Urdu in Translation
搜索

第 9 章,共 56 章

Wajid Ali Shah at Matiya Burj

مٹیا برج میں واجد علی شاہ

Abdul Halim Sharar

文字
字号

(۸)

واجد علی شاہ کی یہ بڑی خوش نصیبی تھی کہ تاج و تخت سے جدا ہوتے ہی آخر سنہ ۱۲۸۵ محمدی (۱۸۵۶ء) میں لکھنؤ چھوڑ کے کلکتے کی طرف روانہ ہو گئے، تاکہ اپنے معاملے میں باضابطہ پیروی کریں، اور گورنر جنرل ہند کے دربار سے کامیابی نہ ہو تو لندن پہنچ کے مقدمے کو پارلیمنٹ اور ملکۂ انگلستان کے سامنے پیش کر دیں۔ چنانچہ جب کلکتے میں کام نہ نکلا تو انگلستان کا قصد کیا، مگر اطبا نے بحری سفر کو بادشاہ کے لیے مضر تصور کیا اور مشیروں نے روکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود بادشاہ تو کلکتے ہی میں ٹھہر گئے، مگر اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ ولیعہد کو انگلستان روانہ کیا۔ اس سفر میں میرے نانا منشی قمر الدین صاحب مرحوم بھی اس خانماں برباد شاہی قافلے کے ہمراہ تھے۔ بادشاہ کو سرکار انگریزی کی مجوزہ تنخواہ لینے سے انکار تھا، اور اڑے ہوئے تھے کہ ہم تو اپنا تاج و تخت ہی لیں گے جو بے قصور چھینا گیا ہے۔

بادشاہ کلکتے میں تھے، ان کا خاندان لندن میں تھا، اور معاملہ زیر غور تھا، کہ یکایک کارتوسوں کے جھگڑوں اور گورنمنٹ کی ضدوں نے سنہ ۱۲۸۶ محمدی (۱۸۵۷ء) میں غدر پیدا کرا دیا، اور میرٹھ سے بنگالے تک ایسی آگ لگی کہ اپنے پرائے سب کے گھر جل اٹھے، اور ایسا فتنۂ عظیم پیدا ہوا کہ ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ کی بنیاد ہی متزلزل نظر آتی تھی۔ جس طرح میرٹھ وغیرہ کے باغی ہر طرف سے سمٹ کے دہلی میں جمع ہوئے تھے اور ظفر شاہ کو ہندوستان کا شہنشاہ بنایا تھا، ویسے ہی الہ آباد و فیض آباد کے باغی سنہ ۱۸۵۷ء میں جوش و خروش کے ساتھ لکھنؤ پہنچے۔ ان کے آتے ہی یہاں کے بھی بہت سے بیفکرے اٹھ کھڑے ہوئے، اور شاہی خاندان اودھ کا اور کوئی رکن نہ ملا تو واجد علی شاہ کے ایک دس برس کے نابالغ بچے مرزا برجیس قدر کو تخت پر بٹھا دیا، اور ان کی ماں نواب حضرت محل سلطنت کی مختار کل بنیں۔ تھوڑی سی انگریزی فوج جو یہاں موجود تھی، اور اس کے ساتھ یہاں کے تمام یوروپین عہدہ داران مملکت جو باغیوں کے ہاتھ سے جان بر ہو سکے، بیلی گارد میں قلعہ بند ہو گئے، جس کے گرد باغیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی دمدمے بنا لیے گئے تھے اور حفاظت و رسد کا کافی بندوبست کر لیا گیا تھا۔ غنیمت ہوا، یا یہ کہیے کہ قسمت اچھی تھی، کہ واجد علی شاہ لکھنؤ سے جا چکے تھے، ورنہ وہی خواہ مخواہ بادشاہ بنائے جاتے، ان کا حشر ظفر شاہ سے بھی بدتر ہوتا، اور اودھ کے پریشان بختوں کو ذرا پنپنے کے لیے مٹیا برج کے دربار کا جو ایک عارضی سہارا مل گیا تھا یہ بھی نہ نصیب ہوتا۔

اب لکھنؤ میں انگریزوں کی باغی فوج کے علاوہ اودھ کے اکثر زمیندار و تعلقدار اور عہد شاہی کے برطرف شدہ سپاہی کثرت سے جمع تھے، اور ان میں شہر کے بہت سے اوباشوں اور ہر طبقے کے لوگوں کا طوفان بے تمیزی بھی شریک ہو گیا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ تھوڑے سے انگریزوں پر ایک خدائی کا نرغہ ہے۔ مگر فرق یہ تھا کہ محاصرہ کرنے والوں میں سوا اوباش اہل شہر اور بے اصول و خودسر مدعیان شجاعت کے ایک بھی ایسا شخص نہ تھا جو اصول جنگ سے واقف ہو، اور تمام منتشر قوتوں کو یکجا کر کے ایک باضابطہ فوج بنا سکے۔ بخلاف اس کے انگریز اپنی جان پر کھیل کے اپنی حفاظت کرتے، سر ہتھیلی پر لے کے حملہ آوروں کو روکتے تھے، اور جدید اصول جنگ سے بخوبی واقف تھے۔

