Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 10 de 56

The End of the Dynasty; Urdu Poetry Comes to Lucknow

خاندان کا خاتمہ؛ اردو شاعری لکھنؤ میں

Abdul Halim Sharar

Escritura
Tamaño

(۹)

اس دربار کے فرمانرواؤں کی تاریخ میں سے اب صرف اس قدر بتانا باقی ہے کہ مرزا برجیس قدر بہادر لکھنؤ سے بھاگے تو سرحد نیپال پر دم لیا۔ ہمراہ رکاب تقریباً ایک لاکھ آدمیوں کا مجمع تھا۔ ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ ہمالیہ کی گھاٹیوں میں پناہ گزیں ہو جائیں، اور جب موقع ملے نکل کے انگریزوں پر حملہ کریں۔ فتح ہو تو اپنے وطن پہنچیں، شکست ہو تو پھر بھاگ کے پہاڑوں میں ہو رہیں۔ مگر یہ نبھنے والی صورت نہ تھی۔ ریاست نیپال نہ اتنے آدمیوں کو اپنے وہاں پناہ دے سکتی تھی اور نہ ان کے لیے انگریزوں سے لڑ سکتی تھی۔ اس میں اتنی قوت ہی نہ تھی کہ انگریزوں کا مقابلہ کرتی۔ لہذا حکومت نیپال نے صرف مرزا برجیس قدر اور ان کی ماں کو تو پناہ دے دی، مگر ان کے ہمراہی طوفان بے تمیزی کو قطعی حکم دے دیا کہ فوراً واپس جائیں، اور نہ جائیں تو مار کے نکال دیے جائیں۔ نیپال کی قلمرو فوراً ان سے خالی کرا لی جائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سب کے سب وہاں سے نکل نکل کے بھاگے۔ بہت سے مارے گئے۔ بہت سے بھیس بدل کے کسی طرف نکل گئے۔ اور مرزا برجیس قدر مع اپنی والدہ کے خاص نیپال میں جا کے سکونت پذیر ہو گئے۔ دربار نیپال سے ان کے لیے کچھ معمولی وظیفہ مقرر ہوا، اور کہتے ہیں ان کے ساتھ جس قدر جواہرات تھا سب دولت نیپال کی نذر ہو گیا۔ آخر حضرت محل وہیں پیوند زمین ہوئیں، اور ان کے بعد ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی کے موقع پر دولت برطانیہ نے مرزا برجیس قدر کا قصور معاف کر دیا۔ انھیں اپنے وطن آنے کی اجازت ملی تو بغیر کسی کو اطلاع دیے نیپال سے بھاگ کے کلکتے پہنچے۔ یہاں واجد علی شاہ کا انتقال ہو چکا تھا، اور بحیثیت اولاد اکبر مرزا قمر قدر سب سے زیادہ تنخواہ پا رہے تھے۔ برجیس قدر نے دعوے کیا کہ بادشاہ کے تمام بیٹوں سے زیادہ معزز و مستحق میں ہوں۔ از روئے قانون پنشن بادشاہ کی پنشن میں سے ایک ثلث گھٹا کے باقی تنخواہ مجھ پر جاری کی جائے، اور ان کے تمام ورثا اور وابستگان دامن کی خبرگیری میرے ذمے کی جائے۔ اس کی پیروی میں وہ انگلستان میں جانے کی تیاریاں کر ہی رہے تھے کہ ان کے خاندان والوں ہی میں سے کسی نے دعوت کی۔ دعوت سے واپس آئے تو قے و دست جاری ہو گئے۔ آناً فاناً حالت خراب ہو گئی، اور ایک ہی دن میں وہ، ان کی بی بی، اور ان کے کئی فرزند سب کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اور دنیا اس خاندان کی ان تمام یادگاروں سے خالی ہو گئی جنھوں نے کبھی تخت و تاج کی صورت دیکھی تھی۔

