
Chapter 23 of 28
The First Debate: Causes and Cholera
حجۃ الاسلام اور ابن الوقت کی ملاقات اور مذہبی گفتگو کی ابتدا: بحثِ اسباب
حجۃ الاسلام۔ "میں نے جس وقت دہلی آنے کا ارادہ کیا اسی وقت یہ بات بھی دل میں ٹھہرا لی تھی کہ تمہارے پاس ہی ٹھہروں گا۔ چنانچہ تم کو لکھ بھی بھیجا تھا۔ اب تم دوسری کوٹھی میں چلے گئے تو میرا یہاں ٹھہرنا بھی بے لطف ہے۔"
ابن الوقت۔ "لیکن تنگی کے ساتھ رہنے میں اس سے زیادہ بے لطفی ہوگی۔ میں بھی بہ مجبوری اس بنگلے میں پڑا ہوں۔ اس کی ساخت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنگلہ رہنے کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ شاید کسی خاص طرح کا آفس یا گودام رہا ہوگا۔ میں شروع سے چھاؤنی میں رہتا تھا وہ بنگلہ اس قدر وسیع تھا کہ کبھی کبھی چار چار صاحب لوگ بھی میرے یہاں مہمان رہے ہیں اتنا بھی تو نہیں معلوم ہوا کہ کدھر پڑے ہیں۔ مدت کے قیام میں اس کو میں نے اپنی مرضی کے مطابق درست کر لیا تھا۔ کمروں کی وسعت کے مناسب فرنیچر بہم پہنچایا تھا۔ بڑی محنت سے خانہ باغ آراستہ کیا تھا۔ گرمی کی وجہ سے کچھ یوں ہی سی رداءت ہوائیں ہوئیں۔ کمانڈنگ افسر نے ڈر کے مارے فوجی عہدے داروں کے علاوہ جتنے لوگ چھاؤنی میں تھے دفعتاً سب کو اٹھا دیا۔ ہر چند تلاش کیا کوئی بنگلہ ڈھب کا نہ ملا۔ ہار کر یہ بنگلہ لیا تو اس میں بھی دو کمرے میں نے اپنی تجویز سے زیادہ کیے ہیں۔ اس پر بھی مطلق گنجائش نہیں۔ اسباب برآمدے میں پڑا پڑا خراب ہو رہا ہے۔ لوکیلٹی چنداں بُری نہیں۔ مگر خوف ہے کہ کہیں تنگی کی وجہ سے تندرستی میں خلل نہ آئے۔"
حجۃ الاسلام۔ "سچ ہے انسان بھی عجیب قسم کا مخلوق ہے۔ پھیلنا چاہے تو یہاں تک کہ 'دو بادشاہ در اقلیمے نہ گنجند' اور سکڑنے پر آئے تو اتنا کہ 'دہ درویش در گلیمے بخسپند'۔ مجھے تو صرف ایک کمرہ کافی ہے اور میں اپنے گھر بھی ایسے ہی مختصر طور پر رہتا ہوں۔ یوں تو مکان بہتیرا وسیع ہے مگر میرے ذاتی استعمال میں صرف ایک دالان اور ایک حجرہ ہے جن دونوں کا مجموعہ تمہارے اس بڑے کمرے کے شاید برابر ہو۔ مگر میں تو سمجھتا ہوں کچھ چھوٹا ہی ہوگا۔ سو دالان اور حجرہ بھی میرے استعمال میں اس طرح پر ہے کہ جاڑے کے دنوں میں تو دالان میں کبھی پاؤں بھی نہیں رکھتا۔ حجرے میں میری چارپائی بچھی رہتی ہے۔ چارپائی کے آگے اتنی جگہ ہے کہ فراغت سے پانچ چھ اور ذرا تنگی سے سات آٹھ آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔ لوگوں سے ملنا جلنا، لکھنا پڑھنا، کھانا کھانا، نماز پڑھنا۔ غرض میری اکثر ضرورتوں کے لیے وہی حجرہ کفایت کرتا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ اتنی بڑی زمین میں سے آخرکار مجھے چند روز کے لیے ایک قبر کی جگہ ملے گی نہیں معلوم کہاں۔ اور اس کا بھی پورا یقین نہیں تو بے اختیار حضرت لقمان کا مقولہ یاد آتا ہے۔ ؏ اِنَّ ھٰذا لِمَن یَمُوتُ کَثِیرا۔"
ابن الوقت۔ "مجھ کو تو حیرت ہے کہ اس طرح کی زندگی میں آپ کی تندرستی کیوں کر باقی رہتی ہے؟"
حجۃ الاسلام۔ "اس طرح باقی رہتی ہے جس طرح اور لاکھوں کروڑوں بندگانِ خدا کی باقی رہتی ہے اور جس طرح اب سے ڈھائی تین برس پہلے خود تمہاری باقی رہتی تھی۔"
