Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 19 sur 28

Ссора с коллектором

The Quarrel with the Collector

صاحب کلکٹر اور ابن الوقت کا بگاڑ

Назир Ахмад

Écriture
Taille

ہندی کی ایک مثل ہے۔ دکھتے چوٹ کنونڈے بھینٹ۔ رپورٹ خوانی میں سررشتہ دار ابن الوقت کی طرف سے صاحب کلکٹر کے کان بھر ہی چکا تھا۔ سوء اتفاق سے آج ہی شام کو ناگہانی گویا اسی مثل کے سچ کرنے کو ابن الوقت کی صاحب کلکٹر سے مٹھ بھیڑ بھی ہو گئی۔ ابن الوقت کی عادت دونوں وقت ہوا خوری کی تھی ہی کوئی ساڑھے پانچ بجتے بجتے کچہری سے سوار ہوا تو سیدھا میرٹھ کی سڑک کو ہو لیا۔ آفتاب تھا پس پشت اور ٹھنڈی ٹھنڈی پوروا ہوا سامنے سے آ رہی تھی۔ شاہدرے سے بھی کوئی کوس ڈیڑھ کوس آگے نکل گیا تھا کہ آفتاب نیچے لٹک آیا۔ چاندنی رات کے خیال سے دل تو ابھی لوٹنے کو نہیں چاہتا تھا مگر جمنا پر کشتیوں کا پل تھا۔ یہ تصور ہوا ایسا نہ ہو تاریکی میں گھوڑے کا پاؤں کہیں گڑھے میں جا رہے ناچار لوٹا تو جس وقت زینت المساجد کے برابر آیا نمازی مغرب کی نمازیں پڑھ پڑھ کر نکل رہے تھے۔ دریا گنج کے نکڑ پر دور سے اس کو ایسا دکھائی دیا کہ بیچ سڑک پر کوئی انگریز اکیلا پن چکیوں کی طرف کو چلا جا رہا ہے۔ پچیس تیس قدم کا فاصلہ ہوگا کہ وہ انگریز پیچھے سے ٹاپ کی آواز سن کر کنارے ہو گیا۔ ابن الوقت برابر سے نکلا تو پہچانا کہ صاحب کلکٹر ہیں۔ باگ روک کر اس نے خود کہا۔ "ہلو مسٹر شارپ۔ گڈ ایوننگ ٹو یو۔ مجھے خیال نہیں تھا کہ اس وقت آپ اس سڑک پر ملیں گے اگر آپ منظور کریں تو میرا گھوڑا حاضر ہے۔"

صاحب کلکٹر۔ "میں پیادہ پا چلنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔"

ابن الوقت۔ "آپ میری گستاخی کو معاف فرمائیں کہ آپ پیادہ پا ہیں اور میں سوار ہوں۔ یہ جانور اس قدر تیز ہے کہ اگر میں اتر لوں تو یہ ضرور قابو سے باہر ہو جائے گا۔ آپ نے شاید اس کا نام سنا ہو۔ ہیرو۔ یہی ہے جس نے میرٹھ کی گھڑ دوڑ میں بڑا نام پایا تھا۔ میں نے اس کو سوگنی دے کر مول لیا ہے۔"

صاحب کلکٹر۔ "ایسا قیمتی گھوڑا اسٹیشن میں شاید کسی کے پاس نہ ہوگا۔"

ابن الوقت۔ "میں بھی ایسا خیال کرتا ہوں۔ میں دریا پار کچھ دور تک چلا گیا تھا۔ شام کی ہوا خوری کے لیے میں اسی سمت کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ قربِ دریا کی وجہ سے خوب خنکی ہوتی ہے اور سبزہ بھی اس طرف بہ کثرت ہے میں یقین کرتا ہوں کہ آپ نے بھی دریا کے پار دور دور سیر کی ہوگی۔"

صاحب کلکٹر۔ "چلنے پھرنے کے لیے مجھ کو جس قدر وقت ملتا ہے اور وہ بہت تھوڑا ہے۔ میں اس کو اپنے ہی ضلع میں صرف کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے میری آگہی اپنے علاقے میں بڑھتی ہے۔"

ابن الوقت۔ "اگر بے موقع نہ ہو تو میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ اب میرے پاس کچھ کام نہیں ہے۔"