تاہم مٹیا برج کی چہل پہل اور اس نئی بستی کی رونق و آبادی نے ایسی صورت پیدا کر لی تھی کہ اگر چشم زخم حوادث سے بچ جاتا تو مدتوں تک یاد دلاتا رہتا کہ اس بخت برگشتہ بادشاہ کے دربار اور اس کے وابستگان دامن کی کیا وضع قطع تھی، اور ان کا کیا مذاق تھا۔ مگر برٹش گورنمنٹ کی عدالت گستری نے واجد علی شاہ کا ترکہ تقسیم کرنے اور ان کے ورثا کی دادرسی میں یہ شان عدالت دکھائی کہ ساری جائداد اور سارا گھر بار بیچ کے حصہ رسدی سب میں تقسیم کر دیا جائے، اور جو کچھ ہے نقد روپے کی صورت میں کر لیا جائے۔ اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ مٹیا برج کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ لاکھوں کا سامان کوڑیوں کو بک گیا، اور وہی بقعہ جو چند روز میں باغ ارم بن گیا تھا حضیض ادبار کا جہنم ہو کے رہ گیا۔ اب تم وہاں جا کے خاک اڑاؤ، کچھ نہ نظر آئے گا۔ اگر آنکھیں اگلی رونق اور چہل پہل کو ڈھونڈتی ہوں تو کسی امرؤ القیس [1] کو بلا کے جو آنسو بہاتا جائے اور انھیں بتاتا جائے کہ یہاں مرصع منزل تھی، یہاں نور منزل تھی، یہاں سلطان خانہ تھا، اور یہاں اسد منزل تھی۔ وہاں مشاعرے ہوتے تھے۔ وہاں علمائے باکمال کی مجلس تھی۔ وہاں یاران باصفا کی بذلہ سنجیاں تھیں، اور وہاں فصحائے جادو بیان کی سحر طرازیاں تھیں۔ اس مقام پر عجب حسینان جہان کا جھرمٹ تھا۔ اس مقام پر رقص و سرود کی محفل گرم تھی۔ اس مقام پر حور وش مہ جبینوں کو گانے ناچنے کی تعلیم ہوتی تھی، اور اس مقام پر جہاں پناہ ناز آفرین ممتوعات کے بیچ میں بیٹھ کے جشن منایا کرتے تھے۔ اس جگہ افیونیوں کے مجمع میں داستان ہوتی تھی۔ اس جگہ بٹیروں کی پالیاں ہوتی تھیں۔ اس جگہ کبوتر اڑتے تھے، اور اس جگہ کنکوے کے میدان بدے جاتے تھے۔ اس ڈیوڑھی پر ماہ وش جادو نگاہیں پردے سے سر نکالے جھانکتی نظر آتی تھیں۔ اس ڈیوڑھی پر ماماؤں کی آمد و رفت سے ہر وقت ایک عجیب جوش و خروش نمایاں رہتا تھا۔ اس ڈیوڑھی پر خاص خاص شعرا حاضر رہتے، اس لیے کہ محلسرا والی کو فن شعر سے دلچسپی تھی۔ اور اس ڈیوڑھی پر رنگین عبارت لکھنے والے جوان مزاج ادیبوں کی تلاش رہتی تھی، اس لیے کہ دوسرے تیسرے یہاں سے ایک نئے رنگ کا تو دو نامہ [2] جا کے بادشاہ کے ملاحظے میں پیش ہوتا۔

لیکن مٹیا برج کے مٹ جانے پر بھی اس مرحوم دربار کی ہزاروں یادگاریں باقی ہیں۔ خود شہر لکھنؤ اور اس کی سوسائٹی اس دربار کو یاد دلا رہی ہے، اور اودھ کی سرزمین کا چپہ چپہ اس کی عظمت کی یادگار ہے، اس لیے کہ اس پر جا بجا سلطنت ماضیہ کے مارکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اہل لکھنؤ کی ہر حرکت اور ادا اگلے ارکان دربار کی زندہ تاریخ ہے، اور ان کی چال ڈھال دیکھ کے بے اختیار زبان سے نکل جاتا ہے: "اے گل بتو خرسندم تو بوئے کسے داری۔" لہذا ان دیرپا آثار سلطنت کی یاد تازہ کرنے کی غرض سے اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس دربار کے قائم ہونے سے لکھنؤ میں جو سوسائٹی پیدا ہو گئی تھی وہ کیا تھی؟ کیسی تھی؟ اور اس نے کس کس عنوان سے ہندوستان کی معاشرت پر اثر ڈال رکھا تھا۔