ابن الوقت۔ "کیا خاک باقی رہتی ہے۔ ابھی پورے دو مہینے بھی نہیں ہوئے کہ صدہا آدمی شہر میں ہیضہ کر کے مر چکے ہیں۔ لگا تو ہمارے یہاں بھی لگ چلا تھا۔ شروع شروع میں کچھ آدمی بازار میں مرے۔ بعض صاحب لوگوں کے شاگرد پیشوں میں ہیضہ تو کئی نے کیا صرف دو آدمی ہلاک ہوئے۔ خیر ان لوگوں میں اگر ہیضہ پھیلا تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔ کیوں کہ کتنی ہی تاکید کی جائے یہ لوگ صفائی کا اہتمام جیسا چاہیے نہیں رکھتے پر نہیں رکھتے۔ مگر بارک ماسٹر کے بنگلے میں صاحب لوگ اور ٹھہرے ہوئے تھے۔ چار گھنٹے میں سب نے آگے پیچھے ہیضہ کیا۔ ایک انجینئر تو مرا باقی بچ گئے۔ چھاؤنی میں اس کا بڑا غل ہوا اور کمانڈنگ افسر نے ڈاکٹر سے کیفیت طلب کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بہتیری ہی تحقیقات کی اور پتہ نہیں چلتا تھا کہ بارک ماسٹر کے بنگلے میں ہیضہ کہاں سے آ کودا۔ بنگلہ بڑے اونچے ٹیلے پر واقع ہے۔ اطراف و جوانب میں بنگلے کے شاگرد پیشوں میں کہیں بیماری کا نام نہیں۔ بنگلے کے آس پاس کیا بلکہ سو ڈیڑھ سو قدم کے فاصلے تک تالاب نہیں۔ نالی نہیں، خندق نہیں، کھیتی نہیں، جھاڑ جھنکار نہیں، قبرستان نہیں، چاروں طرف کفِ دست میدان پڑا ہے۔ صاف ستھرا، آخر سراغ لگاتے لگاتے کیا معلوم ہوا کہ جس گھوسی کے یہاں سے دودھ آتا ہے بھینسوں کو موضع دکھیاری کے تالاب میں سے جا کر پانی پلاتا ہے اور دکھیاری میں اس بیماری کا بڑا زور تھا۔"
حجۃ الاسلام یہ سن کر بے اختیار ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ "واقع میں ڈاکٹر صاحب نے سبب تو خوب گھڑا۔ ہیضہ گاؤں سے تالاب میں آیا۔ تالاب سے بھینس میں، بھینس سے دودھ میں، دودھ سے چائے میں، چائے سے صاحب لوگوں میں، مگر انھی ڈاکٹر صاحب سے یہ بھی پوچھنا چاہیے تھا کہ دکھیاری میں کہاں سے آیا۔"
ابن الوقت۔ "عموماً ہندوستانیوں کا اور خصوصاً دیہاتیوں کا اور غربا کا طرزِ تمدن اس طرح کا واقع ہوا ہے کہ ہندوستان کی سرزمین میں ہر جگہ ہیضہ کا بیج موجود ہے، گرمی پڑی اور بیج پھوٹا۔ دکھیاری میرا دیکھا ہوا ہے۔ ہوا خوری کی تقریب سے میں کئی بار اس گاؤں میں ہو کر نکلا ہوں۔ کوئی دو پونے دو سو گھر کی بستی ہے اور ابھی حال میں دس برس کے اندر اندر آباد ہوا ہے معلوم ہوا کہ جس کسی کو گھر بنانا منظور ہوتا ہے ایک جگہ مقرر کر کے وہیں سے مٹی کھود کھود کر دیواریں کھڑی کر لیتا ہے اور یہی سبب ہے کہ کوئی گھر نہیں جس کے پاس گڑھا نہیں۔ گھر کا کوڑا کرکٹ، گوبر، الابلا انھی گڑھوں میں ڈالتے رہتے ہیں۔ ہر گڑھا کھاد کا کھتا ہے۔ برسات کے دنوں میں پانی بھر کر سارے برس پڑا سڑتا ہے یہ تو بستی کی کیفیت ہے۔ گاؤں کے قریب ایک تالاب ہے اسی میں عورت مرد نہاتے اور مویشی پانی پیتے ہیں۔ بیچ میں سنگھاڑے بوئے ہیں۔ ایک طرف کو بہت دور تک سن کے انبار پڑے ہیں۔ دھوبی کپڑے دھو رہے ہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "کیا اسی تالاب نے انجینئر کو مارا ہے؟"
