Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 12 sur 28

Замысел реформатора и противодействие

The Reformer's Plan and the Opposition

ابن الوقت کا منصوبہ اور لوگوں کی مخالفت

Назир Ахмад

Écriture
Taille

دنیا میں شاید قوم کی رفارم (اصلاح) سے زیادہ مشکل اور کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ سو بھی یہاں پوری پوری رفارم کا کیا مذکور ہے۔ پوری رفارم تو وہ تھی جس کا بیڑا ہمارے پیغمبر صاحب نے اٹھایا تھا۔ مبعوث ہوئے عرب میں جن سے بدتر اس وقت روئے زمین پر کوئی قوم نہ تھی۔ اس رفارم کے مقابلے میں کیا بے چارہ ابن الوقت اور کیا اس کی رفارم؟ وہی مثل ہے کیا پدّی اور کیا پدّی کا شوربا۔ اس کی رفارم کی اتنی ہی بساط تھی کہ اس کو آپ سوجھی اور نوبل صاحب نے بھی سجھائی کہ انگریزی عمل داری میں مسلمان بگڑتے چلے جاتے ہیں یہ تھا ایک واقعہ بدیہی۔ سبب کی تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ انگریزی عمل داری میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ دریا میں رہنا اور مگرمچھ سے بیر، رعیت ہو کر بادشاہ سے نفرت، محکوم ہو کر حکام سے گریز۔ یہاں تک تو ابن الوقت کی رائے نہایت درست تھی۔ اب اس نے قومی ہمدردی اور سرکاری خیر خواہی کے تقاضے سے چاہا کہ مسلمانوں کی وحشت اور اجنبیت کو دور کر کے حاکم و محکوم میں ارتباط و اختلاط پیدا کر دوں۔ پس یہ ہے خلاصہ ابن الوقت کے رفارم کا۔ اس نے سوچا کہ معاملہ ہے قوی و ضعیف اور غالب و مغلوب میں، قوی غالب پر تو اثر کیسے ڈال سکوں گا۔ نزلہ بر عضوِ ضعیف۔ مسلمانوں کو ترغیب دوں کہ مماثلت سے، مشابہت سے، انگریزی سیکھنے سے، انگریزی تمدن اختیار کرنے سے۔ غرض جس جس ڈھب سے ممکن ہو انگریزوں کی طرف کو جھکیں۔

ابن الوقت کے حالاتِ مابعد سے ظاہر ہو جائے گا کہ تدبیر جو اس نے اختیار کی غلط تھی یا صحیح اور کہاں تک اس کو اپنے ارادے میں کامیابی ہوئی۔ ہم اس کو ابن الوقت کی کامیابی کی تمہید سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے اس نے آپ وہ طرز اختیار کر لی جس کو رواج دینا چاہتا تھا۔ اس نے غدر کے دنوں میں نوبل صاحب کی جان بچانے سے سرکارِ انگریزی کی خیر خواہی کی اور سرکار نے بھی اس خیر خواہی کا بدلہ دینے میں ایسی جلدی کی کہ برس کے اندر ہی اندر ابن الوقت جاگیردار بھی ہو گیا۔ ایک دم سے اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بھی ہو گیا۔ اب اس نے قوم کی خیر خواہی کا دم بھرا اور رفارمر بنا تو رفارمروں کو جو انعام ہمیشہ سے ملتا آیا ہے اس کے لیے بھی تیار تھا۔ یعنی اگلے ہی دن سارے شہر میں غل تھا کہ ابن الوقت کرسٹان ہو گیا۔ انگریزوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ انھی کی طرح کپڑے پہنے۔ افواہ کا قاعدہ ہے کہ لوگوں کے منہ بات پڑی اور ایک ایک کی چار چار ہوئیں۔ کوئی یہ بھی کہہ دیتا تھا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کو انگریزوں کے ساتھ گرجا میں دیکھا۔ آخر نماز ہی کو گئے ہوں گے۔

دوسرا۔ "ارے میاں تم مسلمان ہو کر کہتے ہو، گئے ہوں گے! توبہ کرو توبہ!"