ہندوستان میں ان دنوں فارسی زبان کورٹ لینگوج (درباری زبان) تھی اور اہل ہندوستان کی بہترین معاشرت ایرانی تہذیب سے ماخوذ تھی۔ دولت صفویہ کے عہد میں ایرانیوں کا عام مذہب شیعۂ اثنا عشری ہو گیا تھا، اور ہندوستان کا حکمران خاندان مغلیۂ چغتائیہ مذہب اہل سنت کا پیرو تھا۔ مگر معاشرت پر فارسیت کا سکہ جاری ہونے کا یہ اثر تھا کہ باوجود اختلاف مذہب کے جو عجمی یہاں آتے ادب کے ہاتھوں سے لیے جاتے تھے۔ اسی اخلاقی رجحان نے نور جہاں بیگم کو جہانگیر کے تاج و تخت کا مالک بنا دیا۔ اسی کی بدولت دہلی کے اکثر معزز عہدہ دار آخر عہد میں شیعہ تھے، اور اسی کی وجہ سے امین الدین خان نیشاپوری یہاں پہنچتے ہی نواب برہان الملک بن کے وادی گنگا کے سارے وسیع علاقے کے مالک ہو گئے۔ برہان الملک کا اثر اور اقتدار جس قدر بڑھتا اور ترقی کرتا گیا اسی قدر زیادہ وہ باکمالان دہلی کے مرجع و ماویٰ بنتے گئے۔ باوجود اس کے ان کی اور نواب صفدر جنگ کی زندگی چونکہ ایک نئی سلطنت کی داغ بیل ڈالنے میں صرف ہوئی اس وجہ سے سوا بہادر سپہ گروں کی قدردانی کے انھیں قومی تمدن اور معاشرتی امور کی طرف متوجہ ہونے کی بہت ہی کم مہلت ملی، کیونکہ ان باتوں کو بمقابل فوج کشی و فتحمندی کے امن و امان کے پرعیش زمانے سے زیادہ تعلق ہوا کرتا ہے۔

لیکن جب شجاع الدولہ نے بکسر کی لڑائی میں ہمت ہارنے کے بعد انگریزوں سے نیا معاہدہ کیا، اور مجبور ہو کے فیض آباد میں خاموش بیٹھے، تو سرزمین اودھ میں ایک نئے تمدن کی بنیاد پڑ گئی۔ اس مضمون کے آغاز میں ہم بتا چکے ہیں کہ شجاع الدولہ کے زمانے میں کس کثرت سے باکمالان دہلی وطن چھوڑ چھوڑ کے یہاں آنے لگے تھے۔ دہلی سے فیض آباد تک ہر پیشے اور ہر طبقے کے لوگوں کے آنے کا کیسا تانتا بندھ گیا تھا، اور صرف نو سال کی مدت میں فیض آباد کیا سے کیا ہو گیا تھا؟ شجاع الدولہ کے بعد نواب آصف الدولہ نے جب لکھنؤ میں قیام کیا تو فیض آباد کا جما جمایا اکھاڑہ یکبارگی فیض آباد سے اکھڑ کے لکھنؤ میں آ گیا، اور دہلی کے اعلیٰ خاندانوں اور باکمالوں کا جو سیلاب فیض آباد کو جا رہا تھا لکھنؤ ہی میں روک لیا گیا جو کہ عین سر راہ واقع ہوا تھا۔ اور آخر میں چند شرفا و صاحبان ہنر جو فیض آباد میں بیگموں کی سرکاروں میں الجھے رہ گئے تھے رفتہ رفتہ وہ بھی لکھنؤ میں آ گئے، اس لیے کہ آصف الدولہ نے یہاں دولت کی ایسی گنگا نہیں بہا رکھی تھی کہ کوئی سنتا اور سیراب ہونے کے شوق میں بے اختیار نہ دوڑ پڑتا۔