ابن الوقت جواب کا منتظر رہا۔ مگر صاحب کلکٹر نے کچھ جواب نہ دیا تو پھر اس نے کہا کہ تمام مقدمات متدائرہ قریبِ تکمیل کے ہیں۔ میں سب کارروائی کر چکا ہوں۔

صاحب کلکٹر۔ "آپ کیوں سوکھے پتوں اور کانٹوں کو یاد کرتے ہیں جب کہ باغ کی ساری بہار آپ ہی کے حصے میں تھی؟"

ابن الوقت نے اپنی طرف سے بہتیری کوشش کی مگر صاحب کلکٹر کسی طرح نہ کھلے۔ تاہم دل کی کدورت بلکہ بدگمانی بھی ان کی باتوں سے مترشح تھی۔ ابن الوقت تو اس مزاج کا آدمی نہ تھا کہ بات کو لٹکا رکھے مگر موقع ہی بونگا آن پڑا تھا کہ صاحب کلکٹر پیدل اور یہ سوار۔ اتر نہیں سکتا۔ معذوری ہے برابر چل نہیں سکتا بے ادبی ہے۔ آگے نہیں بڑھ سکتا بے تمیزی ہے۔ پیچھے نہیں ہٹ سکتا بے عزتی ہے۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ آخر وہ یہ کہہ کر الگ ہو گیا کہ میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں قلعے میں ایک دوست اس وقت میرے منتظر ہوں گے۔

رات میں اور پھر صبح سے کچہری کے وقت ابن الوقت کو کئی دفعہ صاحب کلکٹر کی باتوں کا خیال آیا۔ آخر یہی رائے قرار پائی کہ جب تک صاحب کلکٹر کی طرف سے ضابطے کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو ان کی بدگمانی یا رنجش کو بھی منہ سے کیوں نکالو۔ ناحق کہنے کی گنجائش ہو جائے گی کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ ادھر صاحب کلکٹر کے یہاں بھی مادہ تیار تھا۔ اگلے دن جو کچہری پہنچا میز پر صاحب کلکٹر کا روبکار رکھا ہوا تھا کہ:

کل شام کے وقت ایں جانب دریا گنج کی سڑک پر پیادہ پا چلے آتے تھے۔ ڈپٹی ابن الوقت صاحب گھوڑے پر سوار پیچھے سے ایں جانب کے برابر آ کر باتیں کرنے لگے۔ ڈپٹی صاحب سے اس گستاخی کا جواب طلب ہو۔

دفعہ ۲: ڈپٹی صاحب بلا اجازت و اطلاع ایں جانب دریا پار ضلع میرٹھ میں گئے اور ان کے بیان سے معلوم ہوا کہ اکثر جاتے رہتے ہیں۔ اس فعل کے جواز کی سند ان سے پوچھی جائے۔

دفعہ ۳: جتنی بار ڈپٹی صاحب کا عبور پلِ دریائے جمن پر سے ہوا ہے حساب کر کے محصول بھیج دیں کیوں کہ ایں جانب یقین نہیں کرتے کہ ڈپٹی صاحب نے کبھی محصول دیا ہو۔

آج عملوں میں کھچڑی پک رہی تھی کہ دیکھیں ڈپٹی صاحب اس روبکار پر کیا کرتے ہیں۔ بعض کہتے تھے کہ بس اب نہیں ٹھہرتے استعفا تو کیا دیں گے مگر رخصت لے کر گھر بیٹھ رہیں، نوبل صاحب کے پاس ولایت چلے جائیں یا شاید دوڑ دھوپ کر کے بدلی کرا لیں۔ کوئی یہ سمجھتا تھا کہ بہت سے انگریزوں سے ملاقات ہے کسی کو بیچ میں ڈال کر صفائی کر لیں گے کوئی یہ رائے بھی دیتا تھا کہ بھلے سے ہوں تو اب بھول کر بھی انگریزی کی وضع کا نام نہ لیں۔ وہ کوٹ پتلون کم بخت کس کام آ رہا ہے۔ دین بھی گیا اور دنیا بھی برباد ہوئی۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