تیسرا۔ "کیوں جی پہلے سے تو ہم نے کوئی بات دیکھی کیا سنی بھی نہ تھی۔ یہ ایک دم سے ہوا تو کیا ہوا؟"

دوسرا۔ "کیا خوب! ایک نشد دو شد۔ تم شہر میں رہتے ہو اور اتنا معلوم نہیں (آگے کو جھک کر دبی زبان سے) کہ اس نے غدر میں ایک انگریز کو چھپایا تھا۔"

تیسرا۔ "چھپایا تھا تو چھپانے دو۔ اور بھی بہتیروں نے خیر خواہیاں کیں، مخبر بنے، لوگوں کے گڑے دبے مال نکلوائے، آپ کھڑے ہو کر گواہیاں دیں، پھانسیاں تک دلوائیں۔ خیر خواہی سے اور کرسٹان ہونے سے کیا تعلق؟"

دوسرا۔ "میاں بات یہ ہے کہ دنیا کا لالچ بہت بُرا ہوتا ہے۔ اور دنیا بھی ایسی کہ بس غدر تو اس شخص کو پھلا ہے۔ کسی بچے کی تو نکسیر تک نہیں پھوٹی۔ ایک پیسے کے مال کا نقصان نہیں ہوا۔ گوڑگانوے کے ضلعے میں کسی بے چارے زمین دار کا کئی ہزار کا علاقہ اسی غدر کی علت میں ضبط ہوا تھا وہ ملا۔ ڈپٹی کی نوکری پائی۔ ایک خیر خواہی میں تو اتنی کرامت نہ تھی۔"

چوتھا۔ "مگر ہوا بڑا غضب۔ ایسا خاندانی آدمی کرسٹان ہو جائے۔ عالم فاضل۔ اسلام کی بڑی بے عزتی ہوئی۔"

دوسرا۔ "اسلام کو خدا نے عزت دی ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت معزز رہے گا اور علم و فضل کی کچھ نہ پوچھو۔ شیطان معلم الملکوت تھا۔ یعنی تمام فرشتوں کا استاد۔ پھر وہ علم اس کے کیا کام آیا؟"

ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں جہاں دیکھو ابن الوقت ہی کا چرچا تھا۔ عوام نے تو ایک بات پکڑ پائی تھی کرسٹان ہو گیا۔ کرسٹان ہو گیا۔ ان کے نزدیک انگریزوں کے ساتھ کھانا بلکہ انگریزوں کی طرح میز کرسی پر چھری کانٹے سے کھانا، انگریزی لباس پہننا سب کرسٹان ہونے ہی میں داخل تھا۔ ہندوستانی اخبار والوں کو مضمون کہاں نصیب؟ ان کو ایک اچھا مشغلہ ہاتھ لگا۔ ابن الوقت نے اگر شہر کا رہنا چھوڑ نہ دیا ہوتا تو لڑکوں کا اس کے پیچھے ہُردو پیٹ دینا بھی کچھ تعجب نہ تھا۔ مگر شہر کے باہر چھاؤنی میں اتنی دور جاتا ہی کون تھا۔ اور پھر انگریزوں کے ڈر کے مارے کس کی ایسی جرأت تھی۔ مگر ہاں کچہری میں ہر روز سو پچاس آدمی اس کو انگریزی لباس پہنے انگریزوں کے ساتھ ٹفن کھاتے چرٹ پیتے دیکھتے ہی تھے۔ شامت تو اگر سچ پوچھو ابن الوقت کے گھر والوں کی تھی کہ ناحق لوگ ان کو آ آ کر چھیڑتے تھے اور یہ بے چارے ابن الوقت کے کارن مفت میں نکو بن رہے تھے۔