ان دنوں یوں تو بہت سی ہندو ریاستیں موجود تھیں مگر مہذب اور شائستہ دربار مسلمان حکمرانوں ہی کے سمجھے جاتے تھے، اور ہندو راجہ خود معترف تھے کہ تمدن اور معاشرت میں ہم مسلمان درباروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، کیونکہ اپنی قدیم تہذیب کو زندہ کر کے اپنے لیے نیا تمدن اور نیا لٹریچر پیدا کرنے کا خیال ابھی ان میں انگریزی تعلیم نے نہیں پیدا کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ اگر کوئی باکمال عالم، شاعر، یا سپاہی مسلمان امرا سے برداشتہ خاطر ہو کے ہندو امرا کے علاقے میں پہنچ جاتا تو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا اور دیوتاؤں کی طرح اس کی قدر و منزلت کی جاتی۔

مسلمان دربار ان دنوں چند گنتی کے تھے۔ سب سے پہلے تو دہلی کا دربار عالی تھا، اور اس کی قدامت اور گزشتہ شوکت کی وجہ سے ہر قسم کے باکمالوں اور مستند خاندانی شرفا کی کان دہلی بنی ہوئی تھی، اور اسی سرزمین کے منتشر روڑے تھے جنھوں نے دور و دراز صوبوں میں جا کے نئے نئے دربار قائم کیے تھے۔ جن میں سے دکن میں آصف جاہ کا دربار تھا۔ وہاں سے آگے بڑھ کے ٹیپو سلطان اور نواب ارکاٹ کے دربار تھے۔ شمال میں دہلی سے چلیے تو پہلے روہیلکھنڈ کے بہادروں کی قلمرو ملتی، اس کے بعد یہ اودھ کا دربار تھا، پھر اس سے آگے مرشد آباد میں نواب ناظم بنگالہ کا دربار تھا۔ مذکورہ اسلامی درباروں سے دکن کے دربار نہایت ہی دور تھے۔ ان کا راستہ اول تو جنگلوں اور پہاڑوں کی وجہ سے نہایت ہی دشوار گزار تھا، اور اس پر بھی جرأت کر کے کوئی چل کھڑا ہوتا تو ٹھگ اور ڈاکو جو سارے ملک میں پھیلے ہوئے تھے راستے ہی میں اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتے۔ ٹیپو سلطان اور نواب کرناٹک کی قلمرو تک جانا درکنار کسی کو نظام حیدر آباد کی مملکت تک پہنچنا بھی مشکل سے نصیب ہوتا۔ اس لیے جب دہلی بگڑنا شروع ہوئی اور تاجداران مغلیہ کی حالت خراب ہونے سے قدردانی کا بازار وہاں سرد پڑا تو لوگوں نے عموماً شمالی ہندوستان کا رخ کیا۔ اس میں شک نہیں کہ روہیلکھنڈ بہت قریب تھا۔ یہاں کے خوانین اگر قدردانی کرتے تو ان سے زیادہ موقع کسی کو نہیں حاصل تھا۔ مگر ان میں دینداری تھی، شجاعت تھی، اور بہت سی خوبیاں تھیں، مگر علمی مذاق اور معاشرتی رنگینیوں سے وہ لوگ بالکل معرا تھے۔ ان کی حالت کا صحیح اندازہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ خالص فوجی مذاق کے لوگ تھے جنھیں اپنے ہم وطنوں کے جمع کرنے اور اپنے جرگوں کی تعداد بڑھا کے اپنی جنگی قوت کو ترقی دینے کے سوا اور کسی بات کا شوق نہ تھا۔ معاشرت کے رسیلے پن اور تمدنی زندگی کے آداب و اخلاق کے لحاظ سے دیکھیے تو ان کی حالت بالکل وحشی گنواروں کی سی تھی۔ ایسے لوگ بھلا شاعروں، ادیبوں اور دیگر قسم کے باکمالوں کی کیا قدر کر سکتے تھے؟ لہذا ان کی سرزمین میں جو داخل ہوا قدم بڑھاتا ہوا آگے نکل گیا۔ چار پانچ منزلیں طے کر کے لکھنؤ میں پہنچا تو دیکھا کہ رئیس سے لے کے ادنیٰ طبقے والے تک استقبال میں آنکھیں بچھا رہے ہیں اور ہر طرح خدمتگزاری کو طیار ہیں۔ ایسی جگہ پہنچ کے پھر بھلا کون واپس آ سکتا ہے؟ جو گیا وہیں کا ہو گیا، اور دہلی کا ہر خانمان برباد یہاں آتے ہی پاؤں توڑ کے بیٹھ گیا۔ نہ وطن ہی یاد رہا اور نہ کسی اور دربار کے دیکھنے کی ہوس ہی دل میں باقی رہی۔ بعض لوگ یہاں سے آگے بڑھ کے نواب ناظم بنگالہ تک بھی پہنچ گئے مگر وہ وہی تھے جن کی لکھنؤ قدر نہ کر سکا۔ مگر ایسے چند گنتی ہی کے لوگ تھے، ورنہ دہلی سے جتنے باکمال آئے سب لکھنؤ ہی میں کھپتے چلے گئے۔ تھوڑے ہی زمانے کے اندر یہ حالت ہو گئی کہ اس دور کی مہذب ترین سوسائٹی کے جتنے مشہور اور نامور بزرگ تھے سب لکھنؤ کے اندر جمع تھے۔

