
Chapter 22 of 28
Худжжат-уль-Ислам в бунгало
Hujjat-ul-Islam at the Bungalow
حجۃ الاسلام آئے اور ابن الوقت کی کوٹھی میں انھوں نے اپنا گزر نہ دیکھا
مہینا اور تاریخ تو یاد نہیں پر اتنی بات کا خیال بے شک ہے کہ پانی کے برسنے میں دیر ہوئی۔ مسلمانوں نے صلاح کی کہ جمعے کے دن عیدگاہ میں پہلے نمازِ استسقاء پڑھیں اور وہیں جمعے کی نماز ہو۔ جمعرات کو عیدگاہ میں صفائی ہوئی، شامیانے تنے، جانمازیں بچھیں، یکایک رات کو اچھا اور زور کا پانی برسا۔ وہ سارا منصوبہ ملتوی رہا اور بدستور جمعے کی نماز جامع مسجد میں ہوئی۔ نماز کے بعد لوگ حجۃ الاسلام سے ملے اور پوچھا آپ کب تشریف لائے؟
حجۃ الاسلام۔ "کل بین العصر و المغرب۔"
یہ سن کر سب نے کہا۔ "آہا! آپ ہی کے قدموں کی برکت ہے کہ خدا نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا۔"
ڈاک گاڑی ابن الوقت کے احاطے میں داخل ہوئی تو یہ ہوا خوری کو سوار ہو گئے تھے۔ مگر نوکروں کو معلوم تھا۔ گاڑی آتی ہوئی دیکھ کر سب نے نکل کر سلام کیا۔ خانساماں نے قریب جا کر اطلاع کی کہ سرکار سوار ہو گئے ہیں۔ کئی دن سے دریا کی طرف تشریف لے جاتے تھے آج کسی اور طرف کو نکل گئے ہوں گے۔
حجۃ الاسلام نے اتر کر پہلے بالتفصیل اندر باہر کوٹھی کو دیکھا۔ خدمت گار وضو کا آفتابہ لیے ساتھ ساتھ تھا۔ آخر حجۃ الاسلام نے خدمت گار سے کہا بھائی یہاں تو کہیں وضو کا ٹھکانا نظر نہیں آتا۔ برآمدے میں لوٹا رکھ دو۔ اور خانساماں سے پوچھا یہاں آس پاس کہیں مسجد بھی ہے؟
خانساماں۔ (چاروں طرف دیکھ کر) "کہیں نظر تو نہیں آتی۔"
حجۃ الاسلام۔ "تم کتنے مسلمان ڈپٹی صاحب کے ساتھ ہو؟"
خانساماں۔ (آہستہ آہستہ انگلیوں پر گن کر) "درزی ایک، سقہ دو، چوکیدار تین، باورچی کے ہاتھ تلے کے دو میٹ کتنے ہوئے پانچ، دو سائیس، دو چپراسی تو ایک میں دس (پکار کر) دس۔"
حجۃ الاسلام۔ "ماشاءاللہ۔ پھر تم اور تمہارے سرکار نماز کہاں پڑھتے ہو؟"
داروغہ نے شرما کر گردن نیچے کر لی۔ وضو کے بعد حجۃ الاسلام نے اپنے خدمت گار سے پوچھا کہ "تم کو وضو ہے؟"
خدمت گار۔ "جی ہاں مجھ کو تو وضو ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "اچھا تو نیک مرد (دوسرے خدمت گار کا نام ہے) کو بھی اس طرف بلا لو۔ کہہ دینا دونوں جانمازیں گاڑی میں سے لیتے آئیں۔ یہاں نماز وغیرہ کا کوئی اہتمام معلوم نہیں ہوتا۔ تمام کمروں میں جدھر دیکھو تصویریں ہی تصویریں دکھائی دیتی ہیں۔ بس یہی برآمدہ ٹھیک ہے۔"
یہ کہہ کر خود حجۃ الاسلام نے اذان کہی۔ اذان کی آواز سے کسی کے کان آشنا نہ تھے۔ اصطبل میں گھوڑوں نے کنوتیاں کھڑی کیں اور کتے لگے رونے اور بھونکنے۔ بارے حجۃ الاسلام نے اپنے دونوں نوکروں کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھی۔ مگر بہ استکراہ نماز کے بعد خانساماں سے پوچھا تمہارے سرکار کس وقت واپس آیا کرتے ہیں؟
خانساماں۔ "ان دنوں تو اکثر دن چھپے سے ذرا پہلے چلے آتے ہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "پھر کیا کرتے ہیں۔ ان کے سارے معمول بیان کرو۔"