قاعدہ ہے کہ جب کسی قوم پر ادبار آتا ہے تو اس کے حرکات و سکنات معاملات خیالات، معتقدات سبھی میں رداءت آ جاتی ہے۔ کیا خوب کہا ہے ؏ ہر چہ گیرد علتی علت شود۔ مسلمانوں کو خدا نے کیسا تو عمدہ مذہب دیا تھا کہ اسی کی بدولت عرب کے وحشی اونٹوں کے چرانے والے اس قدر تھوڑے عرصے میں جس کی نظیر ساری دنیا کی تاریخ میں مفقود ہے گویا تمام روئے زمین کے بادشاہ ہو گئے پھر وہ مذہب سہل و سلیس ہونے کے علاوہ نظرِ غور سے دیکھو تو اختیاری نہیں بلکہ فطری یعنی بہ عبارتِ دیگر اضطراری لازمۂ انسانیت کہ کسی حال میں انسان سے منفک ہو ہی نہیں سکتا۔ پیغمبرِ اسلام کا خاتم النبیین اور مرسل الی کافۃ الناس ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ دائرۂ اسلام بہت وسیع ہے۔ اور پیغمبر صاحب کو کثیر الاتباع ہونے پر ناز بھی تھا۔ غرض ایک مسلمان تو قرونِ اولیٰ کے مسلمان تھے جن کی تمام ہمت تکثیرِ گروہِ مسلمانان میں مصروف تھی یا ایک مسلمان ہمارے زمانے کے مولوی ہیں کہ بات بات پر لوگوں کو کافر یعنی اسلام سے خارج ٹھہرا دیتے ہیں۔

ابن الوقت تو ان کے نزدیک نرا کافر بھی نہیں بلکہ مجموعۂ کفار تھا۔ حنفی، شافعی، شیعہ، سنی، وہابی، بدعتی مسلمانوں کے جتنے فرقے ہندوستان میں ہیں سب کے علما نے قرآن کی آیتوں سے حدیثوں کی سند پکڑ پکڑ کر بالاجماع ابن الوقت کے کفر کے فتوے لکھ دیے۔ ایک فتویٰ تو خود ہماری نظر سے بھی گزرا۔ فتویٰ کاہے کو تھا اچھا خاصا اقلیدس کا پہلا مقالہ معلوم ہوتا تھا کہ مربع مستطیل بیضوی سب شکلوں کی مہریں اس میں تھیں اور پھر بعضی کفِ دست کے برابر چوڑی چکلی۔ طغرے کیسے کیسے پیچیدہ کہ ہمایوں کی بھول بھلیوں کی کیا اصل ہے۔ دلّی کا فتویٰ اور دلّی ہی کے علما کی مہریں اور پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کون سی کس کس کی مہر ہے۔ آخر نہ رہا گیا۔ پوچھنا ہی پڑا "کیوں صاحب یہ خادم الشریعۃ الغرا والملۃ البیضاء المحمدیۃ الحافظ الحاج الشیخ ابوالفضائل محمدن الشہیر بمعین الدین الحنفی القادری الاویسی المازندرانی ثم البخاری کون بزرگ ہیں؟"

صاحبِ فتویٰ۔ "آپ نے نہیں پہچانا؟ مولوی مونا جو موچیوں کی مسجد میں جمعے کے جمعے وعظ کہا کرتے ہیں۔"

ہم۔ "بارے مولوی مونا صاحب کی مہر بھی فتووں پر ہونے لگی۔"

صاحبِ فتویٰ۔ "اجی حضرت اگر ان کی مہر نہ کراؤ تو وعظ میں نام لے لے کر ایسی بے نقط سناتے ہیں کہ معاذ اللہ۔ مگر بے چارے ہیں صلحِ کل۔ اختلافی مسائل میں دونوں طرف والے مہر کرا لے جاتے ہیں۔ انکار نہیں۔"