فقط ایک چیز لکھنؤ میں اس دربار کے قائم ہونے سے پہلے موجود تھی، اور وہ عربی کا علم و فضل تھا، جس کی بنیاد اس وقت پڑ گئی تھی جب شہنشاہ اورنگ زیب نے فرنگی محل کے مکانات ملا نظام الدین سہالوی کو عطا کیے تھے۔ ملا صاحب ممدوح اور ان کے خاندان کے قیام نے چند ہی روز میں فرنگی محل کو ہندوستان کی ایک ایسی اعلیٰ ترین یونیورسٹی بنا دیا کہ سارے ہندوستان کے علما و فضلا کا مرکز لکھنؤ کا یہی چھوٹا سا محلہ قرار پا گیا۔ شیخ عبد الحق دہلوی کے بعد دہلی میں بھی کوئی نمود کا عالم نہیں پیدا ہو سکا تھا۔ آخر میں شاہ ولی اللہ صاحب کے خاندان نے البتہ بہت بڑا عروج حاصل کیا مگر ان کی شہرت علم حدیث تک محدود تھی۔ مگر حدیث کے علاوہ اور جتنے علوم ہیں ان سب کی یونیورسٹی لکھنؤ ہی تھا۔ ان دنوں لکھنؤ ایک گمنام شہر تھا، مگر ایسے ایک گمنام مقام کا اتنی بڑی یونیورسٹی بن جانا کہ ہندوستان درکنار بخارا، خوارزم، اور ہرات و کابل اس کے آگے سر جھکا دیں بہت ہی حیرت کے قابل ہے۔ ساری اسلامی دنیا یہیں کی شاگردی پر فخر کر رہی تھی اور یہیں کے منتخب کیے ہوئے نصاب تعلیم یعنی سلسلۂ نظامیہ کی پیرو تھی۔ غرض علمائے فرنگی محل کی بدولت اس نئے دربار کے قائم ہونے سے پہلے ہی لکھنؤ حکمت و فلسفہ، منطق و کلام، فقہ و اصول فقہ اور دیگر مختلف علوم کا معدن و مرجع بن چکا تھا۔ لہذا ایک اس چیز میں تو لکھنؤ اس نئے دربار کا زیر بار احسان نہیں ہے، باقی اور تمام ترقیاں اس سلطنت کے قائم ہونے ہی سے پیدا ہوئیں۔