اب لکھنؤ میں برجیس قدر کا زمانہ اور حضرت محل کی حکومت تھی۔ برجیس قدر کے نام کا سکہ جاری ہوا، عہدہ داران سلطنت مقرر ہوئے، ملک سے تحصیل وصول ہونے لگی، اور صرف تفنن طبع کے طور پر محاصرے کی کارروائی بھی جاری تھی۔ لوگ حضرت محل کی مستعدی و نیک نفسی کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ سپاہیوں کی نہایت قدر کرتیں اور ان کے کام اور حوصلے سے زیادہ انعام دیتی تھیں۔ مگر اس کا کیا علاج کہ یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خود پردے سے نکل کے فوج کی سپہ سالاری کرتیں۔ مشیر اچھے نہ تھے اور سپاہی کام کے نہ تھے۔ ہر شخص غرض کا بندہ تھا، اور کوئی کسی کا کہنا نہ مانتا تھا۔ انگریزی فوج کے باغی اس غرور میں تھے کہ یہ فقط ہمارے دم کا ظہور ہے، اصلی حاکم ہم ہی ہیں، اور جس کے سر پر جوتا رکھ دیں وہی بادشاہ ہو جائے۔ احمد اللہ نام ایک شاہ صاحب، جو فیض آباد کے باغیوں کے ساتھ آئے تھے اور کئی معرکوں میں لڑ چکے تھے، وہ الگ اپنا رعب جما رہے تھے، بلکہ خود اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ برجیس قدر کے مقابل لکھنؤ ہی میں ان کا دربار الگ قائم تھا، اور دونوں درباروں میں پولیٹکل اختلاف کے ساتھ شیعہ سنی کا جھگڑا اور تعصب بھی نمایاں ہونے لگا۔ غرض بادشاہ اور شاہ صاحب میں رقابت بڑھتی جاتی تھی۔ آخر اسی سال نومبر کے مہینے میں برجیس قدر کی تخت نشینی کو چھ ہی سات مہینے ہوئے تھے کہ انگریزی فوج لکھنؤ پر تسلط حاصل کرنے کے لیے آ گئی، جس کے ساتھ پنجاب کے سکھ اور بھوٹان کے پہاڑی بھی تھے، اور کہا جاتا ہے کہ انھیں لوگوں نے زیادہ مظالم کیے۔ دو ہی تین دن کی گولہ باری میں نئی سلطنت کا جو نقش قائم ہوا تھا مکڑی کے جالے کی طرح ٹوٹ کے رہ گیا۔ ہزارہا مفرورین کے ساتھ حضرت محل اور برجیس قدر نیپال کی طرف بھاگ گئے۔ شاہ صاحب نے دو تین دن لڑ لڑ کے اگرچہ برجیس قدر کے لیے آزادی سے بھاگ جانے کا موقع پیدا کر دیا، مگر خود اپنی جان نہ بچا سکے۔ شکست کھا کے بھاگے اور باڑی اور محمدی ہوتے ہوئے پوائیں میں پہنچے۔ وہاں کسی نے گولی مار دی۔ پوائیں کے راجہ نے سر کاٹ کے انگریزوں کے پاس بھیجا اور صلے میں انعام و جاگیر پائی۔

آبادی کو باغیوں سے صاف کرنے کے لیے انگریزوں نے شہر میں سخت گولہ باری کی۔ ساری رعایا گھبرا اٹھی۔ زن و مرد گھر چھوڑ چھوڑ کے بھاگ گئے، اور ایک ایسی قیامت بپا ہو گئی کہ جن لوگوں نے دیکھا ہے آج تک یاد کر کے کانپ جاتے ہیں۔ محلوں کی بیٹھنے والیاں، جن کی صورت کبھی آفتاب تک نے نہ دیکھی تھی، برہنہ پا جنگلوں کی خاک چھانتی پھرتی تھیں۔ بیکسی میں ایک ایک کا دامن پکڑتی تھیں، اور جو ملتا تھا دشمن ہی ملتا تھا، اور سعدی کا یہ مصرع پوری طرح صادق آ رہا تھا کہ "یاران فراموش کردند عشق"۔ اسی حالت میں فتحیاب فوج نے شہر کو لوٹا، اور بعد خرابی بصرہ خدا خدا کر کے لوگوں کو پھر اپنے گھروں میں آنے کی اجازت ملی۔ اب ایک تہلکے کے بعد جو امن قائم ہوا تھا وہ بفضلہ تعالیٰ آج تک قائم اور روز بروز ترقی پر ہے۔ لیکن پرانی دولت کے وابستگان دامن اور اعزائے شاہی جو انقلاب سلطنت کے بعد بالکل بیکار ہو گئے اور نئی سلطنت سے فائدہ اٹھانے کی لیاقت نہ رکھتے تھے، مٹتے ہی چلے گئے۔ چنانچہ بڑے بڑے دولتمند اور معزز گھرانوں کے پامال و تباہ ہونے کا سلسلہ مدت تک برابر جاری رہا۔ محلے کے محلے اجڑتے چلے جاتے تھے، اور خاندان کے بعد خاندان مٹ رہا تھا، اور اکثر لوگوں کو یقین ہو گیا تھا کہ چند روز کے بعد لکھنؤ کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا۔ لیکن انجام میں سرکار انگریزی کی وہ تدبیریں جنھوں نے ساری دنیا میں انگریزوں کی نوآبادیاں قائم کر دی ہیں غالب آئیں، اور لکھنؤ حوادث زمانہ کی دست برد سے بچ کے پنپا۔ جن کو مٹنا تھا مٹ گئے، اور جو باقی رہے سنبھلنے کے قابل ہو گئے۔ اور اگر مسٹر بٹلر کے ایسے چند اور حاکم لکھنؤ کو مل گئے تو امید ہے کہ آئندہ بہت ترقی کرے گا۔

ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ اسی سلسلۂ واقعات میں ہم واجد علی شاہ کی باقیماندہ زندگی اور ان کے قیام کلکتہ کے حالات بھی اپنے ناظرین کے سامنے پیش کر دیں، کیونکہ بغیر اس کے اس تاریخ کا تکملہ نہیں ہو سکتا۔ کلکتے میں خود ہمارا بچپن بادشاہ کے ظل حمایت میں بسر ہوا ہے، اور گزشتہ واقعات کے حالات اگر ہم نے لوگوں سے سن کے اور اوراق تاریخ میں پڑھ کے بیان کیے ہیں تو آئندہ اکثر چشم دید حالات بیان کریں گے۔