ابن الوقت۔ "نہیں جناب! وہ تو سوانے پر کا دوسرا تالاب ہے اور گاؤں کے تالاب سے کسی قدر صاف بھی ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "جو کیفیت تم نے دکھیاری کی بیان کی۔ حقیقتِ نفس الامری ہے اور دکھیاری پر کیا موقوف ہے تمام دیہات کا یہی بلکہ صفائی کے اعتبار سے اس سے بدتر حال ہے۔ مگر یہ تو کہو اسی حالت میں بعض جو مبتلائے ہیضہ ہوئے ان میں سے بعض مرے اور بعض جیتے رہے۔ بلکہ یوں کہو کہ کم مبتلائے ہیضہ ہوئے اور ان میں سے بھی کم مرے تو اگر بارک ماسٹر اور کون سے چار انگریزوں کے ہیضہ کرنے کا اور اگر ان میں سے ایک انجینئر کے مرنے کا موضع دکھیاری بہ وسائط چند در چند باعث ہوا ہے تو جو لوگ بالکل ہیضہ سے محفوظ رہے ان کے محفوظ رہنے کا اور جو مبتلائے ہیضہ ہو کر جانبر ہوئے ان کے جانبر ہونے کا بھی کچھ نہ کچھ سبب تو ضرور ہوگا۔ یعنی اگر مرض اور موت کے لیے سبب درکار ہے تو تندرستی اور زندگی کے لیے بدرجۂ اولیٰ۔ کیوں کہ مرض اور موت کے واقعات کم ہیں اور تندرستی اور زندگی کے کہیں زیادہ۔"
ابن الوقت۔ "میں ایسا سمجھتا ہوں کہ لوگوں کے مزاج میں متفاوت بعض طبائع میں متاثر اور مغلوبِ مرض ہونے کی استعداد قوی ہوتی ہوگی بعض میں ضعیف۔"
حجۃ الاسلام۔ "تفاوتِ امزجہ سے تمہاری مراد صفراوی، بلغمی، دموی، سوداوی کا اختلاف ہے کیا؟"
ابن الوقت۔ "نہیں نہیں، ان تمام مزاجوں کے آدمیوں کو یکساں طور پر مبتلا ہوتے دیکھا اور مرتے بھی دیکھا۔ بلکہ وہ کسی خاص قسم کی کیفیت ہوتی ہوگی جو طبیعت کو قبولِ مرض کے لیے پہلے سے آمادہ کر رکھتی ہوگی۔"
حجۃ الاسلام۔ "تو جس کو تم سبب سمجھتے تھے سبب نہ رہا۔ کیوں کہ بدون استعدادِ طبیعت کے اس کا عمل معطل ہے۔ اس سے علاوہ بعض اوقات یورپ کے ایسے مقامات بھی مبتلائے ہیضہ ہوئے ہیں جن کی صفائی کے بڑے اہتمام ہیں۔ بس تمہارے اصول کے مطابق ان مقامات میں ہیضے کے پیدا ہونے کا کوئی عمل ہو نہیں سکتا۔۔۔ مدتوں تک ڈاکٹر اس مرض کو متعدی مانتے رہے۔ بہ ایں شدت کہ جو شخص بدقسمتی سے اس مرض کی چپیٹ میں آ جاتا کوئی اس کی تیمارداری تک کو کھڑا نہ ہوتا۔ مرے پیچھے اس کے کپڑے لتے سب جلا ڈالتے۔ مکان میں دھونیاں سلگاتے، قلعی پھرواتے، مٹی تک کھود کر پھنکوا دیتے اور ابھی تک بندرگاہوں میں کوارنٹائن (قرنطینہ) کے قواعد کی بڑی سختی کے ساتھ مرعی ہے۔ بہرکیف مرض کے متعدی ہونے کی صورت میں ممکن ہے کہ ہیضے کا وطنِ اصلی اور اس کی پیدائش کی جگہ ہمارا ہی ملک ہو اور لوگوں کے اختلاط کی وجہ سے یورپ میں جا نکلتا ہو۔ مگر اب تو بڑے بڑے ڈاکٹروں کا اجماع اس پر ہے کہ تعدیہ کی کچھ اصل نہیں۔ بات یہ ہے کہ ہر چند فی زمانہ ہذا جہاں بہت سے جدید علوم ایجاد ہوئے ہیں فنِ طبابت میں بھی بڑی نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ مگر تاہم ظنی ہے اور انتظامِ الٰہی مقتضی ہے کہ ظنی رہے۔ جب لوگ ہیضے کے متعدی ہونے کے معتقد تھے وہ بھی ایک امرِ مظنون تھا۔ اب اگر عدمِ تعدیہ کے قائل ہیں تو یہ بھی امرِ مظنون ہے۔ ڈاکٹر اپنی طرف سے بہتیری ناک ٹوئیے مارتے پھرتے ہیں مگر اس وقت تک کہیں سے کچھ پتہ نہیں چلا کہ ہیضہ ہے کیا چیز، کیوں کر پیدا ہوتا اور ترقی کرتا اور کیوں معدوم ہو جاتا ہے؟ اور جس طرح سانپ کے کاٹے کا کوئی تریاق محقق نہیں۔ اسی طرح ہیضہ کا کوئی حکمی علاج نہیں۔ بس بھائی ہم تو اپنے ایمان کو ڈانواڈول نہیں ہونے دیتے۔ دل میں یہ بات ٹھن گئی ہے کہ اپنی خوشی دنیا میں آ نہیں گئے۔ خدا نے پیدا کیا ہے۔ اسی نے ہر فرد و بشر کی حیات کی ایک مدت مقرر کر دی ہے اور اس مدت کی خبر بھی اپنے ہی تک رکھی ہے کسی کو اس سے آگہی نہیں۔ وقت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا پھر کیوں گھبرائیں اور وعدہ پورا ہوئے پیچھے کوئی رک نہیں سکتا تو کس برتے پر اترائیں۔ اِذا جاءَ اَجَلُھُم لا یَستأخِرُونَ ساعَۃً ولا یَستَقدِمُون۔"