ہندوستانیوں کی یہ چھیڑ چھاڑ جو اکثر گالیوں کے قریب قریب ہوتی تھی۔ ابن الوقت کو بُری تو کیوں نہ لگتی ہوگی۔ مگر ظاہر میں تو اس نے کبھی اس کا اعتنا کیا نہیں۔ ہمیشہ استکراہ کے ساتھ ایک کان سے سُنا اور حقارت کے ساتھ دوسرے کان سے نکال دیا۔ مگر ابن الوقت ایک دم سے کرسٹان ہو گیا ہوتا تو لوگ ایسے اس کے پیچھے نہ پڑتے اس کے عزیز و قریب رو دھو کر اور جھک جھک کر کبھی نہ کبھی چپ کرتے پر کرتے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ ابن الوقت کا ظاہر حال بالکل انگریزوں کا سا تھا اور پھر وہ کہتا تھا کہ میں مسلمان ہوں۔ اس کی اسی بات سے مسلمان چڑتے تھے۔

نوبل صاحب کے ڈنر میں ملکی فوجی جتنے انگریز اس وقت دہلی میں تھے سبھی تو موجود تھے۔ سب نے ابن الوقت کو دیکھا۔ حرف بہ حرف اس کی تقریر کو سنا۔ چند روز بعد ابن الوقت نے ساری چھاؤنی کو بڑا کھانا دیا اس میں سب تو نہیں مگر جس جس سے نوبل صاحب کو زیادہ ربط تھا چار و ناچار آیا۔ اور دو چار صاحب لوگ اور بھی آئے۔ بے تکلفی ہوتے ہی ہوتے ہوتی ہے۔ ایسا کہیں دیکھنے میں نہیں آیا کہ صاحب سلامت کے بعد ہی تپاک شروع ہو جائے اور یہاں تو رکاوٹ کی بہت سی وجوہ تھیں۔ اوّل تو بالکل ایک نئی بات تھی۔ شروع عمل داری سے آج تک ان اطراف میں کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کسی ہندوستانی نے انگریزی وضع اختیار کر کے برابری کے دعوے سے انگریزی سوسائٹی میں گھسنے کا ارادہ کیا ہو۔ راجہ، نواب، بابو، بڑے بڑے عہدے دار انگریزوں سے ملنے کی سبھی کو ضرورت واقع ہوتی رہتی تھی۔ مگر اپنے ہندوستانی قاعدے سے ملتے تھے۔ سر پر پگڑی، شملہ، عمامہ، گلے میں قبا، چغہ، جاڑا ہوا تو اوپر سے شالی رومال، اندر کمر بندھی ہوئی، اتوار اور کچہری کا وقت بچا کر سویرے سے جا موجود ہوئے۔ سواری کو احاطے کے باہر چھوڑا۔ چپراسی سے اطلاع کرائی منتظرِ طلب برآمدے میں بیٹھے۔ بلائے گئے جوتیاں دروازے کے باہر اتاریں۔ سامنا ہوا۔ دور سے جھک کر سلام کیا۔ آہستہ سے مختصر طور پر مطلب کی دو باتیں کیں رخصت چاہی۔ صاحب کا سامنا کتراتے ہوئے باہر نکلے۔ اردلیوں شاگرد پیشوں کا معمول دیا اور گھر کا راستہ لیا۔

ابن الوقت نے ملاقات کا ایک نرالا ڈھنگ نکالا۔ جب تک کوئی دوست معرفت نہ کرا دے وہ کسی انگریز سے ملتا ہی نہ تھا اور ملتا بھی تو کس طرح کہ گھوڑا ہے تو گھوڑا اور بگھی ہے تو بگھی دُھر برآمدے میں۔ اردلی دور سے گھوڑے کی ٹاپ سن کر کارڈ کے لیے منتظر کھڑا ہے۔ چند قدم استقبال کر کے کارڈ لے بھاگا ہوا اندر گیا۔ آگے آگے اردلی پیچھے پیچھے ابن الوقت۔ بیس بسوے تو صاحب خانہ سے برآمدے میں مٹھ بھیڑ ہوئی۔ ورنہ خیر عین کمرے کے دروازے میں اور اگر صاحب خانہ اس میں مضائقہ کریں تو ابن الوقت سوار ہو یہ جا وہ جا۔ پھر ادب قاعدے کی تو خبر نہیں۔ آنکھیں چار ہوتے ہی ایک ساتھ دونوں کے منہ سے نکلا گڈ مارننگ ہاؤ ڈو یو ڈو؟ ایک ساتھ آگے بڑھے اور مصافحہ ہوا۔ دونوں اندر داخل ہوئے۔ معلوم نہیں کیا کیا باتیں ہوئیں مگر زور سے ہنسنے کی آواز تو برابر چلی آتی تھی۔