کلکتے سے تین چار میل کی مسافت پر جنوب کی طرف دریائے بھاگیرتی (ہوگلی) کے کنارے "گارڈن ریچ" نام ایک خاموش محلہ ہے، اور چونکہ وہاں ایک مٹی کا تودہ سا تھا اس لیے عام لوگ اسے مٹیا برج کہتے تھے۔ یہاں کئی عالیشان کوٹھیاں تھیں جن کی زمین دریا کے کنارے کنارے تقریباً دو ڈھائی میل تک چلی گئی ہے۔ جب واجد علی شاہ کلکتے میں پہنچے تو گورنمنٹ آف انڈیا نے یہ کوٹھیاں انھیں دے دیں: دو خاص بادشاہ کے لیے، ایک نواب خاص محل کے واسطے، اور ایک علی نقی خان کی سکونت کے لیے جو بادشاہ کے ساتھ تھے۔ اور ان کے گرد زمین کا ایک بڑا قطعہ جو عرض میں دریا کنارے سے تقریباً میل ڈیڑھ میل تک چلا گیا تھا اور اس کا حلقہ چھ سات میل سے کم نہ ہوگا، بادشاہ کو اپنے اور اپنے ملازمین کے قیام کے لیے دیا گیا۔ میونسپلٹی کی سڑک اس رقبے کو طولاً قطع کرتی تھی۔ وہ دو کوٹھیاں جو بادشاہ کو دی گئی تھیں ان کے نام بادشاہ نے سلطان خانہ اور اسد منزل قرار دیے، اور نواب خاص محل کی کوٹھی پر بھی جب بادشاہ نے قبضہ کر لیا تو اس کا نام مرصع منزل رکھا۔ اور علی نقی خان کی کوٹھی آخر تک انھیں کے قبضے میں، اور ان کے بعد ان کی اولاد خصوصاً نواب اختر محل کے قبضے میں رہی، جو علی نقی خان کی بیٹی اور بادشاہ کی ممتاز بی بی بلکہ ان کے دوسرے ولیعہد مرزا خوش بخت بہادر کی ماں تھیں۔

غدر کے زمانے میں انگریزی فوج کے باغی افسروں نے ارادہ کیا کہ اگر بادشاہ ان کے حکمران بنیں تو وہ کلکتے میں بھی غدر کر دیں۔ مگر بادشاہ نے گورنمنٹ آف انڈیا کے معاملے میں یہ روش نہ تخت و تاج سے جدا ہوتے وقت اختیار کی تھی اور نہ اب پسند کی، بلکہ لاٹ صاحب کو ان لوگوں کے ارادے کی اطلاع کر دی، جس پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مگر دو ہی چار روز بعد مناسب سمجھا گیا کہ بادشاہ کو قلعہ فورٹ ولیم میں رکھا جائے، تاکہ پھر کبھی باغیوں کی ان تک رسائی نہ ہو سکے۔ لندن میں ان کی جانب سے جو مقدمہ پیش تھا وہ اس بنا پر ملتوی کر دیا گیا کہ جس ملک کے لیے یہ دعویٰ ہے وہ اب ہمارے قبضے ہی میں نہیں۔ جب اس پر پھر دولت برطانیہ کا قبضہ ہوگا تب دیکھا جائے گا۔

بادشاہ اس حراست ہی میں تھے کہ لکھنؤ کا غدر فرو ہو گیا، اور مسیح الدین خان نے، جو لندن میں بادشاہ کے مختار عام تھے، پھر اپنا دعویٰ پیش کیا۔ انھیں بادی النظر میں کامیابی اور استرداد سلطنت کی پوری امید تھی، مگر بدقسمتی سے ان لوگوں میں جو قلعے میں بادشاہ کے مشیر اور مصاحب تھے، خواہ کسی بیرونی تحریک سے یا خود اپنے نفع کے خیال سے، ایک سازش ہوئی۔ ان لوگوں نے خیال کیا کہ اگر مسیح الدین خان مقدمہ جیت گئے تو ہمارا بازار سرد پڑ جائے گا اور وہی وہ رہ جائیں گے۔ لہذا سب نے بادشاہ کو سمجھانا شروع کیا کہ "جہاں پناہ! بھلا کبھی کسی نے ملک لے کے دیا ہے؟ مسیح الدین خان نے حضور کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ ہونا ہوانا کچھ نہیں ہے، اور جہاں پناہ مفت میں تکلیف اٹھا رہے ہیں۔ ڈیڑھ دو سال سے تنخواہ نہیں لی ہے۔ ہر بات کی تنگی ہے، اور ہم ملازمان دولت بھی پیسے پیسے کو محتاج ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ حضور گورنمنٹ انگریزی کی تجویزوں کو قبول کر لیں، اور تنخواہ وصول کر کے اطمینان و فارغ البالی سے اپنے محلات عالیات اور اراکین دولت کے ساتھ بسر فرمائیں۔" بادشاہ کو خرچ کی تنگی تھی، اور بادشاہ سے زیادہ ان کے رفقا پریشان تھے۔ مصاحبوں نے جب بار بار یہ تجویز پیش کی تو بلا تکلف حضور وائسرائے کی خدمت میں لکھ بھیجا: "مجھے سرکار انگریزی کی مجوزہ ماہوار لینا منظور ہے۔ لہذا میری اس وقت تک کی تنخواہ دی جائے، اور مقدمہ جو لندن میں دائر ہے خارج کیا جائے۔" جواب ملا: "اب آپ کو اول تو گزشتہ ایام کی ماہوار نہ دی جائے گی، صرف اسی وقت سے ماہوار جاری ہوگی؛ دوسرے فقط بارہ لاکھ روپیہ سالانہ دیے جائیں گے، اور جو تین لاکھ روپیہ سالانہ آپ کے ملازمین کے لیے تجویز کیے گئے تھے اب ان کے دینے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔"