ابن الوقت۔ "آہا! معلوم ہوتا ہے کہ آپ دنیا کو عالمِ اسباب نہیں جانتے، شاید عقل و تدبیر کو بھی نہیں مانتے۔"
حجۃ الاسلام۔ "بس ایسا ہی عالمِ اسباب مانتا ہوں کہ متصرف فی الامور وہ خود ہے اور کسی مصلحت سے اس نے اسباب کا جال پھیلا رکھا ہے اور اسباب و نتائج میں جو تعلق ہے اس کو میں اسرارِ الٰہی سے سمجھتا ہوں، فہمِ بشر سے خارج، اسباب کو ایجاد اور تکوین میں اتنا بھی تو مدخل نہیں جتنا ایک کاریگر کہ اوزار کا محتاج ہے اور خدا جل و علا شانہ کو کوئی سبب درکار نہیں مگر ہاں عادتِ الٰہی یوں ہی جاری ہے۔ الا ماشاءاللہ کہ ہر واقعے کے لیے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ اسباب نامتناہی ہیں اور ان پر تمامہا احاطہ کرنا مقدورِ بشر نہیں۔ مگر خدا نے جب جتنا مناسب سمجھا انسان پر منکشف کیا۔ وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ اگرچہ عقلِ انسانی کسی حالت میں خطا سے محفوظ نہیں مگر اسباب کے بارے میں تو لوگ ایسی ایسی مکروہ غلطیاں کرتے ہیں کہ معاذاللہ۔ عالمِ اسباب میں پیدا ہوئے عالمِ اسباب میں رہے۔ کوئی واقعہ نہیں جس کے لیے ان کو سبب کی تفتیش نہ ہو اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اصلی سبب کی طرف ذہن منتقل نہیں ہوتا تو ادعائی اسباب ٹھہرا لیتے ہیں۔ نجوم اور جفر اور رمل اور قیافہ وغیرہ بہت سے لغویات ہیں جن کا ماخذ سوائے اسبابِ ادعائی کے اور کچھ نہیں اور کبھی سبب تو ہوتا ہے ٹھیک مگر اس کے شرائط کا خیال نہیں رہتا مثلاً فرض کرو کہ سیسے کی ایک گولی ہو اور اسی قد و قامت کی دوسری کوئی روئی کی ہو ہلکی پھلکی اور قطب صاحب کی لاٹ پر جا کر دونوں گولیوں کو ایک ساتھ چھوڑ دیں تو ضرور سیسے کی گولی پہلے گرے گی۔ اب یہ ایک واقعہ ہے اور اس کا سبب ہے ثقل۔ مگر اس کے ساتھ ایک شرط بھی ہے کہ لاٹ کی چوٹی سے زمین تک گولیوں کے راستے میں خلا نہ ہو۔ کیوں کہ خلا ہوگی تو گرنے میں ہلکی بھاری دونوں برابر۔ پھر انسان سبب بھی اپنی مرضی کا ڈھونڈتا ہے یعنی جس قسم کے اسباب سے خوگر ہے۔ مثلاً اگر کوئی مریض کیسی ہی ردی حالت اس کی کیوں نہ ہو۔ دوا سے اچھا ہو جائے تو کسی کو بھی استعجاب نہ ہو کیوں کہ دوا درمن سے اچھا ہونا ایک معمولی بات ہے۔ لیکن فرض کرو کہ بجائے دوا کے کوئی شخص دم کر دینے سے یا نظر بھر کر دیکھ لینے سے سلبِ مرض کر دے تو سننے والوں میں سے شاید سو میں ایک کو بھی یقین نہ آئے اور دیکھنے والے بھی اکثر جادو اور نظربندی اور مغالطہ دہی پر محمول کریں اور اسی بنا پر فلاسفر اور دہری معجزات پر بڑے شد و مد کے ساتھ اعتراضات کرتے چلے آئے ہیں۔ میں نے کسی دہری کی تحریر دیکھی ہے جس میں اس نے لکھا تھا کہ قانونِ فطرت یا عبادت اللہ شہادت کے لیے کسوٹی ہے۔ شہادت وہیں تک معتبر ہو سکتی ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق ہو۔ یعنی اس کا مقولہ یہ تھا کہ قانونِ فطرت کے خلاف شہادت کے متہم بالکذب بلکہ مردود کرنے کو کافی ہے۔ یہ صاف مصادرہ علی المطلوب ہے۔ جب ایک شخص کہتا ہے کہ فلاں واقعہ خلافِ معمولِ مستمر واقع ہوا مثلاً یہ کہ ایک شخص نے ایک ڈول پانی سے ایک لشکر کو سیراب کر دیا۔ تو اب صرف اس وجہ سے کہ یہ واقعہ عجیب و غریب ہے۔ وقوعِ واقعہ سے انکار کرنا ہیکڑی اور ہٹ دھرمی اور کٹھ حجتی نہیں تو کیا ہے؟ بل کذّبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولمّا یأتھم تأویلہ کذلک کذّب الذین من قبلھم فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین۔ اسباب کے بارے میں ایک کثیر الوقوع اور خطرناک غلطی یہ ہے کہ نتائج کو اسباب کی طرف اس طرح منسوب کیا جاتا ہے۔ گویا اسباب ہی فاعل اور مکوّن اور متصرف ہیں۔ پانی غلہ اگاتا ہے۔ کونین دافعِ تپ ہے۔ سنکھیا سمِ قاتل ہے اور یہی ہے مظنۂ شرکِ خفی۔ اعاذنا اللہ منہ اور میرے پندار میں وما یؤمن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون۔ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ غرض اسباب کا مسئلہ بڑا نازک اور مشکل اور مزلۃ الاقدام ہے۔"
ابن الوقت۔ "یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا کہ طب کے احکام مسائلِ ہندسی کی طرح یقینی ہیں مگر اس فن میں اس قدر ترقی ضرور ہوئی ہے کہ یورپ میں عمروں کا اوسط بڑھا ہوا ہے۔ مردم شماری کی افزائش کا برت زیادہ ہے۔ خاص خاص امراض کے ایسے حکمی علاج دریافت ہوئے کہ سارے ملک میں کہیں ان بیماریوں کا نام نہیں، بہت سے روگ جو درماں پذیر نہ تھے اب ڈاکٹر دعوے کے ساتھ ان کا علاج کرتے ہیں حفظانِ صحت کے قواعد اگرچہ ظنی ہیں مگر یقینیات کے لگ بھگ۔ غرض واقعات کے نتائج سے یہ بات بخوبی ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کی تدبیر کو اس کی تندرستی اور زندگی میں بڑا دخل ہے اور اس سے انکار کرنا گویا بداہت سے انکار کرنا ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "کیوں؟ ہمارے ملک میں بڑی عمریں نہیں ہوتیں۔ ہمارے یہاں بھی لوگ کثیر الاولاد ہوتے ہیں اور ایسے بہت لوگ نکلیں گے جو ہمیشہ یا اکثر تندرست رہتے ہیں اور ان کو علاج کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ بلکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ جو زیادہ احتیاط کرتے ہیں وہی زیادہ بیمار ہوتے ہیں۔"
ابن الوقت۔ "میں خلافِ قاعدہ کو داخلِ اتفاقات سمجھتا ہوں۔"
حجۃ الاسلام۔ "تم نے اچھی طرح غور نہیں کیا۔ اوّل تو سرے سے علمِ طب ہی فی حد ذاتہ تکمیل نہیں۔ پھر ناقص و ناتمام و مظنون جیسا کچھ ہے۔ اگر ساری دنیا کی مردم شماری پر نظر کی جائے تو سو میں ایک آدمی ایسا نہیں ٹھہرے گا جو احکامِ طب کی پوری پوری پابندی رکھتا ہو۔ بات یہ ہے کہ خداوندِ کریم نے ہر انسان کا طبیب اسی کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ کیا ہے؟ اس کی طبیعت انسان کی طبیعت پر داخلی اور خارجی بے شمار خطرات ہیں اور ان میں سے خدا جانے کتنے ہیں جو اس وقت تک مخفی ہیں اور کتنے ہیں جو معلوم ہیں۔ مگر انسان کے بس کے نہیں تو ان کو جاننا نہ جاننا برابر ہے۔ الغرض کسی کو خبر نہیں کہ کل بلکہ اب سے چند لمحے بعد کون سی آفت اس کی تندرستی پر آنے والی ہے کہ اس کی روک تھام کرے۔ نزولِ آفت پر فوراً اس کی طبیعت مقاومتِ مرض پر آمادہ ہو جاتی ہے صرف مدبر و معالج نہیں بلکہ اسی طبیعت میں سب طرح کے امراض کی دوا بھی ہے۔ اگر حیات باقی ہوتی ہے، طبیعت مرض پر غالب آ جاتی ہے ورنہ مغلوبِ مرض ہو کر آدمی ہلاک ہو جاتا ہے۔ رہ گئی دوا۔ وہ صرف طبیعت کی تقویت ہے بلکہ مجھ سے پوچھو تو صرف طبیعت ہی کی نہیں بلکہ بیشتر اوپر والوں کی۔ بڑے بڑے حاذق طبیبوں کو دیکھا کہ ان کے ہاتھوں سے مریض مرتے بھی ہیں اور شفا بھی پاتے ہیں۔ مرے تو کہتے ہیں خدا نے اتنی ہی حیات لکھی تھی۔ حکیم جی نے اپنی سی بہتیری کی۔ زندگی ہی نہ ہو تو کیا کریں؟ اور اچھے ہوئے تو نہ خدا ہے نہ تقدیر ہے حکیم صاحب ہیں اور ان کی تشخیص و تدبیر۔"
ابن الوقت۔ "آپ تو کچھ جبریوں کی سی باتیں کرتے ہیں۔ آپ کی تقریر کا ماحصل یہی معلوم ہوتا ہے کہ تدبیر لاحاصل ہے اور انسان کی تندرستی اور زندگی محض ایک امرِ تقدیری ہے۔ من جانب اللہ۔ انسان کو اس میں کسی طرح کا مدخل نہیں۔ مگر یہ آپ ہی کی منفرد رائے ہے۔ ایک عالم طب کا معتقد ہے۔ طب سے میری مراد ہومیوپیتھی یا ایلوپیتھی یا یونانی یا وید کی کسی خاص طرح کی طبابت نہیں بلکہ میری غرض اسی قدر ہے کہ ساری دنیا سدا سے اس امر کی طرف معتقد چلی آتی ہے کہ حفظِ صحت دفعِ مرض یا ابقائے حیات جن لفظوں سے چاہیے تعبیر کیجیے تدبیر پذیر ہے۔ اس سے بحث نہیں کہ وہ تدبیر فی نفسہ صحیح ہو یا غلط جادو اور منتر اور ٹونے اور ٹوٹکے اور تعویذ اور گنڈے اور ہر طرح کی دوا درمن سب داخلِ تدبیر ہیں۔ الغرض ہر زمانے میں اسباب پر تمام عالم کا اجماع رہا ہے کہ زندگی اور تندرستی میں انسان کی تدبیر کو دخل ہے اور یہ میرا پہلا دعویٰ ہے اور ہر زمانے کے عقلا اور جہلا اور حضری اور بدوی سب کا اجماع اس دعوے کا ایسا قوی ثبوت ہے کہ اس سے زیادہ قوی کوئی ثبوت ہو نہیں سکتا۔ آپ پیچ دار باتیں کر کے اصل مطلب کو کہاں گم کیے دیتے ہیں۔ میرا دوسرا دعویٰ پہلے دعوے پر متفرع ہے یہ ہے کہ جتنی تدبیریں حفظِ صحت کی لوگ عمل میں لاتے ہیں سب میں رو بہ صواب طبِ انگریزی اور اس کے متعلقات ہیں۔ اس دعوے کے ثبوت کے لیے میں واقعات پیش کرتا ہوں جن کو مردم شماری کے کاغذات سے استنباط کیا گیا ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "ہاں۔ جی ہاں۔ میں تمہارے مطلب کو خوب سمجھتا ہوں تم کو اگر میرے مدعا کے سمجھنے میں کچھ تزلزل واقع ہوا ہے تو اب پھر سنو صرف اتنی سی بات ہے کہ ہر زمانے میں لوگ حفظانِ صحت کی تدبیریں عمل میں لاتے رہے ہیں۔ لازم نہیں آتا کہ انسان کو اپنی تندرستی میں مدخل ہے۔ تم نے اتنی سی بات ثابت کی کہ لوگوں کو حفظِ صحت کی حاجت ہے اور ہر شخص فی زعمہ اس کی کچھ تدبیر کرتا ہے۔ صحیح یا غلط۔ درست یا نادرست اسی طرح ہر شخص کو علمِ مستقبلات کی حاجت ہے اور ہر زمانے کے لوگ اس کے بھی درپے رہے ہیں۔ نجوم اور رمل اور جفر اور فال اور شگون اور تعبیرِ خواب اور قیافہ اور سعد و نحس اور ہاتھ کی لکیریں اور سانس اور کیا اور کیا سارے پاکھنڈ اسی غرض سے ہیں اور یہ نہ سمجھنا کہ صرف ایشیا کی وحشی قومیں اس خبط میں گرفتار ہیں۔ جہاں تک مجھ کو معلوم ہے اہلِ یورپ بھی اس الزام سے بری نہیں۔ غرض فکرِ مستقبل سے کوئی فرد و بشر فارغ نہیں تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ انسان کو علمِ غیب میں دخل ہے؟ پھر دخل ایک مشتبہ لفظ ہے، اگر اس سے ملابست مراد ہے۔ اگرچہ ادنیٰ درجے ہی کی کیوں نہ ہو یعنی تعلق دنیا کا سدا کارخانہ انسان کے لیے ہے اور اس کو کل موجوداتِ عالم سے کسی نہ کسی طرح کا تعلق ہے یا ہو سکتا ہے موجوداتِ عالم میں سے بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں اس کو تصرف کا اختیار ہے اگرچہ اس کا اختیار محدود ہے مگر اسی اختیار کی وجہ سے اس کو خلیفۃ اللہ فی الارض کہا جاتا ہے۔ جسمانی توانائی کے اعتبار سے وہ چنداں زبردست مخلوق نہیں مگر عقل کے بل پردۂ آسمان تک اچک جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا عمدہ طور پر انسان کا حال بیان کیا ہے۔ ؎
خاک کے پتلے نے دیکھ کیا ہی مچایا ہے شور
فرش سے لے عرش تک کر رہا ہے اپنا زور
سینے میں قلزم کو لے قطرے کا قطرہ رہا
بل بے سمائی تری اف رے سمندر کے چور
وہ زمین پر بیٹھا بیٹھا اجرامِ فلکی پر اور زیادہ دسترس نہیں تو ان کی رفتار سے اپنے اوقات کو منضبط کرتا ہے۔ ھو الذی جعل الشمس ضیاءً والقمر نوراً وقدّرہ منازل لتعلموا عدد السنین والحساب۔ روئے زمین پر اس نے اپنا ایسا تسلط بٹھا رکھا ہے کہ نہ صرف جمادات اور نباتات میں تصرفات اور عناصر پر حکمرانی کرتا ہے بلکہ بڑے سے بڑے قوی اور خونخوار جانور اس سے ڈرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔ بااین ہمہ انسان کسی کام کا فاعلِ مستقل اور کسی چیز میں حقیقی مؤثر نہیں۔ اس مطلب کو سورۂ واقعہ میں بڑی ہی عمدگی سے بیان کیا ہے۔ افرأیتم ما تمنون ءانتم تخلقونہ ام نحن الخالقون۔ نحن قدّرنا بینکم الموت وما نحن بمسبوقین۔ علیٰ ان نبدّل امثالکم وننشئکم فی ما لا تعلمون۔ ولقد علمتم النشأۃ الاولیٰ فلولا تذکّرون۔ افرأیتم ما تحرثون۔ ءانتم تزرعونہ ام نحن الزارعون۔ لو نشاء لجعلناہ حطاماً فظلتم تفکّھون۔ انّا لمغرمون۔ بل نحن محرومون۔ افرأیتم الماء الذی تشربون۔ ءانتم انزلتموہ من المزن ام نحن المنزلون۔ لو نشاء جعلناہ اجاجاً فلولا تشکرون۔ افرأیتم النار التی تورون۔ ءانتم انشأتم شجرتھا ام نحن المنشئون۔ نحن جعلناھا تذکرۃً ومتاعاً للمقوین۔ فسبّح باسم ربک العظیم۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ جل شانہ نے چار چیزوں کو بیان فرمایا ہے اولاد اور کھیتی اور پانی اور آگ اور ان چاروں میں سے ہر ایک میں جہاں تک انسان کو دخل ہے اس کی بھی صراحت کی، اور پھر تبکیت کے لیے پوچھا کہ بھلا پھر اولاد کو تم نے پیدا کیا یا ہم نے اور کھیتی کو تم نے اگایا یا ہم نے اور پانی بادل سے تم نے برسایا یا ہم نے اور آگ کا ایندھن تم نے بنایا یا ہم نے۔ ہم نے تمہاری موت کا ٹھہراؤ کر دیا ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ ہماری پکڑ سے نکل بھاگے۔ ہم چاہیں تو کھیتی کو ڈانٹ بنا دیں کہ اس میں پھل کا کہیں نام نہ ہو۔ ہم چاہیں تو پانی کو کھاری کر دیں۔ غرض انسان کا اختیار اور اس کی بے اختیاری دونوں حالتیں دکھا دی گئی ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے۔ امرٌ بین الجبر والاختیار۔"