ابن الوقت کو ایک امر کی طرف سے تو اطمینان ہوا کہ صاحب کمشنر کا مافی الضمیر جلد منکشف ہو گیا۔ اب مقدمات کے اٹھوا منگوانے کی وجہ بھی سمجھ میں آئی اور دریا گنج کی سڑک پر جو اکھڑی اکھڑی باتیں انھوں نے کی تھیں ان کی بھی بدھ مل گئی۔ ابن الوقت نے فوراً ایک چٹھی صاحب کلکٹر کو لکھی کہ قبل اس کے کہ میں ضابطے کے مطابق آپ کے روبکار کا جواب دوں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ براہِ مہربانی مجھ کو ضابطے کا جواب دینے پر مجبور نہ کریں گے میں بہ منت آپ سے التماس کرتا ہوں کہ مجھ کو اپنی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع دیجیے تاکہ میں بالمشافہ آپ کے تمام شبہات رفع کر دوں۔ آپ کو میرے معاملے میں کسی وجہ سے غلطی واقع ہوئی ہے اور اجنبیت کی حالت میں غلطی کا ہونا کچھ تعجب کی بات نہیں اور مجھ کو کامل یقین ہے کہ جب پوست کندہ حقیقت آپ پر ظاہر کی جائے گی آپ کا دل میری طرف سے ضرور صاف ہو جائے گا۔ میری بدقسمتی ہے کہ صرف انگریزی وضع کے سبب لوگ مجھ سے ناحق دشمنی رکھتے ہیں اور میرے حاسد بھی کم نہیں بس بہت تھوڑی توقع ہے کہ لوگ بھلائی کے ساتھ میرا تذکرہ کریں۔ میں آپ سے رعایت کی درخواست نہیں رکھتا بلکہ انصاف چاہتا ہوں اور اگر از روئے انصاف میں آپ کی مہربانی کا مستحق نہ ثابت ہوں تو اس بے عزتی سے جو حاکمِ بالادست کی ناخوشی کا ضروری نتیجہ ہے بہت بہتر ہوگا کہ میں خود کام سے علیحدگی اختیار کروں۔ آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ قطع نظر روحی تکلیف کے جو مجھ پر گزری ہے اس حالت سے میرا رہنا سرکار کے حق میں کسی طرح مفید نہیں۔

صاحب کلکٹر کا مزاج ابن الوقت کی طرف سے اس قدر برہم تھا کہ انھوں نے بہ استکراہ تمام اس کی چٹھی کے لفافے پر پنسل سے لکھ دیا کہ میں کسی نیٹو کو اپنی کوٹھی پر انگریزی وضع سے دیکھنا نہیں چاہتا اس پر بھی ابن الوقت نے دو دن تک روبکار کو بلاجواب ڈال رکھا۔ تیسرے دن تقاضے کا روبکار آ دھمکا۔ بہ ایں شدت کہ کچہری برخاست کرنے سے پہلے جواب نہیں دیں گے تو ضابطے کی کارروائی کی جائے گی۔ اب چار و ناچار جواب دینا ہی پڑا۔ صاحب کلکٹر کے اعتراض ان کی یا ان کے سررشتہ دار کی نظر میں کچھ وقعت رکھتے ہوں گے ابن الوقت نے ایسے دنداں شکن جواب دیے کہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ اس نے لکھا کہ:

صاحب کلکٹر بہادر بہ حیثیتِ منصبی مستحقِ ادب ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ حکامِ ماتحت ان کے احکامِ جائز کی تعمیل کریں اور جس ملاقات کے صاحب کلکٹر بہادر شاکی ہیں حیثیتِ منصبی سے کچھ علاقہ نہیں رکھتی۔ مجھ کو صاحب بہادر غروبِ آفتاب کے بعد یکایک دریا گنج کے نکڑ پر ملے اور میں نے جب تک برابر نہیں آ گیا صاحب بہادر کو ہرگز نہیں پہچانا۔ پہچاننے کے بعد میں خلافِ شیوۂ اہلیت سمجھا کہ بدون صاحب سلامت کیے چلا جاؤں اور صاحب سلامت کے بعد دفعِ مظنۂ اجنبیت کے لیے ایک دو بات کا کرنا بھی ضرور تھا میں اس قصور کا معترف اس پر نادم اور اس کی معافی کا خواست گار ہوں۔