غرض ابن الوقت نے انگریزوں کے ساتھ برتاؤ ہی اس طرح کا شروع کیا کہ اکثر انگریز اس کے ملنے سے پہلو تہی سا کرتے تھے پھر ابن الوقت میں زبانِ انگریزی کی بھی کوتاہی تھی۔ علاوہ بریں اس کا تعلق انگریزوں کے ساتھ بالکل جدید تھا۔ ان وجوہ سے اس کو انگریزوں نے اپنی سوسائٹی میں لیا تو سہی مگر کشادہ دلی کے ساتھ نہیں تاہم اس کا تعارف انگریزوں کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا تھا۔ اور ہندوستانی بھائیوں کے حسد کے مشتعل کرنے کو اتنا کافی تھا۔ یہی وہ مخالفت تھی جو تمام عمر ابن الوقت کو طرح طرح کی ایذائیں دیتی اور اس کے اس مطلب میں کھنڈت کرتی رہی۔ انگریزوں کو رشک و حسد کی کوئی وجہ نہ تھی۔ مگر ان میں بھی اکثر بہ زعمِ حکومت ابن الوقت کے سخت مخالف تھے۔

اس میں شک نہیں نوبل صاحب اس کے پورے طرف دار تھے۔ وہ شریف تھے معزز عہدے دار تھے انگریزوں میں ان کی بڑی وقعت تھی۔ اُن کی کارگزاری اور لیاقت گورنمنٹ کے نزدیک مسلّم تھی اور سب سمجھتے تھے کہ ایک نہ ایک دن ان کو کوئی بڑا کام ہونے والا ہے۔ مگر آخر تھے تو ایک متنفس۔ ان کی مدد سے سرِدست اتنا بھی کیا کم تھا کہ تموّل اور تعزّز کے اعتبار سے ابن الوقت کو حکامِ وقت سے ملنے کا حوصلہ ہوا اور انگریزوں کے ساتھ تھوڑی بہت جو کچھ معرفت ہوئی وہ بھی انھیں کی وجہ سے ہوئی۔ اگر نوبل صاحب کا قدم درمیان میں نہ ہوتا تو منہ سے رفارم کا نام نکالنا بھی مشکل تھا۔ غرض بہ نظرِ ظاہر جتنے اتفاقاتِ مساعد کا جمع ہونا ممکن تھا سب مہیا تھے۔ نوبل صاحب جیسا عالی رتبہ انگریز مربی اور سرپرست، خود ابن الوقت خیر خواہِ سرکار جاگیردار۔ اکسٹرا اسسٹنٹ اپنے ہی شہر میں حاکم اور کام بھی بغاوت کی تحقیقات، کہ ان دنوں کوئی حکومت اس کو لگا نہیں کھاتی تھی۔ زمین داری اور نوکری ملا کر آمدنی ایسی معقول کہ جس کی ایک ٹانگ انگریزوں کی طرح ولایت میں پھنسی ہوئی نہ ہو۔ جس شان سے چاہے رہے۔ پھر جیسی وضع سے رہنا چاہتا تھا باعتبارِ شکل و صورت اس کے قابل اور مناسب، بااین ہمہ ابتدا سے جو مزاحمتیں پیش آنی شروع ہوئیں تو آخر تک بے چارے ابن الوقت کو دم نہ لینے دیا اور دوسرا کوئی ہوتا تو ہجومِ مخالفت سے گھبرا کر اس کام کو کبھی کا چھوڑ بیٹھا ہوتا۔ مگر ابن الوقت پرلے درجے کا مستقل مزاج آدمی تھا۔ مشکلات کو دیکھ کر اور دلیر ہوتا۔ وہ رنجیدہ ہوتا۔ افسوس کرتا اس کو غصہ بھی آتا۔ مگر کبھی ایک لمحے کے لیے بھی اس کو یہ خیال نہیں ہوا کہ جو وضع اختیار کی ہے اس کو چھوڑ دوں یا جس رفارم کا بیڑا اٹھا چکا ہوں اس کے رواج دینے میں کوتاہی کروں۔