اب ہم جدا جدا بیان کرنا چاہتے ہیں کہ دہلی سے لکھنؤ میں کون کون سی چیزیں آئیں، اور یہاں آ کے انھوں نے کیا رنگ پکڑا؟ سب سے مقدم اردو زبان ہے جو دہلی کے ان شرفا اور سرداران فوج کی زبان تھی جو نواب برہان الملک بہادر کے ساتھ لکھنؤ میں آئے تھے۔ یہ زبان دہلی میں پیدا ہوئی، اور اس کی شاعری کا آغاز دکن سے ہوا۔ ولی گجراتی نے دہلی میں آ کے اپنا دیوان پیش کیا، اور اپنے نغمۂ دلکش سے اہل زبان کو خواب غفلت سے جگایا۔ اس نغمے میں کچھ ایسا جادو تھا کہ سنتے ہی سب کی زبان پر یہی نغمہ جاری ہو گیا، اور دہلی میں اردو شاعری شروع ہو گئی۔

ابتداءً چند ہی بزرگ تھے جنھوں نے استادی کی شان سے دہلی میں داد سخن دینا شروع کی، مگر اس زمانے کو اگر اردو زبان کی طفلی نہیں تو اردو شاعری کا بچپن کہنا چاہیے۔ دنیائے اردو کے ان سابقین الاولین میں سب سے زیادہ صاحب علم و فضل اور سب سے بڑے باکمال خان آرزو تھے، جنھیں مولانا آزاد مرحوم نے دوسرے دور شاعری میں رکھا ہے۔ زمانۂ مابعد کے بڑے بڑے باکمال جن میں سودا، میر، میرزا مظہر جان جاناں اور خواجہ میر درد شامل ہیں سب ان کے شاگرد تھے۔ شاعری اور کمال زباندانی کے لکھنؤ میں آنے کی بنیاد انھیں استاد اول خان آرزو سے پڑی۔ نواب شجاع الدولہ کے ماموں سالار جنگ نے کمال قدردانی سے انھیں لکھنؤ بلوایا، اور ایک زمانے تک اودھ میں اقامت گزیں رہ کے وہ شجاع الدولہ کی مسند نشینی کے دو برس بعد سنہ ۱۱۶۹ھ (سنہ ۱۱۸۴ محمدی مطابق سنہ ۱۷۵۶ء) میں خاص لکھنؤ کے اندر راہگرائے آخرت ہوئے۔ وہی پہلے استاد اردو شاعری کے تھے، اور انھیں سے اردو شعر و سخن کے لکھنؤ میں آنے کی بنیاد پڑی۔ مگر افسوس کہ ان کی ہڈیاں سرزمین لکھنؤ کے دامن شوق سے چھین کے خاک دہلی کو سونپی گئیں۔

اس کے بعد اسی دور کے دوسرے نامی استاد سخن اشرف علی خان فغان نے جو احمد شاہ بادشاہ کے کوکا تھے قدردانی کی تلاش میں لکھنؤ کی راہ لی۔ شجاع الدولہ نے نہایت ہی تعظیم و تکریم کی، ہاتھوں ہاتھ لیا اور ایک زمانے تک اپنے دربار میں رکھا۔ مگر شعرا نازک خیال سے زیادہ نازک دماغ ہوا کرتے ہیں۔ کسی خفیف سی بات پر روٹھ کے عظیم آباد چلے گئے، اور شجاع الدولہ کی وفات سے دو برس پہلے وہیں پیوند زمین ہو گئے۔

اب مولانا آزاد کا مقرر کیا ہوا تیسرا دور شاعری شروع ہوا، جبکہ خان آرزو کے شاگرد نظم اردو پر حکومت کر رہے تھے۔ اس زمانے کی حالت دیکھنے سے نظر آتا ہے کہ دہلی اپنے باکمالوں کو اپنے آغوش میں سنبھال نہیں سکتی۔ ہر طرح کے صاحبان کمال اس کی سواد سے نکلتے چلے جاتے ہیں، اور جو جاتا ہے پھر نہیں آتا۔ اس کے مقابل لکھنؤ کی یہ حالت ہے کہ جو صاحب فن آتا ہے چاہے کہیں کا ہو یہیں کا ہو جاتا ہے۔ مرزا رفیع سودا، میر تقی میر، سید محمد میر سوز جو اس تیسرے دور کے پیمبران سخن ہیں سب دہلی چھوڑ چھوڑ کے لکھنؤ میں آئے اور یہیں پیوند زمین ہو گئے۔