دفعہ ۲: میرٹھ کا ضلع شہرِ دہلی کی فصیل سے ملحق ہے۔ میں ہوا خوری کے لیے اکثر دریا پار گیا ہوں۔ کوئی حکمِ ممانعت میری نظر سے نہیں گزرا۔ اور نہ سرکار کا اس میں کوئی مفاد ہے کہ عہدے داروں کو نظر بند رکھے۔ اگر فی الواقع کسی حکم میں اس طرح کی قید ہے تو وہ ناممکن العمل اور بے فائدہ ہونے کی وجہ سے قابلِ منسوخی ہے۔

دفعہ ۳: شاید صاحب کلکٹر بہادر کو خیال نہیں رہا کہ فیری فنڈ فوجداری سے متعلق ہے ورنہ اجلاسِ کلکٹری سے کارروائی نہ فرماتے۔ علاوہ بریں چوں کہ گھاٹ مستاجری ہے مطالبۂ محصول حقِ مستاجر ہے۔

قاعدہ ہے کہ غصے میں انسان کی عقل ٹھکانے نہیں رہتی۔ اس جواب کو سن کر صاحب کلکٹر بہادر رپورٹ کرنے کو تیار ہوئے۔ بارے سررشتہ دار نے سمجھایا کہ حضور کیوں رپورٹ کریں۔ حضور کی اتنی ناراضامندی کافی ہے۔ اب ڈپٹی صاحب کا حال کیا ہے کہ کچہری کا کوئی مذکوری تک تو ان کو سلام نہیں کرتا۔ ان کی کچہری کی طرف کوئی جا کر نہیں پھٹکتا جس شخص نے اس زلزلے کی حکومت کی ہو اس کے حق میں یہ بے عزتی کچھ کم نہیں۔ صبح شام خود ڈپٹی صاحب کی طرف سے استعفا یا رخصت کی درخواست آنے والی ہے۔ حضور ذرا تامل فرمائیں اور اگر رپورٹ ہی کرنی منظور ہے تو ایسی زبردست رپورٹ ہو کہ وار خالی نہ جائے۔ ڈپٹی صاحب کی جڑ بہت مضبوط ہے۔ نوبل صاحب بہادر نے تعریفیں لکھ کر ان کی لیاقت اور دیانت حکامِ صدر کے ذہن نشین کر دی ہے۔ مثلیں داخلِ دفتر ہو رہی ہیں فدوی عملوں کو اشارہ کر دے گا ساتھ ساتھ بے ضابطگیاں چھانٹتے جائیں گے اور اس اثنا میں عجب نہیں ڈپٹی صاحب پر کچھ مقدمات بھی دائر ہو جائیں۔

بارے سررشتہ دار کے سمجھانے سے صاحب کلکٹر کا طیش فرو ہوا اور رپورٹ ملتوی رہی۔ مگر لوگوں میں یہی مشہور تھا کہ روانگی ہو گئی۔ سررشتہ دار موذی اپنی طرف سے مقدمات دائر کرا دینے کی بہتیری کوشش کرتا تھا۔ لیکن سچ کہا ہے ؎
تو پاک باش برادر مدار از کس باک
زنند جامۂ ناپاک گازراں بر سنگ

اس کچہری کا در و دیوار تک ابن الوقت کا دشمن ہو رہا تھا مگر چوں کہ اس کا معاملہ صاف تھا، کسی کو اس کے سامنے پڑنے کی جرأت نہ ہوتی تھی اور یہ بیرا شیر بدستور اسی شان سے کچہری آتا تھا۔ لوگ اس سے بخوف کلکٹر کنیاتے تھے اور یہ بہ حقارت کسی کی طرف متوجہ نہ ہوتا تھا۔ غرض صاحب کلکٹر کی ناراضامندی کا اس کو افسوس تھا نہ ہراس، ملال تھا نہ خوف، کام تو اس سے بالکل چھین لیا گیا تھا۔ یہ اپنے ساتھ اخبار کا بنڈل لاتا تھا۔ فراغت سے بیٹھا پڑھتا۔ بااین ہمہ کلکٹر صاحب کی طرف سے چھیڑ چھاڑ برابر چلی جاتی تھی۔ اپنا ہی عملہ وقت کی ہوا دیکھ کر ایسا خودسر ہو گیا تھا کہ حکم کی تعمیل اور کام کو جانفشانی سے کرنا تو درکنار پابندیِ وقت کا لحاظ اٹھا دیا تھا۔ شاذ و نادر ہی کوئی دن خالی جاتا ہوگا کہ صاحب کلکٹر کے یہاں سے تاکید روبکار نہ آتا ہو اور تاکید بھی معمولی طور کی نہیں بلکہ اس قدر سختی اور بے تہذیبی کے ساتھ کہ کوئی جابر کوتوال کسی چوکیدار کو بھی ایسے الفاظ نہیں کہتا۔ ادھر ابن الوقت اپنے عملے پر دباؤ ڈالتا تو کچھ مؤثر نہیں ہوتا تھا اور ہو تو کیوں کر؟ دو چار بار عملوں پر جرمانہ کر کے دیکھا۔ سیدھے صاحب کلکٹر کے اجلاس پر گئے اور منسوخ کرا لائے۔