بظن غالب بادشاہ اس نقصان کو گوارا نہ کرتے، مگر مصاحبوں نے اس پر بھی راضی کر دیا، اور گورنمنٹ آف انڈیا نے انگلستان میں اطلاع دی کہ واجد علی شاہ نے گورنمنٹ کی تجویز کو منظور کر لیا، لہذا ان کا مقدمہ خارج کیا جائے۔ یہ واقعات میں نے خود اپنے نانا منشی قمر الدین صاحب کی زبان سے سنے ہیں، جو جناب عالیہ کے ہمراہی دفتر کے میر منشی اور مولوی مسیح الدین خان کے نائب خاص تھے، اور کل کارروائیاں انھیں کے ہاتھ سے عمل میں آتی تھیں۔ بادشاہ کے ماہوار پر راضی ہو جانے کی خبر جیسے ہی لندن میں پہنچی، مسیح الدین خان کے حواس جاتے رہے۔ بادشاہ کی ماں، ان کے بھائی، اور ولیعہد نے سر پیٹ لیا، اور حیران تھے کہ یہ کیا غضب ہو گیا۔ افسوس اس وقت تک کا سب کیا دھرا خاک میں ملا جاتا ہے۔ آخر مسیح الدین خان نے سوچتے سوچتے ایک بات پیدا کی، اور پارلیمنٹ میں یہ قانونی عذر پیش کیا کہ "بادشاہ فی الحال گورنمنٹ آف انڈیا کی حراست میں ہیں، اور ایسی حالت میں ان کی کوئی تحریر پایۂ اعتبار کو نہیں پہنچ سکتی۔" عذر معقول تھا، تسلیم کیا گیا، اور گورنمنٹ آف انڈیا کو بادشاہ کے مختار کی عذرداری سے مطلع کیا گیا۔ ساتھ ہی مسیح الدین خان اور تمام ارکان خاندان شاہی نے بادشاہ کو لکھا کہ "یہ آپ کیا غضب کر رہے ہیں؟ ہمیں ملک اودھ کے واپس ملنے کی پوری امید ہے۔" اب غدر فرو ہو چکا تھا۔ گورنمنٹ نے بادشاہ کو چھوڑ دیا، اور وہ خوشی خوشی قلعے سے نکل کے مٹیا برج میں آئے۔ اور آزادی حاصل ہوئی ہی تھی کہ مصاحبوں نے عرض کیا: "حضور! مسیح الدین خان لندن میں یہ کہہ رہے ہیں کہ جہاں پناہ نے تنخواہ لینے کو صرف قید ہونے کی وجہ سے منظور کر لیا ہے۔" یہ سنتے ہی بادشاہ نے برافروختہ ہو کے اسی وقت لکھ بھیجا کہ "ہم نے آزادی سے برضا و رغبت گورنمنٹ کی تجویز کو منظور کیا ہے، اور مسیح الدین خان کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ہم نے قید میں ہوتے یا کسی جبر و اکراہ کی وجہ سے منظوری دی ہے۔ لہذا ہم آئندہ کے لیے اس مختار نامے ہی کو منسوخ کیے دیتے ہیں جس کی رو سے وہ ہمارے مختار عام بنائے گئے ہیں۔"

اب کیا تھا؟ ساری کارروائی ختم ہو گئی۔ بادشاہ مٹیا برج میں رنگ رلیاں منانے لگے، مصاحبوں کے گھروں میں من برسنے لگا، اور شاہی خاندان کا شکستہ حال قافلہ جو انگلستان میں پڑا ہوا تھا قریب قریب وہیں تباہ ہو گیا۔ اکثر ہمراہیوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بادشاہ کی ماں جناب عالیہ اس صدمے سے بیمار ہو گئیں، اور اسی بیماری میں چلیں کہ ملک فرانس سے ہوتی ہوئی مقامات متبرکہ میں جائیں اور ان کی زیارت سے شرفیاب ہو کے کلکتے پہنچیں۔ مگر موت نے پیرس سے آگے قدم نہ بڑھانے دیا۔ وہیں انتقال کیا، اور عثمانی سفارت خانۂ فرانس کی مسجد کے متصل مسلمانوں کا ایک قبرستان ہے اسی میں دفن ہوئیں۔ مرزا سکندر حشمت کو ماں کے مرنے کا اس قدر صدمہ ہوا کہ ماں کے مرتے ہی خود بھی بیمار پڑ گئے، اور ماں کے چودہ پندرہ روز بعد وہ بھی ماں کے برابر یوم جزا کا انتظار کرنے کے لیے لٹا دیے گئے۔ اکیلے مرزا ولیعہد بہادر کلکتہ واپس آ کے ماں باپ سے ملے۔

کہتے ہیں کہ ابتداءً مٹیا برج میں بھی بادشاہ کی زندگی نہایت ہی بیدار مغزی اور ہوشیاری کی تھی۔ یہ حالت دیکھ کے گرد و پیش کے لوگوں نے چند آلات موسیقی فراہم کر دیے۔ فوراً سرود بستان یاد دہانیدن کا پورا پورا مضمون صادق آ گیا، اور ارباب نشاط کا گروہ وہاں بھی جمع ہونے لگا۔ ہندوستان کے اچھے اچھے گویے آ کے ملازم ہوئے، اور مٹیا برج میں موسیقی دانوں کا ایسا مجمع ہو گیا تھا کہ اور کسی جگہ نہ تھا۔

