، فیرنی، ہلکی ہلکی مٹھائیاں زیادہ رغبت سے کھاتے تھے۔''

ہم نشیں: ''آپ نے ان کے برتن الگ کر دیے ہوں گے۔''

ابن الوقت: ''بھائی سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے برتن بھانڈا کچھ الگ ولگ کیا نہیں، کھانا ہمارا، برتن ہمارے، پکانے والے ہم، پھر الگ کرنے کی وجہ؟''

ہم نشیں: ''آخر وہ تھا تو انگریز!''

ابن الوقت: ''انگریز تھا تو ہونے دو۔ کھانے میں تو کوئی حرام چیز نہیں ہوتی تھی۔''

ابن الوقت نے اس بات کو ذرا زور سے کہا تو ہم نشیں سمجھ گیا کہ میرا کہنا ناگوارِ طبع ہوا۔ بے چارہ تھا ابن الغرض دم بخود ہو کر رہ گیا۔ مگر اس کے بعد سے لوگ ابن الوقت کے حقے پان سے ذرا احتراز سا کرنے لگے تھے۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.