چوں کہ ہر طرح دق کرنا منظور تھا۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ اجلاس کا کمرہ تک خالی کرا لیا گیا۔ وہ جگہ شاندار اور آسائش کی تھی۔ اس کے عوض میں کمرہ دیا گیا جس میں دھوپ کی آڑ نہ بوچھاڑ کا بچاؤ اور عملہ ہے کہ سارے دن پتھر کی طرح چھاتی پر دھرا ہے۔ اسی اثنا میں گمنام عرضیاں بھی گزرنی شروع ہو گئیں جن میں سخت گیری اور بے انصافی کی صراحت اور رشوت ستانی کی کنایتاً شکایتیں مندرج تھیں۔ ان عرضیوں کا گزرنا صاحب کلکٹر کے لیے حجت ہو گیا۔ سارے شہر میں ڈونڈی پٹی۔ جگہ جگہ اشتہار آویزاں ہوئے کہ جس کو ڈپٹی ابن الوقت پر فریاد کرنی ہو بے تامل صاحب کلکٹر بہادر کے اجلاس میں حاضر ہو۔ ادھر عملے نے مثلوں کی خوب روئی دھنکی۔

غرض ابن الوقت پر دس سوا دو مہینے ہر چہار طرف سے ایسا نرغہ رہا کہ ہر روز اس کی موقوفی اور بدلی اور معطلی اور سپردگیِ فوجداری کی گرم خبر اڑتی تھی اور پھر آپ ہی آپ ٹھنڈی پڑ جاتی تھی۔ جب زیادہ دن گزر گئے اور خود لوگوں کے خیالات بدلنے سے لگے اور سمجھ گئے کہ بس کلکٹر سے اتنا ہی ہو سکتا تھا کہ کام نکال لیا، کمرہ چھین لیا اور دو چار اینڈے بینڈے روبکار لکھوا دیے مگر واہ رے ڈپٹی صاحب۔ ذرا جو آنکھ پر میل آیا ہو۔ کیوں نہ ہو مزاج میں اتنا طنطنہ رکھے تو حکومت کا نام لے۔ کوٹ پتلون کی خوب شرم رکھی۔ پہلے تو اکثر ایک گھوڑے کی بگھی میں بھی آیا کرتے تھے جس دن سے کلکٹر کے ساتھ مورچہ لیا وہ دن اور آج کا دن جوڑی کے معمول کو ناغہ نہ ہونے دیا۔ انگریزوں کے سارے کام تڑ پڑ کے ہوتے ہیں۔ کلکٹر نے رپورٹ تو ضرور کی ہوگی اب تک جو اس کا ظہور نہیں ہوا معلوم ہوتا ہے صدر والوں نے مطلق لحاظ نہیں کیا۔ ہاں صاحب نوبل صاحب کا بھی بڑا زبردست کھونٹا ہے اور چاہے مفصلات کے حکام قدر نہ کریں مگر غدر کی خیر خواہیاں سرکار کے دفتر میں چڑھ چکی ہیں ان کو کون میٹ سکتا ہے؟ صاحب کلکٹر بہت بے جا الجھے۔ یہ بھی انھوں نے لالہ بھائی ڈپٹی کلکٹر سمجھے ہوں گے کہ ذرا گھورا اور مارے ڈر کے لگے گڑگڑانے۔ بلکہ الٹا صاحب سے جواب طلب ہو تو تعجب نہیں اور ہوا ہو تو کس کو خبر ہے؟

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.