
Глава 20 из 28
ضائقة المال
Money Troubles
ابن الوقت کی مالی مشکلات
شروع سے سارا وبال ابن الوقت کے مال پر تھا۔ کلکٹر صاحب کے بگاڑ میں بھی وہ کئی ہزار کے پھیر میں آ گیا۔ ان کی ناراضامندی کی ہوا کا پھوٹنا تھا کہ اگلے دن بلکہ شاید اسی دن خزانچی نے کہلا بھیجا کہ ایسا نہ ہو کہیں صاحب کلکٹر کے کان تک جا پہنچے۔ ڈپٹی صاحب تو ٹھہرے برابر کی ٹکر کے حاکم۔ میری شامت آ جائے گی۔ حساب چکا دیں تو بڑی مہربانی کریں۔
اگر صرف خزانچی کا دینا ہوتا تو کچھ ایسے تردد کی بات نہ تھی۔ ابن الوقت نے معمول یہ رکھا تھا عین تقسیمِ تنخواہ کے وقت کچھ زیادہ درکار ہوا تو خزانچی سے منگوا لیا۔ پس ابن الوقت خیال کرتا تھا کہ خزانچی کے بہت اڑ کر نکلیں گے تو مسا کر ہزار بارہ سو، اس سے زیادہ نہیں۔ مگر خزانچی کے تقاضے کے ساتھ اس کے دل میں یہ تدشر پیدا ہوا کہ اگر گڑ والے اپنا مانگ بیٹھے تو بڑی مشکل ہوگی۔ ان کا حساب کتاب کچھ نہ ہوگا تو بھی دس کے پیٹے میں دو چار سو ادھر ادھر، اتنے کی سبیل سرِدست کہاں سے کی جائے گی؟ نوکری کا تو اب اتنا بھی بھروسہ نہیں کہ دیکھیے مہینہ بھی پورا ہو یا نہ ہو اور مانا کہ رہی بھی تو ایسی متزلزل حالت میں تنخواہ پر مجھے کون قرض پکڑائے دیتا ہے۔
اب رہا ساز و سامان اس میں شک نہیں کہ عمدہ ہے، نفیس ہے، قیمتی ہے مگر خریدنے اور بیچنے میں بڑا بل پڑ جاتا ہے اور پھر بیچنا بھی میرا بیچنا۔ تو شش خرید کا تو کیا مذکور ہے نیلام کرنا چاہوں تو کلکٹر کے ڈر کے مارے کوئی پاس آ کر کھڑا نہ ہو۔ زمینداری کی گنجائش میں کچھ کلام نہیں، جنگل، باغات، درختانِ متفرق، سائر سوائے بہت سی رقمیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دس ہزار تو جنگل اور سرِ درختی سے جھاڑ لوں گا۔ مگر ہا! انعامِ خیر خواہی، عطائے سرکار جس کی سند گورنمنٹ کی مہر سے مجھ کو ملی ہے۔ اس کے تو تنکے کا ضائع کرنا بھی بے جا اور بدنما اور نامناسب اور موجبِ بدنامی ہوگا۔ سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ بن پڑے تو شہر کے مکانات کو الگ کروں۔ کیوں کہ یہ مکانات اگرچہ فی نفسہا بہت اچھے ہیں۔ شاہجہانی وقتوں کے بنے ہوئے لداؤ کی چھتیں، چوڑے چوڑے آثار، اونچی کرسی، وسیع، شاندار، مستحکم، پائیدار، کوئی غرض مند لینے والا ہو تو ایک خاص بازار والی بارہ دری سے گڑ والوں کا سارا قرضہ اتر جائے۔ جب یہ مکان بنا ہوگا تو دس ہزار کا چونا اور پانی لگ گیا ہوگا۔ تہ خانوں کے روشن دانوں کی جالیاں ٹوٹ گئی تھیں تو پانچ سنگ تراشوں نے مرمر کے تین مہینے میں بنائیں اور تیس تیس روپے فی جالی لاگت آئی۔ مگر مشکل یہ ہے کہ وہ مکان ہے مسلمانوں کے ڈھب کا اور مسلمانوں میں کوئی ایسا صاحبِ مقدور نظر نہیں آتا۔ بھائی حجۃ الاسلام عنقریب پنشن لے کر خانہ نشین ہونے والے ہیں اور حج کے جانے سے پہلے ذکر آیا تھا تو کہتے بھی تھے کہ موروثی مکان میں میرا گزر رہنا دشوار ہے کوئی موقع کا مکان معرضِ بیع میں ہو تو خیال رکھنا۔ وہ اسکو لے لیں تو سب سے بہتر ہے مگر ان کے پلے بھی دس ہزار کہاں سے آیا؟ اگر ہو بھی تو دس ہزار ایک مکان پر لگا دینا ایسا کیا آسان اور پھر ان کے ساتھ بات چیت کروں تو خدا جانے کتنے دن میں جا کر بات طے ہو؟ قیمت یکمشت دیں قسطیں ٹھہرائیں۔