ان کے علاوہ جو باکمالان سخن اس زمانے میں وارد لکھنؤ ہوئے اور یہیں کے ہو گئے: میرزا جعفر علی حسرت، میر حیدر علی حیران، خواجہ حسن حسن، میرزا فاخر مکین، میر ضاحک، بقاء اللہ خان بقا، میر حسن دہلوی میر ضاحک کے فرزند (صاحب مثنوی)، اور انھیں کے ایسے بیسیوں شعرا ہیں۔ میر قمر الدین منت، میر ضیاء الدین ضیا، اشرف علی خان فغان دہلی سے لکھنؤ میں آ کے ایک مدت تک رہے اور یہیں چمکے، مگر آخر میں بیرونی قدردانوں کی کشش سے کلکتے اور عظیم آباد میں جا کے نذر اجل ہوئے۔ شیخ محمد قائم قائم کا انتقال اگرچہ ان کے وطن ٹانڈے میں ہوا، مگر وہ بھی ایک مدت تک اسی لکھنؤ کی سبھا کے ایک اکبر تھے۔ صرف میرزا مظہر جان جاناں اور خواجہ میر درد کے ایسے چند بزرگ دہلی میں پڑے رہ گئے جن کو فقیرانہ قناعت اور مرجعیت کی وجہ سے دہلی میں قدم جمانے کا موقع مل گیا تھا، اور سجادہ نشینی کی وجہ سے اپنی مسند درویشی کو نہ چھوڑ سکتے تھے۔ غرض شاعری کا یہ تیسرا دور وہ زمانہ ہے جبکہ دہلی کی سبھا وہاں سے اکھڑ کے لکھنؤ میں جم رہی تھی، اور لکھنؤ میں ایک جوش قدردانی تھا جس سے ہندوستان کی تاریخ خالی ہے۔

اب چوتھا دور شروع ہوا۔ اس کے ارکان بھی اگرچہ دہلی و اکبر آباد وغیرہ کی خاک سے پیدا ہوئے تھے مگر سب کی شاعری لکھنؤ ہی میں چمکی۔ یہیں سے ان کا نام مشہور ہوا۔ یہیں کے مشاعروں کے میر مجلس تھے۔ یہ لوگ علی العموم یہیں سے نکلے، یہیں رہے، یہیں عروج پایا اور یہیں مر کھپ گئے۔ اس دور کے رکن رکین جرأت، سید انشا، مصحفی، قتیل اور رنگین وغیرہ تھے۔ یہ لوگ اپنے عہد میں زبان پر حکومت کر رہے تھے، اور ان کی شاعری کا غلغلہ اس قدر بلند تھا کہ ان کے سامنے کسی اردو شاعر کا نام چمک ہی نہ سکا۔ ان سب کی ہڈیاں کہاں ہیں؟ لکھنؤ کی خاک میں۔