خوبصورت عورتوں کے جمع کرنے اور حسن و عشق کے کرشموں میں پھنسے رہنے کا وہاں بھی ویسا ہی شوق تھا جیسا کہ لکھنؤ میں سنا جاتا ہے۔ مگر مٹیا برج میں اس شوق میں مذہبی احتیاط کا پورا لحاظ رہتا۔ بادشاہ شیعہ تھے، اور شیعوں کی شرع میں متعہ بغیر کسی تحدید اور روک کے جائز ہے۔ اس مذہبی آزادی سے فائدہ اٹھا کے بادشاہ جی بھر کے اپنا شوق پورا کر لیتے، اور قاعدہ تھا کہ غیر ممتوعہ عورت کی صورت تک دیکھنا گوارا نہ کرتے۔ یہ احتیاط اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایک جوان بہشتن جو بادشاہ کے سامنے زنانے میں پانی لاتی اس سے بھی متعہ کر کے اسے نواب آب رساں بیگم کا خطاب دے دیا۔ ایک جوان خاک روبن جس کی حضوری میں آمد و رفت رہتی وہ بھی ممتوعات میں داخل ہو کے نواب مصفا بیگم کے خطاب سے سرفراز ہوتی۔ اسی طرح موسیقی کا شوق بھی ممتوعات ہی تک محدود رہتا۔ شاذ و نادر ہی اس کا اتفاق ہوا ہو گا کہ بادشاہ نے کبھی کسی بازاری طوائف کا مجرا دیکھا ہو۔ خود ممتوعات کی مختلف پارٹیاں بنا دی گئی تھیں جن کو مختلف طرز پر رقص و سرود کی تعلیمیں دی جاتیں۔ ایک رادھا منزل والیاں، ایک جھومر والیاں، ایک لٹکن والیاں، ایک ساردھا منزل والیاں، ایک نتھ والیاں، ایک گھونگھٹ والیاں، ایک رہس والیاں، ایک نقل والیاں، اور اسی طرح کے بیسیوں گروہ تھے جن کو رقص و سرود کی اعلیٰ تعلیم دی گئی تھی، اور انھیں کے ناچ گانے میں ان کا دل بہلتا۔ ان سب سے متعہ ہو گیا تھا، بیگمیں کہلاتی تھیں۔ اور دو ایک گروہوں میں اگرچہ کمسن و نابالغ لڑکیاں غیر ممتوعہ تھیں تو اس لیے تھیں کہ بعد بلوغ داخل ممتوعات کر لی جائیں گی۔ ان میں سے اکثر خود بادشاہ کے قریب خاص سلطان خانے میں رہتیں، اور بعض کو دوسری کوٹھیوں میں جدا محلسرائیں ملی تھیں۔ ان ممتوعات میں سے جو صاحب اولاد ہو جاتیں ان کو محل کا خطاب دیا جاتا، رہنے کو جداگانہ محلسرا ملتی، اور ان کی تنخواہ اور عزت بڑھ جاتی۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ موسیقی کے سوا اور تمام حیثیتوں سے بادشاہ بڑے متقی و پرہیزگار اور پابند شرع تھے۔ نماز کبھی قضا نہ ہوتی تھی۔ تیسوں روزے رکھتے تھے۔ افیون، شراب، فلک سیر، یا اور کسی قسم کے نشے سے زندگی بھر احتراز رہا۔ اور محرم کی عزاداری نہایت ہی خلوص عقیدت سے بجا لاتے تھے۔

تیسرا شوق انھیں عمارت کا تھا۔ سلطان خانہ کے گرد بیسیوں محلسرائیں تعمیر ہو گئیں، اور بہت سی نئی کوٹھیاں اور ان میں محلسرائیں بنیں۔ گورنمنٹ سے صرف سلطان خانہ، اسد منزل، اور مرصع منزل ملی تھیں۔ مگر بادشاہ کے شوق نے چند ہی روز میں بیسیوں کوٹھیاں تعمیر کرا دیں جن کے گرد نہایت ہی پرفضا باغ اور فرحت بخش چمن تھے۔ جس وقت میں نے دیکھا ہے بادشاہ کے قبضے میں مندرجۂ ذیل عالیشان کوٹھیاں تھیں جو جنوب سے شمال تک ترتیب وار چلی گئی تھیں: سلطان خانہ، قصر البیضا، گوشۂ سلطانی، شہنشاہ منزل، مرصع منزل، اسد منزل، شاہ منزل، نور منزل، تفریح بخش، بادامی، آسمانی، تہنیت منزل، صد سلطانی، سد سلطانی، عدالت منزل۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی کوٹھیاں تھیں جن کے نام مجھے یاد نہیں رہے۔

ان کے ملحقہ باغوں کے اندر تالابوں کے کنارے بہت سے کمرے، بنگلے اور چھوٹی چھوٹی کوٹھیاں تھیں۔ ان تمام کوٹھیوں، متفرق کمروں، بنگلوں اور کوشکوں میں صاف ستھرا پرتکلف فرش بچھا رہتا۔ چاندی کے پلنگ بچھونوں اور تکیوں سے مکمل لگے رہتے۔ تصویریں اور طرح طرح کا فرنیچر آراستہ ہوتا۔ اور محض پرورش کے خیال سے ضرورت سے زیادہ مکاندار مقرر تھے جو روز جھاڑتے اور ہر چیز کو صفائی اور قرینے سے آراستہ رکھتے۔ غرض ہر کوٹھی بجائے خود اس قدر آراستہ و پیراستہ نظر آتی کہ انسان عش عش کر جاتا۔ کوٹھیوں کے گرد کے باغ اور چمن ایسی ہندسی ترتیبوں اور اقلیدس کی شکلوں کے مطابق بنائے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو بادشاہ کی مناسبت طبعی پر تعجب ہوتا۔

لکھنؤ میں تو بادشاہ نے صرف قیصر باغ اور اس کے پاس کی چند عمارتیں یا اپنے والد مرحوم کا امام باڑہ اور مقبرہ ہی تعمیر کیا تھا، مگر مٹیا برج میں نفیس اور اعلیٰ عمارتوں کا ایک خوبصورت شہر بسا دیا تھا۔ دریا کے اس پار مٹیا برج کے عین مقابل کلکتے کا مشہور بوٹینیکل گارڈن ہے، مگر وہ مٹیا برج کی دنیوی جنت اور اس کے دلکش عجائبات کے سامنے مٹ گیا تھا۔ ان تمام عمارتوں، چمنوں، کنجوں، اور وسیع و نزہت بخش مرغزاروں کے گرد بلند دیواروں کا احاطہ تھا، مگر میونسپلٹی کی شاہراہ عام کے کنارے کنارے تقریباً ایک میل تک شاندار دکانیں تھیں اور ان میں وہی ادنیٰ درجے کے ملازم رہنے پاتے تھے جن کو اپنے فرائض کے لحاظ سے وہاں رہنے کی ضرورت تھی۔ مگر اندر جانے کا راستہ سوا پھاٹکوں کے جن پر پہرہ رہتا کسی دکان میں سے نہیں رکھا گیا تھا۔ خاص سلطان خانے کے پھاٹک پر نہایت عالیشان نوبت خانہ تھا۔ نقارچی نوبت بجاتے، اور پرانے پہروں اور گھڑیوں ہی کے حساب سے شب و روز گھڑیال بجا کرتا۔