آخر سوچ سمجھ کر ابن الوقت نے مولوی حجۃ الاسلام کو لکھا۔ مگر اس طور پر کہ مجھ کو شاید فوراً روپیہ درکار ہو تو میں انتظار نہیں کر سکوں گا۔ ادھر اس نے کہا آؤ گڑ والوں کو ٹٹولو تو سہی۔ ایک آدمی سے کہلا بھیجا کہ ڈپٹی صاحب نے اپنے حساب کی فرد مانگی ہے۔ آدمی کا پیغام پہنچانا تھا کہ گڑ والے تاڑ گئے آدمی سے اتنا ہی کہا۔ بہت خوب کل ہمارا مختار فرد لے کر حاضر ہوگا۔ اگلے دن خود لالہ تکوڑی مل جا موجود ہوئے اور صاحب سلامت کے بعد پہلی بات انھوں نے یہی کی کہ "کیوں جناب ہم سے ایسا کون سا قصور سرزد ہوا کہ آپ نے فرد منگوا بھیجی؟ ہم کو آپ سے ایسی توقع نہ تھی۔ آپ نے ہم کو غیر بھی نہیں بلکہ دشمن سمجھا۔ ہم بھی آپ کی دیا سے بھگوان کی دی ہوئی عزت اور ساکھ رکھتے ہیں۔ دنیا میں اونچ نیچ سبھی کے ساتھ لگی ہے۔ ایسا کو بھر رکھیں تو ہماری عزت دو کوڑی کی ہو جائے۔ ڈپٹی صاحب! لوبھ سے دولت نہیں جمع ہوتی ہے۔ ہم کو جو کچھ بھگوان نے دے رکھا ہے بزرگوں کی نیت کا پھل ہے۔ فرد کے عوض فارغ خطی حاضر ہے۔ جب بھگوان آپ کو اطمینان دے گا آہستہ آہستہ ادا کر دینا۔ لیکن اس وقت تو ہم آپ سے نہیں لے سکتے بیاج بٹے کی آپ ذرا چنتا نہ کریں ہم نے آپ کی بدولت قلعے سے بہت کچھ کمایا۔ ہم سے آنکھوں پر ٹھیکری نہیں دھری جاتی۔"
ابن الوقت۔ "خزانچی۔۔۔"
تکوڑی مل۔ "مجھ کو معلوم ہے کہ آپ کو خزانچی کا بھی کچھ کچھ دینا ہے اور مجھ کو یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ انھوں نے اپنا لینا طلب کیا ہے یا طلب کرنے والے ہیں سو آپ کو تو بھگوان نے حاکم بنایا ہے اپنا اپنا کرنا اپنا اپنا بھرنا۔ اوّل تو وہ ٹھہرے نوکر دوسرے ان کا جتنا لین دین ہے سب سرکاری روپے سے۔ ان سے اتنی سہار نہ ہو سکی۔ آپ حکم دیں تو خزانچی کا حساب بھی چکتا کر دیا جائے۔"
ابن الوقت۔ "نہیں ان کا حساب کچھ ایسا بہت نہیں ہے اس کی سبیل یہیں سے کر دی جائے گی اور آپ سے فرد منگوانے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ سرکاری ملازم کو اپنے علاقے میں قرض لینے کی ممانعت ہے، شروع شروع میں تو مجھ کو اس ممانعت کا علم نہ تھا علم ہوا تو میں نے پروا نہ کی۔"
تکوڑی مل۔ "آپ نے بھی بھلا اس کا خیال کیا۔ ممانعت اگر ہے بھی تو کوئی اس پر عمل کرتا کراتا نہیں، صاحب کلکٹر اور جو چاہیں سو کریں، اس بارے میں کان ہلائیں تو میرا ذمہ، وہ خود کب قرض سے بچے ہیں۔ فوجی انگریزوں کی تو میں کہتا نہیں، ملکی انگریز تو ایسا کوئی برلا ہی نکلے گا کہ دلّی میں اس کو کام ملا ہو اور اس کا نام آپ کی کوٹھی کے بہی کھاتے میں نہ ہو اور نوکری تو آپ نے غدر کے پیچھے کی ہے، ہمارا آپ کا لین دین بزرگوں کے وقت سے چلا آتا ہے پھر آپ کی نوکری دوسروں کے سری کی نہیں ہے۔ آپ ہی فرمائیں آپ کے سوائے اپنے اور بھی وطن میں حاکم ہیں آپ کے ساتھ سرکار کی خاص رعایت ہے۔ صاحب کلکٹر اس کی چھیڑ نکالیں گے بھی تو کچھ ہوتا ہواتا نہیں۔ اس بات کا تو میں بیمہ لیتا ہوں۔"
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.