اس زمانے میں دہلی کے صاحبان مذاق جس کثرت سے لکھنؤ میں آ رہے تھے اس کا اندازہ سید انشا کی ایک روایت سے ہو سکتا ہے جس میں انھوں نے اس عہد کے ایک شریف وضعدار بڈھے اور نورا نام ایک کسبی کی گفتگو نقل کی ہے۔ وہ بزرگ اور کسبی دونوں دہلی کے ہیں مگر دونوں لکھنؤ میں باتیں کر رہے ہیں۔ بی نورا کہتی ہیں: "اجی آؤ میر صاحب! تم تو عید کا چاند ہو گئے۔ دلی میں آتے تھے دو دو پہر رات تک بیٹھتے تھے۔ لکھنؤ میں تمھیں کیا ہو گیا کہ کبھی صورت بھی نہیں دکھاتے۔ آپ کی کربلا میں کتنا میں نے ڈھونڈھا، کہیں تمھارا اثر آثار معلوم نہ ہوا۔ ایسا نہ کیجیو کہ آٹھوں میں بھی نہ چلو۔ تمھیں علی کی قسم آٹھوں میں ضرور چلیو۔" اس کا جواب جو میر صاحب نے دیا ہے وہ اگرچہ نہایت ہی دلچسپ ہے مگر ہم تطویل سے بچنے کے خیال سے اسے چھوڑے دیتے ہیں۔ انھوں نے دہلی و لکھنؤ کے موجودہ رنگ پر اعتراضات کیے ہیں، اور معاصر شعرا پر نکتہ چینیاں کی ہیں جس سے ہمیں بحث نہیں۔ ہمیں صرف یہ بتانا ہے کہ اس زمانے میں شرفا و کملا درکنار رنڈیاں تک لکھنؤ میں آ کے بستی جاتی تھیں، اور جو لوگ دلی میں پھول والوں کی سیر کے رسیا تھے اب کربلا اور آٹھوں کے میلے میں اپنا دل بہلاتے تھے۔

شمس العلما مولانا آزاد مرحوم نے بعد کے تمام شعرائے دہلی و لکھنؤ کو بلا لحاظ امتیاز و عہد ایک جگہ جمع کر کے اور زمانے کی طنابیں کھینچ کے پانچواں دور بنا دیا ہے، لیکن یہ ناانصافی ہے۔ اصلی پانچواں دور صرف ناسخ و آتش کا تھا جس میں زبان نے نئی وضع اختیار کی۔ بہت سے پرانے محاورات ترک ہو گئے، نئی بندشیں پیدا ہوئیں، اور اس زبان کی بنیاد پڑی جو بعد کے شعرائے دہلی و لکھنؤ میں یکساں طور پر مقبول ہوئی، اور قریب قریب وہ زبان بن گئی جو اب ہندوستان میں مستند ہے۔ اور یہی وہ زمانہ تھا جب شاعری کی قلمرو میں پہلے پہل لکھنؤ کا سکہ جاری ہوا۔

اس کے بعد چھٹا دور وہ تھا جب لکھنؤ میں وزیر، صبا، رند، گویا، اشک، نسیم دہلوی، اسیر، نواب مرزا شوق اور پنڈت دیا شنکر نسیم صاحبان مثنوی کی شاعری کا غلغلہ بلند تھا، اور دلی میں مومن، ذوق، غالب نغمۂ شاعرانہ سنا رہے تھے۔ اس دور نے سچ یہ ہے کہ زبان کو بلحاظ خیالات سب سے زیادہ ترقی کے درجے پر پہنچا دیا۔

اس کے بعد ساتواں دور امیر، داغ، منیر، تسلیم، مجروح، جلال، لطافت، افضل اور حلیم وغیرہ کا تھا۔

ان آخری دوروں پر غائر نظر ڈالنے سے صاف نظر آ جاتا ہے کہ فصاحت زبان اور شاعری نے لکھنؤ میں کیسی مضبوط جگہ پکڑ لی تھی۔ چند ہی روز میں شعر کہنا لکھنؤ میں ایک وضعداری بن گیا، اور شعرا کی یہاں اس قدر کثرت ہوئی کہ شاید کہیں کسی زبان میں نہ ہوئی ہو گی۔ عورتوں تک میں شعر و سخن کا چرچا ہوا، اور جہلا کے کلام میں بھی شاعرانہ خیال آفرینیوں، تشبیہوں اور استعاروں کی جھلک نظر آنے لگی۔

حواشی

[1] جاہلیت عرب کا ایک نہایت مشہور شاعر جس نے اپنے قدیم عشرت کدے کی ویرانی و تباہی کی تصویر نہایت ہی سوز و گداز کے الفاظ میں دکھائی ہے۔

[2] تو دو نامہ ان خطوط کو کہتے تھے جو بیگمات و محلات عالیات جہاں پناہ کی خدمت میں بھیجتیں، جو عموماً عاشقانہ رنگ میں ہوتے۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.