دنیا میں عمارت کے شوقین ہزاروں بادشاہ گزرے ہیں، مگر غالباً اپنی ذات سے کسی تاجدار نے اتنی عمارتیں اور اتنے باغ نہ بنوائے ہوں گے جتنے کہ واجد علی شاہ نے اپنی ناکام زندگی اور برائے نام شاہی کے مختصر زمانے میں بنا لیے۔ شاہجہان کے بعد اس بارۂ خاص میں اگر کسی کا نام لیا جا سکتا ہے تو وہ اسی ستم زدہ شاہ اودھ کا نام ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی خاص عمارت سیکڑوں ہزاروں سال تک باقی رہی اور کسی کی صدہا عمارتیں زمانے نے چند ہی روز میں مٹا کے رکھ دیں۔

عمارت کے علاوہ بادشاہ کو جانوروں کا شوق تھا، اور اس شوق کو بھی انھوں نے اس درجے تک پہنچا دیا کہ دنیا اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے، اور شاید کوئی شخصی کوشش آج تک اس کے نصف درجے کو بھی نہ پہنچ سکی ہو گی۔

نور منزل کے سامنے خوشنما آہنی کٹہرے سے گھیر کے ایک وسیع رمنہ بنایا گیا تھا جس میں صدہا چیتل، ہرن، اور وحشی چوپائے چھوٹے پھرتے تھے۔ اسی کے درمیان سنگ مرمر کا ایک پختہ تالاب تھا جو ہر وقت لبالب رہتا، اور اس میں شتر مرغ، کشوری، فیل مرغ، سارس، قازیں، بگلے، قرقرے، ہنس، مور، چکور اور صدہا قسم کے طیور اور کچھوے چھوڑ دیے گئے تھے۔ صفائی کا اس قدر اہتمام تھا کہ مجال کیا جو کہیں بیٹ یا کسی جانور کا پر بھی نظر آ جائے۔ ایک طرف تالاب کے کنارے کٹہروں میں شیر تھے، اور اس رمنے کے پاس ہی سے لکڑی کے سلاخوں دار بڑے بڑے خانوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس میں بیسیوں طرح کے اور خدا جانے کہاں کہاں کے بندر لا کے جمع کیے گئے تھے جو عجیب عجیب حرکتیں کرتے، اور انسان کو بغیر اپنا تماشا دکھائے آگے نہ بڑھنے دیتے۔

مختلف جگہ حوضوں میں مچھلیاں پالی گئی تھیں جو اشارے پر جمع ہو جاتیں، اور کوئی کھانے کی چیز ڈال دے تو اپنی اچھل کود سے خوب بہار دکھاتیں۔ سب پر طرہ یہ کہ شہنشاہ منزل کے سامنے ایک بڑا سا لمبا اور گہرا حوض قائم کر کے اور اس کے کناروں کو چاروں طرف سے خوب چکنا کر کے اور آگے کی طرف جھکا کے اس کے بیچ میں ایک مصنوعی پہاڑ بنایا گیا تھا جس کے اندر سیکڑوں نالیاں دوڑائی گئی تھیں، اور اوپر دو ایک جگہ کاٹ کے پانی کا چشمہ بھی بہا دیا گیا تھا۔ اس پہاڑ میں ہزاروں بڑے بڑے دو دو تین تین گز کے لمبے سانپ چھوڑ دیے گئے تھے جو برابر دوڑتے اور رینگتے پھرتے۔ پہاڑ کی چوٹی تک چڑھ جاتے اور پھر نیچے اتر آتے۔ مینڈکیں چھوڑی جاتیں، انھیں دوڑ دوڑ کے پکڑتے۔ پہاڑ کے گرداگرد نہر کی شان سے ایک نالی تھی، اس میں سانپ لہرا لہرا کے دوڑتے اور مینڈکوں کا تعاقب کرتے، اور لوگ بلا کسی خوف کے پاس کھڑے سیر دیکھا کرتے۔ اس پہاڑ کے نیچے بھی دو کٹہرے تھے جن میں دو بڑی بڑی چیتیں رکھی گئی تھیں۔ یوں تو خاموش پڑی رہتیں لیکن جس وقت مرغ لا کے چھوڑا جاتا اسے جھپٹ کے پکڑ لیتیں اور مسلّم نگل جاتیں۔ سانپوں کے رکھنے کا انتظام اس سے پہلے شاید کہیں نہ کیا گیا ہو گا، اور یہ خاص واجد علی شاہ کی ایجاد تھی جس کو یورپ کے سیاح حیرت سے دیکھتے اور اس کی تصویریں اور شرح کیفیت قلم بند کرتے جاتے تھے۔