خانساماں۔ "پہلے تو کوئی نہ کوئی صاحب لوگ ضرور ان کے ساتھ آیا کرتا تھا اور کوٹھی پر بھی ایک دو صاحب آ موجود ہوتے تھے آج کل صاحب لوگوں کا آنا جانا بہت کم ہو گیا ہے اور سرکار بھی کہیں نہیں جاتے۔ دس بجے کھانا کھاتے ہیں۔ اس وقت تک کتاب یا اخبار پڑھتے رہتے ہیں۔ کھانے کے بعد آدھ گھنٹے تک انٹا کھیلتے ہیں۔ پھر چائے پی کر سونے کے کمرے میں چلے جاتے ہیں۔ صبح کے آٹھ بجے بیدار ہوتے ہیں۔ غسل کیا، کپڑے بدلے، کھانا کھایا کچہری کو چلے گئے۔"
حجۃ الاسلام۔ "او ہو! صبح کے آٹھ بجے اٹھتے ہیں۔"
خانساماں۔ "پھر جناب رات کے بارہ بجے ادھر تو سوتے کبھی نہ ہوں گے ان دنوں کا ٹھیک حال معلوم نہیں صاحب لوگوں کی آمد و رفت کثرت سے تھی تو رات کے دو دو بجے تک جمگھٹا رہتا تھا۔"
حجۃ الاسلام۔ "کھانا کس قسم کا پکتا ہے اور کون پکاتا ہے؟"
خانساماں۔ "انگریزی کھانا ہوتا ہے اور مدراس کی طرف کا کشٹیا نامی ایک باورچی ہے وہی پکاتا ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "کون ذات ہے؟"
خانساماں۔ "ہندو مسلمان۔ انگریز سب کا جھوٹا کھا لیتا ہے اس سے پوچھو تو اپنے تئیں اروا بتاتا ہے نہیں معلوم اروے کون ہوتے ہیں۔ مگر اس کے کھانے کی بڑی تعریف ہے۔ صاحب کمشنر کے ہاں جب کبھی بڑا کھانا ہوتا ہے اسی کو بلوا بھیجتے ہیں۔"
غرض اچھے سوا ڈیڑھ گھنٹے حجۃ الاسلام نے خانساماں سے باتیں کیں۔ اس اثنا میں اس کے خدمت گار نے گاڑی سے اسباب اتارنے کے لیے پوچھا بھی مگر اس نے کہا ابھی ٹھہرو تھوڑی دیر بعد کہوں گا۔ اب نمازِ مغرب کا وقت قریب آیا تو خدمت گار نے کہا حضور کوچوان جلدی مچا رہا ہے۔
حجۃ الاسلام۔ "اس کو سمجھا دو کہ صبر کرو۔ مغرب کی نماز پڑھ لیں۔ ڈپٹی صاحب بھی آنے ہی والے ہیں۔ ان سے ملنے کے بعد چلیں گے۔ گھوڑے کھول دو۔ گھاس ڈال دو اور تقاضا مت کرو۔"
عصر کے وقت تو کتے صرف اذان پر کھوروائے تھے۔ اب اذان کے علاوہ نماز بھی جہری تھی۔ ایک دوسرے کتے مغرب سے ذرا پہلے دستور کے مطابق کھول بھی دیے گئے تھے۔ بہتیرا ہی خانساماں اور کتوں پر جو بھنگی تھا وہ اور دوسرے لوگ۔ سبھی تو ڈانٹتے اور دھمکاتے تھے مگر کتے سرکار کے منہ لگے ہوئے تھے ایک نہ مانی اور سب کے سب نرغہ کر کے چڑھ آئے۔ ہر چند حجۃ الاسلام کو ہر حالت کے مناسب نماز کا قاعدہ معلوم تھا مگر یہ حالت ہی انوکھی تھی۔ اللہ اکبر تو وہ کہہ گزرا اگر کہیں ایک لفظ بھی اس کے منہ سے نکلے تو کتے ضرور اس کا ٹینٹوا لیں۔ بارے اتنے میں ابن الوقت آ پہنچا۔ گھوڑے کی آہٹ پا کر کتے اس کی طرف لپکے اور ادھر حجۃ الاسلام نے کڑک کر اپنی اذان اور نماز تمام کی۔ نماز کے بعد دونوں بھائی ملے تو ابن الوقت نے کہا بنگلے کو تو آپ دیکھ چکے ہیں اب اپنی آسائش کے موافق اسباب جہاں تہاں رکھنے کا حکم دیجیے اور تمام بنگلے پر تصرف کیجیے۔ افسوس ہے کہ کمرے کم ہیں اور چھوٹے ہیں لیکن میں نوبل صاحب کی کوٹھی میں بھی چلا جا سکتا ہوں۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.