ابن الوقت۔ "ہمارے آپ کے درمیان لفظی اختلاف ہے۔ انسان کا اختیار آپ بھی مانتے ہیں۔ مگر محدود اور ہم بھی کہتے ہیں کہ انسان کا اختیار ابھی تک محدود رہا ہے۔ مگر اس جہالت کی وجہ سے محدود ہے اب جوں جوں نئی نئی چیزیں ایجاد ہوتی چلی جاتی ہیں تو انسان سمجھتا جاتا ہے کہ اس کو بڑی قدرت ہے۔ کتنی مدت کے بعد اب اس نے جانا کہ مثلاً اسٹیم اور الیکٹریسٹی کیا چیز ہے اور میں اس پر کیا اختیار رکھتا ہوں۔ اسی طرح اس نے اپنی تندرستی اور زندگی پر بھی اپنا اختیار معلوم کرنا شروع کیا ہے۔ بہت سے امراض کو اس نے اپنے بس میں کر لیا ہے کہ چاہے تو ان کو پیدا ہی نہ ہونے دے یا اگر پیدا ہوں بھی تو ان کو جس وقت چاہے معدوم کر دے اور علومِ طب اور کیمیا اور طبیعات وغیرہ اسی نسبت سے ترقی کرتے رہے جیسے کہ پچھلے سو برسوں میں تو وہ دن کچھ دور نہیں کہ انسان اپنی تندرستی پر آپ حاکم ہوگا، اور کیا عجب ہے کہ رفتہ رفتہ اپنی زندگی پر بھی۔"
حجۃ الاسلام۔ "نعوذ باللہ من ذٰلک۔ کیا تمہارے بُرے عقائد ہیں! تم تو حقیقت میں اس بات کے منتظر ہو کہ انسان کچھ دنوں میں معاذاللہ خدا ہونے والا ہے۔"
ابن الوقت۔ "دہریے تو کہتے ہیں خدا کو کس نے دیکھا ہے یہ بھی لوگوں کا ایک خیال ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ خدا کو دیکھا نہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ خدا ہے نہیں۔ ہم نے روح کو بھی نہیں دیکھا اور نہیں دیکھ سکتے تو روح کے ہونے سے بھی انکار کر دیں؟"
ابن الوقت۔ "واہ واہ! تعریف المجہول بالمجہول۔ وہ روح ہی کو کب مانتے ہیں؟"
حجۃ الاسلام۔ "تمام فلسفہ کا اجماع ہے کہ آدمی کو اپنی ذات کا علم حضوری اور بدیہیاتِ اولیٰ میں سے ہے۔ ہر شخص اپنے تئیں لفظ میں سے تعبیر کرتا ہے اور کہتا ہے میرا دل، میرا دماغ، میرا جسم یعنی ہر شخص کو جسم کے علاوہ اپنی ہستی کا اذعان ہے میں نہیں سمجھتا کہ کسی اور ثبوت کی بھی ضرورت ہے اور اگر تمہارے نزدیک ہے تو تم کو خبط ہے اور تم قابلِ خطاب نہیں۔ مگر مسلمان ہونے کا دعویٰ کر کے اسلام کو کیوں بدنام کرتے ہو اور لوگوں کو کیوں دھوکے میں ڈالتے ہو؟ یہ سچ ہے کہ مجامع میں، تحریرات میں تم اسلام کے نام سے فخر اور اس کی مدح و حمایت کرتے ہو مگر وہ اسلام ادعائی اسلام ہے۔ جس کو صرف امتیازِ قومی کہنا چاہیے۔ تم جیسے ڈھلمل یقین چند مسلمان میں نے اور بھی دیکھے ہیں۔ ان کو بھی اسی طرح کے شکوک عارض ہوئے۔ لامذہبوں، دہریوں اور عیسائیوں اور غرض اسلام کے مخالفوں سے کچھ اعتراض سن پائے جواب سوجھے نہیں یا سوجھے اور تسکین نہ ہوئی انھوں نے سمجھ کر یہ شیوہ اختیار کر لیا کہ لگے اسلام ہی کے اصول میں تاویلات کرنے اور اپنے پندار میں اسلام کی تائید کرتے ہیں مگر حقیقت میں اسلام کو کسی مخالف سے اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا ان کی تاویلات سے۔ انھوں نے حدیث کو تو یہ کہہ کر الگ کیا کہ پیغمبر صاحب کے ڈیڑھ سو برس بعد اس کی تدوین شروع ہوئی۔ رہ گیا قرآن اس کو مارے تاویلات کے مسخ کر دیا۔"
اتنے میں اطلاع ہوئی حاضری میز پر ہے۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.