مذکورہ جانوروں کے علاوہ ہزارہا طیور کے چہچہاتے ہوئے برنجی پنجرے خاص سلطان خانے کے اندر تھے۔ بیسیوں بڑے بڑے ہال تھے جو لوہے کے جال سے محفوظ کر دیے گئے تھے اور گنج کہلاتے تھے۔ ان میں قسم قسم کے طیور کثرت سے لا کے چھوڑ دیے گئے تھے، اور ان کے رہنے اور نشو و نما پانے کا پورا سامان فراہم کیا گیا تھا۔ بادشاہ کی کوشش تھی کہ چرند و پرند میں سے جتنی قسم کے جانور دستیاب ہو سکیں سب جمع کر لیے جائیں، اور واقعی ایسا مکمل زندہ عجائب خانہ شاید روئے زمین پر کہیں موجود نہ ہو گا۔ ان جانوروں کی فراہمی میں بے روک روپیہ صرف کیا جاتا، اور کوئی شخص کوئی نیا جانور لائے تو منہ مانگے دام پاتا۔ کہتے ہیں کہ بادشاہ نے ریشم پرے کبوتروں کا جوڑا چوبیس ہزار روپے کو اور سفید مور کا جوڑا گیارہ ہزار روپے کو لیا تھا۔ زرافہ جو افریقہ کا بہت بڑا اور نہایت عجیب جانور ہے اس کا بھی ایک جوڑا موجود تھا۔ دو کوہان کے بغدادی اونٹ ہندوستان میں کہیں نہیں نظر آتے اور بادشاہ کے وہاں تھے۔ کلکتے میں ہاتھی مطلق نہیں رہتے، مگر بادشاہ کے اس زندہ نیچرل ہسٹری میوزیم میں ایک ہاتھی بھی تھا۔ محض اس خیال سے کہ کوئی جانور رہ نہ جائے دو گدھے بھی رمنے میں لا کے چھوڑ دیے گئے تھے۔ درندوں میں سے شیر ببر، دیسی شیر، چیتے، تیندوے، ریچھ، سیاہ گوش، چرغ، بھیڑیے، سب کٹہروں میں بند تھے اور بڑی خاطر داشت سے رکھے جاتے۔

کبوتروں کا انتظام دیگر جانوروں سے الگ تھا۔ بادشاہ کی مختلف کوٹھیوں میں سب ملا کے چوبیس پچیس ہزار کبوتر تھے جن کے اڑانے میں کبوتربازوں نے بڑے بڑے کمالات دکھائے تھے۔

جانوروں پر جو صرف ہو رہا تھا اس کا ناقص اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آٹھ سو سے زیادہ جانورباز تھے، تین سو کے قریب کبوترباز تھے، اسی کے قریب ماہی پرور تھے، اور تیس چالیس مار پرور تھے جن کو دس روپیہ ماہوار سے لے کے چھ روپیہ ماہوار تک تنخواہیں ملتی تھیں۔ افسروں کی تنخواہیں تیس سے بیس روپیہ تک تھیں۔ اور کبوتروں، سانپوں اور مچھلیوں کے علاوہ دیگر جانوروں کی خوراک میں کچھ کم نو ہزار روپیہ ماہوار صرف ہوتے تھے۔

عمارت کا کام زیادہ تر مونس الدولہ اور ریحان الدولہ کے سپرد رہا جن کو عمارت کی مد میں تقریباً پچیس ہزار ماہوار ملا کرتے تھے۔

ہزار کے قریب پہرے کے سپاہی تھے جن کی تنخواہیں عموماً چھ روپیہ ماہوار تھیں، بعض بعض آٹھ یا دس روپے بھی پاتے۔ یہی تنخواہ مکانداروں کی تھی جن کا شمار پانچ سو سے زیادہ تھا۔ مالیوں کی بھی یہی تنخواہ تھی، اور ان کا شمار بھی پانچ سو سے زیادہ تھا۔ تقریباً اسی اہل قلم یعنی محرر تھے جو تیس سے دس روپے ماہوار تک تنخواہ پاتے تھے۔ معزز مصاحبوں اور اعلیٰ عہدہ داروں کا شمار چالیس پچاس سے کم نہ ہو گا جو اٹھاسی روپیہ ماہوار پاتے تھے۔ سو سے زیادہ کہار تھے۔ ان کے علاوہ بیسیوں چھوٹے چھوٹے محکمے تھے: باورچی خانہ، آبدار خانہ، بندی خانہ، خس خانہ، اور خدا جانے کیا کیا تھا۔ پھر ایک مد لواحق بیگمات یعنی ممتوعات کے رشتہ داروں اور بھائی بندوں کی تھی جنھیں حسب حیثیت تنخواہیں ملتی تھیں۔

ان سب لوگوں نے کوٹھیوں کے رقبے سے باہر زیادہ تر اسی زمین پر جو بادشاہ کو دی گئی تھی اور بہتوں نے پاس کی دوسری زمینوں پر مکان بنا لیے تھے، اور ایک شہر بس گیا تھا جس کی مردم شماری چالیس ہزار سے زیادہ تھی۔ ان سب کی زندگی بادشاہ کی تنخواہ کے ایک لاکھ روپیہ ماہوار سے وابستہ تھی، اور کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اتنی خلقت عظیم اس تھوڑی سی رقم میں کیونکر زندگی بسر کر لیتی ہے۔ بنگالے کے عوام میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ کے پاس پارس پتھر ہے، جب ضرورت ہوتی ہے لوہے یا تانبے کو اس میں رگڑ کے سونا بنا لیا کرتے ہیں۔

حقیقت حال یہ ہے کہ بادشاہ کے قیام سے کلکتے کے پڑوس میں ایک دوسرا لکھنؤ آباد ہو گیا تھا۔ اصلی لکھنؤ مٹ گیا تھا اور اس کی منتخب صحبت مٹیا برج میں چلی گئی تھی، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں لکھنؤ لکھنؤ نہیں رہا تھا، مٹیا برج لکھنؤ تھا۔ وہی چہل پہل تھی، وہی زبان تھی، وہی شاعری تھی، وہی صحبتیں اور بذلہ سنجیاں تھیں۔ وہیں کے علما و فضلا تھے، وہیں کے امرا و رؤسا تھے، اور وہیں کے عوام تھے۔ کسی کو نظر ہی نہ آتا تھا کہ ہم بنگالے میں ہیں۔ وہی پتنگ بازیاں تھیں، وہی مرغ بازیاں تھیں، وہی بٹیر بازیاں تھیں، وہی افیونی تھے، وہی داستان گوئی تھی، وہی تعزیہ داری تھی، وہی مرثیہ خوانی و نوحہ خوانی تھی، وہی امام باڑے تھے اور وہی کربلا تھی۔ بلکہ جس جلوس اور شان و شوکت سے بادشاہ کی ضریح اٹھتی تھی لکھنؤ میں عہد شاہی میں شاید اٹھ سکی ہو۔ غدر کے بعد تو کبھی کوئی تعزیہ نہیں اٹھ سکا۔ کلکتے کی ہزارہا خلقت اور انگریز تک زیارت کو مٹیا برج میں آ جاتے تھے۔