شروع میں مذہبی بحث ابن الوقت کے پروگرام سے بالکل خارج تھی مگر مسلمانوں نے چھوٹتے ہی اس سے مذہبی چھیڑ نکالی جس سے ابن الوقت کو یہ خیال ہوا کہ مذہب ہی نے مسلمانوں کو بنایا اور مذہب ہی ان کو بگاڑ رہا ہے۔ بے مذہب کے یہ ٹکڑا تو ٹوٹتے ہی نہیں تاوقتیکہ ان کے دین کی اصلاح نہ ہو دنیاوی فلاح ہرگز نہیں ہو سکتی یہ سمجھ کر اس نے بہ مجبوری مسائلِ دین میں دست اندازی شروع کی۔ یہ بحث اگر اسی حد تک رہتی جہاں تک ابن الوقت کو اپنی رفارم میں اس کی ضرورت تھی تو چنداں حرج نہ تھا مگر بحث کا نام آیا اور طرفین سے کٹھ حجتی شروع ہوئی۔ ہمارے ہندوستان ہی میں کوڑیوں مذہب ہیں اور ہمیشہ ایک دوسرے کا رد کرتے رہتے ہیں۔ ہم نے تو دیکھا کیا سنا بھی نہیں کہ کوئی مذہب مناظرے میں مغلوب ہو کر معدوم ہو گیا ہو۔ بلکہ اختلافِ مذاہب ہے کہ یوماً فیوماً بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یوں تو سنتے تھے کہ مسلمانوں میں ستر دو بہتر فرقے ہوں گے مگر ہندوستان میں سُنی، شیعہ، حنفی، شافعی، صوفی گنتی کے چند فرقے دکھائی دیتے تھے اب ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک سنیوں میں وہابی، بدعتی، مقلد، غیر مقلد، دوالین، ذوالین کتنے سلسلے نئے نکل کھڑے ہوئے اور یہ آفتِ اختلاف نہ صرف ہندوستان میں ہے اور نہ فقط مذہب میں بلکہ ہر ملک میں اور ہر بات میں۔

الغرض مذہب کے اعتبار سے ابن الوقت نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جُدی مسجد بنا کھڑی کی۔ انگریزی تعلیم آزادی کے خیالات دلوں میں پیدا کر چکی تھی اور مطلق العنانی کی دھن نے ہزارہا آدمیوں کو بے چین کر رکھا تھا اور دلوں کی بھڑاس نکالنے کے لیے موقع تاک رہے تھے۔ ایسے لوگوں نے ابن الوقت کی آڑ کو بس غنیمت سمجھا اور نئے طور کے مسلمانوں کا گروہ بہت جلد کثیر الانصار ہو گیا۔ جیسے حشرات الارض کہ برسات کا چھینٹا پڑا اور لگے رینگنے۔ اگر تبدیلِ وضع اور ترمیمِ عقائد کے ساتھ موجباتِ ترغیب بھی ہوں تو ہم لوگوں میں ایسی بھیڑیا چال ہے کہ آدھے سے زیادہ مسلمان نیا طریق اختیار کر لیتے مگر ادھر تو بھائی بندوں نے تتاڑا ادھر انگریزوں نے بے رخی کی اور تبدیلِ حالت کسی کو سزاوار نہ ہوئی۔ تو ان لوگوں کی وہی مثل ہو گئی۔ ازیں سو راندہ وزاں سو درماندہ۔۔۔ یعنی پیدا ہوتے ہی کچھ ایسی اوس پڑی کہ ٹھٹھر کر رہ گئے۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.