بادشاہ اگرچہ شیعہ تھے مگر مزاج میں مطلق تعصب نہ تھا۔ ان کا پرانا مقولہ تھا کہ "میری دو آنکھوں میں سے ایک شیعہ ہے اور ایک سنی ہے۔" ایک بار دو شخصوں میں مذہبی اختلاف پر مار پیٹ ہو گئی۔ بادشاہ نے دونوں کی عزل کا حکم دیا، بلکہ اپنے وہاں ممنوع الملازمت کر دیا اور فرمایا: "ایسے لوگوں کا میرے یہاں گزر نہیں ہو سکتا۔" آخر آخر میں بادشاہ کی ایک کتاب میں بعض ایسے ناگوار الفاظ چھپ گئے تھے جن پر کلکتے کے سنیوں میں بڑی شورش ہوئی۔ مگر اس سے لوگ واقف نہیں ہیں کہ وہ الفاظ اصل کتاب میں نہیں بلکہ دوسروں کی تاریخ یا تقریظ میں تھے، اور بادشاہ کو جیسے ہی اطلاع ہوئی بغیر کسی تحریک کے معافی مانگنے کو تیار ہو گئے۔ بے تعصبی کا اس سے زیادہ ثبوت کیا ہو گا کہ سارا انتظامی کاروبار سنیوں ہی کے ہاتھ میں تھا۔ وزیر اعظم منصر الدولہ بہادر سنی تھے۔ منشی السلطان جو ایک زمانے میں سب سے زیادہ مقرب اور سارے جانور خانے، کل اہل قلم، اور کئی اور محکموں کے افسر اعلیٰ تھے سنی تھے۔ بخشی امانت الدولہ بہادر جن کے ہاتھ سے کل ملازموں حتیٰ کہ محلوں اور شاہزادوں تک کو تنخواہ ملتی تھی سنی تھے۔ عطارد الدولہ اور داروغہ تقی علی خان جو آخر میں سب سے بڑے عہدہ دار اور کل کاروبار کے مالک تھے دونوں سنی تھے۔ اس سے بڑھ کے کیا ہو گا کہ امام باڑۂ سبطین آباد کا اور محل کے خاص امام باڑے بیت البکا کا انتظام اور مجلسوں اور مذہبی تقریبوں کے بجا لانے کا انصرام بھی سنیوں ہی کے ہاتھ میں تھا۔ وہاں کبھی کسی نے اس کو محسوس ہی نہیں کیا کہ کون سنی ہے اور کون شیعہ ہے۔

مٹیا برج کے دکاندار اور مہاجن تک لکھنؤ کے تھے، اور لکھنؤ کی کوئی چیز نہ تھی جو مکمل ترین صورت میں وہاں موجود نہ ہو۔ جدھر گزر جائیے ایک عجیب رونق اور چہل پہل نظر آتی، اور اس لطف میں لوگ اس قدر محو اور مست و از خود رفتہ ہو رہے تھے کہ کسی کو انجام کی خبر ہی نہ تھی۔ عمارات شاہی اور رمنہ وغیرہ کے اندر جانے کی اہل لکھنؤ جملہ ملازمین بلکہ ساکنین مٹیا برج کو عام آزادی حاصل تھی۔ باغوں میں پھر لیے تو اس سے زیادہ پرفضا مقام کہیں نصیب نہ ہو سکتا۔ دریا کے کنارے کھڑے ہو جائیے تو عجیب لطف نظر آتا۔ کلکتے کو آنے جانے والے جہاز سامنے سے ہو کے گزرتے، جو فورٹ ولیم کی سلامی کے لیے یہیں سے اپنی جھنڈیاں اتارنا شروع کر دیتے، اور لوگ سمجھتے کہ بادشاہ کی سلامی لے رہے ہیں۔ محلات کی ڈیوڑھیوں اور محلسراؤں کے دروازوں پر کھڑے ہو جائیے تو عجب لطف کی دھوم دھام میں کبھی کبھی ایسی صورتیں نظر آ جاتیں اور ایسی فصیح و دلکش زبان اور ایسی مزے مزے کی پیاری باتیں سننے میں آ جاتیں کہ انسان مدتوں بلکہ زندگی بھر مزہ لیا کرتا۔

آہ! یہ خوبصورت اور دلفریب نقش تو مٹنے کے قابل نہ تھا، مگر ہائے زمانے نے مٹا ہی دیا، اور ایسا مٹایا کہ گویا تھا ہی نہیں۔ سنہ ۱۳۱۴ محمدی (۱۸۸۷ء) میں یکایک بادشاہ کی آنکھ بند ہوئی اور معلوم ہوا کہ "خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا۔" سب باتیں خواب و خیال تھیں۔ ایک طلسم تھا کہ یکایک ٹوٹ گیا، اور وہ خوبصورت بقعہ جس کی زیارت کی تمنا یورپ کے سلاطین اور ہندوستان کے والیان ملک کو رہا کرتی تھی آج ایک وحشتستان فنا اور عبرت کدہ ہے۔ جہاں کچھ بھی نہیں۔ جس نے اس اگلے رنگ کو کبھی دیکھا تھا اب وہاں کے سناٹے کو دیکھ کے سوا اس کے کہ کمال حسرت و اندوہ کے ساتھ ایک ٹھنڈی سانس بھر کے کہے "رہے نام اللہ کا!" اور کیا کر سکتا ہے؟

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。